75 Years of Pakistan Film History
Division of artists in 1947
Details on prepartition Pakistnai artists..
فنکاروں کی تقسیم
پاکستان کا قیام جہاں ایک بہت بڑا جمہوری معجزہ تھا وہاں تقسیم ہند ، انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ بھی تھا۔۔!
1947ء میں برصغیر پاک و ہند کی دو الگ الگ آزاد مملکتوں میں تقسیم سے سرحد کے دونوں اطراف کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔
مذہبی عقائد کی پاداش میں انسانیت دشمن شیطانی قوتوں کے ہاتھوں ظلم و بربریت کا شکار ہوکر جبری نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کے علاوہ ہلاک و زخمی اور لاپتہ افراد کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی۔ مال و اسباب کے نقصانات بھی ان گنت تھے۔ انسانی تاریخ کی شاید یہ سب سے بڑی نقل مکانی ، قتل و غارت ، لوٹ مار اور نسل کشی تھی جس نے ایک دائمی نفرت اور مستقل دشمنی کی بنیاد رکھ دی تھی۔
ایسے حالات میں برصغیر کی فلمی صنعت اور فنکار بھی تقسیم ہو گئے تھے۔ پاکستان فلم میگزین کے ڈیٹا بیس کے غیر حتمی اعدادوشمار کے مطابق سو سے زائد پاکستانی فنکاروں نے تقسیم سے قبل کی ہندی/اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا جو عام طور پر لاہور ، بمبئی اور کلکتہ میں بنائی جاتی تھیں۔ ایسے فنکاروں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد تھی جو تقسیم کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آئے جبکہ پاکستان میں پیدا ہونے والے متعدد فنکار ، ترک وطن کر کے بھارت کے چوٹی کے فنکار بنے۔
پاکستان کی فلموں کے 75ویں سال کے سلسلے میں آج کی نشست میں ان تقسیم شدہ فنکاروں پر بات کی جا رہی ہے جنھیں درج ذیل موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے:
- لاہور کے مقامی فنکار
- "پاکستانی فنکاروں" کی وطن واپسی
- "ہندوستانی فنکاروں" کی پاکستان آمد
- "پاکستانی نژاد" بھارتی فنکار
لاہور کے مقامی فنکار
لاہور کے مقامی فنکاروں کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- لاہور کے وہ مسلمان فنکار جو موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور نہیں ہوئے۔
- لاہور کے وہ مسلمان فنکار جو مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے اور ہجرت پر مجبور ہوئے۔
- لاہور کے وہ مسلمان فنکار جنھوں نے تقسیم کے بعد بھارت میں رہنا پسند کیا۔
- لاہور کے وہ غیر مسلم فنکار جن کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں تھی۔
لاہور کے مسلمان فنکار
تقسیم سے قبل لاہور کی فلموں میں بمبئی اور کلکتہ کی فلموں کے فنکاروں نے بھی کام کیا لیکن یہاں لاہور کے ان مستقل اور معروف مقامی مسلمان فنکاروں کا ذکر کیا جارہا ہے جنھوں نے فلمی کیرئر کا آغاز لاہور سے کیا اور قیام پاکستان کے بعدبھی یہیں رہے۔ ان میں مشرقی پنجاب یعنی بھارتی پنجاب کے مسلمان فنکار بھی شامل ہیں جو بڑی تعداد میں ہجرت کر کے پاکستانی پنجاب آئے لیکن جنھیں ہم زبان ہونے کی وجہ سے "مہاجر" یا "ہندوستانی" نہیں کہا جاتا تھا ، یہ الفاظ صرف اردو بولنے والوں کے لیے مختص رہے ہیں۔
-
لاہور کے مستقل مسلمان فنکاروں میں سب سے بڑا نام ، پاکستان کے پہلے سپرسٹار اور برصغیر کے پہلے ایکشن فلمی ہیرو سدھیر کا تھا جو فلم فرض (1947) میں پہلی بار نظر آئے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ تقسیم سے قبل لاہور کی فلموں میں کوئی قابل ذکر مسلمان ہیرو نہیں تھا۔ آغا سلیم رضا ، ایس گل اور رضا میر ایک آدھ فلموں میں ہیرو آئے جبکہ بمبئی سے آئے ہوئے مسلمان اداکاروں ، الناصر ، ریحان اور جینت نے بھی لاہور کی متعدد فلموں میں ہیرو کے طور پر کام کیا تھا۔ - 1940 کی دھائی میں لاہور کی فلموں کی پہلی سپرسٹار ہیروئن راگنی ، سب سے مقبول اور مصروف اداکارہ تھی۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کی ہیروئن آشا پوسلے کے علاوہ اختری ، کلاوتی اور بیگم پروین بھی ہیروئن کے طور پر نظر آئیں۔ ٹی وی اداکارہ ساحرہ کاظمی کی والدہ زیب قریشی اور سلمی آغا کی والدہ نسرین نے بھی ایک ایک فلم میں کام کیا تھا۔
- لاہور کی پہلی فلم ڈاٹر آف ٹوڈے (1927) سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والے پاکستان کے سینئر ترین اداکار ، ایم اسماعیل اور اس فلم کے ہیرو غلام قادر کے علاوہ معاون اداکاروں کے طور پر اجمل ، گل زمان ، ظہور شاہ ، جی این بٹ اور شیخ اقبال بھی تھے۔ معاون اداکاراؤں میں رانی کرن ، ریکھا ، رجنی ، کملا اور نفیس بیگم وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔
- مزاحیہ اداکاروں میں اگرچہ نذر کا تعلق لاہور یا پنجاب سے نہیں تھا لیکن وہ بھی لاہور کے مستقل فنکاروں میں سے ایک تھے۔ ظریف بھی اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کر چکے تھے۔ ابوشاہ ، کٹھانہ اور امداد حسین جیسے مستقل ایکسٹرا اداکاروں نے بھی تقسیم سے قبل فلمی کیریر کا آغاز کیا تھا۔
- تقسیم سے قبل کی لاہور کی فلموں میں کسی قابل ذکر مسلمان فلم ڈائریکٹر کا نام نہیں ملتا۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے ہدایتکار داؤد چاند اکلوتے ہدایتکار تھے جو لاہور ہی کے ہو کر رہ گئے تھے۔ مسعودپرویز ، امین ملک اور رضا میر ، اس وقت تک فلم ڈائریکٹر نہیں بنے تھے بلکہ صرف اداکاری کیا کرتے تھے۔ عطا اللہ شاہ ہاشمی کے کریڈٹ پر بطور فلمساز چند فلمیں تھیں۔
- فلمی رائٹروں اور گیت نگاروں میں البتہ بڑے بڑے نام تھے جن میں سید امتیاز علی تاج ، سعادت حسن منٹو ، حکیم احمد شجاع ، ولی صاحب ، خادم محی الدین ، ظہیر کاشمیری ، ایف ڈی شرف ، شاطر غزنوی اور طفیل ہوشیارپوری کا ذکر ملتا ہے۔
- موسیقاروں میں ماسٹر عنایت حسین اور طفیل فاروقی تھے جبکہ جی اے چشتی اور رشید عطرے ، کلکتہ اور بمبئی کے علاوہ لاہور کی فلموں کی موسیقی بھی دے رہے تھے۔
- فلمی گائیکی میں زینت بیگم کے بعد منورسلطانہ اور اقبال بانو بھی اپنے فلمی سفر کی ابتداء کر چکی تھیں۔
لاہور کی فلموں کے ہیرو
لاہور کی فلموں کی ہیروئنیں
لاہور کی فلموں کے معاون اداکار
لاہور کی فلموں کے مزاحیہ اور ایکسٹرا اداکار
لاہور کے فلم میکرز
لاہور کے موسیقار اور گلوکار
پاکستان کو خیرآباد کہنے والے مسلمان فنکار
پاکستان میں پیدا ہونے والے یا لاہور کی فلموں سے تعلق رکھنے والے جن مسلمان فنکاروں نے بھارت میں رہنا پسند کیا ان میں مندرجہ ذیل اہم نام ملتے ہیں:
لاہور فلم انڈسٹری کے بانی
لاہور کی فلمی صنعت کے بانی ، ہدایتکار اے آر کاردار (عبدالرشید کاردار) کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنے ہم زلف ہدایتکار محبوب خان کے ساتھ لاہور آئے لیکن یہاں کی زبوں حالی دیکھ کر واپس بمبئی چلے گئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ انھیں اپنی جنم بومی لاہور کی پہلی فلم ڈاٹر آف ٹوڈے (1927) میں بطور اداکار کام کرنے کے علاوہ بطور ہدایتکار پہلی پنجابی فلم ہیررانجھا (1932) بنانے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
- برصغیر کی فلمی تاریخ کے عظیم ترین گلوکار محمدرفیع بھی ہمیشہ کے لیے بمبئی کو پیارے ہوئے جنھوں نے پہلی بار لاہور میں بننے والی فلم گل بلوچ (1944) میں نغمہ سرائی کی تھی۔ ان کے ساتھ ایک اور بہت بڑی گلوکار شمشاد بیگم بھی تھی جس کو فلم خزانچی (1941) سے ایسی شہرت ملی کی وہ بھی بمبئی ہی کی ہو کر رہ گئی تھی۔
- 1950/60 کی دھائیوں کی بھارتی پنجابی فلموں میں سپرہٹ گیت لکھنے والے عزیز کاشمیری نے بھی تقسیم کے بعد لاہور کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔
- بھارت کی ایک مقبول اداکارہ منورسلطانہ نے بھی لاہور کی سب سے کامیاب ہندی/اردو فلم خزانچی (1941) سے آغاز کیا اور پھر ہمیشہ کے لیے بمبئی چلی گئی تھی۔
فلمی گائیکی کے بڑے نام
کلاسیکل موسیقی کا سب سے بڑا نام
کلاسیکل موسیقی کا سب سے بڑا نام ، بڑے غلام علی خان ، 1902ء میں قصور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں رہنے کی کوشش کی لیکن مبینہ طور پر ریڈیو پاکستان کے جنرل ڈائریکٹر زیڈ اے بخاری کے توہین آمیز سلوک سے دل برداشتہ ہو کر پاکستانی شہرت ترک کر کے 1957ء میں بھارت چلے گئے تھے جہاں انھیں بھارت کا تیسرا بڑا سول ایوارڈ "پدما بھوشن" بھی ملا۔ انھوں نے فلم مغل اعظم (1960) کے لیے ایک گیت کا اس وقت کا 25 ہزار روپیہ معاوضہ لیا تھا جب محمدرفیع اور لتا منگیشکر کو فی گیت پانچ سو روپے ملتے تھے۔
لاہور کے غیر مسلم فنکار
تقسیم کے بعد مسلمان فنکاروں کے برعکس غیر مسلم فنکاروں کے لیے صرف ایک ہی آپشن تھا کہ وہ پاکستان چھوڑ کر بھارت چلے جائیں۔
1947ء کے فسادات کی مکمل ذمہ داری تو سکھوں پر عائد ہوتی تھی جو پنجاب کی تقسیم پر سیخ پا تھے۔ انھوں نے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی نسل کشی کی تھی اور ان کی تعداد دو فیصد سے بھی کم کر دی گئی تھی۔ ردعمل کے طور پر پاکستانی پنجاب میں بھی فسادات ہوئے لیکن یہاں سکھ کم اور ہندو زیادہ تھے اور وہی ان فسادات کا بڑا شکار بنے۔
لاہور کے غیر مسلم فنکاروں کے ضمن میں درج ذیل مشہور نام ترک وطن پر مجبور ہوئے:
لاہور کی فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ
تقسیم سے قبل لاہور کی فلم انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ ، سیٹھ دل سکھ پنچولی ، جو تقسیم کار ہونے کے علاوہ دو فلم سٹوڈیوز ، ایک فلم کمپنی اور متعدد سینماؤں کے مالک تھے۔ پاکستان کا پہلا باقاعدہ فلم سٹوڈیو بھی انھی کا تھا اور پہلی فلم تیری یاد (1948) پر سرمایہ کاری بھی انھوں نے اپنے مینجر دیوان سرداری لال کے ساتھ کی تھی۔ بڑی کوشش کے باوجود سب کچھ چھوڑ کر دونوں کو پاکستان سے جانا پڑا تھا۔
ملتان روڈ لاہور پر پہلے فلم سٹوڈیو "شوری سٹوڈیو" کے مالک اور ایک کامیاب فلمساز اور ہدایتکار روپ کے شوری کو بھی اپنا گھربار چھوڑنا پڑا تھا۔ وہ پچاس کی دھائی میں ایک بار پھر واپس آئے اور کراچی میں ایک فلم مس 56 (1956) بھی بنائی لیکن اس بار اپنی گھر والی ، اداکارہ مینا شوری بھی گوا کر پاکستان جیسے فنکار دشمن معاشرے کو چھوڑنا پڑا تھا۔
برکت مہرہ ، نرنجن پال اور موتی گڈوانی ، لاہور کے دیگر کامیاب اور مصروف غیر مسلم فلم ڈائریکٹرز تھے۔
- لاہور کی فلموں میں راگنی کے بعد رمولا کے علاوہ منورما بھی ایک کامیاب اور مصروف ہیروئن تھی جو بعد میں بھارتی فلموں میں ایک ویمپ کے طور پر مشہور ہوئی تھی۔
- ہیروز میں اداکار پران ، مقبول ترین ہیرو تھے جو بعد میں بھارتی فلموں کے چوٹی کے ولن اداکار بنے۔ ٹی وی اداکارہ ساحرہ کاظمی کے والد اداکار شیام کے علاوہ نارنگ بھی ایک کامیاب ہیرو تھے۔ مزاحیہ اداکاروں میں مجنوں ، سندر ، اوم پرکاش اور خیراتی لال جیسے اعلیٰ پائے کے کامیڈین بھی تھے۔
- فلم رائٹرز اور گیت نگاروں میں دینا لال مدھوک اور آئی ایس جوہر کے علاوہ موسیقاروں میں پنڈت امرناتھ ، پنڈت گوبند رام ، لچھی رام اور شیام سندر چوٹی کے موسیقار تھے۔ گلوکاروں میں ایس ڈی باتش اس دور کے مقبول ترین گلوکار تھے جبکہ فی میل سنگرز میں صرف مسلم نام ہی ملتے ہیں۔
لاہور کی غیر مسلم ہیروئنیں
لاہور کے غیر مسلم اداکار
لاہور کے غیرمسلم موسیقار اور گیت نگار
پاکستانی فنکاروں کی وطن واپسی
موجودہ پاکستان میں پیدا ہونے والے بہت سے فلمی فنکار ، تقسیم کے وقت بمبئی اور کلکتہ کی فلموں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ فنکار اپنی مقبولیت کی بلندیوں پر تھے لیکن وطن کی خوشبو انھیں واپس لے آئی۔ ایسے فنکاروں میں مندرجہ ذیل فنکاروں کے نام آتے ہیں:
- "پاکستانی فنکاروں کی وطن واپسی" کی فہرست میں سب سے پہلا اور بڑا نام ملکہ ترنم نور جہاں کا تھا جو قصور میں پیدا ہوئیں۔ لاہور سے فنی کیرئر کا آغاز کیا ، کلکتہ میں پہلی فلم میں کام کیا ، لاہور سے بریک تھرو ملا اور بمبئی کی فلموں کی چوٹی کی اداکارہ اور گلوکارہ ثابت ہوئیں۔ تقسیم کے بعد اپنے آبائی وطن آنے کو ترجیح دی جہاں لازوال شہرت کا سلسلہ جاری رہا اور ایک تاریخ بن گئیں۔
- سورن لتا اور نذیر کی پاکستانی فلموں کی پہلی مقبول اور جوبلی جوڑی نے بھی وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ سورن لتا ، راولپنڈی اور نذیر ، لاہور میں پیدا ہوئے تھے جہاں سے انھوں نے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز بھی کیا تھا۔
- ہندوستان کی 1930ء کی فلموں کے چوٹی کے ولن اداکار غلام محمد نے بھی اپنے آبائی شہر لاہور آنے کو ترجیح دی۔ وہ برصغیر کی پہلی رنگین فلم کسان کنیا (1935) کے مرکزی ولن اداکار تھے۔
- دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا (1944) کی ہیروئن شمیم کے علاوہ گلوکارہ اور اداکارہ خورشید ، مینا شوری ، ظہور راجہ ، نجم الحسن ، صادق علی اور اے شاہ بھی اپنے دیس لوٹ آئے۔
- ان کے علاوہ اداکار سنتوش ، مسعود ، علاؤالدین ، طالش ، الیاس کاشمیری ، نصرت کاردار اور زینت نے بمبئی میں فلمی کیرئر کا آغاز کیا لیکن شہرت اپنے آبائی وطن ، پاکستان سے ملی تھی۔
- ہدایتکاروں میں لقمان ، ضیاء سرحدی ، شریف نیر اور ایم صادق نے بمبئی کو خیرآباد کہا اور اپنے وطن واپس آئے۔
- موسیقاروں میں رفیق غزنوی ، ماسٹرغلام حیدر ، خواجہ خورشید انور اور فیروز نظامی کے علاوہ گیت نگاروں میں تنویر نقوی اور بابا عالم سیاہ پوش کو بھی اپنے وطن کی کشش پاکستان کھینچ لائی تھی۔
- برصغیر کی پہلی چوٹی کی اداکارہ اور گلوکارہ اور میڈم نورجہاں کی آئیڈیل فنکارہ ، مختاربیگم کے علاوہ برصغیر کی پہلی گولڈن جوبلی پنجابی فلم اور پہلی ڈائمنڈ جوبلی ہندی/اردو فلم کی ہیروئن ، ممتاز شانتی اور گلوکار امراؤ ضیاء بیگم نے پاکستان واپسی کی راہ لی لیکن یہاں کسی فلم میں کام نہیں کیا تھا۔
ملکہ ترنم نور جہاں
نذیر اور سورن لتا
دیگر فنکار
"ہندوستانی فنکاروں" کی پاکستان آمد
تقسیم ہند کے بعد برصغیر کے مسلمان ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت میں تقریباً یکساں تعداد میں تقسیم ہو گئے تھے۔ پاکستان فلم میگزین کے ڈیٹا بیس کے مطابق سو سے زائد پاکستانی فنکار موجودہ بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ موضوع ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ یہاں صرف ان مسلمان "ہندوستانی فنکاروں" کا اپنی پہلی پاکستانی فلم کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے جن کے کریڈٹ پر پاکستان آنے سے پہلے بھی کوئی فلم تھی:
- دلیپ کمار کے بھائی اداکار ناصر خان اور اداکارہ نجمہ ، فلم تیری یاد (1948)
- اداکار ہمالیہ والا اور شاکر ، فلم شاہدہ (1949)
- اداکار آزاد ، فلم سچائی (1949)
- موسیقار فتح علی خان ، فلم دو کنارے (1949)
- 1930/40 کی دھائیوں کے ممتاز مزاحیہ اداکار نور محمد چارلی ، فلم مندری (1949)
- برصغیر کی پہلی ٹاکی فلم کی اداکارہ ببو ، مزاحیہ اداکار غوری اور ہدایتکار منشی دل ، فلم شمی (1950)
- برصغیر کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم کے ولن اداکار شاہ نواز ، فلم ہماری بستی (1950)
- اداکارہ یاسمین ، فلم بیلی (1950)
- اداکارہ نینا ، فلم اکیلی (1951)
- فلمساز اور ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی ، فلم چن وے (1951)
- ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد ، فلم روحی (1954)
- اداکارہ گیتا نظامی ، فلم جھیل کنارے (1955)
- گلوکار احمد رشدی ، فلم انوکھی (1956)
- اداکارہ ریحانہ ، فلم وحشی (1956)
- اداکار بٹ کاشر ، فلم فنکار (1956)
- فلمساز اور ہدایتکار وزیر علی اور اداکار رتن کمار ، فلم معصوم (1957)
- اداکار پنڈت شاہد ، فلم نور اسلام (1957)
- مصنف عزیز میرٹھی ، فلم یار بیلی (1958)
- اداکار کمار ، فلم فیصلہ (1959)
- موسیقار اعظم بیگ ، فلم لگن (1960)
- ہدایتکار اقبال یوسف ، فلم رات کے راہی (1960)
- ہدایتکار ایس ایم یوسف ، فلم سہیلی (1960)
- اداکار ادیب ، فلم دال میں کالا (1962)
- ہدایتکار نخشب ، فلم فانوس (1963)
- ہدایتکار ایس اے حافظ ، فلم توبہ (1964)
- موسیقار نثار بزمی ، فلم ہیڈ کانسٹیبل (1964)
- موسیقار ناشاد ، فلم مہ خانہ (1964)
- ہدایتکار اکبر علی اکو ، فلم عادل (1966)
- نغمہ نگار شیون رضوی ، فلم سالگرہ (1969)
- اداکارہ رینوکا دیوی (بیگم خورشید مرزا) ، فلم محبت (1972)
"پاکستانی نژاد" بھارتی فنکار
پاکستان کی سرزمین فنکاروں کے لیے کس قدر زرخیز رہی ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی فلمی تاریخ کے تینوں کلاسک ہیروز ، دلیپ کمار ، راج کپور اور دیو آنند کے علاوہ پہلے سپرسٹار رومانٹک ہیرو راجیش کھنہ ، پہلے سپر ایکشن ہیرو امیتابھ بچن اور "کنگ خان" ، شاہ رخ خان کی جڑیں پاکستان میں ملتی ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی فلموں کے پانچوں بڑے ولن اداکاروں یعنی پران ، پریم چوپڑا ، امجد خان ، قادر خان اور امریش پوری کا تعلق بھی پاکستان سے ثابت ہوتا ہے۔

پاکستانی نژاد ، بھارتی کلاسک فلمی ہیروز
دلیپ کمار ، راج کپور اور دیو آنند
بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کے ساتھ
- خاموش فلموں سے فلمی کیریر کا آغاز کرنے والے بھارتی فلموں کے عظیم اداکار پرتھوی راج کپور ، 1906ء میں لائل پور یا فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ فلم مغل اعظم (1960) میں شہنشاہ اکبر کے لافانی کردار سے امر ہوئے۔ دنیا بھر میں سب سے بڑی "فنکار فیملی" کے سربراہ تھے جس کی ایک صدی میں پانچ نسلیں فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔
- پرتھوی راج کپور کے سب سے بڑے بیٹے اور بھارتی فلموں کے سب سے بڑے "شومین" راج کپور کی پیدائش ، 1924ء میں پشاور میں ہوئی تھی۔
- عظیم اداکار ، دلیپ کمار ، محمد یوسف خان کے نام سے 1922ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم سے قبل کی فلم جواربھاٹا (1944) سے فلمی کیریر کا آغاز کیا۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے ہیرو ، ناصر خان ، ان کے کل 12 بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔
- 1950 کی دھائی کے تیسرے مقبول ترین فلمی ہیرو ، دیو آنند بھی 1923ء میں شکرگڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے لٹریچر میں بی اے کی ڈگری لی تھی۔
- بھارتی فلموں کے ممتاز ہیرو راجندر کمار ، 1929ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انھیں "جوبلی ہیرو" بھی کہا جاتا تھا کیونکہ ساٹھ کی دھائی میں ریلیز ہونے والی ان کی ہر فلم ایک سلور جوبلی فلم ہوتی تھی۔
- معروف اداکار سنجے دت کے والد ،سنیل دت ، 1929ء میں جہلم میں جبکہ ان کی والدہ ، فلم مدر انڈیا (1957) فیم اداکارہ نرگس ، 1929ء میں ، راولپنڈی کے ایک پنجابی ہندو خاندان میں پیدا ہوئی جو مسلمان ہو گیا تھا۔
- بھارتی فلموں کے "پہلے سپرسٹار" رومانٹک ہیرو راجیش کھنہ ، 1942ء میں بورے والا (ضلع ویہاڑی) ، پنجاب میں پیدا ہوئے جو شہرت و مقبولیت میں "بھارتی وحید مراد" ثابت ہوئے تھے جبکہ امیتابھ بچن کے انتہائی عروج کے دور میں مقبولیت حاصل کرنے والے ایک خوبرو ہیرو ، ونود کھنہ 1946ء میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔
- بھارتی فلم تاریخ کے عظیم ترین ولن اداکار ، پران نے لاہور کی فلم یملاجٹ (1941) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور خاندان (1942) سے ملک گیر شہرت حاصل کی تھی۔ وہ 1920ء میں دہلی میں ایک پنجابی ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔
- چار سو کے قریب فلموں میں ولن کے کردار کرنے والے ایک اور مقبول ترین ولن اداکار ،پریم چوپڑا ، 1935ء میں اور ایک اور بہت بڑے ولن اداکار ، امریش پوری ، 1932ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ایک اور مقبول ولن اداکار قادر خان کی والدہ ، پشین بلوچستان میں پیدا ہوئی تھیں۔
- فلم شعلے (1975) میں گبر سنگھ کے لازوال کردار سے شہرت حاصل کرنے والے امجد خان ، اداکار جینت (زکریا خان) کے بیٹے تھے جو پشاور میں پیدا ہوئے اور جنھوں نے لاہور میں بننے والی دو فلموں پونچی (1944) اور شیریں فرہاد (1945) میں راگنی کے مقابل ہیرو کے رولز بھی کیے تھے۔ یاد رہے کہ بھارت کی ریکارڈز ساز فلم شعلے (1975) کے ہدایتکار ، رمیش سپی ، کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
- نامور بھارتی موسیقار او پی نیر 1926ء میں اور ممتاز گلوکارہ اور اداکارہ ثریا کی پیدائش 1929ء میں لاہور میں ہوئی تھی۔ 1934ء میں جہلم کے قریبی قصبہ دینہ میں نغمہ نگار گلزار ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ موسیقار خیام نے لاہور میں بابا چشتی کی شاگردی اختیار کی اور ممتاز فلمی شاعر ساحر لدھیانوی نے لاہور میں متعدد رسالوں کی مدیری کی اور کمیونسٹ نظریات کی وجہ سے 1949ء میں پاکستان سے "فرار" ہونے میں عافیت سمجھی۔
- 1960ء کی دھائی کی مقبول ہیروئن ، سادھنا ، 1941ء میں کراچی میں پیدا ہوئی۔ اس کی ایک رشتہ دار ادکارہ ببیتا ، بھی وہیں پیدا ہوئی جو معروف اداکاراؤں ، کرینہ کپور اور کرشمہ کپور کی ماں تھی۔ روینہ ٹنڈن کی ماں بھی کراچی کی تھی۔ اداکار رنویر سنگھ اور اداکارہ جوہی چاؤلہ کی جڑیں بھی کراچی میں ہیں۔
- ان کے علاوہ بھارتی فلم سپرسٹار شاہ رخ خان کے والد ، پشاور میں ، امیتابھ بچن کی والدہ ، فیصل آباد میں ، گووندا کے والد اور ہرتھیک روشن کے دادا ، گوجرانوالہ میں ، اداکار ویوک اوبروئے کے والد اداکار سریش اوبروئے ، کوئٹہ بلوچستان میں اور ہدایتکار شیکھر کپور ، لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔
- بھارتی ٹیلی ویژن کی سب سے مقبول سیریز "رامائن" کے ڈائریکٹر رامانند ساگر بھی 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور وہیں پہلی فلم کوئل (1944) میں اداکاری سے فلم کیرئر کا آغاز کیا تھا۔
راج کپور
دلیپ کمار
دیو آنند
راجندر کمار
نرگس اور سنیل دت
راجیش کھنہ اور ونود کھنہ
بھارت کے پانچ بڑے ولن اداکار
پران ، پریم چوپڑہ ، امریش پوری
امجد خان اور قادر خان
کا تعلق بھی پاکستان سے تھا؟
بھارت کی فلمی موسیقی
بھارت کے دیگر "پاکستانی نژاد" فنکار
راجیش کھنہ ، امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان
کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟
PrePartition Artists
| No. | Artist | Category | First film |
|---|---|---|---|
| 1 | A. Shah | Film comedian | Fada-e-Touheed(1934) |
| 2 | A.R. Kardar | Film director, producer | Daughters of Today(1927) |
| 3 | Abbu Shah | Film Actor | Farz(1947) |
| 4 | Agha Hashar Kashmiri | Film director, writer | Bhisham Pratighya(1922) |
| 5 | Ajmal | Supporting actor | Sohni Mehinwal(1939) |
| 6 | Akhtari | Film Actress | Mohabbat Kay Aansoo(1932) |
| 7 | Al-Nasir | Film hero | Prithvi Vallabh(1943) |
| 8 | Allauddin | Villain, hero and character actor | Sanjog(1943) |
| 9 | Amin Malik | Film director | Mangti(1942) |
| 10 | Anwari Begum | Film actress | Heer Ranjha(1932) |
| 11 | Asha Poslay | Supporting actress | Gowandhi(1942) |
| 12 | Ashok Kumar | Actor | Jeevan Naiya(1936) |
| 13 | Atta Ullah Hashmi | Film journalist | Ravi Par(1942) |
| 14 | Baba Alam Siaposh | Poets/Writers | Bhanwar(1947) |
| 15 | Bahar Akhtar | Film heroine | Qatil Kattar(1931) |
| 16 | Balo | Film actress | Heer Syal(1938) |
| 17 | Begum Perveen | Film Actress | Kaisay Kahun(1945) |
| 18 | Bibbo | Supporting actress | Alam Ara(1931) |
| 19 | Butt Kashir | Film Actor | Gokal(1946) |
| 20 | Charlie | Film Comedian | Up-to-date(1928) |
| 21 | D.Bilimoria | Film hero | The Pretender(1926) |
| 22 | Dadasaheb Phalke | Film director, producer, editor | Raja Harishchandra(1913) |
| 23 | Dawood Chand | Film director | Sassi Punnu(1939) |
| 24 | Devika Rani | Actress, producer | Karma(1933) |
| 25 | Dewan Sardari Lal | Film Producer | Barsat Ki Ek Raat(1947) |
| 26 | Dilip Kumar | prePartition actor | Jawar Bhata(1944) |
| 27 | Fateh Ali Khan | Film Music director | Aaina(1944) |
| 28 | Feroz Nizami | Film Music director | Amar Raj(1946) |
| 29 | G.A. Chishti | Film Music director | Sohni Mehinwal(1939) |
| 30 | G.N. Butt | Supporting actor | Tarzan ki Beti(1938) |
| 31 | Geeta Nizami | Film actress | Panna(1944) |
| 32 | Ghori | Film Actor | Satti Savatri(1932) |
| 33 | Ghulam Mohammad | Supporting actor | Madhuri(1932) |
| 34 | Ghulam Qadir | Film Actor | Daughters of Today(1927) |
| 35 | Gul Hamid | prePartitions film hero | Sarfarosh(1930) |
| 36 | Gul Zaman | Supporting actor | Sohni Kumharan(1939) |
| 37 | Hakeem Ahmad Shuja | Writer | Prem Yatra(1937) |
| 38 | Hakeem Ram Parshad | Film Producer, cinema and studio owner | Heer Ranjha(1932) |
| 39 | Himalayawala | Film Villain | Kis ki Bivi(1942) |
| 40 | Ilyas Kashmiri | Villain actor | Gul Bakavli(1947) |
| 41 | Imdad Hussain | Film Comedian | Mehndi(1947) |
| 42 | Imtiaz Ali Taj | Poets/Writers | Svarg Ki Seerhi(1934) |
| 43 | Iqbal Bano | Playback singer | Rehana(1946) |
| 44 | Irshad | Film actress | Shehar Say Door(1946) |
| 45 | K. Khursheed | Film director | Bhai(1944) |
| 46 | Kalavati | Film Actress | Mamta(1942) |
| 47 | Kathana | Supporting comedian | Prem Sangeet(1943) |
| 48 | Khawaja Khursheed Anwar | Film Music director | Kurmai(1941) |
| 49 | Khurshid | Film actress and singer | Laila Majnu(1931) |
| 50 | Kumar | Supporting actor | Anokhi Mohabbat(1934) |
| 51 | Kundan Lal Saigal | Film singer and actor | Mohabbat Kay Aansoo(1932) |
| 52 | Luqman | Film director | Hamjoli(1946) |
| 53 | M. Sadiq | Film director, producer, writer | Heer Ranjha(1932) |
| 54 | M.Ismael | Supporting actor | Daughters of Today(1927) |
| 55 | Majeed | Supporting actor | Zamana(1938) |
| 56 | Majnu | Film Comedian | Majnu 1935(1935) |
| 57 | Masood | Film hero | Bahu Rani(1940) |
| 58 | Masood Parvez | Film director | Mangti(1942) |
| 59 | Master Ghulam Haider | Film Music director | Svarg Ki Seerhi(1934) |
| 60 | Master Inayat Hussain | Film Music director | Kamli(1946) |
| 61 | Maya Devi | Supporting actress | Anar Kali(1930) |
| 62 | Meena Shori | Heroine, supporting actress | Sikandar(1941) |
| 63 | Mohammad Rafi | prePartition singer | Gul Baloch(1944) |
| 64 | Mukhtar Begum | Singer, actress, dancer | Indrasabha(1932) |
| 65 | Mumtaz Shanti | Film heroine | Sohni Kumharan(1939) |
| 66 | Munawar H. Qasim | Film director | Patola(1942) |
| 67 | Munawar Sultana | PrePartitions actress | Khazanchi(1941) |
| 68 | Munawar Sultana | Playback singer | Dhamki(1945) |
| 69 | Munshi Dil | Film director, story and dialogue writer | 2 Bhai(1947) |
| 70 | Nafees Begum | Film Actress | Tarzan ki Beti(1938) |
| 71 | Najam Naqvi | Film director | Punar Milan(1940) |
| 72 | Najma | Film heroine | Naseeb(1945) |
| 73 | Najmul Hassan | Supporting actor | Jawani Ki Hawa(1935) |
| 74 | Nakhshab | Film director | Zeenat(1945) |
| 75 | Nashad | Film Music director | Dildar(1947) |
| 76 | Nasir Khan | Foreign Actor | Pehli Nazar(1945) |
| 77 | Nazar | Film comedian | Gul Baloch(1944) |
| 78 | Nazir | Film hero, producer, director | Niqabposh Daku(1931) |
| 79 | Neena | Film Actress | Ek Raat(1942) |
| 80 | Nisar Bazmi | Film Music director | Jeb Kutra(1946) |
| 81 | Noor Jehan | Playback singer | Shiela as Pind Di Kuri(1936) |
| 82 | Nusrat Kardar | Film Actor | Dard(1947) |
| 83 | Nusrat Mansoori | Film director | Soorat(1947) |
| 84 | Pandit Shahed | Film Actor | Yeh Hay Zindagi(1947) |
| 85 | Pran | Foreign Actor | Yamla Jatt(1940) |
| 86 | Rafiq Ghaznavi | Singer, musician, actor | Laila Majnu(1931) |
| 87 | Rafiq Rizvi | Film director, cinematographer | Prem Pujari(1935) |
| 88 | Ragni | Heroine, Supporting actress | Dulla Bhatti(1940) |
| 89 | Rajni | Film Actress | Chandar Sinha(1935) |
| 90 | Rani Kiran | Film Actress | Kamli(1946) |
| 91 | Rasheed Attray | Film Music director | Shirin Farhad(1945) |
| 92 | Raza Mir | Film director, cinematographer | Shehar Say Door(1946) |
| 93 | Rehan | Supporting actor | Elan(1947) |
| 94 | Rehana | Film Heroine | Tadbir(1945) |
| 95 | Rekha | Supporting actress | Pati Patawan(1933) |
| 96 | Renuka Devi | Film heroine | Jeevan Parbhat(1937) |
| 97 | Roop K. Shorey | Film director | Majnu 1935(1935) |
| 98 | Roshan Ara Begum | Classical singer | Noor-e-Islam(1934) |
| 99 | S.Gul | Film hero, producer | Aaj Aur Kal(1947) |
| 100 | S.M. Yousuf | Film director | Bharat Ka Lal(1936) |
| 101 | Sabtain Fazli | Film director | Chaurangi(1942) |
| 102 | Sadiq Ali | Film Actor | Shahi Lutera(1935) |
| 103 | Saleem Raza | Film Villain | Gul Bakavli(1939) |
| 104 | Santosh | Film hero, producer | Ahinsa(1947) |
| 105 | Shah Nawaz | Supporting actor | Doulat(1937) |
| 106 | Shakir | Film Actor | Kemiagar(1936) |
| 107 | Shamim | Film Heroine | Imandar(1939) |
| 108 | Shamshad Begum | prePartition playback singer | Majnu 1935(1935) |
| 109 | Sharif Nayyar | Film director | Laila Majnu(1945) |
| 110 | Shatir Ghaznavi | Poets/Writers | Bhai(1944) |
| 111 | Shaukat Hussain Rizvi | Studio owner, producer, director, editor | Neta Jee Subhash(1947) |
| 112 | Sheda Imam | Film Actor | Baghawat(1947) |
| 113 | Sheikh Iqbal | Supporting actor, wirter | Ravi Par(1942) |
| 114 | Shevan Rizvi | Poets/Writers | Zinda Lash(1932) |
| 115 | Shyam | Film Actor | Gowandhi(1942) |
| 116 | Sudhir | Action hero | Farz(1947) |
| 117 | Sulochana | Film actress | Thief of Delhi(1926) |
| 118 | Suresh | Foreign Actor | Gopal Krishna(1929) |
| 119 | Swaran Lata | Film Heroine | Aawaz(1942) |
| 120 | Talish | Film villain and charactor actor | Sarai kay Bahar(1947) |
| 121 | Tamancha Jan | Singer | Gul Bakavli(1939) |
| 122 | Tanvir Naqvi | Lyricist | Patola(1942) |
| 123 | Timir Baran | Film Music director | Devdas(1935) |
| 124 | Tufail Farooqi | Film Music director | Dekho Ji(1947) |
| 125 | Tufail Hoshiarpuri | Poets/Writers | Kaisay Kahun(1945) |
| 126 | Umrao Zia Begum | Playback singer | Svarg Ki Seerhi(1934) |
| 127 | W.Z. Ahmad | Film director | Ek Raat(1942) |
| 128 | Wali sahib | Film director | Pak Daaman Raqqasa(1932) |
| 129 | Zaheer Kashmiri | Poets/Writers | Farz(1947) |
| 130 | Zahoor Raja | Actor, director & producer | Mirza Sahiban(1939) |
| 131 | Zahoor Shah | Supporting actor | Niqabposh Daku(1931) |
| 132 | Zaib Qureshi | Film heroine | Santan(1946) |
| 133 | Zarif | Film Comedian | Hamari Galian(1947) |
| 134 | Zeenat | Actress, producer, director | Jeb Kutra(1946) |
| 135 | Zeenat Begum | PrePartition playback singer | Mangti(1942) |
| 136 | Zia Sarhadi | Film director | Post Man(1938) |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



































Asif Raza Mir
Tamancha Jan
Tasawur Khanum
Habib Jalib
Tahira Naqvi
Kemal
Shabab Keranvi
Megha
Kanwal Naseer
Shirin
Qurban Jeelani
Naseer Bhai
Farooq Rokhri
Khurshid
Yasmin Khan
Munir Zarif








