Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


لال محمد اقبال

لال محمد اقبال
نے اردو ، بنگالی اور سندھی فلموں کے علاوہ پاکستان کی پہلی پشتو اور گجراتی فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی
موسیقار جوڑی ، لال محمد اقبال
موسیقار جوڑی ، لال محمد اقبال

لال محمد اقبال ، پاکستانی فلموں کے موسیقاروں کی ایک جوڑی تھی جن میں سے پہلے لال محمد ، ایک بہترین بانسری نواز تھے جبکہ دوسرے سارنگی نواز بلند اقبال تھے جو نامور موسیقار بندو خان کے بیٹے تھے۔

اس جوڑی کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اردو ، بنگالی اور سندھی فلموں کے علاوہ انھوں نے 1970ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی پشتو فلم یوسف خان شیر بانو اور پہلی گجراتی فلم ماں تے ماں کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی۔

لال محمد اقبال کی پہلی فلم

لال محمد اقبال نے اپنی پہلی فلم بارہ بجے (1961) میں ایک بھارتی گلوکارہ نشی کماری سے یہ مشہور گیت گوایا تھا

  • ہار گئی ، ہار گئی ، تو سے دل لگا کے۔۔

لال محمد اقبال اور مسعودرانا کا ساتھ

اس جوڑی کی دوسری فلم مسٹر ایکس (1963) تھی جس میں انھوں نے پہلی بار مسعودرانا سے تین گیت گوائے تھے۔ ان گیتوں میں دھیمی سروں میں گایا ہوا یہ سریلا گیت فلم کے ہیرو محمدعلی صاحب پر فلمایا گیا تھا:

اسی فلم میں مسعودرانا ، نسیمہ شاہین ، وسیم فاروقی اور ساتھیوں کے ایک شوخ کورس گیت

کے علاوہ ایک اور دلچسپ کورس گیت ایک قوالی کی شکل میں تھا:

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

عورتوں اور مردوں کے ایک دوسرے پر روایتی الزامات و شکایات پر مبنی یہ ایک دلکش فلمی قوالی یقیناَ فلم کے ہیرو محمدعلی اور ہیروئن ناصرہ مع ساتھیوں پر فلمائی گئی ہو گی۔ ناصرہ کی مرکزی کردارمیں یہ پہلی فلم تھی کیونکہ عام طور پر وہ فلموں میں معاون یا ویمپ کرداروں میں نظر آتی تھی۔

گیت نگار شور لکھنوی کے لکھے ہوئے اس اکلوتے گیت میں خواتین یہ شکایت کرتے ہوئے سنائی دیتی ہیں کہ یہ مرد حضرات ، ان کے کپڑوں کے ایک ایک تار کو گھورتے ہیں۔۔!

یہ بات نہ صرف سو فیصدی درست ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ بلکہ یہ فطرت کے عین مطابق بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جب عورتیں سات پردوں میں ہوتی تھیں ، تب بھی دیکھنے والے ان کے برقعہ کے ایک ایک تار کو گن لیتے تھے۔

یہاں یورپ میں عورت آزاد اور بے پردہ ہے اور تصویر کائنات میں رنگ بھرتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن وہ بھی شاکی ہے کیونکہ مرد بیچارہ اپنی فطرت سے مجبور ہے اور کبھی مطمئن نہیں ہو پاتا اور ہمیشہ مشتاق نظروں سے ہر عورت کا سر سے پاؤں تک عکس اتار لیتا ہے۔

میں خود بھی بڑا حسن پرست رہا ہوں اور زندگی میں ایسے دلچسپ اور سبق آموز واقعات بکھرے پڑے ہیں کہ جنھیں سمیٹنا چاہوں بھی تو اس کے لیے کرونا وائرس کی برکت سے ملنے والی یہ جبری چھٹیاں بھی ناکافی ثابت ہوں گی۔ گوعملی زندگی میں میں بڑا شریف آدمی واقع ہوا ہوں اور ناچتی گاتی یا نیم عریاں عورتوں کو دیکھنے سے کبھی دلچسپی نہیں رہی لیکن حسین اور خوش لباس خواتین کو دیکھنا ایک ایسی مجبوری اور ایک فطری کمزوری ہے کہ جس سے کبھی دامن نہیں چھڑا سکا۔

گلوکارہ خورشید بیگم

اس قوالی میں لال محمد اقبال نے مسعودرانا کے ساتھ جن دو گلوکاراؤں کو شامل کیا تھا وہ فلمی تاریخ میں گمنام ہیں۔ ان میں سے ایک تو عشرت جہاں ہے جس نے ایک درجن کے قریب فلمی گیت گائے تھے اور واحد فلم غزالہ (1963) تھی جس میں اس کے دو سولو گیت تھے جبکہ دوسری گلوکارہ خورشید بیگم نے بھی ایک درجن کے قریب فلمی گیت گائے تھے اور واحد فلم انقلاب (1962) تھی جس میں چار گیت گائے تھے لیکن کوئی ایک بھی ہٹ نہیں تھا۔

یاد رہے کہ یہ گلوکارہ خورشید بیگم ، وہ اداکارہ اور گلوکارہ خورشید نہیں ہے جو تقسیم سے قبل کی ایک فنکارہ تھی۔ خورشید بیگم کو میں ریڈیو پاکستان لاہور کی وساطت سے جانتا ہوں جب اس کے پنجابی لوک گیت نذیر بیگم کے ساتھ سنائی دیتے تھے۔

خورشید بیگم کا سب سے مقبول ترین گیت منظور جھلا کا لکھا ہوا تھا

  • نہ دل دیندی بے دردی نوں ، نہ کونج وانگوں کرلاندی ، کدی نہ پچھاندی میں۔۔

یہ ایک ریڈیو گیت تھا جسے اسی دھن میں فلم پروہنا (1966) میں میڈم نورجہاں کی آواز میں بھی گوایا گیا تھا۔

لال محمد اقبال کی اگلی فلم چھوٹی بہن (1964) تھی جس میں انھوں نے مسعودرانا سے یہ تین انتہائی اعلیٰ پائے کے گیت گوائے تھے:

مسعودرانا کی آل راؤنڈ کارکردگی

پاکستان کی فلمی تاریخ میں کوئی دوسرا گلوکار اپنی آل راؤنڈ کارکردگی سے اتنا متاثر نہیں کرتا جتنا مسعودرانا صاحب کرتے ہیں اور مندرجہ بالا دھیمی سروں میں گائے ہوئے تینوں گیت اسی صف میں آتے ہیں۔ ان میں پہلا سولو گیت تھا جبکہ باقی دونوں گیتوں میں ان کے ساتھ نگہت سیما نامی گلوکارہ تھی جس نے معروف گلوکار تاج ملتانی کے ساتھ شادی کی تھی۔ اس کا فلم لوری (1966) میں ایک گیت

  • تالی بجے بھئی ، تالی بجے۔۔

بڑا مشہور ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نگہت سیما نے مسعودرانا کے ساتھ اپنے پانچوں گیت ، لال محمد اقبال کی موسیقی میں گائے تھے۔

لال محمد اقبال کے دیگر گیت

مسعودرانا کا لال محمد اقبال کے ساتھ اگلا ساتھ فلم جاگ اٹھا انسان (1966) میں تھا جس میں مسرور انور کا لکھا ہوا اور مالا کے ساتھ گایا ہوا یہ سپر ہٹ دوگانا تھا:

دکھی پریم نگری کا لکھا ہوا یہ دلکش گیت وحیدمراد اور زیبا کی جوڑی پر فلمایا گیا تھا۔ اسی فلم میں خانصاحب مہدی حسن کی یہ غزل بھی بڑی پسند کی گئی تھی

  • دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں۔۔

جبکہ فلم آزادی یا موت (1966) میں لال محمد اقبال نے معروف لوک فنکار عالم لوہار سے ان کا اکلوتا ہٹ اردو فلمی گیت جو ایک ترانہ تھا ، گوایا تھا

  • دنیا جانے ، میرے وطن کی شان۔۔

لال محمد اقبال کی جوڑی نے فلم میرے لال (1967) میں ایکبار پھر مسعودرانا سے تین گیت گوائے تھے اور کیا لاجواب گیت تھے۔ ان میں سے پہلا ایک سولو گیت تھا:

اس فلم کے ہیرو حنیف تھے اور یقیناَ یہ گیت انھی پر فلمایا گیا ہو گا۔ باقی دونوں گیتوں میں مسعودرانا کے ساتھ نگہت سیما تھی اور ان میں سے ایک گیت تھا:

یہ ایک شوخ یا مزاحیہ گیت تھا جو اداکار نرالا پر فلمایا گیا ہو گا جبکہ دوسرا ایک سنجیدہ رومانٹک گیت تھا:

اس فلم کے گیت صہبا اختر نے لکھے تھے جبکہ فلم کی ہیروئن صوفیہ بانو تھی جس نے زیادہ فلموں میں کام نہیں کیا تھا۔

فلم دوسری ماں (1968) میں مسعودرانا نے لال محمد اقبال کی دھن پر صرف ایک شادی بیاہ کا کورس گیت گایا تھا:

اس گیت میں دیگر گلوکاروں میں نگہت سیما اور آئرن پروین کے علاوہ احمدرشدی بھی تھے جو لال محمد اقبال کی پہلی فلم میں بھی تھے۔

اے ابر کرم ، آج اتنا برس

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی پہلی سات فلموں میں رشدی صاحب کے لیے انھوں نے صرف دو گیت کمپوز کیے تھے لیکن اس فلم کے بعد وہ ، ان کے مستقل گلوکار بن گئے تھے اور ان کے تین درجن کے قریب مشترکہ گیت ملتے ہیں جن میں سب سے سپر ہٹ اور شاہکار گیت

  • اے ابر کرم ، آج اتنا برس ، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں۔۔

تھا۔ لال محمد اقبال نے صرف کراچی کی فلموں میں موسیقی دی تھی اور چونکہ رشدی صاحب کا بنیادی تعلق بھی کراچی ہی سے تھا جہاں انھیں عوامی گلوکار کا درجہ حاصل تھا اور اپنے ہلکے پھلکے ہلہ گلہ ٹائپ گیتوں کی وجہ سے وہ دیگر گلوکاروں کی نسبت زیادہ پسند کیے جاتے تھے ، اسی لیے لال محمد اقبال کے زیادہ تر گیت احمدرشدی کے ساتھ ملتے ہیں جو اردو فلمی بینوں کے مزاج اور پسند کے مطابق ہوتے تھے۔

لال محمد اقبال نے مسعودرانا کے لیے ایک غیرریلیز شدہ فلم گھروندہ میں بھی رونا لیلیٰ کے ساتھ ایک انتہائی دلکش دوگانا ریکارڈ کروایا تھا جو گیت نگار دکھی پریم نگری کا لکھا ہوا تھا:

پہلی پاک بھارت مشترکہ فلم سورج بھی تماشائی

ان کے علاوہ جو آخری گیت ملتا ہے وہ ایک مشترکہ فلمسازی کے تحت بننے والی فلم سورج بھی تماشائی میں ہے:

یہ گیت مسعودرانا اور آئرن پروین کا گایا ہوا تھا اور پاکستان کی طرف سے راحت کاظمی ہیرو اور بھارتی اداکارہ ریحانہ سلطان جو روایتی ہیروئن تھی ، پر فلمایا گیا تھا۔ اس فلم میں ولن کا کردار سریش اوبروئے نامی اداکار نے کیا تھا جبکہ اس فلم کو فلمساز اور ہدایتکار ضیاء الرشید نے بنایا تھا۔

فلم سورج بھی تماشائی ، پاکستان ، بھارت ، سری لنکا ، ایران اور اردن کی مشترکہ فلم تھی اور دبئی میں بنائی گئی تھی لیکن پاکستان کے سینماؤں پر کبھی ریلیز نہیں ہوئی تھی حالانکہ اس دور میں متعدد بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت دی گئی تھی۔

ایک منافق اور ٹھرکی آمر کا قصہ

یہ ، اس دور کی بات ہے کہ جب پاکستان پر ایک بدترین آمر مسلط تھا جس نے کسی غنڈے اور بدمعاش کی طرح طاقت کے بل بوتے پر مروجہ قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اپنے ہی ملک پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا اور جسے وہ اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے اس میں بسنے والی خلق خدا کو بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔

بظاہر وہ خود کو بڑا مذہبی ظاہر کرتا تھا اور کچھ گمراہ عناصر کا "مرد مومن" بھی تھا لیکن عملی طور پر وہ ایک پرلے درجے کا منافق اور ٹھرکی شخص تھا جس کا بیشتر وقت وی سی آر پر بھارتی فلمیں دیکھنے میں گزرتا تھا حالانکہ اس وقت پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش خلاف قانون تھی لیکن ایک آمر کے دور میں قانون کی کیا قدرو اہمیت ہو سکتی تھی۔

اس غاصب و جابر اور خود ساختہ صدر نے اپنے دیرینہ شوق سے مجبور ہو کر ایک تھرڈ کلاس انتہا پسند ہندو انڈین ایکٹر کو اپنے گھر کا ایک فرد بھی بنایا ہوا تھا جو کسی طور بھی اس منصب کے شایان شان نہیں تھا۔

مجھے زندگی بھر کبھی بھارتی فلموں یا فنکاروں سے دلچسپی نہیں رہی لیکن اتفاق سے نوے کے عشرہ میں سیٹلائٹ ٹی وی پر ایک بھارتی فلم میں اسے دیکھا تھا اور کبھی نہیں بھول پایا کہ وہ اداکار ، اپنے فلمی کردار میں پاک فوج کی وردی میں ملبوس ایک میدان جنگ میں نشے کی حالت میں پاکستانی فوجیوں کا مذاق اڑا رہا تھا۔ بعد میں وہ بھارت کی ایک انتہا پسند مذہبی جنونی پارٹی کا ممبر بھی بنا تھا۔ ایسے شخص کو گھر کا فرد بنانا ،کسی انتہائی بے غیرت اور ذلیل ترین شخص کا کام ہی ہو سکتا تھا اور وہ ملعون ڈکٹیٹر ، جس کا نام لیتے ہوئے زبان ناپاک ہو جاتی ہے ، بالکل ایسا ہی ایک لعنتی کردار تھا۔۔!

مسعودرانا اور لال محمد اقبال کے 13 فلمی گیت

13 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1

ان مردوں سے اللہ بچائے ، اللہ بچائے ، میرا مولا بچائے..

فلم ... مسٹر ایکس ... اردو ... (1963) ... گلوکار: خورشید بیگم ، عشرت جہاں ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: شور لکھنوی ... اداکار: ؟
2

کس کے قدموں کی آہٹ ہے ، بھلا یہ کون آیا ہے..

فلم ... مسٹر ایکس ... اردو ... (1963) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: موج لکھنوی ... اداکار: محمد علی
3

گوری جاؤ نہ دامن جھٹک کر..

فلم ... مسٹر ایکس ... اردو ... (1963) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیمہ شاہین ، وسیم فاروقی ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: ایس اے غفار ... اداکار: نرالا، کمال ایرانی مع ساتھی
4

میری خاموش محبت کو اشارہ دے دو..

فلم ... چھوٹی بہن ... اردو ... (1964) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: شببی فاروقی ... اداکار: کمال
5

گیت گاتی ہیں خوابوں کی پرچھائیاں ، پیار لینے لگا انگڑائیاں..

فلم ... چھوٹی بہن ... اردو ... (1964) ... گلوکار: نگہت سیما ، مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: رانی ، کمال
6

کلی حسرتوں کی نہ کھل سکی ، تیرا پیار راس نہ آ سکا..

فلم ... چھوٹی بہن ... اردو ... (1964) ... گلوکار: نگہت سیما ، مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: رانی ، کمال
7

دل میں بسایا پیار سے ہم نے ، تم کو اپنا جان کے..

فلم ... جاگ اٹھا انسان ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: دکھی پریم نگری ... اداکار: زیبا ، وحید مراد
8

پیار بھی ہے سزا ، نہ تھا معلوم..

فلم ... میرے لال ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: صہبا اختر ... اداکار: حنیف
9

یہ دل بھی تمہارا ہے ، یہ گھر بھی تمہارا ہے..

فلم ... میرے لال ... اردو ... (1967) ... گلوکار: نگہت سیما ، مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: صہبا اختر ... اداکار: صوفیہ بانو ، حنیف
10

باتیں فلک کی ، قصے زمین کے ، جھوٹے کہیں کے..

فلم ... میرے لال ... اردو ... (1967) ... گلوکار: نگہت سیما ، مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: صہبا اختر ... اداکار: ؟
11

میری پیاری بنری ، میرا پیارا بنڑا..

فلم ... دوسری ماں ... اردو ... (1968) ... گلوکار: آئرن پروین ، نگہت سیما ، احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: ؟
12

روشنی اے روشنی ، جتنی تیری کرنیں ہیں ، اتنے ہی روپ..

فلم ... سورج بھی تماشائی ... اردو ... (1980) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: ایم ضیاور رشید ... اداکار: ریحانہ سلطان ، راحت کاظمی
13

بجپن کی وادیوں سے کس نے ہمیں پکارا ، آواز دے خدارا..

فلم ... گھروندہ ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ، رونا لیلیٰ ... موسیقی: لال محمد اقبال ... شاعر: دکھی پریم نگری ... اداکار: ؟

مسعودرانا اور لال محمد اقبال کے 3سولو گیت

1

کس کے قدموں کی آہٹ ہے ، بھلا یہ کون آیا ہے ...

(فلم ... مسٹر ایکس ... 1963)
2

میری خاموش محبت کو اشارہ دے دو ...

(فلم ... چھوٹی بہن ... 1964)
3

پیار بھی ہے سزا ، نہ تھا معلوم ...

(فلم ... میرے لال ... 1967)

مسعودرانا اور لال محمد اقبال کے 7دو گانے

1

گیت گاتی ہیں خوابوں کی پرچھائیاں ، پیار لینے لگا انگڑائیاں ...

(فلم ... چھوٹی بہن ... 1964)
2

کلی حسرتوں کی نہ کھل سکی ، تیرا پیار راس نہ آ سکا ...

(فلم ... چھوٹی بہن ... 1964)
3

دل میں بسایا پیار سے ہم نے ، تم کو اپنا جان کے ...

(فلم ... جاگ اٹھا انسان ... 1966)
4

باتیں فلک کی ، قصے زمین کے ، جھوٹے کہیں کے ...

(فلم ... میرے لال ... 1967)
5

یہ دل بھی تمہارا ہے ، یہ گھر بھی تمہارا ہے ...

(فلم ... میرے لال ... 1967)
6

روشنی اے روشنی ، جتنی تیری کرنیں ہیں ، اتنے ہی روپ ...

(فلم ... سورج بھی تماشائی ... 1980)
7

بجپن کی وادیوں سے کس نے ہمیں پکارا ، آواز دے خدارا ...

(فلم ... گھروندہ ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور لال محمد اقبال کے 3کورس گیت

1ان مردوں سے اللہ بچائے ، اللہ بچائے ، میرا مولا بچائے ... (فلم ... مسٹر ایکس ... 1963)
2گوری جاؤ نہ دامن جھٹک کر ... (فلم ... مسٹر ایکس ... 1963)
3میری پیاری بنری ، میرا پیارا بنڑا ... (فلم ... دوسری ماں ... 1968)

Masood Rana & Lal Mohammad Iqbal: Latest Online film

Masood Rana & Lal Mohammad Iqbal: Film posters
Chhoti BehanJaag Utha InsanSuraj Bhi Tamashai
Masood Rana & Lal Mohammad Iqbal:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Lal Mohammad Iqbal:

Total 8 joint films

(8 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1963: Mr. X
(Urdu)
2.1964: Chhoti Behan
(Urdu)
3.1966: Jaag Utha Insan
(Urdu)
4.1967: Meray Laal
(Urdu)
5.1968: Doosri Maa
(Urdu)
6.1969: Pyar Ki Jeet
(Urdu)
7.1980: Suraj Bhi Tamashai
(Urdu)
8.Unreleased: Gharonda
(Urdu)


Masood Rana & Lal Mohammad Iqbal: 13 songs

(13 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Mr. X
from Friday, 30 August 1963
Singer(s): Masood Rana, Naseema Shaheen, Waseem Farooqi, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Nirala, Kemal Irani & Co.
2.
Urdu film
Mr. X
from Friday, 30 August 1963
Singer(s): Khursheed Begum, Ishrat Jahan, Masood Rana & Co., Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): ?
3.
Urdu film
Mr. X
from Friday, 30 August 1963
Singer(s): Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali
4.
Urdu film
Chhoti Behan
from Friday, 13 November 1964
Singer(s): Nighat Seema, Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Rani, Kemal
5.
Urdu film
Chhoti Behan
from Friday, 13 November 1964
Singer(s): Nighat Seema, Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Rani, Kemal
6.
Urdu film
Chhoti Behan
from Friday, 13 November 1964
Singer(s): Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Kemal
7.
Urdu film
Jaag Utha Insan
from Friday, 20 May 1966
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Zeba, Waheed Murad
8.
Urdu film
Meray Laal
from Thursday, 12 January 1967
Singer(s): Nighat Seema, Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): ?
9.
Urdu film
Meray Laal
from Thursday, 12 January 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Hanif
10.
Urdu film
Meray Laal
from Thursday, 12 January 1967
Singer(s): Nighat Seema, Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Sufia Bano, Hanif
11.
Urdu film
Doosri Maa
from Tuesday, 2 January 1968
Singer(s): Irene Parveen, Nighat Seema, Ahmad Rushdi, Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): ?
12.
Urdu film
Suraj Bhi Tamashai
from Friday, 2 June 1980
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): Rehana Sultan, Rahat Kazmi
13.
Urdu film
Gharonda
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Runa Laila, Music: Lal Mohammad Iqbal, Poet: , Actor(s): ?


Shakuntla
Shakuntla
(1943)
Shalimar
Shalimar
(1946)
Pagli
Pagli
(1943)



پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔


237 فنکاروں پر معلوماتی مضامین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.