Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


بابا عالم سیاہ پوش

بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
کے فلمی گیتوں اور مکالموں میں
پنجاب کی زرخیز مٹی کی مہک
رچی بسی ہوتی تھی

بابا عالم سیاہ پوش ، پنجابی سینما کا فخر تھے۔۔!

  • بھاگاں والیو ، نام جپھو مولا نام۔۔
  • نمبوآں دا جوڑا ، اساں باگے وچوں توڑیا۔۔
  • میرے سجرے پھلاں دے گجرے ، کنڈیاں دے وس پے گئے۔۔
  • جدا دل ٹٹ جائے ، جدی کل مک جائے ، جنھوں چوٹ لگے ، اوہ جانے۔۔
  • جہیڑے توڑدے نیں دل برباد ہون گے ، اج کسے نوں روایا ، کل آپ رون گے۔۔

ایک بے مثل مکالمہ نگار

ایسے لازوال گیت لکھنے والے فلمی شاعر ، بابا عالم سیاہ پوش ، بنیادی طور پر ایک مکالمہ نگار تھے۔ لیکن ایک کہانی نویس یا مکالمہ نگار سے زیادہ شہرت نغمہ نگاروں کو ملتی رہی ہے کیونکہ عام طور پر فلمیں ، یادوں اور ڈبوں میں بند ہو جاتی ہیں لیکن گیت ، زندگی بھر لبوں پر مچلتے رہتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر پنجابی فلموں میں مکالمہ نگاری میں سب سے زیادہ بابا عالم سیاہ پوش نے متاثر کیا تھا۔ ان کے فلمی ڈائیلاگ اور گیتوں میں پنجابی ادب کی چاشنی اور پنجاب کی زرخیز مٹی کی مہک ہوتی تھی۔ وہ فلمی مکالموں میں ایسے ایسے پرمغز جملے ، محاورے اور ضرب الامثال پیش کرتے تھے کہ سننے والا پنجابی زبان کی مٹھاس ، وسعت اور گہرائی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسی فلموں میں چن ماہی (1956) ، چوڑیاں اور تیس مار خان (1963) جیسی یادگار فلمیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں کہ جنھیں کبھی انھی خوبیوں کی وجہ سے میں نے اتنی بار دیکھا تھا کہ ان فلموں کا ایک ایک سین اور مکالمے زبانی یاد ہو گئے تھے۔

بابا عالم سیاہ پوش کا فلمی کیرئر

بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
بطور اداکار فلم لارے (1950) میں

پاکستان فلم ڈیٹابیس کے غیر حتمی اعداوشمار کے مطابق بابا عالم سیاہ پوش ، 43 فلموں کے مصنف تھے جن میں سے بیشتر فلموں کے مکالمہ نگار تھے جبکہ 37 فلموں میں ڈیڑھ سو کے قریب گیت لکھے تھے۔ وہ دس فلموں کے مکمل مصنف تھے ، یعنی ان فلموں کی کہانیاں ، مکالمے اور منظرنامے بھی لکھے تھے۔ ان فلموں میں پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم دلابھٹی (1956) بھی شامل تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دس ہی فلموں کے مکمل گیت بھی انھوں نے لکھے تھے جن میں سب سے بڑی نغماتی فلم تیس مارخان (1963) تھی۔ تین فلموں پھیرے (1949) ، لارے (1950) اور جمیلہ (1964) میں اداکاری بھی کی تھی۔

بابا عالم ، سیاہ پوش کیسے ہوئے؟

1916ء میں پیدا ہونے والے محمد حسین کو جوانی ہی میں "بابا" اور "سیاہ پوش" اس لیے کہتے تھے کہ انھوں نے کسی ناکام عشق میں دنیاداری چھوڑ کر بزرگی اور سیاہ پوشی اختیار کر لی تھی۔

تقسیم سے قبل فلم بھنور (1947) میں گیت اور مکالمہ نگار کے طور پر فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ تقسیم کے بعد ان کی پہلی فلم پھیرے (1949) تھی جو پاکستان کی پہلی سپر ہٹ سلورجوبلی فلم تھی جو لاہور کے پیلس سینما میں مسلسل چھ ماہ تک چلتی رہی تھی۔ یہی فلم پاکستان کی پہلی پنجابی اور نغماتی فلم بھی تھی جس میں ان کا لکھا ہوا اور عنایت حسین بھٹی کا گایا ہوا پہلا پنجابی گیت "جے نئیں سی پیار نبھانا ، سانوں دس جا کوئی ٹھکانا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ بابا عالم نے اس فلم کے مکالمے بھی لکھے تھے اور اداکاری بھی کی تھی۔

ان کی دیگر یادگار فلموں میں لارے (1950) ، شہری بابو (1953) ، ہیر ، پتن (1955) ، دلابھٹی ، چن ماہی (1956) ، زلفاں (1957) ، جٹی ، مکھڑا (1958) ، ناجی (1959) ، چوڑیاں ، تیس مارخان (1963) ، ماماجی ، پانی ، بھرجائی (1964) ، ہیر سیال (1965) ، راوی پار ، میرا ویر ، جانی دشمن (1967) ، پنج دریا (1968) اور ناجو (1969) تھیں۔ ان کی آخری فلم مان جوانی دا (1976) تھی جو ان کے انتقال کے چھ سال بعد ریلیز ہوئی تھی۔

بابا عالم سیاہ پوش اور مسعودرانا کا ساتھ

بابا عالم سیاہ پوش کا مسعودرانا کے ساتھ پہلا سنگم فلم بھرجائی (1964) میں ہوا تھا جس میں انھوں نے پہلا تھیم سانگ لکھا تھا:

یہ گیت اپنی دھن اور گائیکی میں جہاں لاجواب ہے وہاں اس کی شاعری بھی بڑے کمال کی تھی جو فلم کی صورتحال کی بھر پور عکاسی کرتی تھی۔ اس گیت کے ہر انترے کے بعد "گل مک گئی۔۔" کی تکرار سننے والوں پر بڑا گہرا اثر کرتی تھی۔ اسی گیت کی استھائی سے پہلے جو چند الفاظ کا مکھڑا تھا ، وہ بھی کیا کمال کا تھا:

  • اُڈ گئے ہنس نمانے ہو کے ، کانواں ملیا ڈیرا ، سنجھی نگری ، سنجھیاں گلیاں ، سنجھا ہو گیا ویہڑا۔۔

یہ ایک شعر جو فلم کی کہانی کے لیے لکھا گیا تھا ، پاکستان کی پوری تاریخ بھی بیان کرتا ہے۔

ایسا ہی ایک بامقصد تھیم سانگ فلم تابعدار (1966) میں بابا عالم سیاہ پوش نے مسعودرانا کے لیے لکھا تھا جس کی دھن رحمان ورما نے بنائی تھی جو بابا چشتی کے شاگرد تھے:

ایسے بامقصد اور پر اثر گیت سن کر ہی مجھے ، بچپن ہی سے مسعودرانا کے گیتوں سے گہری عقیدت پیدا ہو گئی تھی جو اس فقید المثل خراج تحسین کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

فلم راوی پار (1967) میں ایک بار پھر بابا عالم نے مسعودرانا کے لیے تین گیت لکھے تھے جن میں مالا کے ساتھ گایا ہوا یہ رومانٹک گیت دل کے تار چھیڑ دیتا ہے اور اسے بار بار سننے کو جی چاہتا ہے ، کچھ گیت کے بول ، اوپر سے بابا چشتی کی لاجواب دھن اور پھر دلکش آوازیں ، سونے پہ سہاگہ۔!

فلم جانی دشمن (1967) میں بابا عالم سیاہ پوش کا لکھا ہوا اوربابا چشتی کی دھن میں گایا ہوا ایک ماہیا جو مالا المیہ موڈ میں اور مسعودرانا طربیہ موڈ میں گاتے ہیں اور فلم میں نغمہ اور سدھیر پر فلمایا جاتا ہے ، کیا کمال کا گیت تھا:

اسی فلم میں اس وقت کا ایک سپر ڈپر ہٹ گیت بھی تھا جسے میڈم نورجہاں نے گایا تھا "میں چھج پتاسے ونڈاں ، اج قیدی کر لیا ماہی نوں۔۔" اس گیت کے ایک انترے میں یہ بول سننے والے کو انتہائی محظوظ کرتے ہیں " میں آں محرم ، تو ایں مجرم ، دفعہ میں کہیڑی لاواں ، جی کردا اے عمر قید دا ، تینوں حکم سناواں۔۔"

پتاسوں سے یاد آیا کہ کبھی یہ شادی و بیاہ یا خوشی کے موقع کی سب سے بڑی سوغات ہوتی تھی اور اس کے ساتھ دیگر دیسی سویٹس بھی یاد آنے لگتی ہیں جن میں پھلیاں ، نغدیاں ، مخانے ، دال سویاں ، مرونڈا ، سونف ، چھولے اور نجانے کیا کیا ہوتا تھا۔۔!

بطور نغمہ نگار بابا عالم سیاہ پوش کے کریڈٹ پر بدلہ (1968) جیسی بہت بڑی نغماتی فلم بھی تھی جس کا تھیم سانگ:

مسعودرانا کے ٹاپ ٹین سپر ڈپر فلمی گیتوں میں سے ایک تھا جو اکثر ریڈیو پر گونجتا تھا اور جس پر مسعودرانا کی خاص طور پر انتہائی جاندار اور خبردار قسم کی آواز کی بے حد تعریف ہو تی تھی۔ اسی فلم میں بابا عالم کے میڈم نورجہاں کے لیے یہ دو سدابہار سپر ہٹ گیت بھی تھے "چٹی گھوڑی تے کاٹھی تلے دار نی سیو۔۔" اور "مٹھی پے گئی چن تاریاں دی لوہ ، تو اجے وی نہ آیوں سجناں۔۔"

بابا عالم سیاہ پوش ، پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل

بابا عالم سیاہ پوش ، پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے اور پنجابی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے ، اسی لیے ان کے گیتوں میں کئی ایسی باتیں ہوتی تھیں جو مجھ جیسے تاریخ کے طالبعلم کے لیے دلچسپی کا باعث ہوتی تھیں ، جیسا کہ فلم میلہ (1968) میں مسعودرانا اور آئرن پروین کا یہ گیت:

دھیلے کا سکہ

اس گیت میں پیسوں کے ساتھ دھیلوں کا ذکر بھی ہوا ہے حالانکہ دھیلے کا سکہ ، قیام پاکستان سے کافی پہلے ختم ہو چکا تھا۔ پاکستان میں یکم جنوری 1961ء تک ایک روپیہ ، آدھا روپیہ یا اٹھنی یا آٹھ آنہ ، پاؤ روپیہ یا چونی یا چار آنہ ، دو آنہ یا دونی ، ایک آنہ یا اکنی ، آدھا آنہ یا دو پیسے (جسے ٹکا بھی کہتے تھے) ، ایک پیسہ اور ایک پائی کے سکے ہوتے تھے لیکن دھیلہ ، دمڑی ، کوڑی اور پھوٹی کوڑی جیسے متروک سکوں کا ذکر ہماری روزمرہ بول چال اور زبان و ادب کا حصہ رہا ہے۔

مسعودرانا اور بابا عالم سیاہ پوش کے 12 فلمی گیت

0 اردو گیت ... 12 پنجابی گیت
1

پینگ ٹٹ گئی ہلارا کھا کے ، ٹاہلیاں دے ٹہن پجھ گئے..

فلم ... بھرجائی ... پنجابی ... (1964) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: (پس پردہ، بہار ، ظہور شاہ)
2

در در توں سانوں ٹھوکر وجے ، کی لکھیاں تقدیراں ، عرشاں والیا ، فرشاں والیا ، معاف کریں تقصیراں..

فلم ... بھرجائی ... پنجابی ... (1964) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: (پس پردہ ، بہار ، ظہور شاہ)
3

پنجرہ رہ جاؤ خالی ، پنچھی اڈ جانا ، جے لنگ گیا اے ویلا ، مڑ کے نئیں آنا..

فلم ... تابعدار ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: رحمان ورما ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: ؟ (زینت)
4

راوی پار وسے میرا پیار نی..

فلم ... راوی پار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: نیلو ، حبیب
5

وے مڑ جا اڑیا ، میں نئیوں آنا تیری ہٹی ، نی تو آپے آؤنا ، پیار پڑھائی جدوں پٹی..

فلم ... راوی پار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: نیلو ، حبیب
6

چل موڑ بیعانہ میرا ، نئیں میں عاشق بن دا تیرا..

فلم ... راوی پار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: احمد رشدی ، نسیم بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: رنگیلا ، رضیہ ، نذر
7

دن چہ پے جائے رات وے ماہیا ، کیویں سنائیے بات وے ماہیا..

فلم ... جانی دشمن ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: نغمہ، سدھیر
8

میلہ میلیاں دا ، پیسے دھیلیاں دا ، ساتھی ساتھ نئیں چھڈدے بیلیاں دا..

فلم ... میلہ ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: علاؤالدین
9

دھرتی دا میں سینہ پھولاں ، کدی نہ ڈھولاں بیلیا..

فلم ... چن جی ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: اسد بخاری
10

جماں جنج نال کیوں اے..

فلم ... چن جی ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: نذیر بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: رضیہ ، آصف جاہ
11

جہیڑے توڑدے نے دل برباد ہون گے ، اج کسے نوں رلایا ، کل آپ رون گے..

فلم ... بدلہ ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: طفیل فاروقی ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: محبوب کاشمیری (الیاس کاشمیری)
12

او میں بندہ آں نواب ، کھلا ڈھلا اے حساب..

فلم ... دلدار ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: مظہر شاہ ، چھم چھم

مسعودرانا اور بابا عالم سیاہ پوش کے 0 اردو گیت


مسعودرانا اور بابا عالم سیاہ پوش کے 12 پنجابی گیت

1

پینگ ٹٹ گئی ہلارا کھا کے ، ٹاہلیاں دے ٹہن پجھ گئے ...

(فلم ... بھرجائی ... 1964)
2

در در توں سانوں ٹھوکر وجے ، کی لکھیاں تقدیراں ، عرشاں والیا ، فرشاں والیا ، معاف کریں تقصیراں ...

(فلم ... بھرجائی ... 1964)
3

پنجرہ رہ جاؤ خالی ، پنچھی اڈ جانا ، جے لنگ گیا اے ویلا ، مڑ کے نئیں آنا ...

(فلم ... تابعدار ... 1966)
4

دھرتی دا میں سینہ پھولاں ، کدی نہ ڈھولاں بیلیا ...

(فلم ... چن جی ... 1967)
5

جماں جنج نال کیوں اے ...

(فلم ... چن جی ... 1967)
6

راوی پار وسے میرا پیار نی ...

(فلم ... راوی پار ... 1967)
7

وے مڑ جا اڑیا ، میں نئیوں آنا تیری ہٹی ، نی تو آپے آؤنا ، پیار پڑھائی جدوں پٹی ...

(فلم ... راوی پار ... 1967)
8

چل موڑ بیعانہ میرا ، نئیں میں عاشق بن دا تیرا ...

(فلم ... راوی پار ... 1967)
9

دن چہ پے جائے رات وے ماہیا ، کیویں سنائیے بات وے ماہیا ...

(فلم ... جانی دشمن ... 1967)
10

میلہ میلیاں دا ، پیسے دھیلیاں دا ، ساتھی ساتھ نئیں چھڈدے بیلیاں دا ...

(فلم ... میلہ ... 1967)
11

جہیڑے توڑدے نے دل برباد ہون گے ، اج کسے نوں رلایا ، کل آپ رون گے ...

(فلم ... بدلہ ... 1968)
12

او میں بندہ آں نواب ، کھلا ڈھلا اے حساب ...

(فلم ... دلدار ... 1969)

مسعودرانا اور بابا عالم سیاہ پوش کے 5سولو گیت

1

پینگ ٹٹ گئی ہلارا کھا کے ، ٹاہلیاں دے ٹہن پجھ گئے ...

(فلم ... بھرجائی ... 1964)
2

در در توں سانوں ٹھوکر وجے ، کی لکھیاں تقدیراں ، عرشاں والیا ، فرشاں والیا ، معاف کریں تقصیراں ...

(فلم ... بھرجائی ... 1964)
3

پنجرہ رہ جاؤ خالی ، پنچھی اڈ جانا ، جے لنگ گیا اے ویلا ، مڑ کے نئیں آنا ...

(فلم ... تابعدار ... 1966)
4

دھرتی دا میں سینہ پھولاں ، کدی نہ ڈھولاں بیلیا ...

(فلم ... چن جی ... 1967)
5

جہیڑے توڑدے نے دل برباد ہون گے ، اج کسے نوں رلایا ، کل آپ رون گے ...

(فلم ... بدلہ ... 1968)

مسعودرانا اور بابا عالم سیاہ پوش کے 6دو گانے

1

جماں جنج نال کیوں اے ...

(فلم ... چن جی ... 1967)
2

راوی پار وسے میرا پیار نی ...

(فلم ... راوی پار ... 1967)
3

وے مڑ جا اڑیا ، میں نئیوں آنا تیری ہٹی ، نی تو آپے آؤنا ، پیار پڑھائی جدوں پٹی ...

(فلم ... راوی پار ... 1967)
4

دن چہ پے جائے رات وے ماہیا ، کیویں سنائیے بات وے ماہیا ...

(فلم ... جانی دشمن ... 1967)
5

میلہ میلیاں دا ، پیسے دھیلیاں دا ، ساتھی ساتھ نئیں چھڈدے بیلیاں دا ...

(فلم ... میلہ ... 1967)
6

او میں بندہ آں نواب ، کھلا ڈھلا اے حساب ...

(فلم ... دلدار ... 1969)

مسعودرانا اور بابا عالم سیاہ پوش کے 1کورس گیت

1

چل موڑ بیعانہ میرا ، نئیں میں عاشق بن دا تیرا ...

(فلم ... راوی پار ... 1967)

Masood Rana & Baba Alam Siaposh: Latest Online film

Tabedar

(Punjabi - Black & White - Friday, 9 December 1966)


Masood Rana & Baba Alam Siaposh: Film posters
Mama JiBharjaiChann JiRavi ParJani DushmanMelaDildar
Masood Rana & Baba Alam Siaposh:

1 joint Online films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)
1.1966: Tabedar
(Punjabi)
Masood Rana & Baba Alam Siaposh:

Total 10 joint films

(0 Urdu, 10 Punjabi films)
1.1964: Mama Ji
(Punjabi)
2.1964: Bharjai
(Punjabi)
3.1966: Tabedar
(Punjabi)
4.1967: Chann Ji
(Punjabi)
5.1967: Ravi Par
(Punjabi)
6.1967: Jani Dushman
(Punjabi)
7.1967: Mela
(Punjabi)
8.1968: Badla
(Punjabi)
9.1969: Dildar
(Punjabi)
10.1970: Laralappa
(Punjabi)


Masood Rana & Baba Alam Siaposh: 12 songs

(0 Urdu and 12 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Bharjai
from Friday, 29 May 1964
Singer(s): Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback, Bahar, Zahoor Shah)
2.
Punjabi film
Bharjai
from Friday, 29 May 1964
Singer(s): Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback - Bahar, Zahoor Shah)
3.
Punjabi film
Tabedar
from Friday, 9 December 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: Rehman Verma, Poet: , Actor(s): ? (Zeenat)
4.
Punjabi film
Chann Ji
from Friday, 5 May 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): Asad Bukhari
5.
Punjabi film
Chann Ji
from Friday, 5 May 1967
Singer(s): Nazir Begum, Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): Razia, Asif Jah
6.
Punjabi film
Ravi Par
from Friday, 9 June 1967
Singer(s): Ahmad Rushdi, Naseem Begum, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Nazar, Rangeela, Razia
7.
Punjabi film
Ravi Par
from Friday, 9 June 1967
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Neelo, Habib
8.
Punjabi film
Ravi Par
from Friday, 9 June 1967
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Neelo, Habib
9.
Punjabi film
Jani Dushman
from Friday, 29 September 1967
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Naghma, Sudhir
10.
Punjabi film
Mela
from Friday, 17 November 1967
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Tasadduq Hussain, Poet: , Actor(s): Allauddin, ?
11.
Punjabi film
Badla
from Friday, 24 May 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Tufail Farooqi, Poet: , Actor(s): Mehboob Kashmiri (Ilyas Kashmiri)
12.
Punjabi film
Dildar
from Friday, 18 July 1969
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Mazhar Shah, ChhamChham

Aawara
Aawara
(1986)
Billo Ji
Billo Ji
(1962)
Jeedar
Jeedar
(1981)



پاکستان فلم میگزین ، سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جس پر ہزاروں پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور گیتوں کی معلومات ، واقعات اور اعدادوشمار دستیاب ہیں۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل جاری و ساری ہے۔

مسعود رانا پر ایک معلومات ویب سائٹ

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کے گیتوں کی تلاش و جستجو میں یہ سب تگ و دو کی جو گزشتہ دو دھائیوں سے پاکستانی فلمی معلومات کا سب سے بڑا آن لائن منبع ثابت ہوئی۔

2020ء سے مسعود رانا کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں اور ساڑھے چھ سو فلموں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ دیگر پاکستانی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔

یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

تازہ ترین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.