A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1047 songs in 652 films

مسعودرانا اور منظور جھلا

منظورجھلا ، پنجابی لوک موسیقی کا ایک بہت بڑا نام تھے۔۔!

پاکستان میں ستر کے عشرہ تک فلمی گائیکی کو اجارہ داری حاصل رہی ہے۔ فلموں ، فلمی فنکاروں اور فلمی موسیقی کو شہری آبادی اور مڈل کلاس میں بڑی مقبولیت حاصل ہوتی تھی جو سینماؤں ، ریڈیو ، ٹی وی اور میڈیا پر نمایاں ہوتی تھی۔ اس کے متوازی ایک عوامی تفریح بھی ہوتی تھی جہاں لوک فنکاروں کا راج ہوتا تھا۔ پنجاب بھر کے میلے ٹھیلوں میں انھی عوامی فنکاروں ، خصوصاً گلوکاروں کا راج ہوتا تھا جن کی لائیو پرفارمنس ، عام طور پر دیہاتی شائقین کے لیے ناقابل فراموش ہوتی تھی۔ ایسے فنکارں میں عالم لوہار ، طفیل نیازی ، بالی جٹی ، عاشق جٹ ، سائیں اختر اور عنایت حسین بھٹی وغیرہ کے علاوہ منظورجھلا بھی شامل تھے جو بنیادی طور پر ایک شاعر تھے۔

اہل پنجاب کے لیے یہ غیرفلمی گیت غیر مانوس نہیں تھے:

  • ہائے او ربا ، نئیں اوں لگدا دل میرا ، سجناں دے باجھ ہویا انہیرا۔۔
  • نہ دل دیندی بے دردی نوں ، نہ کونج وانگوں کرلاندی ، کدی نہ پچھتاندی میں۔۔
  • گوریئے ، میں جانا پردیس ، میں جانا تیرے نال۔۔
  • کِتے نین نہ جوڑی ، تینوں واسطہ خدا دا ، واگاں وطناں نوں موڑیں۔۔
  • دل والا دکھڑا نئیں کسے نوں سنائی دا ، اپنیاں سوچاں وچ ، آپے مک جائی دا۔۔
  • وے میں چوری چوری تیرے نال لائیاں وے اکھاں وے۔۔
  • لگی والیاں نوں نیندر نہ آندی ، تیری کیویں اکھ لگ گئی۔۔
  • ویکھیں پیار نہ کریں ، نئیں تے رُل جائیں گا ، ایتھے رل گئے لکھاں ، تو وی رُل جائیں گا۔۔
یہ سبھی شاہکار عوامی گیت منظورجھلا کے لکھے ہوئے تھے جو ایک مفلوک الحال پنجابی شاعر تھے اور ان کی شاعری میں اپنی تلخ زندگی کی جھلک بھی نظر آتی تھی۔ بہت سے لوک فنکاروں نے ان کے گیت گا کر خوب شہرت حاصل کی تھی۔

منظورجھلا نے تقریباً ڈیڑھ درجن پنجابی فلموں میں ستر کے قریب فلمی گیت بھی لکھے تھے۔ پہلافلمی گیت "اے دنیا زوراور دی اے۔۔" تھا جو عنایت حسین بھٹی کی آواز میں فلم سچے موتی (1959) میں گایا گیا تھا۔ اس فلم کے فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور اداکار شیخ اقبال تھے۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ سپرسٹار ہیرو اعجاز کی یہ پہلی پنجابی فلم تھی۔

منظورجھلا کی دوسری فلم ہدایتکار انور کمال پاشا کی پنجابی فلم ہڈحرام (1965) تھی جس کے سبھی گیت انھوں نے لکھے تھے۔ اخترحسین اکھیاں ، موسیقار تھے جبکہ حزیں قادری نے صرف فلم کے مکالمے لکھے تھے۔ اس فلم کا سب سے مقبول گیت نسیم بیگم کا گایا ہوا "ویر سوہنیا وے میری ہالی ڈولی ٹورنہ۔۔" تھا۔ فلم کا تھیم سانگ "اے ڈیرہ ہڈحراماں دا۔۔" بھی بڑا پسند کیا گیا تھا جسے فضل حسین ، طفیل ، عاشق جٹ اور ساتھیوں نے گایا تھا جو نشے کی لت میں مبتلا افراد کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ اس فلم میں ثریا حیدرآبادی کا یہ گیت "ہنجو نذرانے تیرے ، اکھیاں نیں میریاں ، دسدا نہ تارا کوئی ، راتاں نیں انہیریاں۔۔" بڑا پسند کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عنایت حسین بھٹی کا یہ گیت "تینوں ستیاں جاگ نہ آئی تے چڑیاں بول پیاں۔۔" کے علاوہ آئرن پروین کا یہ گیت "امبیاں نوں پک لین دے ، ہالی منڈیا ، ڈھیم نہ ماریں۔۔" بھی قابل ذکر تھے۔

منظورجھلا کی تیسری فلم ، ہدایتکار شریف نیر کی پنجابی فلم لاڈو (1966) تھی جو ان کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم تھی۔ اس فلم کے تین شاہکار گیت امر سنگیت میں شامل ہیں۔ موسیقار ماسٹرعبداللہ کی دھنوں پر ملکہ ترنم نورجہاں نے گائیکی کا انمول مظاہرہ کیا تھا "ڈنگ پیار دا سینے تے کھا کے ، ہنجو پلکاں دے وچ چھپا کے ، چپ رہیئے ، کسے نوں سنایئے نہ۔۔" ، "تیرے دوارے آئی ، سائیں سنگا والا۔۔" کے علاوہ وہ لازوال گیت جو میرے بچپن کے ان گیتوں میں شامل ہے جو ہر طرف گونجا کرتے تھے "شکر دوپہر پپلی دے تھلے ، میں چھنکایاں ونگاں۔۔" اعدادوشمار سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ 1966ء پہلا سال تھا جب ایک کیلنڈر ائیر میں ملکہ ترنم نورجہاں نے 3 فلموں میں 9 پنجابی گیت گائے تھے۔ اس سے قبل 1960ء سے لے کر 1965ء تک کے چھ برسوں میں میڈم کے کل 7 فلموں میں صرف 11 پنجابی گیت ملتے ہیں۔ گویا سات برسوں میں میڈم نورجہاں نے دس فلموں میں کل بیس پنجابی گیت گائے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پنجابی فلمی گائیکی پر نسیم بیگم ، مالا ، نذیربیگم اور آئرن پروین کا راج ہوتا تھا۔

فلمساز اور ہدایتکار انور کمال پاشا کی پنجابی فلم پروہنا (1966) میں منظورجھلا کا لکھا ہوا ایک لوک گیت "نہ دل دیندی بے دردی نوں ، نہ کونج وانگوں کرلاندی۔۔" شامل کیا گیا تھا۔ اس گیت کو پہلے ریڈیو گلوکارہ خورشید بیگم نے گایا تھا لیکن میڈم نورجہاں کی آواز میں اسے لافانی شہرت ملی تھی۔ یہ ایک ایسا گیت ہے کہ جسے گنگناتے چلے جائیں ، تھکیں گے نہیں۔ سیف چغتائی کی بنائی ہوئی دھن بے مثل تھی۔ اسی گیت کو بعد میں گلوکارہ ریشماں نے بھی گایا تھا اور بڑا پسند کیا گیا تھا۔

باغ بہاراں تے گلزاراں ، بن یاراں کس کاری
یار ملن دکھ کٹے جاون ، فضل کرے رب باری
یاراں نال بہاراں ، سجناں۔۔
جس دھرتی تے یار نئیں وسدے ، کھڑدیاں نئیں گلزاراں
یاریاں والے سخت کسالے ، سب توں اوکھیاں منزلاں نیں
مان تران تے عذر وسیلہ ، جیویں سروں دیاں گندلاں نیں
یاراں نال کرن جو ٹھگیاں ، رب توں پیندیاں ماراں
یاراں نال بہاراں ، سجناں۔۔
مشکل ویلے ، پند کویلے ، یار ، یاراں نال مردے نیں
دکھڑے جرھدے ، اف نئیں کردے ، دم سجناں دا بھردے نیں
جان جاوے پر آن نہ جاوے ، چلن پاویں تلواراں
یاراں نال بہاراں ، سجناں۔۔
کلا رکھ بھئی اجاڑاں دے وچ ، سک دا ، سڑدا ، جھڑدا اے
بانہہ بیلی نے یار جنہاں دے ، کون انہاں نال لڑدا اے
وچھڑ جاندے یار جنہاں دے ، رو رو کرن پکاراں
یاراں نال بہاراں ، سجناں۔۔
جس دھرتی تے یار نئیں وسدے ، کھڑدیاں نئیں گلزاراں
شاعر: منظورجھلا ، موسیقار: رحمان ورما
گلوکار: مسعودرانا ، فلم یاراں نال بہاراں (1967)
منظورجھلا کی مسعودرانا کے ساتھ پہلی فلم یاراں نال بہاراں (1967) تھی جس کے سبھی گیت انھوں نے لکھے تھے۔ ہدایتکار مشتاق زیدی کی اس فلم کی موسیقی رحمان ورما نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم میں جہاں نسیم بیگم کا یہ گیت پسند کیا گیا تھا "اے مٹھیاں سولاں پیار دیاں۔۔" تھا وہاں مسعودرانا کے گائے ہوئے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ ان میں "لگدا نئیں پتہ اے جہاں کہیڑے رنگ دا۔۔" کے یہ بول ایک تاریخی حقیقت بیان کرتے ہیں کہ ہر دور میں جھوٹ اور فریب کا راج رہا ہے۔ ظالم اور ظلم کی چاندی رہی ہے اور مظلوم اور سچ زیر عتاب رہے ہیں:
چوراں ، ٹھگاں ، یاراں ہتھ آئیاں سرداریاں
جھوٹ تے فریب دیاں ، اُچیاں نیں باریاں
سچ کہن والیاں نوں سولی اُتے ٹنگدا
لگدا نئیں پتہ اے جہاں کہیڑے رنگ دا
کسے ویلے ٹٹ پیناں معافی وی نئیں منگدا۔۔

اسی فلم کا ایک شاہکار گیت ان گیتوں میں شامل ہے جو میں نے بچپن میں بہت سنا تھا۔ بدقسمتی سے یوٹیوب پر مسعودرانا کے بہت کم گیت ایسے ہیں جن میں ان کی اصل آواز سننے کو ملتی ہے۔ پاکستانی گلوکاروں میں سب سے دلکش اور پراثر آواز کے مالک تھے جن کے گیت روح کی گہرائیوں تک اتر جاتے تھے۔ ایسے ہی گیتوں میں فلم یاراں نال بہاراں (1967) کا یہ تھیم سانگ "یاراں نال بہاراں ، سجناں۔۔" بھی ہے جسے تحت اللفظ میں پورا لکھا گیا ہے ، کیا کمال کی شاعری تھی۔ منظورجھلا نے کتنے مشکل الفاظ استعمال کیے تھے کہ جنہیں پنجابی بولنے والے عام لوگ شاید ہی پوراسمجھ پائیں۔ یہ کتنی بڑی بدنصیبی رہی ہے کہ اہل پنجاب کو ان کی مادری زبان کی تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے اور وہ ، گود سے گور تک جاہل ہی رہتے ہیں۔۔!

ہدایتکار سیف الدین سیف کی اشارتی فلم لُٹ دا مال (1967) میں منظورجھلا کا لکھا ہوا ایک ہی گیت تھا جو فلم کا سب سے ہٹ گیت تھا "دلا میریا ، کسے دے نال پیار نہ کریں ، بیٹھا روویں گا ، کسے دا اعتبار نہ کریں۔۔" سلیم اقبال کی موسیقی میں یہ گیت مالا اور سلیم رضا نے گایا تھا۔ فلم ڈھول جانی (1968) میں مہدی حسن کا گایا ہوا اکلوتا گیت جو منظورجھلا نے لکھا تھا "میری واری چھیتی کیوں نئیں بولدا۔۔" شامل کیا گیا تھا۔ اس گیت کی دھن وزیرافضل صاحبان نے بنائی تھی۔

منظورجھلا کے فلمی کیرئر کی ایک اور بہت بڑی فلم ہدایتکار ریاض احمد کی پنجابی فلم چور نالے چتر (1970) تھی جس میں رحمان ورما کی دھن میں میڈم نورجہاں کے یہ دو گیت سپرہٹ ہوئے تھے "وے لگیاں دی لج رکھ لئیں ، کتے بھل نہ جاویں انجانا۔۔" اور "مینوں تیرے پین بھلیکھے ، ہائے وے جند اللہ دے لیکھے ، آجا میرے ہانیا ، تیریاں اڈیکاں سانوں ماریا۔۔"

منظورجھلا کا اصل نام 'منظورحسین' تھا۔ وہ 1912ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے اور 27 جنوری 1973ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔

مسعودرانا اور منظور جھلا کے 3 فلمی گیت

0 اردو گیت ... 3 پنجابی گیت
1
فلم ... یاراں نال بہاراں ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: رحمان ورما ... شاعر: منظور جھلا ... اداکار: منور ظریف ، اکمل
2
فلم ... یاراں نال بہاراں ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: رحمان ورما ... شاعر: منظور جھلا ... اداکار: اکمل
3
فلم ... سہرہ ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: نورجہاں ، مسعود رانا ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: منظور جھلا ... اداکار: ؟


Masood Rana & Manzoor Jhalla: Latest Online film

Kurmai

(Punjabi - Black & White - Friday, 22 March 1968)


Masood Rana & Manzoor Jhalla: Film posters
LadoProhnaYaaran Naal BaharanLut Da Maal
Masood Rana & Manzoor Jhalla:

4 joint Online films

(0 Urdu and 4 Punjabi films)
1.1966: Lado
(Punjabi)
2.1967: Yaaran Naal Baharan
(Punjabi)
3.1967: Lut Da Maal
(Punjabi)
4.1968: Kurmai
(Punjabi)
Masood Rana & Manzoor Jhalla:

Total 7 joint films

(0 Urdu, 7 Punjabi films)
1.1966: Lado
(Punjabi)
2.1966: Prohna
(Punjabi)
3.1967: Yaaran Naal Baharan
(Punjabi)
4.1967: Lut Da Maal
(Punjabi)
5.1968: Kurmai
(Punjabi)
6.1971: Sehra
(Punjabi)
7.1971: Des Mera Jeedaran Da
(Punjabi)


Masood Rana & Manzoor Jhalla: 3 songs

(0 Urdu and 3 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Yaaran Naal Baharan
from Friday, 10 February 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Rehman Verma, Poet: , Actor(s): Akmal
2.
Punjabi film
Yaaran Naal Baharan
from Friday, 10 February 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Rehman Verma, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif, Akmal
3.
Punjabi film
Sehra
from Friday, 22 January 1971
Singer(s): Noorjahan, Masood Rana, Music: Bakhshi Wazir, Poet: , Actor(s): ?


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Shohrat
Shohrat
(1957)
Heer Syal
Heer Syal
(1965)
Jind Jan
Jind Jan
(1969)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..