Masood Rana - مسعودرانا

مسعودرانا اور اسلم ایرانی

پاکستان جیسے غریب ملک میں کبھی فلم سب سے بڑی تفریح ہوتی تھی۔ گو ہماری فلمیں عالمی میعار سے بہت دور تھیں لیکن عوامی مزاج کے عین مطابق ہوتی تھیں جو دن بھر کے تھکے ہارے ذہنوں کو آرام و سکون پہنچاتی تھیں۔

پاکستان میں کبھی ایک ہزار کے قریب سینما گھر ہوتے تھے جن میں سے چھ سو سے زائد صوبہ پنجاب میں تھے جہاں زیادہ تر پنجابی فلمیں ہی چلتی تھیں

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جس سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں لیکن نوے فیصد پاکستانیوں کی مادری زبان ، اردو نہیں ہے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو تعلیم اور تفریح مادری زبان میں مل سکتی ہے ، وہ کسی اور زبان میں ممکن ہی نہیں۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ مادری زبان ، عوامی زبان ہوتی ہے جس کے مقابلے میں کسی بھی قومی ، بین الاقوامی یا الہامی زبان کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ ویسے بھی ایک عام آدمی قومی جذبے سے سرشار ہو کر فلمیں نہیں دیکھتا تھا ، اسی لئے پاکستان جیسے عظیم ملک میں عوامی پسند کا میعار مختلف ہوتا تھا۔

پاکستان کے فلمی عروج کے دور میں جب پورے ملک میں کل ایک ہزار کے قریب سینما گھر ہوتے تھے تو ان میں سے چھ سو سے زائد سینما گھر سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ہوتے تھے جہاں سب سے زیادہ اہمیت و مقبولیت پنجابی فلموں کو حاصل ہوتی تھی۔ ایک عام پنجابی فلم کو اتنے بڑے سرکٹ میں نمائش کے لئے کم از کم دو سے تین سو کے قریب سینما گھر مل جاتے تھے اور یہ تاثر عام تھا کہ عام پنجابی فلمیں بھی اپنی لاگت پوری کر لیتی تھیں۔ اس کے برعکس اردو فلموں کا سرکٹ بڑا محدود ہوتا تھا کیونکہ ایک عام اردو فلم کراچی کے پندرہ بیس سینماؤں کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے دس پندرہ دیگر سینماؤں میں چلتی تھیں۔ پنجاب/سرحد سرکٹ میں اردو فلموں کو لاہور کے چھ سات سینماؤں کے علاوہ راولپنڈی ، فیصل آباد ، ملتان ، سیالکوٹ ، سرگودھا ، گوجرانوالہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں سمیت کل پندرہ بیس سینما گھر مل جاتے تھے۔ اس طرح ایک عام اردو فلم کو پورے ملک میں کل چالیس سے پچاس سینما گھروں میں نمائش کا موقع ملتا تھا۔ جب ایک اردو فلم پنجاب کے ان بڑے شہروں میں کامیاب ہو جاتی تھی تو پھر پنجاب کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں ، قصبوں وغیرہ میں بھی دیکھنے کو ملتی تھی ورنہ وہ فلم ہمیشہ کے لئے ڈبوں میں بند ہو جاتی تھی اور اس کا ذکر صرف قومی میڈیا ہی میں سننے میں آتا تھا۔

ہماری فلمی تاریخ میں ایسے بہت سے فنکار گزرے ہیں کہ جنہوں نے صرف پنجابی فلموں کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی۔ ان میں سے بعض ایسے نام بھی ہیں کہ جن کا کبھی بہت کام اور نام ہوتا تھا لیکن اب گمنام ہیں۔ ان میں سے ایک ہدایتکار اسلم ایرانی تھے جو ساٹھ کے عشرہ میں پنجابی فلموں کے کامیاب ہدایتکار تھے اور جنہیں سماجی موضوعات پر سبق آموز اور نغماتی فلمیں بنانے کا فن خوب آتا تھا۔ ان کی دو درجن سے زائد فلموں میں سے اردو فلموں کی تعداد صرف چار تھی جن میں سے پہلی فلم تڑپ (1953) تھی اور باقی فلمیں پون (1956) ، مظلوم (1959) اور سارجنٹ (1977) تھیں۔

اسلم ایرانی کا فلمساز ادارہ لولی پکچرز (Lovely Pictures) تھا جس کے بینر تلے انہوں نے درجن بھر فلمیں بنائی تھیں۔ ریلیز کے اعتبار سے بطور ہدایتکار ، ان کی پہلی پنجابی فلم بچہ جمورا (1959) تھی اور انہیں شہرت دوسری پنجابی فلم بہروپیا (1960) سے ملی تھی جس میں ظریف اور لیلیٰ نے ٹائٹل رولز کئے تھے۔ ان کی تیسری فلم مفت بر (1961) کی کہانی پر بعد میں دو مشہور اردو فلمیں بے قصور (1970) اور انمول (1973) بنائی گئی تھیں۔ اسلم ایرانی کی پہلی چھ میں سے چار فلموں کے ہیرو اکمل تھے لیکن فلم موج میلہ (1963) جیسی سماجی اور نغماتی فلم میں انہوں نے پہلی بار حبیب کو ہیرو لیا تھا جو اکمل کی موت کے بعد ان کے فیورٹ ہیرو تھے۔ اسی سال کی فلم چاچا خوامخواہ کا ٹائٹل رول مشہور اداکار اے شاہ شکار پوری نے کیا تھا اور اس فلم میں انہوں نے سدھیر اور اکمل کو اکٹھا کیا تھا جو اس وقت پنجابی فلموں کے سپر سٹارز تھے۔

اسلم ایرانی کی مسعودرانا کے ساتھ پہلی فلم ڈاچی (1964) تھی جس میں ان کے لافانی گیت "ٹانگے والا خیر منگدا۔۔" نے مقبولیت کے تمام اگلے پچھلے ریکارڈز توڑ دیئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایرانی صاحب نے اپنی دس فلموں میں رانا صاحب کے دو درجن سے زائد گیت شامل کئے تھے۔ اسی سال اسلم ایرانی کی سب سے کامیاب ترین فلم ہتھ جوڑی بھی ریلیز ہوئی تھی جس سے اداکارہ نغمہ ان کی مستقل ہیروئن بن گئی تھی جو ان کے فلمساز اور کیمرہ مین بھائی اکبر ایرانی کی منکوحہ بتائی جاتی تھی۔


نور محمد چارلی سے لے کر شان تک
مسعودرانا کی آواز
آٹھ عشروں کے فنکاروں پر فلمائی گئی تھی
جو ایک منفرد ریکارڈ ہے۔۔!

1965ء میں اسلم ایرانی نے فلم پلپلی صاحب بنائی تھی جو ایک بڑا عجیب سا نام تھا۔ اس فلم کا ٹائٹل رول نور محمد چارلی نے کیا تھا جن کی یہ آخری فلم تھی۔ چارلی صاحب نے بیس کے عشرہ میں خاموش فلموں سے اپنے فلمی کیرئر سے آغاز کیا تھا اور تیس اور چالیس کے عشرہ میں ہندوستانی فلموں کے پہلے چوٹی کے مزاحیہ اداکار ثابت ہوئے تھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے تھے لیکن کامیابی نہیں ملی تھی۔ اپنی اس آخری فلم میں ان پر مسعودرانا کا گایا ہوا ایک گیت فلمایا گیا تھا "نوریا ، بھولیا بھالیا ، وے الٹی سمجھاں والیا۔۔" یہ ایک دوگانا تھا جس میں آئرن پروین کی آواز بھی شامل تھی جو اداکارہ چن چن پر فلمائی گئی تھی۔ اس طرح مسعودرانا ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ثابت ہوئے کہ جن کی آواز آٹھ عشروں کے اداکاروں پر فلمائی گئی تھی۔ بیس کے عشرہ کے نور محمد چارلی سے لے کر نوے کے عشرہ کے فنکاروں شان اور جان ریمبو پر بھی مسعودرانا کی آواز فلمائی گئی تھی۔ اسی فلم میں ماں کے موضوع پر رانا صاحب کا یہ گیت بھی بڑا متاثر کن تھا "نئیں بکھا شہر گراں تھا۔۔"

1966ء میں اسلم ایرانی کی ایک اور یادگار فلم بھریا میلہ ریلیز ہوئی تھی جس میں ایک بار پھر مسعودرانا کا سٹریٹ سانگ "سجناں نے بوہے اگے چک تن لئی۔۔" ساٹھ کے عشرہ کا شریر ترین گیت ثابت ہوا تھا جو اداکار اکمل پر فلمایا گیا تھا جو اسوقت مقبولیت کی بلندیوں پر تھے۔

1967ء کی فلم مقابلہ ایک ایکشن فلم تھی جو اکمل کے ساتھ ان کی آخری فلم تھی جن کا اس سال 11 جون کو انتقال ہو گیا تھا۔ اس فلم میں مسعودرانا کا نسیم بیگم کے ساتھ یہ مزاحیہ گیت بڑا دلچسپ تھا "جل تو جلال تو ، اوکھی ویلے نال تو ، ایس بلا نوں ٹال تو۔۔"

1968ء میں اسلم ایرانی کی دو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں مسعودرانا کے کل نو گیت تھے۔ ان دونوں فلموں میں نغمہ اور حبیب کی جوڑی تھی۔ ان میں سے فلم میلہ دو دن دا تو اتنی خاص نہیں تھی لیکن فلم بابل دا ویڑا بڑی اعلیٰ پائے کی سماجی فلم تھی جو جہیز کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔ اس فلم میں مسعودرانا کا تھیم سانگ "دھیاں دتیاں تے کیوں نہ دتا مال مالکا۔۔" ایک بھارتی پنجابی فلم میں ہوبہو نقل کیا گیا تھا جو اس فلم میں اداکار ایم اسماعیل کے پس منظر میں بھی گایا گیا تھا۔

1969ء میں اسلم ایرانی کی فلم لنگوٹیا اس لحاظ سے یادگار تھی کہ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران اداکارہ نغمہ کی اداکار حبیب کی محبت میں گرفتار ہونے اور اپنے شوہر اکبر ایرانی سے علیحدگی کی وجہ سے یہ آخری مشترکہ فلم ثابت ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی ایرانی صاحب کی اگلی فلم بابا دینا (1971) میں پہلی بار فردوس ہیروئن تھی جو اگلی فلم اشتہاری ملزم (1972) میں بھی تھی جس میں انہوں نے پہلی بار اداکار اعجاز کو ہیرو لیا تھا جن پر مسعودرانا اور تصور خانم کا یہ دوگانا فلمایا گیاتھا "اے دنیا روپ بہروپ۔۔" اس فلم کا ٹائٹل رول اقبال حسن نے کیا تھا جن کی جوڑی فردوس کے ساتھ تھی۔ کئی سال کے وقفے سے اسلم ایرانی کی اگلی فلم موت کھیڈ جواناں دی (1976) ریلیز ہوئی تھی جس میں سلطان راہی کا مرکزی کردار تھا اور اداکار اعجاز کی اپنے پہلے دور میں بطور ہیرو آخری فلم تھی اور اس فلم میں ان پر مسعودرانا کا جو آخری گیت فلمایا گیا تھا وہ بڑا زبردست تھا "تینوں تکناں واں ، سوچی پے جاناں واں۔۔" اس دور میں ایرانی صاحب کی ایک میعاری فلم لائسنس (1976) بھی تھی جو سعادت حسن منٹو کے ایک افسانہ پر فلمائی گئی تھی اور جس میں اس وقت کے ایک مقبول قوال عزیز میاں کو پہلی بار اپنی قوالی پردہ سیمیں پر گاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ فلم سارجنٹ بھی ایک اچھی فلم تھی جبکہ فلم ٹہکا پہلوان (1979) میں ننھا کو ٹائٹل رول میں پیش کیا گیا تھا۔ سنتری بادشاہ (1978) ، ماما بھانجا (1980) ، اچا شملہ جٹ دا (1984) اور آخری قتل (1989) ان کی دیگر فلمیں تھیں۔ 1994ء میں ان کا انتقال ہوا تھا۔


مسعودرانا کے اسلم ایرانی کی 10 فلموں میں 27 گیت

(0 اردو گیت ... 27 پنجابی گیت )
1
فلم ... ڈاچی ... پنجابی ... (1964) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: سدھیر
2
فلم ... ڈاچی ... پنجابی ... (1964) ... گلوکار: مسعودرانا ، احمد رشدی ، رفیق ٹنگو ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اے شاہ ، نذر ، رفیق ٹنگو
3
فلم ... پلپلی صاحب ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: نغمہ، اکمل
4
فلم ... پلپلی صاحب ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اکمل
5
فلم ... پلپلی صاحب ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: چن چن، نور محمد چارلی
6
فلم ... پلپلی صاحب ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ، سلمیٰ ممتاز)
7
فلم ... بھریا میلہ ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اکمل
8
فلم ... بھریا میلہ ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اکمل
9
فلم ... بھریا میلہ ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: رنگیلا ، رضیہ ، چن چن
10
فلم ... بھریا میلہ ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ،؟ ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: اکمل ، نغمہ ، جگی ملک
11
فلم ... مقابلہ ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: طفیل فاروقی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: (پس پردہ)
12
فلم ... مقابلہ ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیم بیگم ... موسیقی: طفیل فاروقی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: رنگیلا ، چن چن
13
فلم ... بابل دا ویہڑا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: (پس پردہ، نبیلہ ، ایم اسماعیل ، مظہر شاہ)
14
فلم ... بابل دا ویہڑا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: حبیب
15
فلم ... بابل دا ویہڑا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: نذیر بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: رضیہ ، رنگیلا
16
فلم ... بابل دا ویہڑا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: نسیم بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: حبیب ، نغمہ
17
فلم ... میلہ دو دن دا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: (پس پردہ)
18
فلم ... میلہ دو دن دا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: رنگیلا
19
فلم ... میلہ دو دن دا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: (پس پردہ)
20
فلم ... میلہ دو دن دا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیم بیگم مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: حبیب ، نغمہ
21
فلم ... میلہ دو دن دا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: نسیم بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: نغمہ، حبیب
22
فلم ... لنگوٹیا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: نغمہ، حبیب
23
فلم ... لنگوٹیا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: حبیب
24
فلم ... لنگوٹیا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: آصف جاہ ، رضیہ
25
فلم ... اشتہاری ملزم ... پنجابی ... (1972) ... گلوکار: مسعود رانا ، تصورخانم ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: اعجاز ، فردوس
26
فلم ... موٹ کھیڈ جواناں دی ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: ؟ ... اداکار: اعجاز
27
فلم ... ٹہکا پہلوان ... پنجابی ... (1979) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ننھا

Masood Rana & Aslam Irani: Latest Online film

Pilpli Sahb

(Punjabi - Black & White - Friday, 29 October 1965)


Masood Rana & Aslam Irani: Film posters
DachiPilpli SahbBharia MelaMuqablaMela 2 Din DaIshtehari MulzimMout Khed Jawana Di
Masood Rana & Aslam Irani:

5 joint Online films

(0 Urdu and 5 Punjabi films)

1.29-10-1965Pilpli Sahb
(Punjabi)
2.24-06-1966Bharia Mela
(Punjabi)
3.04-10-1968Mela 2 Din Da
(Punjabi)
4.11-07-1969Langotia
(Punjabi)
5.13-04-1979Tehka Pehlwan
(Punjabi)
Masood Rana & Aslam Irani:

Total 10 joint films

(0 Urdu, 10 Punjabi films)

1.15-02-1964: Dachi
(Punjabi)
2.29-10-1965: Pilpli Sahb
(Punjabi)
3.24-06-1966: Bharia Mela
(Punjabi)
4.07-07-1967: Muqabla
(Punjabi)
5.16-02-1968: Babul Da Wehra
(Punjabi)
6.04-10-1968: Mela 2 Din Da
(Punjabi)
7.11-07-1969: Langotia
(Punjabi)
8.08-11-1972: Ishtehari Mulzim
(Punjabi)
9.16-01-1976: Mout Khed Jawana Di
(Punjabi)
10.13-04-1979: Tehka Pehlwan
(Punjabi)


Masood Rana & Aslam Irani: 27 songs in 10 films

(0 Urdu and 27 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Dachi
from Saturday, 15 February 1964
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Rafiq Tingu, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Nazar, A. Shah, Rafiq Tingu
2.
Punjabi film
Dachi
from Saturday, 15 February 1964
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Sudhir
3.
Punjabi film
Pilpli Sahb
from Friday, 29 October 1965
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback - Salma Mumtaz)
4.
Punjabi film
Pilpli Sahb
from Friday, 29 October 1965
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Akmal
5.
Punjabi film
Pilpli Sahb
from Friday, 29 October 1965
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Naghma, Akmal
6.
Punjabi film
Pilpli Sahb
from Friday, 29 October 1965
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ChunChun, Noor Mohammad Charlie
7.
Punjabi film
Bharia Mela
from Friday, 24 June 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Akmal
8.
Punjabi film
Bharia Mela
from Friday, 24 June 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Akmal
9.
Punjabi film
Bharia Mela
from Friday, 24 June 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Rangeela, Razia, ChunChun
10.
Punjabi film
Bharia Mela
from Friday, 24 June 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, ?, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Akmal, Naghma, Jaggi Malik
11.
Punjabi film
Muqabla
from Friday, 7 July 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Tufail Farooqi, Poet: , Actor(s): (Playback)
12.
Punjabi film
Muqabla
from Friday, 7 July 1967
Singer(s): Masood Rana, Naseem Begum, Music: Tufail Farooqi, Poet: , Actor(s): Rangeela, ChunChun, Razia
13.
Punjabi film
Babul Da Wehra
from Friday, 16 February 1968
Singer(s): Naseem Begum, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Habib, Naghma
14.
Punjabi film
Babul Da Wehra
from Friday, 16 February 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback - Nabeela, M. Ismael, Mazhar Shah)
15.
Punjabi film
Babul Da Wehra
from Friday, 16 February 1968
Singer(s): Nazir Begum, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Razia, Rangeela
16.
Punjabi film
Babul Da Wehra
from Friday, 16 February 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Habib
17.
Punjabi film
Mela 2 Din Da
from Friday, 4 October 1968
Singer(s): Masood Rana, Naseem Begum & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Habib, Naghma & Co.
18.
Punjabi film
Mela 2 Din Da
from Friday, 4 October 1968
Singer(s): Naseem Begum, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Habib, Naghma
19.
Punjabi film
Mela 2 Din Da
from Friday, 4 October 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Rangeela
20.
Punjabi film
Mela 2 Din Da
from Friday, 4 October 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback)
21.
Punjabi film
Mela 2 Din Da
from Friday, 4 October 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback)
22.
Punjabi film
Langotia
from Friday, 11 July 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Habib
23.
Punjabi film
Langotia
from Friday, 11 July 1969
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Asif Jah, Razia
24.
Punjabi film
Langotia
from Friday, 11 July 1969
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Naghma, Habib
25.
Punjabi film
Ishtehari Mulzim
from Wednesday, 8 November 1972
Singer(s): Masood Rana, Tasawur Khanum, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Ejaz, Firdous
26.
Punjabi film
Mout Khed Jawana Di
from Friday, 16 January 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: Bakhshi Wazir, Poet: , Actor(s): Ejaz
27.
Punjabi film
Tehka Pehlwan
from Friday, 13 April 1979
Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): Nanha


Film Music Online

Click on any singers image and watch & listen to music videos direct on YouTube..

A. Nayyar
Afshan
Ahmad Rushdi
Akhlaq Ahmad
Alam Lohar
Anwar Rafi
Asad Amanat Ali Khan
Azra Jahan
Basheer Ahmad
Ghulam Abbas
Ghulam Ali
Habib Wali Mohammad
Humaira Channa
Inayat Hussain Bhatti
Iqbal Bano
Irene Parveen
Kousar Parveen
Mala
Masood Rana
Mehdi Hassan
Mehnaz
Mujeeb Alam
Munawar Sultana
Munir Hussain
Naheed Akhtar
Naheed Niazi
Naseebo Lal
Naseem Begum
Nayyara Noor
Nazir Begum
Noorjahan
Nusrat Fateh Ali Khan
Rajab Ali
Runa Laila
Saira Naseem
Saleem Raza
Shoukat Ali
Tasawur Khanum
Zubaida Khanum


مسعودرانا کے 43 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..



Pakistan Film Database

Detailed informations on released films, music, artists, history,

box office reports, videos, images etc..



7 decades of Pakistani films

Some facts & figures on released films, artists and film music from the last seven decades..

70 Years of Pakistani Films

Movies Online

The largest collection of 1219 Online Pakistani films..

473

Urdu films

633

Punjabi films

90

Pashto films

Bharosa
Bharosa
(1977)


PrePartition Film Database

Informations on released films and artists from 1913-47..

PrePartition Film Database (1913-47)


About this site

Pakistan Film Magazine is the first and largest website on Pakistani films, music and artists with detailed informations, videos, images etc. It was launched on May 3, 2000.

Click on the image below and visit the one of the last manual-edited or non-database website from 2012..

Old pages of Pakistan Film Magazine

More archived pages of Pakistan Film Magazine since 2000..


External film & music links



Top


A website by

Pak Magazine