A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1035 songs in 646 films

مسعودرانا اور غزالہ

اداکارہ غزالہ ، مسعودرانا کی فلم شاہی فقیر (1970) کی ہیروئن تھی۔۔!

Shahi Faqeer (1970)
غزالہ اور مسعودرانا
فلم شاہی فقیر (1970)

مسعودرانا ، بڑے خوش قسمت فنکار تھے جنہیں فن گلوکاری میں اپنی بے مثل کارکردگی کی بنیاد پر اس فلم میں سولو ہیرو کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا تھا لیکن بطور اداکار ناکام رہے تھے۔ اس فلم کی ہیروئن ، غزالی آنکھوں والی ایک حسین و جمیل اداکارہ غزالہ تھی جو ایک سی کلاس یا تیسرے درجہ کی فلمی ہیروئن ثابت ہوئی تھی کیونکہ اس وقت تک ریلیز ہونے والی تقریباً بیس فلموں میں کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی تھی۔ پوری فلم پر اداکار ادیب چھائے ہوئے تھے جو ایک بی کلاس ولن اداکار تھے۔ ایسے میں حیرت ہوتی ہے کہ فلمساز نے اتنا بڑا رسک کیوں لیا اور ایک کمزور ٹیم کے ساتھ ایک ایسی فلم پر سرمایہ کاری کی کہ جو سراسر گھاٹے کا سودا تھی۔

غزالہ کی پہلی فلم کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ ریکارڈز کے مطابق فلم ایک تھی ماں (1960) پہلی فلم تھی جس کی کاسٹ میں وہ شامل تھی۔ اصل میں 'پٹھان' نام سے بننے والی یہ فلم 1972ء میں فرض اور محبت کے نام سے دوبارہ نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔ فلمساز نے اس پرانی فلم میں مہمان اداکار کے طور پر غزالہ کا اضافہ کر کے اس پر ایک گیت بھی فلمبند کیا اور وہ بھی زبیدہ خانم کا "بن کے ہوا ، کالی گھٹا ، اڑتی پھروں میں۔۔" باسی مال کو نئے لیبل سے پیش کر کے فلمساز نے فلم بینوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی جس میں اسے ناکامی ہوئی تھی۔

عام طور پر غزالہ کی پہلی فلم باغی سردار (1966) بتائی جاتی ہے لیکن اس سے قبل ایک فلم باغی سپاہی (1964) میں بھی اس کا نام ملتا ہے۔ غزالہ کبھی صف اول کی اداکارہ نہیں بن سکی تھی اور زیادہ تر ثانوی کرداروں میں نظر آئی۔ وہ تیسرے درجہ کی اداکارہ اس لئے تھی کہ دوسرے درجہ کی اداکاراؤں یعنی سلونی ، روزینہ اور عالیہ وغیرہ کے مقابل بھی اس کے ثانوی کردار تھے۔ سولو ہیروئن کے طور پر اس کی فلموں کی تعداد بہت کم تھی اور کامیاب فلموں کا تناسب بھی نہ ہونے کے برابر تھا حالانکہ پہلی ڈائمنڈ جوبلی پنجابی فلم کی روایتی ہیروئن ہونے کا ناقابل شکست اعزاز بھی اسے حاصل تھا۔

1967ء میں غزالہ کی پانچ فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں بطور سولو ہیروئن دو فلمیں تھیں ، فلم البیلا (1967) ، کمال کے ساتھ اور فلم میلہ (1967) ، علاؤالدین کے ساتھ تھی جس میں مسعودرانا اور آئرن پروین کا ایک گیت بڑا مشہور ہوا تھا "میلہ میلیاں دا ، پیسے دھیلیاں دا ، بیلی ساتھ نئیں چھڈدے بیلیاں دا۔۔" فلم راوی پار (1967) اور میرا ویر (1967) میں ثانوی کرداروں کے علاوہ فلم لال بجھکڑ (1967) میں مہمان اداکار کے طور نظر آئی۔ اس فلم میں غزالہ اور رنگیلا پر نذیر بیگم اور مسعودرانا کا ایک خوابناک ماحول میں گایا اور فلمایا ہوا یہ خوبصورت دوگانا تھا "نمی نمی تاریاں دی پیندی اے پھوار۔۔"

1968ء میں غزالہ کی سات فلمیں منظرعام پر آئیں جن میں سے تین فلموں میں وہ سولو ہیروئن تھی۔ فلم زندگی (1968) میں غزالہ پر پہلا سپرہٹ گیت فلمایا گیا تھا جسے ملکہ ترنم نورجہاں نے گایا تھا "مل گئی ٹھنڈک نگاہوں کو تیرے دیدار سے ، ہو سکے تو آج دے ، آواز مجھ کو پیار سے۔۔" فلم الف لیلیٰ (1968) میں غزالہ پر دو دلکش رومانٹک دوگانے فلمائے گئے تھے جنہیں مسعودرانا اور آئرن پروین نے گایا تھا "تم مجھے اپنی محبت دے دو ، دل میں رہنے کی اجازت دے دو۔۔" اور "اک حسین موڑ پہ ٹکرائے ہیں بیگانے دو۔۔" سونے کی چڑیا (1968) تیسری فلم تھی جس میں وہ سولو ہیروئن تھی۔ باقی چاروں فلموں ، محل ، دل دیا درد لیا ، میں زندہ ہوں اور پیار دا ویری (1968) میں ثانوی کرداروں میں تھی۔

1969ء میں غزالہ کی چار فلمیں سامنے آئیں جن میں سے دو فلموں اوکھا جٹ اور زندگی کتنی حسین ہے (1969) میں وہ ثانوی کرداروں میں تھی جبکہ فلم داستان اور حکیم جی (1969) میں وہ سولو ہیروئن تھی۔ فلم داستان (1969) میں مہدی حسن کا ایک سدابہار گیت تھا "قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے۔۔" یہ رتن کمار کی بطور اداکار آخری فلم تھی جس کے فلمساز اور ہدایتکار بھی وہ خود تھے۔

غزالہ کی 1970ء میں پانچ فلمیں ، فلم بینوں تک پہنچی تھیں جن میں صرف فلم شاہی فقیر (1970) میں وہ سولو ہیروئن تھی۔ اس فلم میں غزالہ اور مسعودرانا پر یہ دلکش رومانٹک دوگانا فلمایا گیا تھا جس میں مالا کی آواز بھی شامل تھی "یہ رنگین نظارے ، یہ چاند اور تارے ، یہی رازداں ہیں ، ہمارے تمہارے۔۔" اسی فلم میں مسعودرانا کا یہ سولو گیت بھی غزالہ ہی کے لئے گایا گیا تھا "پھول جھڑیں منہ سے ، ہنسے جو دلربا ، جوانی بھی جدا ہے ، ادائیں بھی جدا۔۔" اس سال کی دیگر فلمیں کردار ، مجرم کون ، نورین اور ٹکہ متھے دا (1970) تھیں جن میں غزالہ کے ثانوی کردار تھے۔

1971ء تک غزالہ کی دو درجن فلمیں ریلیز ہو چکی تھیں لیکن وہ کسی قابل ذکر کامیابی سے محروم رہی تھی۔ اس سال اس کی صرف دو فلمیں سامنے آئیں جن میں وہ سیکنڈ ہیروئن تھی۔ ان میں سے ایک فلم خزانچی (1971) تھی جبکہ دوسری فلم عشق دیوانہ (1971) تھی جو غزالہ کے فلمی کیرئر کی پہلی سپرہٹ فلم تھی۔ اس فلم میں غزالہ پر فلمایا ہوا مالا کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا "اکھاں لڑیاں ، دل تے وار ہویا۔۔" اسی گیت کو عنایت حسین بھٹی نے کیفی کے لئے گایا تھا جن کے ساتھ پہلی بار غزالہ کی جوڑی بنی تھی جو بالآخر شادی پر منتج ہوئی تھی۔ غزالہ اور کیفی کی مشترکہ فلموں کی تعداد 21 ہے۔ اس فلم کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں بھٹی برداران یعنی عنایت حسین بھٹی اور کیفی نے اپنے تیسرے بھائی شجاعت حسین بھٹی کو بھی عالیہ کے مقابل تیسرے ہیرو کے طور پر متعارف کروایا تھا ، فردوس فرسٹ ہیروئن تھی جس نے پگلی کا زبردست رول کیا تھا۔
فلم عشق دیوانہ (1971) کا پوسٹر بڑا دلکش تھا۔ یہ فلم یکم اکتوبر 1971ء کو ریلیز ہوئی تھی اور اسی دن فلم عشق بنا کی جینا (1971) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ دلچسپ اتفاق دیکھئے کہ میرے آبائی شہر کھاریاں میں عیدالفطر 20 نومبر 1971ء کو یہ دونوں فلمیں بالترتیب سازین اور قیصر سینماؤں میں ریلیز ہوئی تھیں۔ فلموں کے بورڈز پر لکھا ہوا لفظ 'عشق' بڑے غور سے دیکھتا تھا جو دونوں پینٹروں نے مختلف انداز میں لکھا تھا۔ ایک 'ع' کی چونچ کو گول جب کہ دوسرا نوکدار لکھتا تھا۔
سازین سینما کے مالکان کے لئے عید کا وہ دن ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا تھا کیونکہ جب فلم کا پہلا شو شروع ہوا تو پتہ چلا کہ فلم عشق دیوانہ (1971) کے بجائے فلم چن مکھناں (1968) سکرین پر چل رہی ہے۔ احتجاج کے طور پر تماشائیوں نے ایسی ہنگامہ آرائی کی کہ شاید ہی کوئی کرسی سلامت بچی ہوگی ، مزے لے لے کر یہ واقعہ سنانے والے کو نئی کرسیوں کا آرڈر ملا تھا۔۔!
بدقسمتی سے یہ عید ، متحدہ پاکستان کی آخری عید ثابت ہوئی تھی کیونکہ مشرقی پاکستان میں جاری خانہ جنگی اپنے منطقی انجام تک پہنچ رہی تھی۔ قوم کو حسب معمول بے خبر رکھا جارہا تھا لیکن بیرونی ذرائع ابلاغ سے لوگ باخبر رہتے تھے اور حقائق پر پردہ ڈالنے والوں پر لعنت بھیجتے رہتے تھے۔ تاریخ کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے تلخ ماضی کے وہ دلخراش واقعات کبھی نہیں بھلا سکا۔۔!

1972ء میں غزالہ کی پانچ فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن وہ کسی بھی فلم میں سولو ہیروئن نہیں تھی۔ دل نال سجن دے میں رانی ، کون دلاں دیاں جانیں میں دیبا ، نظام میں نغمہ اور ٹھاہ میں روزینہ کے علاوہ پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی پنجابی فلم ظلم دا بدلہ (1972) میں عالیہ کے ساتھ نظر آئی تھی۔

ہدایتکار کیفی کی سپرہٹ فلم ظلم دا بدلہ (1972) پہلی پنجابی فلم تھی جس نے سو ہفتے مکمل کئے تھے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اخبارات میں یہ خبر آئی تھی کہ عنایت حسین بھٹی نے اس موقع پر لاہور کے ملک تھیٹر پر فلم بینوں میں مٹھائی تقسیم کی تھی۔ وہ میرا بچپن تھا ، باقاعدگی سے اخبارات پڑھتا ، ریڈیو سنتا ، ٹی وی اور فلمیں دیکھتا تھا لیکن فلموں کے ہفتوں اور بزنس کے بارے میں کوئی سمجھ نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کی جب 2006ء میں پاکستان فلم میگزین پر سلطان راہی کی فلموں کی کامیابیوں اور ہفتوں کے ہوشربا اعدادوشمار پر ایک تفصیلی مگر گمراہ کن مضمون شائع کیا تو میں خود اصل حقائق سے لاعلم تھا۔ سلطان راہی کے متعدد پرستاروں اور گروپوں نے وہ ساری معلومات ارسال کی تھیں جو میرے لئے بھی ناقابل یقین تھیں لیکن تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اپنی طرف سے بڑی چھان پھٹک کے بعد فلمی مواد شائع کیا کرتا تھا لیکن غلطیوں کا احتمال پھر بھی رہتا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہمیشہ سے ہر سطح پر جھوٹ بولا گیا ہے۔ فلمی معلومات کے ضمن میں بھی قابل اعتماد معلومات کا فقدان رہا ہے کیونکہ لوگ اپنے اپنے پسندیدہ فنکاروں کی تعریف و توصیف میں حقائق کو مسخ کرتے ہیں اور اپنی اپنی اوقات کے مطابق جھوٹ بولتے ، لکھتے اور پھیلاتے رہے ہیں۔ آج بھی وکی پیڈیا سمیت ہمارے قومی اور سوشل میڈیا پر اچھی خاصی بے سروپا باتیں درج ہیں۔ کاپی اور پیسٹ کے رحجان کی وجہ سے معاملات مزید خراب ہوئے ہیں اور سچ تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔

پاکستان فلم میگزین ، اسوقت تک پاکستانی فلموں کے بارے میں معلومات کا واحد ذریعہ ہوتا تھا۔ یہ ویب سائٹ ، ایک انفرادی کاوش ہے جو گزشتہ بیس برسوں سے میرے فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ رہی ہے اور جس کے جملہ امور تن تنہا اپنی مدد آپ کے تحت سرانجام دے رہا ہوں۔ میں نے کبھی دانستہ غلط بیانی نہیں کی اور نہ ہی میرا اس میں کبھی کوئی مفاد رہا ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے غلط معلومات کا اندراج ہو جاتا ہے جو ایک بشری کمزوری ہے۔ البتہ جیسے ہی میرے علم میں ایسی کوئی غلطی آتی ہے تو فوراً درست کر دیتا ہوں اور یہی خوبی ایک ویب سائٹ کو ابلاغ کے دیگر ذرائع میں ممتاز کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھی جاسکتی ہے۔ سلطان راہی کے اس صفحہ کی پروگرامنگ ، ڈیزائننگ اور گرافک پر بڑی محنت کی تھی لیکن اس میں شامل مواد میرا اپنا نہیں تھا۔ غلط معلومات کی وجہ سے اس کو آف لائن کردیا تھا لیکن پھر سرچ کرنے پر پتہ چلا کہ ویب سائٹس کا سارا مواد آن لائن محفوظ رہتا ہے تو میں نے پرانی ویب سائیٹ کو اس پیغام کے ساتھ بحال کر دیا تھا کہ اس صفحہ پر درج معلومات گمراہ کن ہیں اور اپ ڈیٹس کے لئے موجودہ ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیں۔

1973ء میں غزالہ کی صرف دو فلمیں خوشیا اور بلا چیمپئن (1973) ریلیز ہوئیں جن میں وہ ثانوی کرداروں میں تھی۔ بلا چیمپئن (1973) میں اسکی جوڑی رنگیلا کے ساتھ تھی اور ان دونوں پر ملکہ ترنم نورجہاں اور مسعودرانا کا یہ مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا "جا جھوٹا بے ایمان ، وڈا آکڑ خان۔۔"

1974ء میں غزالہ کی ایک بار پھر پانچ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ نگری داتا دی اور غیرت دا پرچھاواں (1974) میں وہ سیکنڈ ہیروئن تھی لیکن باقی تینوں فلموں ہسدے آؤ ہسدے جاؤ ، رانو اور چیلنج (1974) میں فرسٹ ہیروئن تھی۔

1975ء میں بھی غزالہ کی پانچ ہی فلمیں سلور سکرین کی زینت بنی تھیں۔ صرف فلم پیشہ ور بدمعاش (1975) میں وہ فرسٹ ہیروئن تھی لیکن باقی چاروں فلموں ، ماجھا ساجھا ، مرداں ہتھ میدان ، بکھرے موتی اور وحشی جٹ 1975) میں سائیڈ ہیروئن تھی۔ فلم وحشی جٹ (1975) میں غزالہ نے ایک اتھری یا خودسر عورت کا رول کیا تھا جسے اس کی سوتن چکوری نے فلم مولاجٹ (1979) میں دہرایا تھا ، ان دونوں خودسر عورتوں کو سر کرنے کا اعزاز کیفی صاحب کو حاصل ہوا تھا۔۔!

1976ء میں غزالہ کے نام پر مزید چار فلموں کا اضافہ ہوا تھا لیکن وہ کسی فلم میں سولو ہیروئن نہیں تھی۔ فلم جگا گجر (1976) میں بھی غزالہ نے ایک اتھری عورت کا کردار کیا تھا اور اس کے ہیرو کیفی تھے۔ دیگر فلمیں الٹی میٹم ، مفرور اور زندہ باد (1976) تھیں۔ فلم الٹی میٹم (1976) میں غزالہ پر افشاں کا شوخ اور میڈم نورجہاں کا سنجیدہ انداز میں گایا ہوا گیت "پاویں مینوں کملی کہہ لے وے ، پاویں کہہ لے جھلی۔۔" فلمایا گیا تھا۔ اس فلم میں کیفی ، مونچھوں کے بغیر بڑے خوبصورت نظر آئے۔ اعجاز اور کمال کے بعد کیفی تیسرے فلمی ہیرو تھے کہ جن کی اصل مونچھیں ہوا کرتی تھیں اور جو ان کی شخصیت کی پہچان بھی ہوتی تھیں۔

1977ء میں غزالہ کی تین فلمیں ملتی ہیں ، لاہوری بادشاہ ، روٹی کپڑا اور انسان اور ہمت (1977) ، ان تینوں فلموں میں اس کے ثانوی کردار تھے۔ 1978ء میں غزالہ کی آخری فلم اعلان ریلیز ہوئی تھی جس کا پہلا نام ڈنکے دی چوٹ تھا۔ اس فلم میں غزالہ پر آخری گیت "نڈی نال لا کے یاری ، نڈی نوں ملنگ چا کیتا ای۔۔" یہ گیت ناہید اختر نے گایا تھا جبکہ اس گیت کا میل ورژن ، بھٹی صاحب کی آواز میں کیفی پر فلمایا گیا تھا۔

اداکارہ غزالہ نے ہدایتکار اور اداکار کیفی سے شادی کی تھی اور ان کے دوبیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑا بیٹا عامرکیفی ، اپنے والد کی ایک فلم میدان (2004) میں بطور اداکار نظر آیا لیکن کامیاب نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ غزالہ بیگم ستر سال سے زائد کی عمر میں ہیں اور امریکہ میں اپنے عزیزواقارب کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

مسعودرانا اور غزالہ کے 5 فلمی گیت

(3 اردو گیت ... 2 پنجابی گیت )
1
فلم ... لال بجھکڑ ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: نذیر بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: سلیم اقبال ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: غزالہ ، رنگیلا
2
فلم ... الف لیلیٰ ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: کمال ، غزالہ
3
فلم ... الف لیلیٰ ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: شباب کیرانوی ... اداکار: کمال ، غزالہ
4
فلم ... شاہی فقیر ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: غزالہ ، مسعود رانا
5
فلم ... بلا چیمپئن ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: نورجہاں ، مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: غزالہ ، رنگیلا

مسعودرانا اور غزالہ کے 3 اردو گیت

1اک حسین موڑ پر ٹکرائے ہیں دیوانے دو ... (فلم ... الف لیلیٰ ... 1968)
2تم مجھے اپنی محبت دے دو ، دل میں رہنے کی اجازت دے دو ... (فلم ... الف لیلیٰ ... 1968)
3یہ رنگین نظارے ، یہ چاند اور تارے ، یہی رازداں ہیں ، ہمارے تمہارے ... (فلم ... شاہی فقیر ... 1970)

مسعودرانا اور غزالہ کے 2 پنجابی گیت

1نمی نمی تاریاں دی پیندی اے پھوار ... (فلم ... لال بجھکڑ ... 1967)
2رس رس کے وخانا کنو ، جا جھوٹا بے ایمان ... (فلم ... بلا چیمپئن ... 1973)

مسعودرانا اور غزالہ کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور غزالہ کے 5دوگانے

1نمی نمی تاریاں دی پیندی اے پھوار ... (فلم ... لال بجھکڑ ... 1967)
2اک حسین موڑ پر ٹکرائے ہیں دیوانے دو ... (فلم ... الف لیلیٰ ... 1968)
3تم مجھے اپنی محبت دے دو ، دل میں رہنے کی اجازت دے دو ... (فلم ... الف لیلیٰ ... 1968)
4یہ رنگین نظارے ، یہ چاند اور تارے ، یہی رازداں ہیں ، ہمارے تمہارے ... (فلم ... شاہی فقیر ... 1970)
5رس رس کے وخانا کنو ، جا جھوٹا بے ایمان ... (فلم ... بلا چیمپئن ... 1973)

مسعودرانا اور غزالہ کے 0کورس گیت



Masood Rana & Ghazala: Latest Online film

Billa Champion

(Punjabi - Black & White - Friday, 21 December 1973)


Masood Rana & Ghazala: Film posters
Lal BujhakkarRavi ParMera VeerMelaAlif LailaNizamGhairat Da ParchhawanKhushiaBilla ChampionNagri Daata DiRanoHimmat
Masood Rana & Ghazala:

2 joint Online films

(0 Urdu and 2 Punjabi films)

1.1973: Billa Champion
(Punjabi)
2.1974: Nagri Daata Di
(Punjabi)
Masood Rana & Ghazala:

Total 15 joint films

(2 Urdu and 13 Punjabi films)

1.1967: Lal Bujhakkar
(Punjabi)
2.1967: Ravi Par
(Punjabi)
3.1967: Mera Veer
(Punjabi)
4.1967: Mela
(Punjabi)
5.1968: Alif Laila
(Urdu)
6.1970: Shahi Faqeer
(Urdu)
7.1970: Pardesi
(Punjabi)
8.1970: Tikka Mathay Da
(Punjabi)
9.1972: Nizam
(Punjabi)
10.1973: Ghairat Da Parchhawan
(Punjabi)
11.1973: Khushia
(Punjabi)
12.1973: Billa Champion
(Punjabi)
13.1974: Nagri Daata Di
(Punjabi)
14.1974: Rano
(Punjabi)
15.1977: Himmat
(Punjabi)


Masood Rana & Ghazala: 5 songs

(3 Urdu and 2 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Lal Bujhakkar
from Friday, 6 January 1967
Singer(s): Nazir Begum, Masood Rana, Music: Saleem Iqbal, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): Ghazala, Rangeela
2.
Urdu film
Alif Laila
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Tasadduq Hussain, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Kemal, Ghazala
3.
Urdu film
Alif Laila
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Tasadduq Hussain, Poet: Shabab Keranvi, Actor(s): Kemal, Ghazala
4.
Urdu film
Shahi Faqeer
from Friday, 2 January 1970
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Tasadduq Hussain, Poet: Mushir Kazmi, Actor(s): Ghazala, Masood Rana
5.
Punjabi film
Billa Champion
from Friday, 21 December 1973
Singer(s): Noorjahan, Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Ghazala, Rangeela


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔