A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1036 songs in 646 films

مسعودرانا اور ظہور ناظم

"نورخدا ملے کہ حبیب خدا ملے ، مولا تیرا کرم ہے ہمیں مصطفیٰ ﷺ ملے۔۔"

اپنے وقت کی اس مشہور ترین نعتیہ فلمی قوالی کے شاعر کا نام ظہورناظم تھا جن کے صرف تین فلموں میں کل گیارہ گیتوں کا ریکارڈ ہی دستیاب ہے۔ ان میں سے سات گیت اکیلے مسعودرانا نے گائے تھے اور ان سبھی اردو گیتوں کی دھنیں بابا جی اے چشتی نے بنائی تھیں۔

ظہورناظم کا پہلا لکھا ہوا گیت فلم تیرانداز (1963) میں تھا "ڈر کے دنیا سے کیا پیار تو کچھ بات نہیں۔۔" یہ گیت نسیم بیگم نے گایا تھا۔ ایک فلم آدھی رات بھی تھی جو ریلیز نہ ہوسکی تھی۔ اس فلم میں تین گیتوں کا ریکارڈ ملتا ہے جو سبھی مسعودرانا نے گائے تھے "میرے محبوب کوئی تجھ سا ہزاروں میں نہیں ، تجھ میں جو بات ہے وہ چاند ستاروں میں نہیں۔۔" ، "آنکھوں سے ملا آنکھیں ، سن پیار کا افسانہ ، مستی بھری نظروں سے بھر دے میرا پیمانہ۔۔" اور "گورے رنگ تے چنریا کالی ، ہائے دل لوٹ لیا۔۔" اس فلم میں دیبا ، حبیب اور طالش مرکزی کرداروں میں تھے لیکن دیگر بہت سی فلموں کی طرح یہ فلم بھی کسی وجہ سے مکمل ہونے کے باوجود سینماؤں تک نہ پہنچ سکی تھی۔ اس فلم میں بابا چشتی نے مجیب عالم اور نسیم بیگم سے ایک بڑا دلکش رومانٹک گیت گوایا تھا "قدموں نے رک کے ، نگاہوں نے جھک کے ، کہو ، کیا کہا ہے ، کچھ بھی نہیں جی ، تم کو دھوکہ ہوا ہے۔۔"

ظہورناظم ، ہدایتکار ایم اکرم کی اردو فلم جانباز (1966) کے سبھی گیتوں کے اکلوتے شاعر تھے۔ اس فلم کے ہیرو محمدعلی تھے لیکن فلم کی ہیروئن اور ٹائٹل رول کرنے والی اداکارہ شیریں تھی جس کی یہ صرف دوسری اور آخری اردو فلم تھی اور وہ پوری فلم پر چھائی ہوئی تھی۔ سلونی اور نذر کی ثانوی جوڑی تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ پنجابی فلموں کے عظیم موسیقار بابا جی اے چشتی کی یہ آخری اردو فلم تھی حالانکہ اس کے بعد بھی انہوں نے 80 فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی لیکن وہ سبھی پنجابی فلمیں تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب اردو اور پنجابی فلموں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے فنکاروں کی تخصیص پیدا ہوگئی تھی اور دونوں زبانوں کی فلموں کے اپنے اپنے فنکار ہوتے تھے اور بہت کم فنکار ایسے ہوتے تھے جو دونوں زبانوں کی فلموں میں یکساں مقبول ہوتے تھے۔

فلم جانباز (1966) اس لحاظ سے بھی یادگار تھی کہ یہ اکلوتی ریلیز شدہ فلم تھی جس میں بابا چشتی نے اپنے فیورٹ سنگر مسعودرانا سے چار اردو گیت گوائے تھے۔ ایک فلم آدھی رات میں بھی تین گیت گوائے تھے لیکن وہ فلم ریلیز نہ ہوسکی تھی۔ اسطرح ان کا ساتھ صرف سات اردو گیتوں تک رہا حالانکہ مشترکہ پنجابی گیتوں کی تعداد سو سے بھی زائد تھی۔ بابا چشتی نے چار مختلف النوع دھنیں بنائیں جن میں سے ایک رومانٹک گیت تھا "یہ دل کی حسرت مچل رہی ہے کہ آرزو مسکرا رہی ہے۔۔" یہ بڑے کمال کی گائیکی تھی ، مسعودرانا جتنا ڈوب کر گاتے تھے وہ خوبی بہت کم گلوکاروں میں ہوتی تھی۔ دوسرا گیت آئرن پروین کے ساتھ ایک مزاحیہ گیت تھا "تجھے تیری ماں کی قسم ، جان جاناں، کہیں بھاگ نہ جانا۔۔" یہ گیت نذر اور سلونی پر فلمایا گیا تھا جبکہ تیسرا گیت ایک ترانہ تھا جو فلمی صورتحال کے لئے گایا گیا تھا "جانباز ہیں ہم ، باطل کے خداؤں سے کہہ دو۔۔"

فلم جانباز (1966) کا مقبول ترین گیت ایک قوالی تھی "نورخدا ملے کہ حبیب خدا ملے ، مولا تیرا کرم ہے ہمیں مصطفیٰ ﷺ ملے۔۔" اس قوالی میں مسعودرانا کے ساتھ آئرن پروین اور ساتھیوں کے علاوہ حافظ عطامحمدقوال بھی تھے جنہوں نے متعدد فلموں میں کئی قوالیاں گائی تھیں لیکن یہ ان کی مقبول ترین قوالی تھی۔ ان کی پہلی فلمی قوالی فلم دربارحبیب (1956) میں گائی گئی تھی۔ اس سے قبل وہ کراچی میں بننے والی پہلی فلم ہماری زبان (1955) میں تین عدد گیت لکھنے کے علاوہ اداکاری بھی کر چکے تھے۔ اس فلم کے گیتوں میں سے ایک گیت سننے میں آتا رہا ہے "پیاری زبان اردو ، قومی زبان اردو ، اونچا رہے گا ہردم نام ونشان اردو۔۔" صرف کراچی میں ریلیز ہونے والی یہ فلم معروف معاون اداکارہ رخسانہ کی پہلی فلم تھی اور اس دور میں بنائی گئی تھی جب متحدہ پاکستان میں اردو بنگالی جھگڑہ اپنے عروج پر تھا۔ اس فلم کے جواب میں ڈھاکہ میں پہلی بنگالی فلم مکھو مکھوش (1956) بنائی گئی تھی ، وہ بھی زبان کے مسئلہ پر تھی۔ فلم ہماری زبان (1955) میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اداکاری بھی کی تھی جنہوں نے قبل ازیں بنگالی کو دوسری قومی زبان بنانے کے وزیراعظم محمدعلی بوگرا کی حکومت کے فیصلے کے خلاف 22 اپریل 1954ء کو کراچی میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت بھی کی تھی۔

گیت نگار ظہورناظم کے بارے میں دیگر کسی قسم کی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

مسعودرانا اور ظہور ناظم کے 7 فلمی گیت

7 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: محمد علی
2
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ، حافظ عطا محمدقوال مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟؟
3
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: (پس پردہ ، تھیم سانگ )
4
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: نذر ، سلونی
5
فلم ... آدھی رات ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟
6
فلم ... آدھی رات ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیم بیگم ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟
7
فلم ... آدھی رات ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیم بیگم مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟

مسعودرانا اور ظہور ناظم کے 7 اردو گیت

1یہ دل کی حسرت مچل رہی ہے، کہ آرزو مسکرا رہی ہے ... (فلم ... جانباز ... 1966)
2نور خدا ملے کہ حبیب خدا ملے ، مولا تیرا کرم ہے ہمیں مصطفیٰ ﷺ ملے ... (فلم ... جانباز ... 1966)
3جانباز ہیں ہم ، باطل کے خداؤں سے کہہ دو ... (فلم ... جانباز ... 1966)
4تجھے تیری ماں کی قسم ، جان جاناں، کہیں بھاگ نہ جانا ... (فلم ... جانباز ... 1966)
5آنکھوں سے ملا آنکھیں ، سن پیار کا افسانہ ، مستی بھری نظروں سے بھر دے میرا پیمانہ ... (فلم ... آدھی رات ... غیر ریلیز شدہ)
6میرے محبوب کوئی تجھ سا ہزاروں میں نہیں ، تجھ میں جو بات ہے وہ چاند ستاروں میں نہیں ... (فلم ... آدھی رات ... غیر ریلیز شدہ)
7گورے رنگ تے چنریا کالی ، ہائے دل لوٹ لیا ... (فلم ... آدھی رات ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور ظہور ناظم کے 0 پنجابی گیت


مسعودرانا اور ظہور ناظم کے 2سولو گیت

1یہ دل کی حسرت مچل رہی ہے، کہ آرزو مسکرا رہی ہے ... (فلم ... جانباز ... 1966)
2آنکھوں سے ملا آنکھیں ، سن پیار کا افسانہ ، مستی بھری نظروں سے بھر دے میرا پیمانہ ... (فلم ... آدھی رات ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور ظہور ناظم کے 2دو گانے

1تجھے تیری ماں کی قسم ، جان جاناں، کہیں بھاگ نہ جانا ... (فلم ... جانباز ... 1966)
2میرے محبوب کوئی تجھ سا ہزاروں میں نہیں ، تجھ میں جو بات ہے وہ چاند ستاروں میں نہیں ... (فلم ... آدھی رات ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور ظہور ناظم کے 3کورس گیت

1نور خدا ملے کہ حبیب خدا ملے ، مولا تیرا کرم ہے ہمیں مصطفیٰ ﷺ ملے ... (فلم ... جانباز ... 1966)
2جانباز ہیں ہم ، باطل کے خداؤں سے کہہ دو ... (فلم ... جانباز ... 1966)
3گورے رنگ تے چنریا کالی ، ہائے دل لوٹ لیا ... (فلم ... آدھی رات ... غیر ریلیز شدہ)

Masood Rana & Zahoor Nazim: Latest Online film

Masood Rana & Zahoor Nazim: Film posters
Janbaz
Masood Rana & Zahoor Nazim:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)
Masood Rana & Zahoor Nazim:

Total 2 joint films

(2 Urdu, 0 Punjabi films)
1.1966: Janbaz
(Urdu)
2.Unreleased: Aadhi Raat
(Urdu)


Masood Rana & Zahoor Nazim: 7 songs

(7 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback - title song)
2.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Hafiz Atta Muhammad Qawwal & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ??
3.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Nazar, Saloni
4.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali
5.
Urdu film
Aadhi Raat
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?
6.
Urdu film
Aadhi Raat
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Naseem Begum & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?
7.
Urdu film
Aadhi Raat
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Naseem Begum , Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔