A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1047 songs in 652 films

مسعودرانا اور نیلو

Neelo

نیلو ، ایک ایسی منفرد اداکارہ تھی کہ جس نے ایک ایکسٹرا کے طور پر فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا اور پہلی بار 1956ء میں ریلیز ہونے والی فلم دلابھٹی میں نظر آئی تھی۔ اسی سال کی فلم ماہی منڈا میں ظریف پر فلمائے گئے عنایت حسین بھٹی کے مشہور زمانہ گیت "رناں والیاں دے پکن پرونٹھے۔۔" کے دوران دیوار پر کھٹری دو لڑکیوں میں سے ایک نیلو بھی تھی۔ اگلے سال کی فلم سات لاکھ میں زبیدہ خانم کے گائے ہوئے ایک آئٹم سانگ "آئے موسم رنگیلے سہانے۔۔" نے نیلو کو ملک گیر شہرت دی تھی لیکن اس کی جدوجہد کا سفر جاری رہا تھا۔ اس دوران وہ دو درجن کے قریب فلموں میں ایکسٹرا ، مثبت اور منفی کرداروں میں معاون اداکارہ ، آئٹم گرل اور مکمل فلمی ہیروئن کے علاوہ پچاس کے عشرہ کی چاروں بڑی فلم ہیروئینوں ، نورجہاں ، سورن لتا ، صبیحہ خانم اور مسرت نذیر کے مقابل ثانوی کرداروں میں بھی نظر آتی تھی۔ 1959ء کی فلم ناگن کے بعد نیلو صف اول کی ہیروئن بن گئی تھی اور ساٹھ کے عشرہ کی بیشتر معروف اداکاراؤں نے اس کے مقابل ثانوی کردار کیے تھے جن میں یاسمین ، بہار ، نیر سلطانہ ، لیلیٰ ، شیریں ، حسنہ ، رانی ، دیبا ، نغمہ ، فردوس اور سلونی وغیرہ شامل تھیں جبکہ شمیم آراء اور زیبا کے ساتھ کبھی کسی فلم میں نظر نہیں آئی تھی کیونکہ وہ دونوں نیلو کی مدمقابل تھیں لیکن صرف اردو فلموں تک محدود تھیں جبکہ نیلو واحد اداکارہ تھی جو اردو اور پنجابی فلموں میں یکساں طور پر مقبول و مصروف تھی۔

Neelo

نیلو اپنے وقت کی ایک ڈریم گرل اداکارہ تھی جو اپنے دلکش خدوخال ، سحر انگیز رقص ، پراثر اداکاری اور ہوش ربا اداؤں سے فلم بینوں کو سینما گھروں تک کھینچ لاتی تھی۔ 1962ء کی فلم بنجارن بھی نیلو کی ایک سپر ہٹ فلم تھی جس میں اس کے ہیجان خیز رقص فلم کی کامیابی کی بڑی وجہ تھے۔ یہ فلم اتنی مقبول ہوئی تھی کہ اس کا ذکر اس دور کی ایک فلم عید مبارک میں احمد رشدی کے ایک مزاحیہ گیت "میری گڑیا کا ہے جلوہ نرالا۔۔" میں بھی کیا گیا تھا اور جس میں اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ اس دور میں فلم بنجارن سے نیلو ، سہیلی سے شمیم آراء اور آشیانہ سے زیبا کو بے حد مقبولیت ملی تھی۔

فلم بنجارن ہی پہلی فلم تھی جس میں مسعودرانا کے گائے ہوئے تینوں دوگانے نیلو پر فلمائے گئے تھے جبکہ چوتھا سولو گیت "کہیں دل پہ نہ جادو کر جائے۔۔" بھی نیلو ہی کے لیے گایا گیا تھا جو کمال پر فلمایا گیاتھا۔ اس سےاگلے سال 1963ء کی فلم شکوہ میں بھی ایسا ہی ایک گیت "مکھڑے کو چھپانے کی ادا۔۔" بھی نیلو ہی کی اداؤں کی نظر تھا جو درپن پر فلمایا گیا تھا جبکہ اسی سال کی ایک اور فلم قتل کے بعد میں بھی نیلو ہی تھی جس کے لیے مسعودرانا کو کمال کے لیے یہ گیت گانا پڑا تھا "او جان من ذرا رک جا ، یہ ادا نہ ہم کو دکھا۔۔" فلم بیٹی (1964) کے ایک کلاسیکل گیت کے بعد پنجابی فلم میرا ماہی میں کیا زبردست دوگانا تھا "ساڈی عجب کہانی اے۔۔" یار مار ، ابا جی ، بدنام ، لاڈو اور چغل خور کے دلکش دوگانے بھی نیلو ہی کے لیے گائے تھے جبکہ فلم چغل خور میں مسعودرانا کا اکمل پر فلمایا ہوا سپر ہٹ گیت "مکھ تیرا ویکھیا ضرور تھوڑا جیا نی۔۔" بھی نیلو ہی کی اداؤں کے نام تھا۔ فلم راوی پار کا یہ گیت تو دل کے تار چھیڑ دیتا ہے "وے جا مڑ جا اڑیا ، میں نئیوں آنا تیری ہٹی۔۔"

نیلو کی اپنے پہلے دور کی آخری فلم زرقا (1969) تھی جو کراچی میں سو ہفتے چلنے والی پہلی فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس دوران اس نے شادی کر کے فلمی دنیا کو خیر آباد کہہ دیا تھا لیکن یہ خوشیاں اسے راس نہیں آئی تھیں اور 1972ء میں اس کے شوہر ریاض شاہد کی اچانک موت کے بعد اپنے بچوں کی کفالت کےلیے اسے دوبارہ فلمی دنیا کا رخ کرنا پڑا تھا۔ اس کے دوسرے دور کا آغاز بھی کراچی ہی میں ایک سو ہفتے چلنے والی فلم خطر ناک (1974) سے ہوا تھا اور اگلے چھ برسوں میں وہ تین درجن سے زائد فلموں میں ہیروئن کے طور پر نظر آئی تھی۔ نیلو کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے بیٹے شان کے ساتھ اس کی پہلی فلم بلندی (1990) میں بھی اداکاری کرتی ہوئی نظر آئی تھی۔


نیلو کا انتقال ہوکیا

Neelo died on January 30, 2021
ماضی کی سپرسٹار اداکارہ نیلو
کا 30 جنوری 2021ء کو انتقال ہوگیا
نیلو ، ساٹھ کے عشرہ کی ایک سپرسٹار اداکارہ تھی جس نے ایکسٹرا کے طور پر فلموں میں کام شروع کیا اور معاون اداکارہ اور آئٹم گرل کے بعد چوٹی کی فلمی ہیروئن بنی۔ وہ اپنے دور میں پاکستان کی واحد اداکارہ تھی جو بیک وقت اردو اور پنجابی فلموں میں مقبول ہوتی تھی۔ 30 جنوری 2021ء کو 80 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والی اپنے وقت کی اس عظیم اداکارہ نے ڈیڑھ سو کے قریب فلموں میں کام کیا تھا جن کا سال بہ سال مختصراً احوال کچھ اس طرح سے ہے:

1956ء میں نیلو کی فلمی دنیا میں آمد ایک امریکی فلم بھوانی جنکشن سے ہوئی تھی جس میں وہ کسی ایکسٹرا رول میں تھی۔ دلابھٹی اور ماہی منڈا جیسی مشہور زمانہ فلموں میں ایکسٹرا رولز میں نظر آنے کے بعد اسی سال کی فلم صابرہ (1956) میں قدرے نمایاں کردار ملا تھا۔

1957ء کا سال نیلو کے لیے 8 فلمیں لے کر آیا تھا جن میں متعدد فلموں میں اس نے نمایاں کردار کیے تھے۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم یکے والی (1957) میں نیلو ، مسرت نذیر پر عاشق ہوجاتی ہے جو ایک لڑکے کے روپ میں اسے ملتی ہے۔ فلم سہتی (1957) میں نیلو نے ہیر کا رول کیا تھا ، رانجھا کا کردار عنایت حسین بھٹی نے کیا تھا۔ اسی سال فلم سات لاکھ (1957) میں زبیدہ خانم کا گایا ہوا مشہور زمانہ گیت "آئے موسم رنگیلے سہانے ، جیا نہ ہی مانے۔۔" نیلو پر فلمایا گیا پہلا سپرہٹ گیت تھا جس نے اسے ملک گیر شہرت دی تھی۔

1958ء میں نیلو کی 9 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں پہلی بار بطور فرسٹ ہیروئن اس کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ایک پنجابی فلم کچیاں کلیاں تھی اور دوسری اردو فلم نئی لڑکی (1958) تھیں۔ ان دونوں فلموں کے ہدایتکار امین ملک اور ہیرو اسلم پرویز تھے۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم آخری نشان (1958) تھی جو گولڈن جوبلی ہوئی تھی اور جس میں سدھیر کی جوڑی مینا شوری کے ساتھ تھی اور نیلو سائیڈ ہیروئن تھی۔ جٹی ، دربار ، جان بہار اور زہر عشق دیگر اہم فلمیں تھیں جن میں نیلو کے ثانوی کردار تھے۔

1959ء میں نیلو کی 12 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ یہ سال ، اس کے لیے بریک تھرو کا سال تھا۔ اس سال اس کی بطور فرسٹ ہیروئن پہلی بڑی فلم ناگن (1959) تھی جس میں اس کا ہیرو رتن کمار اور ولن یوسف خان تھا۔ دوسری فلم ساتھی (1959) میں اس کا ہیرو درپن تھا۔ اس سال کا ایک منفرد اور دلچسپ ریکارڈ یہ بھی تھا کہ نیلو نے پچاس کے عشرہ کی پانچوں بڑی ہیروئنوں کے ساتھ سیکنڈ ہیروئن کے طور پر کام کیا تھا۔ ان میں میڈم نورجہاں کے ساتھ کوئل اور نیند (1959) ، سورن لتا کے ساتھ شمع (1959) ، صبیحہ خانم کے ساتھ نغمہ دل (1959) ، مسرت نذیر کے ساتھ سولہ آنے ، یار بیلی اور لکن میٹی (1959) اور یاسمین کے ساتھ للکار (1959) تھیں۔

1960ء میں نیلو کی 9 فلمیں نمائش پذیر ہوئی تھیں جو سبھی اردو فلمیں تھیں۔ بطور فرسٹ ہیروئن انصاف (1960) کامیاب فلم تھی جس میں پہلی بار کمال ہیرو تھا۔ ایاز اور سلطنت (1960) دیگر بڑی فلمیں تھیں جن میں وہ سائیڈ ہیروئن تھی۔

1961ء میں نیلو کی صرف 3 فلمیں ریلیز ہوئیں اور حیرت انگیز طور پر سبھی ناکام رہی تھیں۔

Neelo in film Zarqa (1969)
نیلو کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم زرقا (1969)
1962ء میں نیلو کی 8 فلمیں منظر عام پر آئیں جو سبھی اردو تھیں اور ان تمام فلموں میں وہ فرسٹ ہیروئن کے طور پر نظر آئی تھی۔ بنجارن اور عذرا سب سے کامیاب فلمیں تھیں۔ فلم عذرا میں نیلو پر میڈم نورجہاں کے متعدد گیت فلمائے گئے تھے جن میں "کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔۔" سب سے مشہور تھا۔ وقت کی ایک بڑی ہیروئن لیلیٰ نے اس فلم میں نیلو کے مقابل ثانوی رول کیا تھا۔

1963ء میں بھی نیلو کی 8 ہی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ سال کی سب سے کامیاب فلم دامن (1963) تھی جس میں نیلو نے آخری بار ویمپ کا رول کیا تھا۔ یہ فلم ماضی کی کلاسیک جوڑی صبیحہ خانم اور سنتوش کی واحد گولڈن جوبلی فلم تھی۔ شکوہ اور عشق پر زور نہیں (1963) دیگر کامیاب فلمیں تھیں۔ اس سال کی واحد پنجابی فلم موج میلہ (1963) ایک بہت بڑی فلم تھی جس نے نیلو کو پنجابی فلموں کی ضرورت بنا دیا تھا۔ اس فلم میں رانی نے نیلو کے مقابل ثانوی رول کیا تھا۔

1964ء میں بھی نیلو کی 8 ہی فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں چار اردو اور چار ہی پنجابی فلمیں تھیں۔ پنجابی فلمیں ڈاچی اور میرا ماہی (1964) بہت بڑی فلمیں تھیں جبکہ گہرا داغ اور بیٹی (1964) بھی کامیاب اردو فلمیں تھیں۔ فلم ڈاچی (1964) میں نغمہ نے نیلو کے مقابل ثانوی رول کیا تھا۔

1965ء میں حیرت انگیز طور پر نیلو کی صرف دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ نیلو ، رقص کی ماہر تھی اور اپنی فلموں کی کوریوگرافر بھی خود ہی ہوتی تھی جس کا مظاہرہ اس نے اس سال کی اکلوتی اردو فلم رقاصہ (1965) میں بھی کیا تھا۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم جی دار (1965) تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لاہور کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ اس فلم میں وقت کی بڑی مقبول پنجابی اداکارہ شیریں نے بھی نیلو کے مقابل ثانوی رول کیا تھا۔

اسی سال 11 فروری 1965ء کو نیلو کو سرکاری اہل کاروں نے گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالا باغ کے ایما پر شاہی قلعہ لاہور میں شاہ ایران کے اعزاز میں دی گئی ایک سرکاری تقریب میں رقص کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس زیادتی پر اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی اور اس کی اس جرات پر معروف شاعر حبیب جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم لکھی تھی "رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔۔" جسے فلم زرقا (1969) میں شامل کیا گیا تھا۔ اس واقعہ سے متاثر ہو کر 14 اکتوبر 1966ء کو معروف فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف ریاض شاہد نے نیلو سے شادی کر لی تھی۔ نیلو نے شادی کے بعد فلمی دنیا کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس وقت وہ چالیس سے زائد فلموں میں کام کر رہی تھی۔

1966ء میں نیلو کی 9 فلمیں منظر عام پر آئی تھیں جن میں 6 پنجابی فلموں میں سے لاڈو ، نظام لوہار اور ابا جی (1966) بہت بڑی فلمیں تھیں۔ فلم لاڈو (1966) میں میڈم نورجہاں کے سپرہٹ گیت "شکر دوپہر پپلی دے تھلے۔۔" اور "ڈنگ پیار دا سینے تے کھا کے۔۔" نیلو پر ہی فلمائے گئے تھے۔ سال کی سب سے یادگار فلم بدنام (1966) تھی۔ پائل کی جھنکار (1966) ایک اور کامیاب فلم تھی جس میں دیبا نے نیلو کے مقابل ثانوی رول کیا تھا۔ اس سال کی فلم ان پڑھ (1966) میں پنجابی فلموں کی ایک اور بڑی اداکارہ فردوس نے نیلو کے مقابل ثانوی رول کیا تھا۔

1967ء کا سال نیلو کے لیے 6 فلمیں لے کر آیا تھا جن میں سے چار پنجابی فلمیں تھیں۔ دل دا جانی (1967) سال کی سب سے بڑی نغماتی فلم تھی جس میں سلونی نے نیلو کے مقابل ثانوی رول کیا تھا۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا نیلو پر فلمایا ہوا گیت "سیو نی میرے دل دا جانی۔۔" ایک میگا ہٹ گیت تھا۔ یارمار (1967) ایک اور کامیاب فلم تھی جبکہ دو اردو فلموں میں سے چٹان (1967) سب سے کامیاب فلم تھی۔

1968ء میں نیلو کی صرف 3 میں سے ایک فلم جگ بیتی (1967) سال کی بہترین فلم تھی۔ اس سال فلم پرستان (1968) (1968) میں نسیم بیگم کا گایا ہوا سپرہٹ گیت "محبت کے دم سے یہ دنیا حسین ہے۔۔" نیلو پر ہی فلمایا گیا تھا۔

1969ء میں نیلو کی صرف دو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم زرقا (1969) ، نیلو کی آخری ریلیز شدہ فلم تھی۔ اس سال کے بعد اگلے پانچ سال تک نیلو کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی۔ 1972ء میں ریاض شاہد کے اچانک انتقال کے بعد نیلو کو اپنے تین بچوں کی کفالت کے لیے فلموں میں واپسی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

1974ء میں نیلو کی فلموں میں واپسی ایک بہت بڑی پنجابی فلم خطرناک (1974) سے ہوئی تھی جس نے کراچی میں سو ہفتے چلنے والی پہلی پنجابی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ وہ آزادی کا دور تھا جس سے فلمسازوں نے بڑا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا اور فلموں میں لچرپن اور بے ہودگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ نیلو نے اپنے پہلے چودہ برسوں میں 90 فلموں میں کام کیا تھا۔ 1974ء کے بعد اس کی فلموں کی تعداد پچاس سے زائد تھی جن میں بہت کم اردو فلمیں تھیں۔ نیلو نے 1990ء میں اپنے بیٹے شان کی پہلی اردو فلم بلندی اور پہلی پنجابی فلم نگینہ میں بھی اداکاری کی تھی۔ ان تمام فلموں کی فہرست نیلو کے فلمی ریکارڈز کے صفحات پر موجود ہے۔

نیلو کی پیدائش 1940ء میں سرگودھا کے ایک قصبہ بھیرہ کے ایک مسیحی خاندان میں ہوئی۔ غربت کی وجہ سے سکول کے زمانے ہی سے فلموں میں آئی۔ ریاض شاہد سے شادی کے بعد اسلام قبول کیا اور سینتھیا ایلیگزینڈر فرنینڈس سے عابدہ ریاض کا نام لیا۔ 30 جنوری 2021ء کو 80 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا۔ اللہ تعالیٰ ، مرحومہ کی مغفرت کرے (آمین)


مسعودرانا اور نیلو کے 16 فلمی گیت

(8 اردو گیت ... 8 پنجابی گیت )
1
فلم ... بنجارن ... اردو ... (1962) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: دیبو ... شاعر: فیاض ہاشمی ... اداکار: کمال ، نیلو
2
فلم ... بنجارن ... اردو ... (1962) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین مع ساتھی ... موسیقی: دیبو ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: نرالا ، نیلو
3
فلم ... بنجارن ... اردو ... (1962) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین مع ساتھی ... موسیقی: دیبو ... شاعر: حمایت علی شاعر ... اداکار: نرالا ، نیلو مع ساتھی
4
فلم ... قتل کے بعد ... اردو ... (1963) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ، آئرن پروین ... موسیقی: دیبو ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: کمال ، لہری ، نیلو
5
فلم ... بیٹی ... اردو ... (1964) ... گلوکار: نسیم بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: دیبو ... شاعر: فیاض ہاشمی ... اداکار: نیلو ، امداد حسین
6
فلم ... میرا ماہی ... پنجابی ... (1964) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اکمل ، نیلو
7
فلم ... چغل خور ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: نذیر بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: نیلو ، اکمل
8
فلم ... لاڈو ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر عبد اللہ ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: نیلو ، حبیب
9
فلم ... بد نام ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: دیبو ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: اعجاز ، نیلو
10
فلم ... ابا جی ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: نیلو ، سدھیر
11
فلم ... یار مار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: حبیب ، نیلو
12
فلم ... راوی پار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: نیلو ، حبیب
13
فلم ... راوی پار ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: نیلو ، حبیب
14
فلم ... شام سویرا ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ماسٹر عاشق حسین ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: درپن ، نیلو
15
فلم ... جٹ کڑیاں توں ڈردا ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: نورجہاں ، مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: نیلو ، کمال
16
فلم ... موت میری زندگی ... اردو ... (1979) ... گلوکار: مہناز ، مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: نیلو ، آصف خان

مسعودرانا اور نیلو کے 8 اردو گیت

1او جنیا ، تورے حسن کے کارن ،اک دن ہو جائے رےتکرار ... (فلم ... بنجارن ... 1962)
2لچکے کمریا موری ، میں نازک چھوری ، کہ ہائے ہائے مجھ سے چلا نہ جائے ... (فلم ... بنجارن ... 1962)
3پٹ گھونگھٹ کے کھولے کھولے ، تو آجا بابو جی ... (فلم ... بنجارن ... 1962)
4او جان من ، ذرا رک جا ، یہ ادا نہ ہم کو دکھا ... (فلم ... قتل کے بعد ... 1963)
5چھن چھنا چھن بچھوا بولے ، کنگناں ڈولے ... (فلم ... بیٹی ... 1964)
6اک اور بات مانی ، اک اور زخم کھایا ، خود ہم نے اپنے ہاتھوں دل کا دیا جلایا ... (فلم ... بد نام ... 1966)
7مچلے ہوئے جذبات ہیں ، معلوم نہیں کیوں ... (فلم ... شام سویرا ... 1967)
8جدا کرے نہ کوئی ، تیرے آستانے سے ... (فلم ... موت میری زندگی ... 1979)

مسعودرانا اور نیلو کے 8 پنجابی گیت

1ساڈی عجب کہانی اے ، بھل کے پرانے دکھڑے ، نویں دنیا وسانی اے ... (فلم ... میرا ماہی ... 1964)
2ماہی چپ چپ کر کے وے ، میں کول تیرے ڈر کے ... (فلم ... چغل خور ... 1966)
3کی بھروسہ دم دا ، اے دنیا فانی، اچا ، لما ، گورا اتوں اکھ مستانی ، پت کسے ماں دا تے میرا لگے ہانی ... (فلم ... لاڈو ... 1966)
4جیویں میرے دلدارا ، وے تیرے نال پیار کر کے ... (فلم ... ابا جی ... 1966)
5نئیں سی کرنیاں پہلاں اکھیاں چار نی ، ڈرنا سی تے نئیں سی کرنا پیار نی ... (فلم ... یار مار ... 1967)
6راوی پار وسے میرا پیار نی ... (فلم ... راوی پار ... 1967)
7وے مڑ جا اڑیا ، میں نئیوں آنا تیری ہٹی ، نی تو آپے آؤنا ، پیار پڑھائی جدوں پٹی ... (فلم ... راوی پار ... 1967)
8جٹ کڑیاں توں ڈردا مارا ، جوانی چہ ملنگ ہو گیا ... (فلم ... جٹ کڑیاں توں ڈردا ... 1976)

مسعودرانا اور نیلو کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور نیلو کے 13دوگانے

1او جنیا ، تورے حسن کے کارن ،اک دن ہو جائے رےتکرار ... (فلم ... بنجارن ... 1962)
2چھن چھنا چھن بچھوا بولے ، کنگناں ڈولے ... (فلم ... بیٹی ... 1964)
3ساڈی عجب کہانی اے ، بھل کے پرانے دکھڑے ، نویں دنیا وسانی اے ... (فلم ... میرا ماہی ... 1964)
4ماہی چپ چپ کر کے وے ، میں کول تیرے ڈر کے ... (فلم ... چغل خور ... 1966)
5کی بھروسہ دم دا ، اے دنیا فانی، اچا ، لما ، گورا اتوں اکھ مستانی ، پت کسے ماں دا تے میرا لگے ہانی ... (فلم ... لاڈو ... 1966)
6اک اور بات مانی ، اک اور زخم کھایا ، خود ہم نے اپنے ہاتھوں دل کا دیا جلایا ... (فلم ... بد نام ... 1966)
7جیویں میرے دلدارا ، وے تیرے نال پیار کر کے ... (فلم ... ابا جی ... 1966)
8نئیں سی کرنیاں پہلاں اکھیاں چار نی ، ڈرنا سی تے نئیں سی کرنا پیار نی ... (فلم ... یار مار ... 1967)
9راوی پار وسے میرا پیار نی ... (فلم ... راوی پار ... 1967)
10وے مڑ جا اڑیا ، میں نئیوں آنا تیری ہٹی ، نی تو آپے آؤنا ، پیار پڑھائی جدوں پٹی ... (فلم ... راوی پار ... 1967)
11مچلے ہوئے جذبات ہیں ، معلوم نہیں کیوں ... (فلم ... شام سویرا ... 1967)
12جٹ کڑیاں توں ڈردا مارا ، جوانی چہ ملنگ ہو گیا ... (فلم ... جٹ کڑیاں توں ڈردا ... 1976)
13جدا کرے نہ کوئی ، تیرے آستانے سے ... (فلم ... موت میری زندگی ... 1979)

مسعودرانا اور نیلو کے 3کورس گیت

1لچکے کمریا موری ، میں نازک چھوری ، کہ ہائے ہائے مجھ سے چلا نہ جائے ... (فلم ... بنجارن ... 1962)
2پٹ گھونگھٹ کے کھولے کھولے ، تو آجا بابو جی ... (فلم ... بنجارن ... 1962)
3او جان من ، ذرا رک جا ، یہ ادا نہ ہم کو دکھا ... (فلم ... قتل کے بعد ... 1963)


Masood Rana & Neelo: Latest Online film

Lado

(Punjabi - Black & White - Friday, 26 August 1966)


Masood Rana & Neelo: Film posters
BanjaranShikwaQatal Kay BaadDachiBetiMera MahiMr. Allah DittaChughalkhorLadoBadnamNizam LoharAbba JiYaar MaarRavi ParWohtiShaam SaveraLala RukhHeera PhummanDhan Jigra Maa DaJailor Tay QaidiKhoufnakWardatJatt Kurian Tun DardaKil Kil Mera NaaGhundaChaman KhanChhotay NawabNageena
Masood Rana & Neelo:

13 joint Online films

(3 Urdu and 10 Punjabi films)

1.1962: Banjaran
(Urdu)
2.1966: Chughalkhor
(Punjabi)
3.1966: Lado
(Punjabi)
4.1966: Badnam
(Urdu)
5.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)
6.1967: Yaar Maar
(Punjabi)
7.1968: Lala Rukh
(Urdu)
8.1975: Heera Phumman
(Punjabi)
9.1975: Mera Naa Patay Khan
(Punjabi)
10.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)
11.1976: Khoufnak
(Punjabi)
12.1976: Jatt Kurian Tun Darda
(Punjabi)
13.1976: Kil Kil Mera Naa
(Punjabi)
Masood Rana & Neelo:

Total 39 joint films

(10 Urdu and 28 Punjabi films)

1.1962: Banjaran
(Urdu)
2.1963: Shikwa
(Urdu)
3.1963: Qatal Kay Baad
(Urdu)
4.1964: Dachi
(Punjabi)
5.1964: Beti
(Urdu)
6.1964: Mera Mahi
(Punjabi)
7.1966: Mr. Allah Ditta
(Punjabi)
8.1966: Chughalkhor
(Punjabi)
9.1966: Ann Parh
(Punjabi)
10.1966: Lado
(Punjabi)
11.1966: Badnam
(Urdu)
12.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)
13.1966: Abba Ji
(Punjabi)
14.1967: Yaar Maar
(Punjabi)
15.1967: Dil Da Jani
(Punjabi)
16.1967: Ravi Par
(Punjabi)
17.1967: Wohti
(Punjabi)
18.1967: Shaam Savera
(Urdu)
19.1968: Lala Rukh
(Urdu)
20.1968: Jagg Beeti
(Punjabi)
21.1975: Heera Phumman
(Punjabi)
22.1975: Mera Naa Patay Khan
(Punjabi)
23.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)
24.1975: Jailor Tay Qaidi
(Punjabi)
25.1976: Khoufnak
(Punjabi)
26.1976: Wardat
(Punjabi)
27.1976: Jatt Kurian Tun Darda
(Punjabi)
28.1976: Kil Kil Mera Naa
(Punjabi)
29.1977: Malikzada
(Punjabi)
30.1977: Ajj Dian Kurrian
(Punjabi)
31.1977: Meray Badshah
(Punjabi)
32.1978: Ghunda
(Punjabi)
33.1978: Gharib Da Baal
(Punjabi)
34.1978: Chaman Khan
(Punjabi)
35.1978: Sharif Shehri
(Punjabi)
36.1979: Mout Meri Zindagi
(Urdu)
37.1980: Chhotay Nawab
(Urdu)
38.1987: Ham Say Na Takrana
(Urdu)
39.1990: Nageena
(Punjabi/Urdu double version)


Masood Rana & Neelo: 14 songs

(6 Urdu and 8 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Banjaran
from Friday, 14 September 1962
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen & Co., Music: Deebo, Poet: Himayat Ali Shair, Actor(s): Nirala, Neelo & Co.
2.
Urdu film
Qatal Kay Baad
from Friday, 22 November 1963
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Irene Parveen, Music: Deebo, Poet: Mushir Kazmi, Actor(s): Kemal, Lehri, Neelo
3.
Urdu film
Beti
from Friday, 31 July 1964
Singer(s): Naseem Begum, Masood Rana, Music: Deebo, Poet: Fyaz Hashmi, Actor(s): Neelo, Imdad Hussain
4.
Punjabi film
Mera Mahi
from Friday, 28 August 1964
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Akmal, Neelo
5.
Punjabi film
Chughalkhor
from Friday, 25 March 1966
Singer(s): Nazir Begum, Masood Rana, Music: Bakhshi Wazir, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Neelo, Akmal
6.
Punjabi film
Lado
from Friday, 26 August 1966
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Master Abdullah, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Neelo, Habib
7.
Urdu film
Badnam
from Friday, 2 September 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Deebo, Poet: Masroor Anwar, Actor(s): Ejaz, Neelo
8.
Punjabi film
Abba Ji
from Friday, 16 December 1966
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Neelo, Sudhir
9.
Punjabi film
Yaar Maar
from Thursday, 12 January 1967
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Habib, Neelo
10.
Punjabi film
Ravi Par
from Friday, 9 June 1967
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Baba Alam Siaposh, Actor(s): Neelo, Habib
11.
Punjabi film
Ravi Par
from Friday, 9 June 1967
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Baba Alam Siaposh, Actor(s): Neelo, Habib
12.
Urdu film
Shaam Savera
from Friday, 8 December 1967
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Master Ashiq Hussain, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Darpan, Neelo
13.
Punjabi film
Jatt Kurian Tun Darda
from Friday, 15 October 1976
Singer(s): Noorjahan, Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Neelo, Kemal
14.
Urdu film
Mout Meri Zindagi
from Friday, 28 September 1979
Singer(s): Mehnaz, Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: Saifuddin Saif, Actor(s): Neelo, Asif Khan


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Lambe
Lambe
(2017)
Gumnam
Gumnam
(1954)
Mera Mahi
Mera Mahi
(2001)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..