A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1036 songs in 646 films

مسعودرانا اور غلام نبی ، عبداللطیف

غلام نبی اور عبداللطیف
نے ایک لازوال ملی ترانہ کمپوز کیا تھا
Ghulam Nabi, Abdul Latif
اے وطن ، ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں
زندگی ہوش میں ہے ، جوش ہے ایمانوں میں
دل عشاق کی مانند یہ تپتے میدان
یہ لچکتے ہوئے جنگل ، یہ تھرکتے ارمان
یہ پہاڑوں کی گھٹاؤں میں جوانی کی اٹھان
یہ مچلتے ہوئے دریاؤں میں انگڑائی کی شان
کتنے روشن ہیں دیئے تیرے شبستانوں میں
تیرے مزدور کی آنکھوں کے شرارے لے کر
تیرے دہقان کے ماتھے کے ستارے لے کر
چاندنی بوئیں گے جھلسے ہوئے میدانوں میں
ہم تجھے آگ کا دریا نہیں بننے دیں گے
ظلم و نفرت کا تماشا نہیں بننے دیں گے
تجھ کو پا لیں گے محبت کے گلستانوں میں
اے وطن ، ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں
زندگی ہوش میں ہے ، جوش ہے ایمانوں میں
شاعر: جوش ملیح آبادی ، گلوکار مسعودرانا مع ساتھی
موسیقار: غلام نبی ، عبداللطیف
ہدایتکار: ہمایوں مرزا ، فلم: آگ کا دریا (1966)
موسیقاروں کی جوڑی ، غلام نبی ، عبد اللطیف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 1955ء میں جب کراچی میں فلمسازی کا آغاز ہوا اور پہلی فلم ہماری زبان بنائی گئی تو اس کی موسیقی انہوں نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم کے بیشتر گیت ریڈیو گلوکاراؤں نذیر بیگم اور خورشید بیگم نے گائے تھے۔ ہدایتکار شیخ حسن ، اپنی اس فلم کے ہیرو بھی خود تھے جبکہ ایک بینا نامی اداکارہ فرسٹ ہیروئن تھی۔ اس فلم میں پہلی بار معروف فنکارہ رخسانہ کو اس کے اصل نام رشیدہ سے متعارف کروایا گیا تھا۔ اس فلم میں ایک رول بابائے اردو مولوی عبدالحق نے بھی کیا تھا۔ حافظ عطا محمد کا لکھا ہوا ایک گیت "پیاری زبان اردو ، قومی زبان اردو ، اونچا رہے گا ہر دم ، نام ونشان اردو۔۔" فلم کا بنیادی خیال بیان کرتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب اردو بولنے والوں اور بنگالیوں کے مابین زبان کے مسئلہ پر ایک گھمسان کا رن پڑا تھا۔ گو اس وقت تک سیز فائر ہو چکا تھا لیکن کشیدگی برقرار تھی۔ یہ فلم اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کے ردعمل کے طور پر 1956ء میں ڈھاکہ میں پہلی بنگالی فلم مکھ و مکھوش بنائی گئی تھی ، جس کا ترجمہ 'روپ بہروپ' تھا اور بتایا جاتا ہے کہ وہ فلم بھی زبان کے مسئلہ پر ہی تھی۔

غلام نبی ، عبد اللطیف کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ پاکستان کی پہلی سندھی فلم عمر ماروی (1956) کی موسیقی بھی انہوں نے ترتیب دی تھی۔ یہ فلم ماروی کے نام سے اردو میں ڈب کر کے 1963ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کامیاب سندھی فلم کے فلمساز فاضلانی تھے جو فلم کے ہیرو بھی تھے جبکہ ہیروئن نگہت سلطانہ تھی جو اردو فلموں میں ایک معاون اداکارہ تھی اور اس نے معروف ہدایتکار حسن طارق سے شادی بھی کی تھی۔

غلام نبی ، عبد اللطیف نے کل سولہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں سے دس اردو اور چھ سندھی فلمیں تھیں۔ ان کی سب سے بڑی اردو فلم آگ کا دریا (1966) تھی جس کا سب سے سپر ہٹ گیت مسعودرانا اور ساتھیوں کی آوازوں میں ایک لازوال ملی ترانہ تھا "اے وطن ، ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں ، زندگی ہوش میں ہے ، جوش ہے ایمانوں میں۔۔" تاریخ کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے میرے لئے اس ترانے کا آخری انترہ بڑا تکلیف دہ رہا ہے کہ "ہم تجھے آگ کا دریا نہیں بننے دیں گے ، ظلم و نفرت کا تماشا نہیں بننے دیں گے۔۔" کلاسیک شاعر جوش ملیح آبادی کی بطور فلمی نغمہ نگار یہ واحد فلم تھی جس کے سبھی گیت انہوں نے لکھے تھے۔ ان میں میڈم نورجہاں کا ایک گیت "ہوا سے موتی برس رہے ہیں۔۔" بھی پسند کیا گیا تھا۔ جوش صاحب نے فلم قسم اس وقت کی (1969) میں بھی ایک گیت لکھا تھا "قسم اس وقت کی ، زندگی جب کروٹ لیتی ہے۔۔" یہ گیت مجیب عالم نے گایا تھا جس کی دھن سہیل رعنا نے بنائی تھی۔

فلم آگ کا دریا (1966) کے ہدایتکار ہمایوں مرزا تھے۔ ان کی بھی یہ سب سے بڑی فلم تھی۔ ان کی پہلی فلم انتخاب (1955) تھی جس میں انہوں نے جمیلہ رزاق نامی اداکارہ کو متعارف کروایا تھا۔ ان کی دیگر اہم فلموں میں راز (1959) ، دل بیتاب ، سزا (1969) اور خاک اور خون (1971) تھیں۔ اسی فلم میں اردو فلموں کے عظیم ہیرو محمدعلی کو بریک تھرو ملا تھا۔ وہ جذباتی اداکاری میں تو بے مثل تھے لیکن ڈاکو کے رول میں متاثر نہیں کرتے تھے ، اس فلم میں البتہ ان کے رول کو پسند کیا گیا تھا اور وہ سپرسٹار بن گئے تھے۔

غلام نبی ، عبداللطیف کا فلم میں کہاں منزل کہاں (1968) میں مجیب عالم کا گایا ہوا یہ گیت بھی مقبول ہوا تھا "کسی کے بے چین دل کی دھڑکن ، کسی کے سازوفا کا نغمہ قبول کرلو۔۔" انہیں ، اردو فلموں میں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ وہ کراچی میں رہتے تھے جبکہ فلم انڈسٹری لاہور میں تھی جہاں بڑی تعداد میں اعلیٰ پائے کے فنکار تھے۔ اس وقت کراچی کے فنکاروں کی وہی حالت تھی جو آجکل لاہور کے فنکاروں کی ہے جہاں فلم انڈسٹری پر چارقل پڑھے جاچکے ہیں اور ڈرامہ انڈسٹری ساری کراچی میں ہے۔ لاہور کے فنکار منتظر رہتے ہیں کہ نجانے کب انہیں کراچی سے کوئی بلاوا آ جائے۔ اللہ اکبر۔۔! بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔۔!

موسیقاروں کی اس جوڑی کی ایک سندھی فلم پردیسی (1958) بھی تھی جو مصطفیٰ قریشی کی پہلی فلم تھی۔ ان کی پہلی اردو فلم لاکھوں میں ایک (1967) تھی اور ستر کے عشرہ کے بعد وہ چوٹی کے فلم ولن بنے تھے اور فلم مولا جٹ (1979) میں 'نوری نت' کا لازوال کردار کیا تھا۔ اسی جوڑی کی ایک اور سندھی فلم سورٹھ (1973) تھی جو بمبینو فلمز کے بینر تلے بنائی گئی تھی اور اس کے پیش کار حاکم علی زرداری تھے جو کراچی کے بمبینو سینما کے مالک اور سابق صدر آصف علی زرداری کے والد تھے۔ اس فلم میں مسعودرانا کے دو سندھی گیت ملتے ہیں "واہ واہ سوہنی صورت ، سبحان اللہ۔۔" اور "صورت سب سلطان الا پٹ دساں۔۔" اس طرح اردو ، پنجابی ، سندھی ، پشتو اور عربی میں مسعودرانا کے گیت ملتے ہیں۔ ایک گیت سرائیکی میں بھی تھا جو اصل میں پنجابی زبان ہی کی ایک شاخ ، لہجہ یا بولی (dialect) ہے جیسے کہ ہندکو ، ڈوگری ، پہاڑی وغیرہ ہیں لیکن کچھ لوگ اپنی محرومیوں کا رونا رونے کے لئے نان ایشو کی سیاست کرتے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے۔

غلام نبی ، عبداللطیف کی ایک غیرریلیز شدہ فلم آنکھ مچولی بھی تھی جس میں مسعودرانا کا یہ بڑا خوبصورت گیت تھا "ویران دل ہے میرا ، اے روشنی کہاں ہے۔۔" اس جوڑی کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

مسعودرانا اور غلام نبی ، عبداللطیف کے 3 فلموں میں 4 گیت

2 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1
فلم ... آگ کا دریا ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: غلام نبی ، عبداللطیف ... شاعر: جوش ملیح آبادی ... اداکار: (پس پردہ ، ٹائٹل سانگ ، تھیم سانگ )
2
فلم ... سورٹھ ... سندھی ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: غلام نبی ، عبداللطیف ... شاعر: پیرل قنبر ... اداکار: ؟
3
فلم ... سورٹھ ... سندھی ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: غلام نبی ، عبداللطیف ... شاعر: پیرل قنبر ... اداکار: ؟
4
فلم ... آنکھ مچولی ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: غلام نبی ، عبداللطیف ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: ؟

مسعودرانا اور غلام نبی ، عبداللطیف کے 2 اردو گیت

1اے وطن ، ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں ، زندگی ہوش میں ہے، جوش ہے ایمانوں میں ... (فلم ... آگ کا دریا ... 1966)
2ویران دل ہے میرا ، اے روشنی کہاں ہے ... (فلم ... آنکھ مچولی ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور غلام نبی ، عبداللطیف کے 0 پنجابی گیت


مسعودرانا اور غلام نبی ، عبداللطیف کے 4سولو گیت

1اے وطن ، ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں ، زندگی ہوش میں ہے، جوش ہے ایمانوں میں ... (فلم ... آگ کا دریا ... 1966)
2صورت سب سلطان اعلیٰ پٹ دسان ... (فلم ... سورٹھ ... 1973)
3واہ واہ سوہنی صورت ، سبحان اللہ ... (فلم ... سورٹھ ... 1973)
4ویران دل ہے میرا ، اے روشنی کہاں ہے ... (فلم ... آنکھ مچولی ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور غلام نبی ، عبداللطیف کے 0دو گانے


مسعودرانا اور غلام نبی ، عبداللطیف کے 1کورس گیت

1اے وطن ، ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں ، زندگی ہوش میں ہے، جوش ہے ایمانوں میں ... (فلم ... آگ کا دریا ... 1966)

Masood Rana & Ghulam Nabi, Abdul Latif: Latest Online film

Masood Rana & Ghulam Nabi, Abdul Latif: Film posters
Aag Ka Darya
Masood Rana & Ghulam Nabi, Abdul Latif:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Ghulam Nabi, Abdul Latif:

Total 3 joint films

(2 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1966: Aag Ka Darya
(Urdu)
2.1973: Soorath
(Sindhi)
3.Unreleased: Ankh Macholi
(Urdu)


Masood Rana & Ghulam Nabi, Abdul Latif: 4 songs in 3 films

(2 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Aag Ka Darya
from Monday, 24 January 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: Ghulam Nabi, Abdul Latif, Poet: , Actor(s): (Playback)
2.
Sindhi film
Soorath
from Friday, 8 June 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Ghulam Nabi, Abdul Latif, Poet: , Actor(s): ?
3.
Sindhi film
Soorath
from Friday, 8 June 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Ghulam Nabi, Abdul Latif, Poet: , Actor(s): ?
4.
Urdu film
Ankh Macholi
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Music: Ghulam Nabi, Abdul Latif, Poet: , Actor(s): ?


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔