Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


سلمیٰ ممتاز

سلمیٰ ممتاز
نے پنجابی فلموں میں ایک روایتی ماں
کے کردار خوب نبھائے تھے
سلمیٰ ممتاز
اداکارہ سلمیٰ ممتاز
اداکارہ سلمیٰ ممتاز ، اداکارہ سدھیر کے ساتھ
اداکارہ سلمیٰ ممتاز ، اداکارہ سدھیر کے ساتھ

اداکارہ سلمیٰ ممتاز نے ماضی میں سماجی موضوعات پر بنائی گئی اصلاحی پنجابی فلموں میں ماں کے کردار میں بے پناہ شہرت حاصل کی تھی۔

پنجابی فلموں میں جب ایکشن فلموں کا دور دورہ ہوا تو وہ پس منظر میں چلی گئی تھیں کیونکہ وہ لاؤڈ ڈائیلاگ نہیں بول سکتی تھیں۔

ہیروئن کا رول نہ کرنے کے باوجود پونے دو سو کے قریب فلموں میں کام کرنے والی اس اداکارہ نے بعض فلموں میں بڑے یادگار کردار کیے تھے۔

سلمیٰ ممتاز کا فنی سفر

فلم دربار (1958) سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والی سلمیٰ ممتاز کو فلم موج میلہ (1963) سے بریک تھرو ملا تھا۔ اس فلم میں انھوں نے فلم کے ولن مظہرشاہ کی ماں کا رول کیا تھا جو باقی دنیا کے لیے تو خوف کی علامت ہوتا ہے لیکن اپنی ماں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے۔

اس فلم میں سلمیٰ ممتاز کے پس منظر میں سلیم رضا کا یہ تھیم سانگ بڑا پراثر تھا

  • ربا ، کی سوچ کے بنایا ای دل ماں دا۔۔

فلم ہتھ جوڑی (1964) بھی سلمیٰ ممتاز کی کردار نگاری کی وجہ سے ایک یادگار فلم تھی۔

مسعودرانا کے سلمیٰ ممتاز کے لیے گیت

مسعودرانا کے ساتھ سلمیٰ ممتاز کی پہلی فلم پلپلی صاحب (1965) تھی جس میں ان کے فلمی بیٹے اکمل پر فلمایا ہوا یہ شاہکار گیت ماں کے موضوع پر گائے ہوئے مسعودرانا کے دو درجن کے قریب گیتوں میں سے ایک تھا:

حزیں قادری کے لکھے ہوئے اس گیت کا ایک ایک بول موتیوں میں تولنے کے برابر ہے جس میں ماں جیسے مقدس رشتے کی قدرومنزلت بیان کی گئی ہے۔ ایک فرمانبردار بیٹا یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے لیے دنیا بھر کے آرام اور دولت کو قربان کر سکتا ہے۔

میرے لیے ایسے بامقصد گیتوں کی اہمیت دیگر سبھی اصناف سے زیادہ رہی ہے اور یہی جذبہ اس سلسلے کو جاری رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

موسیقار بابا چشتی نے اس گیت کو فلم کے تھیم سانگ کے طور پر استعمال کیا تھا اور اسی گیت کو فلم کے کلائمکس کے طور پر آئرن پروین اور مسعودرانا سے گوایا تھا جبکہ ایک اور دوگانے "اے محفل دلداراں دی۔۔" میں بھی اس گیت کا حوالہ ملتا ہے جو ایک منفرد سی بات ہے۔ اسی فلم میں مسعودرانا نے پہلی بار سلمیٰ ممتاز کے پس منظر میں ہیر وارث شاہ سٹائل میں یہ بول گائے تھے

  • کھلی اکھ تے لکھ کروڑ سوچاں۔۔

ایک کپتی ساس کا یادگار رول

سلمیٰ ممتاز نے یوں تو بہت سی فلموں میں کام کیا تھا لیکن ہدایتکار ایم جے رانا کی فلم جگ بیتی (1968) میں ان کا کردار بڑا یادگار تھا۔ ہمارے معاشرے میں ہر جگہ ایسی عورتیں ہوتی تھیں جو اس کردار کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ ہر وقت سر باندھے ، مصنوعی بیماری کا رونا روتے اور خاص طور پر اپنی بہو اور اس کے پچھلوں کو کوستے ہوئے "اک نہ روے نی پیکیاں دا۔۔" کا تکیہ کلام رکھتے ہوئے دن گزار دیتی ہیں۔ جب اس کی معصوم پوتی کھیلتے ہوئے نقل اتارتی ہے تھی اس کا غصہ قابل دید ہوتا ہے۔

فلم ہمراہی (1966) ، روٹی اور چن مکھناں (1968) وغیرہ میں ماں کے جذباتی کرداروں میں بڑا گہرا اثر کرتی تھیں۔ سلمیٰ ممتاز نے فلم ہیرسیال (1965) اور فلم ہیررانجھا (1970) میں ہیر کی ماں کے یادگار رول بھی کیے تھے۔

سلمیٰ ممتاز بطور فلمساز

سلمیٰ ممتاز نے بطور فلمساز اور ہدایتکار بھی چند فلمیں بنائی تھیں جن میں پتردا پیار (1972) بڑی یادگار فلم تھی۔ اس فلم میں سدھیر کے ساتھ ان کی کردارنگاری بڑی یادگار تھی۔ مسعودرانا کا گایا ہوا تھیم سانگ:

بڑا سبق آموز تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کو پشتو میں بھی ڈب کر کے پیش کیا گیا تھا اور مسعودرانا کے اس گیت کو اسی دھن میں پشتو میں سننا بڑا زبردست تجربہ تھا۔

ان کی دیگر فلموں میں میری دھرتی میرا پیار (1970) ، بے اولاد (1975) اور ملتان خان (1979) بھی تھیں۔

اے ماں ، پیاری ماں

فلم وریام (1969) میں سلمیٰ ممتاز کو ایک شاہکار گیت کی صورت میں یہ خراج تحسین پیش کیا گیا تھا:

یہ لازوال گیت اسمعٰیل متوالا کا لکھا ہوا تھا جس کی دھن غلام حسین شبیر نے بنائی تھی اور مسعودرانا اور منیر حسین کی دلکش آوازوں میں وقت کے سپرسٹارز سدھیر اور حبیب پر فلمایا گیا تھا۔

مانواں ٹھنڈیاں چھاواں

سلمیٰ ممتاز نے اسی کے عشرہ تک فلموں میں کام کیا تھا۔ اس دوران فلم غریب دا بال (1978) میں منورظریف کے چھوٹے بھائی مجید ظریف کو نیلو کے مقابل ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ موسیقار مشتاق علی نے اس فلم میں بھی مسعودرانا سے ماں کے موضوع پر یہ گیت گوایا تھا "ماواں ٹھنڈیاں چھاواں۔۔" جو سلمیٰ ممتاز کے لیے گایا گیا تھا۔

سلمیٰ ممتاز کی چھوٹی بہن اداکارہ شمی ، اداکار سدھیر کی بیوی تھی جبکہ ٹی وی اداکارہ نداممتاز ان کی بیٹی تھی۔ سلمیٰ ممتاز کا انتقال 2012ء میں ہوا تھا۔

اداکارہ سلمیٰ ممتاز ، سدھیر ، بابا چشتی ، اعجاز میر ، حیدرچوہدری اور دیگر احباب کے ساتھ
اداکارہ سلمیٰ ممتاز ، سدھیر ، بابا چشتی ، اعجاز میر ، حیدرچوہدری اور دیگر احباب کے ساتھ

مسعودرانا اور سلمیٰ ممتاز کے 3 فلمی گیت

(0 اردو گیت ... 2 پنجابی گیت )
1

کھلی اکھ تے لکھ کروڑ سوچاں..

فلم ... پلپلی صاحب ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ، سلمیٰ ممتاز)
2

ہووے جدے پیراں ہیٹھاں جنتاں دی چھاں ، اوس پیارے رشتے نوں سارے کہندے ماں..

فلم ... پتر دا پیار ... پنجابی ... (1972) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: (پس پردہ، سلمیٰ ممتاز)
3

سورے دا جنت دا پاکپولا دے خور..

فلم ... پتر دا پیار ... پشتو ... (1972) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ؟ ... اداکار: (پس پردہ، سلمیٰ ممتاز)

مسعودرانا اور سلمیٰ ممتاز کے 0 اردو گیت


مسعودرانا اور سلمیٰ ممتاز کے 2 پنجابی گیت

1

کھلی اکھ تے لکھ کروڑ سوچاں ...

(فلم ... پلپلی صاحب ... 1965)
2

ہووے جدے پیراں ہیٹھاں جنتاں دی چھاں ، اوس پیارے رشتے نوں سارے کہندے ماں ...

(فلم ... پتر دا پیار ... 1972)

مسعودرانا اور سلمیٰ ممتاز کے 3سولو گیت

1

کھلی اکھ تے لکھ کروڑ سوچاں ...

(فلم ... پلپلی صاحب ... 1965)
2

ہووے جدے پیراں ہیٹھاں جنتاں دی چھاں ، اوس پیارے رشتے نوں سارے کہندے ماں ...

(فلم ... پتر دا پیار ... 1972)
3

سورے دا جنت دا پاکپولا دے خور ...

(فلم ... پتر دا پیار ... 1972)

مسعودرانا اور سلمیٰ ممتاز کے 0دوگانے


مسعودرانا اور سلمیٰ ممتاز کے 0کورس گیت



Masood Rana & Salma Mumtaz: Latest Online film

Chacha Ji

(Punjabi - Black & White - Friday, 10 March 1967)


Masood Rana & Salma Mumtaz: Film posters
ShikwaDachiHeer SyalPilpli SahibAag Ka DaryaTasvirMoajzaWatan Ka SipahiHamrahiZamindarBharia MelaProhnaKhedan day Din 4Abba JiLal BujhakkarChacha JiChann JiRavi ParJani DushmanLahu Pukaray GaRoti2 MutiyaranDil Mera Dharkan TeriEk Hi RastaIk Si MaaNikkay Hundian Da PyarNeyi Laila Neya MajnuVeryamDildarLachhiPak DaamanGentermanTahadi Izzat Da Sawal AMahallaydarSajjan BeliYaar Tay PyarSohna Mukhra Tay Akh MastaniHeer RanjhaRangu JattAtt Khuda Da VairQadraSher PuttarAansooSohna JaniPuttar Da PyarMorchaIshtehari Mulzim2 RangeelayKhoon Da DaryaKhoon Bolda ANagri Daata DiMain Bani DulhanBol BachanBanday Da PuttarHashu KhanMaa SadqayRotiPaisa Naach NachawaySajra Pyar
Masood Rana & Salma Mumtaz:

15 joint Online films

(2 Urdu and 13 Punjabi films)

1.1965: Pilpli Sahib
(Punjabi)
2.1966: Bharia Mela
(Punjabi)
3.1967: Chacha Ji
(Punjabi)
4.1968: Dil Mera Dharkan Teri
(Urdu)
5.1969: Nikkay Hundian Da Pyar
(Punjabi)
6.1969: Veryam
(Punjabi)
7.1969: Genterman
(Punjabi)
8.1970: Heer Ranjha
(Punjabi)
9.1972: Meri Ghairat Teri Izzat
(Punjabi)
10.1974: Nagri Daata Di
(Punjabi)
11.1974: Main Bani Dulhan
(Urdu)
12.1976: Maa Sadqay
(Punjabi)
13.1983: Wadda Khan
(Punjabi)
14.1990: Hifazat
(Punjabi)
15.1990: Paisa Naach Nachaway
(Punjabi)
Masood Rana & Salma Mumtaz:

Total 72 joint films

(15 Urdu and 56 Punjabi films)

1.1963: Shikwa
(Urdu)
2.1964: Dachi
(Punjabi)
3.1965: Yeh Jahan Walay
(Urdu)
4.1965: Heer Syal
(Punjabi)
5.1965: Pilpli Sahib
(Punjabi)
6.1966: Aag Ka Darya
(Urdu)
7.1966: Tasvir
(Urdu)
8.1966: Moajza
(Urdu)
9.1966: Watan Ka Sipahi
(Urdu)
10.1966: Ruswai
(Urdu)
11.1966: Hamrahi
(Urdu)
12.1966: Zamindar
(Punjabi)
13.1966: Bharia Mela
(Punjabi)
14.1966: Prohna
(Punjabi)
15.1966: Khedan day Din 4
(Punjabi)
16.1966: Abba Ji
(Punjabi)
17.1967: Lal Bujhakkar
(Punjabi)
18.1967: Chacha Ji
(Punjabi)
19.1967: Chann Ji
(Punjabi)
20.1967: Ravi Par
(Punjabi)
21.1967: Jani Dushman
(Punjabi)
22.1967: Lahu Pukaray Ga
(Urdu)
23.1968: Roti
(Punjabi)
24.1968: 2 Mutiyaran
(Punjabi)
25.1968: Jagg Beeti
(Punjabi)
26.1968: Dil Mera Dharkan Teri
(Urdu)
27.1968: Ek Hi Rasta
(Urdu)
28.1968: Ik Si Maa
(Punjabi)
29.1968: Hameeda
(Punjabi)
30.1969: Nikkay Hundian Da Pyar
(Punjabi)
31.1969: Neyi Laila Neya Majnu
(Urdu)
32.1969: Veryam
(Punjabi)
33.1969: Dildar
(Punjabi)
34.1969: Lachhi
(Punjabi)
35.1969: Pak Daaman
(Urdu)
36.1969: Dhee Rani
(Punjabi)
37.1969: Genterman
(Punjabi)
38.1969: Tahadi Izzat Da Sawal A
(Punjabi)
39.1970: Mahallaydar
(Punjabi)
40.1970: Sajjan Beli
(Punjabi)
41.1970: Yaar Tay Pyar
(Punjabi)
42.1970: Sohna Mukhra Tay Akh Mastani
(Punjabi)
43.1970: Heer Ranjha
(Punjabi)
44.1970: Rangu Jatt
(Punjabi)
45.1970: Att Khuda Da Vair
(Punjabi)
46.1970: Qadra
(Punjabi)
47.1970: Tikka Mathay Da
(Punjabi)
48.1971: Sher Puttar
(Punjabi)
49.1971: Aansoo
(Urdu)
50.1972: Meri Ghairat Teri Izzat
(Punjabi)
51.1972: Sohna Jani
(Punjabi)
52.1972: Puttar Da Pyar
(Punjabi/Pashto double version)
53.1972: Yaar Nibhanday Yaarian
(Punjabi)
54.1972: Morcha
(Punjabi)
55.1972: Ishtehari Mulzim
(Punjabi)
56.1972: 2 Rangeelay
(Punjabi)
57.1973: Khoon Da Darya
(Punjabi)
58.1973: Khoon Bolda A
(Punjabi)
59.1974: Nagri Daata Di
(Punjabi)
60.1974: Main Bani Dulhan
(Urdu)
61.1974: Bol Bachan
(Punjabi)
62.1974: Banday Da Puttar
(Punjabi)
63.1974: Hashu Khan
(Punjabi)
64.1976: Maa Sadqay
(Punjabi)
65.1977: Puttar Tay Qanoon
(Punjabi)
66.1978: Gharib Da Baal
(Punjabi)
67.1983: Wadda Khan
(Punjabi)
68.1988: Roti
(Punjabi)
69.1990: Hifazat
(Punjabi)
70.1990: Paisa Naach Nachaway
(Punjabi)
71.2016: Sajra Pyar
(Punjabi)
72.Unreleased: Duhai Rabb Di
(Punjabi)


Masood Rana & Salma Mumtaz: 3 songs

(0 Urdu and 2 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Pilpli Sahib
from Friday, 29 October 1965
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): (Playback - Salma Mumtaz)
2.
Punjabi film
Puttar Da Pyar
from Friday, 30 June 1972
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): (Playback, Salma Mumtaz)
3.
Pashto film
Puttar Da Pyar
from Friday, 30 June 1972
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: ?, Actor(s): (Playback, Salma Mumtaz)


12 Bajay
12 Bajay
(1961)
Aasra
Aasra
(1969)
Aabroo
Aabroo
(1974)

Director
Director
(1947)
Pagli
Pagli
(1943)
Chaudhry
Chaudhry
(1941)
Elan
Elan
(1947)

Ek Roz
Ek Roz
(1947)
Sanyasi
Sanyasi
(1945)



پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔


237 فنکاروں پر معلوماتی مضامین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.