PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Sunday, 21 July 2024, Day: 203, Week: 29

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

جمعتہ المبارک 15 اگست 1947

ریڈیو پاکستان

ریڈیو پاکستان
پاکستان میں پہلا ریڈیو سٹیشن
1928ء میں لاہور میں قائم ہوا تھا

ریڈیو پاکستان کا آغاز 15 اگست 1947ء کو ہوا۔۔!

قیامِ پاکستان کے وقت آل انڈیا ریڈیو کے تین سٹیشنز ، پاکستان کے حصہ میں آئے جن میں لاہور (1928) ، پشاور (1936) اور ڈھاکہ (1939) شامل تھے۔

انھی تینوں ریڈیو سٹیشنوں پر14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیان شب ، بارہ بجے ، قیامِ پاکستان کے اعلانات ہوئے تھے۔ ان ریڈیو سٹیشنوں کو "پاکستان براڈکاسٹنگ سروس" کا نام دیا گیا جو بعد میں "ریڈیو پاکستان" کہلایا۔

ریڈیو کی تاریخ

ایک صدی کے مختلف تجربات کے بعد ریڈیو کا پہلا تجربہ اٹلی کے ایک سائنسدان مارکونی سے منسوب ہے جو 13 مئی 1897ء کو کیا گیا۔ پہلی عوامی نشریات 24 دسمبر 1906ء کو ہوئیں لیکن ریڈیو کی پہلی باقاعدہ کمرشل نشریات کا آغاز امریکہ میں 2 نومبر 1920ء کو ہوا تھا۔

ریڈیو

پاکستان میں سب سے پہلے لاہور میں 1928ء میں نجی شعبہ میں ایک چھوٹے ٹرانسمیٹر سے ریڈیو نشریات کا آغاز ہوا۔ دو سال قبل ، انڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ، ایک نجی کمپنی کی شکل میں قائم ہوئی تھی جس نے 23 جولائی 1927ء کو بمبئی میں پہلا ریڈیو سٹیشن قائم کیا تھا۔ اپریل 1930ء میں ریڈیو سروس کو حکومت ہند نے براہِ راست سرکاری کنٹرول میں لے کر "انڈین سٹیٹ براڈکاسٹنگ سروس" کا نام دیا جو 8 جون 1936ء کو بدل کر "آل انڈیا ریڈیو" رکھ دیا گیا تھا۔

ریڈیو پاکستان لاہور

14 اگست 1947ء کو رات گیارہ بجے ریڈیو لاہور سے آل انڈیا ریڈیو کا آخری علامیہ نشر ہوا۔ رات بارہ بجنے سے کچھ دیر پہلے ریڈیو پاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اور پھر انگریزی میں ظہور آذر کا یہ اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خودمختار ریاست وجود میں آجائے گی۔ پورے بارہ بجے یعنی 15 اگست 1947ء کو ریڈیو لاہور سے پہلے انگریزی میں ظہورآزر اور پھر اردو میں مصطفیٰ علی ہمدانی کے یہ الفاظ گونجے: "یہ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس ہے۔" اس طرح سے ریڈیو لاہور ، ریڈیو پاکستان لاہور بنا۔

ریڈیو پاکستان پشاور

ریڈیو پاکستان پشاور کو نذر آتش کر دیا گیا
ریڈیو پاکستان پشاور
ریڈیو کے موجد مارکونی کا عطیہ تھا!

روایت ہے کہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے ایک سیاستدان ، خان عبدالقیوم خان ، 1931ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے لندن گئے جہاں ان کی ملاقات ریڈیو کے موجد ، اٹلی نژاد مارکونی سے ہوئی۔ خان صاحب کی خواہش پر مارکونی نے ایک ٹرانسمیٹر اور تیس ریڈیو سیٹ "عطیہ" کیے اور اس کی کمپنی کے اہلکاروں نے انھیں پشاور سیکرٹریٹ کی عمارت میں نصب کیا تھا۔

یکم جنوری 1935ء میں اس ریڈیو ٹرانسمیٹر کا سنگ بنیاد اس وقت کے انگریز گورنر سرحد نے رکھا۔ 16 جولائی 1936ء کو تجرباتی بنیادوں پر نشریات کا آغاز ہوا لیکن باضابطہ افتتاح 16 جولائی 1942ء کو ہوا تھا۔ ابتداء میں لوگ ریڈیو کو "شیطانی آواز" کہتے تھے۔

پشاور کا یہی ریڈیو سٹیشن 9 مئی 2023ء کو عمران خان کے غنڈوں نے تباہ و برباد کیا اور اس میں بہت سا قیمتی اور تاریخی مواد ضائع ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ 2014ء میں انھی گمراہ عناصر نے پی ٹی کی عمارت پر یلغار بھی کی تھی۔

ریڈیو پاکستان کراچی

ریڈیو پاکستان کراچی
ریڈیو پاکستان کراچی

تقسیم ہند کے بعد کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت منتخب کیا گیا لیکن اس وقت تک وہاں کوئی ریڈیو سٹیشن نہیں تھا۔

حکومتِ پاکستان نے پہلی ترجیح کے طور پر امریکہ سے دس کلوواٹ کے دو اور ساڑھے سات کلوواٹ کا ایک ٹرانسمیٹر خریدے جو کوئنز روڈ (مولوی تمیزالدین روڈ) لانڈھی کے علاقہ میں نصب کیے گئے جہاں وزیرِاطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین نے پاکستان کی پہلی سالگرہ پر 14 اگست 1948ء کو "ریڈیو پاکستان کراچی" کا افتتاح کیا۔ یکم نومبر 1948ء کو خواجہ صاحب ہی نے کراچی کے میڈم ویو ٹرانسمیٹر کا افتتاح بھی کیا تھا۔

16 جولائی 1951ء کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے ایم اے جناح روڈ (بندرروڈ) پر ریڈیو پاکستان کراچی کے نئے براڈکاسٹنگ ہاؤس کا افتتاح کیا جس کا ذکر احمدرشدی کے پہلے مقبول ترین ریڈیو گیت "بندر روڈ سے کیماڑی ، میری چلی ری گھوڑا گاڑی ، بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر۔۔" میں ملتا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی نشریات

ریڈیو پاکستان کی نشریات تیس مختلف زبانوں اور بولیوں میں ہوتی ہیں جن میں پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں/بولیوں ، اردو ، پنجابی ، سندھی ، پشتو ، بلوچی ، سرائیکی ، پوٹھواری ، ہندکو ، کوہستانی ، کھوار ، کشمیری ، گوجری ، بروشاسکی ، بلتی ، شینا ، واخی ، ہزارگی ، براہوی ، گجراتی اور بنگالی کے علاوہ انگریزی ، فارسی ، عربی ، ہندی ، تامل ، سنہالی ، نیپالی ، ترکی ، چینی اور روسی زبانیں شامل ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے سٹیشنز

  • 1930 کی دھائی میں قیامِ پاکستان کے قبل لاہور (1928) ، پشاور (1935) ، ڈھاکہ (1939)
  • 1940 کی دھائی میں کراچی اور راولپنڈی (1948)
  • 1950 کی دھائی میں حیدرآباد (1951) ، کوئٹہ (1956)
  • 1960 کی دھائی میں ملتان (1960)
  • 1970 کی دھائی میں وؤلڈ سروس (1973) ، خیرپور (1974) ، بہاولپور (1975) ، اسلام آباد ، گلگت اور سکردو (1977)
  • 1980 کی دھائی میں تربت ، ڈیرہ اسماعیل خان ، خضدار (1981) ، فیصل آباد (1982) ، سبی ، ایبٹ آباد (1989)
  • 1990 کی دھائی میں چترال (1993) ، لورالائی ، ژوب (1996)
  • 2000 کی دھائی میں گوادر ، میانوالی ، سرگودھا ، کوہاٹ ، بنوں اور مٹھی (2005) میں ایف ایم اسٹیشن قائم ہوئے۔

ریڈیو پاکستان کے اہم سنگِ میل

  • مارچ 1939ء میں دہلی ریڈیو سے مختلف زبانوں میں "خبرناموں" کا آغاز ہوا۔ اسی سال 12 نومبر 1936ء کو عید کے دن بمبئی ریڈیو سے قائدِاعظمؒ کا پہلا پیغام نشر ہوا تھا۔
  • 14 اگست 1948ء کو ریڈیو پاکستان کا رسالہ "ماہنامہ آہنگ" جاری ہوا جس کے پہلے مدیر ممتاز افسانہ نگار غلام عباس تھے۔
  • 29 جون 1952ء کو ڈھاکہ میں براڈکاسٹنگ ہاؤس کی نئی عمارت کا سنگِ بنیاد وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے رکھا۔
  • 15 نومبر 1961ء کو وزیر قومی تعمیرِ نو اور اطلاعات مسٹربھٹو کی تجویز پر ریڈیو پاکستان کی کمرشل سروس کا آغاز ہوا۔
  • 9 اگست 1965ء کو صدر ایوب خان نے ریڈیو پاکستان لاہور کے ایمپرس روڈ پر نئے براڈکاسٹنگ ہاؤس کا افتتاح کیا۔
  • 27 اپریل 1972ء کو صدر ذوالفقارعلی بھٹوؒ نے PBC کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔
  • 20 دسمبر 1972ء کو ریڈیو پاکستان کو "پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن" کو ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت ایک خودمختار کارپوریشن بنا دیا گیا جس میں ٹیلی ویژن نیٹ ورک بھی آتا ہے۔
  • 21 اپریل 1973ء کو آئینِ پاکستان میں PBC ایکٹ 1973ء کی منظوری دی گئی۔ اسی دن سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس کا آغاز بھی ہوا۔
  • 1996ء میں خبروں کی کمپیوٹرائزیشن اور بلیٹنز کے متن اور آواز کے ساتھ انٹرنیٹ پر دستیابی کا افتتاح ہوا۔
  • یکم نومبر 1998ء کو ریڈیو پاکستان نے FM چینلز بھی کھولے جن کا آغاز اسلام آباد ، کراچی اور لاہور سے ہوا۔ یہ نیٹ ورک اب پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔
  • 23 جون 2023ء کو راولپنڈی کے نواحی علاقے روات میں ریڈیو پاکستان کے 1000 کلو واٹ ڈیجیٹل ڈی آر ایم میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔
ریڈیو پاکستان کا مرکزی دفتر


Radio Pakistan

Friday, 15 August 1947

Radio Pakistan was established as "Pakistan Broadcasting Service" on August 15, 1947..




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.