PAK Magazine
Wednesday, 27 October 2021, Week: 43

Pakistan History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan History

2021

ڈاکٹرعبدالقدیرخان انتقال کرگئے

اتوار 10 اکتوبر 2021
Dr. Abdul Qadeer Khan

پاکستان کے عظیم محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، 10 اکتوبر 2021ء کو انتقال کرگئے ۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون)

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق جناب ذوالفقارعلی بھٹوؒ کا دیرینہ خواب شاید کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا اگر انھیں ڈاکٹر قدیرجیسا گوہرنایاب نہ ملتا۔۔!

حکومت میں آتے ہی بھٹو صاحب نے جنوری 1972ء میں سائنسدانوں کی ایک کانفرنس منعقد کی تھی اور انھیں یہ ٹاسک دیا تھا کہ جلد از جلد پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا جائے۔ 20 نومبر 1965ء کو بطور وزیرخارجہ یہ تاریخی بیان دے چکے تھے کہ "اگر بھارت نے ایٹم بم بنایا تو ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔۔!" اس دوران 18 مئی 1974ء کو بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کردیا تھا۔ اس کے جواب میں پاکستان کی ایٹمی قوت بننے کے لیے تیز سرگرمیاں پوری دنیا میں محسوس کی جارہی تھیں اور اس مجوزہ بم کو "اسلامی بم" کا نام دیا گیا تھا۔

ڈاکٹرعبدالقدیر نے بھی اس موقع پر اپنا قومی فرض محسوس کیا اور 17 ستمبر 1974ء کو وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کو ایک خط میں اپنی خدمات پیش کیں۔ اس خط میں ان کی رائے تھی کہ سینٹری فیوجز کو استعمال کر کے جوہری بم بنانے کا راستہ پلوٹونیم سے بہتر ہے کیونکہ اس میں جوہری ری ایکٹرز اور ری پراسیسنگ ہوتی ہے۔ بھٹو صاحب نے محسوس کرلیا تھا کہ ان کے اس عظیم منصوبے کی تکمیل کے لیے ڈاکٹر قدیر سے بہتر کوئی اورنہیں ہوسکتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو پاکستان میں بڑی مشکلات کا سامنا ہوا۔ ٹانگیں کھینچنے اور روڑے اٹکانے والے کم نہیں تھے۔ وہ دل برداشتہ ہوکر واپس ہالینڈ جانے کے لیے پر تولنے لگے لیکن بھٹو صاحب کےخلوص اور اصرار پر اپنا کام جاری رکھنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ منیراحمدمنیر سے بھی ان کے اختلافات سامنے آئے۔ اس ادارے کے ذمہ ایٹمی توانائی یا ایٹمی بجلی گھروں کے قیام کا کام تھا جو پچاس کے عشرہ سے ہورہا تھا اور جسے بین الاقوامی اجازت بھی حاصل تھی لیکن ایٹم بم بنانے کی تیکنیک نہیں تھی اور نہ ہی اس کی اجازت تھی۔

ذوالفقارعلی بھٹوؒ نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے کام اور جذبے کو دیکھتے ہوئے کمال دانشمندی کامظاہرہ کرتے ہوئے 31 جولائی 1976ء کو راولپنڈی میں "ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹری" قائم کی اور ڈاکٹر صاحب کو اس کا انچارج بنا کر فری ہینڈ دے دیا تھا۔ صرف دو سال کے عرصہ میں ڈاکٹرصاحب نے یورینیم کو افزودہ کرنے کا کامیاب تجربہ کرلیا تھا اور اسی دور میں کہوٹہ میں ایٹمی پلانٹ نصب کرنے میں کامیابی بھی ہوئی تھی۔ 1984ء تک پاکستان کا ایٹم بم تیار ہوچکا تھا لیکن اگراس وقت دھماکہ کیا جاتا تو ڈالروں کی ریل پیل ختم ہوجاتی۔ نوے کی دھائی میں پاکستان نے تمام تر کولڈٹیسٹ مکمل کرلیے تھے۔ مئی 1998ء میں جب بھارت نے ایک بار پھر بدمعاشی کی تو پاکستان کے وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔ امریکہ ، روس ، برطانیہ ، فرانس ، چین اور بھارت کے بعد پاکستان ، ساتویں ایٹمی قوت کے طور پر سامنے آیا تھا۔

جنرل مشرف جیسے ذلیل ترین حکمران کے دور میں اس عظیم قومی ہیرو کی بے حد تذلیل کی گئی جب انھیں قربانی کا بکرا بنا کر 4 فروری 2004ء کو ٹی وی پر یہ اعتراف کروایا گیا تھا کہ لیبیا ، ایران اور شمالی کوریا کو ایٹمی رازوں کی سمگلنگ میں وہ تن تنہا ملوث تھے۔ تب سے وہ گھر میں نظربند تھے اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں بھی ان کی شنوائی نہیں ہورہی تھی۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق کو پھانسی دی گئی اور اس عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے کو برسوں ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ، مرحوم کی مغفرت کرے اور پاکستانی قوم کو اس محسن کشی پر معاف کرے (آمین)۔

‏ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، پٹھان قبیلے یوسف زئی سے تعلق رکھتے تھے جو تین سو سال قبل بھارتی شہر بھوپال میں جاکر آباد ہوگیا تھا۔ یکم اپریل 1936ء کو پیدا ہوئے تھے۔ 1952ء میں واپس پاکستان آئے جہاں کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے۔ مزید تعلیم کے لیے جرمنی ، ہالینڈ اور بلجئیم گئے جہاں سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ 1972ء میں 'فزیکل ڈائینامکس ریسرچ لیبارٹری' میں یورینکو (URENCO) کی ڈچ کمپنی میں ملازمت اختیار کی جس میں 'سینٹری فیوجز' کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی تیاری اور تحقیق پر کام ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو نچلی سطح کی سکیورٹی کلیئرنس دی گئی تھی لیکن نگرانی کے کمزور عمل کی وجہ سے انھیں 'سینٹری فیوج ٹیکنالوجی' کی مکمل معلومات تک رسائی حاصل ہو گئی۔ ان کی ایک ذمہ داری جدید ترین سینٹری فیوجز سے متعلق جرمن دستاویزات کا ڈچ زبان میں ترجمہ کرنا بھی شامل تھا۔ ان تمام معلومات کے بلو پرنٹس انھوں نے پاکستان منتقل کیے تھے جس پر ان پر ہالینڈ میں ایٹمی رازوں کی چوری کا مقدمہ بھی بنایا گیا تھا جو بے بنیاد ثابت ہوا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے 1964ء میں ہالینڈ کی ایک خاتون سے شادی کی تھی اور ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ انھیں کرونا کا مرض لاحق ہوا تھا اور 10 اکتوبر 2021ء کو 85 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انھیں اسلام آباد میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ اس سے قبل ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی لیکن اس میں پاکستان کے وزیراعظم ، آرمی چیف یا چیف جسٹس کو شرکت کی زحمت گوارا نہ تھی۔ مقتدرحلقوں میں سے صرف سندھ کے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے شرکت کی تھی جنھیں ایک ہفتہ قبل ڈاکٹرقدیر نے اپنا آخری خط لکھا تھا اور جس میں شکوہ کیا تھا کہ لوگ ان کی موت کا انتظار کررہے ہیں اور کوئی تیمارداری کو نہیں آتا۔۔ ایک قومی ہیرو کے ساتھ ایسا سلوک پاکستان جیسے ملک ہی میں ہوسکتا ہے۔۔!!!




Dr. Qadeer letter to Murad Ali Shah
(The last handwritten letter by Dr. Abdul Qadeer Khan to the Sindh Chief Minister Murad Ali Shah on October 4, 2021..)

Dr. Abdul Qadeer Khan passed away

Sunday, 10 October 2021

The developer of Pakistan's atomic bomb, nuclear scientist Dr. Abdul Qadeer Khan passed away in Islamabad on Sunday morning at the age of 85.



Dunya News



World history
Pakistan Media

Pakistan History

تاریخ پاکستان
پی آئی اے پر پابندی
پی آئی اے پر پابندی
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ
چندریگر ، وزیر اعظم بنے
چندریگر ، وزیر اعظم بنے
پہلے عام انتخابات 1970
پہلے عام انتخابات 1970
تیل کی عالمی قیمتیں
تیل کی عالمی قیمتیں

Other segments on PAK Magazine

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین

Some useful external links


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


Pakistan World Rankings

پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate