PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Thursday, 13 June 2024, Day: 165, Week: 24

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

جمعرات 20 جنوری 1972ء

وزارتِ سائنسی امور کا قیام

ڈاکٹر منیر احمد خان
ڈاکٹر منیر احمد خان

پاکستان کے عظیم محسن، جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ نے 20 دسمبر 1971ء کو عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی اوپر تلے کئی انقلابی اقدامات کیے جو تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔

ان میں سے پہلی بار "وزارتِ سائنسی امور" کا قیام بھی تھا جس کا اعلان، 20 جنوری 1972ء کو ملتان میں منعقدہ سائنسدانوں کی ایک کانفرنس میں ہوا۔ اسی کانفرنس میں سائنسدانوں کو یہ ٹاسک سونپا گیا کہ پاکستان کو جلد از جلد ایک ایٹمی قوت بنایا جائے۔

یاد رہے کہ 20 نومبر 1965ء کو بھٹو نے بطورِ وزیرخارجہ، قومی اسمبلی میں اپنے تاریخی خطاب میں یہ واشگاف اعلان کیا تھا کہ اگر بھارت نے ایٹم بم بنایا تو پاکستان بھی بنائے گا، چاہے اس کے لیے ہمیں گھاس ہی کیوں نہ کھانا پڑے۔ ان کا یہی بیان شاید امریکہ کی کٹھ پتلی ایوب حکومت سے علیحدگی کا باعث بنا تھا؟

"وزارتِ سائنسی امور" کا براہِ راست کنٹرول صدر بھٹو کے پاس تھا جبکہ ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کو سیکرٹری بنایا گیا۔ ڈاکٹر منیراحمدخان کو ایٹمی توانائی کمیشن کا چیئرمین بنایا گیا۔ اس کے علاوہ نئی سائنسی ایجادات پر سائنسدانوں کو صدارتی انعامات دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

ڈاکٹر منیر احمد خان

ڈاکٹر منیراحمدخان، 1972ء سے 1991ء تک، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے چیئرمین رہے۔ وہ ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے حامی تھے لیکن جوہری پھیلاؤ کے خلاف تھے۔ بھٹو دورِ حکومت میں پن بجلی کی بجائے جوہری توانائی کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

ایٹمی توانائی پر صدر ایوب کے تحفظات

روایت ہے کہ 11 دسمبر 1965ء کو لندن کے ڈورچیسٹر ہوٹل میں ایک ملاقات میں ڈاکٹر منیراحمدخان نے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹوؒ کے ساتھ مل کر صدر ایوب خان کو ایٹمی توانائی سے سستی بجلی پیدا کرنے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ صدر موصوف، اس کو ایک غریب ملک کے لیے عیاشی سمجھتے تھے اور بوقتِ ضرورت گنجائش کے مطابق ریڈی میڈ پلانٹ خریدنے کو تیار تھے لیکن خود اس پر کوئی کام کرنے کو تیار نہیں تھے۔

صدر ایوب کے برعکس، بھٹو صاحب، نہ صرف ایٹمی توانائی کے حق میں تھے بلکہ ایٹم بم بنانے کا اعلان بھی کر چکے تھے۔ بھٹو نے حکومت میں آتے ہی 1972ء میں ڈاکٹر منیراحمدخان کو پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کا سربراہ بنا دیا۔ مارچ 1972ء میں انھوں نے ایک روڈ میپ دیا جس کے مطابق پن بجلی کی بجائے جوہری توانائی کو عام کرنا تھا۔ فرانس سے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ کی خریداری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

پاکستان کا کولڈ ٹیسٹ

اس دوران پاکستان کے "اسلامک بم" پر کام بڑے زور و شور سے جاری تھا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر منیراحمدخان کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے اختلاف اس بات پر تھا کہ وہ "پلوٹینم بم" کے حامی تھے جبکہ ڈاکٹر قدیر، "یورینیم بم" کی حمایت کرتے تھے۔

1991ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک، ڈاکٹر منیر، پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے منسلک رہے۔ اس دوران 1977ء میں پاکستان کے پہلے ایٹمی دھماکے کے لیے موزوں مقام کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ 11 مارچ 1983ء کو پاکستان نے اپنا پہلا کامیاب کولڈ ٹیسٹ مکمل کر لیا تھا۔ 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کر کے پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا تھا۔

ڈاکٹر منیر احمد خان کون تھے؟

ڈاکٹر منیراحمدخان، 20 مئی 1926ء کو قصور میں پیدا ہوئے جہاں ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ 1951ء میں گریجویشن کے بعد لاہور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) کی انجینئرنگ فیکلٹی، اور امریکہ میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے فلبرائٹ اسکالرشپ حاصل کی۔ امریکہ کی نارتھ کیرولینا اسٹیٹ یونیورسٹی سے 1953 میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹر آف سائنس (MS) کی ڈگری لی۔ 1958 میں آسٹریا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) میں ملازمت قبول کرنے کے بعد امریکہ چھوڑ دیا ۔ ابتدائی دور اٹلی میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی میں گزرا۔

ڈاکٹر منیراحمدخان کا 22 اپریل 1999ء کو 72 سال کی عمر میں ویانا (آسٹریا) میں انتقال ہوا۔ 2012ء میں بعد از مرگ، نشانِ امتیازملا۔






Ministry of Scientific Affairs

Thursday, 20 January 1972

Ministry of Scientific Affairs" was established on January 20, 1972.




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.