PAK Magazine
Saturday, 03 December 2022, Week: 48

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


2022
وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف
2020
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ
2005
ڈکٹیٹروں کے لئے آئینہ
ڈکٹیٹروں کے لئے آئینہ
2021
بلیک میلرز۔۔!!!
بلیک میلرز۔۔!!!
2002
میر ظفراللہ خان  جمالی
میر ظفراللہ خان جمالی


1946

1946 Interim Government of India

Tuesday, 15 October 1946

All India Muslim League joined The Indian National Congress in an interim government of India on October 15, 1946..

مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط حکومت

منگل 15 اکتوبر 1946
مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط حکومت
مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط حکومت

جب مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط عبوری حکومت بنی۔۔!

سیاست میں کوئی نظریہ ، حریف یا حلیف ، حرف آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ دین و ایمان کی جنگ ہوتی ہے۔ ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ بہتری کی توقع رکھتے ہیں اور ان کی ترجمانی سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ معاملات بدلتے رہتے ہیں جو کسی اچھنبے کی بات نہیں ہوتی بلکہ یہ عین سیاست ہوتی ہے۔

ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار کون تھا؟

تقسیم سے قبل بھی یہی صورتحال تھی جب انڈین نیشنل کانگریس ، اکثریتی طبقہ ہندوؤں کے علاوہ سبھی ہندوستانیوں کی ترجمانی کا دعویٰ کرتی تھی تو آل انڈیا مسلم لیگ صرف مسلمانوں کی ترجمان تھی۔ قائداعظمؒ نے ایک ہندو مسلم سفیر کے طور پر طویل عرصہ کانگریس میں گزارا تھا لیکن جب مسلمانوں کے مفاد کی بات ہوئی تو ان کی راہیں الگ ہوگئی تھیں۔ دونوں کا مقصد انگریزوں سے آزادی تھا لیکن کانگریس ، مذہب کے نام پر ہندوستان کی تقسیم کی مخالف تھی جبکہ مسلم لیگ ہندوستان ہی کی آئینی حدود میں مسلمانوں کے لیے مکمل خودمختاری چاہتی تھی جو کانگریس کے خودغرض اور عاقبت نا اندیش لیڈروں کو قبول نہیں تھا۔ کانگریس اگر مسلمانوں کو ان کے سیاسی حقوق دینے پر رضامند ہوجاتی تو ہندوستان کی تقسیم کی نوبت نہ آتی۔

17 مئی 1946ء کے کابینہ مشن پلان کے مطابق ہندوستان کی آزادی کے لیے ایک عبوری حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی جو انتقال اقتدار کے مراحل طے کرنے کے لیے آئین سازی کرتی۔ ابتداء میں آل انڈیا مسلم لیگ نے تو اس تجویز کو فوری طور پر قبول کرلیا تھا لیکن کانگریس نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا۔ 16 اگست 1946ء کو کلکتہ میں ہونے والے خونریز واقعات نے حالات بدل دیے تھے۔

مخلوط حکومت کب تک چلی؟

2 ستمبر 1946ء کو کانگریس نے عبوری حکومت میں شمولیت کا اعلان کردیا لیکن مسلم لیگ نے 15 اکتوبر 1946ء سے پہلے شرکت نہیں کی تھی۔ یہ پہلا اور آخری موقع تھا کہ جب یہ دونوں متحارب سیاسی قوتیں ایک مخلوط عبوری حکومت میں یکجا ہوئی تھیں۔ مقصد ہندوستان کی آزادی کے لیے طریقہ کار وضع کرنا تھا لیکن شدید نظریاتی اختلافات کی وجہ سے 15 اگست 1947ء کو اتحاد کے بجائے علیحدگی پر انجام ہوا تھا۔

مخلوط حکومت میں کون کون تھا؟

متحدہ ہندوستان کی اس آخری دستور ساز اسمبلی کے ممبران ، صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے منتخب کیے تھے۔ وائسرائے ہند لارڈ ویول گورنر جنرل تھے جن کی میعاد ختم ہونے پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس جگہ پر آگئے تھے۔ آرمی چیف کا عہدہ بھی ایک انگریز کے پاس تھا۔ جواہر لال نہرو ، سینئر وزیر یا وزیراعظم تھے جن کی 13 رکنی کابینہ میں کانگریس کو 8 اور مسلم لیگ کو 5 وزارتیں ملی تھیں۔

مسلم لیگ اور کانگریس کی اس مخلوط عبوری حکومت کی کابینہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:

مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط عبوری حکومت 1946ء

نام پارٹی عہدہ
لارڈ وسکاؤنٹ ویول انگریز حکمران وائسرائے ، گورنر جنرل اور صدر ایگزیکٹو کونسل
لارڈ ماؤنٹ بیٹن انگریز حکمران -"- (21 فروری 1946ء سے 15 اگست 1947ء تک)
سر کلاؤڈ آؤچن لیک انگریز حکمران کمانڈر انچیف
جواہر لال نہرو کانگریس نائب صدر ، (وزیراعظم) ، خارجہ امور
ولبھ بھائی پٹیل کانگریس وزیر داخلہ اور اطلاعات و نشریات

بلدیو سنگھ

کانگریس وزیر دفاع

نوابزادہ لیاقت علی خان

مسلم لیگ وزیر خزانہ

ابراہیم اسماعیل چندریگر

مسلم لیگ وزیر تجارت

جوہن متھائی

کانگریس وزیر صنعت

جگ جیون رام

کانگریس وزیر محنت

جوگندر ناتھ منڈل

مسلم لیگ وزیر قانون

سردار عبدالرب نشتر

مسلم لیگ وزیر مواصلات

راجہ غضنفر علی خان

مسلم لیگ وزیر صحت

سی راج گوپال اچاریہ

کانگریس وزیر تعلیم

راجندر پرساد

کانگریس وزیر زراعت

سی ایچ بھا بھا

کانگریس وزیر قدرتی وسائل
مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط عبوری حکومت 15 اکتوبر 1946ء سے 15 اگست 1947ء تک رہی تھی۔






1953
قادیانی فسادات 1953ء
قادیانی فسادات 1953ء
2022
جمہوری انڈیکس 2021
جمہوری انڈیکس 2021
1972
شملہ معاہدہ
شملہ معاہدہ
1957
ایک سال میں تین وزرائے اعظم
ایک سال میں تین وزرائے اعظم
1948
قائداعظمؒ کے اثاثے
قائداعظمؒ کے اثاثے

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
کے خورشید
کے خورشید
فیروز نظامی
فیروز نظامی
ناصرہ
ناصرہ
لیلیٰ
لیلیٰ


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.