PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Sunday, 23 June 2024, Day: 175, Week: 25

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

بدھوار 19 مئی 1954

پاکستان کے لیے امریکی امداد

پاکستان کے لئے امریکی امداد

پاکستان کو 1948ء سے 2016ء تک 80 ارب امریکی ڈالروں کے قریب مالی اور فوجی امداد ملی ہے ، گویا ہر سال ایک ارب ڈالر سے زائد کی مدد ملتی رہی ہے۔۔!

1948ء میں پہلی بار پاکستان کو چند لاکھ امریکی ڈالروں کی اقتصادی امداد ملی تھی جو آج تک کسی نہ کسی صورت میں مسلسل ملتی رہی ہے جبکہ امریکی فوجی اور اقتصادی امداد صرف آمرانہ ادوار میں ملی لیکن جمہوری حکومتوں کو فوجی امداد کبھی نہیں ملی اور ان سے امریکہ بہادر کو خدا واسطے کا بیر رہا ہے۔۔!

لیاقت دور حکومت میں امریکی امداد

1950ء میں وزیر اعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے روس کی دعوت مسترد کرتے ہوئے امریکی دورے کی نہ صرف دعوت قبول کی تھی بلکہ امریکی صدر ٹرومین کے ذاتی طیارے میں لے جائے گئے تھے اور خوب آؤ بھگت ہوئی تھی۔ موصوف سوا دو ماہ تک امریکہ اور یورپ کے سرکاری اور نجی دورے پر رہے تھے جو اب تک پاکستان کے کسی بھی حکمران کی سب سے بڑی عیاشی رہی ہے۔

اس دورے میں مبینہ طور پر 6 لاکھ امریکی ڈالروں کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر سرکاری اخبار پاکستان ٹائمز کے کارٹونسٹ نے مندرجہ ذیل کارٹون بنایا تھا کہ پاکستان کو امریکی امداد کی بیساکھیوں کا ایسا عادی بنا دیا جائے کہ پھر وہ کبھی اس محتاجی سے نہ نکل سکے۔ یہ کارٹون ایک پوری تاریخ بیان کررہا ہے۔

پاکستان کے لیے امریکی امداد

سردجنگ میں پاکستان کی شرکت

جنرل ایوب خان نے آرمی چیف کے طور پر ستمبر 1953ء میں امریکہ کا سرکاری دورہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 19 مئی 1954ء کو کراچی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک فوجی معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق پاکستان کو 1955ء سے امریکہ سے بھاری اقتصادی امداد کے علاوہ فوجی امداد بھی ملتی رہی جو 1965ء میں پاک بھارت جنگ کی وجہ سے معطل کردی گئی تھی کیونکہ پاکستان نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ سے ملا ہوا مفت اسلحہ بھارت کے خلاف پھونک دیا تھا جبکہ یہ تمام تر حربی سازوسامان ، روس کے خلاف لڑنے کے لیے دیا گیا تھا۔

ایوبی دور کی ترقی کی حقیقت

جنرل ایوب خان کو 1950 اور 1960 کی دھائیوں میں "سرد جنگ" کے دور میں کمیونسٹ بلاک کے خلاف امریکی مفادات کا تحفظ کرنے ، مختلف دفاعی معاہدوں میں شرکت اور پاکستان کی سرزمین پر روس کے خلاف فوجی اڈے دینے کے عوض بھاری فوجی اور اقتصادی امداد ملی تھی جو ایوبی دور کی تعمیر و ترقی اور بے انتہا کرپشن کی بنیادی وجہ بھی تھی۔

ہیروئن ، کلاشنکوف اور ڈالر

اس کے بعد 1970 کی دھائی میں جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کی حکومت کے خاتمے تک کوئی امریکی فوجی امداد نہیں دی گئی تھی۔ 1980 کے عشرہ میں جنرل ضیاع مردود کے دور میں نام نہاد "افغان جہاد" کے لئے امریکہ نے فوجی و اقتصادی امداد بحال کر دی تھی جسے آمر مردود "مونگ پھلی" کہا کرتا تھا۔ جنرل ضیاع کا دور ہیروئن ، کلاشنکوف اور ڈالروں کی ریل پیل کے علاوہ بدترین کرپشن کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

ناراض ساس

1990 کی دھائی میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کے ادوار میں امریکہ نے پاکستان سے کسی "ناراض ساس" کا سا سلوک کیا تھا اور کسی قسم کی کوئی فوجی مدد نہیں دی تھی جبکہ اقتصادی امداد بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ جنرل مشرف کے دور میں "دہشت گردی کے خلاف جنگ" میں ایک بار پھر ریکارڈ فوجی اور اقتصادی امداد ملی تھی جو نہ صرف امریکہ کی طرف سے تھی بلکہ دیگر یورپی ممالک نے بھی دی تھی اور جس کا کہیں کوئی حساب و کتاب نہیں ملتا ، حتیٰ کہ سابق امریکی صدر بھی حساب مانگتا ہی رہا۔

بدقسمتی سے جنرل ایوب خان نے ہمیں امریکی امداد کا اس قدر عادی بنا دیا تھا کہ ہمارے لیے آج تک اپنے وسائل سے اپنے بے جا اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہورہا ہے جس کی وجہ سے اقتصادی بدحالی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کے لیے امریکی امداد




USA aid to Pakistan
(A graphic by https://www.cgdev.org/page/aid-pakistan-numbers)

Sixty years of US aid to Pakistan
(A graphic by https://www.theguardian.com/global-development/poverty-matters/2011/jul/11/us-aid-to-pakistan?CMP=twt_gu)


USA aid to Pakistan

Wednesday, 19 May 1954

US Aid to Pakistan from 1952-2010..




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.