Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1038 songs in 647 films

مسعودرانا اور منیر حسین

مسعودرانا کے ابتدائی دور میں گلوکار منیرحسین ، سلیم رضا کے بعد دوسرے مقبول ترین گلوکار ہوتے تھے۔ وہ پاکستانی فلموں کے پہلے مکمل آل راؤنڈ گلوکار تھے اور انھیں کلاسیکل موسیقی پر عبور بھی حاصل تھا لیکن فلمی میعار پر پورا اترنے کے لیے ان کی آواز میں انیس بیس کا فرق تھا جس کے باعث انھیں وہ کامیابی نہ مل سکی تھی جس کے وہ حقدار تھے۔ منیر حسین پر ایک تفصیلی مضمون ، پاکستان فلم میگزین کے سابقہ ورژن میں لکھا جا چکا ہے جس میں ان کے گیتوں کی مکمل تعداد کی معلومات درست نہیں تھیں۔ دیگر فنکاروں کی طرح ان کا فلمی ریکارڈ بھی ابھی تک حتمی نہیں ہے۔

منیر حسین
پاکستان کے پہلے آل راؤنڈ گلوکار تھے

پاکستان کے عظیم موسیقار بابا جی اے چشتی نے مسعودرانا کو ان کی دوسری فلم بنجارن (1962) میں سنتے ہی لاہور بھلا بھیجا تھا اور اپنی زیر تکمیل پنجابی فلم رشتہ (1963) میں ایک قوالی گانے کا موقع دیا تھا جس کے بول تھے: " چپ کر دڑ وٹ جا ، نہ عشقے دا کھول خلاصہ۔۔" اپنے پہلے ہی پنجابی گیت میں مسعودرانا کو منیرحسین جیسے اعلیٰ پائے کے گلوکار کا ساتھ ملا تھا۔ اگلے تین عشروں میں ان کا ساتھ ایک درجن سے زائد گیتوں پر محیط تھا جن میں زیادہ تر فلمی قوالیاں تھیں۔

1965ء میں ریلیز ہونے والی سابقہ مشرقی پاکستان کی ایک اردو فلم بہانہ کی آؤٹ ڈور شوٹنگ کراچی میں کی گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی روشنیوں کا شہر اور امیدوں کا مرکز ہوتا تھا جہاں ملک کے دونوں حصوں سے لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں قسمت آزمائی کے لیے جاتے تھے۔ اس فلم میں اسی موضوع پر ایک بڑا دلچسپ کورس گیت گایا گیا تھا جس میں پہلے منیرحسین بتاتے ہیں کہ وہ بنگالی ہیں اور ڈھاکہ سے آئے ہیں۔ پھرمسعودرانا اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ گوجرانوالہ سے آئے ہیں لیکن سب سے دلچسپ تعارف احمد رشدی کراتے ہیں کہ وہ خود نہیں آئے بلکہ لائے گئے ہیں اور ان کے ابا انھیں لائے تھے ، یعنی وہ مقامی تھے۔ ان تینوں کا متفقہ طور پر یہ شکوہ یہ ہوتا ہے:

کئی برسوں کے وقفہ کے بعد 1969ء کی پنجابی فلم وریام میں مسعودرانا اور منیر حسین نے دو دوگانے گائے تھے جن میں سب سے یادگار اور شاہکار گیت ماں کے مقدس رشتہ پر تھا:

یہ ناقابل فراموش اور بامقصد گیت پنجابی فلموں کی روایتی ماں ، سلمیٰ ممتاز کے لیے گایا گیا تھا اور سدھیر اور حبیب جیسے سپر سٹارز پر فلمایا گیا تھا۔ پہلے میں اس گیت میں مسعودرانا کے ساتھ احمد رشدی کو سمجھتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ میرے ذہن میں دو گیت گڈمڈ ہو گئے تھے کیونکہ بالکل ایسا ہی ایک گیت اردو فلم قلی (1968) میں بھی تھا "قدموں میں تیرے جنت میری ، تجھ سا کوئی کہاں ، اے ماں ، پیاری ماں.." اور اس گیت میں مسعودرانا کے ساتھ احمد رشدی تھے۔

فلم وریام اس دور کی بہت بڑی نغماتی فلم تھی جس کی موسیقی کالے خان شبو صاحبان نے دی تھی۔ اس فلم کے سبھی گیت مقبول ہوئے تھے جن میں سے ایک فلم کا ٹائٹل سانگ بھی تھا:

اس مشہور زمانہ دھمال کو مسعودرانا اور منیر حسین نے لفظ بہ لفظ ، ہم آواز ہو کرگایا تھا جو شاید ایک منفرد واقعہ تھا۔ اس گیت کا الاپ سائیں اختر کا تھا اور یہ میڈم نور جہاں کی دھمال کے بعد اپنے وقت کی بڑی مقبول دھمال تھی جسے متعدد فلموں میں استعمال کیا گیا تھا۔

ان دونوں عظیم گلوکاروں کا اگلا ساتھ چار فلمی قوالیوں میں ملتا ہے جن میں ایک بات مشترک تھی کہ ان قوالیوں کا بیشتر حصہ منیرحسین گاتے ہیں اور ان کی آواز ایکسٹرا اداکاروں پر فلمائی جاتی ہے لیکن ہیروز پر مسعودرانا کی آواز فلمائی جاتی ہے۔ ان فلموں میں فلم گیت کہیں سنگیت کہیں میں محمد علی ، فلم لیلیٰ مجنوں (1974) اور انسان اور شیطان (1978) میں وحید مراد اور فلم جیلر تے قیدی (1975) میں سلطان راہی تھے۔ ایسا ہی ایک گیت فلم سوہنی مہینوال (1976) میں دریائے چناب میں تیرتے ہوئے مٹی کے ایک گھڑے کے پس منظر میں گایا گیا تھا جس کے دو انترے مسعودرانا کی آواز میں تھے جبکہ تیسرا اور آخری انترہ منیر حسین نے گایا تھا جو فلم کے ہیرو یوسف خان پر فلمایا گیا تھا۔

1990ء میں ایک فلم انٹرنیشنل گوریلے بنائی گئی تھی جو ایک انتہائی مضحکہ خیز فلم تھی۔ اس فلم کا مرکزی کردار ملعون سلمان رشدی کا تھا جس نے ایک گستاخانہ ناول لکھا تھا۔ اس کا کردار اداکار افضال احمد نے کیا تھا جسے فلم کے آخر میں قدرت کے عذاب کے طور پر آگ میں جلتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جو ایک سفید جھوٹ تھا۔ اس فلم پر خوب جگ ہنسائی ہوئی تھی کیونکہ مسلم ممالک خصوصاَ پاکستان بھر میں پر تشدد ہنگاموں کی وجہ سے مذہبی جذبات بھڑکانے اور اشتعال دلانے والی اس فلم کے فوٹیج دنیا بھر کے میڈیا پر دکھائے گئے تھے۔ مذہبی انتہاپسندوں کے عالمی احتجاج نے اس ملعون کے اس انگلش ناول کو راتوں رات بیسٹ سیلر بنا دیا تھا جبکہ ہمارے حصہ میں جان و مال کا نقصان اور عالمی بدنامی آئی تھی۔ یہ ایک ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلم تھی جس کے ایک کورس گیت "سید المرسلین ، رحمت الالعلمین ﷺ .." میں منیر حسین کی آواز دونوں ورژن کے گیتوں میں تھی اور مسعودرانا کی آواز صرف اردو ورژن میں تھی جبکہ پنجابی ورژن میں ان کی جگہ اخلاق احمد کی آواز استعمال کی گئی تھی۔

منیر حسین اور مسعودرانا کے گائے ہوئے یادگار گیتوں میں سے ایک کورس گیت تھا جس میں رونا لیلیٰ کی آواز بھی تھی:

جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عوامی دور کا یہ ایک انقلابی گیت تھا جس سے میرا ایک بڑا یادگار واقعہ منسلک ہے۔ یہ گیت پنجابی فلم آن کا تھا جو 16 جنوری 1973ء کو عید الاضحیٰ کے مبارک دن ریلیز ہوئی تھی۔ میں اس وقت پانچویں جماعت کا طالب علم تھا اور ایک گھاگھ فلم بین بن چکا تھا۔ تقریباَ ہر ہفتے فلم دیکھنے کے علاوہ چار اخبار اور ایک فلمی رسالہ میرے زیر مطالعہ ہوتاتھا۔ میرے آبائی شہر کھاریاں میں اس وقت تین سینماگھر ہوتے تھے جو سبھی کینٹ کی حدود میں واقع تھے۔ ان میں قیصر سینما شہر کے قریب ترین تھا جو مرکزی سینما بھی تھا اورجس پر زیادہ تر نئی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں۔ میرے بچپن کے پہلے دور کی زیادہ تر فلمیں اور یادیں اسی سینما سے وابستہ ہیں۔ دوسرا گیریژن سینما تھا جو کینٹ کے وسط میں تھا اور عام طور پر فوجی بھائیوں کے لیے مختص ہوتا تھا۔ تیسرا سازین سینما تھا جو صدر کے علاقے میں واقع تھا جہاں عام طور پر ایک ٹکٹ پر دو پرانی فلمیں دکھائی جاتی تھیں جن میں عموماَ پہلاشو اردو اور دوسرا شو پنجابی فلم کا ہوتا تھا۔ مجھے سازین سینما کی گیلری میں بیٹھ کر فلم دیکھنے کی بڑی خواہش ہوتی تھی کیونکہ قیصر سینما اس سے محروم تھا لیکن اس سینما پر فلمیں دیکھنے کا بہت کم موقع ملتا تھا۔ ایک تو میرے گھر سے بہت دور تھا ، دوسرا اس سینما پر صرف رات کو دو شو ہی ہوتے تھے اور رات کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی۔ اس عید پر سازین سینما پر پہلی بار لاہور کے ساتھ ساتھ پنجابی فلم آن دکھائی جارہی تھی جو دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ ان دنوں میرے والد صاحب مرحوم ڈنمارک سے چھٹیوں پر آئے ہوئے تھے اور ہم اپنا نیا مکان بنا رہے تھے جو وہ اپنی واپسی تک مکمل کروانا چاہتے تھے۔ کاریگر لوگوں کے بارے مشہور تھا کہ وہ جس گھر میں گھستے تھے ، وہاں سے اپنے وقت پر ہی نکلتے تھے۔ والد صاحب مرحوم بڑے قابل آدمی تھے ، لوگوں سے کام لینا خوب جانتے تھے۔ انھوں نے مستری مزدوروں سے دن رات کام کروایا اور اس کے عوض انھیں بہتر معاوضے کے علاوہ صبح ، دوپہر اور شام کا پرتکلف کھانا ، دن میں کئی بار چائے کے ادوار اور گپ شپ کے علاوہ اس عید پر بڑے شاہانہ انداز میں فلم بھی دکھائی گئی تھی۔ سالم تانگوں میں سینما پہنچائے گئے ، گیلری میں بیٹھ کر فلم دکھائی گئی ، وقفے کے دوران اشیائے خوردونوش سے تواضع کی گئی اور فلم کے خاتمے پر انھی تانگوں پر سب کو واپس گھروں میں بھی چھوڑا گیا تھا۔ ہمارے محلہ میں اس وقت کا سب سے عالی شان مکان جو یقیناَ کئی ماہ کا پروجیکٹ تھا لیکن والدصاحب مرحوم نے بڑی خوش اسلوبی سے صرف دو تین ہفتوں میں مکمل کروا لیا تھا۔ اس طرح میری دیرینہ خواہش بھی پوری ہو گئی تھی اور میں نے سازین سینما کی گیلری میں بیٹھ کر فلم آن ، بڑی آن بان اور شان کے ساتھ دیکھی تھی۔۔!

Munir Hussain songs
Munir Hussain songs
Munir Hussain songs

مسعودرانا اور منیر حسین کے 15 فلمی گیت

6 اردو گیت ... 9 پنجابی گیت
1
فلم ... رشتہ ... پنجابی ... (1963) ... گلوکار: مسعود رانا ، منیر حسین ، البیلا ،امداد حسین مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟؟
2
فلم ... بہانہ ... اردو ... (1965) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: عطا الرحمان خان ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ؟
3
فلم ... وریام ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: سائیں اختر ، منیر حسین ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: غلام حسین ، شبیر ... شاعر: ؟ ... اداکار: (پس پردہ ، ٹائٹل سانگ )
4
فلم ... وریام ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، منیر حسین ... موسیقی: غلام حسین ، شبیر ... شاعر: اسماعیل متوالا ... اداکار: سدھیر ، حبیب
5
فلم ... گیت کہاں سنگیت کہاں ... اردو ... (1969) ... گلوکار: منیر حسین ، حامد علی بیلا ، پرویز اختر ، سائیں اختر ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: ماسٹر طفیل ... شاعر: ساحل فارانی ... اداکار: ؟ ،؟ ، امداد حسین ، محمد علی مع ساتھی
6
فلم ... مترئی ماں ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: مالا ، منیر حسین ، مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ؟
7
فلم ... آن ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: منیر حسین ، رونا لیلیٰ ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: حبیب ، عالیہ ، اقبال حسن مع ساتھی
8
فلم ... لیلی مجنوں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، اخلاق احمد مع ساتھی ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: امداد حسین ، وحید مراد مع ساتھی
9
فلم ... جیلر تے قیدی ... پنجابی ... (1975) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: نیئر سوچ ... اداکار: ابو شاہ ، جہانگیر مغل ، سلطان راہی مع ساتھی
10
فلم ... سوہنی مہینوال ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ، منیر حسین ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: (پس پردہ ، یوسف خان)
11
فلم ... انسان اور شیطان ... اردو ... (1978) ... گلوکار: مسعود رانا ، منیر حسین مع ساتھی ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: امداد حسین ، وحید مراد مع ساتھی
12
فلم ... ہم سے نہ ٹکرانا ... اردو ... (1987) ... گلوکار: اے نیئر ، منیر حسین ، مسعود رانا ، سائرہ نسیم ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟
13
فلم ... انٹرنیشنل گوریلے ... اردو ... (1990) ... گلوکار: منیر حسین ، رجب علی ، مسعود رانا ، حمیرا چنا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: جاوید شیخ ، غلام محی الدین ، مصطفیٰ قریشی ، نیلی مع ساتھی
14
فلم ... پتن ... پنجابی ... (1992) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، امتیاز حسین ، ریاض علی مع ساتھی ... موسیقی: طافو ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟؟ (سلطان راہی ، منزہ شیخ)
15
فلم ... بارات عاشقاں دی ... پنجابی ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، حسن صادق ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟

مسعودرانا اور منیر حسین کے 6 اردو گیت

1ایسی کراچی سے تو ہم بازآئے ، کام نہ آئے کوئی اپنے پرائے ... (فلم ... بہانہ ... 1965)
2پڑھ لاالہ الا اللہ ، محمد پاک رسول اللہ ﷺ ... (فلم ... گیت کہاں سنگیت کہاں ... 1969)
3تیرے جلوؤں سے آباد ہیں چار سو، ذرے ذرے کے دل میں تیری جستجو ، اللہ ہو، اللہ ہو ... (فلم ... لیلی مجنوں ... 1974)
4گناہگارتیرا کرم چاہتے ہیں ... (فلم ... انسان اور شیطان ... 1978)
5ہذا من فضل ربی ، دولت کہاں سے لبھی ... (فلم ... ہم سے نہ ٹکرانا ... 1987)
6سید المرسلین ، رحمت الالعلمین ﷺ ، یہ فلک ، یہ زمیں ، تیرے دم سے حسیں ... (فلم ... انٹرنیشنل گوریلے ... 1990)

مسعودرانا اور منیر حسین کے 9 پنجابی گیت

1چپ کر دڑ وٹ جا ، نہ عشقے دا کھول خلاصہ ، جے تو بولیا تے چمڑی لتھ جاؤ گی ... (فلم ... رشتہ ... 1963)
2لال میری پت رکھیو بلا جھولے لالن ... (فلم ... وریام ... 1969)
3اے ماں ، اے ماں ، ساڈی بُلیاں چوں پھل کھڑدےنیں ، جدوں لینے آں تیرا ناں ... (فلم ... وریام ... 1969)
4اکھاں اکھاں وچ کرے اشارہ ... (فلم ... مترئی ماں ... 1970)
5سب ٹر گئے خان وڈیرے ، تیرا میرا دور آ گیا ... (فلم ... آن ... 1973)
6اے دنیا جے ، دنیا والو ، ایتھے کرنی بھرنی پیندی اے ... (فلم ... جیلر تے قیدی ... 1975)
7آس سانوں دلدار دی گھڑیا ، اوہ دسدی کلی یار دی گھڑیا ... (فلم ... سوہنی مہینوال ... 1976)
8میرے دکھڑے مکا دے ربا میریا ، جگا دے تقدیراں میریاں ... (فلم ... پتن ... 1992)
9آئی آئی آئی بارات عاشقاں دی ... (فلم ... بارات عاشقاں دی ... غیر ریلیز شدہ)

Masood Rana & Munir Hussain: Latest Online film

Heer Ranjha

(Punjabi - Color - Friday, 19 June 1970)


Masood Rana & Munir Hussain: Film posters
AzadLanda BazarDoliBahanaSoukanMann MoujiMoajzaSharik-e-HayyatBau JiTaj MahalVeryamIshq Na Puchhay ZaatTeray Ishq NachayaGeet Kahin Sangeet KahinHeer RanjhaBaat Pohnchi Teri Jawani TakSayyo Ni Mera MahiRanoLaila MajnuHeera PhummanJailor Tay QaidiSohni MehinwalWardatInsan Aur SheitanMoula BakhshInternational Goreelay
Masood Rana & Munir Hussain:

11 joint Online films

(2 Urdu and 9 Punjabi films)

1.1965: Mann Mouji
(Punjabi)
2.1966: Tabedar
(Punjabi)
3.1969: Veryam
(Punjabi)
4.1969: Ishq Na Puchhay Zaat
(Punjabi)
5.1970: Heer Ranjha
(Punjabi)
6.1971: Pehlwan Jee in London
(Punjabi)
7.1974: Sayyo Ni Mera Mahi
(Punjabi)
8.1974: Laila Majnu
(Urdu)
9.1975: Heera Phumman
(Punjabi)
10.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
11.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
Masood Rana & Munir Hussain:

Total 40 joint films

(12 Urdu, 24 Punjabi, 0 Pashto, 0 Sindhi films)

1.1963: Rishta
(Punjabi)
2.1964: Azad
(Urdu)
3.1964: Landa Bazar
(Urdu)
4.1965: Doli
(Punjabi)
5.1965: Bahana
(Bengali/Urdu double version)
6.1965: Yeh Jahan Walay
(Urdu)
7.1965: Soukan
(Punjabi)
8.1965: Mann Mouji
(Punjabi)
9.1966: Moajza
(Urdu)
10.1966: Tabedar
(Punjabi)
11.1967: Rishta Hay Pyar Ka
(Urdu)
12.1968: Badla
(Punjabi)
13.1968: Sharik-e-Hayyat
(Urdu)
14.1968: Bau Ji
(Punjabi)
15.1968: Taj Mahal
(Urdu)
16.1969: Veryam
(Punjabi)
17.1969: Ishq Na Puchhay Zaat
(Punjabi)
18.1969: Teray Ishq Nachaya
(Punjabi)
19.1969: Geet Kahin Sangeet Kahin
(Urdu/Bengali double version)
20.1970: Heer Ranjha
(Punjabi)
21.1971: Pehlwan Jee in London
(Punjabi)
22.1973: Aan
(Punjabi)
23.1974: Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
(Urdu)
24.1974: Sayyo Ni Mera Mahi
(Punjabi)
25.1974: Rano
(Punjabi)
26.1974: Laila Majnu
(Urdu)
27.1975: Heera Phumman
(Punjabi)
28.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
29.1975: Jailor Tay Qaidi
(Punjabi)
30.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
31.1976: Wardat
(Punjabi)
32.1978: Insan Aur Sheitan
(Urdu)
33.1986: Aakhri Jang
(Punjabi)
34.1987: Ham Say Na Takrana
(Urdu)
35.1988: Moula Bakhsh
(Punjabi)
36.1990: International Goreelay
(Punjabi/Urdu double version)
37.1992: Pattan
(Punjabi)
38.1994: Laat Sahb
(Punjabi/Urdu double version)
39.Unreleased: Ghairtan Da Rakha
(Punjabi)
40.Unreleased: Baarat Ashqan Di
(Punjabi)


Masood Rana & Munir Hussain: 15 songs

(6 Urdu and 9 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Rishta
from Friday, 15 March 1963
Singer(s): Masood Rana, Munir Hussain, Albela, Imdad Hussain & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): ??
2.
Urdu film
Bahana
from Monday, 12 April 1965
Singer(s): Munir Hussain, Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Khan Ataur Rahman, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): ?
3.
Punjabi film
Veryam
from Friday, 16 May 1969
Singer(s): Masood Rana, Munir Hussain, Music: Ghulam Hussain, Shabbir, Poet: Ismael Matwala, Actor(s): Sudhir, Habib
4.
Punjabi film
Veryam
from Friday, 16 May 1969
Singer(s): Sain Akhtar, Munir Hussain, Masood Rana & Co., Music: Ghulam Hussain, Shabbir, Poet: Iftikhar Shahid, Actor(s): (Playback - Title song)
5.
Urdu film
Geet Kahin Sangeet Kahin
from Friday, 26 September 1969
Singer(s): Munir Hussain, Hamid Ali Bela, Parvez Akhtar, Sain Akhtar, Masood Rana & Co., Music: Master Tufail, Poet: Sahil Farani, Actor(s): ?, ?, Imdad Hussain, Mohammad Ali & Co.
6.
Punjabi film
Matrei Maa
from Tuesday, 1 December 1970
Singer(s): Mala, Munir Hussain, Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): ?
7.
Punjabi film
Aan
from Tuesday, 16 January 1973
Singer(s): Munir Hussain, Runa Laila, Masood Rana & Co., Music: A. Hameed, Poet: Saifuddin Saif, Actor(s): Iqbal Hassan, Aliya, Habib & Co.
8.
Urdu film
Laila Majnu
from Friday, 18 October 1974
Singer(s): Munir Hussain, Akhlaq Ahmad, Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: Saifuddin Saif, Actor(s): Imdad Hussain, Waheed Murad & Co.
9.
Punjabi film
Jailor Tay Qaidi
from Friday, 5 December 1975
Singer(s): Munir Hussain, Masood Rana & Co., Music: Wajahat Attray, Poet: Nayyar Soch, Actor(s): Abbu Shah, Jahangir Mughal, Sultan Rahi & Co.
10.
Punjabi film
Sohni Mehinwal
from Friday, 4 June 1976
Singer(s): Masood Rana, Munir Hussain, Music: A. Hameed, Poet: Saifuddin Saif, Actor(s): (Playback), Yousuf Khan
11.
Urdu film
Insan Aur Sheitan
from Friday, 26 May 1978
Singer(s): Masood Rana, Munir Hussain & Co., Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Imdad Hussain, Waheed Murad & Co.
12.
Urdu film
Ham Say Na Takrana
from Friday, 13 February 1987
Singer(s): A. Nayyar, Munir Hussain, Masood Rana, Saira Naseem, Music: M. Ashraf, Poet: ?, Actor(s): ?
13.
Urdu film
International Goreelay
from Friday, 27 April 1990
Singer(s): Munir Hussain, Rajab Ali, Masood Rana, Humaira Channa & Co., Music: M. Ashraf, Poet: ?, Actor(s): Javed Sheikh, Ghulam Mohayuddin, Mustafa Qureshi, Neeli & Co.
14.
Punjabi film
Pattan
from Friday, 31 July 1992
Singer(s): Munir Hussain, Masood Rana, Imtiaz Hussain, Riaz Ali, Music: Tafoo, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): ?
15.
Punjabi film
Baarat Ashqan Di
from Unreleased
Singer(s): Munir Hussain, Masood Rana, Hassan Sadiq, Music: Wajahat Attray, Poet: ?, Actor(s): ?


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Dildar
Dildar
(1969)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..