Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi



Pakistan Film History

Lahore Film History

Pakistan Film Magazine presents detailed Urdu/Punjabi article on Lahore Film History before partition in 1947.


لاہور کی فلمی تاریخ

لاہور کی فلمی تاریخ
قیام پاکستان سے قبل
لاہور میں بننے والی اردو/ہندی فلموں
کی مکمل تاریخ

پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ کو سمجھنے کے لیے لاہور کی قریباً سو سالہ فلمی تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔۔!

لاہور نے جہاں ہندوستانی فلموں کو بڑے بڑے فنکار دیے وہاں متعدد بلاک باسٹر فلموں کے علاوہ فلمی موسیقی میں ایسا انقلاب برپا کیا کہ جس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔۔!

آج کی نشست میں تقسیم سے قبل کی لاہور کی فلمی تاریخ پر بات ہوگی لیکن صرف خاموش اور ہندی/اردو فلموں اور فنکاروں کا ذکر ہوگا۔ پنجابی فلموں کا تذکرہ ایک الگ مضمون میں ہوگا کیونکہ قیام پاکستان سے قبل ، لاہور کے علاوہ بمبئی اور کلکتہ میں بھی پنجابی فلمیں بنائی جاتی تھیں جن کے ذکر کے بغیر پنجابی فلموں کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔

لاہور میں فلمسازی کا آغاز

دنیا کی پہلی فلم 1906ء میں آسٹریلیا میں بنائی گئی۔ برصغیر میں فلمسازی کا آغاز 1913ء میں بمبئی سے ہوا ، 1917ء میں کلکتہ میں بھی فلمیں بننے شروع ہوئیں لیکن لاہور کی باری 1925ء سے پہلے نہ آسکی۔

لاہور میں بنائی گئی پہلی فلم پریم سنیاس (1925) کا ایک منظر
لاہور میں بنائی گئی پہلی فلم پریم سنیاس (1925) کا ایک منظر

لاہور میں فلمسازی کا آغاز جرمنی کے تعاون سے بنائی گئی پہلی خاموش فلم پریم سنیاس (1925) The Light of Asia سے ہوا جو ہندوستان کی کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پہلی مشترکہ فلم تھی۔ مہاتما بدھ کی زندگی پر بنائی گئی اس تاریخی فلم کو عالمی سطح پر ریلیز کیا گیا اور بے حد پسند کی گئی تھی۔

ہندوستان کے مختلف مقامات کے علاوہ لاہور کے گرد و نواح میں فلمائی گئی اس فلم پر سرمایہ کاری ، دہلی کی گریٹ ایسٹرن فلم کمپنی نے کی جس میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک سابق جج جسٹس موتی ساگر ، دہلی کے ایک صنعت کار پریم ساگر کے علاوہ یورپ سے فلمسازی میں تربیت یافتہ بمبئی کے فنکار ہمنسورائے بھی تھے جو اس فلم کے معاون ہدایتکار اور مرکزی کردار بھی تھے۔ سیتا دیوی نامی اینگلو انڈین اداکارہ ہیروئن تھی۔

ہدایتکار فرانز اوسٹن کی اس فلم میں Sir Edwin Arnold کی ایک نظم کو فلمی کہانی کا رنگ نرنجن پال نے دیا تھا۔ مہاراجہ جے پور نے شوٹنگ کے تمام وسائل مہیا کیے جبکہ فلم ٹائٹل کے مطابق یہ فلم قدرتی ماحول میں فلمائی گئی تھی۔ کوئی سیٹ ، لائٹ یا میک اپ نہیں تھا۔ اس فلم میں دہلی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے مناظر بھی فلمائے گئے اور کہانی فلیش بیک میں دکھائی جاتی ہے۔

فلم پریم سنیاس (1925) The Light of Asia کو لاہور کی فلموں میں شمار نہیں کیا جاتا کیونکہ بنانے والے مقامی افراد نہیں تھے۔ یہ فلم دہلی میں بھی بنائی جا سکتی تھی لیکن لاہور کو بمبئی اور کلکتہ کے بعد تیسرا بڑا فلمی سینٹر ہونے کا اعزاز جو حاصل ہونا تھا ، اس لیے اس فلم نے لاہور میں فلمسازی کے دروازے کھول دیے تھے۔

یہ خاموش فلم انگلش اور جرمن ٹائٹلز کے ساتھ آن لائن موجود ہے اور آواز کے بغیر ڈیڑھ گھنٹہ کی گونگی فلم دیکھنا ایک صبر آزما مرحلہ ہے۔

لاہور کی پہلی فلم

لاہور کی پہلی فیچر فلم ڈاٹرز آف ٹو ڈے (1927)
لاہور کی پہلی فیچر فلم ڈاٹرز آف ٹوڈے (1927)

لاہور میں بنائی گئی پہلی فلم ، آج کی بیٹیاں (دُخترانِ اِمروز) (1927) Daughters of Today تھی۔ یہ فلم مال روڈ پر قائم ایک عارضی فلم سٹوڈیو میں "لاہور پریمئر فلم کلب" کے توسط سے دس ہزار روپے میں بنائی گئی تھی۔ یہ رقم لاہور فلم انڈسٹری کے معمار ، اے آر کاردار ، ایم اسماعیل اور گوپال کرشن مہتا کی کاوش تھی۔ 1924ء میں اس خاموش فلم کی تکمیل کا آغاز ہوا لیکن مالی اور تیکنیکی مشکلات کی وجہ سے تین سال بعد 1927ء میں جا کر ریلیز ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس سال لاہور کی پہلی خاموش فلم ریلیز ہوئی ، اسی سال امریکہ میں دنیا کی پہلی بولتی فلم بھی ریلیز ہو گئی تھی۔

لاہور کی پہلی فلم ڈاٹر آف ٹوڈے (1927) کو بنانے والے ریلوے کے ایک افسر گوپال کرشن مہتا ، جرمنی سے عکاسی اور پراسیسنگ کی تعلیم لے کر آئے اور چند دستاویزی فلمیں بنا چکے تھے۔ انھی کے سرمائے ، ڈائریکشن اور عکاسی میں یہ فلم بنی۔ فلم کی کہانی شنکردیو آریا نے لکھی تھی۔ یہ اس دور کی ایک کامیاب فلم شمار کی جاتی ہے۔

فلم ڈاٹر آف ٹوڈے (1927) کی ہیروئن ولایت بیگم تھی جو گمنام رہی لیکن فلم کے ہیرو غلام قادر ، قیام پاکستان کے بعد بھی کیریکٹرایکٹر کے طور فلموں میں نظر آئے جن میں سے ایک فلم چھومنتر (1958) میں ظریف کے باپ کے رول میں تھے۔

لاہور کی فلمی صنعت کے معمار ، اے آر کاردار

لاہور کی فلمی صنعت کے معمار ، اے آر کاردار

لاہور کی فلمی صنعت کے معمار ، اداکار ، فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف اے آر کاردار یا عبدالرشیدکاردار ، بنیادی طور پر ایک مصور تھے اور فلم و آرٹ کے شعبے سے وابستہ تھے۔

1920 کی دھائی میں لاہور کے بھاٹی گیٹ میں اپنے بچپن کے دوست اداکار ایم اسماعیل کے ساتھ مل کر ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی ARME Artist کے نام سے قائم کی جو سٹیج ڈراموں اور فلموں کے علاوہ کتابوں ، اخبارات و جرائد اور دیگر کاروباری شعبوں کے لیے اشتہارات ، سرورق اور آرٹ ڈیزائننگ وغیرہ کی خدمات انجام دیتی تھی۔

لاہور کی پہلی فلم ڈاٹر آف ٹوڈے (1927) بنی تو اس فلم میں کاردار نے بطور اداکار کام کیا اور فلمسازی کے فن کو قریب سے دیکھا اور سمجھا۔ وہ لاہور کی فلمی صنعت کے معمار ثابت ہوئے اور لاہور میں بنائی ہوئی ابتدائی 14 میں سے 8 خاموش فلمیں بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ لاہور کی پہلی دونوں پنجابی فلمیں ہیررانجھا (1932) اور گوپی چند (1933) بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ اس دوران چند تلخ واقعات کی وجہ سے لاہور کی فلم نگری کو چھوڑ کر پہلے کلکتہ پھر بمبئی چلے گئے جہاں ایک شاندار فلمی کیریر ان کا منتظر تھا۔

بمبئی میں کاردار کے کریڈٹ پر شاہ جہاں (1946) ، درد (1947) ، دل لگی اور دلاری (1949) جیسی بڑی بڑی فلمیں تھیں۔

1904ء میں لاہور میں پیدا ہونے والے اے آر کاردار کا 1989ء میں بمبئی میں انتقال ہوا۔ اداکارہ بہار اختر کے شوہر اور ہدایتکار محبوب خان کے ہم زلف تھے۔

پاکستان کے سب سے سینئر اداکار ایم اسماعیل نے اپنی اس پہلی فلم میں بھی نوجوانی کی عمر میں ایک بوڑھے کا رول کیا جبکہ ان کے جگری یار ، لاہور کی فلمی صنعت کے معمار ، عبدالرشید کاردار یا اے آر کاردار نے ولن کا رول کیا تھا۔

لاہور کی خاموش فلمیں

1931ء میں بمبئی میں پہلی بولتی فلم عالم آرا (1931) ریلیز ہوئی لیکن اس کے بعد بھی کئی سال تک خاموش فلمیں ریلیز ہوتی رہیں۔ لاہور میں بھی 1933ء تک درجن بھر خاموش فلمیں ریلیز ہوئیں جو حتمی تعداد نہیں لیکن ان میں سے خاص خاص فلمی واقعات پر بات ہوگی۔

فلم انار کلی (1930)

لاہور میں فلم پریم سنیاس (1925) بنانے والی دہلی کی گریٹ ایسٹرن کمپنی کے سرمائے سے بنائی گئی ہدایتکار پرافلولا رائے کی فلم انارکلی (1930) ایک یادگار تاریخی اور کاسٹیوم فلم تھی جو معروف ادیب سید امتیاز علی تاج کے 1922ء میں شائع ہونے والے مشہور زمانہ ناول سے ماخوذ تھی۔ وہ بڑے خوش قسمت رائٹر تھے کہ جن کی زندگی ہی میں ان کے فن کو سراہا گیا اور متعدد بار ان کے اس لازوال ناول پر فلمیں بنیں جن میں بھارتی فلم مغل اعظم (1960) سب سے بڑی اور یادگار فلم ثابت ہوئی تھی۔

فلم انارکلی (1930) کے افسانوی کردار کو سیتا دیوی نے ادا کیا تھا جو لاہور میں بننے والی پہلی فلم پریم سنیاس (1925) کی ہیروئن بھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کی کاسٹ میں خود سید امتیاز علی تاج کے علاوہ حکیم احمد شجاع ، پطرس بخاری ، ایم ایس ڈار اور رفیع پیرزادہ جیسے بڑے بڑے نام ملتے ہیں۔

لاہور کی 1930ء کی دیگر خاموش فلمیں

لاہور میں 1930ء میں بننے والی کل 6 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے 5 فلموں کے ہدایتکار اے آر کاردار تھے جن ایک فلم آوارہ رقاصہ (1930) بھی تھی۔ اس فلم کا ری میک کاردار ہی نے بھارتی فلموں دلاری (1949) اور یاسمین (1955) کی شکل میں بنایا تھا۔

اداکارہ مس گلزار ، ان میں سے بیشتر فلموں کی ہیروئن تھی جبکہ ایم اسماعیل اور غلام قادر وغیرہ معاون اداکار تھے۔ ممتاز بھارتی مزاحیہ اداکار یعقوب کی یہ پہلی فلم تھی۔

اس فلم کے علاوہ فریبی شہزادہ ، سرفروش اور سنہری خنجر (1930) میں ہیرو کے طور اس وقت کے ایک خوبرو نوجوان اداکار گل حمید کو پیش کیا گیا تھا۔

فلم سرفروش (1930) میں معروف موسیقار رفیق غزنوی نے بطور اداکار فلمی کیریر کا آغاز کیا تھا۔ حسن کا ڈاکو (1930) اس سال کی ایک اور فلم تھی جس میں ایک امریکی اداکارہ کو ہیروئن کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

لاہور کی 1931ء کی خاموش فلمیں

لاہور کے پہلے سپرسٹار ہیرو ، گل حمید

لاہور کے پہلے سپرسٹار ہیرو ، گل حمید

گل حمید ایک انتہائی خوبرو نوجوان تھے جو نسلاً ایک پٹھان تھے اور پولیس لائن چھوڑ کر اداکار بن گئے تھے۔ 1936ء میں صرف 31 سال کی عمر میں کینسر کی بیماری سے انتقال کر گئے تھے۔

اپنے چھ سالہ مختصر فلمی کیریر میں کل 15 فلموں میں کام کیا اور بلاشبہ لاہور کی خاموش فلموں کے پہلے سپرسٹار ہیرو تھے جنھوں نے صرف دو برسوں میں ریلیز ہونے والی لاہور کی آدھی فلموں میں کام کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے کلکتہ اور بمبئی کی فلموں میں بھی کام کیا اور ان کی ایک فلم نے ایک بین الاقوامی فلمی میلے میں ایک انعام بھی جیتا تھا۔

گل حمید نے 1920ء کی دھائی کی ممتاز اداکارہ Patience Cooper سے شادی کی جس کا اسلامی نام صابرہ بیگم تھا اور اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی میں گزارے اور 90 سال کی عمر میں انتقال ہوا تھا۔

1931ء میں بھی لاہور میں 6 ہی فلمیں بنائی گئیں۔ فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف اے آر کاردار کی فلم قاتل کٹار (1931) جو انگلش نام Sweet Heart کے نام سے ریلیز ہوئی تھی۔ ٹائٹل رول ایک نئی اداکارہ بہار اختر نے کیا تھا جو دوران شوٹنگ ، کاردار صاحب کی زندگی کی بہار یا "سویٹ ہارٹ" بن گئی تھی۔

فلم قاتل کٹار (1931) کے ہیرو خوبرو اداکار گل حمید تھے جو کاردار صاحب کی دیگر دونوں فلموں صفدرجنگ اور فریبی ڈاکو (1931) کے ہیرو بھی تھے۔ موخرالذکر فلم (جس کا انگلش نام Mysterious Bandit تھا) میں پاکستانی فلموں کے پہلے سلور جوبلی ہیرو نذیر کے علاوہ ممتاز معاون اداکار ظہور شاہ نے بھی اپنے اپنے فلمی کیریر کا آغاز کیا تھا۔

پنجاب فلم کمپنی کی پہلی تینوں فلمیں ، مشکلات اکیلے نہیں آتیں ، خیبر فلکن اور ابلا عرف یتیم لڑکی (1931) بھی ریلیز ہوئی تھیں۔

لاہور کی آخری خاموش فلم

دستیاب معلومات کے مطابق لاہور میں آخری خاموش فلم اورنٹیل پلیئرز کی فلم قسمت کے ہیر پھیر (1933) بنائی گئی جو ایک فلم تقسیم کار ، روشن لال شوری کی بطور ہدایتکار پہلی فلم تھی۔ ان کے بیٹے روپ کے شوری ، لاہور کی فلمی دنیا کا بہت بڑا نام بنے۔ تقسیم کار ، فلمساز اور ہدایتکار ہونے کے علاوہ شوری فلم کمپنی ، شوری فلم سٹوڈیوز اور متعدد سینماؤں کے مالک تھے۔

ہدایتکار اے آر کاردار کی فلم فریبی ڈاکو Mysterious Bandit (1931) کے ایک سین میں اداکار ایم اسماعیل ، ظہور شاہ ، نذیر ، تاروشاہ اور گل حمید
ہدایتکار اے آر کاردار کی فلم فریبی ڈاکو Mysterious Bandit (1931) کے ایک سین میں اداکار ایم اسماعیل ، ظہور شاہ ، نذیر ، تاروشاہ اور گل حمید

لاہور میں بولتی فلموں کا آغاز

برصغیر پاک و ہند میں پہلی بولتی فلم عالم آراء (1931) بن چکی تھی۔ اسی سال مزید بولتی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن لاہور کی پہلی بولتی فلم ہیررانجھا (1932) تھی جس کو بنانے کا اعزاز اے آر کاردار کو حاصل ہوا۔

1932ء میں کل 4 فلمیں ریلیز ہوئیں جو سبھی بولتی فلمیں تھیں۔ ایک پنجابی فلم کے علاوہ لاہور کی پہلی تینوں ہندی/اردو فلمیں ،پوتر گنگا اور رادھے شیام (1932) کے علاوہ پاک دامن رقاصہ بھی تھی جس میں 1930/40 کی دھائیوں کے ممتاز گیت نگار ولی صاحب نے فلمی کیریر کا آغاز کیا تھا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ تقسیم سے قبل لاہور کی 40 فیصد آباد غیرمسلم تھی جن میں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی جو 80 فیصد کاروبار پر چھائے ہوئے تھے اور فلمی کاروبار بھی انھی کے سرمائے کا محتاج ہوتا تھا۔

1933ء میں صرف دو فلموں کا حوالہ ملتا ہے جن میں سے ایک پنجابی فلم گوپی چند (1933) تھی جبکہ دوسری ایک خاموش فلم قسمت کے ہیر پھیر (1933) تھی جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔

1934ء میں بھی لاہور کی صرف دو ہی فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے جن میں وشنو بھگتی (1934) کے علاوہ ایک مشہور فلم سورگ کی سیڑھی (1934) بھی تھی۔

فلم سورگ کی سیڑھی (1934)

سورگ کی سیڑھی (1934) ایک یادگار فلم تھی جو عظیم ناول نگار ، سید امتیاز علی تاج کی بطور ہدایتکار اکلوتی فلم تھی۔ یہی فلم 1930/40 کی دھائیوں کے ممتاز کہانی اور گیت نگار ، ولی صاحب کی بھی پہلی فلم شمار کی گئی ہے۔ ایک اور نامور اداکارہ اور گلوکار خورشید بانو کے علاوہ پاکستان کے ابتدائی دور کے نامور ولن اداکار آغا سلیم رضا کی بھی یہ اولین فلم تھی۔

اس فلم کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ برصغیر کی فلمی موسیقی میں انقلاب برپا کرنے والے عظیم موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے پہلی بار کسی فلم کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ اسی فلم میں ایک گلوکارہ اور اداکارہ امراؤ ضیاء بیگم کا ذکر بھی ملتا ہے جس نے اس فلم کے سبھی گیت گائے اور بعد میں ماسٹر صاحب کی شریک حیات بنی۔

کیا نورجہاں سے پہلے بھی کوئی نورجہاں تھی؟

1935ء میں بھی لاہور میں صرف دو ہی فلمیں بن سکیں جن میں سے ایک فلم دہلی ایکسپریس (1935) تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس فلم میں ایک "نورجہاں" نامی اداکارہ کا ذکر بھی ملتا ہے جو ہماری ملکہ ترنم نور جہاں نہیں بلکہ بمبئی کی ایک اداکارہ تھی جس نے پچاس کے قریب فلموں میں کام کیا اور میڈم کی آمد سے گمنام ہو گئی تھی۔ اس کی پہلی فلم گلنار (1930) ایک خاموش فلم تھی جبکہ 1947ء تک اس کی فلموں کا ریکارڈ دستیاب ہے۔

ایک یادگار فلم مجنوں 1935ء

1935ء کی سب سے یادگار فلم مجنوں 1935ء تھی جس میں لاہور کی فلمی تاریخ کے بڑے بڑے نام پہلی بار سامنے آئے۔ لاہور کی فلم انڈسٹری کے ایک بہت بڑے محسن ، روپ کے شوری کی بطور ہدایتکار پہلی فلم تھی۔ اداکار مجنوں (ہیرلڈ لیوس) ، لاہور کی فلموں کے پہلے بڑے مزاحیہ اداکار ثابت ہوئے جنھیں لاہور کی کسی فلم کا ٹائٹل رول کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ کراچی سے تعلق تھا اور ان کے والد مسلمان تھے لیکن عیسائی ہوگئے تھے۔

برصغیر کی فلمی گائیکی کا ایک بہت بڑا نام ، شمشاد بیگم ، پہلی بار اسی فلم سے سامنے آیا اور پہلا گیت تھا "کتنی بے حیا ہیں نگاہیں کسی کی۔"

فلم مجنوں 1935ء کی خاص بات یہ بھی تھی کہ برصغیر کی پہلی ممتاز گلوکارہ اور اداکارہ مختار بیگم نے اس فلم میں کام کیا جبکہ ان کے شوہر عظیم ڈرامہ نگار آغا حشر کاشمیری نے گیت نگاری کی تھی۔ اپنے شوہر کی لکھی ہوئی یہ غزل بھی گائی جس کے بول تھے "اے ساقیِ مستانہ ، بھر دے میرا پیمانہ۔۔"

لاہور کی 1936ء کی فلمیں

1936ء میں لاہور میں کل 5 فلمیں بنائی گئیں جن میں کئی بڑے نام پہلی بار سامنے آئے۔ موسیقار جی اے چشتی ، سب سے بڑا نام تھے جن کی پہلی فلم دین و دنیا (1936) ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے گیت ولی صاحب کے لکھے ہوئے تھے۔ خاص طور پر یہ ترانہ فلم کی کہانی بیان کرتا ہے "تکبیر کے نعروں سے دنیا کو ہلا دیں گے۔۔"

روایت ہے کہ یہ فلم پہلے کراچی میں ریلیز ہوئی جو شمالی ہند کے تینوں فلمی مراکز یعنی لاہور اور دہلی کے بعد تیسرا بڑا مرکز ہوتا تھا۔ اس فلم میں ممتاز مزاحیہ اداکار اے شاہ شکارپوری کو بھی اداکاری کا موقع ملا جو اس سے قبل بمبئی کی فلم فدائے توحید (1934) میں پہلی بار نظر آئے تھے۔

اسی سال کی ایک فلم قزاق کی لڑکی (1936) بھی اس لحاظ سے اہم تھی کہ برصغیر کی پہلی بولتی فلم عالم آرا (1931) سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والی اداکارہ ببو نے نہ صرف ہیروئن کے طور پر کام کیا بلکہ فلم کی موسیقی بھی ترتیب دی اور گیت بھی گائے تھے۔ اسی فلم کے دوران فلمساز اور ہدایتکار سردار خلیل خان نے ببو سے شادی کر لی تھی۔

ببو نے سہاگ کا دان (1936) میں بھی ہیروئن کے طور پر کام کیا۔ اس سال کی دیگر دو فلمیں ، آنسوؤں کی دنیا اور کیپٹن وریندرا (1936) تھیں۔

لاہور کی 1937/38ء کی فلمیں

1937ء میں لاہور میں صرف 3 فلمیں بن سکیں۔ جیون جیوتی اور آخری غلطی (1937) کے علاوہ فلم پریم یاترا (1937) کی خاص بات یہ تھی کہ گلوکارہ شمشاد بیگم نے گلوکاری کے علاوہ اداکاری بھی کی جبکہ حکیم احمد شجاع نے پہلی بار کسی فلم کی کہانی اور گیت لکھے تھے۔ ایک بڑے موسیقار پنڈت گوبند رام کی یہ پہلی فلم تھی۔

1938ء میں اکلوتی فلم ٹارزن کی بیٹی ریلیز ہوئی جس میں شیاما نامی اداکارہ کے مقابل مجنوں کو مرکزی کردار دیا گیا تھا۔

لاہور کی فلموں کے عروج کا دور

لاہور کی فلمی تاریخ کے ابتدائی دس برسوں میں کل 32 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے صرف دو پنجابی فلمیں تھیں۔ 14 خاموش جبکہ باقی 16 ہندی/اردو فلمیں تھیں۔ ان تمام فلموں میں سے کوئی ایک بھی فلم کسی غیر معمولی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی لیکن 1939ء میں لاہور کی فلموں کے عروج کا دور آیا جو پنجابی فلموں کا مرہون منت تھا۔

لاہور کی 1939ء کی فلمیں

1939ء میں لاہور میں کل 5 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں دو پنجابی فلمیں بھی تھیں۔ فلم گل بکاؤلی (1939) ، لاہور کی پہلی بلاک باسٹر فلم تھی لیکن اس کا ذکر پنجابی فلموں کے ضمن میں ہوگا۔ یہاں صرف ہندی/اردو فلموں کا تذکرہ ہورہا ہے۔

اس سال کی دو فلموں خونی جادوگر اور پاپ کی نگری (1939) کے علاوہ بھگت سرداس (1939) لاہور اور کلکتہ کی پہلی مشترکہ فلم تھی۔

لاہور کی 1940ء کی فلمیں

لاہور کی پہلی سپرسٹار ہیروئن ، راگنی

لاہور کی پہلی سپرسٹار ہیروئن ، راگنی

راگنی ، لاہور کی فلموں کی پہلی سپرسٹار ہیروئن تھی جو ڈیڑھ درجن فلموں میں مرکزی کرداروں میں نظر آئی۔ دلابھٹی (1940) پہلی فلم تھی۔

راگنی کو اپنی دلکش آنکھوں کی وجہ سے آہو چشم بھی کہا جاتا تھا۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بمبئی کے ہدایتکار ایس ایم یوسف نے فلم نیک پروین (1946) میں نہ صرف ہیروئن لیا بلکہ لاہور آکر پوری فلم کی شوٹنگ بھی کی تھی۔ ہدایتکار اے آر کاردار نے فلم شاہجہاں (1946) میں بھاری معاوضہ پر کاسٹ کیا تھا۔ سدھیر کی پہلی ہیروئن بھی راگنی ہی تھی۔

راگنی ، شمشاد بیگم کے نام سے گوجرانوالہ میں 1923ء میں پیدا ہوئی اور 2007ء میں انتقال ہوا۔

1940ء کے ریکارڈز کے مطابق لاہور کی تینوں فلمیں پنجابی زبان میں تھیں جن کا ریکارڈ بزنس ہوا تھا۔ دنیا ، دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کا شکار ہو رہی تھی لیکن برصغیر پاک و ہند میں فلمی بزنس اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا اور فلموں سے یہ بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ ہندوستان پر انگریز راج تھا۔

لاہور کی 1941ء کی فلمیں

1941ء میں کل 6 فلمیں بنیں جن میں سے 4 پنجابی فلمیں تھیں۔ فلم ہمت (1941) ، لاہور کی پہلی سپرسٹار ہیروئن ، اداکارہ راگنی کی پہلی ہندی/اردو فلم تھی جبکہ پہلی بلاک باسٹر ہندی/اردو فلم خزانچی (1941) نے لاہور کی فلموں کو پورے ہندوستان میں متعارف کروا دیا تھا۔

بلاک باسٹر فلم خزانچی (1941)

دل سکھ پنچولی کے فلمساز ادارے پنچولی پکچرز کی فلم خزانچی (1941) نے پورے ہندوستان میں بزنس کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔ ہدایتکار موتی بی گڈوانی کی اس شاہکار بلاک باسٹر فلم میں ایم اسماعیل نے ٹائٹل رول کیا تھا اور ان کے فلمی کیرئر کی یہ سب سے کامیاب ہندی/اردو فلم تھی۔ منظرنامہ خادم محی الدین اور مکالمے سید امتیاز علی تاج نے لکھے تھے۔ رمولا ، نارنگ ، منورما اور اجمل فلم کے دیگر اہم کردار تھے۔

فلم خزانچی (1941) کی موسیقی نے فلمی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ ماسٹر غلام حیدر نے تاریخ میں اپنا نام ایک رحجان ساز موسیقار کے طور لکھوایا جب ان کا ایک کورس گیت "ساون کے نظارے ہیں۔۔" ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر تھا۔ ولی صاحب کا لکھا ہوا یہ گیت فلم کے دیگر گیتوں کی طرح فلم کی کامیابی کی ضمانت بنا۔ گلوکارہ شمشاد بیگم کو اتنی کامیابی ملی کہ وہ ہمیشہ کے لیے بمبئی کو پیاری ہو گئی تھی۔

لاہور کی 1942ء کی فلمیں

1942ء میں لاہور میں بنائی گئیں سات میں سے تین ہندی/اردو فلمیں تھیں۔ نشانی اور زمیندار (1942) کامیاب فلمیں تھیں جو لاہور کی دونوں بڑی فلم کمپنیوں ، شوری پکچرز اور پنچولی پکچرز کی بنائی ہوئی تھیں لیکن اس سال کی سب سے بڑی ہندی/اردو فلم خاندان (1942) تھی۔

سپرہٹ فلم خاندان (1942)

فلم خزانچی (1941) کے بعد لاہور کی دوسری بڑی ہندی/اردو فلم خاندان (1942) تھی۔ یہ بھی دل سکھ پنچولی کی فلم تھی جس کے ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی تھے۔ اسی سپرہٹ فلم نے میڈم نورجہاں کو پورے ہندوستان میں متعارف کروا دیا تھا اور وہ 1940 کی دھائی کی کامیاب ترین اداکارہ اور گلوکارہ ثابت ہوئی تھیں۔

فلم خاندان (1942) میں میڈم نور جہاں کے گائے ہوئے گیتوں نے دھوم مچا دی تھی: "تو کون سی بدلی میں میرے چاند ہے آجا۔۔" اور"میرے لیے جہاں میں چین ہے نہ قرار ہے۔۔" جیسے سپرہٹ گیتوں کی دھنیں ماسٹر غلام حیدر نے بنائی تھیں۔

فلم خاندان (1942) ہی سے اداکار پران کو بھی باقی ملک میں پہچان ملی اور وہ بھارتی فلموں کے چوٹی کے ولن اداکار کے طور پر سامنے آئے تھے۔ غلام محمد ، بمبئی کے اداکار تھے لیکن انھوں نے اپنی جنم بومی لاہور کی اس فلم میں بنگال کے ایک اداکار بابا ابراہیم کے ساتھ مرکزی کردار کیے تھے۔ اجمل نے ولن کا کردار کیا اور ان کا تکیہ کلام "انگلستان میں تو ایسا نہیں ہوتا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔

لاہور کی 1943ء کی فلمیں

1943ء میں تینوں ہندی/اردو فلمیں تھیں۔ پاپی (1943) اور آداب عرض (1943) کے علاوہ پونجی (1943) ایک بہت بڑی سوشل فلم تھی جس کی لیڈ کاسٹ میں راگنی کے علاوہ جینت تھے جو بھارتی فلم شعلے (1975) فیم "گبھر سنگھ" یعنی امجد خان کے والد تھے۔ ایم اسماعیل کا مرکزی کردار تھا۔

لاہور کی 1944ء کی فلمیں

1944ء میں لاہور نے 8 فلمیں بنائیں جن میں سے 5 ہندی/اردو فلمیں تھیں۔ فلم پنچھی (1944) کے علاوہ سہارا (1944) میں رینوکا دیوی (بیگم خورشید مرزا) کو نارنگ کے مقابل کاسٹ کیا گیا تھا۔ فلم بھائی (1944) میں ستیش اور ظہورراجہ نے کام کیا تھا۔ سید عطااللہ شاہ ہاشمی کی بطور فلمساز یہ پہلی فلم تھی جس میں ان کے ساتھ کرشن کمار تھے جو بعد میں پاکستان آکر ہدایتکار کے خورشید بنے۔

اس سال کی سب سے بڑی فلم داسی (1944) تھی جس میں راگنی کے ساتھ نجم الحسن ہیرو تھے جو فلم ہیررانجھا (1970) میں فردوس کے باپ کے کردار میں زیادہ مشہور ہوئے۔ اس فلم میں اداکارہ کلاوتی سیکنڈ ہیروئن تھی۔ یہ فلم آن لائن موجود ہے جس میں اس دور کے لاہور کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔

1944ء کی ایک فلم شکریہ بھی تھی جو کلکتہ اور لاہور کی مشترکہ فلم تھی۔ اس فلم کی خاص بات اداکار اور گلوکار سندر کا گایا ہوا یہ مزاحیہ گیت تھا "نینوں کے تیر چلا گئی ، اک شہر کی لونڈیا۔۔" جی اے چشتی کے لکھے اور کمپوز کیے ہوئے اس شرارتی گیت پر انگریز راج میں پنجاب کی حکومت نے پابندی لگا دی تھی اور سرعام گانے والے کو تین ماہ تک جیل کی سزا بھی ملتی تھی۔

لاہور کی 1945ء کی فلمیں

1945ء میں لاہور نے 6 فلمیں بنائیں جو سبھی ہندی/اردو تھیں۔ اس کی بڑی وجہ ہندوستان کی بڑی مارکیٹ تھی جس میں لاہور کی فلمیں بڑی کامیابیاں حاصل کررہی تھیں اور ہر فلمساز کی قدرتی طور پر یہی خواہش ہوتی تھی کہ اس کی فلم زیادہ سے زیادہ کمائی کرے۔

فلم البیلی (1945) میں جی اے چشتی کے ساتھ رشید عطرے کی موسیقی بھی تھی اور یہ فلم لاہور کے ساتھ کلکتہ میں بھی بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے علاوہ فلم چمپا (1945) میں بھی منورما ، ہیروئن تھی جو راگنی کے بعد دوسری مقبول ترین اداکارہ تھی۔

فلم کیسے کہوں (1945) اور فلم راگنی (1945) کے علاوہ دھمکی (1945) اس سال کی ایک بہت بڑی فلم تھی جس میں راگنی کے ساتھ الناصر ہیرو تھے۔ بطور فلمساز سید امتیاز علی تاج کی یہ واحد فلم تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ بھی تھی کہ گلوکارہ منورسلطانہ کی یہ پہلی فلم تھی اور پہلا گیت ہی بڑے کمال کا تھا "جب تم یہاں ، ہم وہاں ، کیسے بجے کی بانسری۔۔"

فلم شیریں فرہاد (1945) میں راگنی کے ساتھ جینت ہیرو تھے اور مکالمہ نگاری میں شوکت تھانوی نے سید امتیاز علی تاج کا ہاتھ بٹایا تھا۔

لاہور کی 1946ء کی فلمیں

1946ء ، متحدہ ہندوستان کا آخری مکمل سال تھا۔ اس سال لاہور کی 9 فلموں کی نمائش ہوئی جن میں سے 8 ہندی/اردو فلمیں تھیں۔ فلم جھمکے (1946) اس سال کی بہت بڑی فلم تھی۔ سعادت حسن منٹو کی اس کہانی کو پاکستان میں کلاسیک فلم بدنام (1966) کی صورت میں فلمایا گیا تھا۔ فلم آئی بہار (1946) کے علاوہ فلم شہر سے دور (1946) میں مینا شوری کے ساتھ ہیرو کے طور پر رضا میر نظر آئے جو پاکستان کے پہلے کیمرہ مین اور فلم لاکھوں میں ایک (1967) کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

فلم بدنامی (1946) کے علاوہ فلم پرائے بس میں (1946) میں آشا پوسلے کو فرسٹ ہیروئن کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ داؤد چاند کی بطور ہدایتکار لاہور میں یہ پہلی فلم تھی جس میں طفیل ہوشیارپوری کے گیت بھی تھے۔ ریحانہ اور شالیمار (1946) ، کاسٹیوم فلمیں تھیں جن کی لیڈ کاسٹ میں بیگم پارہ کا نام بھی ملتا ہے جو پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے ہیرو ناصر خان کی بیوی تھی۔

لاہور کی 1947ء کی فلمیں

1947ء میں ملک تقسیم ہوا جس کا سب سے بڑا نقصان لاہور کی فلمی صنعت کو پہنچا۔ اس سال لاہور میں بننے والی دو درجن سے زائد فلموں کا ذکر ملتا ہے جن میں سے کچھ اسی سال ریلیز ہوئیں اور باقی بمبئی اور کلکتہ میں مکمل ہو کر ریلیز ہوتی رہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دو درجن سے زائد فلموں میں سے صرف دو پنجابی فلمیں تھیں باقی سبھی ہندی/اردو فلمیں تھیں جس سے لاہور کی ملک گیر فلموں کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

لاہور کی تقسیم سے قبل کی فلمیں

14 اگست 1947ء سے قبل ریلیز ہونے والی فلموں میں پاکستان کے پہلے سپرسٹار ہیرو ، سدھیر کی پہلی فلم فرض (1947) ریلیز ہوئی جس میں راگنی ہیروئن تھی۔ ایک مشہور فلم پگڈنڈی (1947) بھی تھی جس میں خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں منورسلطانہ کا یہ گیت اس دور کا سپرہٹ گیت تھا "بلما پٹواری ہو گئے ، نوکر سرکاری ہو گئے۔۔"

1947ء میں دیگر ریلیز ہونے والی فلموں میں سے برہن ، کہاں گئے اور پپیہا رے کا ذکر ملتا ہے۔

لاہور کی تقسیم کے بعد کی فلمیں

تقسیم سے قبل لاہور میں دو درجن سے زائد فلمیں بن رہی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سبھی فلمیں بھارتی فلموں کے طور پر یا تو ریلیز ہوئیں یا نا مکمل رہیں لیکن پاکستان کے حصہ میں کچھ نہیں آیا۔ لاہور کو ازسرنو اپنے فلمی سفر کا آغاز کرنا پڑا۔ لاہور کی مندرجہ ذیل خاص خاص فلمیں تقسیم کے بعد ریلیز ہوئی تھیں:

  • تقسیم کے بعد بھارت کی پہلی پنجابی فلم چمن (1948) ریلیز ہوئی جو اصل میں لاہور میں "بھائیا جی" کے نام سے بن رہی تھی لیکن روپ کے شوری کو جب لاہور چھوڑنا پڑا تو اس فلم کے نیگٹیو ساتھ لے گئے اور بمبئی میں فلم مکمل کی تھی۔ 7 اگست 1948ء کو عید کے دن پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے ساتھ ریلیز ہوئی تھی۔
  • فلم بت تراش اور ڈائریکٹر ، 1947ء میں ریلیز ہو چکی تھیں لیکن انھیں دوبارہ پاکستانی فلموں کے طور پر 1951ء میں ریلیز کیا گیا تھا۔
  • فلم خانہ بدوش ، لاہور میں بننا شروع ہوئی لیکن بمبئی میں مکمل ہو کر 1948ء میں ریلیز ہوئی لیکن پاکستان میں 1952ء سے پہلے نہ ریلیز ہوسکی۔
  • ایک فلم ہماری گلیاں کا مکمل پرنٹ فسادات کے بعد شوری سٹوڈیوز سے مل گیا تھا۔ تقسیم کار کو مفت میں مکمل فلم مل گئی تھی لیکن کب ریلیز ہوئی ، ریکارڈز دستیاب نہیں۔ معروف کامیڈین ظریف کی یہ پہلی فلم تھی۔
  • فلم رستم و سہراب بھی لاہور میں مکمل ہوگئی تھی لیکن 1948ء میں بمبئی سے ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں پنجاب کے مشہور پہلوان ، گاما ، گونگا ، میدا اور چن بھی سلور سکرین پر نظر آئے تھے۔
  • فلم ایک روز (1947) میں مشہور اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا کی ماں ، نسرین نے کام کیا اور ہیرو الناصر تھے۔ پاکستان میں یہ فلم 1949ء میں ریلیز ہوئی۔

ان کے علاوہ لاہور کی نامکمل فلمیں جو بمبئی میں مکمل ہو کر بھارتی فلموں کے طور پرریلیز ہوئیں یا نامکمل رہیں ، ان میں روپ لیکھا ، دو باتیں ، پت جھڑ ، رت رنگیلی ، نئی بھابھی ، موہنی ، نتیجہ ، پارو ، آرسی ، آج اور کل ، یہ ہے زندگی ، برسات کی ایک رات ، چپکے چپکے ، جھوٹی قسمیں اور اک تیری نشانی کا ذکر ملتا ہے۔ یہ معلومات حتمی اور غیر متنازعہ نہیں ہیں۔

پاکستان فلم میگزین پر تقسیم سے قبل کی سبھی فلموں کے الگ الگ تفصیلی صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جو مسلسل اپ ڈیٹ ہوتے رہتے ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل لاہور میں بننے والی آخری آخری فلموں میں سے ایک فلم پگڈنڈی (1947) میں خواجہ خورشید انور کا اپنی عام روش سے ہٹ کر ایک بڑا شوخ و شریر گیت تھا جسے منورسلطانہ نے دل موہ لینے والے انداز میں گایا تھا۔ اس گیت کو مدھوک نے لکھا اور اداکارہ اختری پر فلمایا گیا تھا۔ دل سکھ پنچولی کی اس فلم کے ہدایتکار رام نرائن دیو تھے۔ یہ دلکش گیت آن لائن موجود ہے جس کے بول مندرجہ ذیل ہیں:

    بلما ، پٹواری ہو گئے ، نوکر ، سرکاری ہو گئے۔۔
    ارے او ، ڈگر چلنے والے ، میری مٹکی تلکی جائے ، اٹھا لے۔۔
    مت گھور گھور کے دیکھ ہمیں ، جس جس نے یوں دیکھا ہم کو ، جرمانے بھاری ہوگئے۔۔
    ارے او ، آؤ بالو آؤ ، مجھے جہاں دیکھ لو ، جھک جھک جاؤ۔۔
    پٹواری ، سب کا افسر ہے ، یہ بڑے صاحب کا کہنا ہے ، آرڈر بھی جاری ہو گئے۔۔
    بلما ، پٹواری ہو گئے ، نوکر ، سرکاری ہو گئے۔۔


Gulbadan
Gulbadan
(1937)
Dost
Dost
(1944)

Zeenat
Zeenat
(1945)
Dasi
Dasi
(1944)
Farz
Farz
(1947)



241 فنکاروں پر معلوماتی مضامین




پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.