Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


یاسمین

Yasmin
اداکارہ یاسمین
جذباتی اداکاری میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی تھیں

پاکستان کے ابتدائی دور میں اداکارہ یاسمین کو جذباتی اداکاری میں کمال حاصل تھا۔۔!

وہ پہلی بار ایک ایکسٹرا اداکارہ کے طور پر ہدایتکار اے آر کاردار کی مشہورزمانہ بھارتی فلم دل لگی (1949) میں نظر آئی تھیں جس میں ثریا اور شیام ، مرکزی کرداروں میں تھے۔ اس فلم کی کہانی وارث شاہؒ کے ہیررانجھا کے قصے سے ماخوذتھی۔

اسی کہانی پر اسی سال ، پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے (1949) بھی بنائی گئی تھی ، ہدایتکار نذیر تھے جو اپنی بیگم سورن لتا کے ساتھ مرکزی کرداروں بھی تھے۔ یہ پاکستان کی پہلی سپرہٹ نغماتی فلم تھی جس نے پیلس سینما لاہور پر مسلسل پچیس ہفتے چل کر پہلی جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

یاسمین یا زرینہ ریشماں

اداکارہ یاسمین نے 'زرینہ ریشماں' کے نام سے اپنی پہلی پاکستانی فلم بیلی (1950) میں ایک معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ تقسیم ملک پر سعادت حسن منٹو کی ایک کہانی پر بنائی گئی اس فلم کے ہدایتکار مسعودپرویز تھے اور صبیحہ اور سنتوش کی لیجنڈ جوڑی کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔

ریلیز کے اعتبار سے یاسمین کی پہلی فلم جہاد (1950) تھی جو کشمیر کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے ہیرو ، فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور گلوکار ظہورراجہ تھے جو تقسیم سے قبل ، میڈم نورجہاں کی یادگار فلم انمول گھڑی (1946) میں سیکنڈ ہیرو تھے۔

نغمہ بار پنجابی فلم چن وے (1951) میں یاسمین کا ثانوی رول تھا۔ پاکستان کی پہلی خاتون ہدایتکارہ ہونے کے علاوہ میڈم نورجہاں ، اس فلم کی گلوکار اور اداکارہ بھی تھیں۔ ایک اور یادگار نغماتی فلم لخت جگر (1956) میں بھی یاسمین نے میڈم نورجہاں کے ساتھ ایک اہم رول کیا تھا۔

اسی سال یاسمین کو پہلی بار پنجابی فلم مورنی (1956) میں عنایت حسین بھٹی کے مقابل فرسٹ ہیروئن کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن یہ ایک ناکام فلم تھی۔

یاسمین کی پہلی کامیاب فلم

فلم جبرو (1956) ، بطور ہیروئن ، یاسمین کے فلمی کیرئر کی ایک سپرہٹ فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم میں پہلی بار اداکار اکمل کو مکمل ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا جو اس سے قبل چھوٹے موٹے رول کیا کرتے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ واحد پنجابی فلم تھی جسے بنگالی زبان میں ڈب کر کے اس وقت کے مشرقی پاکستان میں بھی ریلیز کیا گیا تھا۔

اس فلم میں یاسمین کو بڑا حسین و جمیل عکس بند کیا گیا تھا۔ یاسمین کی سکرین بیوٹی بڑے کمال کی تھی جو اس دور کے پوسٹروں ، کیلنڈروں اور اخباری اشتہارات میں نمایاں ہوتی تھیں۔

1956ء ہی میں قسمت اور باغی جیسی بڑی بڑی فلموں میں معاون اداکارہ کے علاوہ ایک مذہبی فلم دیار حبیب (1956) میں یاسمین اور طالش کی روایتی جوڑی تھی۔ اس فلم میں عنایت حسین بھٹی کے چھ گیت تھے جو سبھی روحانی کلام تھے لیکن شاید ہی کوئی گیت مقبول ہوا ہو گا۔

1957ء میں یاسمین نے فلم آس پاس کے علاوہ سماجی موضوعات پر بنائی گئی تین فلموں انجام اور معصوم کے علاوہ ایک کامیاب فلم مراد (1957) میں فرسٹ ہیروئن کے طور پر کام کیا تھا۔ جس کے ہیرو کمال تھے لیکن ٹائٹل رول الیاس کاشمیری کا تھا جن کی کارکردگی بڑی لاجواب تھی۔

یاسمین کی جذباتی اداکاری

1958ء میں یاسمین کی فلموں میں فلم آدمی اور زہرعشق (1958) جذباتی اداکاری کے لحاظ سے بہت بڑی فلمیں تھیں۔

ہدایتکار لقمان کی فلم آدمی (1957) میں حبیب نے ڈبل رول کیا تھا ، ایک امیر اور ایک غریب کا جو دونوں حیرت انگیز طور پر ہمشکل ہوتے ہیں۔ غریب حبیب کو موقع ملتا ہے تو وہ لالچ و حرص میں امیر حبیب کو جان سے مار کر اس کی جگہ لے لیتا ہے اور مشہور کر دیتا ہے کہ غریب حبیب جو یاسمین کا شوہر اور اس کے ایک معصوم بچے کا باپ ہے ، مر چکا ہے۔

دولت و ثروت حاصل ہونے کے باوجود اس کی بے چارگی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچے کو اپنا نہیں کہہ سکتا کیونکہ یاسمین اسے اپنے خاوند کا قاتل سمجھتی ہے اور اس سے شدید نفرت کرتی ہے۔

جب اس کا بچہ دوا نہ ملنے پر قریب المرگ ہوتا ہے تو اس موقع پر ناہیدنیازی کا گایا ہوا ایک انتہائی متاثرکن گیت

  • آ ، تقدیر کو جگا لوں گی۔۔

یاسمین پر فلمایا جاتا ہے جو فلم بینوں پر بڑا گہرا اثر کرتا ہے۔

ہدایتکار مسعودپرویز کی فلم زہرعشق (1958) میں بھی یاسمین نے جذباتی اداکاری میں اپنی دھاک بٹھا دی تھی اور ان پر زبیدہ خانم کا گائی ہوئی یہ سپرہٹ نعت فلمائی گئی تھی

  • سنو عرض میری کملی والے ﷺ ، کوئی کیا سمجھے ، کوئی کیا جانے ، میرے دل کی لگی۔۔

اسی سال کی فلم بھروسہ (1958) میں بھی یاسمین نے اپنی فنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا تھا۔ یہ فلم ان کے پہلے شوہر ہدایتکار اور عکاس سید جعفر شاہ بخاری نے بنائی تھی جنھوں نے اسی کہانی پر فلم سماج (1974) بھی بنائی تھی۔ اپنی تمام تر فنی صلاحیتوں کے باوجود یاسمین ، صف اول کی ہیروئن نہیں بن سکی تھیں اور عام طور پر انھیں فلموں میں معاون اداکارہ کے طور پر ہی پیش کیا جاتا تھا۔

پاکستان کی عالمی معیار کی فلم فرشتہ (1961)

1961ء کی فلم فرشتہ کے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ عالمی میعار کی ایک آرٹ فلم تھی جس میں یاسمین نے ایک عصمت فروش خاتون کا کردار کیا تھا جو اپنے غریب خاندان اور خاص طور پر اپنے شرابی باپ کا خرچہ پورا کرنے کے لیے یہ مکروہ دھندہ کرتی ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور اس کی زندگی میں فرشتہ بن کر آتا ہے اور اسے اس دلدل سے نکال کر ایک باعزت زندگی گزارنے کا موقع دیتا ہے۔

اداکارہ یاسمین نے فلم عشق پر زور نہیں (1963) میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا تھا اور ان پر فلمایا گیا مالا کا یہ سپرہٹ گیت "دل دیتا ہے رو رو دہائی ، کسی سے کوئی پیار نہ کرے۔۔" اس فلم کی پہچان بن گیا تھا۔

مسعودرانا کا یاسمین کے لیے گیت

پنجابی فلم سوکن (1965) پہلی فلم تھی جس میں فلم کا تھیم سانگ

  • بیریاں نوں بیر لگ گئے ، تینوں کجھ نہ لگا مٹیارے۔۔

یاسمین کے پس منظر میں گایا گیا مسعودرانا کا اکلوتا گیت تھا۔ فیروزنظامی موسیقار تھے۔

فلم لاڈو (1966) میں یاسمین پر گلوکارہ نذیربیگم کا ایک بڑا یادگار گیت فلمایا گیا تھا

  • اک بوٹا امبی دا ، گھر ساڈے لایا نی۔۔

فلم نظام لوہار (1966) میں یاسمین نے ایک ماچھن کا ناقابل فراموش کردار کیا تھا۔ گاؤں کا بظاہر ایک بے ضرر اور معصوم سا لوہار ، نظام ، اس کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے لیکن وہ اس ان دیکھے نظام کی دیوانی ہوتی ہے جو ایک ڈاکو کے طور پر مشہور ہوتا ہے۔

یاسمین کی یادگار فلموں میں سے ایک فلم ماں ، بہو اور بیٹا (1966) بھی تھی جس میں حسنہ اور سنتوش کے ساتھ یاسمین کا ٹائٹل رول تھا۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے فلمساز اور ہدایتکار اکبرحسین رضوی تھے جو ان کے سوتیلے بیٹے تھے۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا

  • لوگ دیکھیں نہ تماشہ میری رسوائی کا۔۔

جبکہ مہدی حسن کا گیت

  • اب اور پریشان ، دل ناشاد نہ کرنا۔۔

بھی پسند کیا گیا تھا۔ حسن لطیف کی موسیقی میں مسعودرانا کے دو رومانٹک شوخ گیت بھی تھے

  • چہرے پہ گرا آنچل ہوگا ، یہ آج نہیں تو کل ہوگا۔۔
  • او نازک نرم حسینہ ، تیری نیلی نیلی آنکھوں میں دل میرا ڈوبا۔۔

یاسمین کی بطور اداکارہ آخری فلم کوثر (1980) تھی جس میں اس پر نسیم بیگم کا یہ سپرہٹ گیت فلمایا گیا تھا

  • اب کہاں ان کی وفا ، یاد وفا باقی ہے۔۔

اردو فلم دنیا نہ مانے (1971) اور پنجابی فلم دھرتی شیراں دی (1973) کے فلمساز کے طور پر بھی ان کا نام آتا ہے۔

اداکارہ یاسمین کا اصل نام آمنہ تھا اور وہ ممبئی میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے پہلے شوہر عکاس اور ہدایتکار سید جعفر شاہ بخاری اور دوسرے شوہر سید شوکت حسین رضوی تھے جو میڈم نورجہاں کے پہلے شوہر بھی تھے۔

یاسمین کا تعلق ان خوش قسمت اداکاراؤں میں ہوتا ہے کہ جنھوں نے لمبی عمر پائی۔ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ پہلے جن اداکاراؤں نے فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور ماشاء اللہ ، ابھی تک زندہ ہیں ، ان میں یاسمین کے علاوہ رخسانہ ، بہار ، مسرت نذیر ، لیلیٰ ، حسنہ ، زمرد ، شبنم ، شبانہ ، نغمہ ، زیبا ، دیبا ، ناصرہ ، پنا ، رضیہ ، روزینہ ، صابرہ سلطانہ ، عالیہ ، غزالہ وغیرہ شامل ہیں۔ یاسمین ان سب میں سینئر ہیں۔

حال ہی میں تین سینئر اداکاراؤں ، صبیحہ خانم ، فردوس اور نیلو کا طویل العمری کے بعد انتقال ہوا تھا۔

مسعودرانا اور یاسمین کے 1 فلمی گیت

0 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت
1

بیریاں نوں بیر لگ گئے ، تینوں کجھ نہ لگا مٹیارے ، کنکاں نوں بور پے گیا ، پھل ٹہنیاں تے لین ہلارے..

فلم ... سوکن ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: فیروز نظامی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟ (تھیم سانگ ، یاسمین)

مسعودرانا اور یاسمین کے 0 اردو گیت


مسعودرانا اور یاسمین کے 1 پنجابی گیت

1

بیریاں نوں بیر لگ گئے ، تینوں کجھ نہ لگا مٹیارے ، کنکاں نوں بور پے گیا ، پھل ٹہنیاں تے لین ہلارے ...

(فلم ... سوکن ... 1965)

مسعودرانا اور یاسمین کے 1سولو گیت

1

بیریاں نوں بیر لگ گئے ، تینوں کجھ نہ لگا مٹیارے ، کنکاں نوں بور پے گیا ، پھل ٹہنیاں تے لین ہلارے ...

(فلم ... سوکن ... 1965)

مسعودرانا اور یاسمین کے 0دوگانے


مسعودرانا اور یاسمین کے 0کورس گیت



Masood Rana & Yasmin: Latest Online film

Nizam Lohar

(Punjabi - Black & White - Friday, 9 September 1966)


Masood Rana & Yasmin: Film posters
Mama JiSoukanLadoNizam Lohar
Masood Rana & Yasmin:

1 joint Online films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)
Masood Rana & Yasmin:

Total 5 joint films

(1 Urdu and 4 Punjabi films)

1.1964: Mama Ji
(Punjabi)
2.1965: Soukan
(Punjabi)
3.1966: Lado
(Punjabi)
4.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)
5.1966: Maa Bahu Aur Beta
(Urdu)


Masood Rana & Yasmin: 1 songs

(0 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Soukan
from Friday, 27 August 1965
Singer(s): Masood Rana, Music: Feroz Nizami, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): ? (Theme song - Yasmin)

Mangti
Mangti
(1942)
Sanjog
Sanjog
(1943)
Farz
Farz
(1947)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

عمرشریف
عمرشریف
حسنہ
حسنہ
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
ساون
ساون
شیون رضوی
شیون رضوی
علاؤالدین
علاؤالدین
شوکت علی
شوکت علی
وحیدمراد
وحیدمراد
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
روبینہ بدر
روبینہ بدر
رشید عطرے
رشید عطرے
کمار
کمار
سنگیتا
سنگیتا
ایس سلیمان
ایس سلیمان
نبیلہ
نبیلہ
اکمل
اکمل
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
طارق عزیز
طارق عزیز
شاہد
شاہد
نذیر
نذیر
نذرالاسلام
نذرالاسلام
ابو شاہ
ابو شاہ
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
نسیمہ خان
نسیمہ خان
اعظم چشتی
اعظم چشتی
زیبا
زیبا
مظہر شاہ
مظہر شاہ
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
افضل خان
افضل خان
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
زینت
زینت
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
افتخارخان
افتخارخان
امین ملک
امین ملک
سیف چغتائی
سیف چغتائی
منورظریف
منورظریف
شیریں
شیریں
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
تانی
تانی
ایم اکرم
ایم اکرم
مسعود رانا
مسعود رانا
علی اعجاز
علی اعجاز
نذیر بیگم
نذیر بیگم
شمیم آرا
شمیم آرا
اقبال حسن
اقبال حسن
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
صہبااختر
صہبااختر
آصف جاہ
آصف جاہ
مشتاق علی
مشتاق علی
حنیف
حنیف
حبیب جالب
حبیب جالب
سلیم رضا
سلیم رضا
رضا میر
رضا میر
نذر
نذر
وزیر افضل
وزیر افضل
نسیم بیگم
نسیم بیگم
سلونی
سلونی
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
جی اے چشتی
جی اے چشتی
موج لکھنوی
موج لکھنوی
رنگیلا
رنگیلا
سدھیر
سدھیر
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
اعظم بیگ
اعظم بیگ
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
کے خورشید
کے خورشید
شبنم
شبنم
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
روبن گھوش
روبن گھوش
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
نذیرعلی
نذیرعلی
صفدرحسین
صفدرحسین
حسن طارق
حسن طارق
کیفی
کیفی
ندیم
ندیم
آئرن پروین
آئرن پروین
ایم اشرف
ایم اشرف
احمد راہی
احمد راہی
حسن عسکری
حسن عسکری
نذیرجعفری
نذیرجعفری
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
جمیل اختر
جمیل اختر
لقمان
لقمان
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
مسعودپرویز
مسعودپرویز
ریاض شاہد
ریاض شاہد
ایم سلیم
ایم سلیم
کمال احمد
کمال احمد
نرالا
نرالا
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
رفیق رضوی
رفیق رضوی
اعجاز
اعجاز
ساحل فارانی
ساحل فارانی
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
اے شاہ
اے شاہ
آغا حسینی
آغا حسینی
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
سلطان راہی
سلطان راہی
علی حسین
علی حسین
بخشی وزیر
بخشی وزیر
یاسمین
یاسمین
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
نغمہ
نغمہ
فردوس
فردوس
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
منظورجھلا
منظورجھلا
مسرت نذیر
مسرت نذیر
خلیل قیصر
خلیل قیصر
مالا
مالا
سلیم کاشر
سلیم کاشر
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
ظہیرریحان
ظہیرریحان
الحامد
الحامد
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
نگہت سیما
نگہت سیما
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
اختریوسف
اختریوسف
قوی
قوی
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
ایم جے رانا
ایم جے رانا
ناہید
ناہید
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
سید کمال
سید کمال
ریاض احمد
ریاض احمد
تنویر نقوی
تنویر نقوی
آصف جاوید
آصف جاوید
جعفر بخاری
جعفر بخاری
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
نثار بزمی
نثار بزمی
تصورخانم
تصورخانم
ایم صادق
ایم صادق
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
خلیل احمد
خلیل احمد
لہری
لہری
سیما
سیما
امجدبوبی
امجدبوبی
مصلح الدین
مصلح الدین
لیلیٰ
لیلیٰ
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
رضیہ
رضیہ
حسن لطیف
حسن لطیف
منیر حسین
منیر حسین
مہدی حسن
مہدی حسن
سلیم اقبال
سلیم اقبال
طالش
طالش
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
نیلو
نیلو
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
پرویز ملک
پرویز ملک
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
شریف نیر
شریف نیر
البیلا
البیلا
سنتوش کمار
سنتوش کمار
اے حمید
اے حمید
منیر نیازی
منیر نیازی
اسلم ڈار
اسلم ڈار
احمد رشدی
احمد رشدی
مسرور انور
مسرور انور
زلفی
زلفی
غزالہ
غزالہ
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
درپن
درپن
ایم اے رشید
ایم اے رشید
الطاف حسین
الطاف حسین
طافو
طافو
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
عالیہ
عالیہ
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
فیروز نظامی
فیروز نظامی
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
وحیدڈار
وحیدڈار
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
حیدر
حیدر
شبانہ
شبانہ
رحمان ورما
رحمان ورما
اسد بخاری
اسد بخاری
یوسف خان
یوسف خان
سہیل رعنا
سہیل رعنا
دیبا
دیبا
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
آسیہ
آسیہ
ظہورناظم
ظہورناظم
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
روزینہ
روزینہ
محمد رفیع
محمد رفیع
سائیں اختر
سائیں اختر
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
فضل حسین
فضل حسین
منوررشید
منوررشید
قتیل شفائی
قتیل شفائی
حزیں قادری
حزیں قادری
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
رخسانہ
رخسانہ
ناشاد
ناشاد
رشیداختر
رشیداختر
ننھا
ننھا
قدیرغوری
قدیرغوری
ساقی
ساقی
محمد علی
محمد علی
رانی
رانی
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
مظفروارثی
مظفروارثی
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
ناصرہ
ناصرہ
امداد حسین
امداد حسین
حبیب
حبیب



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.