A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1036 songs in 646 films

مسعودرانا اور یاسمین

اداکارہ یاسمین
جذباتی اداکاری میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی تھیں
film Morni (1956)
film Jabroo (1956)
film Darbar-e-Habib (1956)
film Aadmi (1958)
film Bharosa (1958)
film Maa Beti (1963)
film Kousar (1970)
Yasmin in Indian film Dillagi (1949)
پاکستان کے ابتدائی دور میں اداکارہ یاسمین کو جذباتی اداکاری میں کمال حاصل تھا۔۔!

وہ پہلی بار ایک ایکسٹرا اداکارہ کے طور پر ہدایتکار اے آر کاردار کی مشہورزمانہ بھارتی فلم دل لگی (1949) میں نظر آئی تھیں جس میں ثریا اور شیام ، مرکزی کرداروں میں تھے۔ اس فلم کی کہانی وارث شاہؒ کے ہیررانجھا کے قصے سے ماخوذتھی۔ اسی کہانی پر اسی سال ، پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے (1949) بھی بنائی گئی تھی ، ہدایتکار نذیر تھے جو اپنی بیگم سورن لتا کے ساتھ مرکزی کرداروں بھی تھے۔ یہ پاکستان کی پہلی سپرہٹ نغماتی فلم تھی جس نے پیلس سینما لاہور پر مسلسل پچیس ہفتے چل کر پہلی جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

اداکارہ یاسمین نے 'زرینہ ریشماں' کے نام سے اپنی پہلی پاکستانی فلم بیلی (1950) میں ایک معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ تقسیم ملک پر سعادت حسن منٹو کی ایک کہانی پر بنائی گئی اس فلم کے ہدایتکار مسعودپرویز تھے اور صبیحہ اور سنتوش کی لیجنڈ جوڑی کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔ ریلیز کے اعتبار سے یاسمین کی پہلی فلم جہاد (1950) تھی جو کشمیر کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے ہیرو ، فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف اور گلوکار ظہورراجہ تھے جو تقسیم سے قبل ، میڈم نورجہاں کی یادگار فلم انمول گھڑی (1946) میں سیکنڈ ہیرو تھے۔ نغمہ بار پنجابی فلم چن وے (1951) میں یاسمین کا ثانوی رول تھا۔ پاکستان کی پہلی خاتون ہدایتکارہ ہونے کے علاوہ میڈم نورجہاں ، اس فلم کی گلوکار اور اداکارہ بھی تھیں۔ ایک اور یادگار نغماتی فلم لخت جگر (1956) میں بھی یاسمین نے میڈم نورجہاں کے ساتھ ایک اہم رول کیا تھا۔ اسی سال یاسمین کو پہلی بار پنجابی فلم مورنی (1956) میں عنایت حسین بھٹی کے مقابل فرسٹ ہیروئن کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن یہ ایک ناکام فلم تھی۔ فلم جبرو (1956) ، بطور ہیروئن ، یاسمین کے فلمی کیرئر کی ایک سپرہٹ فلم ثابت ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واحد پنجابی فلم تھی جسے بنگالی زبان میں ڈب کر کے اس وقت کے مشرقی پاکستان میں بھی ریلیز کیا گیا تھا۔ اس فلم میں یاسمین کو بڑا حسین و جمیل عکس بند کیا گیا تھا۔ یاسمین کی سکرین بیوٹی بڑے کمال کی تھی جو اس دور کے پوسٹروں ، کیلنڈروں اور اخباری اشتہارات میں نمایاں ہوتی تھیں۔ اس فلم میں پہلی بار اداکار اکمل کو مکمل ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا جو اس سے قبل چھوٹے موٹے رول کیا کرتے تھے۔

1956ء ہی میں قسمت اور باغی جیسی بڑی بڑی فلموں میں معاون اداکارہ کے علاوہ ایک مذہبی فلم دیار حبیب (1956) میں یاسمین اور طالش کی روایتی جوڑی تھی۔ اس فلم میں عنایت حسین بھٹی کے چھ گیت تھے جو سبھی روحانی کلام تھے لیکن شاید ہی کوئی گیت مقبول ہوا ہو گا۔

1957ء میں یاسمین نے فلم آس پاس کے علاوہ سماجی موضوعات پر بنائی گئی تین فلموں انجام اور معصوم کے علاوہ ایک کامیاب فلم مراد (1957) میں فرسٹ ہیروئن کے طور پر کام کیا تھا۔ جس کے ہیرو کمال تھے لیکن ٹائٹل رول الیاس کاشمیری کا تھا جن کی کارکردگی بڑی لاجواب تھی۔

1958ء میں یاسمین کی فلموں میں فلم آدمی اور زہرعشق (1958) جذباتی اداکاری کے لحاظ سے بہت بڑی فلمیں تھیں۔ ہدایتکار لقمان کی فلم آدمی (1957) میں حبیب نے ڈبل رول کیا تھا ، ایک امیر اور ایک غریب کا جو دونوں حیرت انگیز طور پر ہمشکل ہوتے ہیں۔ غریب حبیب کو موقع ملتا ہے تو وہ لالچ و حرص میں امیر حبیب کو جان سے مار کر اس کی جگہ لے لیتا ہے اور مشہور کر دیتا ہے کہ غریب حبیب جو یاسمین کا شوہر اور اس کے ایک معصوم بچے کا باپ ہے ، مر چکا ہے۔ دولت و ثروت حاصل ہونے کے باوجود اس کی بے چارگی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچے کو اپنا نہیں کہہ سکتا کیونکہ یاسمین اسے اپنے خاوند کا قاتل سمجھتی ہے اور اس سے شدید نفرت کرتی ہے۔ جب اس کا بچہ دوا نہ ملنے پر قریب المرگ ہوتا ہے تو اس موقع پر ناہیدنیازی کا گایا ہوا ایک انتہائی متاثرکن گیت "آ ، تقدیر کو جگا لوں گی۔۔" یاسمین پر فلمایا جاتا ہے جو فلم بینوں پر بڑا گہرا اثر کرتا ہے۔

ہدایتکار مسعودپرویز کی فلم زہرعشق (1958) میں بھی یاسمین نے جذباتی اداکاری میں اپنی دھاک بٹھا دی تھی اور ان پر زبیدہ خانم کا گائی ہوئی یہ سپرہٹ نعت فلمائی گئی تھی "سنو عرض میری کملی والے ﷺ ، کوئی کیا سمجھے ، کوئی کیا جانے ، میرے دل کی لگی۔۔" اسی سال کی فلم بھروسہ (1958) میں بھی یاسمین نے اپنی فنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا تھا۔ یہ فلم ان کے پہلے شوہر ہدایتکار اور عکاس سید جعفر شاہ بخاری نے بنائی تھی جنہوں نے اسی کہانی پر فلم سماج (1974) بھی بنائی تھی۔ اپنی تمام تر فنی صلاحیتوں کے باوجود یاسمین ، صف اول کی ہیروئن نہیں بن سکی تھیں اور عام طور پر انہیں فلموں میں معاون اداکارہ کے طور پر ہی پیش کیا جاتا تھا۔

1961ء کی فلم فرشتہ کے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ عالمی میعار کی ایک آرٹ فلم تھی جس میں یاسمین نے ایک عصمت فروش خاتون کا کردار کیا تھا جو اپنے غریب خاندان اور خاص طور پر اپنے شرابی باپ کا خرچہ پورا کرنے کے لئے یہ مکروہ دھندہ کرتی ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور اس کی زندگی میں فرشتہ بن کر آتا ہے اور اسے اس دلدل سے نکال کر ایک باعزت زندگی گزارنے کا موقع دیتا ہے۔

اداکارہ یاسمین نے فلم عشق پر زور نہیں (1963) میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا تھا اور ان پر فلمایا گیا مالا کا یہ سپرہٹ گیت "دل دیتا ہے رو رو دہائی ، کسی سے کوئی پیار نہ کرے۔۔" اس فلم کی پہچان بن گیا تھا۔

پنجابی فلم سوکن (1965) پہلی فلم تھی جس میں فلم کا تھیم سانگ "بیریاں نوں بیر لگ گئے ، تینوں کجھ نہ لگا مٹیارے۔۔" یاسمین کے پس منظر میں گایا گیا مسعودرانا کا اکلوتا گیت تھا۔ فیروزنظامی موسیقار تھے۔ فلم لاڈو (1966) میں یاسمین پر گلوکارہ نذیربیگم کا ایک بڑا یادگار گیت فلمایا گیا تھا "اک بوٹا امبی دا ، گھر ساڈے لایا نی۔۔" فلم نظام لوہار (1966) میں یاسمین نے ایک ماچھن کا ناقابل فراموش کردار کیا تھا۔ گاؤں کا بظاہر ایک بے ضرر اور معصوم سا لوہار ، نظام ، اس کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے لیکن وہ اس ان دیکھے نظام کی دیوانی ہوتی ہے جو ایک ڈاکو کے طور پر مشہور ہوتا ہے۔

یاسمین کی یادگار فلموں میں سے ایک فلم ماں ، بہو اور بیٹا (1966) بھی تھی جس میں حسنہ اور سنتوش کے ساتھ یاسمین کا ٹائٹل رول تھا۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے فلمساز اور ہدایتکار اکبرحسین رضوی تھے جو ان کے سوتیلے بیٹے تھے۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا "لوگ دیکھیں نہ تماشہ میری رسوائی کا۔۔" جبکہ مہدی حسن کا گیت "اب اور پریشان ، دل ناشاد نہ کرنا۔۔" بھی پسند کیا گیا تھا۔ حسن لطیف کی موسیقی میں مسعودرانا کے دو رومانٹک شوخ گیت بھی تھے "چہرے پہ گرا آنچل ہوگا ، یہ آج نہیں تو کل ہوگا۔۔" اور "او نازک نرم حسینہ ، تیری نیلی نیلی آنکھوں میں دل میرا ڈوبا۔۔" یاسمین کی بطور اداکارہ آخری فلم کوثر (1980) تھی جبکہ اردو فلم دنیا نہ مانے (1971) اور پنجابی فلم دھرتی شیراں دی (1973) کے فلمساز کے طور پر بھی ان کا نام آتا ہے۔

اداکارہ یاسمین کا اصل نام آمنہ تھا اور وہ ممبئی میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے پہلے شوہر عکاس اور ہدایتکار سید جعفر شاہ بخاری اور دوسرے شوہر سید شوکت حسین رضوی تھے جو میڈم نورجہاں کے پہلے شوہر بھی تھے۔ یاسمین کا تعلق ان خوش قسمت اداکاراؤں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے لمبی عمر پائی۔ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ پہلے جن اداکاراؤں نے فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور ماشاء اللہ ، ابھی تک زندہ ہیں ، ان میں یاسمین کے علاوہ رخسانہ ، بہار ، مسرت نذیر ، لیلیٰ ، حسنہ ، زمرد ، شبنم ، شبانہ ، نغمہ ، زیبا ، دیبا ، ناصرہ ، پنا ، رضیہ ، روزینہ ، صابرہ سلطانہ ، عالیہ ، غزالہ وغیرہ شامل ہیں۔ یاسمین ان سب میں سینئر ہیں۔ حال ہی میں تین سینئر اداکاراؤں ، صبیحہ خانم ، فردوس اور نیلو کا طویل العمری کے بعد انتقال ہوا تھا۔

مسعودرانا اور یاسمین کے 1 فلمی گیت

0 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت
1
فلم ... سوکن ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: فیروز نظامی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟ (تھیم سانگ ، یاسمین)

مسعودرانا اور یاسمین کے 0 اردو گیت


مسعودرانا اور یاسمین کے 1 پنجابی گیت

1بیریاں نوں بیر لگ گئے ، تینوں کجھ نہ لگا مٹیارے ، کنکاں نوں بور پے گیا ، پھل ٹہنیاں تے لین ہلارے ... (فلم ... سوکن ... 1965)

مسعودرانا اور یاسمین کے 1سولو گیت

1بیریاں نوں بیر لگ گئے ، تینوں کجھ نہ لگا مٹیارے ، کنکاں نوں بور پے گیا ، پھل ٹہنیاں تے لین ہلارے ... (فلم ... سوکن ... 1965)

مسعودرانا اور یاسمین کے 0دوگانے


مسعودرانا اور یاسمین کے 0کورس گیت



Masood Rana & Yasmin: Latest Online film

Nizam Lohar

(Punjabi - Black & White - Friday, 9 September 1966)


Masood Rana & Yasmin: Film posters
SoukanLadoNizam Lohar
Masood Rana & Yasmin:

1 joint Online films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)
Masood Rana & Yasmin:

Total 5 joint films

(1 Urdu and 4 Punjabi films)

1.1964: Mama Jee
(Punjabi)
2.1965: Soukan
(Punjabi)
3.1966: Lado
(Punjabi)
4.1966: Nizam Lohar
(Punjabi)
5.1966: Maa Bahu Aur Beta
(Urdu)


Masood Rana & Yasmin: 1 songs

(0 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Soukan
from Friday, 27 August 1965
Singer(s): Masood Rana, Music: Feroz Nizami, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): ? (Theme song - Yasmin)


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔