Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1045 songs in 649 films

مسعودرانا اور ظہیر کاشمیری

ظہیر کاشمیری ، ادبی دنیا میں ایک ممتاز ترقی پسند شاعر ، صحافی اور نقاد تھے۔ فلمی دنیا میں نغمہ نگار ، مصنف اور ہدایتکار بھی تھے۔ انھوں نے فلم تین پھول (1961) بنائی تھی جو ایک بڑے ہی بولڈ موضوع پر بننے والی ایک منفرد فلم تھی۔ عام طور پر ہماری فلموں میں ہیروئن کو دیوی اور ہیرو کو دیوتا کے روپ میں پیش کیا جاتا تھا لیکن اس فلم کی ہیروئن نیرسلطانہ ، علاؤالدین کی بیوی ہے جو اپنے سابقہ آشنا کے ساتھ ناجائز تعلقات بھی رکھتی ہے۔ آشنا یعنی اسلم پرویز ، اس سے بھی دو ہاتھ آگے ہے اور بیک وقت تین عورتوں سےکھیل کھیلتا ہے اور اسی لیے اس فلم کا نام تین پھول (1961) ہے۔ اسلم پرویز کے ہیرو شپ کے دور کی خاص بات یہ تھی کہ بیشتر فلموں میں ایک ہرجائی ہیرو کے طور پر نظر آتے تھے اور یہی انداز ، بطور ولن کامیابی کی بڑی وجہ بھی تھا۔

بطور ہدایتکار اپنی اکلوتی فلم تین پھول (1961) کی کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ بھی ظہیر کاشمیری کا اپنا لکھا ہوا تھا۔ فنی طور پر یہ ایک کمزور فلم تھی اور بری طرح سے ناکام رہی تھی۔ اس تجربے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح ہر کوئی ، شاعر یا ادیب نہیں بن سکتا ، ایسے ہی ہر کوئی فلم بھی نہیں بنا سکتا۔ عام طور پر نامور ادبی شخصیات ، فلمسازی کے میدان میں ناکام رہی ہیں جن میں امتیاز علی تاج ، شوکت ہاشمی ، اشفاق احمد اور احمدبشیر وغیرہ چند بڑی مثالیں ہیں۔ ایک فلم ، صرف الفاظ و بیاں کا کھیل نہیں ہوتی بلکہ فنون لطیفہ کے جملہ فنون کا ایک حسیں امتزاج ہوتی ہے جس کےلیے ایک ذہین ہدایتکار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک کامیاب ہدایتکار کے لیے کسی اعلیٰ تعلیمی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ شخصی قابلیت ہوتی ہے جو ایک ان پڑھ یا نیم خواندہ شخص میں بھی ہوسکتی ہے ، بھارتی ہدایتکار محبوب اور پاکستانی ہدایتکار اقبال کاشمیری اس کی بہترین مثالیں ہیں۔۔!

دستیاب معلومات کے مطابق ، ظہیر کاشمیری نے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز بطور نغمہ نگار ، تقسیم سے قبل لاہور میں بننے والی ہندی/اردو فلم راگنی (1945) سے کیا تھا۔ ان کا لکھا ہوا پہلا گیت "ہم دو جیون ساتھی ، سونے کے پنکھ لگائیں۔۔" تھا۔ زینت بیگم اور باتش نے موسیقار پنڈت امرناتھ کی دھن میں اس گیت کو گایا تھا۔ ہدایتکار شنکر مہتہ کی اس رومانٹک فلم کے ہیرو نجم الحسن تھے جو فلم ہیررانجھا (1970) میں فردوس کے باپ کے رول میں تھے۔

ظہیر کاشمیری نے گیت نگار کے طور پر فلم کہاں گئے اور آج اور کل (1947) کے علاوہ لاہور میں بننے والی ہندی/اردو فلم فرض (1947) کے جملہ گیت بھی لکھے تھے۔ موسیقار ایس کے ساگر کی دھنوں میں دو گیت ، ان کے انداز فکر کی ترجمانی کرتے ہیں ، جن میں "بتا اے کاتب قسمت ، لکھا کیا بدگمان ہوکر۔۔" اور "اس دیش کے جوانوں کو اب آزمایا جائے گا۔۔" قابل ذکر ہیں۔ اس فلم کا سکرین پلے بھی کا لکھا ہوا تھا۔ فلم فرض (1947) میں پاکستان کے پہلے سپرسٹار ہیرو سدھیر کو متعارف کرایا گیا تھا اور ان کی ہیروئن معروف اداکارہ راگنی تھی جو تقسیم سے قبل لاہور میں بننے والی بیشتر فلموں میں ہیروئن کے طور پر نظر آتی تھی۔ قیام پاکستان سے پہلےانھی چارریلیز شدہ فلموں کار ریکارڈ ملتا ہے جبکہ متعدد فلمیں فسادات کی نظر ہوگئی تھیں۔

تقسیم کے بعد ظہیر کاشمیری کی پہلی فلم طوفان (1955) تھی جس میں موسیقار بابا جی اے چشتی نے ان سے ایک گیت لکھوایا تھا "بوجھو رے ، میرے من کی بات کو بوجھو رے۔۔" فلم انجام (1957) کی کہانی ، مکالمے اور سکرین پلے بھی لکھے تھے جبکہ فلم شیخ چلی (1958) کے مکالمے اور گیت لکھے تھے۔ ان کے علاوہ فلم لال رومال ، ہیرسیال (1965) ، غیرتمند ، خون ناحق (1969) اور ڈیراسجناں دا (1970) میں گیت نگاری کی تھی۔ یہ حتمی اعدادوشمار نہیں ہیں۔

ظہیر کاشمیری نے مسعودرانا کے لیے بھی دو گیت لکھے تھے جن میں سے پہلا گیت ، پنجابی فلم غیرت مند (1969) میں تھا "بھل گئیوں قول تے قرار وے ، تینوں ترس نہ آیا۔۔" بخشی وزیر کی دھن میں مسعودرانا کے ساتھ نسیم بیگم اور آئرن پروین تھیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اردو فلم خون ناحق (1969) میں اسی ٹیم کا دوسرا گیت بھی ملتا ہے "درد کی تصویر بن کے رہ گئی زندگی۔۔" یہ گیت رانی اور عالیہ کے علاوہ اداکار سکندر پر بھی فلمایا گیا تھا جو ایک درازقد اداکار تھے اور ساٹھ کی فلموں میں نظر آتے تھے۔ فلم اپنا پرایا (1959) میں ان کا ایک غائب دماغ پروفیسر کا کردار یادگار تھا۔ فلم ہیرسیال (1965) میں مسعودرانا کے گائے ہوئے شاہکار گیت "لوکو ، ایویں نئیں جے یار دا نظارا لبھدا۔۔" کے بارے میں شک ہے کہ وہ بھی ظہیر کاشمیری کا لکھا ہوا ہے۔

ظہیر کاشمیری نے متعدد غیر فلمی گیت اورغزلیں بھی لکھی تھیں جن میں استاد امانت علی خان کی گائی ہوئی یہ سپرہٹ غزل ناقابل فراموش ہے "موسم بدلا ، رت گدرائی ، اہل جنوں بے باک ہوئے ، فصل بہار کے آتے آتے ، کتنے گریباں چاک ہوئے۔۔" ان کی دیگر غزلوں میں سے یہ شعر بہت سننے میں آتا ہے " ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخرِ شب ، ہمارے بعد اندھیرا نہیں ، اُجالا ہے۔۔"

ظہیر کاشمیری کا اصل نام پیرزادہ غلام دستگیر تھا اور وہ 1919ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف تھے۔ بطور صحافی متعدد اخبارات سے منسلک رہے اور 'مجنوں' کے فرضی نام سے لکھتے تھے۔ سیاسی طور پر متحرک رہے اور ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے جرم میں جنرل ضیاع مردود کے سیاہ دور میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ 1994ء میں انتقال ہوا اور بعد از مرگ ، بے نظیربھٹو کی حکومت نے تمغہ حسن کارکردگی عنایت کیا تھا جس سے ہمارے ہاں اعزازات اور ایوارڈز دینے والوں کی سیاست بھی سمجھ میں آتی ہے۔۔!

مسعودرانا اور ظہیر کاشمیری کے 2 فلمی گیت

1 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت
1
فلم ... غیرت مند ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: نسیم بیگم ، آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: ظہیر کاشمیری ... اداکار: شیریں ،؟ ، اکمل
2
فلم ... خون ناحق ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیم بیگم ، آئرن پروین ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: ظہیر کاشمیری ... اداکار: سکندر ، عالیہ ، رانی

مسعودرانا اور ظہیر کاشمیری کے 1 اردو گیت

1درد کی تصویر بن کے رہ گئی زندگی ... (فلم ... خون ناحق ... 1969)

مسعودرانا اور ظہیر کاشمیری کے 1 پنجابی گیت

1بھل گئیوں قول تے قرار وے ، تینوں ترس نہ آیا ... (فلم ... غیرت مند ... 1969)

مسعودرانا اور ظہیر کاشمیری کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور ظہیر کاشمیری کے 0دو گانے


مسعودرانا اور ظہیر کاشمیری کے 2کورس گیت

1بھل گئیوں قول تے قرار وے ، تینوں ترس نہ آیا ... (فلم ... غیرت مند ... 1969)
2درد کی تصویر بن کے رہ گئی زندگی ... (فلم ... خون ناحق ... 1969)

Masood Rana & Zaheer Kashmiri: Latest Online film

Masood Rana & Zaheer Kashmiri: Film posters
Heer SyalGhairatmandKhoon-e-Nahaq
Masood Rana & Zaheer Kashmiri:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)
Masood Rana & Zaheer Kashmiri:

Total 3 joint films

(1 Urdu, 2 Punjabi films)
1.1965: Heer Syal
(Punjabi)
2.1969: Ghairatmand
(Punjabi)
3.1969: Khoon-e-Nahaq
(Urdu)


Masood Rana & Zaheer Kashmiri: 2 songs

(1 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Ghairatmand
from Friday, 14 March 1969
Singer(s): Naseem Begum, Irene Parveen, Masood Rana, Music: Bakhshi Wazir, Poet: , Actor(s): Shirin, ?, Akmal
2.
Urdu film
Khoon-e-Nahaq
from Friday, 25 July 1969
Singer(s): Masood Rana, Naseem Begum, Irene Parveen, Music: Bakhshi Wazir, Poet: , Actor(s): Sikandar, Aliya, Rani


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Shola
Shola
(1952)
Shararat
Shararat
(1975)
Bharjai
Bharjai
(1964)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..