A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
شبانہ
تین سو کے قریب فلموں میں کام کرنے والی اپنے وقت کی سپرسٹار اداکارہ ، شبانہ کی اپنے آبائی وطن بنگلہ دیش کی بنگالی فلموں میں وہی حیثیت تھی جو پاکستان کی اردو فلموں میں شبنم کی تھی۔۔۔!
اداکارہ شبانہ کو ہدایتکار احتشام کی سپرہٹ اردو فلم چکوری (1967) سے پہچان ملی لیکن یہ اس کی پہلی فلم نہ تھی۔
1962ء میں ریلیز ہونے والی ایک بنگالی فلم سے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ پہلی اردو فلم تنہا (1964) میں اداکارہ شبنم کے ساتھ معاون یا ایکسٹرا اداکارہ کے طور پر اپنے اصلی نام 'رتنا' کے ساتھ نظر آئی۔
ڈھاکہ میں بنائی گئی یہ پہلی اردو فلم تھی جس میں مغربی پاکستان کی کسی اداکارہ کو فرسٹ ہیروئن کے طور پر کاسٹ کیا گیا تھا۔ یہ اعزاز شمیم آرا کو حاصل ہوا تھا جو اس دور میں اردو فلموں کی صف اول کی ہیروئن ہوتی تھی۔ اس کی جوڑی ایک خوبرو اداکار ہارون کے ساتھ بنائی گئی جو اسی سال ڈھاکہ میں بننے والی پاکستان کی پہلی رنگین فلم سنگم (1964) میں ہیرو آئے تھے۔
ایک ہی فلم میں شمیم آرا ، شبنم اور شبانہ کا اکٹھے ہونا ایک منفرد واقعہ تھا۔
ساگر ، مالا (1965) ، ڈاک بابو اور بھیا (1966) ، ڈھاکہ میں بننے والی دیگر اردو فلمیں تھیں جن میں شبانہ ، اپنے اصلی نام 'رتنا' کے نام سے جلوہ گر ہوئی تھی۔
ڈھاکہ کی کامیاب ترین ہیروئن
فلم چکوری (1967) کے ٹائٹل رول میں نظر آنے والی دلکش اداکارہ شبانہ ، اس فلم کے بعد ایک سپرسٹار بن گئی تھی۔ اس فلم سمیت شبانہ نے ندیم کے ساتھ مسلسل چھ فلموں میں کام کیا تھا۔ اس جوڑی کی اسی سال ریلیز ہونے والی دوسری فلم چھوٹے صاحب (1967) بھی ایک کامیاب فلم تھی۔ یہ دونوں فلمیں یوٹیوب پر بنگالی ورژن میں موجود ہیں۔ بھلا ہو جدید تیکنیک اور سوشل میڈیا کا کہ جس نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ مشرقی پاکستان کی اردو فلمیں اصل میں بنگالی فلمیں ہوتی تھیں جنھیں اردو میں ڈب کر کے مغربی پاکستان میں ریلیز کیا جاتا تھا۔
ندیم ہی کے ساتھ شبانہ کی تیسری فلم چاند اور چاندنی (1968) تھی جو ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔ اسی فلم میں شبانہ پر مسعودرانا اور مالا کے دو دوگانے فلمائے گئے تھے
- تجھے پیار کی قسم ہے ، میرا پیار بن کے آجا۔۔
- یہ سماں ، موج کا کارواں۔۔
جبکہ فلم میں مسعودرانا کا سولو گیت
- تیری یاد آگئی ، غم خوشی میں ڈھل گئے۔۔
بھی شبانہ ہی کے لیے گایا گیا تھا۔ یہ فلم پہلی دو فلموں جیسی کامیابی حاصل نہ کرسکی تھی اور اوسط درجہ کی رہی تھی۔ اسی سال شبانہ کی چوتھی فلم قلی (1968) میں بھی مسعودرانا کا یہ گیت
- ملے اس طرح دل کی دنیا جگا دی ، خدا کی قسم ، تو نے ہل چل مچا دی۔۔
اسی کے لیے گایا گیا تھا۔ یہ فلم بھی درمیانہ درجہ کی تھی اور ہیرو ندیم ہی تھے۔
شبانہ کی اگلی دونوں فلمیں بھی ندیم ہی کے ساتھ تھی لیکن ناکام رہیں۔ فلم داغ (1969) میں ندیم اور شبانہ پر فلمایا ہوا اور مسعودرانا اور آئرن پروین کا گایا ہوا یہ دلکش گیت رومانٹک گیت لاجواب تھا
- آجاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے ، کچھ سن لیں گے۔۔
اس گیت کی دھن روبن گھوش نے مرتب کی تھی۔ اس سال کی دوسری فلم اناڑی (1969) بھی باکس آفس پر ناکام رہی تھی۔
دلچسپ اتفاق ہے کہ پہلے سال یعنی 1967ء میں دونوں فلمیں سپرہٹ رہیں ، دوسرے سال 1968ء کی دونوں فلمیں اوسط درجہ کی رہیں جبکہ تیسرے سال 1969ء کی دونوں فلمیں ناکام رہیں۔
یاد رہے کہ یہ ریکارڈز کراچی فلم سرکٹ کے ہیں۔
1980ء کے عشرہ میں جب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کو پروڈکشن کا آغاز ہوا تھا تو پہلی فلم بسیرا (1984) میں بھی شبانہ کے ہیرو ندیم ہی تھے۔ فلم ہلچل (1985) میں شبانہ کی جوڑی جاویدشیخ کے ساتھ تھی۔
شبانہ کی پاکستان میں آخری فلم آندھی (1991) تھی۔ اس آخری فلم میں بھی اس کی جوڑی ندیم صاحب کے ساتھ تھی جو کل نو فلموں میں شبانہ کے ہیرو تھے۔
ندیم کے ساتھ مندرجہ بالا فلموں کے علاوہ شبانہ کی دو اردو فلمیں پائل (1970) اور مہربان (1971) بھی تھیں۔ ان دونوں فلموں کے ہیرو رزاق تھے جو شبانہ ہی کی طرح بنگلہ دیش کے سب سے کامیاب فلمی ہیرو تھے اور ان کی بھی وہاں وہی حیثیت تھی جو پاکستان کی اردو فلموں میں ندیم صاحب کی تھی۔ یہ دونوں فلمیں ناکام رہیں۔
ایک فلم کی دو کہانیاں
اس دوران متحدہ پاکستان میں شبانہ کی واحد اردو رنگین فلم چاند سورج (1970) بھی ریلیز ہوئی جو ایک منفرد فلم تھی۔ یہ دوکہانیوں پر مشتمل فلم تھی۔ پہلے ہاف میں وحیدمراد اور روزینہ کی کہانی تھی تو دوسرے ہاف میں ندیم اور شبانہ کی کہانی تھی جن میں کوئی ربط نہیں تھا۔
فلم کی انفرادیت اور اچھے گیتوں کے باوجود یہ ایک ناکام فلم تھی۔ موسیقار ناشاد کی دھن میں عظیم قوال ، صابری بردران کی یہ قوالی فلم کا حاصل تھی
- محبت کرنے والو ہم ، محبت اس کو کہتے ہیں۔۔
شبانہ پر فلمایا ہوا میڈم نورجہاں کا اکلوتا گیت
- انھی کو ڈھونڈ رہی ہیں نگاہ شوق میری۔۔
فلمایا گیا تھا جسے مہدی حسن نے ندیم کے لیے بھی گایا تھا۔ ناشاد کی موسیقی میں اس فلم میں مسعودرانا اور میڈم نورجہاں کا ایک خوبصورت دوگانا بھی تھا
- وہ زمین اور ہو ، آسمان اور ہو۔۔
شبانہ کی لاہور کی اکلوتی فلم
چاند سورج (1970) ، شبانہ کی اکلوتی فلم تھی جو ڈھاکہ کے بجائے لاہور یعنی مغربی پاکستان میں بنائی گئی تھی۔ عین ممکن تھا کہ اگر سقوط ڈھاکہ نہ ہوتا تو شبانہ کو لاہور کی مزید فلموں میں کام کرنے کا موقع ملتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اصل میں متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان میں بننے والوں فلموں یا اداکاروں کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ ڈھاکہ کی فلموں کے بہت کم فنکاروں کو مغربی پاکستان کی فلموں میں موقع ملا تھا۔ ان میں شبنم ، روبن گھوش ، نسیمہ خان ، ریشماں ، رحمان اور نذرالاسلام بھی شامل تھے جنھیں اس وقت تک لاہور یا کراچی کی فلموں میں موقع نہیں ملا تھا جب تک وہ مکمل طور پر مغربی پاکستان منتقل نہیں ہوگئے تھے۔ ندیم کا تعلق کراچی سے تھا لیکن موقع ڈھاکہ کی فلم چکوری (1967) سے ملا۔ کراچی میں مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور کے فلمسازوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھا اور پہلی فلم کی ریلیز کے ایک سال کے اندر اندر ہی ان کی مغربی پاکستان کی پہلی فلم سنگدل (1968) بھی ریلیز ہوگئی تھی۔
بنگالی اداکار ، مغربی پاکستان کی فلموں میں
شبانہ کے علاوہ مشرقی پاکستان کے جن فنکاروں کو مغربی پاکستان کی فلموں میں موقع دیا گیا تھا ان میں سے ایک شوکت اکبر تھے جنھیں فلم شریک حیات (1968) میں ایک ثانوی رول دیا گیا تھا۔
ڈھاکہ کی فلموں کے مقبول بنگالی ہیرو عظیم کو فلم لو ان جنگل (1970) میں عالیہ کے مقابل ہیرو لیا گیا تھا۔ یہ فلم لاہور کی ٹیم کی تھی لیکن اس کی زیادہ تر شوٹنگ مشرقی پاکستان میں ہوئی تھی جس کی وجہ سے کچھ لوگ اسے ڈھاکہ کی فلموں میں شمار کرتے ہیں۔ یہ لاہور کی ان تین فلموں میں سے ایک تھی جنھیں بنگالی زبان میں ڈب کر کے ریلیز کیا گیا تھا۔
لاہور کی پہلی اور اکلوتی پنجابی فلم جسے بنگالی زبان میں ڈب کیا گیا تھا ، وہ اداکار اکمل کی پہلی فلم جبرو (1956) تھی۔ دوسری فلم گیت کہیں سنگیت کہیں (1969) تھی جس کی فلمساز نسیمہ خان تھی ، جس کا اپنا تعلق بنگال سے تھا۔ اس فلم کا بنگلہ ورژن "ارمان" کے نام سے ریلیز کیا گیا تھا۔
ان کے علاوہ فلم گھر کی لاج (1966) اور جلتے سورج کے نیچے (1971) ایسی فلمیں ہیں کہ جن کے بارے میں شک ہے کہ کیا واقعی وہ ڈھاکہ میں بنی تھیں۔
یاد رہے کہ سو فیصدی حقائق تلاش کرنا بڑا مشکل کام ہے لیکن کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے ہی معتبر معلومات ملیں ، انھیں پاکستان فلم میگزین پر اپ ڈیٹ کر دیا جائے۔
اس مضمون کی تیاری کے دوران مشرقی پاکستان میں بننے والی فلموں کا صفحہ اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جس میں تمام اردو اور بنگالی فلموں کی فہرستوں کے علاوہ بزنس ریکارڈز ، فنکاروں کے ریکارڈز اور ڈھاکہ کی فلموں کے گیتوں کی فہرستیں بھی نئے سرے سے مرتب کی گئی ہیں اور ایک طرح سے دریا کو کوزے میں بند کرنے کو کوشش کی گئی ہے۔
ڈھاکہ کی اردو فلموں کے دیگر اداکار
آخر میں ان فنکاروں کا ذکر بھی ہوجائے جو صرف ڈھاکہ کی اردو یا بنگالی فلموں تک محدود رہے لیکن پاکستان بھر میں جانے جاتے تھے۔
ان میں مشرقی پاکستان کی پہلی کمرشل فلم چندا (1962) اور پہلی سینما سکوپ فلم مالا (1965) کی ہیروئن سلطانہ زمان کے علاوہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم سنگم (1964) کی ہیروئنوں روزی اور سمیتا دیوی کو لاہور یا کراچی کی کسی فلم میں کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔
مغربی پاکستان کی فلموں سے وحیدمراد اکلوتے ہیرو تھے جنھیں ڈھاکہ کی فلم بھیا (1966) میں کاسٹ کیا گیا تھا۔ ان کی ہیروئن چترا سنہا بھی صرف ڈھاکہ تک محدود رہی۔
مشرقی پاکستان کی کراچی میں آؤٹ ڈور شوٹنگ کرنے والی شاید واحد فلم بہانہ (1965) کی ہیروئن کابوری کو بھی موجودہ پاکستان کے کسی فلمساز یا ہدایتکار نے درخوراعتنا نہیں سمجھا تھا۔ ایسا ہی سچندا اور سجاتا کے ساتھ ہوا جو ڈھاکہ کی اردو اور بنگالی فلموں کی نامور اداکارائیں تھیں۔
دیگر فنکاروں میں ڈھاکہ فلموں کے مقبول ہیروز ، ہارون ، خلیل ، انورحسین اور رزاق ، مزاحیہ اداکاروں سبھاش دتہ اور ڈئراصغر کے علاوہ معاون اداکار مصطفیٰ بھی صرف مشرقی پاکستان تک ہی محدود رہے۔
خان عطاالرحمان ، عبدالجبارخان اور ظہیرریحان جیسے بھاری بھر کم آل راؤنڈ فنکاروں کو بھی مغربی پاکستان میں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا تھا۔
علیحدگی کے بعد ڈھاکہ فلموں کے کئی فنکار پاکستان چلے آئے جو پاکستان کی سلورسکرین پر بھی نظر آئے۔ ان میں جلیل افغانی ، مرزا شاہی ، نینا اور گرج بابو وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
دوسری طرف پاکستان سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والے بنگالی فنکاروں میں موسیقار دیبو بھٹا چاریہ اور مصلح الدین ، گلوکاروں میں رونالیلیٰ اور شہناز بیگم ، پاکستان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
ڈھاکہ کی اردو فلموں کے مقبول گلوکاروں میں فردوسی بیگم ، بشیراحمد اور سبینہ یاسمین بھی لاہور کے موسیقاروں کو متاثر نہ کر سکے تھے۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان کے گلوکاروں میں احمدرشدی ، مالا ، آئرین پروین اور مسعودرانا نے بڑی تعداد میں مشرقی پاکستان کی اردو فلموں کے لیے گیت گائے تھے۔
اصل میں یہ گیت ڈبل ورژن ہوتے تھے یعنی فردوسی بیگم اور بشیراحمد کے گائے ہوئے بنگالی گیتوں کو انھیں دھنوں پر اردو میں لاہور سٹوڈیوز میں ریکارڈ کروایا جاتا تھا۔ مزے کی بات ہے کہ ڈھاکہ کی فلموں کے لیے میڈم نورجہاں نے تین ، سلیم رضا نے دو اور مہدی حسن نے صرف ایک گیت گایا تھا۔
مغربی پاکستان کے جن گنے چنے فنکاروں کو مشرقی پاکستان کی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا ان میں شیم آرا فلم تنہا (1964) اور ایک ظالم ایک حسینہ (1970) ، دیبا فلم ملن (1964) ، رانی فلم آخری سٹیشن (1965) ، وحیدمراد فلم بھیا (1966) اور سنگیتا فلم کنگن (1969) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ معاون اداکاروں میں غالباً ترانہ ، طلعت صدیقی اور نرالا نے بھی ڈھاکہ کی فلموں میں کام کیا تھا۔ مغربی پاکستان کے کسی ہدایتکار ، موسیقار ، نغمہ نگار وغیرہ کی ڈھاکہ کی کسی خاص فلم یا گیت کا حوالہ نہیں ملتا۔
'افروزہ سلطانہ رتنا' کے نام سے 1952ء میں ڈھاکہ میں پیدا ہونے والی اداکارہ شبانہ نے دس بار بنگلہ دیش کا بہترین اداکارہ کا قومی ایوارڈ جیتا تھا۔ اس نے ایک بنگالی فلمساز سے شادی کر کے نوے کی دھائی کے آخر میں فلمی دنیا کو خیرآباد کہہ دیا تھا اور اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہے۔
مسعودرانا اور شبانہ کے 4 فلمی گیت
| 1 | یہ سماں ، موج کا کارواں ، آج اے ہمسفر ، لے چلا ہے کہاں..فلم ... چاند اور چاندنی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: کریم شہاب الدین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: شبانہ ، ندیم |
| 2 | تجھے پیار کی قسم ہے ، میرا پیار بن کے آ جا ، میری بے قراریوں کا توقرار بن کے آ جا..فلم ... چاند اور چاندنی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: کریم شہاب الدین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم ، شبانہ |
| 3 | آ جاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے کچھ سن لیں گے..فلم ... داغ ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: امین اختر ... اداکار: ندیم ، شبانہ |
| 4 | ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے ، کرے کنگن یہ سن سن ، نیا کنارے چلی جائے رے..فلم ... پائل ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ، نبیتا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: جاوید ، شبانہ |
مسعودرانا اور شبانہ کے 4 اردو گیت
| 1 | یہ سماں ، موج کا کارواں ، آج اے ہمسفر ، لے چلا ہے کہاں ...(فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968) |
| 2 | تجھے پیار کی قسم ہے ، میرا پیار بن کے آ جا ، میری بے قراریوں کا توقرار بن کے آ جا ...(فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968) |
| 3 | آ جاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے کچھ سن لیں گے ...(فلم ... داغ ... 1969) |
| 4 | ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے ، کرے کنگن یہ سن سن ، نیا کنارے چلی جائے رے ...(فلم ... پائل ... 1970) |
مسعودرانا اور شبانہ کے 0 پنجابی گیت
مسعودرانا اور شبانہ کے 0سولو گیت
مسعودرانا اور شبانہ کے 4دوگانے
| 1 | یہ سماں ، موج کا کارواں ، آج اے ہمسفر ، لے چلا ہے کہاں ...(فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968) |
| 2 | تجھے پیار کی قسم ہے ، میرا پیار بن کے آ جا ، میری بے قراریوں کا توقرار بن کے آ جا ...(فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968) |
| 3 | آ جاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے کچھ سن لیں گے ...(فلم ... داغ ... 1969) |
| 4 | ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے ، کرے کنگن یہ سن سن ، نیا کنارے چلی جائے رے ...(فلم ... پائل ... 1970) |
مسعودرانا اور شبانہ کے 0کورس گیت
Masood Rana & Shabana: Latest Online film
Masood Rana & Shabana: Film posters
Masood Rana & Shabana:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Shabana:
Total 8 joint films
(6 Urdu and 0 Punjabi films)| 1. | 1965: Sagar(Urdu) |
| 2. | 1965: Mala(Bengali/Urdu double version) |
| 3. | 1966: Bhayya(Urdu) |
| 4. | 1968: Chand Aur Chandni(Urdu) |
| 5. | 1968: Qulli(Urdu) |
| 6. | 1969: Daagh(Urdu) |
| 7. | 1970: Payel(Bengali/Urdu double version) |
| 8. | 1970: Chand Suraj(Urdu) |
Masood Rana & Shabana: 4 songs
(4 Urdu and 0 Punjabi songs)
| 1. | Urdu filmChand Aur Chandnifrom Friday, 12 April 1968Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Karim Shahabuddin, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Nadeem, Shabana |
| 2. | Urdu filmChand Aur Chandnifrom Friday, 12 April 1968Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Karim Shahabuddin, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Shabana, Nadeem |
| 3. | Urdu filmDaaghfrom Friday, 4 April 1969Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Robin Ghosh, Poet: Anis Akhtar, Actor(s): Nadeem, Shabana |
| 4. | Urdu filmPayelfrom Friday, 22 May 1970Singer(s): Masood Rana, Naveeta, Music: Ali Hossain, Poet: Akhtar Yousuf, Actor(s): Javed, Shabana |

Dhol Javania Manay
(1972)

Noukar
(1955)

Blind Love
(2016)

Deevar
(1954)

Phannay Khan
(1965)

Daku Tay Insan
(1973)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔





































F.D. Sharf
M.J. Rana
Mushtaq Ali
Arsh-e-Munir
Shaukat Hussain Rizvi
Anwar Solangi
Humaima Malick
Nadeem
Musarrat Shaheen
Najam Naqvi
Ghulam Hussain Shaggan
Mizla
Dildar Parvez Bhatti
Samiya Mumtaz
Aisha Khan
Ahmad Aqeel Rubi








