A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1047 songs in 652 films

مسعودرانا اور ندیم

Nadeem
ندیم
اردو فلموں کے مقبول
اور کامیاب ترین اداکار تھے

اداکار ندیم ، اردو فلموں کے کامیاب اور مقبول ترین فلمی ہیرو تھے۔۔!

ندیم کی پیدائش 1941ء میں مدراس ، بھارت میں ہوئی تھی۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان پاکستان چلا آیا تھا۔ سکول کے زمانے ہی سے انھیں گانے کا شوق تھا۔ کراچی میں کالج کے بعد ایک کمپنی میں ملازمت کی۔ اس دوران اپنے فارغ اوقات میں کراچی سٹیج پر شوقیہ گاتے تھے۔ جس میوزیکل گروپ میں وہ شامل تھے ، ویکلی نگار کراچی کے 22 اگست 1999ء کے ایک شمارے میں سینئر مضمون نگار رضوان حیدربرنی مرحوم کے مطابق اس گروپ میں مسعودرانا اور اخلاق احمد بھی شامل تھے۔ مسعودرانا کو تو جلد ہی موقع مل گیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے چوٹی کے گلوکار بن گئے تھے لیکن ندیم اور اخلاق احمد کے لیے خاصی جدوجہد باقی تھی۔ اس دوران ندیم نے موسیقار نثاربزمی کے ساتھ دو فلموں 'سہرا' اور 'یہ کراچی ہے' نامی فلموں کے لیے گیت ریکارڈ کروائے تھے لیکن وہ فلمیں کبھی نہ بن سکیں۔ فلم سہرا میں ان کے جس گیت کا حوالہ ملتا ہے ، وہ تھا "بہت یاد آئیں گے وہ دن۔۔" یہ گیت بعد میں نثاربزمی نے مہدی حسن سے سولو اور مالا اور احمدرشدی سے دوگانے کی صورت میں فلم انیلا (1969) میں گوایا تھا اور ندیم صاحب پر ہی فلمایا گیا تھا۔

Nadeem & Firdousi Begum
فردوسی بیگم اور ندیم
اتفاق سے ندیم کی کمپنی نے انھیں ڈھاکہ بھیج دیا تھا جہاں تعیناتی کے دوران فارغ اوقات میں گائیکی کا شوق جاری رہا اور وہ ، ریڈیو اور ٹی وی پر اردو اور بنگالی میں گاتے رہے۔ اس دوران ڈھاکہ میں بننے اور ریلیز ہونے والی فلم کیسے کہوں (1965) ، پہلی فلم تھی جس میں ندیم کو کوئی فلمی گیت گانے کا موقع ملا۔ موسیقار الطاف محمود کی دھن میں سروربارہ بنکوی کا لکھا ہوا پہلا فلمی گیت تھا "کیسے کہوں میں ، جاناں او جاناں۔۔" یہ ایک دوگانا تھا جس میں ساتھی گلوکارہ فردوسی بیگم تھی جو سابقہ مشرقی پاکستان کی اردو فلموں کی مقبول ترین گلوکارہ تھی۔ اسی گلوکارہ کے ساتھ ندیم صاحب نے اپنا دوسرا گیت فلم بیگانہ (1966) میں گایا تھا "میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔۔" روبن گھوش کے ساتھ یہ ان کا پہلا گیت تھا جنہوں نے اپنی اگلی فلم چکوری (1967) میں بھی ندیم اور فردوسی بیگم سے یہ دوگانا گوایا تھا "کبھی تو تم کو یاد آئیں گی ، وہ بہاریں ، وہ سماں۔۔" اصل میں یہ گیت فلم کے پہلے ہیرو عظیم اور ہیروئن شبانہ پر فلمایا جانا تھا لیکن کسی وجہ سے ہدایتکار احتشام نے اداکار عظیم کو کٹ کر کے ندیم صاحب کو ہیرو لے لیا جنہیں گانے کا شوق تو تھا لیکن اداکاری سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس فلم میں اپنے اس اکلوتے گیت کو ندیم نے اردو کے علاوہ بنگالی زبان میں بھی گایا تھا اور اتفاق سے اپنے پہلے تینوں گیت فردوسی بیگم کے ساتھ گائے تھے۔

ہدایتکار احتشام کی شاہکار فلم چکوری کو پہلے ، 22 مارچ 1967ء کو عیدالاضحی کے دن ڈھاکہ میں بنگالی زبان میں ریلیز کیا گیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس فلم کو پہلے اردو زبان میں ہی بنایا گیا ہو اور پھر بنگالی زبان میں ڈب کر لیا گیا ہو کیونکہ اس کے بنگالی ورژن میں ایک اردو گیت بھی تھا۔ بنگالی ، اپنی زبان کے مسئلہ پر بڑے متعصب اور تنگ نظر ہوتے تھے۔ ڈھاکہ میں بننے والی بیشتر اردو فلمیں ، اصل میں ڈبل ورژن بنگالی/اردو فلمیں ہوتی تھیں۔ اس فلم میں ندیم کے ساتھ اداکار شبانہ کو ٹائٹل رول میں پیش کیا گیا تھا جو قبل ازیں متعدد فلموں میں ایکسٹرا اداکارہ کے طور پر کام کر چکی تھی اور بعد ازاں ڈھاکہ فلموں کی کامیاب ترین اداکارہ ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم میں مجیب عالم کے گائے ہوئے گیت "وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں۔۔" کے دوران فلم کے ہدایتکار احتشام بھی مہمانوں میں نظر آتے ہیں۔ اس دوران عکاسی بڑے کمال کی تھی اور شبانہ کو کلوزاپ میں انتہائی پرکشش عکس بند کیا گیا تھا۔

ڈھاکہ میں زبردست کامیابی کے بعد فلم چکوری (1967) کو اردو زبان میں 19 مئی 1967ء کو کراچی میں ریلیز کیا گیا تھا۔ موسیقار روبن گھوش تھے جو ندیم صاحب کی گائیکی کی صلاحیتوں سے کچھ زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ فلم کے باقی مردانہ گیت دیگر گلوکاروں سے گوائے تھے۔ ندیم پر پہلا گیت احمدرشدی کا گایا ہوا فلمایا گیا تھا "پیارے پیارے ، یار ہمارے ، ہاتھ دکھاتے جانا۔۔" دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگالی ورژن میں بھی یہ اردو گیت موجود تھا۔ اس فلم کے دیگر بنگالی مرادنہ گیت بشیراحمد کی آواز میں تھے جو ڈھاکہ فلموں کے مقبول ترین گلوکار تھے۔ بنگالی ورژن کے سبھی گیت ڈھاکہ سٹوڈیوز میں مزمل نامی ساؤنڈ ریکارڈسٹ نے ریکارڈ کیے تھے جبکہ اردو ورژن کے گیت افضل حسین اور ملک منصور نے لاہور سٹوڈیوز میں ریکارڈ کیے تھے۔ اس فلم کے بنگالی ڈائیلاگ زین العابدین نے جبکہ اردو مکالمے اور گیت اختریوسف نے لکھے تھے۔ اس فلم کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ آرٹ کا شعبہ فرزانہ احتشام کے سپرد تھا جو فلم ڈائریکٹر احتشام کی صاحبزادی تھیں اور جن کی شادی 28 ستمبر 1969ء کو ندیم صاحب کے ساتھ ہوئی تھی۔

فلم چکوری (1967) کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کراچی میں نمائش کے بعد پہلے کچھ دن یہ فلم بڑی نرم جارہی تھی لیکن پھر یہ خبر عام ہوئی کہ لوکل بوائے 'مرزا نذیر بیگ' جو ایک سٹیج گلوکار کے طور پر کراچی کا ایک جانا پہچانا نام تھا ، اب ندیم کے نام سے فلم کا ہیرو ہے۔ شائقین جوق در جوق سینماؤں کا رخ کرنے لگے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ فلم چکوری (1967) نے کراچی کے پیراڈائز سینما پر مسلسل 5 ماہ یا 20 ہفتے چلتے ہوئے مجموعی طور پر 81 ہفتے چل کر کراچی کی دوسری پلاٹینم جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اگلے چار عشروں تک اہل کراچی کے لیے ندیم صاحب کا جادو سر چڑھ کر بولا اور ان کی کشش فلم بینوں کو سینماگھروں تک کھینچ لاتی تھی۔

Nadeem on Pakistan Film Magazine
ندیم کے انفرادی فلم ریکارڈز
پاکستان فلم میگزین پر ندیم صاحب کے انفرادی فلم ریکارڈز کو ازسرنو مرتب کیا گیا ہے اور ایک طرح سے دریا کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے۔ چند کلکس کے نیچے ندیم صاحب کا نصف صدی کا پورا فلمی کیرئر موجود ہے۔ تمام فلموں کی سال بہ سال فہرست ، فلمی پوسٹرز ، بزنس ریکارڈز ، جوبلیاں ، اہم ساتھی اداکاروں اور ہدایتکاروں کے ساتھ فلموں کے ریکارڈز کے علاوہ ندیم صاحب پر فلمائے ہوئے اور ان کے اپنے گائے ہوئے گیتوں کی فہرستیں بھی مرتب کی گئی ہیں۔ اتنی ہمہ گیر معلومات کے بعد اس طویل مضمون کی ضرورت تو نہ تھی۔ لیکن مسعودرانا صاحب کے بارے میں مضامین کے اس عظیم سلسلے کو شروع کیا تھا تو خیال تھا کہ ان کے ساتھی فنکاروں کے بارے میں سرسری سی معلومات ہوں گی لیکن پھر خیال آیا کہ ایسے کام روز روز نہیں ہوتے کیوں نہ ایک ہی بار مکمل تفصیلات کو محفوظ کرلیا جائے۔ طوالت سے بچنے کے لیے ندیم صاحب کے نصف صدی کے انتہائی قابل رشک فلمی کیرئر کا تذکرہ بڑے اختصار سے کیا جارہا ہے جس میں زیادہ تر ان کے ہیرو شپ کے دور اور اہم ترین واقعات اور ریکارڈز کا ذکر کیا گیا ہے۔

1967ء میں فلم چکوری کے علاوہ ندیم کی ایک اور فلم چھوٹے صاحب (1967) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کو بھی کراچی میں گولڈن جوبلی کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان دونوں فلموں کی کامیابی سے متاثر ہو کر انھیں مغربی پاکستان کی فلموں میں بھی کاسٹ کرلیا گیا تھا۔

1968ء میں اپنے دوسرے ہی سال ندیم کی کل 7 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ ان میں سے 4 فلمیں میڈ ان لاہور تھیں جن میں سے دو سپرہٹ گولڈن جوبلی فلمیں تھیں۔ پہلی فلم ، دیبا کے ساتھ نغمہ بار فلم سنگدل (1968) تھی جس میں ندیم پر مسعودرانا کا پہلا گیت "او میرے شوخ صنم۔۔" فلمایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم کا انھوں نے اتنا معاوضہ لیا تھا کہ جو اسوقت کے اردو فلموں کے سپرسٹارز محمدعلی اور وحیدمراد بھی نہ لیتے تھے۔ ندیم کی دوسری فلم رانی کے ساتھ بہن بھائی (1968) ، ایک ملٹی کاسٹ سپرہٹ فلم تھی۔ فلم میں کہاں منزل کہاں (1968) میں ندیم کی جوڑی اداکارہ ادا کے ساتھ تھی جو اداکارہ زمرد کی بہن تھی۔ یہ ایک اوسط درجہ کی فلم تھی جبکہ فلم پڑوسی (1968) ناکام رہی تھی۔

مشرقی پاکستان کی تین فلموں میں سے پہلی چاند اور چاندنی (1968) ، ایک کمزور اور اوسط درجہ کی فلم تھی لیکن بہت بڑی میوزیکل فلم تھی۔ مسعودرانا کا شاہکار گیت "تیری یاد آگئی ، غم خوشی میں ڈھل گئے۔۔" ندیم پر فلمایا گیا تھا۔ فلم تم میرے ہو (1968) ندیم اور شبنم کی سپرہٹ جوڑی کی پہلی مشترکہ فلم تھی لیکن اتفاق سے ریلیز کے اعتبار سے ندیم کی پہلی ناکام فلم بھی تھی۔ فلم قلی (1968) میں مسعودرانا اور احمدرشدی کا ماں کے موضوع پر گایا ہوا یہ یادگار گیت "قدموں میں تیرے جنت میری ، میں تجھ پر قربان ، اے ماں ، پیاری ماں۔۔" فلم کا حاصل تھا۔ اسی فلم میں ندیم نے اپنا پہلا سولو گیت گایا تھا "میرے حبیب تم ہو ، میرا نصیب تم ہو۔۔" موسیقار علی حسن تھے۔

1969ء میں ندیم کی 6 فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوئی تھیں۔ فلم دیا اور طوفان (1969) میں ایک سین میں نظر آنے والے مہمان اداکار تھے۔ باقی پانچوں فلموں میں فرسٹ ہیرو تھے اور حیرت کی بات ہے کہ صرف فلم نازنین (1969) ہی سلورجوبلی کر سکی تھی جس میں مسعودرانا کے چار لاجواب گیت ندیم پر فلمائے گئے تھے جن میں "میرا خیال ہو تم ، میری آرزو تم ہو۔۔" فلم کی ہائی لائٹ تھا۔ لاہور کی دیگر دونوں فلموں انیلا اور فسانہ دل (1969) کے علاوہ مشرقی پاکستان کی دونوں فلمیں اناڑی اور داغ (1969) بھی ناکام ہوگئی تھیں۔ فلم اناڑی (1969) میں ندیم اور فردوسی بیگم کا الگ الگ گایا ہوا گیت "لکھے پڑھے ہوتے اگر تو تم کو خط لکھتے۔۔" بڑا مشہور ہوا تھا۔ فلم داغ (1969) میں روبن گھوش نے مسعودرانا اور آئرن پروین سے دھیمی سروں میں ایک دلکش دوگانا گوایا تھا "آجاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے ، کچھ سن لیں گے۔۔" ایسے گیت سن کر مسعودرانا کی گائیکی کی صلاحیتوں پر رشک آتا تھا۔

1970ء میں ندیم کی پانچوں فلمیں مغربی پاکستان کی بنی ہوئی تھیں۔ ان میں ایک فلم چاندسورج (1970) ایک عجیب فلم تھی جس میں دوکہانیاں تھیں۔ پہلے ہاف میں روزینہ اور وحیدمراد اور دوسرے ہاف میں شبانہ اور ندیم کی کہانیاں تھیں۔ وحیدمراد کے ساتھ ندیم کی یہ پہلی فلم تھی۔ فلم بازی (1970) میں ندیم نے پہلی بار محمدعلی کے مقابل کام کیا تھا ، اداکارہ نشو کی یہ پہلی فلم تھی۔ فلم جلے نہ کیوں پروانہ (170) میں ندیم کو کمال اور شبنم کے ساتھ بھارتی فلم انداز (1949) کی نقل میں بالترتیب دلیپ کمار، راج کپور اور نرگس کے کرداروں میں پیش کیا گیا تھا۔ اس فلم میں ناشاد کی دھن میں ندیم کا گایا ہوا گیت "محبتوں کے قدردان ، نہ شہر میں ، نہ گاؤں میں۔۔" بڑا زبردست گیت تھا۔ فلم شمع اور پروانہ (1970) ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی اور ایسی ہی ایک نغماتی فلم سوغات (1970) بھی تھی۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ یہ پانچوں فلمیں کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھیں۔ ستر کے عشرہ میں کراچی میں سلورجوبلی کرنے والی فلمیں عام طور پر ناکام یا زیادہ سے زیادہ اوسط درجہ کی فلمیں ہوتی تھیں۔

1971ء میں ندیم کی 4 فلمیں منظرعام پر آئیں۔ فلم آنسو (1971) واحد سپرہٹ فلم تھی۔ اداکار شاہد اور اداکارہ ممتاز کی یہ پہلی پہلی فلم تھی۔ یہ فلم جہاں پنجابی فلموں کی سپرسٹار فردوس کے ینگ ٹو اولڈ رول کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہے وہاں مسعودرانا کے امر گیت "تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں۔۔" کی وجہ سے بھی ایک یادگار فلم تھی۔ ندیم صاحب کی یہ اکلوتی فلم تھی جو میں نے اپنے پہلے چار سالہ فلمی دور میں دیکھی تھی۔ چراغ کہاں روشنی کہاں (1971) میں مسعودرانا کے دو دلکش گیت ندیم پر فلمائے گئے تھے "حال دل آج ہم سنائیں گے۔۔" اور "میری دعا ہے کہ تو بن کے ماہتاب رہے۔۔" یہ ایک اوسط درجہ کی فلم ثابت ہوئی تھی۔ فلم پرائی آگ کے علاوہ جلتے سورج کے نیچے (1971) ناکام رہی تھیں جو مشرقی پاکستان میں بننے والی آخری فلم تھی جس کے ہدایتکار ظہیر ریحان تھے۔ فلم کے ٹائٹل سے ان کا نام حذف کردیا گیا تھا کیونکہ وہ بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے ایک سرگرم کارکن تھے اور قدرتی بات ہے کہ پاکستان میں ایک غدار کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اس فلم میں ندیم نے ٹرپل رول کیا تھا اور روزینہ کے علاوہ ببیتا نامی اداکارہ بھی ان کی ہیروئن تھی۔

1972ء کی 6 فلموں میں ندیم کا نام آتا ہے۔ ان میں آؤ پیار کریں ، انگارے ، سہاگ ، من کی جیت ، پازیب اور احساس (1972) تھیں۔ ان میں کوئی ایک بھی فلم کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھی۔ فلم پازیب (1972) ، ندیم کے دیرینہ دوست گلوکار اخلاق احمد کی پہلی فلم تھی۔

1973ء میں ندیم صاحب کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم نادان (1973) ریلیز ہوئی تھی جو زرقا (1969) اور دوستی (1971) کے بعد پاکستان کی تیسری ڈائمنڈ جوبلی فلم تھی۔ کراچی میں اس فلم نے 102 ہفتے چلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ یہ بھارتی فلم گوپی (1970) کی کاپی تھی اور ندیم کو دلیپ کمار بنایا گیا تھا۔ اس سال کی 7 فلموں میں سے فلم خوشیا (1973) میں مہمان اداکار تھے جبکہ تیرا غم رہے سلامت (1973) میں شاہد کے مقابل سیکنڈ ہیرو تھے۔ سہرے کے پھول اور بادل اور بجلی (1973) اوسط درجہ کی فلمیں تھیں۔ سوسائٹی (1973) ایک کامیاب فلم تھی۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم دامن اور چنگاری (1973) تھی جس میں ندیم ، محمدعلی کے مقابل ثانوی رول میں تھے لیکن پہلی بار زیبا کے ساتھ آدھے ہیرو بھی تھے۔ فلم مسٹربدھو (1973) میں موسیقار کمال احمد نے ایک گیت کمپوز کیا تھا "کتنے اشک پیے ہیں ، پھر بھی پیاسا ہوں۔۔" یہ ندیم کا گایا ہوا اکلوتا گیت ہے جو کسی دوسرے اداکار یعنی قوی پر فلمایا گیا تھا۔

1974ء کا سال ندیم کے انتہائی عروج کا سال ثابت ہوا تھا جب ان کی ایک کیلنڈر ائر میں 13 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ اداکارہ شبنم کے ساتھ دل لگی (1974) ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔ فلم کے مقبول ترین گیت مسعودرانا کے گائے ہوئے تھے "مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم۔۔" اور "آگ لگا کر چھپنے والے۔۔" اسی سال ندیم نے بطور فلمساز اپنی پہلی فلم مٹی کے پتلے (1974) بنائی تھی جو ناکام رہی تھی۔ اس فلم کے ہدایتکار ان کے سسر احتشام تھے جو ان دنوں اپنی بیٹی کو ملنے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ اس سال کی ایک اور بات فلم بینوں کے لیے ناقابل فراموش تھی کہ اردو فلموں کے تینوں بڑے ہیروز ، محمدعلی ، وحیدمراد اور ندیم کو دو فلموں پھول میرے گلشن کا اور شمع (1974) میں ایک ساتھ دیکھا گیا تھا۔ فلم شمع اور سماج (1974) میں ندیم نے منفی رول کیے تھے۔ سولو ہیرو کے طور پر ان کی دیگر فلموں میں بھول ، دوبدن ، مس ہپی ، شرافت اور انتظار (1974) بھی کامیاب تھیں لیکن ساون آیا تم نہیں آئے اور دو تصویریں (1974) ناکام ترین فلمیں تھیں۔ اس سال کی ایک بہت بڑی نغماتی فلم بہشت (1974) بھی کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھی۔ فلم بھول (1974) میں ندیم کو زیادہ سے زیادہ یعنی تین گیت گانے کا موقع ملا تھا ، روبن گھوش موسیقار تھے۔ فلم دوبدن (1974) میں ندیم کا نیرہ نور اور احمدرشدی کے ساتھ یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا "بجاؤ بجاؤ ، میرے سنگ تالی۔۔" ایم اشرف موسیقار تھے۔

1975ء میں ندیم کی اردو فلموں پر اجارہ داری کا دور شروع ہو گیا تھا۔ ا س سال کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ایک ہی دن یعنی یکم اگست 1975ء کو ندیم کی دو فلموں پہچان اور اناڑی (1975) نے ڈائمنڈجوبلیاں منانے کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ ریکارڈ سلطان راہی کی تین ڈائمنڈ جوبلی فلموں شیرخان ، سالا صاحب اور چن وریام (1981) نے توڑا تھا جو 2 اگست 1981ء کو عید کے دن ریلیز ہوئی تھیں۔ اس سال کی دو فلمیں جب جب پھول کھلے اور زینت (1975) گولڈن جوبلی تھیں۔ ان کے علاوہ ساجن رنگ رنگیلا ، جاگیر ، معاشرہ ، گمراہ اور امنگ ناکام جبکہ فرض اور مامتا ، ہار گیا انسان ، دلنشین ، پالکی ، روشنی اور زنجیر اوسط درجہ کی فلمیں تھیں۔

1976ء میں ندیم کی 9 فلمیں ، فلم بینوں کو دیکھنے کو ملی تھیں۔ ان میں فلم تلاش (1976) ڈائمنڈ جوبلی فلم تھی۔ کوشش ، سچائی اور محبت اور مہنگائی (1976) ، گولڈن جوبلی فلمیں تھیں۔ دو آنسو ، سیاں اناڑی اور انسان اور فرشتہ (1976) اوسط درجہ کی تھیں جبکہ دامن کی آگ اور جیو اور جینے دو (1976) ناکام فلمیں تھیں۔

1977ء کا سال ندیم کے لیے ایک یادگار سال تھا جب ان کی فلم آئینہ (1977) نے کراچی میں کل 401 ہفتے چل کر باکس آفس پر کامیابیوں کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 18 مارچ 1977ء کو ریلیز ہونے والی یہ ریکارڈ توڑ فلم 14 جنوری 1982ء تک کراچی میں چلتی رہی تھی۔ یہ عرصہ 4 سال ، 9 ماہ اور 27 دن بنتا ہے۔ اس فلم نے اپنے مین تھیڑ بمبینو پر مسلسل 48 ہفتے چلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ ندیم کی کسی فلم نے کبھی اپنے مین تھیٹر پر گولڈن جوبلی یا پچاس ہفتے چلنے کا اعزاز حاصل نہیں کیا تھا حالانکہ سلطان راہی کی متعدد فلمیں مین تھیٹرز پر سو سو ہفتے چلتی رہی تھیں۔ فلم آئینہ (1977) اپنی ریلیز کا زیادہ تر عرصہ ایک منی سینما سکالا میں چلتی رہی تھی جس میں صرف 144 سیٹیں تھی جبکہ ایک عام سینما میں اوسطاً چھ سے سات سو کے قریب سیٹیں ہوا کرتی تھیں۔ گویا اس حجم کے سینما میں اگر مولاجٹ (1979) یا شیرخان (1981) جیسی فلمیں چلتیں تو دس دس سال تک چلتی رہتیں۔

فلم آئینہ (1977) کی کامیابی نے دیگر 11 فلموں کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا اور کوئی ایک بھی فلم گولڈن جوبلی نہ کرسکی تھی۔ اس دور میں کراچی میں کم از کم ایک گولڈن جوبلی کرنے والی فلم ہی کامیاب فلم کہلاتی تھی ، باقی فلمیں زیادہ سے زیادہ اوسط یا ناکام ہوتی تھیں۔ ان تمام فلموں کی فہرست ندیم صاحب کے انفرادی فلم ریکارڈز کے صفحہ پر موجودہے۔

1978ء میں ندیم کی 7 فلمیں سامنے آئیں۔ امبر اور زندگی (1978) اس سال کی سب سے بڑی فلمیں تھیں۔ پلے بوائے اور پرنس (1978) بھی کامیاب فلمیں تھیں۔ انمول محبت (1978) ایک بہت اچھی اور بامقصد فلم تھی جبکہ مٹھی بھر چاول (1978) میں ندیم نے سکھ کا رول کیا تھا لیکن یہ فلم بھی کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھی۔

1979ء میں ندیم کی صرف 3 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ پنجابی فلم دہشت (1979) میں مہمان اداکار تھے جبکہ دوراستے (1979) ناکام رہی تھی۔ واحد کامیاب فلم پاکیزہ (1979) تھی جس میں انھوں نے شبنم کے ساتھ پہلی بار ینگ ٹو اولڈ رول کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس فلم سے جہلم کے پرنس سینما کا افتتاح ہوا تھا اور ہم نے یہ فلم وہاں دیکھی تھی۔

1980ء میں ندیم کی 7 فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوئیں۔ اس سال کی فلم بندش (1980) کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ پہلی اردو فلم تھی جس نے لاہور میں پلاٹینم جوبلی کی تھی۔ فلم ہم دونوں (1980) ایک ڈائمنڈجوبلی فلم تھی۔ صائمہ اور رشتہ (1980) گولڈن جوبلی فلمیں تھیں جبکہ اس سال کی دیگر فلمیں اوسط یا سلورجوبلی تھیں۔

1981ء میں ندیم کی صرف 3 فلمیں سامنے آئیں جن میں سے دو فلموں لاجواب اور قربانی (1981) نے ڈائمنڈجوبلیاں کی تھیں جبکہ وطن (1981) ناکام تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ایکشن پنجابی فلموں کا طوفان بدتمیزی اپنے عروج پر تھا اور مجھ جیسے بے شمار سنجیدہ فلم بین متبادل فلموں کی تلاش میں رہتے تھے۔ اس دور میں اردو فلموں کی تعداد کم ہوگئی تھی لیکن ان میں سے بیشتر فلمیں کامیاب ہوتی تھیں کیونکہ آپشن کم ہوتے تھے اور لوگ ایک ہی فلم دیکھنے پر مجبور ہوتے تھے۔

1982ء میں ندیم کی 7 فلمیں دیکھنے کو ملیں۔ سنگدل (1982) ڈائمنڈجوبلی ، میاں بیوی راضی (1982) پلاٹینم جوبلی اور مہربانی (1982) گولڈن جوبلی تھیں۔ باقی چاروں فلمیں اوسط یا سلورجوبلی تھیں۔

1983ء میں 3 فلموں میں ندیم ہیرو تھے۔ دہلیز (1983) ڈائمنڈجوبلی ، دیوانگی (1983) گولڈن جوبلی جبکہ گمنام (1983) سلورجوبلی فلمیں تھیں۔

1984ء میں ندیم کا نام 5 فلموں میں ملتا ہے۔ بسیرا اور کامیابی (1984) گولڈن جوبلی جبکہ دیگر تین فلمیں سلورجوبلی تھیں۔ فلم بسیرا (1984) میں ایک طویل عرصہ بعد ندیم کی جوڑی ایک بار پھر شبانہ کے ساتھ ہوئی تھی ، یہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی پہلی کوپروڈکشن تھی۔ فلم کامیابی (1984) میں ماسٹرخرم کا کردار حیرت انگیز طور پر میرے بچپن کا مکمل عکس تھا جو ڈنمارک آمد کے بعد مجھے اپنے ندیم ٹائپ والد صاحب مرحوم و مغفور کے ساتھ گزارنا پڑا تھا۔

1985ء میں ندیم کے حصہ میں 6 فلمیں آئیں۔ ہم سے ہے زمانہ اور زمین آسمان (1985) گولڈن جوبلی تھیں۔ باقی سبھی فلمیں سلورجوبلی یا درمیانہ درجہ کی تھیں۔

1986ء میں ندیم کو 4 فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ حساب اور فیصلہ (1986) گولڈن جوبلی جبکہ باقی فلمیں سلورجوبلی ریکارڈ ہوئیں۔

1987ء میں ایک بار پھر ندیم کی 4 ہی فلمیں تھیں جن میں چوروں کی بارات (1987) واحد گولڈن جوبلی فلم تھی۔ یہ پہلی ڈبل ورژن فلم تھی جو بنی تو پنجابی زبان میں تھی لیکن کراچی سرکٹ کے لیے اردو میں ڈب کر کے پیش کی گئی تھی۔ ایسی فلموں میں کئی ایک گیت اور مکالمے ایسے بھی ہوتے تھے کہ جو اردو ورژن میں بھی پنجابی زبان میں ہوتے تھے۔ ایسے گیت اور مکالمے 'اہل زبان' یا اردو فلم بینوں کی سماعت پر بڑے گراں گزرتے تھے۔ کراچی کے فلمی میڈیا میں تو پنجابی/اردو ڈبل ورژن فلموں کے خلاف باقاعدہ ایک مہم بھی چلائی گئی تھی۔

1988ء میں ریلیز کے اعتبار سے 137ویں فلم مکھڑا (1988) ، ندیم کی پہلی خالص پنجابی فلم تھی۔ اس فلم کے فلمساز بھی وہ خود تھے جبکہ بطور ہیرو ان کی ہیروئن بابرہ شریف تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میڈیا میں آیا تھا کہ رنگیلا نے اپنی ایک گلاب نامی پنجابی فلم کے لیے ندیم کو بھاری معاوضہ پر کام کرنے کی دعوت دی تھی جو انھوں نے ٹھکرا دی تھی لیکن جب اردو فلموں پر زوال آیا تو ندیم صاحب نہ صرف ایک پنجابی فلم بنانے پر مجبور ہوگئے بلکہ پنجابی فلموں میں اداکاری بھی کرنا پڑی۔ ندیم کا پنجابی تلفظ بڑا کمزور ہوتا تھا اور وہ کسی طور بھی پنجابی فلموں کے آئیڈیل اداکار نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خالص پنجابی فلمیں صرف تین تھیں ، باقی سب ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلمیں ہوتی تھیں۔

فلم مکھڑا (1988) میں ندیم نے پہلی اور آخری بار دو پنجابی گیت گائے تھے جن میں ایک گیت تھا "منڈیا ، دوپٹہ چھڈ میرا ، نئیں شرماں دا گھنڈ لائی دا۔۔" ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ گائے ہوئے اس دوگانے کے بارے میں وہ بڑی حیران کن بات بتاتے ہیں کہ اس دوگانے کو الگ الگ ریکارڈ کیا گیا تھا کیونکہ ندیم صاحب گاتے ہوئے میڈم کا سامنا نہیں کر سکتے تھے۔ البتہ اسی فلم کے دوسرے کورس گیت "دھک دھنا دھن دل گیا۔۔" میں گیت کا بیشتر حصہ میڈم گاتی ہیں ، آخری انترہ ندیم صاحب گاتے ہیں اور صرف آخری بول مسعودرانا کی آواز میں ہوتا ہے۔

اس سال کی ایک اردو فلم بازارحسن (1988) ، مولاجٹ (1979) کے فلمساز محمدسروربھٹی کی آخری فلم تھی۔ ندیم صاحب کی بھی بطور سولو ہیرو یہ آخری گولڈن جوبلی فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس سے اگلے سال یعنی 1989ء میں ندیم کی تینوں فلمیں کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھیں۔ اس سال ان کی دوسری پنجابی فلم تیس مارخاں (1989) ریلیز ہوئی تھی جس میں نادرہ ہیروئن تھی۔ یہ ناکام فلم بطور اداکارہ شمیم آرا کی دوسری اور آخری پنجابی فلم تھی۔

1990ء میں ندیم کی فلموں کی تعداد 7 ہوگئی تھی۔ انسانیت کے دشمن (1990) واحد گولڈن جوبلی فلم تھی۔ فلم بلندی (1990) میں پہلی بار نئی جوڑی ریما اور شان متعارف ہوئے تھے۔ ندیم نے اپنی تیسری اور آخری خالص پنجابی فلم گوری دیاں جھانجھراں (1990) میں ہیرو کے طور پر کام کیا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ اس ناکام ترین فلم میں بھی انھیں بہترین پنجابی فلم ہیرو کا نگار ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس سے قبل پنجابی فلم مکھڑا (1988) میں بھی بہترین پنجابی فلمی ہیرو کا نگار ایوارڈ دیا جا چکا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح پنجابی فلموں کے سپرسٹارز ، اکمل ، یوسف خان ، سلطان راہی اور اقبال حسن ، اردو فلموں کے ناکام اداکار تھے ، اسی طرح اردو فلموں کے سپرسٹارز ، محمدعلی ، وحید مراد اور ندیم بھی پنجابی فلموں کے ناکام اداکار تھے۔ ندیم صاحب جیسے پنجابی فلموں کے ایک ناکام اداکار کو تین میں سے دو فلموں میں بہترین پنجابی اداکار کا ایوارڈ دینا ایک بہت بڑا مذاق اور بددیانتی کی انتہا تھی۔ اس طرح کی بندربانٹ 'نگار ایوارڈ' کی اصلیت بیان کرنے کے لیے کافی تھی جسے یار لوگ طنزیہ 'ندیم ایوارڈ' بھی کہتے تھے کیونکہ ندیم صاحب کو تھوک کے حساب سے نگار ایوارڈ تھمائے گئے تھے۔ نگار ایوارڈز والوں کی عجیب منطق تھی کہ بعض فنکاروں کو دس ایوارڈ دینے کے بعد ایوارڈ سے بالا تر قرار دے دیا گیا تھا جیسے کہ مہدی حسن ، لیکن ندیم صاحب کے لیے الگ پالیسی تھی۔ ویسے نگار ایوارڈ دینے والوں نے بڑی زیادتی کی تھی۔ ان کا کیا جاتا اگر وہ ندیم صاحب کو ان کی تیسری پنجابی فلم پر بھی ایوارڈ تھما دیتے تو کم از کم سو فیصدی فلموں میں ایوارڈ لینے کا وولڈ ریکارڈ تو بن جاتا۔۔!

1991ء میں پہلی بار ریلیز ہونے والی ندیم صاحب کی چاروں فلمیں ناکام رہیں۔ اب ان کا ہیرو شپ کا دور گزرچکا تھا۔ ایکشن پنجابی فلموں کو اردو میں ڈب کر کے کراچی میں پیش کیا جاتا تھا جن میں ندیم صاحب کو صرف اس لیے شامل کیا جاتا تھا تا کہ وہ فلم کراچی میں بھی چل سکے۔ لیکن اردو فلم بین ، سلطان راہی کو پسند نہیں کرتے تھے جو عام طور پر ایسی فلموں کا مرکزی کردار ہوتے تھے۔ فلمسازوں کا المیہ یہ ہوتا تھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے پنجاب سرکٹ میں سلطان راہی کے بغیر فلم چل بھی نہیں سکتی تھی۔

1992ء میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی جب ندیم کی آٹھوں فلموں میں سے کوئی ایک بھی فلم کسی قابل ذکر کامیابی سے محروم رہی تھی۔ عبداللہ دی گریٹ اور چاہت (1992) ہی کراچی میں دو سلورجوبلی کرنے والی فلمیں تھیں۔ فلم خونی شعلے (1992) میں مسعودرانا کا ایک بھاری بھر کم گیت "سہریاں دے نال سوہنا مکھڑا سجا کے ، ووہٹی دے ہتھاں اتے مہندیاں رچا کے۔۔" ندیم پر فلمایا گیا تھا جس کی دھن ایم اشرف نے بنائی تھی۔

1993ء میں بھی 7 فلموں میں سے صرف دو خداگواہ اور انسانیت (1993) ہی سلورجوبلی کر سکی تھیں ، باقی سبھی فلمیں ناکام تھیں۔ اس سال کی فلم عروسہ (1993) میں مسعودرانا کی دل کو چھو لینے والی ایک لوری "دل میں ہے تو ، آنکھوں میں تو ، تیرے بنا کون میرا۔۔" ندیم صاحب پر فلمائی گئی تھی۔ یہ اردو اور پنجابی میں الگ الگ گائی گئی تھی اور اس کی دھن بھی ایم اشرف نے بنائی تھی۔

1994ء کی 4 فلموں میں سے بھی صرف دو فلمیں خاندان اور انٹرنیشنل لٹیرے (1994) ہی سلورجوبلی کر سکی تھیں۔ یہ آخری فلم بدنام زمانہ گستاخ رسول ، ملعون سلمان رشدی کے خلاف بنائی گئی تھی جس کے متعدد مناظر بین الاقوامی میڈیا میں دکھائے گئے تھے۔ اس فلم میں ندیم اور ساتھیوں پر ایک دھمال فلمائی گئی تھی "جب بھی علیؑ کا نام لیا ، سر سے ہر بلا ٹلی ، علیؑ ، علیؑ ، علیؑ۔۔" وجاہت عطرے کی دھن میں اس دھمال کو مسعودرانا کے علاوہ سائرہ نسیم ، شجاعت بوبی اور عارف پیرزادہ نے گایا تھا۔ یہ مسعودرانا کا آخری گیت تھا جو ندیم صاحب پر فلمایا گیا تھا۔

1995ء میں ندیم کی فلموں کی تعداد 9 تک جا پہنچی تھی۔ ان میں فلم جیوا (1995) ، کراچی میں صرف سلورجوبلی ہی کر سکی تھی لیکن لاہور میں پلاٹینم جوبلی کرگئی تھی۔ جوڈرگیا ، وہ مرگیا (1995) ایک گولڈن جوبلی فلم تھی جبکہ فلم میڈم رانی (1995) بھی ایک گولڈن جوبلی فلم تھی۔ اس فلم کا پہلا نام 'جنرل رانی' تھا جو سنسر کی وجہ سے بدلنا پڑا تھا۔ 'جنرل رانی' اصل میں ایک جیتا جاگتا بدنام زمانہ کردار تھا جو پاکستان کے ایک سابق صدر اور آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے مشہور زمانہ حرم کی سب سے مشہور داشتہ کا عوامی نام تھا۔

1996ء میں ندیم کی صرف دو فلمیں سامنے آئیں جن میں وہ روایتی ہیرو کی بجائے معاون اداکار تھے۔ فلم ہوائیں (1996) ایک گولڈن جوبلی فلم تھی۔

1997ء میں ندیم کی 11 فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے جن میں سے کوئی ایک بھی فلم گولڈن جوبلی نہیں تھی ، ناکامیوں کا تناسب بہت بڑھ گیا تھا۔ صرف دو سلورجوبلی فلموں کے علاوہ باقی نو فلمیں ناکام رہی تھیں۔

1998ء کی 6 فلموں میں ندیم صاحب معاون اداکار کے طور پر نظر آئے۔ سینما انڈسٹری پر زوال آچکا تھا اور فلمیں کسی بڑی کامیابی سے محروم رہتی تھیں۔

1999ء میں ندیم صاحب صرف دو فلموں میں نظر آئے تھے جن میں ایک گولڈن جوبلی فلم انتہا (1999) بھی تھی جس میں ہمایوں سعید پہلی بار بطور ہیرو نظر آئے تھے۔

2000ء میں بھی ندیم کی دونوں فلمیں ناکام رہیں۔ 2001ء میں اکلوتی فلم دل دیوانہ ہے (2001) اس لحاظ سے یادگار تھی کہ 1967ء کی فلم چکوری سے 2001ء کی فلم دل دیوانہ ہے تک ، ندیم صاحب کی 35 برسوں میں مسلسل 206 فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن اگلے سال یعنی 2002ء میں پہلی بار ان کی کوئی فلم سلور سکرین کی زینت نہ بن سکی تھی۔ ندیم صاحب کا فلمی کیرئر صرف معاون اداکار کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ 2003ء کے بعد وہ دو درجن فلموں میں معاون اداکار کے طور پر نظر آئے۔ اب تک کی آخری فلم سپرسٹار (2019) تھی۔

دستیاب ریکارڈز کے مطابق ندیم کی 225 فلموں میں سے 189 اردو ، 6 پنجابی اور 30 ڈبل ورژن تھیں۔ باکس آفس پر وہ اردو فلموں کے سب سے کامیاب فلمی ہیرو تھے۔ کراچی میں ان کی 10 ڈائمنڈ جوبلی ، 7 پلاٹینم جوبلی ، 34 گولڈن جوبلی اور 88 سلورجوبلی فلمیں تھیں۔ اتنی بھرپور کامیابی کے باوجود ندیم صاحب کو کبھی بھی محمدعلی اور وحیدمراد جیسے ہیوی ویٹ ہیروز پر برتری حاصل نہیں ہوتی تھی اور ان کے مقابلے میں وہ ایک لائٹ ویٹ فلمی ہیرو ہوتے تھے جنہیں کراچی کے فلم بینوں میں 'عوامی اداکار' کا درجہ حاصل تھا۔ ندیم کی شبنم کے ساتھ 50 فلمیں تھیں اور یہ ایک کامیاب ترین فلمی جوڑی تھی۔ ندیم نے دودرجن کے قریب فلمی گیت گائے تھے جبکہ دو فلموں کے فلمساز بھی تھے۔

ندیم کا اصل نام 'مرزا نذیر بیگ مغل' ہے۔ وہ 19 جولائی 1941ء کو مدراس میں پیدا ہوئے تھے۔ فلم کے علاوہ ٹیلیویژن کے بہت سے ڈراموں اور ٹاک شوز میں بھی دیکھے گئے۔ ندیم صاحب کو فلموں میں کبھی بھی 'ندیم بیگ' کے نام سے یاد نہیں کیا گیا لیکن ہمارے اناڑی میڈیا میں اس عظیم فنکار کو ایک دوسرے فنکار سے گڈمڈ کیا جارہا ہے۔ ندیم بیگ نام کے دور حاضر کے ایک کامیاب ہدایتکار ہیں جن کے کریڈٹ پر پنجاب نہیں جاؤں گی (2017) جیسی سپرہٹ فلم شامل ہے اور ان صاحب یعنی ندیم بیگ کا ہمارے ندیم صاحب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ندیم کی مسعودرانا کے ساتھ دیرینہ دوستی تھی۔ وہ کراچی سٹیج پر اکٹھے پرفارم کیا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1969ء میں ڈھاکہ میں ندیم کی شادی میں شرکت کرنے والے مسعودرانا ، مغربی پاکستان کے واحد مہمان تھے۔ مسعودرانا کے انتقال کے بعد مجھے ان کے گھر تعزیت کے لیے جانے کا موقع ملا تو مرحوم کی بیگم ، ندیم صاحب کے تعاون کی مشکور تھیں کیونکہ انھوں نے رانا صاحب کی بیٹی کو ملازمت حاصل کرنے کے لیے بڑی مدد کی تھی۔

مسعودرانا اور ندیم کے 46 فلمی گیت

(41 اردو گیت ... 5 پنجابی گیت )
1
فلم ... سنگدل ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ندیم ، روزینہ
2
فلم ... سنگدل ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ندیم ، دیبا
3
فلم ... چاند اور چاندنی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: کریم شہاب الدین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم
4
فلم ... چاند اور چاندنی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: کریم شہاب الدین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: شبانہ ، ندیم
5
فلم ... چاند اور چاندنی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: کریم شہاب الدین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم ، شبانہ
6
فلم ... بہن بھائی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: ندیم ، رانی
7
فلم ... قلی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم ، عظیم
8
فلم ... قلی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم
9
فلم ... قلی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم مع ساتھی
10
فلم ... داغ ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: امین اختر ... اداکار: ندیم ، شبانہ
11
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
12
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
13
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
14
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، رونا لیلیٰ ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم ، شبنم
15
فلم ... سوغات ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: ندیم
16
فلم ... آنسو ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ندیم
17
فلم ... آنسو ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ندیم ، دیبا
18
فلم ... آنسو ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ، تصورخانم مع ساتھی ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: شاہد ، دیبا ، مہ پارہ ، ندیم مع ساتھی
19
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
20
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
21
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم ، شبنم
22
فلم ... احساس ... اردو ... (1972) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: شبنم ، ندیم
23
فلم ... بادل اور بجلی ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: صہبا اختر ... اداکار: ندیم ، شبنم
24
فلم ... دامن اور چنگاری ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: شباب کیرانوی ... اداکار: ندیم
25
فلم ... دامن اور چنگاری ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: ندیم ، زیبا
26
فلم ... دل لگی ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر رفیق علی ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: ندیم
27
فلم ... دل لگی ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر رفیق علی ... شاعر: مشیر کاظمی ... اداکار: ندیم
28
فلم ... مٹی کے پتلے ... اردو ... (1974) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: نشو ، ندیم
29
فلم ... مٹی کے پتلے ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: نشو ، ندیم
30
فلم ... دو تصویریں ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ذیغم حمدی ... اداکار: ندیم
31
فلم ... فرض اور مامتا ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
32
فلم ... فرض اور مامتا ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، رونا لیلیٰ ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
33
فلم ... ہار گیا انسان ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: ندیم ، ممتاز
34
فلم ... محبت اور مہنگائی ... اردو ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ، ناہید اختر مع ساتھی ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: ندیم ، کویتا ، چکرم مع ساتھی
35
فلم ... محبت مر نہیں سکتی ... اردو ... (1977) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: قوی ، ندیم
36
فلم ... مٹھی بھر چاول ... اردو ... (1978) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: ندیم
37
فلم ... چوروں کی بارات ... اردو ... (1987) ... گلوکار: ندیم ، اے نیئر ، مسعود رانا ، مہناز مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: حبیب جالب ... اداکار: ندیم ، شیوا ، سثما شاہی مع ساتھی
38
فلم ... مکھڑا ... پنجابی ... (1988) ... گلوکار: نورجہاں ، ندیم ، مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: بابرہ شریف ، ندیم ، اسماعیل شاہ
39
فلم ... خونی شعلے ... پنجابی ... (1992) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: ؟ ... اداکار: (پس پردہ ، ندیم)
40
فلم ... خونی شعلے ... پنجابی ... (1992) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: ؟ ... اداکار: ندیم
41
فلم ... خونی شعلے ... پنجابی ... (1992) ... گلوکار: مسعود رانا ، مہناز ، اے نیر ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: ایوب ساگر ... اداکار: حبیب ، نغمہ ، ندیم ، سلطان راہی
42
فلم ... خونی شعلے ... اردو ... (1992) ... گلوکار: مسعود رانا ، مہناز ، اے نیر ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: ایوب ساگر ... اداکار: حبیب ، نغمہ ، ندیم ، سلطان راہی
43
فلم ... پابندی ... اردو ... (1992) ... گلوکار: ترنم ناز ، اے نیئر ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: سعید گیلانی ... اداکار: ندیم ، ؟؟
44
فلم ... عروسہ ... پنجابی ... (1993) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ندیم
45
فلم ... عروسہ ... اردو ... (1993) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ندیم
46
فلم ... انٹرنیشنل لٹیرے ... اردو ... (1994) ... گلوکار: سائرہ نسیم ، مسعود رانا ، شجاعت بوبی ، عارف پیرزادہ مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: دیبا ، غلام محی الدین ، ندیم ، جان ریمبو ، صائمہ ، مدیحہ شاہ ، نرگس

مسعودرانا اور ندیم کے 41 اردو گیت

1بادشاہ عشق ہیں ہم اور حسن کے سائل ہیں ہم ... (فلم ... سنگدل ... 1968)
2او میرے شوخ صنم ، ہوا دیوانہ تیرا جب سے تجھے دیکھ لیا ... (فلم ... سنگدل ... 1968)
3تیری یاد آ گئی ، غم خوشی میں ڈھل گئے ، اک چراغ کیا جلا ، سو چراغ جل گئے ... (فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968)
4یہ سماں ، موج کا کارواں ، آج اے ہمسفر ، لے چلا ہے کہاں ... (فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968)
5تجھے پیار کی قسم ہے ، میرا پیار بن کے آ جا ، میری بے قراریوں کا توقرار بن کے آ جا ... (فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968)
6چھنن چھنن باجے رے ، مدھر مدھر گائے رے ... (فلم ... بہن بھائی ... 1968)
7قدموں میں تیرے جنت میری ، تجھ سا کوئی کہاں ، اے ماں ، پیاری ماں ... (فلم ... قلی ... 1968)
8ملے اس طرح دل کی دنیا جگا دی ، خدا کی قسم تو نے ہلچل مچا دی ... (فلم ... قلی ... 1968)
9ایک نیا غم ہے ، کوئی برہم ہے ، خدا خیر کرے ... (فلم ... قلی ... 1968)
10آ جاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے کچھ سن لیں گے ... (فلم ... داغ ... 1969)
11میرا خیال ہو تم ، میری آرزو تم ہو ، میری نگاہ تمنا کی جستجو تم ہو ... (فلم ... نازنین ... 1969)
12یہ مانا کہ تم ، دلربا، نازنین ہو، مگر بندہ پرور خدا تو نہیں ہو ... (فلم ... نازنین ... 1969)
13آجا ، آجا ، دلربا ، چھوڑ کے مجھ کو کہاں چلی اے ، بے وفا ... (فلم ... نازنین ... 1969)
14نہ جھٹکو ہاتھ ، کرو کچھ بات ، کہ ہم کو نیند نہیں آتی ... (فلم ... نازنین ... 1969)
15ہو چکا ہونا تھا جو ، اب دل کو کیا سمجھائیں ہم ... (فلم ... سوغات ... 1970)
16تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں ، جیسے صدیاں بیت گئیں ... (فلم ... آنسو ... 1971)
17آئی رے آئی رے دیکھو کالی گھٹا ، اس چاند سے چہرے پر ... (فلم ... آنسو ... 1971)
18زندگی ، زندہ دلی کا نام ہے ، زندگی سے پیار کرناہی ہمارا کام ہے ... (فلم ... آنسو ... 1971)
19حال دل آج ہم سنائیں گے ، بندہ پرور ، کرم کچھ تو فرمائیے ... (فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
20میری دعا ہے کہ تو بن کے ماہتاب رہے ۔ خدا کرے کہ سلامت تیرا شباب رہے ... (فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
21گورے مکھڑے سے زلفیں ہٹا دو ، بدلی سےچاندنکلے ... (فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
22بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا ، جھکی جھکی اڑتی ہوا ، موسم ہے دیوانہ دیوانہ دیوانہ ... (فلم ... احساس ... 1972)
23دھیرے دھیرے ذرا پاؤں اٹھا ، او تیری پائل کی چھم چھم شور کرے گی ... (فلم ... بادل اور بجلی ... 1973)
24یہ وعدہ کیا تھا محبت کریں گے ، سدا ایک دوجے کے دل میں رہیں گے ... (فلم ... دامن اور چنگاری ... 1973)
25یہ وعدہ کرو کہ محبت کریں گے ، سدا ایک دوجے کے دل میں رہیں گے ... (فلم ... دامن اور چنگاری ... 1973)
26آگ لگا کر چھپنے والے ، سن میراافسانہ ، میں گیتوں میں تجھے پکاروں ، لوگ کہیں دیوانہ ... (فلم ... دل لگی ... 1974)
27مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم ، اس دیس میں پھر نہ آؤں گا ... (فلم ... دل لگی ... 1974)
28تو جہاں لے چلے رے ... (فلم ... مٹی کے پتلے ... 1974)
29آئی ملن کی بیلا ... (فلم ... مٹی کے پتلے ... 1974)
30تہہ دل سے کہہ رہے ہیں تجھے آج ہم مبارک ... (فلم ... دو تصویریں ... 1974)
31آج غم دے دیا ، کل خوشی بخش دی ، حسن والوں کا کوئی بھروسہ نہیں ... (فلم ... فرض اور مامتا ... 1975)
32اوئے نیناں لڑھ گئے چھوکریا سے، اوئی اوئی اوئی ... (فلم ... فرض اور مامتا ... 1975)
33گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے ... (فلم ... ہار گیا انسان ... 1975)
34واہ ری بھوک ، تیرا بھی جواب نہیں ہے ... (فلم ... محبت اور مہنگائی ... 1976)
35اے کاش کہ آ جائے نظر یار کی صورت ، کہے جا اللہ اللہ ہو ... (فلم ... محبت مر نہیں سکتی ... 1977)
36اک کڑی دودھ مکھناں دی پلی ، جیسے مشری کی ڈلی ... (فلم ... مٹھی بھر چاول ... 1978)
37پیسے کی یہ دنیا ہے پیارے ، گاتے ہیں اسی کے گن سارے ... (فلم ... چوروں کی بارات ... 1987)
38تم میری زندگی، میں تیری زندگی ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)
39ساتھ چھوٹے نہ اپنا کبھی ... (فلم ... پابندی ... 1992)
40دل میں ہے تو ، آنکھوں میں تو ، تیرے سوا کون میرا ... (فلم ... عروسہ ... 1993)
41جب بھی علیؑ کا نام لیا ، سر سے ہر بلا ٹلی ، علیؑ ، علیؑ ، علیؑ ... (فلم ... انٹرنیشنل لٹیرے ... 1994)

مسعودرانا اور ندیم کے 5 پنجابی گیت

1تینوں تکیا پھڑک گئی اکھ وے ، تیرے قدماں چہ دل دتا رکھ وے ،دھک دھنا دھن دل گیا ... (فلم ... مکھڑا ... 1988)
2کرم دیاں کر دے نظراں ، داتا ، آکھے اک نمانا ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)
3سہریاں دے نال سوہنا مکھڑا سجا کے ، ووہٹی دے ہتھاں اتے مہندیاں رچا کے ، میں ووہٹی لے جانی ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)
4تو ں میری زندگی، میں تیری زندگی ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)
5دل وچ توں ، اکھیاں چہ تو ، تیرے بنا کون میرا ... (فلم ... عروسہ ... 1993)

مسعودرانا اور ندیم کے 20سولو گیت

1تیری یاد آ گئی ، غم خوشی میں ڈھل گئے ، اک چراغ کیا جلا ، سو چراغ جل گئے ... (فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968)
2ملے اس طرح دل کی دنیا جگا دی ، خدا کی قسم تو نے ہلچل مچا دی ... (فلم ... قلی ... 1968)
3ایک نیا غم ہے ، کوئی برہم ہے ، خدا خیر کرے ... (فلم ... قلی ... 1968)
4میرا خیال ہو تم ، میری آرزو تم ہو ، میری نگاہ تمنا کی جستجو تم ہو ... (فلم ... نازنین ... 1969)
5یہ مانا کہ تم ، دلربا، نازنین ہو، مگر بندہ پرور خدا تو نہیں ہو ... (فلم ... نازنین ... 1969)
6آجا ، آجا ، دلربا ، چھوڑ کے مجھ کو کہاں چلی اے ، بے وفا ... (فلم ... نازنین ... 1969)
7ہو چکا ہونا تھا جو ، اب دل کو کیا سمجھائیں ہم ... (فلم ... سوغات ... 1970)
8تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں ، جیسے صدیاں بیت گئیں ... (فلم ... آنسو ... 1971)
9حال دل آج ہم سنائیں گے ، بندہ پرور ، کرم کچھ تو فرمائیے ... (فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
10میری دعا ہے کہ تو بن کے ماہتاب رہے ۔ خدا کرے کہ سلامت تیرا شباب رہے ... (فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
11یہ وعدہ کیا تھا محبت کریں گے ، سدا ایک دوجے کے دل میں رہیں گے ... (فلم ... دامن اور چنگاری ... 1973)
12آگ لگا کر چھپنے والے ، سن میراافسانہ ، میں گیتوں میں تجھے پکاروں ، لوگ کہیں دیوانہ ... (فلم ... دل لگی ... 1974)
13مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم ، اس دیس میں پھر نہ آؤں گا ... (فلم ... دل لگی ... 1974)
14تہہ دل سے کہہ رہے ہیں تجھے آج ہم مبارک ... (فلم ... دو تصویریں ... 1974)
15آج غم دے دیا ، کل خوشی بخش دی ، حسن والوں کا کوئی بھروسہ نہیں ... (فلم ... فرض اور مامتا ... 1975)
16اک کڑی دودھ مکھناں دی پلی ، جیسے مشری کی ڈلی ... (فلم ... مٹھی بھر چاول ... 1978)
17کرم دیاں کر دے نظراں ، داتا ، آکھے اک نمانا ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)
18سہریاں دے نال سوہنا مکھڑا سجا کے ، ووہٹی دے ہتھاں اتے مہندیاں رچا کے ، میں ووہٹی لے جانی ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)
19دل وچ توں ، اکھیاں چہ تو ، تیرے بنا کون میرا ... (فلم ... عروسہ ... 1993)
20دل میں ہے تو ، آنکھوں میں تو ، تیرے سوا کون میرا ... (فلم ... عروسہ ... 1993)

مسعودرانا اور ندیم کے 20دوگانے

1بادشاہ عشق ہیں ہم اور حسن کے سائل ہیں ہم ... (فلم ... سنگدل ... 1968)
2او میرے شوخ صنم ، ہوا دیوانہ تیرا جب سے تجھے دیکھ لیا ... (فلم ... سنگدل ... 1968)
3یہ سماں ، موج کا کارواں ، آج اے ہمسفر ، لے چلا ہے کہاں ... (فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968)
4تجھے پیار کی قسم ہے ، میرا پیار بن کے آ جا ، میری بے قراریوں کا توقرار بن کے آ جا ... (فلم ... چاند اور چاندنی ... 1968)
5چھنن چھنن باجے رے ، مدھر مدھر گائے رے ... (فلم ... بہن بھائی ... 1968)
6قدموں میں تیرے جنت میری ، تجھ سا کوئی کہاں ، اے ماں ، پیاری ماں ... (فلم ... قلی ... 1968)
7آ جاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے کچھ سن لیں گے ... (فلم ... داغ ... 1969)
8نہ جھٹکو ہاتھ ، کرو کچھ بات ، کہ ہم کو نیند نہیں آتی ... (فلم ... نازنین ... 1969)
9آئی رے آئی رے دیکھو کالی گھٹا ، اس چاند سے چہرے پر ... (فلم ... آنسو ... 1971)
10گورے مکھڑے سے زلفیں ہٹا دو ، بدلی سےچاندنکلے ... (فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
11بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا ، جھکی جھکی اڑتی ہوا ، موسم ہے دیوانہ دیوانہ دیوانہ ... (فلم ... احساس ... 1972)
12دھیرے دھیرے ذرا پاؤں اٹھا ، او تیری پائل کی چھم چھم شور کرے گی ... (فلم ... بادل اور بجلی ... 1973)
13یہ وعدہ کرو کہ محبت کریں گے ، سدا ایک دوجے کے دل میں رہیں گے ... (فلم ... دامن اور چنگاری ... 1973)
14تو جہاں لے چلے رے ... (فلم ... مٹی کے پتلے ... 1974)
15آئی ملن کی بیلا ... (فلم ... مٹی کے پتلے ... 1974)
16اوئے نیناں لڑھ گئے چھوکریا سے، اوئی اوئی اوئی ... (فلم ... فرض اور مامتا ... 1975)
17گورے مکھڑے سے گھونگھٹ سرکا دے ، نہیں تو ہو گی لڑائی رے ... (فلم ... ہار گیا انسان ... 1975)
18اے کاش کہ آ جائے نظر یار کی صورت ، کہے جا اللہ اللہ ہو ... (فلم ... محبت مر نہیں سکتی ... 1977)
19تو ں میری زندگی، میں تیری زندگی ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)
20تم میری زندگی، میں تیری زندگی ... (فلم ... خونی شعلے ... 1992)

مسعودرانا اور ندیم کے 6کورس گیت

1زندگی ، زندہ دلی کا نام ہے ، زندگی سے پیار کرناہی ہمارا کام ہے ... (فلم ... آنسو ... 1971)
2واہ ری بھوک ، تیرا بھی جواب نہیں ہے ... (فلم ... محبت اور مہنگائی ... 1976)
3پیسے کی یہ دنیا ہے پیارے ، گاتے ہیں اسی کے گن سارے ... (فلم ... چوروں کی بارات ... 1987)
4تینوں تکیا پھڑک گئی اکھ وے ، تیرے قدماں چہ دل دتا رکھ وے ،دھک دھنا دھن دل گیا ... (فلم ... مکھڑا ... 1988)
5ساتھ چھوٹے نہ اپنا کبھی ... (فلم ... پابندی ... 1992)
6جب بھی علیؑ کا نام لیا ، سر سے ہر بلا ٹلی ، علیؑ ، علیؑ ، علیؑ ... (فلم ... انٹرنیشنل لٹیرے ... 1994)


Masood Rana & Nadeem: Latest Online film

Chand Aur Chandni

(Urdu - Black & White - Friday, 12 April 1968)


Masood Rana & Nadeem: Film posters
SangdilChand Aur ChandniBehan BhaiQulliDaaghNazneenSoughatChand SurajAansooCharagh Kahan Roshni KahanBaadal Aur BijliDaaman Aur ChingariKhushiaTera Gham Rahay SalamatDillagiMitti Kay PutlayBhool2 TasvirenFarz Aur MamtaMohabbat Mar Nahin SaktiMuthi Bhar ChawalMian Bivi RaziLove in LondonMukhraKhooni SholayChahat
Masood Rana & Nadeem:

12 joint Online films

(12 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1968: Sangdil
(Urdu)
2.1968: Chand Aur Chandni
(Urdu)
3.1968: Behan Bhai
(Urdu)
4.1969: Daagh
(Urdu)
5.1971: Charagh Kahan Roshni Kahan
(Urdu)
6.1973: Daaman Aur Chingari
(Urdu)
7.1974: Dillagi
(Urdu)
8.1975: Farz Aur Mamta
(Urdu)
9.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
10.1976: Mohabbat Aur Mehngai
(Urdu)
11.1982: Mian Bivi Razi
(Urdu)
12.1992: Khooni Sholay
(Punjabi/Urdu double version)
Masood Rana & Nadeem:

Total 37 joint films

(27 Urdu and 3 Punjabi films)

1.1968: Sangdil
(Urdu)
2.1968: Chand Aur Chandni
(Urdu)
3.1968: Behan Bhai
(Urdu)
4.1968: Qulli
(Urdu)
5.1969: Daagh
(Urdu)
6.1969: Nazneen
(Urdu)
7.1970: Soughat
(Urdu)
8.1970: Chand Suraj
(Urdu)
9.1971: Aansoo
(Urdu)
10.1971: Charagh Kahan Roshni Kahan
(Urdu)
11.1972: Ehsas
(Urdu)
12.1973: Baadal Aur Bijli
(Urdu)
13.1973: Daaman Aur Chingari
(Urdu)
14.1973: Khushia
(Punjabi)
15.1973: Tera Gham Rahay Salamat
(Urdu)
16.1974: Dillagi
(Urdu)
17.1974: Mitti Kay Putlay
(Urdu)
18.1974: Bhool
(Urdu)
19.1974: 2 Tasviren
(Urdu)
20.1975: Farz Aur Mamta
(Urdu)
21.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
22.1976: Mohabbat Aur Mehngai
(Urdu)
23.1977: Mohabbat Mar Nahin Sakti
(Urdu)
24.1978: Muthi Bhar Chawal
(Urdu)
25.1982: Mian Bivi Razi
(Urdu)
26.1985: Zamin Aasman
(Urdu)
27.1987: Choron Ki Barat
(Punjabi/Urdu double version)
28.1987: Love in London
(Urdu)
29.1988: Mukhra
(Punjabi)
30.1989: 30 Mar Khan
(Punjabi)
31.1992: Khooni Sholay
(Punjabi/Urdu double version)
32.1992: Pabandi
(Urdu)
33.1992: Haseeno Ki Barat
(Punjabi/Urdu double version)
34.1992: Chahat
(Punjabi/Urdu double version)
35.1993: Aroosa
(Punjabi/Urdu double version)
36.1994: Khandan
(Punjabi/Urdu double version)
37.1994: International Luteray
(Punjabi/Urdu double version)


Masood Rana & Nadeem: 46 songs

(41 Urdu and 5 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Sangdil
from Tuesday, 2 January 1968
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: M. Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Nadeem, Rozina
2.
Urdu film
Sangdil
from Tuesday, 2 January 1968
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: M. Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Nadeem, Deeba
3.
Urdu film
Chand Aur Chandni
from Friday, 12 April 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Karim Shahabuddin, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Nadeem
4.
Urdu film
Chand Aur Chandni
from Friday, 12 April 1968
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Karim Shahabuddin, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Nadeem, Shabana
5.
Urdu film
Chand Aur Chandni
from Friday, 12 April 1968
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Karim Shahabuddin, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Shabana, Nadeem
6.
Urdu film
Behan Bhai
from Friday, 24 May 1968
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: A. Hameed, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Rani, Nadeem
7.
Urdu film
Qulli
from Friday, 7 June 1968
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Music: Ali Hossain, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Nadeem, Azeem
8.
Urdu film
Qulli
from Friday, 7 June 1968
Singer(s): Masood Rana & Co., Music: Ali Hossain, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Nadeem & Co.
9.
Urdu film
Qulli
from Friday, 7 June 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Ali Hossain, Poet: Suroor Barabankvi, Actor(s): Nadeem
10.
Urdu film
Daagh
from Friday, 4 April 1969
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Robin Ghosh, Poet: Anis Akhtar, Actor(s): Nadeem, Shabana
11.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem
12.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem
13.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Runa Laila, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeemm, Shabnam
14.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem
15.
Urdu film
Soughat
from Tuesday, 1 December 1970
Singer(s): Masood Rana, Music: Sohail Rana, Poet: Fyaz Hashmi, Actor(s): Nadeem
16.
Urdu film
Aansoo
from Friday, 30 July 1971
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Nazir Ali, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Nadeem, Deeba
17.
Urdu film
Aansoo
from Friday, 30 July 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Nadeem
18.
Urdu film
Aansoo
from Friday, 30 July 1971
Singer(s): Masood Rana, Mala, Tasawur Khanum & Co., Music: Nazir Ali, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Shahid, Deeba, Mahpara, Nadeem & Co.
19.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem, Shabnam
20.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem
21.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem
22.
Urdu film
Ehsas
from Friday, 22 December 1972
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: Robin Ghosh, Poet: Akhtar Yousuf, Actor(s): Shabnam, Nadeem
23.
Urdu film
Baadal Aur Bijli
from Friday, 4 May 1973
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Sohail Rana, Poet: Sehba Akhtar, Actor(s): Nadeem, Shabnam
24.
Urdu film
Daaman Aur Chingari
from Sunday, 28 October 1973
Singer(s): Masood Rana, Noorjahan, Music: M. Ashraf, Poet: Taslim Fazli, Actor(s): Nadeem, Zeba
25.
Urdu film
Daaman Aur Chingari
from Sunday, 28 October 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Shabab Keranvi, Actor(s): Nadeem
26.
Urdu film
Dillagi
from Friday, 15 February 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Master Rafiq Ali, Poet: Mushir Kazmi, Actor(s): Nadeem
27.
Urdu film
Dillagi
from Friday, 15 February 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Master Rafiq Ali, Poet: Mushir Kazmi, Actor(s): Nadeem
28.
Urdu film
Mitti Kay Putlay
from Friday, 22 February 1974
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Taslim Fazli, Actor(s): Nisho, Nadeem
29.
Urdu film
Mitti Kay Putlay
from Friday, 22 February 1974
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Akhtar Yousuf, Actor(s): Nisho, Nadeem
30.
Urdu film
2 Tasviren
from Friday, 29 November 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: Zaigham Hamdi, Actor(s): Nadeem
31.
Urdu film
Farz Aur Mamta
from Friday, 14 February 1975
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem
32.
Urdu film
Farz Aur Mamta
from Friday, 14 February 1975
Singer(s): Masood Rana, Runa Laila, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Nadeem
33.
Urdu film
Haar Geya Insan
from Friday, 21 March 1975
Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Nisar Bazmi, Poet: Riazur Rehman Saghar, Actor(s): Nadeem, Mumtaz
34.
Urdu film
Mohabbat Aur Mehngai
from Friday, 6 August 1976
Singer(s): Masood Rana, Naheed Akhtar & Co., Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Nadeem, Kaveeta, Chakram & Co.
35.
Urdu film
Mohabbat Mar Nahin Sakti
from Tuesday, 22 November 1977
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Nashad, Poet: Taslim Fazli, Actor(s): Qavi, Nadeem
36.
Urdu film
Muthi Bhar Chawal
from Friday, 16 June 1978
Singer(s): Masood Rana, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Nadeem
37.
Urdu film
Choron Ki Barat
from Thursday, 28 May 1987
Singer(s): Nadeem, A Nayyar, Masood Rana, Mehnaz & Co., Music: Wajahat Attray, Poet: Habib Jalib, Actor(s): Nadeem, Shiva, Sushma Shai & Co.
38.
punjabi film
Mukhra
from Monday, 25 July 1988
Singer(s): Noorjahan, Nadeem, Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Babra Sharif, Nadeem, Ismael Shah
39.
Punjabi film
Khooni Sholay
from Friday, 3 January 1992
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: ?, Actor(s): (Playback - Nadeem)
40.
Punjabi film
Khooni Sholay
from Friday, 3 January 1992
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: ?, Actor(s): Nadeem
41.
Punjabi film
Khooni Sholay
from Friday, 3 January 1992
Singer(s): Masood Rana, Mehnaz, A. Nayyar, Music: M. Ashraf, Poet: Ayub Sagar, Actor(s): Habib, Naghma, Nadeem, Sultan Rahi
42.
Urdu film
Khooni Sholay
from Friday, 3 January 1992
Singer(s): Masood Rana, Mehnaz, A. Nayyar, Music: M. Ashraf, Poet: Ayub Sagar, Actor(s): Habib, Naghma, Nadeem, Sultan Rahi
43.
Urdu film
Pabandi
from Friday, 24 January 1992
Singer(s): Trannum Naz, A Nayyar, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Saeed Gilani, Actor(s): Nadeem, ??
44.
Urdu film
Aroosa
from Friday, 14 May 1993
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Nadeem
45.
Punjabi film
Aroosa
from Friday, 14 May 1993
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Nadeem
46.
Urdu film
International Luteray
from Friday, 29 July 1994
Singer(s): Saira Naseem, Masood Rana, Shujaat Bobby, Arif Pirzada & Co., Music: Wajahat Attray, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Deeba, Ghulam Mohayuddin, Nadeem, Jan Rambo, Saima, Madiha Shah, Nargis


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Touba
Touba
(1964)
Yarana
Yarana
(2008)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..