Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


قوی

اداکار قوی کا شمار پاکستان کے ان عظیم فنکاروں میں ہوتا ہے جو ریڈیو ، سٹیج ، ٹیلی ویژن اور فلم میں اپنے فن کا لوہا منوا چکے ہیں۔۔!

ریڈیو پاکستان پشاور سے چائلڈ سٹار کے طور پر فنی کیرئر کا آغاز کرنے والے محمدقوی خان نے لاہور سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور بہت سے ڈراموں میں کام کیا۔ 1964ء میں پاکستان میں ٹیلی ویژن کی آمد ہوئی تو پی ٹی وی کے پہلے ڈرامے 'نذرانہ' میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 80 کی دھائی میں پی ٹی وی کی مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل 'اندھیرا اجالا' سے لازوال شہرت ملی اور بےشمار ٹی ڈراموں میں مختلف النوع کرداروں میں اپنی فنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھا دی تھی۔

قوی کا فلمی کیرئر

ہدایتکار دلجیت مرزا کی فلم رواج (1965) ، قوی صاحب کی پہلی فلم تھی۔ نصف صدی کے فلمی کیرئر میں دو سو کے قریب فلموں میں کام کرنے کے باوجود وہ جائز مقام کبھی نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔ زیادہ تر معاون کرداروں میں نظر آئے ، مثبت اور منفی کرداروں میں اولڈ ، ولن اور کامیڈین بھی رہے۔ کبھی سولو ہیرو نہیں آئے لیکن چند فلموں میں سیکنڈ ہیرو کے طور پر موقع ملاجن میں فلم مسٹربدھو (1973) میں دیبا ، فلم اجنبی (1975) میں بابرہ شریف اور فلم چوری چوری (1978) میں زیبا کے ساتھ ان کی جوڑیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

قوی بطور فلمساز

قوی نے بطور فلمساز ، درجن بھر فلمیں بنائی تھیں جن میں سے پہلی فلم ان کی مادری زبان پشتو میں مہ جبینے (1972) تھی جس میں وہ آصف خان کے مقابل سیکنڈہیرو تھے۔ مسٹربدھو ، بے ایمان (1973) ، منجی کتھے ڈاہواں ، نیلام (1974) ، روشنی (1975) ، جوانی دیوانی (1977) ، چوری چوری (1979) ، پاسبان (1982) ، گرفتاری (1986) اور ماں بنی دلہن (1988) بطور فلمساز دیگر فلمیں تھیں۔ ان میں کوئی ایک بھی فلم کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ فلم روشنی (1975) کے ہدایتکار بھی تھے ، یہ فلم کراچی میں اوسط اور باقی ملک میں ناکام ہوگئی تھی۔

قوی پر فلمائے ہوئے گیت

قوی کی بنائی ہوئی فلموں اور ان پر فلمائے ہوئے متعدد گیتوں کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔ فلم چراغ کہاں روشنی کہاں (1971) میں قوی اپنی زندگی کی بازی ہار کر کسی کے لیے قربانی دیتے ہیں اور ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے دوران پس منظر سے مسعودرانا کی آواز گونجتی ہے:

  • چراغوں کی بجائے ہم نے داغ دل جلائے ہیں
    ہمارے خون کے چھینٹوں سے ہوگی روشنی برسوں
    لگا کے جان کی بازی بچا لی آبرو اس کی
    ہماری قبر پہ رویا کرے گی دنیا برسوں

مسعودرانا ، ہماری فلمی تاریخ کے واحد گلوکار رہے ہیں کہ جن کی آواز بے شمار فلموں میں طرح طرح کے فلمی کرداروں اور فلمی مناظر کے لیے بہت بڑی معاون ہوتی تھی۔ وہ اداکاروں سے زیادہ فلم کی ضرورت ہوتے تھے۔ فلم پازیب (1973) میں اخلاق احمد کا گایا ہوا پہلا فلمی گیت "او ماما میرے ، او چاچا میرے۔۔" بھی قوی پر فلمایا گیا تھا جو اس فلم میں ایک کامیڈی رول کررہے تھے۔

قوی کی بطور فلمساز پہلی اردو فلم مسٹربدھو (1973) میں مالا کا یہ گیت اپنے وقت کا سپرہٹ گیت تھا

  • ڈھولک بجا کے ، سہیلیاں بلا کے ، بنڑے کے گیت میں گاؤں گی ، اپنے بھیا کو دولہا بناؤں گی ، او بھیا ، پیارے پیار ےبھیا ، بھولے بھالے بھیا۔۔

اس فلم کے ہیرو رنگیلا تھے اور دیبا کی جوڑی قوی کے ساتھ تھی۔ دوسری فلم بے ایمان (1973) کے فلمساز بھی قوی صاحب تھے۔ رنگیلا اور آسیہ مرکزی کرداروں میں تھے۔ اس فلم کا ایک کورس گیت

  • اللہ کے نام پہ جھولی بھردے ، اللہ ہی دے گا۔۔

احمدرشدی ، مسعودرانا اور روشن کی آوازوں میں تھا جو رنگیلا ، نرالا اور قوی پر فلمایا گیا تھا۔ 1996ء میں جب مسعودرانا کی تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا تو مرحوم کی ایک ڈائری کے ایک صفحہ پر اس گیت کو بڑی تر تیب سے لکھا ہو ادیکھا تھا کہ کون سے بول کون سا گلوکار گائے گا۔

گیریژن سینما کھاریاں کی یاد میں

فلم بے ایمان (1973) ، واحد اردو فلم تھی جو میں نے اپنے پہلے چار سالہ فلمی دور میں کھاریاں کینٹ کے گیریژن سینما میں عید کے دن دیکھی تھی۔

یہ فوجی سینما دو عمارتوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ایک عمارت ، ٹین کی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتی تھی جو موسم سرما میں استعمال ہوتی تھی جبکہ دوسری عمارت ایک اوپن ایئر تھیٹر تھی جو موسم گرما میں استعمال ہوتی تھی۔

فوجی بھائیوں کے لیے فلم مفت ہوتی تھی لیکن ہم سویلین کو ٹکٹ خریدنا پڑتا تھا جو دیگر دونوں سینماؤں کی نسبت سستا ہوتا تھا لیکن یہاں صرف پرانی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں یا اردو فلمیں جو دیگر سینماؤں میں نہیں چل پاتی تھیں۔

کھاریاں کینٹ کی تاریخ

کھاریاں کینٹ ایک انتہائی جدید فوجی چھاؤنی تھی جہاں آدمی بھول جاتا تھا کہ یہ پاکستان جیسے پسماندہ اور ترقی پذیر ملک کا کوئی علاقہ ہے۔ کھلی اور کشادہ سڑکیں ، سرسبز و شاداب درختوں کی قطار در قطاریں ، بڑے بڑے خوبصورت پارک ، صاف ستھری مغربی طرز کی عمارتیں ، جدید شاپنگ سینٹر ، عالمی میعار کے سی ایم ایچ ہسپتال وغیرہ کے علاوہ کھاریاں کے تینوں سینماگھر ، قیصر ، سازین اور گیریژن بھی کینٹ کی حدود ہی میں واقع تھے جن میں بعد میں ایک اور ' 17 ڈویژن سینما' کا اضافہ بھی ہوا تھا۔ 2002ء میں آخری بار اس چھاؤنی کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا تھا۔

1954ء میں امریکہ کے ساتھ فوجی اور اقتصادی امداد کے معاہدے کے تحت اس چھاؤنی کی تعمیر شروع ہوئی تھی جس میں ہمارے بزرگوں کا خون پسینہ بھی شامل تھا۔ پانی کی ایک بڑی ٹینکی کا نقشہ میرے دادا جان مرحوم و مغفور کا بنایا ہوا تھا۔ ان کی قابلیت کی بنا پر انھیں برطانیہ کے مستقل ویزے کی پیش کش ہوئی تھی جو انھوں نے ٹھکرا دی تھی لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ ان کی تیسری نسل کے بیشتر افرادآج ، بیرون ملک میں مقیم ہیں۔

بچپن میں چھاؤنی کے ایک پارک میں دس سگریٹوں کی ایک ڈبیا پھونکنے والا واقعہ بھی نہیں بھولتا۔ ایک نئے برانڈ ' شاہین سگریٹ' کی ایک ڈبیا کی قیمت دس پیسے تھے اور مشہوری کرنے والی ویگن سے اپنے بڑے کزنوں کی ترغیب پر مقابلے میں خریدی تھی جسے چھاؤنی کے ایک پارک میں بیٹھ کر دھوئیں میں اڑایا تھا۔ زندگی کی واحد فضول خرچی تھی جوکبھی سگریٹ خریدنے پر کی تھی۔

1970ء کے انتخابات کی یاد میں

کھاریاں چھاؤنی "مرالیوں کی زمین" پر بنی تھی ، یعنی کھاریاں کے قریب ایک گاؤں تھا ، مرالا ، جو ہمارے پہلے منتخب صدر فضل الہٰی چوہدری کا گاؤں تھا ، یہ ان کی زمینیں تھیں۔

1970ء کے انتخابات میں وہ ، ہمارے حلقہ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ان کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک بڑا سا سفید کپڑے کا بینر ہماری دکان کے قریب سڑک پرلٹکا ہوا تھا جو پینٹر رشید نے میرے سامنے قیصر سینما کے عقبی کمرے میں لکھا تھا۔ جس طرح انھوں نے بینر پر پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان 'تلوار' بنایا تھا ، وہ ہمیشہ کے لیے ذہن پر نقش ہوگیا تھا۔

میری دادی جان مرحومہ ، ان انتخابات کے دوران اپنا ایک واقعہ بڑے مزے لے لے کر سنایا کرتی تھیں کہ جب وؤٹ ڈالنے گئیں تو کھاریاں کے نمبردار چوہدری غلام رسول نے انھیں ترغیب دی کہ

"ماسی ، بتی تے مہر لانی اے۔۔"

یہ کونسل مسلم لیگ کا انتخابی نشان تھا لیکن میری دادی نے برجستہ جواب دیا

"نہ پتر نہ ، میں تے اپنے بھٹو دی تلوار تے ای مہر لاواں گی۔۔!"

اس بے چاری نے کبھی بھٹو کو دیکھا بھی نہ تھا لیکن اس وقت بھٹو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔

میں اسوقت تیسری جماعت کا طالب علم تھا اور اپنے بزرگوں کو نیوز ریڈرز کے انداز میں روزانہ کے اخبار سے خبریں پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ اخبار بینی ، ریڈیو سننا ، ٹی وی اور فلمیں دیکھنا بڑے مشاغل ہوتے تھے۔ اس دورکے سیاسی ، سماجی اور فلمی واقعات ، اخبارات کی شہ سرخیاں اور لے آؤٹ ، سیاسی بحث و مباحثے اور فلمی گیت وغیرہ آج بھی ذہن پر نقش ہیں۔

حسن دا غرور ، میری توبہ

قوی کی بطور فلمساز پہلی پنجابی فلم منجی کتھے ڈاہواں (1974) تھی جس میں ان پر مسعودرانا کا اکلوتا سولو گیت فلمایا گیا تھا

  • حُسن دا غرور میری توبہ ، آیا سرور میری توبہ۔۔

اس فلم میں بھی رنگیلا ہی ہیرو تھے جن کی جوڑی سنگیتا کے ساتھ تھی جبکہ منورظریف نے ٹائٹل رول کیا تھا اور ان پر احمدرشدی کا گایا ہوا واحد سپر ہٹ پنجابی گیت

  • میں کہیڑے پاسے جاواں ، میں منجی کتھے ڈاہواں۔۔

فلمایا گیا تھا۔

ایسا ہی ایک گیت وہ فلم جی دار (1965) میں گا چکے تھے

  • حال اوئے ، میں منجی کتھے ڈاہواں۔۔

رشید عطرے کی موسیقی میں یہ گیت اے شاہ پر فلمایا گیا تھا۔

اسی سال قوی کی بطور فلمساز فلم نیلام (1974) میں مسعودرانا کا ایک اور شاہکار گیت زندگی کے حقائق بیان کرتا ہے

  • وقت کا پہیہ چلتا جائے ، روکے سے رکنے نہ پائے ، رک جائے یہ سارا عالم ، وقت اگر رک جائے۔۔

فلم روشنی (1975) بطور ہدایتکار ، قوی کی اکلوتی فلم تھی۔ اس فلم میں مہناز کے دو سپرہٹ گیت تھے

  • کچھ بولو نہ ، بولو نہ بولو نہ۔۔
  • چھاپ تلک سب چھین لی رے موسے نیناں ملائی کے۔۔

​فلم پہچان (1975) میں مہدی حسن کا گیت

  • تیرا پیار میرے جیون کے سنگ رہے گا۔۔

بھی قوی پر فلمایا گیا تھا۔ فلم بیگم جان (1977) میں غلام عباس کا ایک رنجیدہ گیت

  • اے دوست ، تیری آنکھ اگر نم ہے تو مجھے کیا۔۔

بھی قوی پر فلمایا گیا تھا۔ اس گیت کو میڈم نورجہاں کی آواز میں گوا کر فلم وطن (1981) میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ ​فلم جوانی دیوانی (1977) میں احمدرشدی کا یہ شوخ گیت بھی بڑا دلچسپ تھا

  • اپنی شادی کا یہ سہرا ، آج خود ہم گائیں گے۔۔

فلم چوری چوری (1979) میں احمدرشدی اور ناہیداختر کا یہ شوخ گیت

  • رفتہ رفتہ کس قدر رشتے پرانے ہوگئے۔۔

زیبا اور قوی پر فلمایا گیا ایک پیروڈی گیت تھا۔ آخری بار قوی پر مسعودرانا کی آواز فلم محبت مرنہیں سکتی (1977) میں فلمائی گئی تھی اور گیت تھا

  • اے کاش کہ آجائے نظر یار کی صورت۔۔

مسعودرانا کا احمدرشدی کے ساتھ گائے ہوئے تین درجن دوگانوں میں سے یہ آخری دوگانا تھا اور اس گیت میں ساتھی اداکار ندیم تھے۔

1985ء کے غیر جماعتی انتخابات

قوی نے پاکستان ٹیلی ویژ ن کے کلاسک ڈرامے ' اندھیر اجالا' میں اپنے لازوال کردار کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن اداکار کمال اور گلوکار عنایت حسین بھٹی کی طرح کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

وہ انتخابات ، پاکستان پر قابض تاریخ کے بدترین آمر جنرل ضیاع مردود نے بظاہر ایک مردہ بھٹو کے خوف سے غیرجماعتی بنیادوں پر کرائے تھے تاکہ اس وقت کی واحد ملک گیر جماعت ، پیپلز پارٹی کو جیتنے سے روکا جاسکے۔

وہ مردود اپنے سیاہ کرتوتوں سمیت مرکھپ گیا ہے اور تاریخ کے کوڑے دان میں گل سڑھ چکا ہے لیکن بھٹو ، اپنے عظیم کارناموں کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور اپنے مخالفین کے سینوں پر مونگ دلتا رہےگا ، ان شاء اللہ۔۔!
محمدقوی خان کی پیدائش 1942ء میں پشاور میں ہوئی تھی اوروہ اس پیرانہ سالی میں بھی شو بز کی دنیا میں سرگرم ہیں۔

مسعودرانا اور قوی کے 4 فلمی گیت

3 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت
1

چراغوں کی بجائے ہم نے داغ دل جلائے ہیں ، ہمارے خون کے چھینٹوں سے ہوگی روشنی برسوں..

فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: (پس پردہ ، قوی)
2

اللہ کے نام پہ جھولی بھر دے ، اللہ ہی دے گا..

فلم ... بے ایمان ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ، روشن ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: رنگیلا ، نرالا، قوی
3

حسن دا غرور میری توبہ ، آیا سرور میری توبہ..

فلم ... منجی کتھے ڈاھواں ... پنجابی ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: قوی
4

اے کاش کہ آ جائے نظر یار کی صورت ، کہے جا اللہ اللہ ہو..

فلم ... محبت مر نہیں سکتی ... اردو ... (1977) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: قوی ، ندیم

مسعودرانا اور قوی کے 3 اردو گیت

1

چراغوں کی بجائے ہم نے داغ دل جلائے ہیں ، ہمارے خون کے چھینٹوں سے ہوگی روشنی برسوں ...

(فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
2

اللہ کے نام پہ جھولی بھر دے ، اللہ ہی دے گا ...

(فلم ... بے ایمان ... 1973)
3

اے کاش کہ آ جائے نظر یار کی صورت ، کہے جا اللہ اللہ ہو ...

(فلم ... محبت مر نہیں سکتی ... 1977)

مسعودرانا اور قوی کے 1 پنجابی گیت

1

حسن دا غرور میری توبہ ، آیا سرور میری توبہ ...

(فلم ... منجی کتھے ڈاھواں ... 1974)

مسعودرانا اور قوی کے 2سولو گیت

1

چراغوں کی بجائے ہم نے داغ دل جلائے ہیں ، ہمارے خون کے چھینٹوں سے ہوگی روشنی برسوں ...

(فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... 1971)
2

حسن دا غرور میری توبہ ، آیا سرور میری توبہ ...

(فلم ... منجی کتھے ڈاھواں ... 1974)

مسعودرانا اور قوی کے 1دوگانے

1

اے کاش کہ آ جائے نظر یار کی صورت ، کہے جا اللہ اللہ ہو ...

(فلم ... محبت مر نہیں سکتی ... 1977)

مسعودرانا اور قوی کے 1کورس گیت

1اللہ کے نام پہ جھولی بھر دے ، اللہ ہی دے گا ... (فلم ... بے ایمان ... 1973)


Masood Rana & Qavi: Latest Online film

Manji Kithay Dahwan

(Punjabi - Black & White - Friday, 7 June 1974)


Masood Rana & Qavi: Film posters
UlfatSharik-e-HayyatTumhi Ho Mehboob MerayBahu RaniNazneenNeend Hamari Khawab TumharayAansooCharagh Kahan Roshni KahanMain AkelaDil Ek AainaBaadal Aur BijliBeImaanTera Gham Rahay SalamatMitti Kay PutlayBaat Pohnchi Teri Jawani TakSubah Ka TaraManji Kithay DahwanNeelaamNanha Farishta2 TasvirenPaisaReshma Jawan Ho GeyiProfessorShoukan Melay DiWarrantZarooratMohabbat Mar Nahin SaktiGhazi Ilmuddin ShaheedMukhraDiya Jalay Sari Raat
Masood Rana & Qavi:

10 joint Online films

(5 Urdu and 7 Punjabi films)

1.1967: Ulfat
(Urdu)
2.1971: Charagh Kahan Roshni Kahan
(Urdu)
3.1974: Manji Kithay Dahwan
(Punjabi)
4.1975: Teray Meray Sapnay
(Urdu)
5.1975: Reshma Jawan Ho Geyi
(Punjabi)
6.1976: Warrant
(Punjabi)
7.1976: Hashar Nashar
(Punjabi)
8.1984: Chor Chokidar
(Punjabi)
9.1989: Sarfarosh
(Punjabi/Urdu double version)
10.1993: Aadil
(Punjabi/Urdu double version)
Masood Rana & Qavi:

Total 41 joint films

(28 Urdu and 10 Punjabi films)

1.1967: Ulfat
(Urdu)
2.1968: Sharik-e-Hayyat
(Urdu)
3.1969: Tumhi Ho Mehboob Meray
(Urdu)
4.1969: Bahu Rani
(Urdu)
5.1969: Nazneen
(Urdu)
6.1971: Neend Hamari Khawab Tumharay
(Urdu)
7.1971: Aansoo
(Urdu)
8.1971: Charagh Kahan Roshni Kahan
(Urdu)
9.1972: Main Akela
(Urdu)
10.1972: Dil Ek Aaina
(Urdu)
11.1972: Ehsas
(Urdu)
12.1973: Baadal Aur Bijli
(Urdu)
13.1973: BeImaan
(Urdu)
14.1973: Tera Gham Rahay Salamat
(Urdu)
15.1974: Mitti Kay Putlay
(Urdu)
16.1974: Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
(Urdu)
17.1974: Subah Ka Tara
(Urdu)
18.1974: Manji Kithay Dahwan
(Punjabi)
19.1974: Neelaam
(Urdu)
20.1974: Nanha Farishta
(Urdu)
21.1974: 2 Tasviren
(Urdu)
22.1975: Paisa
(Urdu)
23.1975: Teray Meray Sapnay
(Urdu)
24.1975: Reshma Jawan Ho Geyi
(Punjabi)
25.1975: Professor
(Urdu)
26.1975: Ganwar
(Urdu)
27.1975: Shoukan Melay Di
(Punjabi)
28.1976: Warrant
(Punjabi)
29.1976: Sazish
(Urdu)
30.1976: Zaroorat
(Urdu)
31.1976: Hashar Nashar
(Punjabi)
32.1977: Mohabbat Mar Nahin Sakti
(Urdu)
33.1978: Ghazi Ilmuddin Shaheed
(Punjabi)
34.1982: Visa Dubai Da
(Punjabi)
35.1984: Chor Chokidar
(Punjabi)
36.1987: Chann Mahi
(Punjabi)
37.1988: Mukhra
(Punjabi)
38.1989: Sarfarosh
(Punjabi/Urdu double version)
39.1993: Aadil
(Punjabi/Urdu double version)
40.1994: International Luteray
(Punjabi/Urdu double version)
41.Unreleased: Diya Jalay Sari Raat
(Urdu)


Masood Rana & Qavi: 4 songs

(3 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): (Playback - Qavi)
2.
Urdu film
BeImaan
from Friday, 10 August 1973
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Roshan, Music: Kemal Ahmad, Poet: Kaleem Usmani, Actor(s): Rangeela, Nirala, Qavi
3.
Punjabi film
Manji Kithay Dahwan
from Friday, 7 June 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Kemal Ahmad, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Qavi
4.
Urdu film
Mohabbat Mar Nahin Sakti
from Tuesday, 22 November 1977
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Nashad, Poet: Taslim Fazli, Actor(s): Qavi, Nadeem

Mangti
Mangti
(1942)
Noukar
Noukar
(1943)
Sulochna
Sulochna
(1933)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

طارق عزیز
طارق عزیز
لہری
لہری
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
الطاف حسین
الطاف حسین
ندیم
ندیم
دیبا
دیبا
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
قوی
قوی
ابو شاہ
ابو شاہ
امداد حسین
امداد حسین
ظہورناظم
ظہورناظم
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
سلونی
سلونی
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
جی اے چشتی
جی اے چشتی
اعظم بیگ
اعظم بیگ
علی حسین
علی حسین
قدیرغوری
قدیرغوری
نگہت سیما
نگہت سیما
جمیل اختر
جمیل اختر
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
سنگیتا
سنگیتا
رشید عطرے
رشید عطرے
رحمان ورما
رحمان ورما
زیبا
زیبا
ایم جے رانا
ایم جے رانا
سید کمال
سید کمال
البیلا
البیلا
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
اسلم ڈار
اسلم ڈار
سدھیر
سدھیر
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
امین ملک
امین ملک
عالیہ
عالیہ
حنیف
حنیف
کے خورشید
کے خورشید
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
مہدی حسن
مہدی حسن
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
ظہیرریحان
ظہیرریحان
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
خلیل احمد
خلیل احمد
آصف جاوید
آصف جاوید
مسرت نذیر
مسرت نذیر
سلطان راہی
سلطان راہی
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
سنتوش کمار
سنتوش کمار
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
صفدرحسین
صفدرحسین
کمار
کمار
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
خلیل قیصر
خلیل قیصر
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
شیون رضوی
شیون رضوی
یوسف خان
یوسف خان
درپن
درپن
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
نذیرجعفری
نذیرجعفری
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
موج لکھنوی
موج لکھنوی
ایس سلیمان
ایس سلیمان
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
حیدر
حیدر
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
بخشی وزیر
بخشی وزیر
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
نغمہ
نغمہ
آسیہ
آسیہ
تصورخانم
تصورخانم
احمد راہی
احمد راہی
شمیم آرا
شمیم آرا
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
نثار بزمی
نثار بزمی
مشتاق علی
مشتاق علی
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
طالش
طالش
منظورجھلا
منظورجھلا
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
فضل حسین
فضل حسین
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
نذیر
نذیر
آئرن پروین
آئرن پروین
شوکت علی
شوکت علی
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
رنگیلا
رنگیلا
فردوس
فردوس
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
روبن گھوش
روبن گھوش
رانی
رانی
ناشاد
ناشاد
اے شاہ
اے شاہ
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
حسن طارق
حسن طارق
ساقی
ساقی
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
زینت
زینت
وحیدمراد
وحیدمراد
ریاض احمد
ریاض احمد
اسد بخاری
اسد بخاری
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
اعظم چشتی
اعظم چشتی
ریاض شاہد
ریاض شاہد
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
سلیم اقبال
سلیم اقبال
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
یاسمین
یاسمین
سہیل رعنا
سہیل رعنا
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
روزینہ
روزینہ
افضل خان
افضل خان
سیف چغتائی
سیف چغتائی
تانی
تانی
ننھا
ننھا
سلیم کاشر
سلیم کاشر
سیما
سیما
نذیرعلی
نذیرعلی
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
نذرالاسلام
نذرالاسلام
شریف نیر
شریف نیر
مصلح الدین
مصلح الدین
اکمل
اکمل
احمد رشدی
احمد رشدی
افتخارخان
افتخارخان
کمال احمد
کمال احمد
اختریوسف
اختریوسف
آغا حسینی
آغا حسینی
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
رخسانہ
رخسانہ
ناہید
ناہید
پرویز ملک
پرویز ملک
ایم سلیم
ایم سلیم
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
ایم اے رشید
ایم اے رشید
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
ایم اکرم
ایم اکرم
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
جعفر بخاری
جعفر بخاری
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
علی اعجاز
علی اعجاز
ایم صادق
ایم صادق
ایم اشرف
ایم اشرف
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
حزیں قادری
حزیں قادری
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
مالا
مالا
طافو
طافو
منیر حسین
منیر حسین
عمرشریف
عمرشریف
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
حبیب جالب
حبیب جالب
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
نیلو
نیلو
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
سائیں اختر
سائیں اختر
ساحل فارانی
ساحل فارانی
حسن لطیف
حسن لطیف
شبانہ
شبانہ
اے حمید
اے حمید
صہبااختر
صہبااختر
نذر
نذر
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
شبنم
شبنم
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
علاؤالدین
علاؤالدین
رفیق رضوی
رفیق رضوی
رشیداختر
رشیداختر
نبیلہ
نبیلہ
نرالا
نرالا
شیریں
شیریں
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
زلفی
زلفی
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
نذیر بیگم
نذیر بیگم
روبینہ بدر
روبینہ بدر
مظفروارثی
مظفروارثی
امجدبوبی
امجدبوبی
غزالہ
غزالہ
نسیمہ خان
نسیمہ خان
منیر نیازی
منیر نیازی
مظہر شاہ
مظہر شاہ
کیفی
کیفی
شاہد
شاہد
رضا میر
رضا میر
وزیر افضل
وزیر افضل
مسرور انور
مسرور انور
ناصرہ
ناصرہ
لیلیٰ
لیلیٰ
رضیہ
رضیہ
الحامد
الحامد
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
محمد علی
محمد علی
مسعود رانا
مسعود رانا
تنویر نقوی
تنویر نقوی
اقبال حسن
اقبال حسن
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
حبیب
حبیب
فیروز نظامی
فیروز نظامی
منورظریف
منورظریف
ساون
ساون
آصف جاہ
آصف جاہ
سلیم رضا
سلیم رضا
منوررشید
منوررشید
قتیل شفائی
قتیل شفائی
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
اعجاز
اعجاز
لقمان
لقمان
محمد رفیع
محمد رفیع
حسن عسکری
حسن عسکری
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
مسعودپرویز
مسعودپرویز
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
نسیم بیگم
نسیم بیگم
وحیدڈار
وحیدڈار
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
حسنہ
حسنہ



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.