Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1044 songs in 649 films

مسعودرانا اور ایم اکرم

ایم اکرم ، پنجابی فلموں کے ایک مایہ ناز فلمساز اور ہدایتکار تھے۔۔!

بنیادی طور پر وہ ایک فلم ایڈیٹر یا تدوین کار تھے اور اس حیثیت میں پہلی فلم دلبر (1951) تھی جس کے فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا تھے جنہیں وہ اپنا استاد بھی کہتے تھے۔ گمنام (1954) ، قاتل (1955) ، دلابھٹی ، سرفروش (1956) اور سات لاکھ (1957) جیسی بڑی بڑی فلموں سمیت دو درجن فلموں کی تدوین کاری کی۔ اس دوران بطور ہدایتکار پہلی فلم گھرجوائی (1958) بنائی جس میں بہار اور سلطان کی جوڑی تھی لیکن یہ ایک ناکام فلم تھی۔ دوسری فلم تیرانداز (1963) بنائی جس میں رخسانہ اور سلطان کی جوڑی تھی لیکن یہ بھی ناکام فلم تھی۔ ہدایتکار امین ملک کی سپرہٹ فلم چوڑیاں (1963) کے معاون ہدایتکار کے طور پر ایم اکرم کا نام آتا ہے جبکہ فلم وقت کی پکار (1967) میں آخری بار فلم ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے بطور ہدایتکار کل 38 فلمیں بنائیں جن میں سے صرف چار اردو فلمیں تھیں۔ 28 فلموں میں ان کا نام بطور فلمساز بھی آتا ہے۔

ایم اکرم کی کامیابیوں کا سفر فلم بانکی نار (1966) سے شروع ہوتا ہے جس کے مرکزی کرداروں میں شیریں ، اکمل اور مظہرشاہ کے علاوہ ایک اداکارہ صبا بھی تھی جو ان کی بھانجی بتائی جاتی ہے اور ان کی تقریباً ہر فلم کا لازمی حصہ ہوتی تھی۔ اسی فلم میں ایم اکرم کا ساتھ پہلی بار مسعودرانا کے ساتھ ہوا تھا جنہوں نے بابا چشتی کی دھن میں حزیں قادری کے لکھے ہوئے بول ایک تھیم سانگ کی صورت میں گائے تھے "چیتا رکھیں بول اے فقیر والا بندیا۔۔" یہ گیت اداکار گل زمان کے پس منظر میں گایا گیا تھا جو پاکستانی فلموں میں ایک معاون اداکار کے طور پر بہت سی فلموں میں دیکھے گئے۔ ان کی یادگار فلموں میں سے ایک فلم ہیررانجھا (1970) بھی تھی جس میں انھوں نے منورظریف کے باپ کا رول کیا تھا۔ انھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے برصغیر کی تاریخ کے عظیم ترین فلمی گلوکار محمدرفیع کو لاہور میں بننے والی پنجابی فلم گل بلوچ (1946) میں متعارف کرایا تھا۔ رفیع صاحب کا گلوکارہ زینت بیگم کے ساتھ گایا ہوا پہلا فلمی گیت "سوہنئے نی ، ہیریئے نی ، تیری یاد نے ستایا۔۔" گل زمان پر ہی فلمایا گیا تھا جو اس فلم میں سلمیٰ نامی اداکارہ کے ساتھ ہیرو ہونے کے علاوہ فلمساز اور ہدایتکار بھی تھے۔ یہ یادگار پنجابی فلم لاہور کے کراؤن سینما میں 23 اگست 1946ء کو ریلیز ہوئی تھی لیکن اس وقت تک محمدرفیع کی بطور گلوکار ، میڈم نورجہاں اور نذیر کی فلم گاؤں کی گوری (1945) سمیت متعدد ہندی اردو فلمیں ریلیز ہوچکی تھیں۔

ایم اکرم کی اردو فلم جانباز (1966) ایک بڑی جاندار فلم تھی لیکن ناکام رہی تھی۔ محمدعلی ہیرو تھے جبکہ اداکارہ شیریں کی یہ دوسری اور آخری اردو فلم تھی جس کے ٹائٹل رول میں وہ پوری فلم پر چھائی ہوئی تھی۔ بابا چشتی نے اس فلم کے بعد بھی ستر سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی لیکن یہ ان کی آخری اردو فلم تھی جس میں انھوں نے مسعودرانا سے چار گیت گوائے تھے جو چار مختلف اصناف کے حامل تھے۔ ایک مشہور قوالی تھی "نور خدا ملے کہ حبیب خدا ﷺ ملے۔۔" دوسرا ایک ترانہ تھا "جانباز ہیں ، باطل سے خداؤں سے کہہ دو۔۔" تیسرا ایک مزاحیہ گیت تھا "تجھے تیری ماں کی قسم جانِ جان ، کہیں بھاگ نہ جانا۔۔" جبکہ چوتھا ایک دلکش رومانٹک گیت تھا "یہ دل کی حسرت مچل رہی ہے کہ آرزو مسکرا رہی ہے۔۔" اسی دور میں بابا چشتی نے ایک اور غیرریلیز شدہ اردو فلم آدھی رات کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی جس کے ہدایتکار ایم اکرم ہی تھے۔ اس فلم میں بھی مسعودرانا کے تین خوبصورت گیت ملتے ہیں جن میں خاص طور پر یہ گیت "میرے محبوب کوئی تجھ سا ہزاروں میں نہیں ، تجھ میں جو بات ہے وہ چاند ستاروں میں نہیں۔۔" قابل ذکر تھا۔

ایم اکرم کی اگلی فلم میدان (1968) بھی ایک کامیاب فلم تھی ، ویسے بھی اس دور میں سدھیر کی فلمیں ناکام کم ہی ہوتی تھیں۔ وہ اپنے وقت کے سب سے مقبول ترین فلمی ہیرو اور ایکشن کے بے تاج بادشاہ تھے ، بیشتر فلم بین ایسی ہی فلمیں پسند کرتے تھے۔ نغمہ ہیروئن تھی۔ اس فلم میں منورظریف اور فرحی پر فلمایا ہوا مسعودرانا اور آئرن پروین کا ایک بڑا خوبصورت گیت "ٹہنی نالوں وچھڑے پت نوں سنانی اے۔۔" بھی تھا جبکہ اس فلم کا سب سے مقبول گیت نسیم بیگم اور آئرن پروین کا یہ گیت تھا "چوڑا میری بانہہ دا چھنکدا اے چھن چھن چھن۔۔"

ایم اکرم کی اگلی فلم چن چودہویں دا (1968) میں فردوس اور حبیب مرکزی کرداروں میں تھے اور ان پر فلمایا ہوا مسعودرانا اور رونا لیلیٰ کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا "کرنی آں اج اقرار تیرے سامنے ، لکیا نئیں رہندا ہن پیار تیرے سامنے۔۔" فلم سودن چوردا (1969) میں نغمہ اور اعجاز کی جوڑی تھی۔ ماسٹرعبداللہ کی دھن میں حزیں قادری کا لکھا ہوا یہ شاہکار اور سدابہار گیت نغمہ پر فلمایا گیا تھا جسے ملکہ ترنم نورجہاں نے گا کر امر کر دیا تھا "اوخو تیریاں نے راہواں ، اوخو میریاں نگاہواں ، اللہ دی سونہہ تو نئیں دسدا۔۔" ان دونوں فلموں میں ممتاز ہدایتکار الطاف حسین ، ایم اکرم کے معاون تھے۔

ایم اکرم کے فلمی کیرئر کی ایک بہت بڑی فلم تیرے عشق نچایا (1969) میں نغمہ ، اعجاز ، عالیہ اور یوسف خان مرکزی کرداروں میں تھے۔ یہ ایک بڑی اعلیٰ پائے کی نغماتی رومانٹک فلم تھی جس کی موسیقی وجاہت عطرے نے ترتیب دی تھی اور گیت حزیں قادری نے لکھے تھے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کا گیت "تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ یہ گیت مسعودرانا نے بھی گایا تھا جبکہ ایک کورس گیت بھی تھا "بن کے سوہنیاں دی سرکار تے بھل گئے کسے غریب دا پیار۔۔" اسی فلم میں مسعودرانا نے تین دوہے بھی گائے تھے جو فلم کے تینوں مرکزی کرداروں کے پس منظر میں فلمائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ مسعودرانا نے تین درجن کے قریب ایسے اشعار ، دوہے ، قطعات وغیرہ گائے تھے جو مختلف فلمی پس مناظر کے لیے فلمائے جاتے تھے اور ایک مکمل گیت سے زیادہ پراثر ہوتے تھے۔ اسی فلم میں گایا ہوا ملکہ ترنم نورجہاں کا گیت "عشقے دی کوک سن کے کوئی اتر پہاڑوں آیا۔۔" اتنا دلکش گیت تھا کہ بار بار سننے کو جی چاہتا تھا۔ فلم میں بھی اتنا خوبصورت فلمایا گیا تھا کہ دیکھ دیکھ کر جی نہیں بھرتا تھا۔

ایم اکرم کی فلم وچھوڑا (1970) بھی اپنے گیتوں کی وجہ سے بڑی پسند کی گئی تھی۔ بابا چشتی کی دھنوں میں احمدراہی کے یہ دوگیت بڑے مقبول ہوئے تھے "کوئی نواں لارا لا کے مینوں رول جا ، جھوٹیاں وے اک جھوٹ ہور بول جا۔۔" (میڈم نورجہاں) اور "ٹانگہ بھریا سواریاں نال ، دل یارو خالی ہو گیا۔۔" (مسعودرانا)۔ مجھے یہ فلم اس لیے بھی نہیں بھولتی کہ اپنی دیکھی ہوئی فلموں کی تاریخ مرتب کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ کب کون سی فلم دیکھی تھی۔ اسی سال کی فلم چڑھدا سورج (1970) بھی ایک بہت بڑی فلم تھی جس میں نغمہ ، سدھیر اور ساون کے مرکزی کردار تھے۔ ایم اکرم کی یہ پہلی رنگین فلم تھی جو سدھیر کی بھی پہلی مکمل رنگین فلم تھی۔ اس سے قبل وہ ایک جزوی رنگین فلم گل بکاؤلی (1961) میں کام کرچکے تھے۔

ہدایتکار ایم اکرم کی فلم پیار دے پلیکھے (1971) ، بھٹی بردران کے ساتھ ان کی اکلوتی فلم تھی۔ گو کیفی کے ساتھ ان کی ایک اور فلم دنیا پیار دی (1974) بھی تھی لیکن یہ دونوں ناکام فلمیں تھیں۔ فلم اچا ناں پیار دا (1971) ایک بڑی خوبصورت فلم تھی جس میں رانی اور اعجاز کو مالا کے ایک سپرہٹ گیت "دلوں من لئی ، تیری بن گئی ، میرے ہانیا۔۔" میں اتنا خوبصورت فلمایا گیا تھا کہ وہ کوئی آسمانی مخلوق نظر آتے تھے۔

1972ء کا سال ایم اکرم کی فنی زندگی کا ایک یادگار ترین سال تھا جب ان کی دونوں فلمیں خان چاچا اور سلطان (1972) سپرہٹ ہوئی تھیں۔ بلاشبہ یہ دونوں فلمیں ان کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلمیں تھیں۔ خان چاچا (1972) کا ٹائٹل رول ساون نے کیا تھا جو اس وقت پنجابی فلموں میں مرکزی کردار کیا کرتے تھے اور بے حد مقبول تھے۔ اس فلم کی کہانی ، کردارنگاری اور نغمات ناقابل فراموش ہیں۔ "جنہاں تیری مرضی نچا بیلیا۔۔" ، "دھیاں تے دھن پرایا وے بابلا۔۔" اور "ادھی راتوں ڈھل گئی رات۔۔" جیسے لازوال گیت اسی فلم کے تھے جبکہ فلم سلطان (1972) میں "دلدار صدقے ، لکھ وار صدقے۔۔" جیسا امر کورس گیت میڈم نورجہاں ، نذیرعلی اور حزیں قادری کی یاد دلاتا رہے گا۔ ان دونوں فلموں کی کاسٹ میں سوائے ساون کے باقی سبھی فنکار مشترک تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ساون ، فلم خان چاچا (1972) کی شاندار کامیابی سے اس قدر مغرور ہوگئے تھے کہ جب اسلم ڈار نے فلم بشیرا (1972) بنانے کے لیے ان سے رابطہ کیا تو ان کا معاوضہ آسمان سے باتیں کررہا تھا۔ ڈارصاحب نے ساون کی جگہ سلطان راہی کو دس گنا کم معاوضے پر کاسٹ کیا اور پھر باقی تاریخ ہے۔ ایم اکرم نے بھی فلم سلطان (1972) میں ساون کی جگہ سلطان راہی کو کاسٹ کر لیا تھا۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ وہ ساون جو کبھی مرکزی کرداروں میں ہوتا تھا ، پھر ثانوی بلکہ ایکسٹرا کرداروں میں بھی دیکھا گیا تھا ، بے شک ، رہے نام اللہ دا ، اللہ ہی اللہ۔۔!

ایم اکرم نے فلمی جوڑیوں کو تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک نغماتی اور رومانٹک فلم عشق میرا ناں (1974) میں اردو فلموں کے سپرسٹار وحیدمراد کو عالیہ کے مقابل ہیرو کاسٹ کیا تھا جنہیں اپنی پہلی پنجابی فلم مستانہ ماہی (1971) میں کامیابی کے باوجود پنجابی فلموں کے کسی فلمساز یا ہدایتکار نے کسی فلم میں کاسٹ نہیں کیا تھا۔ یہ ایک سپرہٹ فلم تھی لیکن اگلے سال کی فلم سجن کملا (1975) ناکام رہی تھی جس کی وجہ سے وحیدمراد ، پنجابی فلموں کی ضرورت نہ بن سکے تھے۔ اس فلم میں مسعودرانا کا ایک بڑا دلچسپ گیت تھا "تسی خیر سے ناں ، بڑے دناں بعد ملے او۔۔" اس گیت میں غالباً وحیدمراد کی آواز بھی شامل تھی جن پر یہ گیت فلمایا گیا تھا۔

ایم اکرم کی کامیاب فلموں میں سدھا رستہ (1974) اور سردابدلہ (1975) کا ذکر بھی ملتا ہے۔ عرصہ بارہ سال بعد انھوں نے ایک اردو فلم کورا کاغذ (1978) بنائی جس میں زیبا اور محمدعلی کی جوڑی تھی۔ اس فلم میں مہدی حسن کا گایا ہوا ایک بڑا دلکش گیت تھا "دیکھ کے دل کا کورا کاغذ ، لکھ دیا میں نے سلام ، آپ کے حسن کے نام۔۔" اس کے بعد ' فلموں کا سلطانی دور' شروع ہوا تو ایم اکرم بھی اسی رنگ میں رنگے گئے اور ان کی اگلی تیرہ میں سے گیارہ فلمیں صرف سلطان راہی کے ساتھ تھیں۔ اس دوران ان کی اکلوتی فلم دشمن پیارا (1983) ، ننھا اور علی اعجاز کی کامیڈی جوڑی کے ساتھ تھی۔ اس دور کی فلموں میں بائیکاٹ (1978) اور ہتھیار (1979) میں لوک فنکار عالم لوہار کو سلورسکرین پر اپنے گیتوں سمیت پیش کیا گیا تھا۔ اس دور کی فلموں میں ایک فلم چوروں قطب (1983) ایک انتہائی بامقصد اور سبق آموز موضوع پر تھی۔ ایک جرائم پیشہ شخص پولیس سے چھپنے کی کوشش میں درویشوں کے ایک گروہ میں پھنس جاتا ہے اور پھر کیسے اس کی کایا پلٹتی ہے ، ایم اکرم نے بڑے خوبصورت انداز میں اسے پردہ سیمیں پر پیش کیا تھا۔ فلم لال طوفان (1984) میں میڈم نورجہاں کا ایک گیت "تینوں سجدے کرن نوں جی کردا ، فیر سوچنی آں تو خدا تے نئیں۔۔" گلی گلی گونجنے والا گیت ثابت ہوا تھا۔

ایم اکرم کی آخری فلم گجر 302 (2001) تھی جس میں صائمہ ، شان اور بابرعلی مرکزی کرداروں میں تھے۔ فلم دیکھ کر ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کا تو صرف نام ہی استعمال ہوا ہے ورنہ باقی کارستانی تو گجر فلمساز کی اپنی تھی۔ موسیقار نذیرعلی کی بھی یہ آخری فلم تھی جنہوں نے ایم اکرم کی آدھی فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ دلچسپ بات ہے کہ ان کی آدھی ہی فلموں کے گیت حزیں قادری نے لکھے تھے۔ 1934ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے ایم اکرم کا انتقال 2016ء میں ہوا تھا۔ ایم پرویز ان کے بھائی اور اداکار زبیر غالباً بھتیجے تھے۔

مسعودرانا کے ایم اکرم کی 10 فلموں میں 19 گیت

(7 اردو گیت ... 12 پنجابی گیت )
1
فلم ... بانکی نار ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ، گل زمان)
2
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: محمد علی
3
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ، حافظ عطا محمدقوال مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟؟
4
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: (پس پردہ ، تھیم سانگ )
5
فلم ... جانباز ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: نذر ، سلونی
6
فلم ... میدان ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: ماسٹر عبد اللہ ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: منور ظریف ، فرحی
7
فلم ... چن چوہدویں دا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: طفیل فاروقی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: فردوس ، حبیب
8
فلم ... تیرے عشق نچایا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اعجاز
9
فلم ... تیرے عشق نچایا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: اعجاز
10
فلم ... تیرے عشق نچایا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ، اعجاز)
11
فلم ... تیرے عشق نچایا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ، یوسف خان)
12
فلم ... تیرے عشق نچایا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس پردہ ، نغمہ)
13
فلم ... وچھوڑا ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: احمد راہی ... اداکار: اعجاز
14
فلم ... سجن کملا ... پنجابی ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: وحید مراد
15
فلم ... شگناں دی مہندی ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: افشاں ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ؟ ... اداکار: عالیہ ، سنگیتا ، زبیر ، یوسف خان مع ساتھی
16
فلم ... خوددار ... پنجابی ... (1985) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: سلطان راہی ، انجمن مع ساتھی
17
فلم ... آدھی رات ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟
18
فلم ... آدھی رات ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیم بیگم ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟
19
فلم ... آدھی رات ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیم بیگم مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ظہور ناظم ... اداکار: ؟

Masood Rana & M. Akram: Latest Online film

Khuddar

(Punjabi - Color - Friday, 4 October 1985)


Masood Rana & M. Akram: Film posters
Banki NaarJanbazMedanTeray Ishq NachayaWichhoraSajjan KamlaKhuddar
Masood Rana & M. Akram:

2 joint Online films

(0 Urdu and 2 Punjabi films)

1.16-09-1966: Banki Naar
(Punjabi)
2.04-10-1985: Khuddar
(Punjabi)
Masood Rana & M. Akram:

Total 10 joint films

(2 Urdu, 8 Punjabi films)

1.16-09-1966: Banki Naar
(Punjabi)
2.25-11-1966: Janbaz
(Urdu)
3.02-01-1968: Medan
(Punjabi)
4.22-12-1968: Chann 14vin Da
(Punjabi)
5.26-09-1969: Teray Ishq Nachaya
(Punjabi)
6.09-01-1970: Wichhora
(Punjabi)
7.12-12-1975: Sajjan Kamla
(Punjabi)
8.30-07-1976: Shagna Di Mehndi
(Punjabi)
9.04-10-1985: Khuddar
(Punjabi)
10.Unreleased: Aadhi Raat
(Urdu)


Masood Rana & M. Akram: 19 songs in 10 films

(7 Urdu and 12 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Banki Naar
from Friday, 16 September 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback - Gul Zaman)
2.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): (Playback - title song)
3.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Hafiz Atta Muhammad Qawwal & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ??
4.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Nazar, Saloni
5.
Urdu film
Janbaz
from Friday, 25 November 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali
6.
Punjabi film
Medan
from Tuesday, 2 January 1968
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Master Abdullah, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif, Farhi
7.
Punjabi film
Chann 14vin Da
from Sunday, 22 December 1968
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: Tufail Farooqi, Poet: , Actor(s): Firdous, Habib
8.
Punjabi film
Teray Ishq Nachaya
from Friday, 26 September 1969
Singer(s): Masood Rana & Co., Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): Ejaz & Co.
9.
Punjabi film
Teray Ishq Nachaya
from Friday, 26 September 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): (Playback - Ejaz)
10.
Punjabi film
Teray Ishq Nachaya
from Friday, 26 September 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): Ejaz
11.
Punjabi film
Teray Ishq Nachaya
from Friday, 26 September 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): (Playback - Yousuf Khan)
12.
Punjabi film
Teray Ishq Nachaya
from Friday, 26 September 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): (Playback - Naghma)
13.
Punjabi film
Wichhora
from Friday, 9 January 1970
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Ejaz
14.
Punjabi film
Sajjan Kamla
from Friday, 12 December 1975
Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: , Actor(s): Waheed Murad
15.
Punjabi film
Shagna Di Mehndi
from Friday, 30 July 1976
Singer(s): Afshan, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): Aliya, Sangeeta, Zubair, Yousuf Khan & Co.
16.
Punjabi film
Khuddar
from Friday, 4 October 1985
Singer(s): Masood Rana, Noorjahan & Co., Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): Sultan Rahi, Anjuman & Co.
17.
Urdu film
Aadhi Raat
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?
18.
Urdu film
Aadhi Raat
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Naseem Begum & Co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?
19.
Urdu film
Aadhi Raat
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Naseem Begum , Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Shola
Shola
(1952)
Bharjai
Bharjai
(1964)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..