A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1037 songs in 647 films

مسعودرانا اور وزیر افضل

ماضی میں عام آدمی کے لیے فلم سب سے بڑی اور واحد تفریح ہوتی تھی۔ اس دور میں جہاں کئی ایک فلمیں سپرہٹ ہوئیں ، وہاں بہت سے فلمی گیت بھی گلی گلی گونجتے تھے۔ ایسے ہی لازوال گیتوں میں سے ایک گیت تھا "کہندے نیں نیناں ، تیرے کول رہنا۔۔" یہ شاہکار گیت موسیقار وزیرافضل کے فلمی کیرئر کا سب سے مقبول ترین گیت تھا۔

وزیرافضل ، اصل میں دو موسیقاروں کی جوڑی کا نام تھا۔ ان میں سے پہلے ، وزیرعلی ، جو اکیلے وزیرافضل کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ، بنیادی طور پر ریڈیو پاکستان کراچی میں موسیقی کا ایک ساز 'سرود' بجاتے تھے لیکن موسیقار ماسٹرغلام حیدر نے انھیں 'مینڈولین' بجانے کا مشورہ دیا۔ اس ساز کے بجانے میں وہ ایسے ماہر ہوئے کہ فلم قاتل (1955) میں گلوکارہ کوثرپروین کے گائے ہوئے اور طفیل ہوشیارپوری کے لکھے ہوئے مشہور زمانہ گیت "او مینا ، نجانے کیا ہوگیا۔۔" میں انھوں نے موسیقار ماسٹرعنایت حسین کی معاونت کی تھی۔ بعد میں وہ ، موسیقار خواجہ خورشید انور کی شاگردی میں چلے گئے اور ایک مکمل اور مستند موسیقار ہونے کے باوجود ان کے ایک سازندے کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔

Mohammad Afzal
موسیقار محمد افضل
وزیرافضل کی جوڑی کے دوسرے موسیقار محمدافضل تھے جو تقسیم سے پہلے پنجاب کے ایک مشہور اداکار ، گلوکار اور موسیقار 'بھائی دیسا' کے بیٹے اور اپنے ساتھی ، وزیرعلی کے بھتیجے تھے۔ اس طرح سے یہ 'چچا بھتیجا' کی ایک منفرد موسیقار جوڑی تھی جو 1968ء تک قائم رہی اور پھر کسی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی۔ چچا ، وزیرعلی نے 'وزیرافضل' کے نام سے اپنا فنی سفر جاری رکھا۔ محمدافضل ، خود ایک بہترین 'وائلن نواز' تھے اور ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک تھے۔ 2007ء میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ بعض حلقوں کے مطابق اس جوڑی کے زیادہ تر ہٹ گیتوں کی دھنیں ، محمدافضل نے بنائی تھیں اور وزیرعلی نے کبھی اس کا کریڈٹ انھیں نہیں دیا تھا۔ یہ بات مبنی بر حقیقت نہیں لگتی کیونکہ اس جوڑی کے ٹوٹنے کے بعد بھی وزیرعلی نے ڈیڑھ درجن سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی اور کئی ایک سپرہٹ گیت تخلیق کیے تھے جبکہ محمدافضل کے کریڈٹ پر صرف ایک آدھ گمنام فلم ہی ملتی ہے۔

ChaCha Khamkhah (1963)
وزیرافضل کی پہلی فلم چاچا خوامخواہ (1963)
وزیرافضل کو پہلی بار ساٹھ کے عشرہ کے پنجابی فلموں کے ممتاز ہدایتکار اسلم ایرانی کی فلم چاچاخوامخواہ (1963) کی پس پردہ موسیقی دینے کا موقع ملا تھا۔ اتفاق سے ایرانی صاحب کے فلمساز ادارے Lovely Pictures کی اپنے مستقل موسیقار بابا جی اے چشتی سے کسی بات پر ان بن ہوگئی تھی تو ایسے میں وزیرافضل کو چار گیتوں کی دھنیں مرتب کرنے کا موقع بھی مل گیا تھا۔ ان کا پہلا گیت بڑا مقبول ہوا تھا "ایتھے وگدے نیں راوی تے چناں ، بیلیا۔۔" یہ گیت عنایت حسین بھٹی اور منیرحسین کی آوازوں میں تھا جو فلم میں سدھیر اور مظہرشاہ پر فلمایا گیا تھا۔ اس فلم کا ٹائٹل رول معروف مزاحیہ اداکار اے شاہ شکارپوری نے کیا تھا۔

وزیرافضل کی دوسری فلم زمین (1965) تھی۔ اس فلم میں نغمہ نگار مشیرکاظمی کے لکھے ہوئے متعدد گیت بڑے مقبول ہوئے تھے جن میں مہدی حسن کا "شکوہ نہ کر ، گلہ نہ کر ، یہ دنیا ہے پیارے ، یہاں غم کے مارے ، تڑپتے رہے۔۔" ایک سپرہٹ گیت تھا۔ آئرین پروین اور نذیربیگم کا کورس گیت "رُت ساون کی رے ، من بھاون کی ، تورے نیناں کیوں شرمائے رے۔۔" اور سائیں اختر کی دھمال "تیری شان ہے شان قلندری ، تو بڑا غریب نواز ہے ، اللہ ہو۔۔" بھی بڑے مقبول گیت تھے۔

وزیرافضل کی تیسری فلم دل دا جانی (1967) ، ان کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم ثابت ہوئی تھی جس کے بیشتر گیت امر گیتوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ حزیں قادری کے قلم سے نکلے ہوئے ان سدا بہار گیتوں کو ملکہ ترنم نورجہاں کی لافانی آواز نے شاہکار گیت بنا دیا تھا "سیو نی میرے دل دا جانی۔۔" ، "تینوں سامنے بٹھا کے شرماواں تے ایخو میرا جی کردا۔۔" ، "وے میں آپ نہ لائیاں وے ، لگیاں زورا زوری۔۔" ، "میں ککر پیار لکاواں کہ بلیاں بول پیاں۔۔" نہ گھر آیا دل دا جانی ، نہ میں دکھ سکھ پھولیا نی ، دن بہتے ہوئے۔۔" اسی فلم میں وزیرافضل نے پہلی بار مسعودرانا سے یہ دوگانا گوایا تھا "ہتھ لا کے خالی گھڑیاں نوں ، سمجھاناں پے گیا چھڑیاں نوں۔۔" اس گیت کا آخری انترہ شوکت علی کی آواز میں تھا جو رنگیلا پر فلمایا گیا تھا جس کا یہ ڈائیلاگ بڑا مقبول ہوا تھا کہ "میں نے تین سال تک ہانگ کانگ کے نلکوں کا پانی پیا ہے ، کوئی حقہ نہیں پیا۔۔" یہی ڈائیلاگ فلم سنگدل (1968) میں بھی دھرایا گیا تھا۔ علاؤالدین کی یہ ذاتی فلم تھی جس کے ہدایتکار ان کے بھائی ریاض احمد راجو تھے۔ اسی سال کی فلم البیلا (1967) کا کوئی گیت قابل ذکر نہیں تھا۔

فلم دل دا جانی (1967) کے شاہکار گیتوں نے وزیرافضل کو بام عروج پر پہنچا دیا تھا اور 1968ء میں ان کے فلمی کیرئر کی سب سے زیادہ یعنی دس فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ یا یوں سمجھیں کہ وزیرافضل کے پورے فلمی کیرئر کی ایک چوتھائی فلمیں صرف 1968ء میں ریلیز ہوئی تھیں۔ ان فلموں میں دو اردو فلمیں ، دوبھائی اور پڑوسی (1968) تھیں۔ فلم پڑوسی میں ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ گیت سپرہٹ تھا "دل نغموں سے بھر جاتا ہے جب ہوتا ہے پیار کسی سے۔۔" باقی گیت بھی اچھے تھے لیکن اس کے بعد انھیں کبھی کسی اردو فلم کی موسیقی دینے کا موقع نہیں ملا۔ وزیرافضل نے صرف پانچ اردو فلموں کی موسیقی دی تھی جن میں سے ایک فلم فرسٹ ٹائم ، ریلیز نہیں ہوئی تھی۔

1968ء کی باقی آٹھوں پنجابی فلمیں تھیں جن میں خاص بات یہ تھی کہ فلم مہندی (1968) میں وزیرافضل نے مہدی حسن سے ان کا پہلا سپرہٹ پنجابی گیت گوایا تھا "دکھ لباں تے نے آوے ، پاویں جند مک جاوے ، اچا ناں ہووے پیار دا۔۔" یاد رہے کہ یہ مہدی حسن کا دوسرا پنجابی فلمی گیت تھا۔ انھوں نے اپنا پہلا پنجابی گیت فلم ہیرسیال (1965) میں گایا تھا لیکن کبھی پنجابی فلموں کی ضرورت نہیں بن سکے تھے۔ فلم سوہنا (1968) میں ملکہ ترنم نورجہاں کے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے "کاہنوں کیتا پیار تیرے نال ، بے دردا وے۔۔" اور "دل نہ توڑیں پردیسن دا۔۔" فلم مرادبلوچ (1968) میں بھی میڈم کا یہ گیت سپرہٹ تھا "ڈھول بلوچا ، موڑ مہاراں۔۔"

اسی سال وزیرافضل نے فلم دو مٹیاراں (1968) کی موسیقی ترتیب دی تھی جس میں انھوں نے مسعودرانا سے دو دلکش گیت گوائے تھے۔ پہلا ایک طربیہ گیت تھا "دل چیر کلیجیوں پار گیاں ، دو نیویاں نظراں مار گیاں۔۔" اور ایک المیہ گیت تھا "ہن گل کر دلا ، پہلاں نئیں سیں من دا ، ویکھ لیا ای مزہ پیار کرن دا۔۔" یہ دونوں گیت حزیں قادری کے لکھے ہوئے اور مسعودرانا پر فلمائے گئے تھے جو اس فلم میں ہیرو کے طور کام کررہے تھے۔ دلچسپ بات ہے کہ وزیرافضل صاحب نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انھوں نے مسعودرانا سے صرف یہی دو گیت گوائے تھے لیکن اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ انھوں نے سب سے زیادہ مردانہ گیت مسعودرانا ہی سے گوائے تھے حالانکہ ان کے پسندیدہ گلوکار مہدی حسن تھے۔

نغمات کے لحاظ سے 1968ء کی سب سے بڑی فلم جماں جنج نال (1968) تھی جس میں وزیرافضل کی دھن میں حزیں قادری کا لکھا ہوا اور ملکہ ترنم نورجہاں کا گایا ہوا یہ گیت تو مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ گیا تھا "کہندے نیں نیناں ، تیرے کول رہنا۔۔" یہ گیت ناہید نامی اداکارہ پر فلمایا گیا تھا جس کی جوڑی اداکار حبیب کے ساتھ بنائی گئی تھی۔ اسی فلم میں مہدی حسن کا گایا ہوا اور علاؤالدین کا لکھا ہوا یہ گیت بھی بڑا پسند کیا گیا تھا "گھنڈ مکھڑے توں لاؤ یار۔۔" فلم کا ٹائٹل اور تھیم سانگ احمدرشدی نے گایا تھا جو ایک بہترین کامیڈی گیت تھا "میں جماں جماں جنج نال ، مینوں کھاندیاں کھابے نویں نویں ، ہوگئے نیں پورے پنج سال۔۔" یہ فلم بھی علاؤالدین کی ذاتی فلم تھی اور دل دا جانی (1967) کے سٹائل پر بنائی گئی تھی لیکن باکس آفس پر ویسی کامیابی حاصل نہ کر سکی تھی۔

کیسی عجیب بات تھی کہ اتنی بڑی کامیابی اور ایک کیلنڈر ائر میں دس فلموں کی موسیقی دینے کے باوجود اگلے پانچ برسوں میں وزیرافضل کی صرف تین فلمیں سامنے آئیں جن میں کوئی قابل ذکر گیت نہیں تھا۔ ممکن ہے کہ اس جوڑی کے ٹوٹنے کی وجہ سے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ چار سال کے وقفے کے بعد 1974ء میں وزیرافضل کی ایک ہی فلم یارمستانے ریلیز ہوئی تھی جو ایک کامیاب فلم تھی۔ اس فلم میں بھی ملکہ ترنم نورجہاں کے دو گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں ایک گیت "وے تو قرار ، میرا پیار ، میرے ہانیاں ، میں ، تینوں ایویں تے نئیں کول پئی بٹھانی آں۔۔" جبکہ دوسرا گیت "جا ، اج تو میں تیری ، تو میرا ، سجناں وے۔۔" تو اتنا مقبول ہوا تھا کہ جب میڈم نورجہاں ، اسی کے عشرہ میں بھارت کے دورہ پر گئی تھیں تو یہ گیت وہاں گایا تھا جسے سن کر بھرے ہال کے شائقین کے علاوہ موسیقار نوشادعلی بھی بڑے متاثر ہوئے تھے۔ شاید یہ واحد پاکستانی پنجابی گیت تھا جو انھوں نے سنا تھا ، عین ممکن تھا کہ چند گیت اور سن لیتے تو پاکستانی موسیقاروں کے در پر زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا فیصلہ کر لیتے۔۔!

وزیرافضل نے فلم سرعام (1975) میں بھی ایک اور شاہکار گیت کمپوز کیا تھا "جا جا وے تینوں دل دتا ، دے دتا ، اللہ واسطے۔۔" فلم گاما بی اے (1976) میں بھی وزیرافضل کی موسیقی مقبول ہوئی تھی۔ اس فلم کا سب سے مقبول گیت "نیندراں نئیں آندیاں۔۔" مسعودرانا اور میڈم نورجہاں کی آوازوں میں الگ الگ گایا گیا تھا۔ مسعودرانا کا یہ شوخ گیت بھی بڑا مشہور ہوا تھا "گل سن دے جانا بھاء جی ، بڑی مہربانی ، میری جنج تے آنا۔۔" اسی فلم میں مسعودرانا اور ناہیداختر کا یہ دوگانا "اج کل دیاں کڑیاں توں ، توبہ ، میری توبہ ، سوواری توبہ۔۔" اداکار اورنگزیب اور نازلی پر فلمایا گیا تھا۔ اس فلم کے بعد وزیرافضل کی درجن بھر فلمیں سامنے آئیں لیکن اچھے گیتوں کے باوجود کوئی گیت سپرہٹ نہیں تھا۔

وزیرافضل نے فلم کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی بڑی تعداد میں گیت کمپوز کیے تھے۔ اداکارہ اور گلوکارہ مسرت نذیر کے مشہورزمانہ لوک گیت "میرالونگ گواچہ۔۔" کی دھن بھی انھوں نے بنائی تھی جسے دو فلموں ، دلاری اور اللہ راکھا (1987) میں موسیقار ایم اشرف نے کاپی کیا تھا اور بالترتیب مسرت نذیر اور میڈم نورجہاں سے گوایا تھا۔ ایسا ہی ایک گیت گلوکارہ حدیقہ کیانی نے گایا تھا "بوہے باریاں تے نالے کندھاں ٹپ کے۔۔" جو وزیرافضل کے گلوکارہ افشاں سے گوائے ہوئے ایک گیت "رُکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی ، نمی نمی واہ وگدی۔۔" کی طرز پر نقل کیا گیا تھا۔

مسعودرانا اور وزیر افضل کے 8 فلموں میں 10 گیت

0 اردو گیت ... 10 پنجابی گیت
1
فلم ... دل دا جانی ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی مع ساتھی ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: علاؤالدین ، ​​رنگیلا مع ساتھی
2
فلم ... دو مٹیاراں ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: مسعود رانا
3
فلم ... دو مٹیاراں ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: مسعود رانا
4
فلم ... اک سی ماں ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: حبیب
5
فلم ... پردیسی ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: مسعودرانا ، حامدعلی بیلا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ؟
6
فلم ... دھن جگرا ماں دا ... پنجابی ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: منور ظریف
7
فلم ... گاما بی اے ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: منور ظریف
8
فلم ... گاما بی اے ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: منور ظریف
9
فلم ... گاما بی اے ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ، ناہید اختر ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: اورنگ زیب ، نازلی
10
فلم ... جشن ... پنجابی ... (1978) ... گلوکار: مسعودرانا ، افشاں مع ساتھی ... موسیقی: وزیر افضل ... شاعر: ؟ ... اداکار: عمر فیروز ، آسیہ مع ساتھی

مسعودرانا اور وزیر افضل کے 0 اردو گیت


مسعودرانا اور وزیر افضل کے 10 پنجابی گیت

1ہتھ لا کے خالی گھڑیاں نوں ، سمجھانا پے گیا چھڑیاں نوں ... (فلم ... دل دا جانی ... 1967)
2دل چیر کلیجیوں پار گیاں ، 2 نیویاں نظراں مار گیاں ... (فلم ... دو مٹیاراں ... 1968)
3ہن گل کر دلا ، پہلاں نئیں سیں من دا ، ویکھ لیا ای مزہ پیار کرن دا ... (فلم ... دو مٹیاراں ... 1968)
4رب نے چن جیاں صورتاں بنا کے ، پیار بھرے دلاں دا خیال کنا رکھیا ... (فلم ... اک سی ماں ... 1968)
5جنے دو گھڑیاں سکھ لینا ... (فلم ... پردیسی ... 1970)
619آں سالاں دی مٹیار ، کول نہ آوے دیوے خار ... (فلم ... دھن جگرا ماں دا ... 1975)
7گل سن دے جانا بھاء جی ، بڑی مہربانی میری جنج تے آنا ... (فلم ... گاما بی اے ... 1976)
8نندراں نئیں آندیاں ، تیرے باجوں نندراں نی آندیاں ... (فلم ... گاما بی اے ... 1976)
9اج کل دیاں کڑیاں توں ، توبہ ، میری توبہ ، سو واری توبہ ... (فلم ... گاما بی اے ... 1976)
10واہ واہ رب سچیا ، آوے دا آوا پکیا ، سارا پنڈ نچیا ... (فلم ... جشن ... 1978)

مسعودرانا اور وزیر افضل کے 6سولو گیت

1دل چیر کلیجیوں پار گیاں ، 2 نیویاں نظراں مار گیاں ... (فلم ... دو مٹیاراں ... 1968)
2ہن گل کر دلا ، پہلاں نئیں سیں من دا ، ویکھ لیا ای مزہ پیار کرن دا ... (فلم ... دو مٹیاراں ... 1968)
3رب نے چن جیاں صورتاں بنا کے ، پیار بھرے دلاں دا خیال کنا رکھیا ... (فلم ... اک سی ماں ... 1968)
419آں سالاں دی مٹیار ، کول نہ آوے دیوے خار ... (فلم ... دھن جگرا ماں دا ... 1975)
5گل سن دے جانا بھاء جی ، بڑی مہربانی میری جنج تے آنا ... (فلم ... گاما بی اے ... 1976)
6نندراں نئیں آندیاں ، تیرے باجوں نندراں نی آندیاں ... (فلم ... گاما بی اے ... 1976)

مسعودرانا اور وزیر افضل کے 2دو گانے

1جنے دو گھڑیاں سکھ لینا ... (فلم ... پردیسی ... 1970)
2اج کل دیاں کڑیاں توں ، توبہ ، میری توبہ ، سو واری توبہ ... (فلم ... گاما بی اے ... 1976)

مسعودرانا اور وزیر افضل کے 2کورس گیت

1ہتھ لا کے خالی گھڑیاں نوں ، سمجھانا پے گیا چھڑیاں نوں ... (فلم ... دل دا جانی ... 1967)
2واہ واہ رب سچیا ، آوے دا آوا پکیا ، سارا پنڈ نچیا ... (فلم ... جشن ... 1978)

Masood Rana & Wazir Afzal: Latest Online film

Jashan

(Punjabi - Black & White - Friday, 29 September 1978)


Masood Rana & Wazir Afzal: Film posters
2 MutiyaranIk Si MaaPardesiDhan Jigra Maa Da
Masood Rana & Wazir Afzal:

3 joint Online films

(0 Urdu and 3 Punjabi films)

1.1968: 2 Mutiyaran
(Punjabi)
2.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)
3.1978: Jashan
(Punjabi)
Masood Rana & Wazir Afzal:

Total 8 joint films

(0 Urdu, 8 Punjabi films)

1.1967: Dil Da Jani
(Punjabi)
2.1968: 2 Mutiyaran
(Punjabi)
3.1968: Ik Si Maa
(Punjabi)
4.1968: Daler Khan
(Punjabi)
5.1970: Pardesi
(Punjabi)
6.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)
7.1976: Gama B.A.
(Punjabi)
8.1978: Jashan
(Punjabi)


Masood Rana & Wazir Afzal: 10 songs in 8 films

(0 Urdu and 10 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Dil Da Jani
from Wednesday, 22 March 1967
Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali & Co., Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Allauddin, Rangeela & Co.
2.
Punjabi film
2 Mutiyaran
from Sunday, 10 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Masood Rana
3.
Punjabi film
2 Mutiyaran
from Sunday, 10 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Masood Rana
4.
Punjabi film
Ik Si Maa
from Friday, 7 June 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Habib
5.
Punjabi film
Pardesi
from Friday, 25 September 1970
Singer(s): Masood Rana, Hamid Ali Bela, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): ?
6.
Punjabi film
Dhan Jigra Maa Da
from Friday, 16 May 1975
Singer(s): Masood Rana, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif
7.
Punjabi film
Gama B.A.
from Friday, 29 October 1976
Singer(s): Masood Rana, Naheed Akhtar, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Aurangzeb, Nazli
8.
Punjabi film
Gama B.A.
from Friday, 29 October 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif
9.
Punjabi film
Gama B.A.
from Friday, 29 October 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif
10.
Punjabi film
Jashan
from Friday, 29 September 1978
Singer(s): Masood Rana, Afshan & Co., Music: Wazir Afzal, Poet: , Actor(s): Umar Feroz, Asiya & Co.


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔