A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
ایس سلیمان
ہدایتکار ایس سلیمان ، کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں لیکن بات مکمل نہیں ہوتی اگر یہ ذکر نہ کیا جائے کہ وہ اپنے وقت کے دو سپرسٹار فلمی ہیروز ، سنتوش اور درپن کے چھوٹے بھائی ، پاکستان کی تاریخ کی سب سے بہترین فلمی اداکارہ صبیحہ خانم اور جذباتی اداکاری کی ملکہ نیر سلطانہ کے دیور تھے۔
ان کے کریڈٹ پر 48 فلمیں تھیں جن میں بڑی بڑی سپرہٹ فلمیں تھیں جو ان کی اپنی پہچان کے لیے کافی ہیں۔
کسی بھی فنکار کو خراج تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ اس کے فن پاروں کا ذکر کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان فلم میگزین کا بنیادی مقصد بھی یہی رہا ہے۔ اسی ضمن میں اس عظیم ہدایتکار کے فلمی کیرئر کا خلاصہ بیان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ ایس سلیمان ، صرف اردو فلموں کے ہدایتکار تھے اور ان کا تمام تر ریکارڈ کراچی سرکٹ کے مطابق ہے جو یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔
ایس سلیمان نے دلیپ کمار کے بچپن کا رول کیا
ایس سلیمان نے چائلڈ ایکٹر کے طور پر بھارتی فلم میلہ (1948) میں عظیم اداکار دلیپ کمار کے بچپن کا رول کیا تھا۔ چند مزید فلموں کے بعد ان کا خاندان پاکستان آگیا تھا جہاں اپنے بڑے بھائی سنتوش کی فلم محبوبہ (1953) میں مہمان اداکار کے طور پر نظر آئے تھے۔
اس کے بعد وہ ، ہدایتکار انور کمال پاشا کے معاون بنے جو ان دنوں فلم سرفروش (1956) بنا رہے تھے۔ دو مزید فلموں مکھڑا (1958) اور ساتھی (1959) میں معاونت کے بعد ان کے دوسرے بھائی درپن کی فلم گلفام (1961) میں مکمل ہدایتکار کے طور پر سامنے آئے۔
ان کی پہلی ہی فلم سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم کا ٹائٹل رول درپن نے کیا تھا جبکہ فلم کی ہیروئن وقت کی ممتاز اداکارہ مسرت نذیر تھی۔ اس فلم میں ایس سلیمان نے خود بھی اداکاری کی تھی۔ وہ ایک خوش شکل اور وجیہہ نوجوان تھے اور باآسانی ہیرو بن سکتے تھے لیکن انھیں اداکاری سے زیادہ ہدایتکاری کا شوق تھا۔
ایس سلیمان کی نغماتی فلم باجی (1963)
ایس سلیمان کی دوسری فلم باجی (1963) تھی جو ان کی پہچان بنی۔ بزنس کے لحاظ سے یہ ایک کمزور فلم تھی لیکن اپنے نغمات کی وجہ سے شاہکار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ موسیقار جوڑی سلیم اقبال نے ناقابل فراموش کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ایس سلیمان اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ موسیقی کے شعبہ میں وہ موسیقار پر مکمل اعتماد کرتے تھے اور اس کے کام میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کرتے تھے۔
اسی فلم کے دوران درپن نے نیرسلطانہ سے شادی کی تھی جبکہ سلیمان صاحب نے شاید زریں پنا سے اسی فلم کے بعد شادی کی تھی۔
ایس سلیمان کی پہلی پنجابی فلم
اسی سال ان کی پہلی پنجابی فلم مہندی والے ہتھ (1963) بھی ریلیز ہوئی تھی جو اصل میں فلم باجی (1963) کے فلمساز کی ضد پر بنائی تھی۔ اس فلم میں اردو فلموں کی سپرسٹار زیبا نے پہلی اور آخری بار کام کیا تھا۔ اس سال کی تیسری فلم تانگے والا (1963) ان کے بھائی درپن کی فلم تھی لیکن یہ بھی ایک ناکام فلم تھی۔
ایس سلیمان اور مسعودرانا کا ساتھ
ناکامیوں کا یہ سفر 1965ء میں بھی جاری رہا جب ان کی اکلوتی فلم تماشا (1965) بھی ناکام رہی۔
1966ء میں ان کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ پہلی فلم تصویر (1966) تھی جس کے ہیرو اور فلمساز سنتوش تھے۔
اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ فلم کی ہیروئن صبیحہ خانم اپنی آواز میں قرآن الکریم کی تلاوت کرتی ہے اور پھر اس کے پس منظر میں مسعودرانا کی دلکش آواز میں ممتاز شاعر الطاف حسین حالی کی مشہور زمانہ نعت
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ، مرادیں غریبوں کی بر لانے والا ﷺ۔۔
سننے کو ملتی ہے۔ اس فلم کا تھیم سانگ بھی مسعودرانا نے گایا تھا
- دنیا کا یہ دستور ہے ، دنیا سے گلہ کیا ، آئینے کی قسمت میں ہے پتھر کے سوا کیا۔۔
یہ فلم بھی ناکام رہی تھی لیکن دوسری فلم لوری (1966) ایک یادگار نغماتی اور جذباتی فلم تھی۔ اس فلم کا حاصل خانصاحب مہدی حسن کی یہ غزل تھی
- خداوندا ، یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں۔۔
ایس سلیمان کی دیگر فلمیں
ایس سلیمان کی اگلی فلم آگ (1967) زیبا اور محمدعلی کی ذاتی فلم تھی جو ایک گولڈن جوبلی سپرہٹ فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم کی موسیقی بھی بڑی پاورفل تھی۔
1968ء میں انھوں نے بطور فلمساز اور ہدایتکار ایک پنجابی فلم یاردوست (1968) بنائی تھی جس میں پنجابی فلموں کے روایتی اداکاروں نغمہ ، اکمل اور فردوس کے علاوہ اس فلم میں محمدعلی کو ایک سائیڈ رول دیا گیا تھا۔ لہری صاحب کو پہلی بار کسی پنجابی فلم میں بھرپور کردار دیا گیا تھا لیکن یہ بھی ایک ناکام فلم تھی۔
1969ء میں پہلی بار ایس سلیمان کی بطور ہدایتکار تین فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ ان میں فلم پیا ملن کی آس ناکام رہی تھی لیکن باقی دونوں فلمیں جیسے جانتے نہیں اور بہاریں پھر بھی آئیں گی کامیاب رہی تھیں۔ گلوکارہ مالا نے بطور فلمساز اپنی اس فلم میں اپنی بہن شمیم نازلی کو متعارف کروایا تھا جو پاکستان کی پہلی خاتون موسیقار تھیں۔
اس فلم کا ایک سینما بورڈ جس پر اس فلم کا پوسٹر بھی چسپاں تھا ، لاہور کے راوی روڈ کے ایک کھمبے پر لٹکا ہوا میرے ذہن پر آج بھی نقش ہے۔
ایس سلیمان کی وحیدمراد کے ساتھ واحد فلم
1970ء میں ایس سلیمان کی ایک بار پھر تین فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں بے وفا واحد فلم تھی جس میں انھوں نے وحیدمراد کو ہیرو لیا تھا۔ یہ ایک اوسط درجے کی جبکہ باقی دونوں فلمیں ناکام تھیں۔
فلم محبت رنگ لائے گی میں نامور فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف سیدنور نے ایس سلیمان کے معاون کے طور پر کام شروع کیا تھا۔ ایک پھول ایک پتھر ، اس سال کی تیسری فلم تھی جو ان کی آخری بلیک اینڈ وہائٹ فلم بھی تھی۔
1971ء میں ان کی واحد فلم تیری صورت میری آنکھیں ایک گولڈن جوبلی سپرہٹ فلم تھی جس میں انھوں نے اداکار سلطان کے چھوٹے بھائی اورنگزیب کو پہلی بار متعارف کرایا تھا۔
ایس سلیمان کی 1972ء میں بھی تین ہی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں صرف فلم الزام ہی ناکام تھی۔ کامیاب فلموں میں سبق کے علاوہ فلم محبت (1972) بھی تھی جس میں خانصاحب مہدی حسن کی غزل
- رنجش ہی سہی ، دل ہی دکھانے کے لیے آ۔۔
فلم کا حاصل تھی۔
تین فلمیں سالانہ کی روایت 1973ء میں بھی قائم رہی تھی۔ ان میں فلم سوسائٹی ہی کامیاب تھی جبکہ تیرا غم رہے سلامت اور بہاروں کی منزل ناکام تھیں۔ ان دونوں ناکام فلموں میں مسعودرانا کے دو دوگانے تھے
- بڑی انجان حسینہ ہے۔۔
- تو پیار لے کے آیا ، بہار بن آئی میں۔۔
بابرہ شریف کی پہلی فلم
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1974ء میں بھی تین ہی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں اور یہ تینوں کامیاب فلمیں تھیں۔ ان میں فلم انتظار میں بابرہ شریف کو متعارف کروایا گیا تھا۔ فلم بھول (1974) میں مسعودرانا کا منورظریف کے لیے گایا ہوا ایک گیت تھا
- ساری دنیا ، پاگل پاگل پاگل ہے۔۔
تیسری فلم مس ہپی تھی۔
ایس سلیمان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم اناڑی (1975)
1975ء کا سال ایس سلیمان کے فلمی کیرئر کا سب سے یادگار سال تھا جب ایک کیلنڈر ایئر میں ان کی پانچ فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ ان میں پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم اناڑی بھی تھی لیکن معیار میں سب سے بہترین فلم زینت تھی جس میں منورظریف کی اداکاری فلم کی جان تھی۔
اس فلم میں مہدی حسن کا گیت
- رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہوگئے۔۔
ایک شاہکار گیت تھا جس کی تسلیم فاضلی کی شاعری بھی بڑے کمال کی تھی۔ زنجیر درمیانے درجے کی تھی لیکن گمراہ اور شرارت ناکام رہی تھیں۔
1976ء میں ان کی دوسری ڈائمنڈ جوبلی فلم آج اور کل بھی ریلیز ہوئی تھی۔ طلاق ، اوسط درجے کی لیکن انسانیت اور موم کی گڑیا ناکام فلمیں تھیں۔
1977ء میں ان کی تین فلموں میں سے اف یہ بیویاں ایک اور ڈائمنڈ جوبلی فلم ثابت ہوئی تھی لیکن باقی دونوں فلمیں میرے حضور اور پیار کا وعدہ ناکام ہو گئی تھیں۔
اگلے سال 1978ء میں بھی تین فلموں کی روایت برقرار رہی تھی ، پرنس کامیاب جبکہ آگ اور زندگی کے علاوہ ابھی تو میں جوان ہوں اوسط رہی تھیں جس میں انھوں نے شاہد کے مقابل شبنم کے علاوہ صبیحہ خانم ، نیرسلطانہ اور میناداؤد کی جوڑیاں بنائی تھیں۔
1979ء میں ان کی اکلوتی فلم نظرکرم ناکام رہی تھی اور یہی حال اگلے سال کی فلم ہائے یہ شوہر (1980) کا بھی ہوا تھا۔
1981ء میں فلم منزل بنائی جو ایک پلاٹینم جوبلی ہٹ ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم میں انھوں نے ٹی وی کے نوجوان اداکار وسیم عباس کو بابرہ شریف کے مقابل ہیرو کے طور پر متعارف کرایا تھا۔
دوسری فلم دل ایک کھلونا ناکام رہی تھی۔ 1982ء میں واحد فلم تیرے بنا کیا جینا ریلیز ہوئی تھی جو ایک گولڈن جوبلی فلم تھی۔ اس فلم میں مسعودرانا نے مہناز اور غلام عباس کے ساتھ شادی کا ایک گیت گایا تھا
- ہریالی بنو ، مہندی لاون دے۔۔
اس کے بعد پانچ سال کے وقفے سے ان کی دو فلمیں سات سہیلیاں اور لو ان لندن ریلیز ہوئی تھیں۔ اس آخری فلم میں مسعودرانا کا اے نیر اور شوکت علی کے ساتھ ایک مزاحیہ گیت تھا
- اللہ مہربان تو زمانہ مہربان ہے۔۔
اس کے گیارہ سال بعد ایس سلیمان کی آخری فلم ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ (1998) ریلیز ہوئی تھی جو انھوں نے اختلافات کی بنا پر چھوڑ کر فلمی دنیا کو بھی چھوڑ دیا تھا۔
ایس سلیمان کے فلمی اعدادوشمار
ایس سلیمان کی 48 فلموں میں سے صرف دو پنجابی فلمیں تھیں۔ محمدعلی 19 جبکہ ندیم اور شاہد گیارہ گیارہ فلموں کے ہیرو تھے۔ لطف کی بات ہے کہ وحیدمراد کے ساتھ صرف ایک فلم تھی۔ ان کی تیرہ تیرہ فلموں میں زیبا اور شبنم نے بطور ہیروئن کام کیا تھا۔ بطور فلمساز ان کی چار فلمیں تھیں ، یاردوست (1968) ، طلاق (1976) ، ابھی تو میں جوان ہوں (1978) اور تیرے بنا کیا جینا (1982)۔ بطور اداکار بھی ان کی چار ہی فلمیں تھیں ، محبوبہ (1953) ، گلفام (1961) ، کنیز (1965) اور ہمراہی (1966)۔ ایس سلیمان ، 1938ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے اور 14 اپریل 2021ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔
مسعودرانا کے ایس سلیمان کی 6 فلموں میں 7 گیت
| 1 | فلم ... تصویر ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: خلیل احمد ... شاعر: حمایت علی شاعر ... اداکار: (پس پردہ، صبیحہ خانم) |
| 2 | فلم ... تصویر ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: خلیل احمد ... شاعر: مولانا الطاف حسین حالی ... اداکار: (پس پردہ، صبیحہ خانم) |
| 3 | فلم ... تیرا غم رہے سلامت ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: شاہد |
| 4 | فلم ... بہاروں کی منزل ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: نشو ، شاہد |
| 5 | فلم ... بھول ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: منور ظریف |
| 6 | فلم ... تیرے بناکیا جینا ... اردو ... (1982) ... گلوکار: مہناز ، غلام عباس ، مسعودرانا مع ساتھی ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟ ، طالش ، مرزا غضنفر بیگ مع ساتھی |
| 7 | فلم ... لو ان لندن ... اردو ... (1987) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی ، اے نیئر ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: سیف الدین سیف ... اداکار: رنگیلا ، عابد کشمیری ، اسماعیل تارا |
Masood Rana & S. Suleman: Latest Online film
Masood Rana & S. Suleman: Film posters
Masood Rana & S. Suleman:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & S. Suleman:
Total 6 joint films
(6 Urdu, 0 Punjabi films)| 1. | 1966: Tasvir(Urdu) |
| 2. | 1973: Tera Gham Rahay Salamat(Urdu) |
| 3. | 1973: Baharon Ki Manzil(Urdu) |
| 4. | 1974: Bhool(Urdu) |
| 5. | 1982: Teray Bina Kya Jeena(Urdu) |
| 6. | 1987: Love in London(Urdu) |
Masood Rana & S. Suleman: 7 songs in 6 films
(7 Urdu and 0 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmTasvirfrom Friday, 11 February 1966Singer(s): Masood Rana, Music: Khalil Ahmad, Poet: , Actor(s): (Playback - Sabiha Khanum) |
| 2. | Urdu filmTasvirfrom Friday, 11 February 1966Singer(s): Masood Rana, Music: Khalil Ahmad, Poet: , Actor(s): (Playback - Sabiha Khanum) |
| 3. | Urdu filmTera Gham Rahay Salamatfrom Friday, 14 December 1973Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Shahid |
| 4. | Urdu filmBaharon Ki Manzilfrom Friday, 21 December 1973Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Nashad, Poet: , Actor(s): Sangeeta, Shahid |
| 5. | Urdu filmBhoolfrom Friday, 1 November 1974Singer(s): Masood Rana & Co., Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif |
| 6. | Urdu filmTeray Bina Kya Jeenafrom Friday, 8 October 1982Singer(s): Mehnaz, Masood Rana,Ghulam Abbas, Music: Kemal Ahmad, Poet: , Actor(s): Talish, Mirza Ghazanfar Baig |
| 7. | Urdu filmLove in Londonfrom Friday, 27 November 1987Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali, A. Nayyar, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): Rangeela, Abid Kashmiri, Ismael Tara |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔











































Qamar Soomro
Razia Butt
Jameel Akhtar
Zahoor Ahmad
Rasheed Dogar
Fatima Surayya Bajia
Ishrat Choudhry
Mehwish
Mustafa Tind
Iqbal Bahoo
Nighat Sultana
Al-Hamid
Ali Ejaz
Nida Mumtaz








