Masood Rana - مسعودرانا

مسعودرانا اور مہدی حسن

Mehdi Hassan, Luqman, Masood Rana

خانصاحب مہدی حسن ، ایک عہد ساز گلوکار اورشہنشاہ غزل تھے اور اس میں کوئی دو آراء نہیں ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ مسعودرانا کی طرح فلم کے آئیڈئل گلوکار نہیں تھے۔۔!

فلمی گلوکار ، جنہیں پلے بیک سنگر یا پس پردہ گلوکار بھی کہا جاتا تھا ، کو ہر طرح کی فلمی صورتحال کے لئے ، ہر قسم کے گیت گانا پڑتے تھے ، جو ہر گانے والے کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی کروڑوں کی آبادی میں گنے چنے چند گلوکار ہی رہے ہیں جو فلمی گائیکی کے میعار پر پورا اترتے تھے اور پاکستان میں اس شعبے میں مسعودرانا کا کوئی ثانی نہیں تھا۔

مہدی حسن بنیادی طور پر ریڈیو کے گلوکار تھے جہاں ان کی وجہ شہرت غزل گائیکی تھی۔ کراچی میں فلم سازی کا آغاز ہوا تو انہیں بھی فلم میں گانے کا موقع ملا تھا لیکن ایک فلمی گلوکار بننے کے لئے انہیں خاصی جدوجہد کرنا پڑی تھی کیونکہ ان کی آواز اور انداز فلمی گائیکی کے لئے موزوں نہیں تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ جب ان کی غزل گائیکی کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا تھا اور وہ ستر کے عشرہ کی اردو فلموں میں دیگر سبھی گلوکاروں پر چھا گئے تھے۔ فلمی موسیقار ، مہدی حسن کے مزاج اور انداز کے مطابق دھنیں بناتے اور ان کی مقبولیت کو کیش کرواتے تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فلموں میں آنے اور جانے کے بعد بھی ان کی پہچان ایک غزل گائیک ہی کی رہی تھی کیونکہ ان کے فلمی گیتوں پر بھی ان کی غزل گائیکی کی گہری چھاپ تھی۔

مہدی حسن
بنیادی طور پر ریڈیو کے گلوکار تھے جہاں ان کی وجہ شہرت غزل گائیکی تھی
اور ایک فلمی گلوکار بننے کے لئے انہیں خاصی جدوجہد کرنا پڑی تھی

مہدی حسن ، دھیمی سروں میں گائے گئے غزل نما رومانٹک گیتوں کے بہترین گلوکار تھےاور اس مقام پر پہنچ گئے تھے کہ جہاں وہ فلمی گلوکارکےلیبل کے محتاج نہیں رہے تھے۔ انہیں ریڈیو گلوکار ہونے کی وجہ سے سرکاری سر پرستی بھی حاصل تھی اور غزل گائیکی کی وجہ سے ادبی حلقوں میں بھی سب سے زیادہ پسند کئے جاتے تھے۔ موسیقی کی جتنی سوجھ بوجھ انہیں حاصل تھی وہ اور کسی فلمی گلوکار کو نہیں تھی کیونکہ وہ اپنی سولہویں پشت سے گا رہے تھے۔ ٹیلی ویژن کے عام ہونے پر فلمی گائیکی سے کہیں زیادہ عزت و شہرت ، غزل کے مخصوص گلوکاروں کے علاوہ کلاسیکی موسیقی ، قوالی ،نعت ، صوفیانہ کلام ، لوک گیت یا پاپ میوزک گانے والوں کو ملنے لگی تھی لیکن پاکستان کے پہلے تین عشروں میں فلمی فنکاروں سے زیادہ شہرت کسی کو نہیں ملی اور یہی وجہ تھی کہ اس دور میں ہر شعبے کے فنکاروں کی خواہش ہوتی تھی کہ ایک بار وہ فلمی لیبل لگوا لیں تاکہ انہیں بھی ملک گیر شہرت حاصل ہو سکے۔

مہدی حسن ، شہنشاہ غزل تو تھے لیکن ایک ور سٹائل فلمی گلوکارنہیں تھے۔ اس کا اندازہ مجھے پہلی بار تب ہوا تھا جب فلمی گیتوں پر تحقیق کرتے ہوئے سب سے پہلے فلم ثریا بھوپالی (1976) کی ایک قوالی میں وحید مراد پر بیک وقت دو گلوکاروں کی آوازیں فلمبند ہوتے سنیں۔ وجہ یہ تھی کہ مہدی حسن لمبی تان نہیں لگا سکتے تھے اور ان کی اس "فنی کمزوری" کو دور کرنے کے لئے منیر حسین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ فلم ندیا کے پار (1973) دیکھی جس میں خانصاحب کا ایک کلاسیکل گیت تھا اور جس کے آخر میں ایک لمبی تان تھی جو مہدی حسن کی بجائے شوکت علی کی آواز میں تھی۔ جب پنجابی فلم دارا (1976) میں مہدی حسن کو اونچی سروں میں ایک مکھڑا گانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے سنا تو یقین ہو گیا تھا وہ ہر طرح کا گیت نہیں گا سکتے تھے۔ فلم سسرال (1977)میں ... بھانڈے کلی کرا لو ... سنا تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی تھی کہ خان صاحب نے اپنی ڈگر سے ہٹ کر بھی کوئی گیت گایا ہے لیکن وہ متاثر نہیں کر سکے تھے کیونکہ ان کی آواز ایسے گیتوں کے لئے موزوں نہیں تھی جس کا اعتراف انہوں نے خود بھی کیا تھا۔ اسی فلم میں شاہد پر فلمائے ہوئے دو مزاحیہ گیتوں کے لئے مہدی حسن کا ساتھ رجب علی نے دیا تھا حالانکہ یہ گیت اکیلے احمد رشدی گا سکتے تھے جو کامیڈی گیتوں کے سب سے بہترین گلوکار تھے لیکن اس وقت روبہ زوال تھے۔

میرے اس سوال کا جواب کہ مہدی حسن ایک ورسٹائل فلمی گلوکار نہیں تھے ، عظیم موسیقار نثار بزمی کے ایک انٹرویو میں مل گیا تھا جس میں انہوں نے اس اندازے کی تصدیق کر دی تھی کہ پاکستان کے روایتی فلمی گلوکار مسعودرانا اور احمد رشدی ہی تھے اور مہدی حسن ایک مخصوص گلوکار تھے۔ اسی انٹرویو میں دو مزید انکشافات ہوئے تھے کہ فلم شمع اور پروانہ (1970ئ) کا مشہور گیت ... میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا ... پہلے مہدی حسن ہی نے گایا تھا لیکن وہ بزمی صاحب کو مطمئن نہیں کر پائے تھے ، پھر مجیب عالم جیسے کہیں کم تجربہ کار گلوکار کو موقع ملا تھا جس میں وہ بے حد کامیاب رہے تھے اور ان پر بزمی صاحب اتنے مہربان ہوئے کہ انہیں ایک ہی فلم میں چھ گیت دے دئیے تھے جو مجیب عالم کے فلمی کیرئر کا واحد موقع تھا۔ مجیب عالم کے لئے تو یہی اعزاز کیا کم تھا کہ انہوں نے وہ گیت گایا تھا جسے مہدی حسن جیسا عظیم گلوکاربھی نہیں گا سکا تھا۔ بزمی صاحب ہی نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی کمپوز کردہ مشہور زمانہ غزل ... رنجش ہی سہی ، دل ہی دکھانے کے لئے آ ... گانے کے لئے مہدی حسن انہیں مطمئن نہیں کر پا رہے تھے لیکن سترہ بار ری ٹیک کے بعد وہ گانے میں کامیاب ہوئے تھے ۔۔۔ اور پھر کیا کمال کی ایک شاہکار غزل تخلیق ہوئی تھی۔۔!

مہدی حسن کے برعکس مسعودرانا ایک مکمل فلمی گلوکار تھے بلکہ اس دور میں کہا جاتا تھا کہ بر صغیر کی فلمی گائیکی میں دو ہی مکمل گلوکار ہیں جن میں ہندوستان میں محمد رفیع اور پاکستان میں مسعودرانا تھے اور یہ بات سو فیصدی درست تھی۔ مسعودرانا کے فلمی کیرئر کی طوالت کی بڑی وجہ بھی ان کا ہر فن مولا ہونا تھا جب کہ مہدی حسن کو ان کی زندگی ہی میں نظر انداز کر دیا گیا تھا کیونکہ ان کی غزل گائیکی کی مقبولیت کا ایک دور تھا جو اردو فلموں کے زوال کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا جبکہ مسعودرانا ، تاحیات فلمی گائیکی کی ضرورت بنے رہے تھے حالانکہ آخری دو عشروں میں ان کی آواز اور گائیکی کا وہ میعار نہیں رہا تھا جو پہلے دو عشروں میں انہیں اپنے دیگر ہم عصر گلوکاروں میں ممتاز کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں گلوکاروں کے سترہ سو کے قریب فلمی گیت ہیں اور نوے کے قریب مشترکہ فلمیں بھی ہیں لیکن ایک بھی مشترکہ گیت یا دو گانا نہیں ہے۔ ویسے بھی مہدی حسن کے مردانہ دو گانوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جبکہ مسعودرانا کے مردانہ دو گانوں کی فہرست بھی بڑی طویل ہے۔ بڑی تحقیق کے بعد مجھے صرف ایک فلم ایسی ملی تھی جس میں ان دونوں گلوکاروں نے ایک ہی گیت کو الگ الگ گایا تھا اور وہ فلم تھی ، شاہ زمان (1986) ، اس فلم میں مہدی حسن کا ایک گیت افضال احمد پر فلمایا گیا تھا:

اسی گیت کو فلم کےآخر میں ہیرو پر فلمایا جاتا ہے جو اپنے بچھڑے خاندان کو اپنے باپ افضال احمد کے گائے ہوئے گیت سے اکٹھا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لئے اونچے سروں میں گائے گئے گیت کی ضرورت تھی جو مہدی حسن کے بس کی بات نہیں تھی ، اس کے لئے موسیقار کمال احمد کو مسعودرانا کی ضرورت پڑی تھی جو ایسے گیتوں کے ماہر تھے۔ گو اس وقت تک یہ دونوں عظیم گلوکار اپنے اپنے عروج کا دوردیکھ چکے تھے لیکن یہ ایک دلچسپ تجربہ تھا جب میں نے مہدی حسن اور مسعودرانا کو ایک ہی گیت کو اپنے اپنے انداز میں گاتے ہوئے سنا تھا۔ اس سے قبل مسعودرانا کا مالا کے ساتھ گایا ہوافلم پیار کا موسم (1975) کا ایک شوخ گیت تھا: ۔۔۔ "دیکھا جو حسن یار ، طبیعت مچل گئی ، تھا آنکھوں کا قصور ، چھری دل پہ چل گئی۔۔۔" اسی استھائی پر مہدی حسن نے فلم نظر کرم (1977) کے لئے ایک گیت گایا تھا۔ فلم تیر ی میری اک مرضی (1983) تو ناقابل فراموش تھی جس میں پہلی بار مسعودرانا کو مہدی حسن کے گیتوں کی پیروڈی گاتے ہوئے سنا گیا تھا۔ اس فلم کا جو یادگار گیت تھا وہ اے نیر ، مسعودرانا اور رجب علی کا گایا ہوا ایک مزاحیہ گیت تھا:

پہلے تو میں سمجھا تھا کہ یہ مہدی حسن کو خراج تحسین ہو گا لیکن جب فلم دیکھی تو معلوم ہوا کہ اصل میں اس گیت میں تو ان کا مذاق اڑایا گیا تھا جو قابل افسوس تھا۔ فلمی صورتحال کے مطابق رنگیلا کا ننھا اور علی اعجاز سے گائیکی کا مقابلہ ہوتا ہے ، جس میں ایک فریق کو اپنی گائیکی سے آگ لگانا ہوتی ہے جبکہ دوسرے کو آگ بجھانا ہوتی ہے اور مہدی حسن کا ذکر اس لئے ہوتا ہے کو انہوں نے ضیاءمحی الدین کے ایک ٹی وی شو میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک تقریب میں اپنی گائیکی سے ایک گلاس توڑ دیا تھا۔ اس پر اینکر اور شائقین بڑے متجسس ہوئے تھے اور خان صاحب سے تفصیل جاننا چاہی تھی اور عملی طور پر ایسا کرنے کا وعدہ بھی لیا گیا تھا جو نجانے وفا ہوا تھا یا نہیں۔ ہمارے ہاں اس طرح کے بے سروپا اور مافوق الفطرت دعوے عام رہے ہیں کہ کوئی اپنی گائیکی یا شاعری سے آگ لگا سکتا ہے یا بارش برسا سکتا ہے ، وغیرہ۔۔۔


مہدی حسن سے ایک یادگار ملاقات

یہ 24 مارچ 1990ء کی ایک یادگار شام تھی جب مجھے خانصاحب مہدی حسن کو دیکھنے ، سننے اور ملنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔وہ پہلی اور آخری بار ڈنمارک تشریف لائے تھے اور ایک دن قبل ان کا جو پہلا شو ہوا تھا ، اس میں ان پر ہوٹنگ ہو گئی تھی کیونکہ ان سے فرمائش کی گئی تھی کہ استاد امانت علی خان کی مشہورزمانہ غزل ... انشاءجی ، اٹھو ، اب کوچ کرو... گائیں ، جسے گانے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ ظاہر ہے یہ ایک عظیم فنکار کی شان میں گستاخی بھی تھی جو خود شہنشاہ غزل تھا اور کسی اور کا کلام گانا اس کے شایان شان بھی نہیں تھا۔ بقول خانصاحب کے ، پاکستان میں بہت کم لوگ آداب موسیقی سے واقف ہیں اور یہ ہے بھی ایک حقیقت کہ مہدی حسن کی غزل گائیکی ، اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے ایک محدود اور تعلیم یافتہ طبقے میں ہی پسند کی جاتی تھی جو ہمارے میڈیا یا قومی سوچ پر حاوی رہا ہے اور ان کا یہ شوق چھوٹی چھوٹی ریڈیو یا ٹی وی کی محفلوں تک تو مناسب تھا لیکن عوام الناس کےبڑے بڑے اجتماعات کے لئے کسی دلچسپی کا حامل نہیں تھا اور نہ ہی مہدی حسن کبھی ایک عوامی گلوکار رہے ہیں۔
Mehdi Hassan
مہدی حسن 18 جولائی 1927ء کو بھارت کے صوبہ راجستھان کے شہر جے پور کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نےٹھمری ، دھرپد ، خیال اور دھادرا کی گائیکی اپنے والد اور چچا سے سیکھی اور بچپن ہی میں مہاراجہ بڑودہ کے دربار میں اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔ تقسیم کے بعد پاکستان کے شہر چیچہ وطنی میں قیام کیا لیکن بطور گلوکار کامیابی نہ ملنے پر سائیکلوں کی مرمت اور گاڑیوں کے مکینک کے طور پر کام کیا۔ اپنے بھائی کی سفارش پر کراچی ریڈیو پرغزل گائیکی کا موقع ملا اور پہلی فلم شکار کے لئے نغمہ سرائی کی لیکن کنواری بیوہ (1956ء) پہلے ریلیز ہو گئی تھی۔ فلم سسرال (1962ء) سے پہچان ہوئی تو فلم فرنگی (1964ء) سے بریک تھرو ملا تھا۔ ستر کے عشرہ میں اردو فلمی گائیکی پہ چھائے رہے تھے۔ طویل علالت کے بعد 13 جون 2013ء کو 86 برس کی عمر میں بڑی کسمپرسی کی حالت میں انتقال ہوا اور کراچی میں دفن ہوئے۔

میرے لئے تو یہ ایک بہت بڑی سعادت تھی کہ میں اتنی بڑی تاریخی ہستی کو اپنے سامنے دیکھ اور سن رہا تھا۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ میری ان کے ساتھ گفتگو بھی ہو گی لیکن جب آٹو گراف دیتے ہوئے انہوں نے میری 1984ء کی فلمی ڈائری کی ورق گردانی کی اور دیکھا کہ میں ان کے فلمی گیت بھی شمار کر رہا تھا تو بڑے متاثر ہوئے تھے ، اس طرح مجھے ان سے بات کرنے کا موقع ملا تھا۔ ان دنوں فلموں میں مردانہ گیتوں کی شدید قلت تھی جن سے میری بنیادی دلچسپی ہوتی تھی۔ اسی تناظر میں میرا پہلا سوال تھاَ:
"خانصاحب ، اب فلموں میں آپ کے گیت نہیں آ رہے۔۔۔۔" تو مہدی حسن نے بڑی بے بسی سے یہ تکلیف دہ جواب دیا تھا:
"بھئی ، اب ہمیں کون پوچھتا ہے؟۔۔۔" اس جواب پر مجھے بڑا دکھ ہوا تھا لیکن میرا اگلا سوال تھا:
"خانصاحب ، آپ تو ایک عظیم فنکار ہیں ، آپکو کون نظر انداز کر سکتا ہے ۔ فلمیں تو اب بھی بن رہی ہیں اور گیت بھی گائے جارہے ہیں لیکن آپ کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔۔۔"
اس پر جو جواب انہوں نے دیا تھا وہی میرے اس مضمون کا حاصل کلام ہے ، جواب تھاَ:
"بھئی ، جیسے گیت گائے جارہے ہیں ، میں تو ایسے گیت نہیں گا سکتا ، نہ ہی یہ میرا سٹائل ہے۔۔۔"
اس پر میرے برجستہ جملے پر ارد گرد کے تمام لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے جبکہ خانصاحب نیم دلی سے مسکرا دیئے تھے:
"اب آپ بھی گلوں میں رنگ بھرنے کی بجائے کلاشنکوفوں میں بارود بھرنے والے گیت گانا شروع کر دیں اور وقت کے ساتھ چلیں۔۔۔"
اسی گفتگو کے دوران انہوں نے محمود سپرا نامی صاحب کی ایک فلم کے لئے اپنی ایک نئی غزل ریکارڈ کروانے کا بھی بتایا تھا "...میں خیال ہوں کسی اور کا ، مجھے سوچتا کوئی اور ہے.." وہ فلم شاید کبھی ریلیز نہیں ہوئی تھی۔
اگر اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی ہوتا کہ کبھی میں اتنی بڑی ویب سائٹ بناؤں گا تو یقیناََ خانصاحب کا ایک تفصیلی انٹرویو کرتا لیکن اس وقت پروموٹر صاحب کو شاید اپنے اتنے خاص مہمان کے ساتھ مجھ جیسے عام شخص سے باتیں کرنا پسند نہیں آرہا تھا اور اس نے انہیں فوراََ اپنے ساتھ چلنے کا کہا تھا اور جاتے جاتےمہدی حسن کا پروموٹر کے لئے یہ جملہ ۔۔۔ "اس وقت تو آسمان پر خدا اور زمین پر آپ ہی میرا سب کچھ ہیں۔۔۔" ایک اور حقیقت آشکار کر گیاتھا کہ ہمارے فنکار کس قدر عدم مالی تحفظ اور احساس کمتری کا شکار رہے ہیں۔

اس ملاقات سے چند دن قبل میں نے فلم صبح کا تارا (1974) دیکھی تھی جس میں خانصاحب مہدی حسن کا ایک گیت بڑا پسند آیا تھا جو کئی دن تک میرے لبوں پر مچلتا رہا تھا۔ ان دنوںصبح آفس جانے سے قبل میں اپنے بڑے بیٹے اظہر اقبال کو کنڈر گارٹن چھوڑنے جاتا تھا اورحسب عادت گنگناتا رہتا تھا۔ چند دن تک تو اظہر نے بڑے صبر و تحمل سے برداشت کیا تھا بالآخر ایک دن تنگ آ کربولا: "...ابو ، اب بس بھی کریں..!"
مجھے اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ میں گائیکی کے قابل نہیں ہوں اور میرے بچپن کا یہ شوق محض وقت کا ضیاع ہے۔ بچے چونکہ سچے ہوتے ہیں ، اس لئے اگر ایک معصوم بچہ میری گائیکی کو برداشت نہیں کر سکتا تو دوسرے بھلا کیسے کریں گے۔ چند دن بعد جب خانصاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے اظہر کو بتایا کہ یہ مہدی حسن ہیں اور انہیں سلام کرو۔ اظہر نے نہ صرف سلام کیا بلکہ بڑی برجستگی سے وہ گیت بھی گنگنا دیا جس پر اس نے مجھے خاموش کروادیا تھا:

ایک چار سالہ بچے سے ایسے بول سن کر مجھ سمیت سبھی حیران ہوگئے تھے۔ مہدی حسن نے بھی خوش ہو کر اظہر کے گال پر تھپکی دی اور کہا:
"واہ بیٹا ، آپ نےتو بہت اچھا گایا ہے..!"
میں جل بھن گیاتھا ... غضب خدا کا ، گائیکی کا شوق میرا اور تعریف میرے "نقاد" کی ..؟ اور وہ بھی مہدی حسن جیسی ہستی سے..!
میں آج بھی اظہر سے شکایت کیا کرتا ہوں کہ اگر اس وقت وہ اپنے ایک جملے سے میری حوصلہ شکنی نہ کرتا تو شاید آج میں بھی ایک نامی گرامی گلوکار ہوتا..!

Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs
Mehdi Hassan songs

Masood Rana & Mehdi Hassan: Latest Online film

Ajj Di Gall

(Punjabi - Black & White - Friday, 2 May 1975)


Masood Rana & Mehdi Hassan: Film posters
Heer SyalTasvirBhai JanJaag Utha InsanAainaDorahaShaam SaveraDil Mera Dharkan TeriBehan BhaiSharik-e-HayyatSassi PunnuAshiqMera Ghar Meri JannatTaj MahalTumhi Ho Mehboob MerayDaaghGeet Kahin Sangeet KahinChand SurajNeend Hamari Khawab TumharayAansooMeri Mohabbat Teray HawalayMain AkelaSipah SalarNizamKhawab Aur ZindagiBeImaanBanarsi ThugDaaman Aur ChingariKubra AshiqDillagiMain Bani DulhanBaat Pohnchi Teri Jawani TakSubah Ka TaraLaila MajnuNanha Farishta2 TasvirenPaisaShirin FarhadDhan Jigra Maa DaGuddiDilrubaBadal Geya InsanMehboob Mera MastanaSohni MehinwalWardatZebun NisaZarooratTaqdeer Kahan Lay AyiAakhri MedanMohabbat Mar Nahin SaktiAali JahTeray Bina Kya JeenaDiya Jalay Sari Raat
Masood Rana & Mehdi Hassan:

26 joint Online films

(16 Urdu and 10 Punjabi films)

1.1966: Bhai Jan
(Urdu)
2.1968: Dil Mera Dharkan Teri
(Urdu)
3.1968: Behan Bhai
(Urdu)
4.1968: Sassi Punnu
(Punjabi)
5.1970: Aansoo Ban Geye Moti
(Urdu)
6.1970: Hamlog
(Urdu)
7.1971: Aansoo
(Urdu)
8.1972: Meri Ghairat Teri Izzat
(Punjabi)
9.1972: Insan Ik Tamasha
(Punjabi)
10.1973: Khawab Aur Zindagi
(Urdu)
11.1973: Banarsi Thug
(Punjabi)
12.1973: Daaman Aur Chingari
(Urdu)
13.1973: Kubra Ashiq
(Urdu)
14.1974: Dillagi
(Urdu)
15.1974: Main Bani Dulhan
(Urdu)
16.1974: Laila Majnu
(Urdu)
17.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
18.1975: Mera Naa Patay Khan
(Punjabi)
19.1975: Ajj Di Gall
(Punjabi)
20.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)
21.1975: Teray Meray Sapnay
(Urdu)
22.1975: Badal Geya Insan
(Urdu)
23.1976: Mehboob Mera Mastana
(Urdu)
24.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
25.1978: Aali Jah
(Punjabi)
26.1986: Shah Zaman
(Punjabi)
Masood Rana & Mehdi Hassan:

Total 94 joint films

(69 Urdu, 25 Punjabi films)

1.1962: Inqilab
(Urdu)
2.1963: Hamen Bhi Jeenay Do
(Urdu)
3.1965: Heer Syal
(Punjabi)
4.1966: Tasvir
(Urdu)
5.1966: Sarhad
(Urdu)
6.1966: Bhai Jan
(Urdu)
7.1966: Jaag Utha Insan
(Urdu)
8.1966: Maa Bahu Aur Beta
(Urdu)
9.1966: Aaina
(Urdu)
10.1967: Doraha
(Urdu)
11.1967: Shaam Savera
(Urdu)
12.1968: Dil Mera Dharkan Teri
(Urdu)
13.1968: Behan Bhai
(Urdu)
14.1968: Sharik-e-Hayyat
(Urdu)
15.1968: Sassi Punnu
(Punjabi)
16.1968: Ashiq
(Urdu)
17.1968: Mera Ghar Meri Jannat
(Urdu)
18.1968: Chann 14vin Da
(Punjabi)
19.1968: Taj Mahal
(Urdu)
20.1969: Tumhi Ho Mehboob Meray
(Urdu)
21.1969: Daagh
(Urdu)
22.1969: Geet Kahin Sangeet Kahin
(Urdu)
23.1970: Aansoo Ban Geye Moti
(Urdu)
24.1970: Hamlog
(Urdu)
25.1970: Phir Chand Niklay Ga
(Urdu)
26.1970: Tikka Mathay Da
(Punjabi)
27.1970: Chand Suraj
(Urdu)
28.1971: Neend Hamari Khawab Tumharay
(Urdu)
29.1971: Sehra
(Punjabi)
30.1971: Mera Dil Meri Aarzoo
(Urdu)
31.1971: Aansoo
(Urdu)
32.1972: Meri Ghairat Teri Izzat
(Punjabi)
33.1972: Meri Mohabbat Teray Hawalay
(Urdu)
34.1972: Main Akela
(Urdu)
35.1972: Dil Ek Aaina
(Urdu)
36.1972: Sipah Salar
(Urdu)
37.1972: Nizam
(Punjabi)
38.1972: Insan Ik Tamasha
(Punjabi)
39.1972: Ehsas
(Urdu)
40.1973: Khawab Aur Zindagi
(Urdu)
41.1973: Professor
(Urdu)
42.1973: BeImaan
(Urdu)
43.1973: Banarsi Thug
(Punjabi)
44.1973: Daaman Aur Chingari
(Urdu)
45.1973: Kubra Ashiq
(Urdu)
46.1973: Tera Gham Rahay Salamat
(Urdu)
47.1974: Zulm Kaday Nein Phalda
(Punjabi)
48.1974: Dillagi
(Urdu)
49.1974: Main Bani Dulhan
(Urdu)
50.1974: Sikandra
(Punjabi)
51.1974: Baat Pohnchi Teri Jawani Tak
(Urdu)
52.1974: Subah Ka Tara
(Urdu)
53.1974: Laila Majnu
(Urdu)
54.1974: Nanha Farishta
(Urdu)
55.1974: Deedar
(Urdu)
56.1974: 2 Tasviren
(Urdu)
57.1975: Pulekha
(Punjabi)
58.1975: Mera Naa Patay Khan
(Punjabi)
59.1975: Haar Geya Insan
(Urdu)
60.1975: Paisa
(Urdu)
61.1975: Ajj Di Gall
(Punjabi)
62.1975: Shirin Farhad
(Urdu)
63.1975: Dhan Jigra Maa Da
(Punjabi)
64.1975: Teray Meray Sapnay
(Urdu)
65.1975: Guddi
(Punjabi)
66.1975: Professor
(Urdu)
67.1975: Dilruba
(Urdu)
68.1975: Ganwar
(Urdu)
69.1975: Badal Geya Insan
(Urdu)
70.1976: Raja Jani
(Urdu)
71.1976: Mehboob Mera Mastana
(Urdu)
72.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
73.1976: Wardat
(Punjabi)
74.1976: Zebun Nisa
(Urdu)
75.1976: Chitra Tay Shera
(Punjabi)
76.1976: Goonj Uthi Shehnai
(Urdu)
77.1976: Zaroorat
(Urdu)
78.1976: Taqdeer Kahan Lay Ayi
(Urdu)
79.1977: Aakhri Medan
(Punjabi)
80.1977: Mohabbat Mar Nahin Sakti
(Urdu)
81.1978: Aali Jah
(Punjabi)
82.1979: Mr. Ranjha
(Urdu)
83.1981: Laggan
(Urdu)
84.1982: Visa Dubai Da
(Punjabi)
85.1982: Teray Bina Kya Jeena
(Urdu)
86.1986: Shah Zaman
(Punjabi)
87.Unreleased: Gharonda
(Urdu)
88.Unreleased: Jaltay Arman Bujhtay Deep
(Urdu)
89.Unreleased: Jaabar
(Punjabi)
90.Unreleased: Khali Hath
(Punjabi)
91.Unreleased: Nei Zindagi
(Urdu)
92.Unreleased: Yeh Zindagi To Nahin
(Urdu)
93.Unreleased: Dhoop Chhaun
(Urdu)
94.Unreleased: Diya Jalay Sari Raat
(Urdu)

Masood Rana & Mehdi Hassan: 0 songs

(0 Urdu and 0 Punjabi songs)



Film Music Online

Click on any singers image and watch & listen to music videos direct on YouTube..

A. Nayyar
Afshan
Ahmad Rushdi
Akhlaq Ahmad
Alam Lohar
Anwar Rafi
Asad Amanat Ali Khan
Azra Jahan
Basheer Ahmad
Ghulam Abbas
Ghulam Ali
Habib Wali Mohammad
Humaira Channa
Inayat Hussain Bhatti
Iqbal Bano
Irene Parveen
Kousar Parveen
Mala
Masood Rana
Mehdi Hassan
Mehnaz
Mujeeb Alam
Munawar Sultana
Munir Hussain
Naheed Akhtar
Naheed Niazi
Naseebo Lal
Naseem Begum
Nayyara Noor
Nazir Begum
Noorjahan
Nusrat Fateh Ali Khan
Rajab Ali
Runa Laila
Saira Naseem
Saleem Raza
Shoukat Ali
Tasawur Khanum
Zubaida Khanum


مسعودرانا کے 63 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..



Pakistan Film Database

Detailed informations on released films, music, artists, history,

box office reports, videos, images etc..



7 decades of Pakistani films

Some facts & figures on released films, artists and film music from the last seven decades..

70 Years of Pakistani Films

Movies Online

The largest collection of 1217 Online Pakistani films..

471

Urdu films

633

Punjabi films

90

Pashto films

Aashna
Aashna
(1970)
Aansoo
Aansoo
(1971)
Shaheed
Shaheed
(1962)


PrePartition Film Database

Informations on released films and artists from 1913-47..

PrePartition Film Database (1913-47)


About this site

Pakistan Film Magazine is the first and largest website on Pakistani films, music and artists with detailed informations, videos, images etc. It was launched on May 3, 2000.

Click on the image below and visit the one of the last manual-edited or non-database website from 2012..

Old pages of Pakistan Film Magazine

More archived pages of Pakistan Film Magazine since 2000..


External film & music links



Top


A website by

Pak Magazine