A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
افضل خان
پاکستانی فلموں میں متعددایسے فنکار بھی رہے ہیں کہ جو بھرپور مواقع ملنے کے باوجود ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے ، ایسے ہی فنکاروں میں ایک نام اداکار افضل خان کا بھی تھا۔۔!
افضل خان کے آئیڈیل اکمل
تاج دین نے اپنا فلمی نام افضل خان صرف اس لیے رکھا تھا کیونکہ اس کا آئیڈیل ہیرو اکمل خان تھا جس سے اس کی شکل و صورت اور انداز و کلام بھی ملتے تھے۔
ساٹھ کی دھائی میں اکمل کے نام کی بڑی دھوم تھی۔ خاص طور پر فلم ملنگی (1965) نے ایسی شاندار کامیابی حاصل کی تھی کہ پنجابی فلموں کے شائقین کا ایک بڑا طبقہ ان سے بے حد متاثر ہوا تھا۔
اکمل کی بے وقت موت نے انھیں ایک ناقابل فراموش افسانوی کردار بنا دیا تھا۔ ان کے پرستار آج بھی بڑی باقاعدگی سے ان کا یوم وفات انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں جن میں سے ایک افضل خان بھی ہیں جنھوں نے ساری عمر اکمل ہی کو نقل کیا اور کبھی اپنی الگ پہچان بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
افضل خان کی آمد کیسے ہوئی؟
افضل خان کو ایک انوکھے انداز میں فلموں میں متعارف کروایا گیا تھا۔ فلمساز اور ہدایتکار اسدبخاری نے اپنی مشہور زمانہ فلم دلاں دے سودے (1969) کے ایک سین میں افضل خان کو اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا تھا۔ اس سین میں یہ شکایت کرنے کے بعد کہ
"فلمی دفتروں میں اکمل خان کے ڈائیلاگ سنا سنا کر تھک گیا ہوں لیکن کسی نے مجھے اپنی فلم میں کام نہیں دیا۔۔"
افضل خان نے اکمل کے فلم ہتھ جوڑی (1963) کے چند مشہور مکالمے سنائے اور ان پر ایکٹنگ بھی کی جس پر اسدبخاری خوش ہو کر کہتے ہیں کہ
"واہ بھئی افضل خان ، تم تو پورے ایکٹرہی ہو گئے ہو۔۔"
اگلے ہی سال ہدایتکار ظفرشباب کی پنجابی فلم رب دی شان (1970) میں افضل خان کو عالیہ کے ساتھ سیکنڈ ہیرو کے رول میں کاسٹ کرلیا گیا تھا لیکن ان کے اصل جوہر ، فلم یاربادشاہ (1971) میں کھلے۔
افضل خان اور مسعودرانا کی جوڑی
اس فلم میں افضل خان کو مہ پارہ نامی اداکارہ کے مقابل سیکنڈ ہیرو کا بھرپور رول ملا تھا اور ان پر دو گیت بھی فلمائے گئے تھے۔ پہلے گیت میں ان کے ساتھ مسعودرانا بھی تھے جنھوں نے اس فلم میں گلوکاری کے علاوہ اداکاری بھی کی تھی
- سن رب نے کیتا پیار ، پیار پیاربھئی پہلا پیار۔۔
ساتھی گلوکار عنایت حسین بھٹی تھے جن کے ساتھ مسعودرانا کا یہ پہلا دوگانا تھا۔
اسی فلم میں مسعودرانا کا یہ شاہکار گیت
- او میں کہیا گل سن جا ، گل اے وے کہ ، نئیں نئیں کجھ نئیں جا جا۔۔
افضل خان پر فلمایا گیا ایک سپرہٹ گیت تھا۔
یہی گیت فی میل ورژن میں تصورخانم نے بھی گایا تھا اور بتاتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین گیت تھا کیونکہ دھن اتنی مشکل تھی کہ وہ بار بار بھول جاتی تھیں اور بڑی مشکل سے موسیقار ماسٹر عنایت حسین کو مطمئن کر پائی تھیں۔
افضل خان کی سب سے بڑی فلم دو رنگیلے (1972)
افضل خان کے فلمی کیرئر کی کامیاب ترین فلم دورنگیلے (1972) تھی جس میں ایک بار پھر سیکنڈ ہیرو کا رول تھا۔ اداکارہ صاعقہ کے ساتھ جوڑی تھی جس پر ملکہ ترنم نورجہاں کے دو سپرہٹ گیت فلمائے گئے تھے "وے میں دل تیرے قدماں چہ رکھیا،تو پیر اتے پا تے سہی۔۔" اور "لوکو وے لوکو ، ایس منڈے نوں روکو ، ایڈی سوہنی کڑی نوں نئیں پیار کردا۔۔" یہ دونوں گیت افضل خان ہی کے لیے گائے گئے تھے۔
اس فلم کا سب سے مقبول گیت مسعودرانا کا گایا ہوا تھا "سجناں ، اے محفل اساں تیرے لئی سجائی اے ، پیار بلاوے آجا ، کاہنوں ضد لائی اے۔۔" یہ سپرہٹ گیت رنگیلا پر فلمایا گیا تھا جو اس فلم میں ہیرو اور ولن کے ڈبل رول میں
تھے۔فلم دورنگیلے (1972) ، رنگیلا کے فلمی کیرئر کی بطور ہیرو ، فلمساز اور ہدایتکار ، سب سے کامیاب نغماتی اور ڈرامائی پنجابی فلم تھی جس نے لاہور میں پلاٹینم جوبلی کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
اس فلم کی خاص بات یہ بھی تھی اس میں نامور ہدایتکار ایم جے رانا نے اداکاری کی تھی۔ ان کے کریڈٹ پر ماہی منڈا (1956) ، یکے والی (1957) اور جی دار (1965) جیسی یادگار فلمیں تھیں اور انھوں نے رنگیلا کو پہلی بار فلم جٹی (1958) میں چند مکالمے بولنے کا موقع بھی دیا تھا۔
اس فلم میں احمدرشدی کا ایک اردو گیت بھی تھا "میں شرابی تو نہیں تھا مگر اے صنم ، تو نے مجھ کو پلائی تو میں پی گیا۔۔" رنگیلا کے گائے ہوئے دو گیت بھی تھے "سن میرے ککو ، سن میرے پپو ۔۔" اور "ٹٹ گئے اج میرے دل دے تار۔۔" یہ آخری گیت ماضی کے مزاحیہ اداکار آصف جاہ کا لکھا ہوا تھا۔
اس فلم کی ایک اور بات بڑی دلچسپ تھی۔ فلم کی ریلیز کے کئی ہفتوں بعد اس میں ایک گیت کا مزید اضافہ کیا گیا تھا اور اس گیت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ رونالیلیٰ کا یہ مشہور گیت تھا "تینوں لبھیا گوا کے جگ سارا تے چھڈ کے نہ جائیں ڈھولنا۔۔" اس گیت کی دھن رنگیلا نے خود بنائی تھی، باقی گیتوں کی دھنیں کمال احمد اور نذیرعلی نے بنائی تھیں۔
افضل خان کی ایک اور یادگار فلم
افضل خان کی ایک اور یادگار فلم اج دا مہینوال (1973) تھی جو منورظریف کی بطور ہیرو پہلی فلم تھی۔ اس فلم میں افضل خان کی جوڑی سنگیتا کے ساتھ تھی اور ان پر دو خوبصورت گیت بھی فلمائے گئے تھے۔پہلا ایک دلکش ماہیا تھا جو مسعودرانا کی سریلی آواز میں کچھ اس طرح سے تھا
- دو پتر اناراں دے ، ربا ، ساڈا ماہی میل دے ، دن آگئے بہاراں دے۔۔
جبکہ دوسرا کانوں میں رس گھولنے والا ایک دوگانا تھا جس میں مسعودرانا کے ساتھ تصورخانم تھیں
- سجناں ، میل دتا اے خدا ماہیا ، ایتھوں تک میں آگئی ، اگے تو لے جا ماہیا۔۔
قیصر سینما ، گیمن کالونی کھاریاں کینٹ میں یہ فلم عید کے دن دوبارہ دکھائی گئی تھی حالانکہ چند ہفتے پہلے اسی سینما پر چل چکی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اپنے پہلے دور میں پاکستان میں یہ میری آخری عید تھی جس پر میں نے سازین سینما ، صدر بازار کھاریاں کینٹ میں پہلا شو فلم خدا تے ماں (1973) کا اور دوسرا شو گیریژن سینما کھاریاں کینٹ میں فلم بے ایمان (1973) کا دیکھا تھا۔
میرے چار سالہ فلمی دور میں یہ اکلوتی اردو فلم تھی جو کسی عید کے موقع پر کسی سینما پر دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ فلم اج دا مہینوال (1973) ، پہلے رن میں دیکھ چکا تھا۔ لاہور میں یہ فلم ، ناکام فلموں میں شمار ہوتی ہے لیکن پنجاب سرکٹ اتنا بڑا ہوتا تھا کہ جہاں لاہور کی ناکام پنجابی فلمیں بھی اتنا بزنس کر جاتی تھیں کہ فلمساز خسارے میں نہیں رہتاتھا۔
منورظریف اور سلطان راہی کی فلمیں تو ویسے بھی عوامی پسندیدگی میں ہمیشہ سے سرفہرست ہوتی تھیں اور ناکام نہیں ہوتی تھیں۔ ایسی ہی فلموں میں ایک بندے دا پتر (1974) بھی تھی جس کا ٹائٹل رول منورظریف ہی کا تھا لیکن سائیڈ ہیرو افضل خان تھے جن پر مسعودرانا کا یہ خوبصورت رومانٹک گیت فلمایا گیا تھا
- ویکھو رہندے مغرور، ایڈا کرداے غرور ، بڑا سوہنیاں نوں مان جوانی دا ، سوہنے مکھڑے تے اکھ مستانی دا۔۔
افضل خان کی سولو ہیرو کے طور پر اکلوتی فلم
افضل خان کے فلمی کیرئر کی واحد فلم سانجھی غیرت یاراں دی (1976) تھی جس میں وہ اداکارہ خانم کے ساتھ فرسٹ ہیرو تھے۔ یہ ایک سی کلاس فلم تھی جو بری طرح سے ناکام ہوئی تھی۔
افضل خان پر آخری بار مسعودرانا کا گیت فلم چمن خان (1978) میں فلمایا گیا تھا
- میرا ناں ، سوہنیو سجنوں ، اپنے ناں لگ جان دیو ، دل تک آپےاُتر جائے گا ، بُلیاں تک تے آن دیو۔۔
یہ گیت عشرت چوہدری کے لیے گاتے ہیں۔
اس گیت میں مسعودرانا کی آواز کا وہ میعار نہیں تھا جس کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ یہ فلم پاکستان کے جنگی قیدیوں کے بارے میں بنائی گئی تھی جو 1971ء کی جنگ میں بھارت کی قید میں تھے ، سلطان راہی نے ٹائٹل رول کیا تھا اور پوری فلم میں پشتو سٹائل میں اردو بولی تھی۔
اس کے بعد ایکشن فلموں کا ایک لامتناعی سلطانی دور شروع ہوگیا تھا جن میں افضل خان ، چھوٹے موٹے کرداروں میں نظر آنے لگے تھے۔ ان کی متعدد اردو فلمیں بھی تھیں لیکن کوئی قابل ذکر فلم نہیں تھی۔ اب تک کی آخری فلم ہو مان جہاں (2016) میں نام ملتا ہے۔
افضل خان ، اب ایک باریش بزرگ ہیں لیکن ہرسال بڑی باقاعدگی سے اپنے آئیڈیل ہیرو اکمل کی برسی کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔۔!
مسعودرانا اور افضل خان کے 8 فلمی گیت
| 1 | سن ، رب نے کیتا پیار ، پیار پیار بھئی پہلا پیار..فلم ... یار بادشاہ ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: عنایت حسین بھٹی ، مسعودرانا ... موسیقی: ماسٹر عنایت حسین ... شاعر: ؟ ... اداکار: افضل خان ، مسعودرانا |
| 2 | ہو میں کیا ، گل سن جا ، ہو گل سن جا ، گل اے وے کے ، نئیں نئیں کجھ نئیں جا جا..فلم ... یار بادشاہ ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ماسٹر عنایت حسین ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: افضل خان |
| 3 | سجناں ، میل دتا اے خدا ماہیا..فلم ... اج دا مہینوال ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: تصورخانم ، مسعود رانا ... موسیقی: سلیم اقبال ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: سنگیتا ، افضل خان |
| 4 | دو پتر اناراں دے ، ربا ساڈا ماہی میل دے ، دن آگئے بہاراں دے..فلم ... اج دا مہینوال ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سلیم اقبال ... شاعر: ؟ ... اداکار: افضل خان |
| 5 | اے سوہرے میں جانا ، لکھ منتاں کرے..فلم ... خون بولدا اے ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: غلام حسین شبیر ... شاعر: ؟ ... اداکار: زمرد ، افضل خان |
| 6 | ویکھو رہندے مغرور، ایڈا کرداے غرور ، بڑا سوہنیاں نوں مان جوانی دا ، سوہنے مکھڑے تے اکھ مستانی دا..فلم ... بندے دا پتر ... پنجابی ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: مشتاق علی ... شاعر: ؟ ... اداکار: افضل خان |
| 7 | مینوں منڈیا ، پراندا ذرا دئیں پھڑ کے ، ڈگا نچدی دا جھانجھراں دے نال اڑ کے..فلم ... پتر تے قانون ... پنجابی ... (1977) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: طالب حسین جعفری ... شاعر: ؟ ... اداکار: مزلہ ، افضل خان |
| 8 | میرا ناں ، سوہنیو سجنو ، اپنے ناں نال آن دیو..فلم ... چمن خان ... پنجابی ... (1978) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: افضل خان |
مسعودرانا اور افضل خان کے 0 اردو گیت
مسعودرانا اور افضل خان کے 8 پنجابی گیت
| 1 | سن ، رب نے کیتا پیار ، پیار پیار بھئی پہلا پیار ...(فلم ... یار بادشاہ ... 1971) |
| 2 | ہو میں کیا ، گل سن جا ، ہو گل سن جا ، گل اے وے کے ، نئیں نئیں کجھ نئیں جا جا ...(فلم ... یار بادشاہ ... 1971) |
| 3 | سجناں ، میل دتا اے خدا ماہیا ...(فلم ... اج دا مہینوال ... 1973) |
| 4 | دو پتر اناراں دے ، ربا ساڈا ماہی میل دے ، دن آگئے بہاراں دے ...(فلم ... اج دا مہینوال ... 1973) |
| 5 | اے سوہرے میں جانا ، لکھ منتاں کرے ...(فلم ... خون بولدا اے ... 1973) |
| 6 | ویکھو رہندے مغرور، ایڈا کرداے غرور ، بڑا سوہنیاں نوں مان جوانی دا ، سوہنے مکھڑے تے اکھ مستانی دا ...(فلم ... بندے دا پتر ... 1974) |
| 7 | مینوں منڈیا ، پراندا ذرا دئیں پھڑ کے ، ڈگا نچدی دا جھانجھراں دے نال اڑ کے ...(فلم ... پتر تے قانون ... 1977) |
| 8 | میرا ناں ، سوہنیو سجنو ، اپنے ناں نال آن دیو ...(فلم ... چمن خان ... 1978) |
مسعودرانا اور افضل خان کے 4سولو گیت
| 1 | ہو میں کیا ، گل سن جا ، ہو گل سن جا ، گل اے وے کے ، نئیں نئیں کجھ نئیں جا جا ...(فلم ... یار بادشاہ ... 1971) |
| 2 | دو پتر اناراں دے ، ربا ساڈا ماہی میل دے ، دن آگئے بہاراں دے ...(فلم ... اج دا مہینوال ... 1973) |
| 3 | ویکھو رہندے مغرور، ایڈا کرداے غرور ، بڑا سوہنیاں نوں مان جوانی دا ، سوہنے مکھڑے تے اکھ مستانی دا ...(فلم ... بندے دا پتر ... 1974) |
| 4 | میرا ناں ، سوہنیو سجنو ، اپنے ناں نال آن دیو ...(فلم ... چمن خان ... 1978) |
مسعودرانا اور افضل خان کے 3دوگانے
| 1 | سجناں ، میل دتا اے خدا ماہیا ...(فلم ... اج دا مہینوال ... 1973) |
| 2 | اے سوہرے میں جانا ، لکھ منتاں کرے ...(فلم ... خون بولدا اے ... 1973) |
| 3 | مینوں منڈیا ، پراندا ذرا دئیں پھڑ کے ، ڈگا نچدی دا جھانجھراں دے نال اڑ کے ...(فلم ... پتر تے قانون ... 1977) |
مسعودرانا اور افضل خان کے 1کورس گیت
| 1 | سن ، رب نے کیتا پیار ، پیار پیار بھئی پہلا پیار ... (فلم ... یار بادشاہ ... 1971) |
Masood Rana & Afzal Khan: Latest Online film
Masood Rana & Afzal Khan: Film posters
Masood Rana & Afzal Khan:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Afzal Khan:
Total 26 joint films
(0 Urdu and 26 Punjabi films)| 1. | 1969: Dillan day Souday(Punjabi) |
| 2. | 1971: Yaar Badshah(Punjabi) |
| 3. | 1972: 2 Rangeelay(Punjabi) |
| 4. | 1973: 4 Khoon day Pyasay(Punjabi) |
| 5. | 1973: Ik Madari(Punjabi) |
| 6. | 1973: Ajj Da Mehinval(Punjabi) |
| 7. | 1973: Khoon Bolda A(Punjabi) |
| 8. | 1973: Khushia(Punjabi) |
| 9. | 1973: Rangeela Ashiq(Punjabi) |
| 10. | 1974: Banday Da Puttar(Punjabi) |
| 11. | 1975: Khanzada(Punjabi) |
| 12. | 1975: Gunahgar(Punjabi) |
| 13. | 1976: Mout Khed Javana Di(Punjabi) |
| 14. | 1977: Puttar Tay Qanoon(Punjabi) |
| 15. | 1978: Chaman Khan(Punjabi) |
| 16. | 1981: Sultan Tay Veryam(Punjabi) |
| 17. | 1985: Shikra(Punjabi) |
| 18. | 1986: Kaffara(Punjabi) |
| 19. | 1986: 2 Qaidi(Punjabi) |
| 20. | 1986: Yeh Adam(Punjabi) |
| 21. | 1986: Puttar Sheran Day(Punjabi) |
| 22. | 1989: Rogi(Punjabi) |
| 23. | 1990: Paisa Naach Nachavay(Punjabi) |
| 24. | 1992: Shera Pandi(Punjabi) |
| 25. | 1992: Koday Shah(Punjabi) |
| 26. | 2003: Sher Puttar(Punjabi) |
Masood Rana & Afzal Khan: 8 songs
(0 Urdu and 8 Punjabi songs)
| 1. | Punjabi filmYaar Badshahfrom Friday, 6 August 1971Singer(s): Masood Rana, Music: Master Inayat Hussain, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Afzal Khan |
| 2. | Punjabi filmYaar Badshahfrom Friday, 6 August 1971Singer(s): Inayat Hussain Bhatti, Masood Rana, Music: Master Inayat Hussain, Poet: ?, Actor(s): Afzal Khan, Masood Rana |
| 3. | Punjabi filmAjj Da Mehinvalfrom Friday, 14 September 1973Singer(s): Masood Rana, Music: Saleem Iqbal, Poet: ?, Actor(s): Afzal Khan |
| 4. | Punjabi filmAjj Da Mehinvalfrom Friday, 14 September 1973Singer(s): Tasawur Khanum, Masood Rana, Music: Saleem Iqbal, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Sangeeta, Afzal Khan |
| 5. | Punjabi filmKhoon Bolda Afrom Friday, 28 September 1973Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Ghulam Hussain Shabbir, Poet: Mushtqa Shafai, Actor(s): Zamurrad, Afzal Khan |
| 6. | Punjabi filmBanday Da Puttarfrom Friday, 24 May 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Mushtaq Ali, Poet: ?, Actor(s): Afzal Khan |
| 7. | Punjabi filmPuttar Tay Qanoonfrom Thursday, 30 June 1977Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: Talib Hussain Jafri, Poet: ?, Actor(s): Mizla, Afzal Khan |
| 8. | Punjabi filmChaman Khanfrom Friday, 30 June 1978Singer(s): Masood Rana, Music: Nazir Ali, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Afzal Khan |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔











































Shaan
Nakhshab
Ajmal
Shehnaz Begum
Riazur Rehman Saghar
Rafiq Tingu
Fazil Butt
Waheeda Khan
Kumar
Nida Mumtaz
Hassan Askari
Masood Butt
Aslam Latar
Raja Riaz








