A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1035 songs in 647 films

مسعودرانا اور منیر نیازی

منیر نیازی ، اردو اور پنجابی ادب کا ایک بہت بڑا اور معتبر نام تھے۔ انہوں نے اب تک کی غیر حتمی معلومات کے مطابق ڈیڑھ درجن فلموں میں پچاس کے قریب فلمی گیت لکھے تھے۔

منیر نیازی کی بطور گیت نگار پہلی فلم نئی لڑکی (1958) تھی جس کے سبھی گیت ان کے لکھے ہوئے تھے لیکن کوئی گیت مقبول نہیں ہوا تھا۔ ان کی اگلی فلم آج کل (1959) کے تین گیت ان کے زور قلم کا نتیجہ تھے لیکن بغیر کسی کامیابی کے۔ یہی حال ان کی اگلی فلم لگن (1960) میں بھی تھا جس کے تمام گیت لکھنے کے باوجود نتیجہ مایوس کن تھا۔

1962ء کا سال منیر نیازی کے لئے ایک یادگار سال ثابت ہوا تھا جب ہدایتکار خلیل قیصر کی معرکتہ الآرا فلم شہید میں ان کا لکھا ہوا واحد گیت ایک سپر ڈپر ہٹ فلمی گیت ثابت ہوا تھا:

عظیم موسیقار رشید عطرے کی ترتیب دی گئی دھن میں نسیم بیگم کا گایا ہوا یہ شاہکار گیت مسرت نذیر پر فلمایا گیاتھا اور جو منیر نیازی کی پہچان بن گیا تھا۔ اسی سال کی فلم سسرال میں ان کا لکھا ہوا یہ گیت "جا ، اپنی حسرتوں پر ، آنسوبہا کے سو جا۔۔" ایک اور یادگار گیت تھا جو ملکہ ترنم نورجہاں کی مدھر آواز میں تھا اور جس کی دھن حسن لطیف نے بنائی تھی۔ اسی فلم کا گیت "جس نے میرے دل کو درد دیا ، اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں۔۔" وہ گیت تھا جس نے شہنشاہ غزل خانصاحب مہدی حسن کو ایک طویل جدوجہد کے بعد اپنا پہلا ہٹ فلمی گیت گانے کا موقع دیا تھا۔ اسی سال ، فلم اونچے محل کے تمام گیت بھی انہوں نے لکھے تھے لیکن ان میں کامیابی کا تناسب صفر تھا۔

1963ء میں منیر نیازی نے دو فلموں کے گیت لکھے تھے جن میں پہلی فلم شکوہ تھی جو صبیحہ خانم کی لاجواب جذباتی اداکاری کی وجہ سے مشہور تھی۔ اس فلم میں منیر نیازی نے پہلی بار مسعودرانا کے لئے یہ گیت لکھا تھا:

جبکہ احمد رشدی کا گایا ہوا یہ شاندار مزاحیہ گیت بھی نیازی صاحب کا لکھا ہوا تھا "انکل ٹام اکیلا ہے ، جولی جولی ۔۔"

ان کی دوسری فلم قتل کے بعد میں میڈم نورجہاں کا گایا ہوا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا "مجھے چاند سے ڈر سا لگتا ہے۔۔" جسے نیازی صاحب نے لکھا تھا۔ ان کا اگلا ہٹ گیت فلم تیرے شہر میں (1965) تھا "کیسے کیسے لوگ ، ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں۔۔" اسے مہدی حسن نے گایا تھا اور حسن لطیف کی دھن تھی۔

1966ء میں منیر نیازی نے فلم معجزہ میں ایک ملی گیت لکھا تھا جس میں انہوں نے شعراء کرام کی روایتی مبالغہ آرائی کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے وطن سے محبت کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا:

اختر حسین کی دھن میں اس کورس گیت کو سلیم رضا ، مسعودرانا اور ساتھیوں نے کیا خوب گایا تھا۔ اس سال کی فلم تقدیر میں ان کا واحد گیت ان کی ایک مشہور زمانہ غزل تھی:

دیبو کی موسیقی میں گایا ہوا یہ مسعودرانا کا ایسا شاہکار گیت تھا کہ جس میں انہوں نے ثابت کیا تھا کہ کیوں اور کیسے وہ تاثرات کے بے تاج بادشاہ تھے۔ نشہ کی کیفیت میں گائے ہوئے مسعودرانا کے ڈیڑھ درجن فلمی گیتوں میں سے یہ میرا پسندیدہ ترین گیت رہا ہے۔

1968ء کی فلم دھوپ اور سائے ، اپنے دامن میں چار بڑے بڑے نام سموئے ہوئے تھی۔ اس فلم کے چاروں گیت منیر نیازی نے لکھے تھے جن کے موسیقار معروف لوک فنکار طفیل نیازی تھے جن کی یہ اکلوتی فلم تھی۔ اس فلم کے فلمساز سابق صدر آصف علی زرداری کے والد اور بمبینو سینما کراچی کے مالک حاکم علی زرداری تھے۔ ان کی بھی یہ واحد فلم تھی۔ عظیم ادیب اور دانشور اشفاق احمد کی بطور ہدایتکار یہ واحد فلم تھی لیکن ان سبھی معروف ہستیوں کی اس مشترکہ کاوش کا انجام ایک سپر فلاپ فلم کی صورت میں سامنے آیا تھا۔۔!

منیر نیازی کا مکمل فلمی ریکارڈ تو دستیاب نہیں لیکن ان کی اب تک کی آخری کاوش فلم خریدار (1976) تھی جس میں ان کی یہ شاہکار غزل ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت تھا:

اس لازوال غزل کو بلبل پنجاب کہلانے والی حسین و جمیل گلوکار ناہید اختر نے گایا تھا جسے بیشتر لوگ سننے سے زیادہ دیکھنے کے متمنی ہوتے تھے لیکن یہ غزل سن کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کتنی بڑی گلوکارہ تھی اور اس نے کیوں میڈم نور جہاں جیسی گلوکارہ کو وخت پا دیا تھا۔۔!


مسعودرانا اور منیر نیازی کے 4 فلمی گیت

4 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1
فلم ... شکوہ ... اردو ... (1963) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: دیبو ... شاعر: منیر نیازی ... اداکار: درپن
2
فلم ... معجزہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: سلیم رضا ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: منیر نیازی ... اداکار: (پس پردہ)
3
فلم ... تقدیر ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: دیبو ... شاعر: منیر نیازی ... اداکار: سنتوش
4
فلم ... ریشمی رومال ... اردو ... (1984) ... گلوکار: مسعودرانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: منیر نیازی ... اداکار: (پس پردہ)

مسعودرانا اور منیر نیازی کے 4 اردو گیت

1مکھڑے کو چھپانے کی ادا لے گئی دل کو ... (فلم ... شکوہ ... 1963)
2اے وطن ، اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام ... (فلم ... معجزہ ... 1966)
3یہ کیسا نشہ ہے ، میں کس عجب خمار میں ہوں ، تو آکے جا بھی چکا ہے ، میں انتظار میں ہوں ... (فلم ... تقدیر ... 1966)
4شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا ، راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو ... (فلم ... ریشمی رومال ... 1984)

مسعودرانا اور منیر نیازی کے 0 پنجابی گیت


مسعودرانا اور منیر نیازی کے 3سولو گیت

1مکھڑے کو چھپانے کی ادا لے گئی دل کو ... (فلم ... شکوہ ... 1963)
2یہ کیسا نشہ ہے ، میں کس عجب خمار میں ہوں ، تو آکے جا بھی چکا ہے ، میں انتظار میں ہوں ... (فلم ... تقدیر ... 1966)
3شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا ، راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو ... (فلم ... ریشمی رومال ... 1984)

مسعودرانا اور منیر نیازی کے 0دو گانے


مسعودرانا اور منیر نیازی کے 1کورس گیت

1اے وطن ، اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام ... (فلم ... معجزہ ... 1966)

Masood Rana & Munir Niazi: Latest Online film

Masood Rana & Munir Niazi: Film posters
ShikwaQatal Kay BaadMoajzaTaqdeerLahu Pukaray Ga
Masood Rana & Munir Niazi:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)
Masood Rana & Munir Niazi:

Total 6 joint films

(6 Urdu, 0 Punjabi films)
1.1963: Shikwa
(Urdu)
2.1963: Qatal Kay Baad
(Urdu)
3.1965: Yeh Jahan Walay
(Urdu)
4.1966: Moajza
(Urdu)
5.1966: Taqdeer
(Urdu)
6.1967: Lahu Pukaray Ga
(Urdu)


Masood Rana & Munir Niazi: 3 songs

(3 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Shikwa
from Friday, 5 April 1963
Singer(s): Masood Rana, Music: Deebo, Poet: , Actor(s): Darpan
2.
Urdu film
Moajza
from Friday, 25 February 1966
Singer(s): Saleem Raza, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): (Playback)
3.
Urdu film
Taqdeer
from Friday, 29 July 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: Deebo, Poet: , Actor(s): Santosh


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔