A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
آصف جاہ
پاکستان کے بڑے مزاحیہ اداکاروں میں ایک بڑا نام آصف جاہ کا تھا۔۔!
نذر اور ظریف کے بعد
تیسرے بڑے مزاحیہ اداکار تھے
پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) میں نذر نے پہلے مزاحیہ اداکار کے طور پر اپنا نام تاریخ میں محفوظ کروا لیا تھا۔ وہ ڈیڑھ عشروں تک فلموں کی ضرورت بنے رہے تھے۔
ظریف ، دوسرے بڑے مزاحیہ اداکار تھے جنھوں نے فلم ہماری بستی (1950) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ وہ پہلے مزاحیہ اداکار تھے جو مرکزی کرداروں تک پہنچے تھے لیکن عین عروج پر پہنچ کر انتقال کر گئے تھے۔
ظریف کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون سابقہ ویب سائٹ میں لکھا جا چکا ہے۔
آصف جاہ ، تیسرے بڑے مزاحیہ اداکار تھے جنھوں نے ظریف کے ایک ہفتے بعد ریلیز ہونے والی ہدایتکار انور کمال پاشا کی فلم دوآنسو (1950) سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا لیکن انھیں کامیابی کے لیے کئی سال تک انتظار کرنا پڑا تھا۔
اس دوران دیگر مزاحیہ اداکاروں میں سلطان کھوسٹ فلم چن وے (1951) ، امدادحسین فلم سیلاب (1953) ، دلجیت مرزا فلم قاتل (1955) اور اے شاہ فلم نوکر (1955) میں متعارف ہوئے تھے۔
آصف جاہ کو اردو فلموں میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی تھی جس کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ شروع میں انھوں نے نورمحمدچارلی کو کاپی کرنے کی کوشش کی تھی جو خود ہالی وڈ لیجنڈ چارلی چپلن سے متاثر تھے۔ ابتدائی دور میں چند فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں کے علاوہ فلم گمنام (1954) میں آصف جاہ پر گلوکار فضل حسین کا یہ گیت فلمایا گیا تھا "بھاگ یہاں سے بھاگ رے ، ڈگر ڈگر پر اس نگری میں آگ لگی ہے۔۔"
آصف جاہ کو بریک تھرو ملا
آصف جاہ کو فلم دلابھٹی (1956) نے اس کامیابی سے ہمکنار کر دیا تھا جس کے وہ حقدار تھے۔
یہ فلم ، پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم تھی جس کی کمائی سے لاہور کا جدید ترین فلمی سٹوڈیو ، ایورنیوسٹوڈیو ، قائم ہوا تھا۔ اس فلم نے بزنس کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پنجابی فلم نے بھارتی دارالحکومت دہلی میں بھی گولڈن جوبلی بزنس کیا تھا۔
فلم دلابھٹی (1956) کی ہائی لائٹ تو اس کا وہ لافانی گیت تھا
- واسطہ ای رب دا تو جائیں وے کبوترا۔۔
منور سلطانہ کے گائے ہوئے اس گیت کی دھن بابا جی اے چشتی نے بنائی تھی اور بول طفیل ہوشیارپوری نے لکھے تھے۔
اس فلم کا کامیڈی سیکوئنس فلم کی جان تھا۔ آصف جاہ ، آشا پوسلے سے اپنے عشق کی روزانہ داستان بڑے مزے لے لے کر اپنے دوست شیخ اقبال کوسناتا ہے ، یہ جانے بغیر کہ یہی مٹھائی فروش اس کی معشوقہ کا وہ خاوند ہے جس کے عتاب سے وہ متعدد بار بال بال بچ چکا ہے۔
بابا عالم سیاہ پوش کے لکھے ہوئے اسی مزاحیہ منظر نامے کو بعد میں دو اور پنجابی فلموں دلاحیدری (1969) میں رنگیلا ، منورظریف اور رضیہ نے جبکہ فلم دلابھٹی (1984) میں غالباً عرفان کھوسٹ ، خالد عباس ڈار اور رومانہ نے دھرایا تھا۔
آصف جاہ کی مزاحیہ اداکاری کے لحاظ سے چن ماہی (1956) ایک بہت بڑی نغماتی اور اصلاحی فلم تھی جس میں اداکارہ بہار کو پہلی بار ہیروئن کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
اس فلم کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں
- بندے چاندی دے۔۔
- نی چٹھئے سجناں دیئے۔۔
- پھیر لیاں چن ماہی اکھیاں
- ساڈے انگ انگ چہ پیار نے پینگاں پایاں نیں
قابل ذکر ہیں۔ اردو فلم سات لاکھ (1957) میں وہ ایک وکیل کے رول میں تھے۔
آصف جاہ بطور ہدایتکار
فلم شیخ چلی (1957) کا نہ صرف ٹائٹل رول کیا تھا بلکہ اس فلم کی کہانی بھی آصف جاہ کی تھی اور بطور ہدایتکار بھی یہ پہلی فلم تھی۔ اس فلم میں بھی زبیدہ خانم کا گیت
- سیو نی میرا دل دھڑکے۔۔
فلم کی پہچان تھا۔
ظریف کی جگہ آصف جاہ
1962ء کی فلم چوہدری میں آصف جاہ نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ اصل میں یہ رول ظریف کر رہے تھے لیکن ان کی اچانک موت کے بعد یہ رول آصف جاہ کو ملا جو انھوں نے خوب نبھایا تھا۔
اس فلم میں ان کی جوڑی لیلیٰ کے ساتھ تھی جبکہ اداکارہ نغمہ کی یہ بطور ہیروئن پہلی فلم تھی جس میں اس کی جوڑی اکمل کے ساتھ تھی۔
اسی فلم میں پہلی بار احمدرشدی نے کوئی پنجابی گیت گایا تھا
- پیار تیرا میں جھولی پایا تے طعنے سنے شریکاں۔۔
نذیربیگم کے ساتھ گائے ہوئے اس دوگانے کو لیلیٰ اور آصف جاہ پر فلمایا گیا تھا۔
1963ء میں تین بڑی فلمیں آصف جاہ کے کریڈٹ پر تھیں جن میں فلم چوڑیاں (1963) ایک اعلیٰ پائے کی فلم تھی جس میں وہ ہیرو کا دایاں ہاتھ تھے جبکہ فلم چاچا خوامخواہ (1963) میں انھوں نے ایک ' لہوڑی پہلوان ' کا کردار کیا تھا۔
منشی علم الدین
ان کے علاوہ فلم تیس مار خان (1963) بھی تھی جو میری پسندیدہ ترین فلموں میں سے ایک رہی ہے۔ اس فلم میں آصف جاہ کا رول ' منشی علم الدین ' ، فلم کی ہائی لائٹ تھا۔ ایک عاشق مزاج منشی گنوار خواتین کو ان کے خاوندوں کے نام خط لکھتے لکھتے خود جذباتی ہو جاتا ہے جو اس کی بیوی ' جیم بیگم' (نسرین) کو برداشت نہیں ہوتا اور وہ روٹھ کر میکے چلی جاتی ہے۔ پھر منشی صاحب کس طرح اسے مناتے ہوئے احمدرشدی اور نذیربیگم کا یہ کامیڈی گیت گاتے ہیں
- نی میں نوکر ، تو سرکار تے قدماں چہ رکھ سوہنئے۔۔
یہ ایک بڑے کمال کا گیت تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ احمدرشدی جیسا عظیم گلوکار پنجابی فلموں میں کیوں ناکام ہوا؟
اس گیت کے یہ بول میں اکثر گنگناتا ہوں "علم دیاں گلاں تیرا علم دین جان دا اے ، عشق نوں پیچھان دا تے حسن نوں سیان دا اے ، باقی تے زمانہ سارا گھٹا پیا چھان دا اے۔۔"
بابا عالم سیاہ پوش نے کیا بول لکھے تھے اور کتنی عمدہ دھن تھی منظور اشرف صاحبان کی۔
1964ء کا سال آصف جاہ کے فلمی کیرئر کا سب سے یادگار سال تھا جب ان کی فلموں کی تعداد 13 تک جا پہنچی تھی۔ ان تمام فلموں میں وہ مرکزی کامیڈین تھے۔
آصف جاہ کے زوال کا آغاز
فلم ولایت پاس (1964) میں ان کا ٹائٹل رول بھی تھا۔ لیکن عروج کا یہی سال ، زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوا تھا کیونکہ پنجابی فلموں میں رنگیلا اور منورظریف کو بریک تھرو مل گیا تھا اور انھیں دھڑا دھڑ کاسٹ کیا جانے لگا تھا۔
1965ء کی ریلیز شدہ فلموں میں آصف جاہ کے حصے میں صرف چھ فلمیں آئی تھیں جن میں وہ مین کامیڈین تھے۔
اسی سال کی فلم من موجی (1965) میں ان پر پہلی بار مسعودرانا کا مزاحیہ گیت
- آنے دا گلاس پیو۔۔
فلمایا گیا تھا۔
اس سال کی فلم ہیرسیال (1965) میں آصف جاہ نے سیدا کھیڑے کا رول کیا تھا اور خوب کیا تھا لیکن فلم ہیررانجھا (1970) میں منورظریف نے اس کردار کو فائنل کردیا تھا۔
1966ء میں بھی آصف جاہ ، چھ فلموں میں نظر آئے تھے جن میں ایک فلم میم صاحب (1966) بھی تھی جس کے ہدایتکار اور مصنف بھی وہ خود تھے۔ اس سے اگلے سال 1967ء میں ان کی فلموں کی تعداد صرف تین رہ گئی تھی جن میں فلم مرزاجٹ (1967) میں وہ منورظریف کے مقابل ثانوی کردار میں تھے۔
فلم چن جی (1967) میں آصف جاہ پر مسعودرانا اور نذیربیگم کا یہ مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا
- جماں جنج نال کیوں اے۔۔
یہ ایک بہت اچھی فلم تھی لیکن گمنام رہی۔
اگلے دو برسوں میں ان کی فی سال صرف دو دو فلمیں منظر عام پر آئی تھیں جن میں فلم لنگوٹیا (1969) میں مسعودرانا اور آئرن پروین کا گایا ہوا یہ دلچسپ مزاحیہ دوگانا ان پر اور اداکارہ رضیہ پر فلمایا گیا تھا
- لوکو ، میں شادی کی کیتی ، گل وچ پا لئی پھائی ، ووہٹی دیاں فرمائشاں مینوں کر چھڈیا قرضائی۔۔
آصف جاہ بطور نغمہ نگار
1970ء میں آصف جاہ کی صرف ایک فلم ڈیرا سجناں دا ریلیز ہوئی تھی جس میں اداکاری کے علاوہ فلم کی کہانی اور ایک آدھ گیت بھی انھوں نے لکھا تھا۔
اس فلم میں ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ گیت بے حد مقبول ہوا تھا
- تیرے خواب تے خیال رہندے ، میرے نال نال۔۔
اس فلم کے علاوہ انھوں نے فلم بشیرا ، دو رنگیلے (1972) ، زرق خان (1973) اور سہاگ میرا لہو تیرا (1974) میں بھی نغمہ نگاری کی تھی۔
آصف جاہ کا آخری دور
1972ء میں بطور ہدایتکار ان کی آخری فلم مان بھرانواں دا (1972) ریلیز ہوئی تھی جس میں انھوں نے اداکاری بھی کی تھی لیکن اب وہ فلموں میں معاون اداکار ہوتے تھے اور اسی حیثیت سے انھوں نے مزید آدھ درجن کے قریب فلموں میں کام کیا تھا۔
ایسی فلموں میں خداتے ماں (1973) میں وہ منورظریف کے ' فادر ان لاء ' بنے تھے جن کا ذکر مسعودرانا اور آئرن پروین کے اس مزاحیہ گیت میں بھی ہوتا ہے
- دھی پھڑ کے مونہوں بولی وے پیو ، اج ٹور دے میری ڈولی وے پیو۔۔
فلم خوشیا (1973) میں آصف جاہ مہمان اداکار تھے اور فلم کے ہیرو اور لیڈنگ گلوکار منورظریف کے علاوہ ننھا ، البیلا وغیرہ پر یہ کورس گیت فلمایا گیا تھا جس میں مسعودرانا کی آواز بھی شامل تھی
- گھڑی پل دو ہووے یا سو سال ، زندگی گزارو ہس کے۔۔
آصف جاہ پر مسعودرانا کا آخری گیت فلم سکندرا (1974) میں فلمایا گیا تھا جس کے بول بڑے بامقصد تھے
- برا ہوندا اے جوراریاں دا حال دوستو۔۔
ان کی آخری فلم غیرت دی موت (1977) تھی اور انتقال 1994ء میں ہوا تھا۔
مسعودرانا اور آصف جاہ کے 5 فلمی گیت
| 1 | آنے دا گلاس پیو ، شربت باداماں والا ، سارےگاماپاما والا..فلم ... من موجی ... پنجابی ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: طفیل فاروقی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: آصف جاہ |
| 2 | جماں جنج نال کیوں اے..فلم ... چن جی ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: نذیر بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: بابا عالم سیاہ پوش ... اداکار: رضیہ ، آصف جاہ |
| 3 | لوکو ، میں شادی کی کیتی ، گل وچ پا لئی پھائی..فلم ... لنگوٹیا ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: آصف جاہ ، رضیہ |
| 4 | گھڑی پل دی ہووے یا سو سال ، زندگی گذارو ہس کے..فلم ... خوشیا ... پنجابی ... (1973) ... گلوکار: منور ظریف ، مسعود رانا البیلا مع ساتھی ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: ؟ ... اداکار: منور ظریف ، ننھا ، آصف جاہ ، البیلا ، امداد حسین مع ساتھی |
| 5 | برا ہوندا اے جواریاں دا حال دوستو..فلم ... سکندرا ... پنجابی ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: طافو ... شاعر: ؟ ... اداکار: آصف جاہ مع ساتھی |
مسعودرانا اور آصف جاہ کے 0 اردو گیت
مسعودرانا اور آصف جاہ کے 5 پنجابی گیت
| 1 | آنے دا گلاس پیو ، شربت باداماں والا ، سارےگاماپاما والا ...(فلم ... من موجی ... 1965) |
| 2 | جماں جنج نال کیوں اے ...(فلم ... چن جی ... 1967) |
| 3 | لوکو ، میں شادی کی کیتی ، گل وچ پا لئی پھائی ...(فلم ... لنگوٹیا ... 1969) |
| 4 | گھڑی پل دی ہووے یا سو سال ، زندگی گذارو ہس کے ...(فلم ... خوشیا ... 1973) |
| 5 | برا ہوندا اے جواریاں دا حال دوستو ...(فلم ... سکندرا ... 1974) |
مسعودرانا اور آصف جاہ کے 2سولو گیت
| 1 | آنے دا گلاس پیو ، شربت باداماں والا ، سارےگاماپاما والا ...(فلم ... من موجی ... 1965) |
| 2 | برا ہوندا اے جواریاں دا حال دوستو ...(فلم ... سکندرا ... 1974) |
مسعودرانا اور آصف جاہ کے 2دوگانے
| 1 | جماں جنج نال کیوں اے ...(فلم ... چن جی ... 1967) |
| 2 | لوکو ، میں شادی کی کیتی ، گل وچ پا لئی پھائی ...(فلم ... لنگوٹیا ... 1969) |
مسعودرانا اور آصف جاہ کے 2کورس گیت
| 1 | گھڑی پل دی ہووے یا سو سال ، زندگی گذارو ہس کے ... (فلم ... خوشیا ... 1973) |
| 2 | برا ہوندا اے جواریاں دا حال دوستو ... (فلم ... سکندرا ... 1974) |
Masood Rana & Asif Jah: Latest Online film
Masood Rana & Asif Jah: Film posters
Masood Rana & Asif Jah:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Asif Jah:
Total 20 joint films
(1 Urdu and 19 Punjabi films)| 1. | 1964: Mama Ji(Punjabi) |
| 2. | 1964: Bharjai(Punjabi) |
| 3. | 1964: Landa Bazar(Urdu) |
| 4. | 1965: Doli(Punjabi) |
| 5. | 1965: Heer Syal(Punjabi) |
| 6. | 1965: Mann Mouji(Punjabi) |
| 7. | 1966: Govandhi(Punjabi) |
| 8. | 1966: Mr. Allah Ditta(Punjabi) |
| 9. | 1967: Chann Ji(Punjabi) |
| 10. | 1967: Lut Da Maal(Punjabi) |
| 11. | 1967: Mirza Jatt(Punjabi) |
| 12. | 1969: Nikkay Hundian Da Pyar(Punjabi) |
| 13. | 1969: Langotia(Punjabi) |
| 14. | 1970: Matrei Maa(Punjabi) |
| 15. | 1973: Khuda Tay Maa(Punjabi) |
| 16. | 1973: Khushia(Punjabi) |
| 17. | 1973: Billa Champion(Punjabi) |
| 18. | 1974: Sikandra(Punjabi) |
| 19. | 1975: Mera Naa Patay Khan(Punjabi) |
| 20. | 1976: Dukki Tikki(Punjabi) |
Masood Rana & Asif Jah: 5 songs
(0 Urdu and 5 Punjabi songs)
| 1. | Punjabi filmMann Moujifrom Friday, 12 November 1965Singer(s): Masood Rana, Music: Tufail Farooqi, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Asif Jah |
| 2. | Punjabi filmChann Jifrom Friday, 5 May 1967Singer(s): Nazir Begum, Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: Baba Alam Siaposh, Actor(s): Razia, Asif Jah |
| 3. | Punjabi filmLangotiafrom Friday, 11 July 1969Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): Asif Jah, Razia |
| 4. | Punjabi filmKhushiafrom Friday, 16 November 1973Singer(s): Munawar Zarif, Masood Rana, Albela & Co., Music: Wajahat Attray, Poet: ?, Actor(s): Munawar Zarif, Nanha, Asif Jah, Albela, Imdad Hussain & Co. |
| 5. | Punjabi filmSikandrafrom Friday, 29 March 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Tafu, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Asif Jah |

Aina
(1977)

Chain Aye Na
(2017)

Jumma Janj Naal
(1968)

Khoon Da Hisab
(1995)

Ek Doojay Kay Liye
(1983)

Begum Jan
(1977)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔












































Abid Kashmiri
Mizla
Faiz Mohammad Baloch
Munir Hussain
Ustad Jhanday Khan
Darpan
Sheikh Iqbal
Sumbal
Nizam Nakhuda
Jia Ali
Azad
Shah Nawaz Ghumman
Kemal Irani
Sehba Akhtar
Hamid
Anwar Rafi








