Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1045 songs in 649 films

مسعودرانا اور کے خورشید

ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو گا کہ قیام پاکستان کے بعد کوئی ہندو ، ہندوستان سے پاکستان آیا ہو اور مستقل طور پر یہیں کا ہو کر رہ گیا ہو۔۔!

معروف فلمساز اور ہدایتکار سید عطااللہ شاہ ہاشمی کی دعوت پر 'کرشن کمار' ، پاکستان آئے اور 'کے کمار' کے نام سے ان کی متعدد سپرہٹ فلموں کے نگران ہدایتکار یا سپروائزر کے طور پر زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام 'خالدخورشید' پسند کیا جو 'کے خورشید' کے نام سےفلمی ریکارڈز میں محفوظ ہے۔

کے خورشید کی بطور ہدایتکار پہلی فلم شعلہ اور شبنم (1967) تھی جو ایک ایکشن اور ڈرامائی فلم تھی۔ اس فلم کی کہانی بھی ان کی اپنی تھی لیکن مکالمے ریاض شاہد کے لکھے ہوئے تھے۔ پاکستانی فلموں کے پہلے سپرسٹار سدھیر ، ہیرو اور شمیم آرا ہیروئن تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اپنے وقت کے مقبول ہیرو درپن نے اس فلم میں ایک ثانوی رول کیا تھا۔ سدھیر کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وقت کے بڑے بڑے ہیروز نے ان کے مقابل ثانوی کردار کیے تھے۔ ان میں درپن کے علاوہ ، اسلم پرویز ، اعجاز ، حبیب ، اکمل ، محمدعلی ، وحیدمراد ، شاہد ، عنایت حسین بھٹی ، کیفی ، بدرمنیر ، آصف خان ، یوسف خان ، سلطان راہی اور اقبال حسن شامل تھے۔ صرف سنتوش ، کمال اور ندیم کو ان کے مقابل کاسٹ نہیں کیا گیا تھا ، اگر کیا بھی جاتا تو یقیناً وہ بھی ثانوی کرداروں میں ہوتے کیونکہ سدھیر پاکستان کے سب سے مقبول اور اکلوتے 'سپرہیرو' تھے جو تین عشروں تک چوٹی کے سپرسٹار فلمی ہیرو رہے اور اپنی آخری فلم میں بھی مرکزی کردار میں تھے۔

ہدایتکار کے خورشید کی فلموں میں سب سے زیادہ مردانہ گیت مسعودرانا کے گائے ہوئے تھے۔ انھوں نے 9 فلموں میں 29 گیت گائے تھے۔ گویا فی فلم تین گیت تھے۔ فلم شعلہ اور شبنم (1967) میں ان کا گایا ہوا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا:
  • عجیب ہے یہ زندگی ، کبھی ہیں غم ، کبھی خوشی ، وہاں ہیں اب تباہیاں ، جہاں تھیں رونقیں کبھی۔۔
ایک لٹے پٹے قافلے کے پس منظر میں گائے ہوئے اس تھیم سانگ کی گائیکی اور شاعری بڑے کمال کی تھی۔ یہ گیت تنویرنقوی کا لکھا ہوا تھا جس کی دھن ایم اشرف نے بنائی تھی۔

ہدایتکار کے خورشید کے کریڈٹ پر نازنین (1969) جیسی نغماتی فلم بھی تھی جس میں شبنم اور ندیم کی کلاسک جوڑی تھی۔ اس فلم کی پہچان ، مسعودرانا کے گائے ہوئے چار گیتوں میں سے یہ سپرہٹ گیت تھا:
  • میراخیال ہو تم ، میری آرزو تم ہو ، میری نگاہ تمنا کی جستجو تم ہو۔۔
موسیقار ایم اشرف نے بھارتی فلم ہمراز (1967) میں روی شنکر کی موسیقی میں مہندرکپور کے گائے ہوئے گیت "نہ منہ چھپا کے جیو اور نہ سر جھکا کے جیو۔۔" کی دھن نقل کی تھی۔ اگر نقل اور اصل کا موازنہ کیا جائے تو پہلے الاپ ہی میں مسعودرانا یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ ان کا مقابلہ تو صرف محمدرفیع ہی سے کیا جاسکتا تھا۔ پاکستانی فلموں میں شاید یہ پہلا گیت تھا جو ایک ہی گلوکار نے قوالی کے انداز میں گایا تھا۔ مسعودرانا کا یہ شاہکار گیت ان گیتوں میں سے ایک ہے کہ جسے جب بھی سنا ، ایسے لگا کہ جیسے پہلی بار سن رہا ہوں ، ایک لاجواب گیت تھا۔ اس فلم میں کلیم عثمانی کے لکھے ہوئے گیت تھے جن میں مسعودرانا کے گائے ہوئے یہ گیت بھی بڑے زبردست تھے "یہ مانا کہ تم دلربا نازنین ہو ، مگر بندہ پرور ، خدا تو نہیں ہو۔۔" ، "نہ جھٹکو ہاتھ ، کرو کچھ بات ، کہ ہم کو نیند نہیں آتی۔۔" اور "آجا ، آجا ، دلربا ، چھوڑ کے مجھ کو کہاں چلی اے ، بے وفا۔۔"

ہدایتکار کے خورشید کی پہلی پنجابی فلم یملا جٹ (1969) تھی۔ علاؤالدین نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ رونا لیلیٰ کی یہ پہلی پنجابی فلم تھی جس میں اسے پانچ گیت گانے کا موقع ملا تھا۔ ایم اشرف کی دھنوں میں حزیں قادری کے لکھے ہوئے بیشتر گیت مقبول ہوئے تھے۔ سب سے ہٹ گیت "ذرا ٹھہر جا وے چوری چوری جان والیو۔۔" تھا۔ اس فلم کا تھیم سانگ مسعودرانا کی آواز میں تھا جو سن کر تڑپ اٹھا تھا اور عہد کر لیا تھا کہ جب کبھی موقع ملا ، اس عظیم گلوکار کے ایسے بامقصد فن پاروں کو ضرور یاد کروں گا:
  • اے جگ وانگ سراواں بندیا ، پہلے پہر نیں دھپاں جس تھاں ، پچھلے پہر نیں چھاواں ۔۔
اس گیت کے ایک انترے میں حزیں قادری نے اس فانی زندگی اور رشتوں کا فلسفہ چند الفاظ میں بیان کردیا تھا:
  • سانواں دا وساہ کی کرناں ، روویئے تاں جے آپ نئیں مرنا
    سانواں وانگر ساتھ نئیں چلنا ، ماں ، پیو ، بہن ، بھرانواں۔۔
اسی فلم میں آواز کے بے تاج بادشاہ ، مسعودرانا کا ایک بھنگڑہ گیت "نی میلہ لٹ لے مٹیارے ، تیرا کہیڑا مل لگدا۔۔" بھی تھا جس میں ان کی دلکش آواز چار چوفیرے اور دکھن پربت ، کچھ اس طرح سے گونجی تھی کہ فلم بینوں کو کرسیوں پر سے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ نسیم بیگم کے ساتھ یہ دلکش رومانٹگ دوگانا "لنگی بن کے پشوری ، پا کے کرتا لاہوری ، ویکھو منڈا میرے ہان دا مجاجاں کردا۔۔" بھی کیا کمال کا گیت تھا۔ اس فلم میں حسنہ اور یوسف خان کی روایتی جوڑی تھی۔

شیرپتر (1971) مسلسل دوسری پنجابی فلم تھی جس کے ہدایتکار کے خورشید تھے۔ سدھیر کا ٹائٹل رول تھا ، ہیروئن نغمہ تھی۔ اس فلم میں اداکارہ مہ پارہ سیکنڈ پیئر میں اقبال حسن کے ساتھ تھی جس کے لیے مسعودرانا کا یہ شوخ گیت گایا گیا تھا:
  • مست ہوا نے گھنڈ چک ویکھی شکل جدوں مٹیار دی۔۔

کے خورشید کی فلمساز اور ہدایتکار کے طور پر پہلی سپرہٹ گولڈن جوبلی رومانٹک اور نغمہ بار فلم نیند ہماری خواب تمہارے (1971) تھی۔ دیبا اور وحیدمراد روایتی کرداروں میں تھے۔ کلیم عثمانی کی شاعری اور موسیقار ایم اشرف تھے۔ اس فلم میں بھی مسعودرانا کے چار گیت تھے جن میں سے تین سپرہٹ تھے۔ فلم کا سب سے مقبول ترین گیت تھا:
  • میرا محبوب آگیا ، من میرا لہرا گیا ، دل کی امنگیں ہوئیں جواں۔۔
مسعودرانا کی پہچان ، لمبی تان اور اونچی سروں میں اڑان ہوتی تھی۔ سننے والا بھی ان کے گیت سنتے ہوئے خود کو انتہائی اونچی ہواؤں میں اڑتے ہوئے محسوس کرتا تھا۔ اس فلم کا یہ انتہائی دلکش رومانٹک گیت بھی وحیدمراد پر فلمایا گیا:
  • ناراض نہ ہو تو عرض کروں ، دل تم سے محبت کرتا ہے
    لے لے کے تمہار نام کوئی دیوانہ آہیں بھرتا ہے۔۔
یہ گیت مسعودرانا کی گائیکی کا ایک ماسٹرپیس تھا۔ فلم کی ہیروئن دیبا ، اس گیت میں بڑی پرکشش نظر آئی۔ اسی فلمی جوڑی پر مالا اور مسعودرانا کا یہ دوگانا بھی دل کے تار چھیڑ دیتا ہے:
  • ہم نے تو پیار بہت تم سے چھپانا چاہا ، دل کے ہاتھوں ہوئے مجبور تو اقرار کیا۔۔

کے خورشید کی بطور ہدایتکار تیسری اور آخری پنجابی فلم رب راکھا (1971) تھی جس میں بابا چشتی کی دھن میں مسعودرانا کا اپنی زمین کی محبت سے سرشار ایک ملی ترانہ تھا:
  • ساڈے پاک دیس دی سارے جگ وچ کیتے نہ ملے مثال ، آؤ ، سجایئے دھرتی اپنی خون پسینے نال۔۔

مسعودرانا کو ہدایتکار کے خورشید کی فلم چراغ کہاں روشنی کہاں (1971) میں چھ گیت گانے کا موقع ملا تھا۔ ان میں سے دو گیت سپرہٹ ہوئے تھے:
  • حال دل آج ہم سنائیں گے ، بندہ پرور ، کرم کچھ تو فرمایئے۔۔
  • میری دعا ہے کہ تو بن کے ماہتاب رہے ، خدا کرے کہ سلامت ، تیرا شباب رہے۔۔
یہ دونوں شاہکار گیت ندیم پر فلمائے گئے تھے جو وہ اپنی روایتی ہیروئن شبنم کے لیے گا رہے تھے۔ اس فلم کا تھیم سانگ "دنیا والے ، کیسا نرالا تیرا یہ سنسار ہے۔۔" فلم میں دو بار الگ الگ گایا گیا تھا۔ ہماری فلموں میں ایسے کئی گیت ملتے ہیں کہ جن کی دھن ایک ہوتی تھی لیکن انھیں دو دو ، تین تین بلکہ چار چار بار بھی گایا گیا تھا۔

مسعودرانا کا کے خورشید کی فلموں میں آخری مقبول گیت فلم فرض اور مامتا (1975) میں تھا:
  • آج غم دے دیا ، کل خوشی بخش دی ، حسن والوں کا کوئی بھروسہ نہیں۔۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسعودرانا اور ہدایتکار کے خورشید کی نو میں سے آٹھ فلموں کے موسیقار ایم اشرف تھے اور بیشتر گیت کلیم عثمانی نے لکھے تھے۔

ہدایتکار کے خورشید کی دیگر فلموں میں دل دیا درد لیا (1968) واحد فلم تھی جس میں زیبا نے کام کیا تھا ، محمدعلی ہیرو تھے۔ اس فلم کے ٹائٹل پر ہدایتکار کے طور پر ریاض بخاری کا نام درج ہے جبکہ دیگر معلومات میں بھی خاصا تضاد ہے۔ فلم کنجوس (1968) کے بعد یہ دوسری فلم ہے کہ جس کے فلم ٹائٹل اور پوسٹر وغیرہ پر متضاد معلومات درج ہیں۔ فلم آؤ پیار کریں (1972) میں رونالیلیٰ اور احمدرشدی کا یہ گیت بڑا خوبصورت تھا "خوبصورت ہو تم ، ہم بھی کچھ کم نہیں۔۔" اس فلم میں رنگیلا چھائے ہوئے تھے اور ان پر احمدرشدی کا یہ مزاحیہ گیت بھی فلمایا گیا تھا "روزی روزی پکاروں میں بن میں ، پیاری روزی بسی میرے من میں۔۔" فلم گھرانہ (1973) بھی ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی جس میں نیرہ نور کا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا "تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجناں ، پلکیں بچھا دوں۔۔" اس فلم میں محمدعلی کی جذباتی اداکاری فلم کی جان تھی جبکہ احمدرشدی کے کئی گیت مقبول ہوئے تھے جن میں "پیار پیار پیار ، کرنے کو تو سب کرتے ہیں۔۔" اور "گورے گورے گال پہ کالا کالا تل رے ، اک لڑکی مغرور سی جو لے گئی میرا دل رے۔۔" فلم بانو رانی (1974) میں مہدی حسن کا یہ دلکش رومانٹک گیت میرے پسندیدہ ترین گیتوں میں سے ایک تھا "رات بھی لے رہی ہے انگڑائی ، میرے محبوب ، آؤ سو جائیں۔۔" فلم ننھا فرشتہ (1974) میں پہلی بار گلوکارہ ناہیداختر کو متعارف کرایا گیا تھا اور پہلا گیت تھا "دل دیوانہ دل ، نجانے کیوں دھڑکتا رہتا ہے۔۔" اپنی پہلی ہی فلم میں ناہیداختر نے مسعودرانا اور احمدرشدی کے ساتھ یہ کورس گیت بھی گایا تھا "تار بنا تنبہ وجدا ای نا۔۔" فلم امنگ (1975) میں پہلی بار اخلاق احمد کو چار گیت گانے کا موقع ملا تھا جو بڑے مقبول ہوئے تھے۔ خاص طور پر نیرہ نور کے ساتھ دونوں دوگانے "کیوں نہ راہوں میں کلیاں بچھائیں ہم ، آج دلدار سج دھج کے آیا ہے۔۔" اور "رات بھر جیا مورا مجھے کیوں ستائے۔۔" فلم داغ (1976) میں مہناز کا گیت "اپنے لیے تو سب ہی جیتیں ہیں اس جہاں میں۔۔" بھی پسند کیا گیا تھا۔ فلم انوکھی (1976) میں ناہیداختر کا گیت "سنوسنو ، جو تم کہو ، میں اپنی ہر خوشی تمہارے نام۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ فلم سنگم (1977) میں غلام عباس کا گیت "سانولی سلونی ، او تیکھے نینوں والی۔۔" بھی بڑا پسند کیا گیا تھا۔ فلم نیاانداز (1979) میں میڈم نورجہاں کا گیت "دے رہی ہے مزہ بے رخی آپکی۔۔" اور اے نیر کا گیت "ضد نہ کر اس قدر ، جان جان۔۔" بھی بڑے مقبول گیت تھے۔ کے خورشید کی آخری دو فلمیں بے نظیر قربانی (1985) اور بدلہ (1987) تھیں۔

کے خورشید نے اپنے بیس سالہ فلمی کیرئر میں کل 20 فلمیں بنائیں جن میں 17 اردو اور 3 پنجابی فلمیں تھیں۔ ان میں سے 10 فلموں کے فلمساز بھی تھے۔ 3 فلموں کی کہانیاں یا منظرنامے بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ 4 فلموں ، نوکر (1955) ، چھوٹی بیگم (1956) ، داتا (1958) اور غالب (1961) میں نگران ہدایتکار یا سپروائزر کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 1990ء میں انتقال ہوگیا تھا۔

مسعودرانا کے کے خورشید کی 9 فلموں میں 29 گیت

(22 اردو گیت ... 7 پنجابی گیت )
1
فلم ... شعلہ اور شبنم ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: (پس پردہ ، سدھیر ، شمیم آرا مع ساتھی)
2
فلم ... شعلہ اور شبنم ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: سدھیر
3
فلم ... شعلہ اور شبنم ... اردو ... (1967) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: شمیم آرا ، منور ظریف ، رنگیلا مع ساتھی
4
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
5
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
6
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
7
فلم ... نازنین ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، رونا لیلیٰ ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم ، شبنم
8
فلم ... یملا جٹ ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: (پس منظر ، علاؤالدین ، یوسف خان)
9
فلم ... یملا جٹ ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: یوسف خان
10
فلم ... یملا جٹ ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: نسیم بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: حسنہ ، یوسف خان
11
فلم ... شیر پتر ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: اقبال حسن
12
فلم ... نیند ہماری خواب تمہارے ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: وحید مراد
13
فلم ... نیند ہماری خواب تمہارے ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: وحید مراد
14
فلم ... نیند ہماری خواب تمہارے ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: وحید مراد
15
فلم ... نیند ہماری خواب تمہارے ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: دیبا ، وحید مراد
16
فلم ... رب راکھا ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟
17
فلم ... رب راکھا ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟
18
فلم ... رب راکھا ... پنجابی ... (1971) ... گلوکار: نسیم بیگم ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟
19
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
20
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
21
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: (پس پردہ ،ٹائٹل سانگ )
22
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: (پس پردہ ، نبیلہ)
23
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم ، شبنم
24
فلم ... چراغ کہاں روشنی کہاں ... اردو ... (1971) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: (پس پردہ ، قوی)
25
فلم ... ننھافرشتہ ... اردو ... (1974) ... گلوکار: ناہید اختر ، احمد رشدی ، مسعود رانا ، شازیہ ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: دیبا ، وحید مراد ، منور ظریف ، زرقا
26
فلم ... ننھافرشتہ ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: (پس پردہ)
27
فلم ... ننھافرشتہ ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ؟؟؟
28
فلم ... فرض اور مامتا ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم
29
فلم ... فرض اور مامتا ... اردو ... (1975) ... گلوکار: مسعود رانا ، رونا لیلیٰ ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: ندیم

Masood Rana & K. Khursheed: Latest Online film

Charagh Kahan Roshni Kahan

(Urdu - Color - Friday, 17 September 1971)


Masood Rana & K. Khursheed: Film posters
Shola Aur ShabnamNazneenYamla JattSher PuttarNeend Hamari Khawab TumharayRabb RakhaCharagh Kahan Roshni KahanNanha FarishtaFarz Aur Mamta
Masood Rana & K. Khursheed:

2 joint Online films

(2 Urdu and 0 Punjabi films)

1.17-09-1971: Charagh Kahan Roshni Kahan
(Urdu)
2.14-02-1975: Farz Aur Mamta
(Urdu)
?>
Masood Rana & K. Khursheed:

Total 9 joint films

(6 Urdu, 3 Punjabi films)

1.15-09-1967: Shola Aur Shabnam
(Urdu)
2.01-08-1969: Nazneen
(Urdu)
3.11-12-1969: Yamla Jatt
(Punjabi)
4.01-01-1971: Sher Puttar
(Punjabi)
5.01-01-1971: Neend Hamari Khawab Tumharay
(Urdu)
6.30-04-1971: Rabb Rakha
(Punjabi)
7.17-09-1971: Charagh Kahan Roshni Kahan
(Urdu)
8.18-10-1974: Nanha Farishta
(Urdu)
9.14-02-1975: Farz Aur Mamta
(Urdu)


Masood Rana & K. Khursheed: 29 songs in 9 films

(22 Urdu and 7 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Shola Aur Shabnam
from Friday, 15 September 1967
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana & Co., Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): Shamim Ara, Munawar Zarif, Rangeela & Co.
2.
Urdu film
Shola Aur Shabnam
from Friday, 15 September 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback, Sudhir, Shamim Ara & Co.)
3.
Urdu film
Shola Aur Shabnam
from Friday, 15 September 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): Sudhir
4.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem
5.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem
6.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Runa Laila, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeemm, Shabnam
7.
Urdu film
Nazneen
from Friday, 1 August 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem
8.
Punjabi film
Yamla Jatt
from Thursday, 11 December 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback)
9.
Punjabi film
Yamla Jatt
from Thursday, 11 December 1969
Singer(s): Naseem Begum, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Husna, Yousuf Khan
10.
Punjabi film
Yamla Jatt
from Thursday, 11 December 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Yousuf Khan
11.
Urdu film
Neend Hamari Khawab Tumharay
from Friday, 1 January 1971
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Waheed Murad, Deeba
12.
Urdu film
Neend Hamari Khawab Tumharay
from Friday, 1 January 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Waheed Murad
13.
Urdu film
Neend Hamari Khawab Tumharay
from Friday, 1 January 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Waheed Murad
14.
Urdu film
Neend Hamari Khawab Tumharay
from Friday, 1 January 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Waheed Murad
15.
Punjabi film
Sher Puttar
from Friday, 1 January 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Iqbal Hassan
16.
Punjabi film
Rabb Rakha
from Friday, 30 April 1971
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?
17.
Punjabi film
Rabb Rakha
from Friday, 30 April 1971
Singer(s): Naseem Begum, Masood Rana & co., Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): ?
18.
Punjabi film
Rabb Rakha
from Friday, 30 April 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: G.A. Chishti, Poet: , Actor(s): Yousuf Khan
19.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback - Qavi)
20.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback - Nabeela)
21.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback)
22.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem, Shabnam
23.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem
24.
Urdu film
Charagh Kahan Roshni Kahan
from Friday, 17 September 1971
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem
25.
Urdu film
Nanha Farishta
from Friday, 18 October 1974
Singer(s): Masood Rana & Co., Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback)
26.
Urdu film
Nanha Farishta
from Friday, 18 October 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback)
27.
Urdu film
Nanha Farishta
from Friday, 18 October 1974
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Naheed Akhtar, Shazia, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Deeba, Waheed Murad, Munawar Zarif, Zarqa
28.
Urdu film
Farz Aur Mamta
from Friday, 14 February 1975
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem
29.
Urdu film
Farz Aur Mamta
from Friday, 14 February 1975
Singer(s): Masood Rana, Runa Laila, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Dilruba
Dilruba
(1975)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..