عظیم گلوکار مسعودرانا کو ایک منفرد خراج تحسین
Masood Rana - مسعودرانا


مسعودرانا کا پہلا فلمی گیت

Aya Hay Ayub Hamara

مسعودرانا کا پہلا فلمی گیت ایک ترانہ تھا جو ایک کراچی ساختہ اردو فلم انقلاب کے لئے گایا گیا تھا اور جس میں اس وقت کے صدر ، آرمی چیف اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کی مدح و سرائی کی گئی تھی جنہیں اس وقت پاکستانی قوم کا نجات دہندہ بھی کہا جاتا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں 8 اکتوبر 1958ء سے مارشل لاء نافذ تھا اور جو 8 جون 1962ء کو ختم کیا گیا تھا۔ جنرل ایوب خان ، پاکستان کے پہلے مسلمان آرمی چیف تھے۔ ان سے قبل جو دو آرمی چیفس تھے وہ انگریز اور غیر مسلم تھے اور شاید اسی لئے قانون و ضوابط کے پابند اور غیر پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے اجتناب بھی کرتے تھے لیکن ایک مسلمان جنرل ہو اور اس کے پاس ڈنڈے کی طاقت بھی ہو تو پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک جنگل میں دو شیریا دوحکمران ہوں..؟

جنوری 1951ئ میں جنرل ایوب خان ، پاکستان کے پہلے مسلمان آرمی چیف بنے توفیصل واوڈا کے بوٹ کی کہانی بھی شروع ہو گئی تھی۔ صرف دو ماہ بعد ہی اس وقت کے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک ناکام سازش ہوئی تھی اور چند ماہ بعد انہیں گولی کا نشانہ بنا کر ملک میں قیادت کا خلاء پیدا کر دیا گیا تھا جسے اس وقت کی سول اور ملٹری بیوروکریسی نے پر کیا تھا۔ اسی دور میں اہل سیاست کی تذلیل شروع ہو گئی تھی اورنہرو کی دھوتیوں کی طرح وزرائے اعظم تبدیل کئے گئے تھے۔ جنرل ایوب ہی نے آرمی چیف کے طور پر ستمبر 1953ء میں امریکہ سے فوجی معاہدے کئے تھے اور اسے سرزمین پاکستان پر فوجی اڈے دینے کے عوض بھاری فوجی اور اقتصادی امداد حاصل کی تھی۔ بنگالیوں کی عددی برتری کو ختم کرنے کے لئے ون یونٹ کی بدنام زمانہ تجویز بھی جنرل ایوب ہی کے زرخیز ذہن کی پیداوار تھی اور اسی بنیاد پر پاکستان کا پہلا آئین بھی بنایا گیا تھا جس کا مشرقی پاکستان کی سبھی سیاسی پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا تھا لیکن بوٹ کی طاقت وؤٹ کی طاقت پر حاوی ہو چکی تھی جو اکتوبر 1958ء میں عملی صورت میں سامنے بھی آگئی تھی۔ اس دوران ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی ، عدلیہ معطل اور میڈیا پابندتھا اور ایک مطلق العنانی کا دوردورہ تھا۔ ایک یکطرفہ پروپیگنڈہ تھا جو سرکاری میڈیا کے علاوہ فلمی گیتوں کی صورت میں بھی سامنے آیا تھا اور یہ فلمی ترانہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

مسعودرانا کے گائے ہوئے بہت سے فلمی ترانوں میں سے یہ پہلافلمی ترانہ ، جس کی پوری عبارت ایک گرافک کی صورت میں ساتھ پیش کی جارہی ہے ، ایک ... حاصل مرادآبادی ... نامی غیر معروف شاعر نے لکھا تھا جو یقینا ایک فرضی نام تھا اور فلمی گیتوں میں موصوف کا یہ واحد گیت تھا۔ اس گیت کی دھن موسیقار... این کے راٹھور ... جنہیں ... نتھو خان ... بھی کہا جاتا تھا ، نے بنائی تھی۔ اس موسیقار نے اس فلم کے علاوہ مزید چار فلموں کی موسیقی دی تھی لیکن کوئی ایک بھی سپر ہٹ گیت کمپوز نہیں کیا تھا۔

فلم انقلاب 27 اپریل 1962ء کو صرف کراچی ہی میں ریلیز ہوئی تھی اور بری طرح سے ناکام رہی تھی۔

(جاری ہے)



Pakistan Film Database

Detailed informations on released films, music, artists, history,

box office reports, videos, images etc..



7 decades of Pakistani films

Some facts & figures on released films, artists and film music from the last seven decades..

70 Years of Pakistani Films

Latest Showbiz News


Movies Online

The largest collection of 1250 Online Pakistani films..

500

Urdu films

637

Punjabi films

90

Pashto films

Mujahid
Mujahid
(1978)
Malka
Malka
(1987)

Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..



PrePartition Film Database

Informations on released films and artists from 1913-47..

PrePartition Film Database (1913-47)


About this site

Pakistan Film Magazine is the first and largest website on Pakistani films, music and artists with detailed informations, videos, images etc. It was launched on May 3, 2000.

Click on the image below and visit the one of the last manual-edited or non-database website from 2012..

Old pages of Pakistan Film Magazine

More archived pages of Pakistan Film Magazine since 2000..



External film & music links




Top


A website by

Pak Magazine