A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1035 songs in 647 films

مسعودرانا اور پرویز ملک

پرویزملک ، سوشل ، رومانٹک اور نغماتی اردو فلموں کے کامیاب ترین ہدایتکار تھے جنہیں سب سے زیادہ ڈائمنڈ جوبلی فلمیں بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔۔!

امریکہ سے فلم سازی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پرویز ملک جب واپس پاکستان آئے تو ان کا پہلا ساتھ اپنے دیرینہ دوست وحیدمراد کے ساتھ ہوا جو اس سے قبل بطور فلمساز دو فلمیں بنانے کے علاوہ متعدد فلموں میں اداکاری بھی کر چکے تھے۔ ان دونوں کی پہلی مشترکہ فلم ہیرا اور پتھر (1964) تھی جس کے فلمساز اور ہیرو وحیدمراد تھے ، کہانی اقبال رضوی ، ہدایتکار اور منظرنامہ ، پرویز ملک کا اپنا لکھا ہوا تھا۔ زیبا ہیروئن تھی۔ اسی فلم میں وحیدمراد پر پہلی بار احمدرشدی کا کوئی گیت فلمایا گیا تھا "گوری سمٹی جائے شرم سے۔۔" سہیل رعنا موسیقار اور مسرورانور ، نغمہ نگار تھے۔ پرویز ملک کی اس پہلی فلم نے کراچی میں گولڈن جوبلی اور اپنے مرکزی سینما ناز پر سولو سلورجوبلی کی تھی جو ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اسی فلم سے اردو فلموں کی ایک کامیاب ٹیم تشکیل پائی تھی جو ہدایتکار پرویز ملک ، ہیرو اور فلمساز وحیدمراد ، ہیروئن زیبا ، موسیقار سہیل رعنا ، نغمہ نگار مسرورانور اور گلوکار مالا اور احمدرشدی کی شکل میں سامنے آئی تھی۔

پرویز ملک کی اسی ٹیم کی دوسری فلم ارمان (1966) ایک ریکارڈ توڑ اردو فلم تھی۔ یہ فلم صرف ناز سینما کراچی میں مسلسل 34 ہفتے چلی تھی جو وحیدمراد کی سبھی فلموں میں سب سے زیادہ سولو ویک چلنے والی فلم تھی۔ کل 76 ہفتے چلنے والی اس فلم نے وحیدمراد کو سپرسٹار بنا دیا تھا۔ یہ زیبا کے فلمی کیرئر کی سب سے کامیاب اور اکلوتی پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ فلمساز اور کہانی نویس وحیدمراد تھے ، ہدایتکار اور سکرین پلے رائٹر پرویز ملک تھے۔ موسیقی کا شعبہ سہیل رعنا اور گیت نگاری مسرورانور کا کمال تھا۔ مالا اور احمدرشدی کے الگ الگ گائے ہوئے گیت "اکیلے نہ جانا ، ہمیں چھوڑ کر تم۔۔" کے علاوہ رشدی صاحب کا گایا ہوا نوجوان طبقے کا پسندیدہ ترین گیت "کوکوکورینہ۔۔" بھی بڑا مقبول ہوا تھا۔

ہدایتکار پرویز ملک کی تیسری فلم احسان (1967) تھی جو پہلی دوفلموں جیسی کامیابی تو حاصل نہ کر سکی تھی لیکن سلورجوبلی کر کے اوسط درجہ کی ضرور رہی۔ اس فلم کے ہیرو ، فلمساز اور کہانی نویس ، وحیدمراد تھے۔ زیبا کے ساتھ ملک صاحب کی یہ تیسری اور آخری فلم تھی کیونکہ اس نے محمدعلی سے شادی کے بعد کسی دوسرے ہیرو کے ساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس فلم میں مالا اور مہدی حسن کے الگ الگ گائے ہوئے گیت "اک نئے موڑ پہ لے آئے ہیں حالات مجھے۔۔" بڑے مقبول ہوئے تھے۔

فلم دوراہا (1967) پرویز ملک کی بطور فلمساز پہلی فلم تھی جس میں ان کے معاون فلمساز ، موسیقار سہیل رعنا تھے۔ اس فلم میں شمیم آرا اور دیبا ، وحیدمراد کی ہیروئنیں تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی لیکن باکس آفس پر درمیانہ درجہ کی ثابت ہوئی تھی۔ مہدی حسن کا گیت "مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو۔۔" ، احمدرشدی اور مالا کے الگ الگ گائے ہوئے گیت "بھولی ہوئی ہوں داستاں ، گزرا ہوا خیال ہوں۔۔" ، احمدرشدی کے گیت "ہاں ، اسی موڑ پر ، اس جگہ بیٹھ کر ، تم نے وعدہ کیا تھا۔۔" اور "تمہیں کیسے بتا دوں ، تم میری منزل ہو۔۔" بڑے مقبول گیت تھے۔ گیت نگار مسرورانور تھے۔

فلم دوراہا (1967) پہلی فلم تھی جس میں پرویز ملک نے مسعودرانا کی آواز کو استعمال کیا تھا۔ عام طور پر گیتوں کا شعبہ موسیقار کے پاس ہوتا ہے لیکن اس میں فلمساز اور ہدایتکار کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اردو فلم بینوں میں میڈم نورجہاں اور مسعودرانا کی اہمیت کم ہوتی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خالص اردو فلمیں بنانے والے ان دونوں گلوکاروں سے زیادہ گیت نہیں گواتے تھے۔ اس وقت اردو فلموں کی گلوکاراؤں میں مالا ، مقبول ترین گلوکارہ تھی ، پھر یہ مقام رونا لیلیٰ سے ہوتے ہوئے ناہیداختر اور مہناز تک جا پہنچا تھا۔ گلوکاروں میں احمدرشدی ، اردو بولنے والوں کے لئے 'عوامی گلوکار' کا درجہ رکھتے تھے جبکہ مہدی حسن کو غزل گائیکی کی وجہ سے اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا تھا۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ یہ دونوں عظیم گلوکار تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دونوں مخصوص ٹائپ کے گلوکار تھے۔ احمدرشدی ، ہلکے پھلکے ، ہلاگلا اور آسان گیت ہی گا سکتے تھے ، مشکل گیت گانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی۔ یہی حال مہدی حسن کا تھا جو غزل کے بے تاج بادشاہ تھے لیکن فلمی گائیکی میں اپنے مخصوص سٹائل سے ہٹ کر نہیں گا سکتے تھے۔ ان دونوں کے مقابلے میں مسعودرانا کا کمال یہ تھا کہ فلمی گائیکی میں ان کے پائے کا کوئی آل راؤنڈ گلوکار نہیں تھا جو ہر رنگ ، ہر ڈھنگ اور ہر انگ میں گا سکتا تھا۔ تمام تر تعصبات کے باوجود اردو فلموں کے موسیقار مجبور ہوتے تھے کہ وہ مسعودرانا سے بھی گیت گوائیں۔ فلم دوراہا (1967) میں ایسی ہی ایک فلمی صورتحال تھی کہ موسیقار اور ہدایتکار کو احمدرشدی اور مہدی حسن کی موجودگی میں مسعودرانا کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ ایک شعر کے علاوہ وحیدمراد کے لئے صرف ہارمونیم پر ایک دل گرفتہ اور ناکام عاشق کے دل کی آہیں ، اداس سُروں میں ڈھل کرفلم بینوں پر بڑا گہرا اثر کرتی ہیں "یہ تو کہو ، توڑ کر دل میرا ، چھپ گئے ہو تم کہاں ، ساجنا۔۔"

پرویز ملک کی بطور فلمساز دوسری فلم جہاں تم وہاں ہم (1968) میں وحیدمراد ہیرو اور شبنم ہیروئن تھی۔ موسیقار روبن گھوش کی مغربی پاکستان میں یہ پہلی فلم تھی۔ احمدرشدی اور مالا کا دوگانا "مجھے تلاش تھی جس کی ، وہ ہمسفر تم ہو۔۔" مقبول ترین گیت تھا۔

عرصہ چھ سال بعد پرویز ملک نے ایک بار پھر وحیدمراد کو اپنی دو فلموں میں کاسٹ کیا تھا۔ پہلی فلم اسے دیکھا اسے چاہا (1974) تھی جو ملک صاحب کی پہلی ناکام ترین فلم ثابت ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب وحیدمراد کی بطور ہیرو مارکیٹ ویلیو ختم ہوچکی تھی اور سولو ہیرو کے طور پر ان کی سبھی فلمیں ناکام ہورہی تھیں۔ ایسے میں وہ دیگر ہیروز کے ساتھ کاسٹ کئے جانے لگے تھے۔ دوسری فلم دشمن (1974) میں ان کے ساتھ محمدعلی بھی تھے۔ ان دونوں کے پس منظر میں مسعودرانا کا گایا ہوا یہ پراثر تھیم سانگ فلمایا گیا تھا "اپنا لہو پھر اپنا لہو ہے ، آخر دل تڑپائے گا۔۔" اس گیت کے بارے میں موسیقار نثاربزمی ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ وہ یہ گیت گلوکار اقبال باہو سے گوانا چاہتے تھے لیکن پرویز ملک کا اصرار تھا کہ اس تھیم سانگ کو صرف مسعودرانا ہی گائیں گے جنہیں ایسے گیتوں پر مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔ فلم دشمن (1974) کے بعد اگلے دو عشروں تک پرویز ملک فلمیں بناتے رہے لیکن پھر کبھی وحیدمراد کو ہیرو نہیں لیا۔

مسلسل پانچ فلموں میں وحیدمراد کو ہیرو لینے کے بعد پرویز ملک نے اپنی چھٹی فلم سوغات (1970) میں ندیم کو ہیرو لیا تھا۔ روزینہ ، اس فلم کی ہیروئن تھی۔ یہ ایک اوسط درجہ کی میوزیکل فلم تھی۔ سہیل رعنا نے مسعودرانا کی آواز میں یہ دلکش گیت گوایا تھا "ہو چکا ہونا تھا جو ، اب دل کو کیا سمجھائیں ہم۔۔" مسرور انور نے اس گیت کے یہ بول شاید مسعودرانا جیسے اعلیٰ پائے کے گلوکار کی ناقدری کو سامنے رکھتے ہوئے لکھے تھے کہ "جو نہ پہچانی گئی ، ہم ایسی اک آواز ہیں ، جس کے نغمے بھی پرائے ، ہو گئے وہ ساز ہیں۔۔!" اس فلم میں مجیب عالم کے یہ دو گیت بھی بڑے خوبصورت تھے "دنیا والو ، تمہاری دنیا میں ، یوں گزاری ہے زندگی ہم نے۔۔" اور "تم سے مل کر میری دنیا ہی بدل جاتی ہے۔۔"

پرویز ملک کے دوسرے ہیرو ندیم ، ان کے کامیاب ترین ہیرو تھے جن کے ساتھ کل 11 فلمیں تھیں اور صرف ایک فلم شہزادہ (1992) ناکام تھی۔ پہچان (1975) ، تلاش (1976) ، ہم دونوں (1980) اور قربانی (1981) ڈائمنڈ جوبلی جبکہ پاکیزہ (1979) ایک پلاٹینم جوبلی فلمیں تھیں۔ سچائی (1976) ، رشتہ (1980) ، مہربانی (1982) اور کامیابی (1984) گولڈن جوبلی اور گمنام (1983) سلورجوبلی فلمیں تھیں۔ یہ سبھی ریکارڈز کراچی سرکٹ کے ہیں۔ ان فلموں پر تفصیلی بات پھر کبھی ہوگی۔

پرویز ملک کی پہلی فلم میرے ہمسفر (1972) تھی جو ہالینڈ ، فرانس اور برطانیہ میں شوٹ کی گئی تھی۔ شبنم کے ساتھ محمدعلی مرکزی کردار میں تھے۔ فلم اچھی تھی ، گیت بھی اچھے تھے ، خاص طور پر مجیب عالم کا یہ گیت "اے بے قرار تمنا ، ذرا ٹھہرجاؤ۔۔" محمدعلی جیسے عظیم ادکار نے چند شارٹس میں ایک سکھ کا بڑا کمزور سا کردار کیا تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے انہوں نے اور ہدایتکار پرویز ملک نے زندگی بھر کبھی کوئی سکھ نہیں دیکھا اور نہ ان کی بولی یا لہجہ سنا تھا ، شاید یہ جتلانا مقصود تھا کہ پنجابی سکھوں کی زبان ہے۔ فلم مہربانی (1982) میں بھی ایسا ہی ایک متعصابہ اور احمقانہ مکالمہ تھا جب بابرہ شریف ، محمدعلی سے پوچھتی ہے کہ "ڈاکٹر صاحب ، آپ کو انگریزی آتی ہے۔۔؟" جواب ملتا ہے "تو کیا ڈاکٹری میں نے پنجابی میں کی تھی۔۔!" مانا کہ پنجابی جاہلوں کی زبان ہے لیکن کیا ڈاکٹری ، اردو میں ہو سکتی ہے۔۔؟

محمدعلی ، پرویز ملک کے تیسرے ہیرو تھے جن کے ساتھ ان کی لیڈنگ رولز میں تین فلمیں تھیں۔ مندرجہ بالا فلم کے علاوہ دشمن (1974) اور انتخاب (1978) تھیں۔ ان کے علاوہ مہربانی (1982) اور زنجیر (1986) میں ثانوی کرداروں میں تھے۔

ہدایتکار پرویز ملک کے چوتھے ہیرو شاہد تھے جن کے ساتھ ان کی اکلوتی فلم انمول (1973) تھی۔ ملک صاحب کی یہ پہلی ڈائمنڈ جوبلی سپرہٹ فلم تھی جس کی کہانی نئی نہیں تھی لیکن ان کی کارکردگی نے اس فلم کو ایک شاہکار فلم بنا دیا تھا۔ پاکستان میں اس موضوع پر قبل ازیں دو فلمیں ، مفت بر (1961) اور بے قصور (1970) بن چکی تھیں۔ یہی فلم اردو فلموں کی ریکارڈ ہولڈر ہیروئن شبنم کی سو ہفتے چلنے والی پہلی فلم بھی تھی۔

پرویز ملک کے پانچویں ہیرو راحت کاظمی تھے جو ان کی اکلوتی فلم مہمان (1978) کے ہیرو تھے۔ بابرہ شریف ہیروئن تھی۔ اس فلم میں غلام عباس کا گایا ہوا یہ گیت کبھی میرے پسندیدہ ترین گیتوں میں سے ایک ہوتا تھا جسے اکثر گنگناتا رہتا تھا "دیکھ کر تجھ کو میں غم دل کے بھلا دیتا ہوں ، رات دن تجھ کو میں جینے کی دعا دیتا ہوں۔۔" ملک صاحب کے چھٹے اور آخری ہیرو جاویدشیخ تھے جن کے ساتھ ان کی تین فلمیں تھیں ، ہلچل (1985) اور زنجیر (1986) کے علاوہ فلم غریبوں کا بادشاہ (1988) جو اسی کے عشرہ میں کراچی میں ہونے والے خونریز لسانی فسادات پر بنائی گئی تھی۔ یہ فلم پرویز ملک کی عام ڈگر سے ہٹ کر ایک ایکشن فلم تھی۔ اس فلم میں جاویدشیخ کو ایک ینگ اینگری مین کے رول میں دکھایا گیا تھا۔ اپنی آخری فلم شہزادہ (1992) میں انہوں نے اپنے بیٹے عمران ملک کو ریما کے مقابل سیکنڈ پیئر کے طور پر پیش کیا تھا۔

پرویز ملک نے اپنے 28 سالہ فلمی کیرئر میں کل 26 فلمیں بنائیں جو سبھی اردو زبان میں تھیں۔ ان میں ریکارڈ 5 ڈائمنڈ جوبلی ، 2 پلاٹینم جوبلی ، 10 گولڈن جوبلی ، 7 سلورجوبلی اور 2 ناکام فلمیں تھیں۔ یہ ریکارڈز کراچی سرکٹ کے ہیں۔ 19 فلموں میں بطور فلمساز بھی ان کا نام ملتا ہے جن میں ہمت والا ، لیڈی سمگلر (1987) اور ہنگامہ (1988) تھیں۔ ان کے علاوہ دو پشتو فلموں میں بھی ان کا نام آتا ہے جو ممکن ہے کہ کوئی اور ہو۔ چار فلموں ، سچائی (1976) ، گمنام (1983) ، کامیابی (1984) اور غریبوں کا بادشاہ (1988) کی کہانیاں بھی انہوں نے لکھی تھیں۔ ملک صاحب نے کبھی کوئی پنجابی فلم نہیں بنائی لیکن ان کی آخری فلم شہزادہ (1992) میں دو پنجابی مجرا گیتوں کے علاوہ آدھی فلم میں بابرہ شریف کے پنجابی مکالمے اور بھر پور مجرے بھی تھے۔ دلچسپ بات ہے کہ میڈم نورجہاں کے ساتھ پرویز ملک کی یہ صرف دوسری اور آخری فلم تھی۔ ان کی تیرہ تیرہ فلموں کے گیت مہناز اور ناہید اختر نے گائے تھے۔ پرویز ملک کی 14 میں سے پہلی مسلسل 13 فلموں میں احمدرشدی کے گیت تھے۔ مہدی حسن کے ساتھ ان کی 9 جبکہ مسعودرانا کے ساتھ صرف تین فلمیں تھیں۔ پرویز ملک اور مسرورانور کا اپنی پہلی سے آخری فلم یعنی جملہ 26 فلموں تک ایک اٹوٹ ساتھ رہا جو شاید ایک ریکارڈ ہے۔ ان کے سب سے زیادہ یعنی گیارہ فلموں کے موسیقار ایم اشرف تھے۔ ان کی زیادہ تر یعنی 13 فلموں کی ہیروئن شبنم تھی لیکن پنجابی فلموں کے معروف اداکاروں کے علاوہ اداکارہ رانی کو انہوں نے کبھی کسی فلم میں کاسٹ نہیں کیا تھا۔

1938ء میں اٹک میں پیدا ہونے والے پرویز ملک کا 2008ء میں انتقال ہوا تھا۔


مسعودرانا کے پرویز ملک کی 3 فلموں میں 4 گیت

(4 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت )
1
فلم ... دوراہا ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: وحید مراد
2
فلم ... دوراہا ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: (پس پردہ)
3
فلم ... سوغات ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: ندیم
4
فلم ... دشمن ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: (پس پردہ ، محمد علی ، وحید مراد)

Masood Rana & Parvez Malik: Latest Online film

Dushman

(Urdu - Color - Friday, 8 November 1974)


Masood Rana & Parvez Malik: Film posters
DorahaSoughatDushman
Masood Rana & Parvez Malik:

1 joint Online films

(1 Urdu and 0 Punjabi films)

1.08-11-1974Dushman
(Urdu)
Masood Rana & Parvez Malik:

Total 3 joint films

(3 Urdu, 0 Punjabi films)

1.25-08-1967: Doraha
(Urdu)
2.01-12-1970: Soughat
(Urdu)
3.08-11-1974: Dushman
(Urdu)


Masood Rana & Parvez Malik: 4 songs in 3 films

(4 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Doraha
from Friday, 25 August 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Sohail Rana, Poet: , Actor(s): Waheed Murad
2.
Urdu film
Doraha
from Friday, 25 August 1967
Singer(s): Masood Rana, Music: Sohail Rana, Poet: , Actor(s): (Playback)
3.
Urdu film
Soughat
from Tuesday, 1 December 1970
Singer(s): Masood Rana, Music: Sohail Rana, Poet: , Actor(s): Nadeem
4.
Urdu film
Dushman
from Friday, 8 November 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): (Playback - Mohammad Ali, Waheed Murad)


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔