Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


فضل حسین

  • آج یہ کس کو نظر کے سامنے پاتا ہوں میں
    پیار کی بھولی ہوئی یادوں سے ٹکراتا ہوں میں

موسیقار جی اے چشتی کی دھن میں نغمہ نگار سیف الدین سیف کی لکھی ہوئی یہ شاہکار اور سدابہار غزل ، گلوکار فضل حسین کی مدھر اور پرسوز آواز میں تھی جو ہدایتکار حیدرشاہ کی فلم طوفان (1955) میں پاکستان کے پہلے سپرسٹار ہیرو سدھیر پر فلمائی گئی تھی۔

فضل حسین کا فلمی سفر

گلوکار فضل حسین ، دھیمے اور میٹھے سروں کے گلوکار تھے جو پاکستان کے ابتدائی دور کی فلموں کے ایک ممتاز پلے بیک سنگر تھے۔ ان کی آواز گلوکار سلیم رضا کی آواز کے مشابہ تھی۔

ریلیز کے اعتبار سے پہلی فلم، ہدایتکار انور کمال پاشا کی فلم غلام (1953) تھی جس میں پہلا گیت ، عظیم موسیقار ماسٹرغلام حیدر کی دھن میں پکھراج پپو کے ساتھ گایا تھا:

  • برباد ہوئے ہم جن کے لیے ، وہ ہم سے ہوئے ہیں بیگانے ، ہائے ۔۔

ساغرصدیقی کا لکھا ہوا یہ خوبصورت دوگانا ، ممتاز فلمی جوڑی صبیحہ اور سنتوش پرفلمایا گیا تھا جو یقیناً اس دور میں بڑا مقبول ہوا ہوگا۔

اسی سال ریلیز ہونے والی ہدایتکار لقمان کی فلم محبوبہ (1953) میں فضل حسین کا منور سلطانہ کے ساتھ گایا ہوا ایک بڑا ہی مقبول دوگانا تھا:

  • کسی کا نام شامل ہوگیا میری کہانی میں۔۔

اس دلکش گیت کے بول قتیل شفائی نے لکھے تھے اور دھن ماسٹرعنایت حسین نے بنائی تھی اور کیا خوب بنائی تھی۔

فضل حسین کی یادگار فلم گلنار (1953)

فضل حسین نے اپنے پہلے دو نوں سولو گیت فلم گلنار (1953) میں گائے تھے۔ پہلا گیت قتیل شفائی کا لکھا ہوا تھا:

  • گلہ ہے آسماں والے ، ہمیں تیری خدائی سے ، رہا ہے بے خبر تو بھی ہماری نوائی سے۔۔

جبکہ دوسرا گیت تنویرنقوی کا لکھا ہوا تھا:

  • اِدھر دیکھتے ہیں ، اُدھر دیکھتے ہیں ، ہے تیرا ہی جلوہ ، جِدھر دیکھتے ہیں۔۔

موسیقار ماسٹر غلام حیدر

ان گیتوں کی دھنیں ماسٹرغلام حیدر نے بنائی تھیں جن کی یہ آخری فلم ثابت ہوئی تھی۔

ماسٹرغلام حیدر ، ایک عہد ساز موسیقار تھے جنھوں نے برصغیر کی فلمی موسیقی کا انداز بدل کر رکھ دیا تھا۔ انھوں نے مروجہ بھاری بھر کم کلاسیکل موسیقی سے بوجھل فلمی گیتوں کو ہلکی پھلکی عوامی موسیقی کا پنجابی ٹچ دیا تھا۔ برصغیر کے فلم بینوں نے پہلی بار فلمی گیتوں میں ڈھول ، مٹکا ، دف اور دیگر دیسی آلات وغیرہ کا استعمال سنا تھا جنھیں بے حد پذیرائی ملی تھی اور اگلی کئی دھائیوں تک وہ فلمی موسیقی کا سٹینڈرڈ سٹائل رہا تھا۔ اپنی مقبولیت کی وجہ سے چالیس کی دھائی میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے فنکار تھے۔

​میڈم نورجہاں کا پہلا سپرہٹ گیت "شالا جوانیاں مانیں۔۔" پنجابی فلم گل بکاؤلی (1937) میں ماسٹرصاحب ہی نے کمپوز کیا تھا۔ اگلی دونوں پنجابی فلمیں ، یملاجٹ (1940) اور چوہدری (1941) بھی سپرہٹ ہوئیں۔

ماسٹرغلام حیدر کی ملک گیر پہچان فلم خزانچی (1941) سے ہوئی تھی۔ لاہور میں بنائی گئی اس فلم کا ٹائٹل رول ، ایم اسماعیل نے کیاتھا۔ کشمیر سے کنیا کماری اور کراچی سے کلکتہ تک اس فلم نے دھوم مچا دی تھی اور یہ لاہور کی پہلی بلاک باسٹر ہندی/اردو فلم ثابت ہوئی تھی۔

ماسٹر صاحب کی اس فلم سے گلوکار شمشاد بیگم بھی چوٹی کی گلوکارہ بن گئی تھی جبکہ بھارت کی عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر کو بھی ماسٹرغلام حیدر کی فلم مجبور (1948) سے شہرت ملی تھی۔

تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے جہاں 1953ء میں اپنے انتقال تک انھوں نے سات فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں سے شاہدہ (1949) پہلی فلم تھی۔ میڈم نورجہاں کے ساتھ ان کی واحد فلم گلنار (1953) تھی جس میں یہ امر سنگیت شامل ہے "لو چل دیے وہ ہم کو تسلی دیے بغیر۔۔" اتفاق سے اس فلم کی ریلیز کے چند دن بعد ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

سید امتیاز علی تاج

فلم گلنار (1953) کا ٹائٹل رول ملکہ ترنم نورجہاں نے کیا تھا جبکہ ہیرو سنتوش تھے۔ سیدامتیازعلی تاج کی بطور ہدایتکار یہ اکلوتی پاکستانی فلم تھی۔ تقسیم سے قبل ان کی بطور ہدایتکار پہلی فلم سورگ کی سیڑھی (1934) تھی جو ماسٹرغلام حیدر کی پہلی فلم بھی تھی۔ بطور مصنف ، سیدامتیازعلی تاج نے چن وے (1951) ، انتظار (1956) ، زہرعشق (1958) اور جھومر (1959) جیسی مشہورزمانہ فلموں کی کہانیاں بھی لکھی تھیں۔

وہ ، ایک تاریخ ساز ادیب تھے اور شہرہ آفاق رومانوی داستان 'انارکلی' کے خالق تھے۔ مغل شہنشاہ اکبر کے بیٹے جہانگیر کے بارے میں اس افسانوی داستان کو برصغیر کی تاریخ میں کئی بار فلمایا گیا ہے۔ 1922ء میں 'انارکلی' کا ناول لکھا گیا اور پہلی بار اس ناول پر ایک خاموش فلم انارکلی (1928) بنی تھی۔ وقت کی مقبول فلمی جوڑی سلوچنا اور ڈی بلیموریا مرکزی کرداروں میں تھے۔ مزے کی بات ہے کہ جب فلموں کو زبان ملی تو اسی جوڑی کو لے کر ایک بار پھر فلم انارکلی (1935) بنائی گئی تھی۔

تقسیم کے بعد بھی بھارت میں انارکلی (1953) بنی ، پھر مغل اعظم (1960) جیسی تاریخ ساز فلم بھی اسی کہانی پر بنائی گئی تھی۔

پاکستان میں فلم انارکلی (1958) صرف ایک بار بنی تھی جس میں ملکہ ترنم نورجہاں نے ٹائٹل رول کیا تھا ، سدھیر ، شہزادہ سلیم اور ہمالیہ والا ، اکبر بنے تھے۔ راگنی ، شمیم آرا ار ظریف دیگر اہم فنکارتھے۔ ہدایتکار انور کمال پاشا کی یہ تاریخی فلم اپنے سدابہار گیتوں کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہے۔

اس طرح سیدامتیازعلی تاج نے اپنی زندگی ہی میں اپنی ذہنی اختراع کو آدھ درجن فلموں کی صورت میں دیکھا تھا جو ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ 1970ء میں کسی نامعلوم قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔

فضل حسین ، ٹیلر ماسٹر سے گلوکار تک

گلوکار فضل حسین ، سریلی آواز کے مالک تھے اور شوقیہ گاتے تھے۔ بنیادی طور پر لاہور میں کپڑوں پر کشیدہ کاری کا کام کیا کرتے تھے۔ ماسٹرعنایت حسین نے اتفاقاً سن لیا اور انھیں فلمی گلوکار بنا دیا تھا۔

دستیاب معلومات کے مطابق ساٹھ کے قریب فلموں میں اسی سے زائد گیت گائے تھے۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں علی بخش ظہور اور عنایت حسین بھٹی کے بعد گائیکی کا تیسرا بڑا نام تھے لیکن ان تینوں کو سلیم رضا اور منیر حسین کی آمد سے بڑا نقصان پہنچا تھا۔ رہی سہی کسر احمدرشدی اور مسعودرانا کی آمد نے پوری کردی۔ اس دور میں فضل حسین گاہے بگاہے ریڈیو اور ٹی وی پر گاتے تھے۔ طویل عرصہ تک گمنامی میں گزارنے کے بعد 1992ء میں انتقال ہوا تھا۔

فضل حسین اور مسعودرانا کا ساتھ

فضل حسین کا مسعودرانا کے ساتھ پہلا گیت فلم سیاں (1970) میں ایک مزاحیہ گیت تھا "میں نئیں تینوں ویاہ سکدا۔۔" ہدایتکار ایم نسیم کی فلم دو باغی (1970) میں شاید آخری بار مسعودرانا کے ساتھ یہ رزمیہ گیت گایا تھا "ہم ہیں سپاہی ، فتح کے راہی ، ہم سے جو ٹکرائے گا ، مٹ جائے گا۔۔" تنویر نقوی کا لکھا ہوا یہ مجاہدانہ گیت کمال اور لہری پر فلمایا گیا تھا۔

موسیقار منظور اشرف

فلم دو باغی (1970) کے موسیقار کے طور پر منظوراشرف کانام ملتا ہے۔ میں ہمیشہ یہ سمجھتا رہا کہ یہ جوڑی نامور موسیقار ایم اشرف اور موسیقار منظور کی تھی جن کے کریڈٹ پر فلم سویرا (1959) کا یہ مشہورزمانہ گیت تھا "تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔"

اس خیال کی ایک بڑی معقول وجہ تھی۔ موسیقار 'منظور' کے نام پر صرف تین فلموں کا ذکر ملتا ہے جن میں سے دو فلمیں دل میں تو (1958) اور سویرا (1959) کے بعد زندگی کے میلے (1972) تھی۔ ایک فلم تقدیر کہاں لے آئی (1976) بھی تھی جس کے موسیقار کا نام 'ماسٹرمنظورحسین' تھا۔ گویا ساٹھ کی پوری دھائی میں اکیلے 'منظور' نام کے کسی موسیقار نے فلموں کی موسیقی نہیں دی تھی اور اس دور میں صرف موسیقار منظوراشرف کا نام ہی ملتا ہے۔

حال ہی میں ایم اشرف کا ایک طویل انٹرویو سماعت سے گزرا جس میں انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے پارٹنر منظور ، ان کے ایک دوست اور موسیقار اخترحسین کی ٹیم کے ایک سازندے تھے۔ ان کا فلم سویرا (1959) فیم موسیقار منظور سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

دوسرا انکشاف یہ تھا کہ ان کی منظور کے ساتھ کل 26 مشترکہ فلمیں تھیں اور آخری فلم ناخدا (1968) تھی۔ علیحدگی کے بعد منظور نے منظوراشرف کے نام سے کام جاری رکھا اور چند فلموں میں موسیقی دی تھی۔ شباب کیرانوی کے مشورہ سے ایم اشرف نام رکھا گیا اور آزادانہ طور پر پہلی فلم سنگدل (1968) تھی۔

فلم دو باغی (1970) ، 'صدائے کشمیر' کے نام سے بن رہی تھی اوریقیناً 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد بننا شروع ہوئی ہوگی لیکن بڑی دیر سے 1970ء میں جا کر ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے موسیقار کے طور پر بھی منظوراشرف کا نام ملتا ہے جو بلا شبہ ایم اشرف ہی ہیں۔ اس دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ فلم کے ٹائٹل پر معاون موسیقار کے طور نذیرعلی کانام درج تھا جو ہمیشہ اس جوڑی کے ساتھ رہے اور وہ ، صرف ایم اشرف کو ہی اپنا استاد سمجھتے تھے۔

ایم اشرف سے علیحدگی کے بعد 'منظور' نے 'منظوراشرف' کے نام سے کن کن فلموں کی موسیقی دی تھی ، یہ کنفرم نہیں ہے البتہ فلم ناخدا (1968) کے بعد ریلیز ہونے والی چھ مزید فلمیں جن کے کریڈٹ پر منظوراشرف لکھا ہوا تھا ، وہ ہیں ، شاہی محل (1968) ، لچھی (1969) ، بے قصور ، انجان ، دو باغی (1970) اور قاسو (1972)۔

مسعودرانا اور فضل حسین کے 2 فلمی گیت

1 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت
1

میں نئیں اینوں ویاہ سکدا..

فلم ... سیاں ... پنجابی ... (1970) ... گلوکار: فضل حسین ، مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: ؟ ... اداکار: علی اعجاز ، چن چن،؟
2

ہم ہیں سپاہی ، فتح کے راہی ، ہم سے جو ٹکرائے گا..

فلم ... دو باغی ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ، فضل حسین ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: کمال ، لہری

مسعودرانا اور فضل حسین کے 1 اردو گیت

1

ہم ہیں سپاہی ، فتح کے راہی ، ہم سے جو ٹکرائے گا ...

(فلم ... دو باغی ... 1970)

مسعودرانا اور فضل حسین کے 1 پنجابی گیت

1

میں نئیں اینوں ویاہ سکدا ...

(فلم ... سیاں ... 1970)

Masood Rana & Fazal Hussain: Latest Online film

Masood Rana & Fazal Hussain: Film posters
BharjaiDoliSoukanLut Da MaalMera VeerSayyan2 Baghi
Masood Rana & Fazal Hussain:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Fazal Hussain:

Total 8 joint films

(1 Urdu, 7 Punjabi, 0 Pashto, 0 Sindhi films)

1.1964: Bharjai
(Punjabi)
2.1965: Doli
(Punjabi)
3.1965: Soukan
(Punjabi)
4.1967: Lut Da Maal
(Punjabi)
5.1967: Mera Veer
(Punjabi)
6.1968: Dil Darya
(Punjabi)
7.1970: Sayyan
(Punjabi)
8.1970: 2 Baghi
(Urdu)


Masood Rana & Fazal Hussain: 2 songs

(1 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Sayyan
from Friday, 14 August 1970
Singer(s): Fazal Hussain, Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: Waris Ludhyanvi, Actor(s): Ali Ejaz, ChunChun, Munawar Zarif
2.
Urdu film
2 Baghi
from Friday, 25 September 1970
Singer(s): Masood Rana, Fazal Hussain, Music: Manzoor Ashraf, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Kemal, Lehri


Ek Roz
Ek Roz
(1947)
Chaudhry
Chaudhry
(1941)
Pagli
Pagli
(1943)



پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔


237 فنکاروں پر معلوماتی مضامین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.