Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


روزینہ

اداکارہ روزینہ ایک پرکشش اور مشہور معاون اداکارہ تھی۔۔!

فلم ہمیں بھی جینے دو (1963) میں پہلی بار ایک معاون اداکارہ کے طور سامنے آنے والی روزینہ کو اپنا آپ منوانے کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی۔ گو وہ اپنی تیسری فلم عشق حبیب (1965) میں فرسٹ ہیروئن تھی لیکن اس مذہبی نوعیت کی قابل تعریف فلم کی کہانی طلعت صدیقی اور ابراہیم نفیس کے گرد گھومتی تھی جو کامیاب تو رہی مگر روزینہ کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکی۔

روزینہ ، ایک معاون اداکارہ

اسی سال کراچی کی فلم چوری چھپے (1965) میں بھی روزینہ ، سیٹھی نامی گمنام ہیرو کے ساتھ فرسٹ پیئر میں تھی لیکن یہ فلم ناکام رہی تھی۔

روزینہ کو پاکستان کی پہلی اردو پلاٹینم جوبلی فلم ارمان (1966) میں مزاحیہ اداکار نرالا کے مقابل کاسٹ کیا گیا تھا۔ اس مشہورزمانہ نغماتی اور رومانٹک فلم میں زیبا ، وحیدمراد اور ترنم مرکزی کردار تھے۔

اسی سال کی فلم جوش (1966) میں روزینہ کی جوڑی پہلی بار وحیدمراد کے ساتھ بنی تھی جو اس فلم میں سیکنڈ ہیرو تھے۔ ان دونوں پر احمدرشدی اور ناہیدنیازی کا یہ دلکش گیت فلمایا گیا تھا

  • رات چلی ہے جھوم کے ، آبھی جا۔۔

روزینہ اور مسعودرانا کا ساتھ

ایک درجن سے زائد فلموں میں معاون اداکارہ اور ایک ناکام فرسٹ ہیروئن کے کردار کرنے کے بعد روزینہ کی سیکنڈ ہیروئن کے طور پر پہلی بڑی فلم سنگدل (1968) تھی۔ یہ سپرہٹ گولڈن جوبلی فلم ندیم کی مغربی پاکستان میں بننے والی پہلی فلم تھی جس کی ہیروئن دیبا تھی۔

اس نغمہ بار فلم میں روزینہ پر جو اکلوتا گیت فلمایا گیا تھا وہ ندیم کے ساتھ ایک دوگانا تھا جس میں وہ ، مسعودرانا کی آواز میں ، روزینہ کو سرسنگیت کے گر سکھا رہے ہوتے ہیں اور سیکھنے والی ساتھی آواز مالا کی ہوتی ہے۔ ایم اشرف کے اس گیت کے بول تھے

  • بادشاہ عشق ہیں ہم اور حسن کے سائل ہیں ہم۔۔

اسی سال کی فلم سمندر (1968) میں موسیقار دیبو نے آئرن پروین اور نذیربیگم سے ایک گیت گوایا تھا "ہمارے دلوں کی انوکھی خوشی کو نظر نہ لگے۔۔" یہ گیت روزینہ کے ساتھ ایک راحیلہ نامی اداکارہ پر فلمایا گیا تھا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ روزینہ کی بہن تھی۔

اسی سال کی ایک ناکام فلم منزل دور نہیں (1968) میں بھی روزینہ تھی۔ اس فلم کی خاص بات صرف یہ تھی کہ اس میں چائلڈسٹار کے طور پر پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے کام کیا تھا۔

روزینہ کی کامیابیوں کا دور

فلم سنگدل (1968) کی کامیابی کے بعد روزینہ کے لیے فلموں کے دروازے کھل گئے تھے اور 1969ء میں وہ پہلی بار دس فلموں میں نظر آئی۔ ان میں سے تین فلموں میں وہ فرسٹ ہیروئن تھی۔

اس سال کی سب سے یادگار فلم سزا (1969) تھی جس میں روزینہ کو انتہائی دلکش فلمایا گیا تھا۔ ہدایتکار ہمایوں مرزا کی یہ ایک کامیاب نغماتی فلم تھی جس میں جہاں مہدی حسن کا مشہور گیت

  • جب بھی چاہیں اک نئی ، صورت بنا لیتے ہیں لوگ۔۔

تھا وہاں مالا کے گائے ہوئے تین سپرہٹ گیت بھی تھے جو روزینہ پر فلمائے گئے تھے

  • ایک البیلا سجن تو نے گرفتار کیا ، آ میری زلف کی زنجیر تجھے پیار کروں۔۔
  • تو نے بار بار بار کیا مجھے بے قرار ، جا رے سانورے پیا ، تیرا دیکھ لیا پیار۔۔
  • میرے جوڑے میں گیندے کا پھول ، میں تجھے کیسے دیکھوں۔۔

قتیل شفائی کے لکھے ہوئے ان سدا بہار گیتوں کی دھنیں ناشاد صاحب نے بنائی تھیں۔

چاند بھی سامنے آتے ہوئے شرماتا ہے

اسی سال کی فلم پیار کی جیت (1969) میں روزینہ نے عابد نامی ہیرو کے ساتھ پہلی اور آخری بار کام کیا تھا۔ یہ صاحب روزینہ کے خاوند ساؤنڈ ریکارڈسٹ رفعت قریشی کے بھائی تھے۔

عابدقریشی نے ٹی وی اور فلم کی معروف معاون اداکارہ افشاں قریشی سے شادی کی تھی اور ان کا بیٹا ٹی وی کا معروف اداکار فیصل قریشی ہے۔ روزینہ کی اپنی اکلوتی بیٹی صائمہ قریشی ہے جو ایک نامور ماڈل اور ٹی وی اداکار ہے۔

فلم پیار کی جیت (1969) میں مسعودرانا اور آئرن پروین کا گایا ہوا ایک انتہائی دلکش رومانٹک گیت تھا

  • چاند بھی سامنے آتے ہوئے شرماتا ہے۔۔

یہ گیت روزینہ اور عابد پر یعنی دیور بھابھی پر فلمایا گیا تھا۔ یہ فلم ناکام رہی تھی۔

الف سے اپنا ، بے سے بہتر ، پے سے پاکستان

اسی سال کی ایک اور ناکام فلم السلام علیکم (1969) میں روزینہ فلم کے ہدایتکار اور ہیرو فیروز کے ساتھ ہیروئن تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں مسرورزیدی کا لکھا ہوا ، موسیقار نذرصابر کا کمپوز کیا ہوا اور احمدرشدی کا گایا ہوا بچوں کا ایک مشہور گیت ریڈیو پر اکثر سنا کرتے تھے

  • الف سے اپنا ، ب سے بہتر ، پ سے پاکستان ، لکھ لو پڑھ لو بچو ، تم بن جاؤ گے انسان۔۔

پاکستان کی پہلی خاتون موسیقار

1969ء کی دیگر ساتوں فلموں میں روزینہ ، سیکنڈ ہیروئن کے طور نظر آئی۔ ان میں سب سے یادگار فلم بہاریں پھر بھی آئیں گی (1969) تھی۔

اپنے وقت کی بہت بڑی گلوکارہ مالا کی بطور فلمساز یہ اکلوتی ریلیز شدہ فلم تھی۔ اس فلم میں اس نے پہلی بار اپنی بہن شمیم نازلی کو موسیقار کے طور متعارف کرایا تھا جو پاکستان کی پہلی خاتون موسیقار ثابت ہوئی تھی۔ شمیم نازلی نے مزید دو فلموں نائٹ کلب (1971) اور بن بادل برسات (1975) کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی۔

اس فلم میں گلوکار احمدرشدی نے ایک شوخ گیت گایا تھا "جینا ہے پیارے تو پیار کیجئے۔۔" یہ گیت انھی پر فلمایا گیا تھا۔ اس فلم کا سب سے مقبول گیت مالا کا گایا ہوا تھا

  • پیار کے نغمے کس نے چھیڑے میں تو کھو گئی۔۔

یہ گیت روزینہ پر فلمایا گیا تھا۔

اس فلم کا پبلسٹی بورڈ پوسٹر سمیت آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے جو راوی روڈ لاہور کے ایک کھمبے سے لٹکا ہوا تھا۔ اس وقت میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا اور اردو میں جو لکھا نظر آتا تھا ، وہ پڑھنا مجھ پر لازم ہوتا تھا۔

روزینہ کے عروج کا دور

1970ء کا سال روزینہ کے انتہائی عروج کا سال تھا جب اس کی ایک کیلنڈر ائیر میں پہلی بار 13 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں لیکن بدقسمتی سے کوئی ایک بھی فلم کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھی۔ ان میں سے بطور فرسٹ ہیروئن چھ فلمیں تھیں۔

اس سال کی سب سے اہم فلم سوغات (1970) تھی جس میں روزینہ کی جوڑی ندیم کے ساتھ تھی جن پر مسعودرانا کا یہ خوبصورت گیت فلمایا گیا تھا

  • ہوچکا ہونا تھا جو ، اب دل کو کیا سمجھائیں ہم۔۔

فلم مجرم کون (1970) میں پہلی اور آخری بار ٹی وی کے معروف اینکر اور دانشور ضیاء محی الدین کو کسی فلم میں دیکھا گیا تھا۔ وہ ہیرو تھے اور روزینہ ان کی ہیروئن تھی۔ ان دونوں پر مالا اور احمدرشدی کا یہ شوخ گیت فلمایا گیا تھا

  • ہوگئی رے مجھے کیوں غلط فہمی۔۔

فلم لوان یورپ (1970) میں روزینہ کی جوڑی کمال کے ساتھ تھی اور ان پر مالا اور مسعودرانا کا ایک انتہائی دلکش گیت

  • شبنمی فضائیں ہیں ، نیلمی نظارے ہیں ، بے خودی کے یہ لمحے ، زندگی سے پیارے ہیں۔۔

اٹلی کے تاریخی شہر وینس کی نہروں میں کشتی رانی کرتے ہوئے فلمایا گیا ایک خوابناک ماحول تھا جو فلم بینوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔

فلم چاند سورج (1970) میں گو اداکارہ شبانہ بھی تھی جو روزینہ کے مقابلے میں زیادہ کامیاب ادکارہ بن چکی تھی لیکن وحیدمراد کی وجہ سے روزینہ ، فرسٹ ہیروئن شمار کی گئی تھی۔

روزینہ کی پہلی پنجابی فلم

1970ء کی ایک خاص بات یہ تھی کہ روزینہ کو بھی دیبا کی طرح پہلی بار کسی پنجابی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر مکمل پابندی کے بعد سے پنجابی فلموں کی پروڈکشن میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

ہیروز کی کمی نہ تھی ، اکمل کی بے وقت موت کے باوجود سدھیر ، حبیب اور اعجاز کے علاوہ یوسف خان ، اقبال حسن اور بھٹی برادران کو بھی بھرپور مواقع مل رہے تھے لیکن ساٹھ کی عشرہ کی سب سے مقبول پنجابی فلمی ہیروئن نیلو کے شادی کے بعد فلمی دنیا کو خیرآباد کہہ دینے اور لیلیٰ اور شیریں کی عدم موجودگی میں پنجابی فلموں کا سارا بوجھ نغمہ اور فردوس کے کاندھوں پر ہوتا تھا۔ رانی کے علاوہ سلونی ، حسنہ ، ناہید اور عالیہ کو بھی بھرپور مواقع دیے جارہے تھے۔

ایسے میں فلمساز ریاض احمدراجو نے اپنی پنجابی فلم پردیسی (1970) میں روزینہ کو اعجاز کے مقابل ہیروئن کاسٹ کیا تھا۔ روزینہ کی مادری زبان اردو تھی لیکن اس نے پنجابی زبان میں خاصی مہارت حاصل کر لی تھی۔

میں نے اک آشیاں بنایا تھا

1971ء میں روزینہ کی صرف 5 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان میں سے واحد فلم رم جھم (1971) تھی جس میں روزینہ ، سیکنڈ ہیروئن کے طور پر نظر آئی۔ اس پر فلمایا ہوا ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ سپرہٹ گیت

  • میں نے اک آشیاں بنایا تھا۔۔

فلم کا حاصل تھا۔

ریاض شاہد کی سپین میں مسلمانوں کے زوال پر مبنی فلم غرناطہ (1971) کی ہیروئن بھی روزینہ ہی تھی جس پر میڈم کا ایک اور سپرہٹ گیت فلمایا گیا تھا

  • کس نام سے پکاروں ، کیا نام ہے تمہارا۔۔

وحیدمراد کے ساتھ روزینہ کی ناکام فلم خاموش نگاہیں (1971) میں احمدرشدی اور مالا کا یہ شوخ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا

  • لاکھوں حسین ہیں مجھے تم کیوں پسند ہو۔۔

اس فلم میں منورظریف پر فلمایا ہوا احمدرشدی کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا

  • الف سے اچھی ، گاف سے گڑیا ، جیم سے جاپانی ، لوٹ لیا ہے تو نے ایک مسافر پاکستانی۔۔

فلم جلتے سورج کے نیچے (1971) میں روزینہ کی جوڑی ندیم کے ساتھ تھی جن کا اس فلم میں ٹرپل رول تھا۔

وارث (1971) ، اس سال کی واحد پنجابی فلم تھی جس میں روزینہ کے ہیرو اعجاز تھے۔

روزینہ کی سب سے بڑی فلم بشیرا (1972)

1972ء میں روزینہ کی دس فلمیں منظرعام پر آئیں اور کتنی عجیب بات تھی کہ ان میں صرف دو اردو فلمیں تھیں جبکہ باقی سبھی پنجابی فلمیں تھیں۔

اس سال روزینہ کی بطور فرسٹ ہیروئن سب سے بڑی فلم بشیرا (1972) ریلیز ہوئی تھی ، حبیب روایتی ہیرو تھے۔ یہ فلم سلطان راہی کی وجہ سے جانی جاتی ہے لیکن حقیقت میں یہ فلم ایک ماسٹرپیس تھی۔ روزینہ کا تکیہ کلام 'میں ٹوٹے کر دیاں گی' اور عالیہ کے ساتھ زنانہ دنگل فلم بینوں کو کبھی نہیں بھول سکا۔

کمال احمد کی موسیقی میں روزینہ پر فلمائے ہوئے میڈم نورجہاں کے سبھی گیت بڑے مقبول ہوئے تھے

  • پہلے اکھ لڑدی ، فیر دل ملدے ، فیر ہوندے قول قرار ، لوکی کہندے ہوگیا ، پیار پیار۔۔
  • اوئے جی کردا اے میرا اج بھنگڑے پاواں۔۔
  • میں دیس پنجاب دی ہیر اڑیئے۔۔
  • کیسری دوپٹہ ، کل کڑتی شنیل دی۔۔
  • بنو رانی بڑی دلگیر وے ، کندھا ڈولی نوں دے جاویں ویر وے۔۔

روزینہ کی ایک اور نغماتی پنجابی فلم

اسی سال کی ایک اور پنجابی فلم ٹھاہ (1972) بھی ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی جس میں روزینہ کے ہیرو سدھیر اور شاہد تھے۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا یہ گیت تو ایک ضرب المثل بن گیا تھا کہ

  • تیرے ملنے نوں آئی کنی چاہ کر کے ، آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے۔۔

روزینہ پر فلمائے ہوئے میڈم کے دیگر گیت بھی بڑے مقبول ہوئے تھے جن میں

  • اساں کی کی بھیس وٹائے ، یار تیرے ملنے نوں۔۔
  • تک سجناں ، ڈورا میری اکھ دا۔۔

بھی شامل ہیں۔ اس فلم میں معروف غزل گلوکار غلام علی کا یہ پنجابی گیت

  • پہلی واری اج انہاں اکھیاں نے تکیا۔۔

شاہد پر فلمایا گیا تھا جو روزینہ ہی کے لیے گاتے ہیں۔

اس سال کی ایک یادگار فلم جاپانی گڈی (1972) بھی تھی جو اصل میں پچھلے سال کی فلم خاموش نگاہیں (1971) سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی۔ اس میں ٹائٹل رول روزینہ نے کیا تھا لیکن فرسٹ ہیروئن فردوس تھی۔ منورظریف نے ڈبل رول کیا تھا اور ان پر احمدرشدی کے دو شوخ گیت فلمائے گئے تھے جن میں

  • نئیں ریساں پاکستان دیاں ، اے گوریاں گوریاں کڑیاں کہن جاپان دیاں۔۔
  • او میم بلیے ، آجا پاکستان ٹر چلئے۔۔

1972ء کی دونوں اردو فلموں میں سے فلم آؤ پیار کریں (1972) میں روزینہ ایک بار پھر دیبا کے مقابل سائیڈ ہیروئن تھی جبکہ فلم دولت اور دنیا (1972) میں وحیدمراد کے مقابل فرسٹ ہیروئن تھی۔ ان دونوں پر فلمایا ہوا میڈم نورجہاں اور مہدی حسن کا یہ دوگانا بڑا پسند کیا گیا تھا

  • میری وفا کا تقاضا ہے مجھ سے پیار کرو۔۔

1973ء میں ایکبار پھر روزینہ کی فلموں کی تعداد دس تھی جن میں سے چار اردو اور چھ پنجابی فلمیں تھیں۔

اردو فلموں میں سادھو اور شیطان (1973) واحد فلم تھی جس میں روزینہ فرسٹ ہیروئن تھی ، ہیرو سلطان راہی تھے جن کی بطور ہیرو یہ پہلی اردو فلم تھی۔ پنجابی فلموں میں

مینوں دھرتی کلی کرا دے میں نچاں ساری رات

فلم غیرت دا نشان (1973) میں روزینہ کی جوڑی یوسف خان کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں روزینہ پر حمیرا نامی گلوکارہ کا یہ مشہور زمانہ گیت فلمایا گیا تھا

  • مینوں دھرتی کلی کرادے میں نچاں ساری رات۔۔

بتایا جاتا ہے کہ گلوکارہ حمیرا ، معروف ٹی وی اداکار عابدعلی کی بیوی تھی۔

فلم خون دا بدلہ خون (1973) میں روزینہ کے لیے یوسف خان ، مسعودرانا کا یہ شوخ گیت گاتے ہیں

  • اک سرخ مہتابی کڑی ، مینوں ویخ کے پچھے مڑی ، ہائے ، میں لٹیا گیا جے۔۔

1974ء میں روزینہ کی صرف پانچ فلمیں منظرعام پر آئیں اور کوئی بھی فلم کامیابی حاصل نہ کر سکی تھی۔

احمدرشدی کے ایک فلم میں چھ گیت

اردو فلم اللہ میری توبہ (1974) میں روزینہ کی جوڑی شاہد کے ساتھ تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی احمدرشدی نے اس فلم میں چھ گیت گائے تھے جو ان کے فلمی کیرئر کا شاید واحد موقع تھا۔

وحیدمراد کے ساتھ فلم اسے دیکھا اسے چاہا (1974) بھی ایک ناکام فلم تھی۔ پنجابی فلموں میں صرف فلم بڈھا شیر (1974) ہی کسی حد تک قابل ذکر فلم تھی جس میں میڈم نورجہاں کا ایک اور سپرہٹ گیت

  • پنجابن ٹھیٹھ ماہیا ، مہینہ جیٹھ ماہیا ، پانی آگیا پلاں دے ہیٹھ ماہیا۔۔

بھی روزینہ پر فلمایا گیا تھا۔ پنجابی فلموں کے عظیم مصنف حزیں قادری کی بطور ہدایتکار یہ اکلوتی فلم تھی جس کا ٹائٹل رول ساون نے کیا تھا اور روزینہ کی جوڑی کیفی کے ساتھ تھی۔

روزینہ کا فلمی کیرئر

اس کے بعد اگلی دو درجن فلموں میں روزینہ کی کوئی قابل ذکر فلم نہیں ملتی۔ وہ زیادہ تر ثانوی اور غیر اہم کرداروں میں نظر آئی۔ آخری فلم مشرق و مغرب (1985) تھی۔ دو فلمیں ریلیز نہ ہو سکی تھیں۔ کل 90 فلموں میں سے 59 اردو اور 31 پنجابی فلمیں تھیں۔ آدھی سے بھی کم فلموں میں فرسٹ ہیروئن تھی۔

روزینہ نے سب سے زیادہ وحیدمراد کے ساتھ 14 اور دیبا کے سات 13 فلموں میں کام کیا تھا۔

روزینہ کی پیدائش 1948ء میں کراچی میں ایک کرسچن گھرانے میں آئی وی سینتھیا کے نام سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ روزینہ کو لپٹن چائے کے ایک ریڈیو اور ٹی وی کمرشل سے بھی بڑی شہرت ملی تھی۔

مسعودرانا اور روزینہ کے 3 فلمی گیت

(3 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت )
1

بادشاہ عشق ہیں ہم اور حسن کے سائل ہیں ہم..

فلم ... سنگدل ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ندیم ، روزینہ
2

چاند بھی سامنے آتے ہوئے شرماتا ہے..

فلم ... پیار کی جیت ... اردو ... (1969) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: دیبو ... شاعر: واجد چغتائی ... اداکار: عابد ، روزینہ
3

شبنمی فضائیں ہیں ، نیلمی نظارے ہیں ، بے خودی کے یہ لمحے ، زندگی سے پیارے ہیں..

فلم ... لو ان یورپ ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: روزینہ ، کمال

مسعودرانا اور روزینہ کے 3 اردو گیت

1

بادشاہ عشق ہیں ہم اور حسن کے سائل ہیں ہم ...

(فلم ... سنگدل ... 1968)
2

چاند بھی سامنے آتے ہوئے شرماتا ہے ...

(فلم ... پیار کی جیت ... 1969)
3

شبنمی فضائیں ہیں ، نیلمی نظارے ہیں ، بے خودی کے یہ لمحے ، زندگی سے پیارے ہیں ...

(فلم ... لو ان یورپ ... 1970)

مسعودرانا اور روزینہ کے 0 پنجابی گیت


مسعودرانا اور روزینہ کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور روزینہ کے 3دوگانے

1

بادشاہ عشق ہیں ہم اور حسن کے سائل ہیں ہم ...

(فلم ... سنگدل ... 1968)
2

چاند بھی سامنے آتے ہوئے شرماتا ہے ...

(فلم ... پیار کی جیت ... 1969)
3

شبنمی فضائیں ہیں ، نیلمی نظارے ہیں ، بے خودی کے یہ لمحے ، زندگی سے پیارے ہیں ...

(فلم ... لو ان یورپ ... 1970)

مسعودرانا اور روزینہ کے 0کورس گیت



Masood Rana & Rozina: Latest Online film

Love in Europe

(Urdu - Color - Friday, 26 June 1970)


Masood Rana & Rozina: Film posters
Chhoti BehanMeray Bachay Meri AnkhenSangdilAlif LailaSamundarTumhi Ho Mehboob MerayHoneymoonLove in EuropePardesiSoughatChand SurajBasheeraSir Dhar Di BaziZarq KhanKhoon Da Badla KhoonBudha SherHakuSohni MehinwalDharti Lahu MangdiMashriq Maghrib
Masood Rana & Rozina:

5 joint Online films

(3 Urdu and 2 Punjabi films)

1.1968: Sangdil
(Urdu)
2.1970: Love in Europe
(Urdu)
3.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
4.1978: Jashan
(Punjabi)
5.1985: Mashriq Maghrib
(Urdu)
Masood Rana & Rozina:

Total 29 joint films

(18 Urdu and 11 Punjabi films)

1.1963: Hamen Bhi Jeenay Do
(Urdu)
2.1964: Chhoti Behan
(Urdu)
3.1967: Meray Bachay Meri Ankhen
(Urdu)
4.1968: Doosri Maa
(Urdu)
5.1968: NaKhuda
(Urdu)
6.1968: Sangdil
(Urdu)
7.1968: Alif Laila
(Urdu)
8.1968: Samundar
(Urdu)
9.1969: Tumhi Ho Mehboob Meray
(Urdu)
10.1969: Pyar Ki Jeet
(Urdu)
11.1970: Honeymoon
(Urdu)
12.1970: BeQasoor
(Urdu)
13.1970: Love in Europe
(Urdu)
14.1970: Pardesi
(Punjabi)
15.1970: Phir Chand Niklay Ga
(Urdu)
16.1970: Soughat
(Urdu)
17.1970: Chand Suraj
(Urdu)
18.1972: Basheera
(Punjabi)
19.1972: Sir Dhar Di Bazi
(Punjabi)
20.1973: Zarq Khan
(Urdu)
21.1973: Khoon Da Badla Khoon
(Punjabi)
22.1973: Sohna Babul
(Punjabi)
23.1974: Budha Sher
(Punjabi)
24.1974: Sikandra
(Punjabi)
25.1975: Haku
(Punjabi)
26.1976: Sohni Mehinwal
(Punjabi)
27.1977: Dharti Lahu Mangdi
(Punjabi)
28.1978: Jashan
(Punjabi)
29.1985: Mashriq Maghrib
(Urdu)


Masood Rana & Rozina: 3 songs

(3 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Sangdil
from Tuesday, 2 January 1968
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: M. Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Nadeem, Rozina
2.
Urdu film
Pyar Ki Jeet
from Friday, 19 September 1969
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: Deebo, Poet: Wajid Chughtai, Actor(s): Abid, Rozina
3.
Urdu film
Love in Europe
from Friday, 26 June 1970
Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Rozina, Kemal

Ruby
Ruby
(1986)
Sharabi
Sharabi
(2013)
Aas
Aas
(1973)

Inqilab
Inqilab
(1962)
Badla
Badla
(1987)
Noori
Noori
(1988)

Dost
Dost
(1944)
Pukar
Pukar
(1939)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
سلیم رضا
سلیم رضا
شبنم
شبنم
رانی
رانی
شوکت علی
شوکت علی
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
احمد رشدی
احمد رشدی
اے شاہ
اے شاہ
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
آئرن پروین
آئرن پروین
ساقی
ساقی
ایم اکرم
ایم اکرم
ایم جے رانا
ایم جے رانا
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
رضا میر
رضا میر
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
حسنہ
حسنہ
سہیل رعنا
سہیل رعنا
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
اسلم ڈار
اسلم ڈار
ظہورناظم
ظہورناظم
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
کمال احمد
کمال احمد
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
افتخارخان
افتخارخان
مسرت نذیر
مسرت نذیر
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
لقمان
لقمان
زینت
زینت
آسیہ
آسیہ
قوی
قوی
آصف جاہ
آصف جاہ
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
حبیب
حبیب
زلفی
زلفی
جمیل اختر
جمیل اختر
زیبا
زیبا
صفدرحسین
صفدرحسین
نرالا
نرالا
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
حسن لطیف
حسن لطیف
لیلیٰ
لیلیٰ
شاہد
شاہد
بخشی وزیر
بخشی وزیر
دیبا
دیبا
کمار
کمار
وزیر افضل
وزیر افضل
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
مظفروارثی
مظفروارثی
نذرالاسلام
نذرالاسلام
افضل خان
افضل خان
ناصرہ
ناصرہ
طافو
طافو
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
امین ملک
امین ملک
اقبال حسن
اقبال حسن
آصف جاوید
آصف جاوید
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
سنتوش کمار
سنتوش کمار
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
محمد علی
محمد علی
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
منوررشید
منوررشید
قتیل شفائی
قتیل شفائی
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
عالیہ
عالیہ
علی اعجاز
علی اعجاز
یوسف خان
یوسف خان
نذیر
نذیر
نبیلہ
نبیلہ
وحیدمراد
وحیدمراد
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
سیما
سیما
صہبااختر
صہبااختر
ظہیرریحان
ظہیرریحان
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
علی حسین
علی حسین
شریف نیر
شریف نیر
رفیق رضوی
رفیق رضوی
کیفی
کیفی
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
رضیہ
رضیہ
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
البیلا
البیلا
سید کمال
سید کمال
فیروز نظامی
فیروز نظامی
سلیم کاشر
سلیم کاشر
ایم سلیم
ایم سلیم
مظہر شاہ
مظہر شاہ
حسن طارق
حسن طارق
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
نیلو
نیلو
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
رخسانہ
رخسانہ
ایم صادق
ایم صادق
سنگیتا
سنگیتا
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
تصورخانم
تصورخانم
کے خورشید
کے خورشید
نذیر بیگم
نذیر بیگم
خلیل احمد
خلیل احمد
شمیم آرا
شمیم آرا
احمد راہی
احمد راہی
حیدر
حیدر
ناہید
ناہید
نغمہ
نغمہ
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
نذیرعلی
نذیرعلی
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
ساحل فارانی
ساحل فارانی
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
روبن گھوش
روبن گھوش
منظورجھلا
منظورجھلا
تنویر نقوی
تنویر نقوی
سلطان راہی
سلطان راہی
ریاض شاہد
ریاض شاہد
شیریں
شیریں
سائیں اختر
سائیں اختر
مسعود رانا
مسعود رانا
ریاض احمد
ریاض احمد
نگہت سیما
نگہت سیما
نسیم بیگم
نسیم بیگم
فضل حسین
فضل حسین
عمرشریف
عمرشریف
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
جی اے چشتی
جی اے چشتی
حبیب جالب
حبیب جالب
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
تانی
تانی
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
سلیم اقبال
سلیم اقبال
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
یاسمین
یاسمین
روزینہ
روزینہ
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
مسعودپرویز
مسعودپرویز
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
ایم اے رشید
ایم اے رشید
اعجاز
اعجاز
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
مسرور انور
مسرور انور
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
امداد حسین
امداد حسین
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
اعظم چشتی
اعظم چشتی
منورظریف
منورظریف
مہدی حسن
مہدی حسن
مصلح الدین
مصلح الدین
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
درپن
درپن
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
ساون
ساون
امجدبوبی
امجدبوبی
علاؤالدین
علاؤالدین
رنگیلا
رنگیلا
ننھا
ننھا
شبانہ
شبانہ
ندیم
ندیم
خلیل قیصر
خلیل قیصر
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
رشید عطرے
رشید عطرے
وحیدڈار
وحیدڈار
اختریوسف
اختریوسف
نذیرجعفری
نذیرجعفری
جعفر بخاری
جعفر بخاری
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
پرویز ملک
پرویز ملک
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
اے حمید
اے حمید
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
سیف چغتائی
سیف چغتائی
قدیرغوری
قدیرغوری
شیون رضوی
شیون رضوی
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
نذر
نذر
فردوس
فردوس
طالش
طالش
رحمان ورما
رحمان ورما
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
لہری
لہری
ایم اشرف
ایم اشرف
غزالہ
غزالہ
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
سلونی
سلونی
نثار بزمی
نثار بزمی
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
اکمل
اکمل
ایس سلیمان
ایس سلیمان
الحامد
الحامد
منیر حسین
منیر حسین
محمد رفیع
محمد رفیع
مالا
مالا
حزیں قادری
حزیں قادری
اسد بخاری
اسد بخاری
ناشاد
ناشاد
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
رشیداختر
رشیداختر
روبینہ بدر
روبینہ بدر
منیر نیازی
منیر نیازی
مشتاق علی
مشتاق علی
اعظم بیگ
اعظم بیگ
آغا حسینی
آغا حسینی
حنیف
حنیف
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
سدھیر
سدھیر
حسن عسکری
حسن عسکری
الطاف حسین
الطاف حسین
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
موج لکھنوی
موج لکھنوی
طارق عزیز
طارق عزیز
نسیمہ خان
نسیمہ خان
ابو شاہ
ابو شاہ
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.