Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


علی حسین

موسیقار علی حسین نے
مہدی حسن سے ان کا
ڈھاکہ کی فلم کا اکلوتا گیت گوایا تھا
مہدی حسن کے ساتھ موسیقار علی حسین
مہدی حسن کے ساتھ موسیقار علی حسین
    تم ضد تو کر رہے ہو ، ہم کیا تمہیں بتائیں۔۔
    نغمے جو کھو گئے ہیں ، ان کو کہاں سے لائیں۔۔؟

ہدایتکار احتشام کی نغماتی فلم داغ (1969) میں نغمہ نگار اختریوسف کے لکھے ہوئے یہ خوبصورت بول شہنشاہ غزل خانصاحب مہدی حسن کی مدھر آواز میں تھے۔ اس شاہکار گیت کی دھن بنانے والے موسیقار کا نام ، علی حسین کا تھا۔

مہدی حسن کا اکلوتا گیت

دلچسپ بات یہ ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں بنائی جانے والی پانچ درجن کے قریب اردو فلموں میں پونے چار سو کے قریب گیت گائے گئے تھے جن میں سے ایک تہائی مردانہ گیت تھے۔ لیکن علی حسین کے سوا دیگر پندرہ موسیقاروں میں سے کسی ایک نے بھی مہدی حسن سے ڈھاکہ کی اردو فلموں کے لیے کبھی کوئی گیت نہیں گوایا تھا۔ ساٹھ کی دھائی میں ویسے بھی خانصاحب کے زیادہ فلمی گیت نہیں ہوتے تھے اور ان کے عروج کا دور ستر کی دھائی میں تھا۔

ڈھاکہ کی اردو فلموں کے موسیقار

موسیقار علی حسین نے صرف چھ اردو فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی اور چار فلموں چھوٹے صاحب (1967) ، قلی (1968) ، داغ اور اناڑی (1969) میں متعدد گیت مقبول ہوئے تھے۔

دیگر موسیقاروں میں روبن گھوش نے ڈھاکہ کی سب سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ ان کی فلموں ، تلاش (1962) ، بھیا (1966) اور چکوری (1967) کے گیت مقبول ہوئے تھے۔

خان عطاالرحمان نے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ ان کی فلموں ملن (1964) اور بہانا (1965) کے گیتوں کو پذیرائی ملی تھی۔

گلوکار بشیراحمد ایک ہرفن مولا فنکار تھے جو گاتے بھی تھے ، دھنیں بھی بناتے تھے اور گیت بھی لکھتے تھے۔ ان کی فلم درشن (1967) ، آل راؤنڈ کارکردگی کی ایک شاندار مثال تھی۔

سبل داس کی فلم پیاسا (1969) کے چند گیت بھی مقبول ہوئے تھے اور کریم شہاب الدین نے فلم چاند اور چاندنی (1968) کی موسیقی ترتیب دے کر میلہ ہی لوٹ لیا تھا۔

موسیقار علی حسین کا فلمی کیرئر

موسیقار علی حسین کی پہلی فلم ڈاک بنگلہ (1966) تھی جو ایک گمنام فلم تھی۔ انھیں پہچان ، ہدایتکار مستفیض کی بنگالی/اردو ڈبل ورژن فلم چھوٹے صاحب (1967) سے ملی تھی جو ندیم کی ریلیز ہونے والی دوسری فلم تھی۔ پہلی فلم چکوری (1967) کے بعد یہ فلم بھی کراچی میں سپرہٹ ہوئی تھی اور گولڈن جوبلی کر گئی تھی۔ یقیناً لوکل بوائے ندیم صاحب کا جادو سر چڑھ کر بولا ہوگا۔

اس فلم کے اردو اور بنگالی ورژن نیٹ پرموجود ہیں۔ اس فلم کے اردو ورژن میں احمدرشدی اور مالا کے متعدد گیت سننے میں آتے تھے

  • ادا تیری بانکی ہے ، روپ سہانا ۔ اس پہ غضب ہے تیرا روٹھ کے جانا ، ماشاءاللہ ، کیا حسین چال ہے ، توبہ توبہ ، وہ برا حال ہے۔۔
  • آنکھوں کے گلابی ڈورے ، زلفوں کا مہکتا سایہ ، اس شوخ سے مل کر ہم نے انمول خزانہ پایا ، یارو ، ہم بھی محبت کر بیٹھے ، نشیلی نگاہوں پہ مر بیٹھے۔۔
  • میرے ہمراہی ، میرا ساتھ نبھانا۔۔

وغیرہ۔ بنگالی ورژن میں یہ گیت دوسرے گلوکاروں نے گائے تھے اور ندیم اور شبانہ پر فلمائے گئے تھے۔

مشرقی پاکستان کی ڈبل ورژن فلمیں

ڈھاکہ کی فلم کی لاہور میں ڈبنگ
ڈھاکہ کی فلم کی لاہور میں ڈبنگ

عام طور پر ڈھاکہ میں جب ایک بنگالی فلم بنتی تھی تو اس کے اردو گیت (اور شاید مکالموں کی ڈبنگ بھی) لاہور میں کی جاتی تھی۔ اس طرح مغربی پاکستان کے مصروف گلوکاروں کو ڈھاکہ جانے کی زحمت نہیں ہوتی تھی۔

ماضی کی فلمی تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کے بعد بنگالی فلمسازوں کو داد دینا پڑتی ہے کہ وہ واقعی پیشہ وارانہ سوچ کے حامل ہوتے تھے اور اپنی بنگالی فلموں کے اردو ورژن کے لیے خالص اردو زبان میں گیت لکھواتے اور گواتے تھے جن میں ادبی چاشنی بھی ہوتی تھی۔

اس کے برعکس نوے کی دھائی کے پنجابی فلمساز ، اسقدر نکمے اور ہڈحرام ہوتے تھے کہ پنجابی گیتوں کو من و عن اردو ورژن میں بھی شامل کردیتے تھے یا ان گیتوں کے بول لفظ بہ لفظ ترجمہ کر کے گواتے تھے جس سے اردو فلم بینوں کی برہمی قابل فہم ہوتی تھی۔

پنجابی اور اردو ، دو الگ الگ زبانیں ہیں اور ان کا انداز بیاں بھی مختلف ہے۔ پنجابی زبان میں جہاں سادگی ، بے ساختگی اور معصومیت ہوتی ہے وہاں اردو زبان میں ادب و آداب ، تکلفات اور تصنع کا غلبہ ہوتا ہے۔ اگر اس دور کی فلموں کے گیتوں پر توجہ دی جاتی تو یقیناً ڈبل ورژن پنجابی/اردو فلموں کا آئیڈیا ناکام نہ ہوتا۔

موسیقار علی حسین اور مسعودرانا کا ساتھ

موسیقار علی حسین کی اگلی فلم قلی (1968) بھی ایک نغماتی فلم تھی جس کے ہدایتکار مستفیض تھے۔ ندیم ، شبانہ ، عظیم اور نینا مرکزی کرداروں میں تھے۔

اس فلم میں علی حسین نے پہلی بار مسعودرانا سے گیت گوائے تھے۔ دو گیت تو روایتی تھے

  • ملے اس طرح دل کی دنیا جگا دی ، خدا کی قسم تو نے ہلچل مچا دی۔۔
  • اک نیا غم ہے ، خدا خیر کرے۔۔

لیکن فلم کا سب سے اہم گیت احمدرشدی اور مسعودرانا کا ماں جیسے مقدس رشتے کے بارے میں گایا ہوا ایک لاجواب گیت تھا

  • قدموں میں تیرے جنت میری ، تجھ سا کوئی کہاں ، اے ماں ، پیاری ماں۔۔

ندیم اور عظیم پر فلمایا ہوا یہ شاہکار گیت اداکارہ نینا کے لیے گایا جاتا ہے جو فلم بینوں پر بڑے گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔

ہمارے ہاں عام طور پر ایسے بامقصد گیتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی اور عشق و محبت جیسے بے ہودہ اور فضول قسم کے گیتوں کو عام کیا جاتا رہا ہے جن کا ہماری تہذیب و تمدن سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ مہذب اور شریف مسلم گھرانوں میں ایسے گیت سننا اور گنگنانا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔

علی حسین کی سب سے بڑی فلم داغ (1969)

علی حسین کی فلم داغ (1969) مقبول گیتوں کے لحاظ سے ان کی سب سے بہترین فلم تھی۔ اس فلم کے سب سے مقبول گیت

  • تم ضد تو کررہے ہو۔۔

کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ اس فلم میں احمدرشدی کے دو سولو گیت بھی بڑے پسند کیے گئے تھے

  • لب پر تیرا نام ، ہاتھ میں غم کا جام۔۔

کے علاوہ یہ گیت سبینہ یاسمین نے بھی گایا تھا

  • دیکھ میں کتنی آس لگائے ، آیا تیرے پاس ، آواز دے۔۔

اس فلم میں مسعودرانا کا ایک مزاحیہ گیت نوبیتا نامی گلوکارہ کے ساتھ تھا

  • ملنے کا موقع ہے ، گلے لگ جا۔۔

ایک عام سا گیت تھا لیکن یہ گیت ان گیتوں میں سے ایک ہے جو مسعودرانا کو پاکستان کی فلمی تاریخ کا منفرد گلوکار بنا دیتے ہیں

  • آجاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے ، کچھ سن لیں گے۔۔

انتہائی دھیمی سروں میں گائی ہوئی یہ ایک غزل تھی جو علی حسین کی فلم میں روبن گھوش نے ایک دوگانے کی صورت میں کمپوز کی تھی ، ساتھی گلوکارہ آئرن پروین تھی۔ ندیم اور شبانہ پر یہ سبھی گیت فلمائے گئے تھے اور ہدایتکار احتشام تھے۔

ہدایتکار مستفیض کی فلم اناڑی (1969) میں موسیقار علی حسین کا کمپوز کیا ہوا صرف ایک ہی گیت مقبول ہوا تھا

  • لکھے پڑھے ہوتے اگر تو تم کو خط لکھتے۔۔

یہ گیت ندیم اور سبینہ یاسمین نے الگ الگ گایا تھا۔ ندیم اور شبانہ ، متحدہ پاکستان کے دور میں ڈھاکہ کی کسی آخری فلم میں ایک ساتھ نظر آئے تھے۔

مسعودرانا کی مشرقی پاکستان کی آخری فلم

ہدایتکار احتشام کی ڈبل ورژن فلم پائل (1970) ، علی حسین اور مسعودرانا کی آخری فلم تھی جس میں ان کا صرف ایک ہی گیت تھا جو انھوں نے مسعودرانا اور نوبیتا سے گوایا تھا

  • ہو ، بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے۔۔

اس فلم کے کیلنڈر پر اداکارہ شبانہ کی تصویر اور پس منظر میں پہاڑی علاقہ اور جھیل کا منظر کبھی نہیں بھلا سکا۔ میرے ذہن پر بچپن ہی سے مشرقی پاکستان کا ایسا ہی ایک تصور ہوتا تھا اور ندی نالوں ، سرسبز وادیوں اور دلکش پہاڑوں کی یہ سرزمین ایک خواب ناک سا ماحول لگتی تھی۔

بدقسمتی سے غاصب اور جابر حکمرانوں نے ہوس اقتدار میں اسے جہنم بنا دیا تھا اور بدنامی کا ایک انمٹ داغ پوری قوم کے ماتھے پر لگوالیا تھا۔۔!

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد علی حسین نے ایک طویل عرصہ تک بہت سی بنگالی فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔

سال رواں کے آغاز میں علاج کی غرض سے امریکہ گئے جہاں 14 فروری 2021ء کو انھوں نے فیس بک پر اپنا آخری میسیج بھیجا جس میں یہ انکشاف کیا کہ ان کے پھیپھڑوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے جو آخری سٹیج پر ہے اور ان کے لیے دعا کی جائے۔ اپنے لیے انھوں نے خود ہی جنت کی دعا کی اور میسیج کی آخری لائن میں اس توقع کا اظہار کیا کہ ان کی دھنیں شائقین کو ایک عرصہ تک محظوظ رکھیں گی۔

صرف تین دن بعد 17 فروری 2021ء کو خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔۔!

مسعودرانا اور علی حسین کے 5 فلمی گیت

5 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1

قدموں میں تیرے جنت میری ، تجھ سا کوئی کہاں ، اے ماں ، پیاری ماں..

فلم ... قلی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم ، عظیم
2

ملے اس طرح دل کی دنیا جگا دی ، خدا کی قسم تو نے ہلچل مچا دی..

فلم ... قلی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم
3

ایک نیا غم ہے ، کوئی برہم ہے ، خدا خیر کرے..

فلم ... قلی ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ندیم مع ساتھی
4

ملنے کا موقع ہے گلے لگ جا..

فلم ... داغ ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، نبیتا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: سہیل ، کوبیتا
5

ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے ، کرے کنگن یہ سن سن ، نیا کنارے چلی جائے رے..

فلم ... پائل ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ، نبیتا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: جاوید ، شبانہ

مسعودرانا اور علی حسین کے 2سولو گیت

1

ملے اس طرح دل کی دنیا جگا دی ، خدا کی قسم تو نے ہلچل مچا دی ...

(فلم ... قلی ... 1968)
2

ایک نیا غم ہے ، کوئی برہم ہے ، خدا خیر کرے ...

(فلم ... قلی ... 1968)

مسعودرانا اور علی حسین کے 3دو گانے

1

قدموں میں تیرے جنت میری ، تجھ سا کوئی کہاں ، اے ماں ، پیاری ماں ...

(فلم ... قلی ... 1968)
2

ملنے کا موقع ہے گلے لگ جا ...

(فلم ... داغ ... 1969)
3

ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے ، کرے کنگن یہ سن سن ، نیا کنارے چلی جائے رے ...

(فلم ... پائل ... 1970)

مسعودرانا اور علی حسین کے 0کورس گیت


Masood Rana & Ali Hossain: Latest Online film

Masood Rana & Ali Hossain: Film posters
QulliDaaghPayel
Masood Rana & Ali Hossain:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Ali Hossain:

Total 3 joint films

(2 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1968: Qulli
(Urdu)
2.1969: Daagh
(Urdu)
3.1970: Payel
(Bengali/Urdu double version)


Masood Rana & Ali Hossain: 5 songs

(5 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Qulli
from Friday, 7 June 1968
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Music: Ali Hossain, Poet: , Actor(s): Nadeem, Azeem
2.
Urdu film
Qulli
from Friday, 7 June 1968
Singer(s): Masood Rana & Co., Music: Ali Hossain, Poet: , Actor(s): Nadeem & Co.
3.
Urdu film
Qulli
from Friday, 7 June 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Ali Hossain, Poet: , Actor(s): Nadeem
4.
Urdu film
Daagh
from Friday, 4 April 1969
Singer(s): Masood Rana, Nabita, Music: Ali Hossain, Poet: , Actor(s): Sohail, Kobita
5.
Urdu film
Payel
from Friday, 22 May 1970
Singer(s): Masood Rana, Naveeta, Music: Ali Hossain, Poet: , Actor(s): Javed, Shabana

Dard
Dard
(1947)
Champa
Champa
(1945)
Gulbadan
Gulbadan
(1937)

Khazanchi
Khazanchi
(1941)
Sanjog
Sanjog
(1943)
Shukriya
Shukriya
(1944)
Champa
Champa
(1945)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

قتیل شفائی
قتیل شفائی
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
یاسمین
یاسمین
عالیہ
عالیہ
احمد رشدی
احمد رشدی
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
اسد بخاری
اسد بخاری
رخسانہ
رخسانہ
مسعودپرویز
مسعودپرویز
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
ساقی
ساقی
آصف جاہ
آصف جاہ
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
نذیر بیگم
نذیر بیگم
قدیرغوری
قدیرغوری
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
مشتاق علی
مشتاق علی
افضل خان
افضل خان
امجدبوبی
امجدبوبی
لقمان
لقمان
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
سلیم اقبال
سلیم اقبال
لیلیٰ
لیلیٰ
کے خورشید
کے خورشید
رشید عطرے
رشید عطرے
عمرشریف
عمرشریف
امداد حسین
امداد حسین
وزیر افضل
وزیر افضل
قوی
قوی
حسن لطیف
حسن لطیف
ایم جے رانا
ایم جے رانا
رفیق رضوی
رفیق رضوی
سلونی
سلونی
جمیل اختر
جمیل اختر
نبیلہ
نبیلہ
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
الحامد
الحامد
منظورجھلا
منظورجھلا
ایم اکرم
ایم اکرم
سہیل رعنا
سہیل رعنا
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
حسنہ
حسنہ
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
نرالا
نرالا
محمد رفیع
محمد رفیع
کیفی
کیفی
جعفر بخاری
جعفر بخاری
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
منورظریف
منورظریف
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
جی اے چشتی
جی اے چشتی
اعظم بیگ
اعظم بیگ
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
اے شاہ
اے شاہ
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
ساحل فارانی
ساحل فارانی
علاؤالدین
علاؤالدین
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
ناصرہ
ناصرہ
ایم صادق
ایم صادق
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
نسیم بیگم
نسیم بیگم
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
ایس سلیمان
ایس سلیمان
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
حسن عسکری
حسن عسکری
تانی
تانی
نثار بزمی
نثار بزمی
ایم سلیم
ایم سلیم
ظہیرریحان
ظہیرریحان
سیف چغتائی
سیف چغتائی
حبیب
حبیب
ننھا
ننھا
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
مالا
مالا
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
آغا حسینی
آغا حسینی
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
علی حسین
علی حسین
زینت
زینت
ریاض احمد
ریاض احمد
اعجاز
اعجاز
نغمہ
نغمہ
آئرن پروین
آئرن پروین
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
زیبا
زیبا
درپن
درپن
حنیف
حنیف
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
رشیداختر
رشیداختر
طارق عزیز
طارق عزیز
نذیرجعفری
نذیرجعفری
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
کمال احمد
کمال احمد
سنگیتا
سنگیتا
نذیرعلی
نذیرعلی
شریف نیر
شریف نیر
ریاض شاہد
ریاض شاہد
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
شبانہ
شبانہ
زلفی
زلفی
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
حسن طارق
حسن طارق
شیریں
شیریں
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
حزیں قادری
حزیں قادری
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
منوررشید
منوررشید
شبنم
شبنم
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
سلطان راہی
سلطان راہی
مسرت نذیر
مسرت نذیر
روبن گھوش
روبن گھوش
حیدر
حیدر
مہدی حسن
مہدی حسن
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
نذرالاسلام
نذرالاسلام
غزالہ
غزالہ
سلیم رضا
سلیم رضا
مسعود رانا
مسعود رانا
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
طالش
طالش
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
سلیم کاشر
سلیم کاشر
اعظم چشتی
اعظم چشتی
رضا میر
رضا میر
صہبااختر
صہبااختر
رنگیلا
رنگیلا
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
شوکت علی
شوکت علی
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
مظہر شاہ
مظہر شاہ
شیون رضوی
شیون رضوی
روبینہ بدر
روبینہ بدر
اختریوسف
اختریوسف
بخشی وزیر
بخشی وزیر
محمد علی
محمد علی
رضیہ
رضیہ
البیلا
البیلا
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
رحمان ورما
رحمان ورما
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
سیما
سیما
سید کمال
سید کمال
شاہد
شاہد
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
یوسف خان
یوسف خان
ناہید
ناہید
صفدرحسین
صفدرحسین
علی اعجاز
علی اعجاز
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
تصورخانم
تصورخانم
افتخارخان
افتخارخان
روزینہ
روزینہ
نسیمہ خان
نسیمہ خان
سنتوش کمار
سنتوش کمار
ظہورناظم
ظہورناظم
اے حمید
اے حمید
ایم اے رشید
ایم اے رشید
موج لکھنوی
موج لکھنوی
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
الطاف حسین
الطاف حسین
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
اکمل
اکمل
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
منیر نیازی
منیر نیازی
ناشاد
ناشاد
خلیل احمد
خلیل احمد
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
مصلح الدین
مصلح الدین
مسرور انور
مسرور انور
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
فیروز نظامی
فیروز نظامی
اسلم ڈار
اسلم ڈار
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
منیر حسین
منیر حسین
حبیب جالب
حبیب جالب
احمد راہی
احمد راہی
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
پرویز ملک
پرویز ملک
نگہت سیما
نگہت سیما
ندیم
ندیم
مظفروارثی
مظفروارثی
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
ایم اشرف
ایم اشرف
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
لہری
لہری
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
سائیں اختر
سائیں اختر
فضل حسین
فضل حسین
سدھیر
سدھیر
شمیم آرا
شمیم آرا
فردوس
فردوس
وحیدڈار
وحیدڈار
تنویر نقوی
تنویر نقوی
کمار
کمار
آصف جاوید
آصف جاوید
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
رانی
رانی
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
نذیر
نذیر
ساون
ساون
خلیل قیصر
خلیل قیصر
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
دیبا
دیبا
طافو
طافو
آسیہ
آسیہ
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
ابو شاہ
ابو شاہ
اقبال حسن
اقبال حسن
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
وحیدمراد
وحیدمراد
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
نیلو
نیلو
امین ملک
امین ملک
نذر
نذر
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.