Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1044 songs in 649 films

مسعودرانا اور روبن گھوش

روبن گھوش
کراچی میں سب سے زیادہ ہفتے
چلنے والی فلم آئینہ کے موسیقار تھے
روبن گھوش ، سابقہ مشرقی پاکستان میں بننے والی اردو فلموں کے کامیاب ترین موسیقار تھے۔ ڈھاکہ میں بنی ہوئی پہلی کمرشل اردو فلم چندا (1962) اور کراچی میں ہفتوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ چلنے والی اردو فلم آئینہ (1977) کی موسیقی ترتیب دینے کا اعزاز بھی انھیں حاصل تھا۔۔!

روبن گھوش نے چالیس کے قریب فلموں میں سوا دو سو کے قریب گیت کمپوز کیے تھے۔ انھیں ، اپنے آبائی وطن بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) سے زیادہ مقبولیت موجودہ پاکستان میں ملی تھی۔ ان کی سال بہ سال کارکردگی اور دیگر اہم ترین واقعات اور فلمی ریکارڈز کچھ اس طرح سے تھے۔۔

روبن گھوش نے بنگالی فلموں سے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ گو ڈھاکہ میں بنائی گئی بیشتر اردو فلمیں اصل میں بنگالی فلمیں ہی ہوتی تھیں جنہیں اردو میں ڈب کر کے مغربی پاکستان میں ریلیز کیا جاتا تھا۔ ہدایتکار احتشام کی اردو فلم چندا (1962) وہ پہلی فلم تھی جس کی موسیقی انھوں نے ترتیب دی تھی۔ سروربارہ بنکوی کے لکھے ہوئے سبھی گیت مقامی گلوکاروں کے گائے ہوئے تھے جن میں فردوسی بیگم ، اردو فلموں کی سب سے مشہور گلوکارہ ثابت ہوئی تھی۔ ڈھاکہ میں بنائی جانے والی مشرقی پاکستان کی اس پہلی کمرشل فلم کا کوئی ایک بھی گیت مقبول نہیں ہوا تھا۔ شبنم اور رحمان سے اردو فلم بینوں کی واقفیت اسی فلم سے ہوئی تھی۔ اس فلم کو کراچی کے فلمی میڈیا میں گولڈن جوبلی فلم قرار دیا گیا ہے جو دیگر بہت سے فلمی ریکارڈز کی طرح انتہائی مشتبہ ہے کیونکہ ڈھاکہ کی فلمیں عام طور پر تجارتی نقطہ نظر سے بڑی کمزور فلمیں ہوتی تھیں۔

روبن گھوش نے اپنی دوسری فلم تلاش (1963) میں گلوکار بشیراحمد کو متعارف کرایا تھا جو ڈھاکہ کی فلموں کے سب سے مقبول گلوکار ثابت ہوئے تھے۔ وہ بڑے اعلیٰ پائے کے فنکار تھے جو بیک وقت گلوکار ، موسیقار اور نغمہ نگار بھی تھے ، فلم درشن (1967) ، ان کی آل راؤنڈ کارکردگی کی ایک بہت بڑی مثال تھی۔ اس فلم کا یہ گیت پسند کیا گیا تھا "کچھ اپنی کہئے ، کچھ میری سنئے۔۔" جو فردوسی بیگم اور بشیراحمد نے الگ الگ گایا تھا۔ اسی فلم میں انھوں نے ایک شوخ گیت "رکشہ والا متوالا۔۔" بشیراحمد سے گوایا تھا لیکن اسی گیت کو سنجیدہ انداز میں قاضی انورحسین سے بھی گوایا گیا تھا۔ ہدایتکار احتشام کے بھائی مستفیض کی ڈائریکشن میں شبنم اور رحمان مرکزی کرداروں میں تھے۔ اس فلم کا بنگالی ورژن بھی نیٹ پر موجود ہے۔

1964ء میں روبن گھوش کی تین فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن کوئی گیت ہٹ نہیں ہوا تھا۔ فلم پیسے (1964) میں انھوں نے پہلی بار مغربی پاکستان کے گلوکاروں ناہید نیازی ، آئرین پروین اور احمدرشدی سے گیت گوائے تھے۔ اسی فلم میں پہلی بار فیاض ہاشمی نے بھی ڈھاکہ کی کسی فلم کے گیت لکھے تھے جبکہ گلوکار بشیراحمد نے پہلی بار بی اے دیپ کے نام سے اپنا پہلا گیت "اف اللہ ، یہ تیر سی چتون ، اس پر یہ بن ٹھن۔۔" لکھا تھا جو احمدرشدی کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ بھی ایک بنگالی فلم تھی جسے اردو میں ڈب کیا گیا تھا۔

Shabnam and Robin Ghosh
شبنم اور روبن گھوش کی شادی 21 اکتوبر 1965ء کو ہوئی تھی
اس سال ان کی دوسری فلم بندھن (1964) تھی جو پہلی ایسی فلم تھی جس کی ہیروئن شبنم نہیں تھی۔ روبن گھوش کی 37 اردو فلموں میں سے صرف گیارہ فلمیں ایسی ہیں کہ جن میں ان کی اداکارہ بیوی شبنم موجود نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے بہت سے لوگ یہ طعنہ بھی دیتے تھے کہ روبن کو فلمیں اپنی بیوی کی وجہ سے ملتی تھیں۔ یاد رہے کہ شبنم اور روبن گھوش کا رومانس کافی عرصہ تک چلتا رہا تھا ، بالآخر 21 اکتوبر 1965ء کو ان کی شادی ہوگئی تھی۔ اسی سال کی تیسری فلم کارواں (1964) تھی جس میں روبن گھوش نے پہلی بار وقت کے سب سے مقبول گلوکار سلیم رضا سے اپنا اکلوتا گیت "تیری تصویر بناتا ہوں ، مٹا دیتا ہوں۔۔" گوایا تھا۔ ان تینوں فلموں میں سے کسی فلم کا کوئی گیت مقبول نہیں ہوا تھا۔

1965ء میں روبن گھوش کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی لیکن 1966ء میں دو فلمیں منظرعام پر آئیں۔ ان میں پہلی فلم بیگانہ (1966) تھی جس میں اردو فلموں کے سپرسٹار ندیم نے بطور گلوکار اپنا پہلا گیت فردوسی بیگم کے ساتھ ریکارڈ کروایا تھا جس کے بول تھے "میں تجھ سے محبت کرتا ہوں ، سو جان سے تجھ پہ مرتا ہوں۔۔"

اس سال ، روبن گھوش کی سب سے یادگار فلم بھیا (1966) تھی جو ڈھاکہ میں بنائی گئی وحیدمراد کی اکلوتی فلم تھی۔ پاکستان کے دیگر بڑے فلمی ہیروز مثلاً سدھیر ، سنتوش ، درپن ، یوسف خان ، اعجاز ، حبیب ، کمال یا محمدعلی کو ڈھاکہ کی کسی فلم میں کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس فلم کا ٹائٹل رول شوکت اکبر نے کیا جو ایک مقبول بنگالی اداکار تھے۔ یہی فلم ساٹھ کے عشرہ میں اردو فلموں کی سب سے مقبول و مصروف گلوکارہ مالا کے علاوہ پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد آل راؤنڈ گلوکار مسعودرانا کی روبن گھوش کے ساتھ پہلی فلم تھی جس میں انھوں نے انتہائی دھیمی سروں میں یہ شاہکار گیت گایا تھا "جواب دو نہ لیکن میرا سلام تو لو ، نگاہ ناز سے للہ کوئی کام تو لو۔۔" وحیدمراد پر فلمائے گئے اس گیت کو دیکھ کر ریڈیو سے سنے ہوئے گیت کا مزہ کرکرا ہو جاتا تھا کیونکہ دھن اور فلمبندی میں کوئی ہم آہنگی نہیں تھی۔ اس فلم میں دوسرا گیت ایک قوالی تھی "مدینے والے ﷺ سے میرا سلام کہہ دینا۔۔" انھی بولوں پر بھارتی فلم میرا سلام (1957) میں ایک قوالی محمدرفیع اور ساتھیوں نے بھی گائی تھی جس کے بول شیون رضوی نے اور موسیقی حفیظ خان کی تھی۔ روبن گھوش کی کمپوزیشن زیادہ جاندار تھی جس میں مسعودرانا اور ساتھیوں کے علاوہ احمدرشدی کی آواز بھی شامل تھی جو عام طور پر ایسے سنجیدہ گیتوں کے گلوکار نہیں تھے ، یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک ہزار کے قریب گیتوں میں سے صرف چند گنے چنے گیت ہی ایسے ملتے ہیں کہ جنہیں روحانی گیت یعنی قوالیاں ، نعتیں ، حمد ، دھمالیں یا دیگر عارفانہ کلام کہا جاتا ہے۔ روبن گھوش کے گیتوں کے ایک طائرانہ جائزے میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ یہ ان کی کمپوز کی ہوئی اکلوتی قوالی تھی۔

1967ء میں موسیقار روبن گھوش کے فلمی کیرئر کی اسوقت تک کی سب سے یادگار فلم چکوری تھی جو بطور اداکار ندیم کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم نے کراچی میں ریکارڈ بزنس کیا تھا اور لوکل بوائے ندیم راتوں رات سپرسٹار بن گئے تھے۔ اس فلم میں ندیم ، فردوسی بیگم اور احمدرشدی کے گائے ہوئے گیت "کبھی تو تم کو یاد آئیں گی ، یہ بہاریں یہ سماں۔۔" بڑے مقبول ہوئے تھے۔ مجیب عالم اور فردوسی بیگم کے الگ الگ گائے ہوئے گیت "وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں۔۔" بھی بڑے مقبول گیت تھے۔ اس فلم کا بنگالی ورژن یوٹیوب پر موجود ہے جس میں بیشتر گیت بشیراحمد کی آواز میں ہیں جبکہ ایک اردو گیت احمدرشدی کی آواز میں ہے۔ اسی فلم کی کامیابی سے متاثر ہو کر روبن گھوش اور شبنم نے ڈھاکہ کو خیرآباد کہنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

1968ء میں روبن گھوش کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ہدایتکار اور نغمہ نگار سروربارہ بنکوی کی فلم تم میرے ہو (1968) ڈھاکہ کی بنی ہوئی تھی جس میں پہلی بار شبنم اور ندیم کو ایک فلمی جوڑی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ دوسری فلم جہاں تم وہاں ہم (1968) ، کراچی میں بنی تھی جو فلمساز اور ہدایتکار پرویز ملک کی روبن گھوش کے ساتھ اکلوتی فلم تھی۔ اس فلم میں شبنم کی جوڑی وحیدمراد کے ساتھ تھی اور ان پر فلمایا گیا احمدرشدی اور مالا کا گیت "مجھے تلاش تھی جس کی ، وہ ہم سفر تم ہو۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔

مغربی پاکستان آمد کے بعد روبن گھوش کے لیے حالات اتنے سازگار نہیں تھے۔ مقابلہ بڑا سخت تھا کیونکہ اس وقت پاکستانی فلم انڈسٹری اپنے سنہرے دور میں تھی اور بڑے اعلیٰ پائے کے موسیقار اپنے اپنے فن کی بلندیوں پر تھے۔ 1969ء میں روبن گھوش کی صرف ایک فلم داغ ریلیز ہوئی تھی جو اصل میں ڈھاکہ میں بنی ہوئی ان کی آخری فلم تھی جس میں ان کا صرف ایک ہی گیت تھا جو انھوں نے مسعودرانا اور آئرن پروین سے گوایا تھا "آ جاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے کچھ سن لیں گے۔۔" یہ دھیمی سروں میں گایا ہوا ایک انتہائی دلکش رومانٹک گیت تھا۔

اگلے تین سال تک روبن گھوش کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔ وہ ، کراچی میں قیام پذیر تھے جہاں اکا دکا فلمیں بنتی تھیں جبکہ مرکزی فلم انڈسٹری لاہور میں تھی۔ ایسے میں 1972ء میں روبن گھوش کی اکلوتی فلم احساس ریلیز ہوئی جس کے فلمساز فلمی ہفت روزہ نگار کے ایڈیٹر اور بانی الیاس رشیدی اور ہدایتکار بنگالی نژاد نذرالاسلام تھے۔ اس فلم کے سبھی گیت بڑے پسند کیے گئے تھے۔ رونالیلیٰ کے ساتھ ان کی یہ پہلی فلم تھی جس میں سروربارہ بنکوی کی لکھی ہوئی یہ غزل "ہمیں کھو کر بہت پچھتاؤ گے ، جب ہم نہیں ہوں گے ، بھری دنیا کو ویران پاؤ گے۔۔" بڑی مقبول ہوئی تھی۔ مہدی حسن کے ساتھ بھی پہلا گیت "آپکا حسن جو دیکھا تو خدا یاد آیا۔۔" اسی فلم میں تھا۔ احمدرشدی اور شہناز بیگم کا یہ گیت "رک جاؤ ، ابھی رک جاؤ۔۔" بڑا دلکش گیت تھا جبکہ رونالیلیٰ کے ساتھ رشدی صاحب کا یہ گیت بھی بڑے کمال کا تھا "اللہ اللہ ، میری محفل میں وہ مہمان آیا۔۔" اسی فلم کا ایک خوبصورت گیت "بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا۔۔" رونالیلیٰ اور مسعودرانا کی دلکش آوازوں میں بھی تھا۔

اس دوران روبن گھوش اپنی اداکارہ بیگم ، شبنم کی فلمی مصروفیات کے باعث لاہور منتقل ہو چکے تھے لیکن وہاں کے فلمسازوں اور ہدایتکاروں نے بڑی سردمہری کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایسے میں ایک اور بنگالی فلمساز ، ہدایتکار اور ہیرو رحمان نے انھیں اپنی فلم چاہت (1974) میں موسیقی ترتیب دینے کا موقع دیا۔ اس فلم کا تھیم سانگ "ساون آئے ، ساون جائے۔۔" ایک سپرہٹ گیت تھا جو انھوں نے اپنے پسندیدہ گلوکار اخلاق احمد سے گوایا تھا جنہوں نے ان کے سب سے زیادہ مردانہ گیت گائے تھے۔ انھوں نے دوسرے اور تیسرے نمبر پر مردانہ گیت احمدرشدی اور مہدی حسن سے گوائے تھے۔ اسی فلم میں انھوں نے پہلی بار خواجہ پرویز کا لکھا ہوا یہ سپرہٹ رومانٹک گیت مہدی حسن سے گوایا تھا "پیار بھرے ، دو شرمیلے نین۔۔" یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ روبن گھوش نے کبھی بھی معروف فلمی شاعروں ، قتیل شفائی ، تنویر نقوی ، حزیں قادری ، وارث لدھیانوی اور احمدراہی کا لکھا ہوا کوئی گیت کمپوز نہیں کیا تھا۔ روبن گھوش کے سب سے زیادہ گیت سروربارہ بنکوی نے لکھے تھے۔

اسی سال ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم شرافت (1974) میں بھی روبن گھوش نے مہدی حسن سے کلیم عثمانی کا لکھا ہوا یہ سپرہٹ گیت گوایا تھا "تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے ، لہریں بھی ہوئیں مستانی سی۔۔" اسی فلم میں انھوں نے پہلی بار اپنی پسندیدہ گلوکارہ نیرہ نور کو گوایا تھا اور اخلاق احمد کے ساتھ ایک مشہور دوگانا تھا "او میرے سنگ چلا اک خوبصورت ساتھی۔۔" اس سال کی فلم مس ہپی (1974) کا کوئی گیت مقبول نہیں ہوا تھا جبکہ چوتھی فلم بھول (1974) میں انھوں نے پانچویں اور آخری بار مسعودرانا سے کوئی گیت گوایا تھا جو ایک کورس گیت تھا "ساری دنیا ، پاگل پاگل پاگل ہے۔۔" اس فلم میں انھوں نے ندیم سے تین گیت گوائے تھے جو کسی بھی فلم میں ان کے گائے ہوئے گیتوں کا ریکارڈ ہے۔ یہ آخری دونوں فلمیں ہدایتکار ایس سلیمان کی تھیں۔

1975ء میں روبن گھوش کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان میں پہلی فلم فلمساز ، ہدایتکار اور ہیرو رحمان کی دوسری کاوش دوساتھی (1975) تھی۔ اس ناکام فلم کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ اخلاق احمد کے دو گیت "دیکھو ، یہ کون آگیا ، بن کے نشہ چھا گیا۔۔" اور "ایک تھی گڑیا بڑی بھولی بھالی۔۔" بڑے مقبول ہوئے تھے۔ اسی فلم میں انھوں نے پہلی بار غلام عباس سے یہ شاہکار گیت بھی گوایا تھا "کیسے وہ شرمائیں ، جیا میگھا چھائے۔۔" اسی سال کی دوسری فلم ہدایتکار کے خورشید کی امنگ (1975) بھی ایک نغماتی لیکن ناکام فلم تھی۔ اس فلم میں روبن گھوش کے دونوں پسندیدہ گلوکاروں اخلاق احمد اور نیرہ نور کے یہ دوگانے بڑے مقبول ہوئے تھے "رات بھر جیا مورا مجھے کیوں ستائے۔۔" اور "کیوں نہ راہوں میں کلیاں بچھائیں ہم۔۔"

1976ء میں روبن گھوش کی تینوں فلمیں ناکام رہیں اور کوئی ایک بھی گیت کسی کامیابی سے محروم رہا تھا۔ ہدایتکار ایس سلیمان کی فلم موم کی گڑیا (1976) میں انھوں نے اپنی دوسری پسندیدہ گلوکارہ مہناز سے پہلی بار کوئی گیت گوایا تھا۔ اداکارہ شمیم آرا کی بطور فلمساز اور ہدایتکارہ پہلی فلم جیو اور جینے دو (1976) بھی ایک ناکام فلم تھی جبکہ ہدایتکار کے خورشید کی فلم انوکھی (1976) کے بارے میں خاصی کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ اس فلم کا سب سے ہٹ گیت "سنو سنو ، جو تم کہو ، تمہاری ہر خوشی پہ اپنی جان وار دوں۔۔" ناہیداختر کا گایا ہوا تھا۔ فلم کے پوسٹر پر صرف روبن گھوش کا نام لکھا ہوا تھا لیکن گراموفون ریکارڈ کے مطابق یہ گیت ایم اشرف کا کمپوز کیا ہوا تھا۔ روبن گھوش نے اپنے پورے فلمی کیرئر میں ناہیداختر اور میڈم نورجہاں سے کبھی کوئی گیت نہیں گوایا تھا۔ اس پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک عام بنگالی کی پنجابیوں سے روایتی نفرت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ بنگالی ، اردو بولنے والوں کو بھی پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ متحدہ پاکستان میں پہلا فساد ہی اردو اور بنگالی زبانوں کی کشمکش کی وجہ سے ہوا تھا جو ایک انتہائی تلخ تاریخ ہے۔ اگر روبن گھوش ، پنجابیوں سے نفرت کرتے ہوتے تو سلیم رضا ، ناہیدنیازی ، نجمہ نیازی ، مالا ، آئرن پروین ، مسعودرانا ، اے نیر اور غلام عباس سے کبھی کوئی گیت نہ گواتے جو سبھی پنجابی تھے۔ اصل میں ہر فنکار کا اپنا اپنا ایک انداز ہوتا ہے اور اپنی اپنی پسند و ناپسند بھی ہوتی ہے جو ایک فطری عمل ہے۔ بعض اوقات یہ ایک اتفاق ہوتا ہے کہ کون سا فنکار کس گیت یا دھن کے لیے موزوں ہے۔ روبن گھوش عام طور پر نرم و ملائم آوازوں کے لیے گیت کمپوز کرتے تھے اور میڈم نورجہاں اور ناہیداختر کی آوازیں اس کیٹگری میں نہیں آتی تھیں ، یقیناً یہ سب سے بڑی وجہ تھی کہ انھوں نے ان دونوں عظیم گلوکاراؤں کے لیے گیت کمپوز نہیں کیے تھے۔ ویسے بھی کوئی بڑا فنکار کبھی کسی دوسرے فنکار کا محتاج نہیں رہا۔ حال ہی میں اداکارہ شبنم سے یہی سوال پوچھا گیا تو جواب ملا کہ روبن صاحب نے میڈم سے ایک گیت کی ریہرسل کروائی تھی لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے اور بات آگے نہیں بڑھی تھی۔ یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے ، نثار بزمی نے بھی مہدی حسن کا گایا ہوا ایک گیت رد کر کے مجیب عالم سے گوایا تھا اور کامیاب رہے تھے۔ کسی بھی فن میں کوئی بھی فنکار حرف آخر نہیں ہوتا۔

1977ء میں روبن گھوش کی زندگی کی سب سے بڑی فلم آئینہ ریلیز ہوئی جس کے سبھی گیت مقبول ہوئے تھے۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی اس سپرہٹ فلم کا تھیم سانگ "مجھے دل سے نہ بھلانا ۔۔" چار بار گایا گیا اور یہ گیت ، مہدی حسن ، مہناز ، نیرہ نور اور عالمگیر کی آوازوں میں تھا۔ فلم کا ایک مقبول گیت مہدی حسن کا تھا "کبھی میں سوچتا ہوں کچھ نہ کچھ کہوں۔۔" جبکہ نیرہ نور کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "روٹھے ہو پھر تم کو کیسے مناؤں ، پیا ، بولو ناں۔۔" یہ فلم 18 مارچ 1977ء کو بمبینو سینما کراچی میں ریلیز ہوئی تھی جہاں مسلسل 47 ہفتے چلی۔ پھر یہ فلم سکالا سینما پر منتقل ہوئی جہاں یہ مسلسل 132 ہفتے چلی اور کل ملا کر 401 ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ فلم کل چار سال ، نو ماہ اور 27 دن چلنے کے بعد 14 جنوری 1982ء کو سینماؤں سے اتری تھی جو کراچی میں طویل عرصہ تک چلنے والی کسی بھی فلم کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ یاد رہے کہ جس سکالا سینما پر فلم آئینہ (1977) نے سولو ڈائمنڈ جوبلی منائی تھی ، اس میں صرف 144 سیٹیں تھیں ، گویا اس سائز کے سینما پر مولاجٹ (1979) یا شیرخان (1981) جیسی فلمیں چلتیں تو دس دس سال تک چلتی رہتیں کیونکہ ایک سینما میں اوسطاً چھ سے سات سو سیٹیں ہوا کرتی تھیں۔

1978ء میں روبن گھوش کی دو فلمیں سامنے آئیں۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم امبر (1978) ایک سپرہٹ میوزیکل فلم تھی جس میں مہدی حسن کے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے "ٹھہرا ہے سماں ، ہم تم ہیں جہاں۔۔" اور "جس دن سے دیکھا ہے تم کو صنم۔۔" مہناز کا گیت "مجھے لے چل یہاں سے دور ان وادیوں میں۔۔" اور اے نیر کا گیت "ملے دو ساتھی ، کھلی دو کلیاں۔۔" بھی مقبول عام گیت تھے۔ اس سال کی فلم انمول محبت (1978) کے گیت بھی اچھے تھے جن میں محمدعلی شہکی کا گیت "یہ سماں ، پیار کا سماں۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ فلمساز اور ہدایتکار شباب کیرانوی کے ساتھ روبن گھوش کی یہ اکلوتی فلم تھی جو ناکام رہی تھی۔

1980ء میں روبن گھوش کی دونوں فلمیں ہدایتکار نذرالاسلام کے ساتھ تھیں جو سپرہٹ ہوئیں۔ فلم بندش (1980) کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ اس وقت تک لاہور میں سب سے زیادہ ہفتے چلنے والی اردو فلم تھی۔ اس فلم کے گیت بھی بڑے اچھے تھے جن میں اخلاق احمد کا گیت "سونا نہ چاندی ، نہ کوئی محل۔۔" دیگر سبھی گیتوں پر بازی لے گیا تھا۔ فلم نہیں ابھی نہیں (1980) میں بھی اخلاق احمد کا یہ گیت زیادہ پسند کیا گیا تھا "سماں ، وہ پیار کا سماں۔۔" اس سپرہٹ فلم میں دو نوجوان ہیروز ، فیصل اور ایاز کو متعارف کروایا گیا تھا۔

اسی کا عشرہ اردو فلموں کے زوال کا دور تھا جب بہت کم اردو فلمیں کامیاب ہوتی تھیں۔ روبن گھوش کی آخری درجن بھر فلموں میں کوئی قابل ذکر گیت نہیں ملتا ، کئی ایک گیت فلم کی حد تک بڑے اچھے ہوتے تھے لیکن مقبول عام گیتوں میں ان کا شمار نہیں ہوتا تھا۔ انھوں نے ہدایتکار محمدجاویدفاضل کے ساتھ اکلوتی فلم آہٹ (1982) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ اخلاق احمد کا گیت "چمن چمن ، کلی کلی۔۔" پسند کیا گیا تھا لیکن فلم کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ ہدایتکار حسن عسکری کی فلم دوریاں (1984) ایک سیاسی موضوع پر بنائی گئی فلم تھی لیکن کوئی گیت مقبول نہ ہوا۔ ہدایتکار حسن عسکری کی فلم ہم اور تم (1985) میں انھوں نے اپنا پہلا مکمل پنجابی گیت "اج ٹوہراں ویکھ نرالیاں وے تیرے صدقے جاواں۔۔" سلمیٰ آغا سے گوایا تھا جس کی بطورہ اداکارہ اور گلوکارہ یہ پہلی فلم تھی۔ یہ بھی ایک عام روش کا پنجابی گیت تھا جس میں کوئی جدت نہیں تھی اور فلمی سرکٹ کی مجبوری کے تحت گوایا گیا ایک روایتی گیت تھا۔ فلم رنجش (1993) ڈھاکہ میں بنائی گئی تھی جو پاکستان میں ریلیز ہوئی اور اس میں شبنم اور رزاق کی جوڑی تھی۔ ہدایتکار اقبال کاشمیری کے ساتھ اکلوتی فلم جوڈرگیا وہ مرگیا (1995) کے موسیقار کے طور پر بھی روبن گھوش کا نام آتا ہے لیکن اس کے تین گیت ، تین دیگر موسیقاروں نصرت فتح علی خان ، طافو اور عامرمنور نے کمپوز کیے تھے۔ ہدایتکار سید نور کے ساتھ بھی اکلوتی فلم گھونگھٹ (1996) اور ہدایتکار شہزادرفیق کے ساتھ آخری فلم سیلوٹ (2016) میں بھی ان کا نام ملتا ہے۔

روبن گھوش ، بنگالی نژاد عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے جو 1939ء میں بغداد میں پیدا ہوئے تھے۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی بنگالی نژاد اداکارہ شبنم کے شوہر تھے جو پاکستان کی اردو فلموں کی باکس آفس پر سب سے کامیاب ترین فلمی ہیروئن تھی۔ وہ ، نوے کے عشرہ کے آخر تک پاکستان میں رہے اور پھر بنگلہ دیش چلے گئے تھے جہاں 2016ء میں ان کا انتقال ہوا تھا۔

مسعودرانا اور روبن گھوش کے 5 فلمی گیت

5 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1
فلم ... بھیا ... اردو ... (1966) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ، محمد صدیق مع ساتھی ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: شاعر صدیقی ... اداکار: (پس پردہ ، شوکت اکبر ، چترا)
2
فلم ... بھیا ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: عشرت کلکتوی ... اداکار: وحید مراد
3
فلم ... داغ ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: امین اختر ... اداکار: ندیم ، شبانہ
4
فلم ... احساس ... اردو ... (1972) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: شبنم ، ندیم
5
فلم ... بھول ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: منور ظریف

مسعودرانا اور روبن گھوش کے 1سولو گیت

1جواب دو نہ دو لیکن میرا سلام تو لو ، نگاہ ناز سے للہ ، کوئی کام تو لو ... (فلم ... بھیا ... 1966)

مسعودرانا اور روبن گھوش کے 2دو گانے

1آ جاؤ ، ذرا مل بیٹھیں ہم ، کچھ کہہ لیں گے کچھ سن لیں گے ... (فلم ... داغ ... 1969)
2بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا ، جھکی جھکی اڑتی ہوا ، موسم ہے دیوانہ دیوانہ دیوانہ ... (فلم ... احساس ... 1972)

مسعودرانا اور روبن گھوش کے 2کورس گیت

1مدینے والےﷺ سے میرا سلام کہہ دینا ، تڑپ رہا ہے تمہارا غلام ، کہہ دینا ... (فلم ... بھیا ... 1966)
2ساری دنیا پاگل پاگل پاگل ہے ... (فلم ... بھول ... 1974)

Masood Rana & Robin Ghosh: Latest Online film

Masood Rana & Robin Ghosh: Film posters
BhayyaDaaghBhool
Masood Rana & Robin Ghosh:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Robin Ghosh:

Total 4 joint films

(4 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1966: Bhayya
(Urdu)
2.1969: Daagh
(Urdu)
3.1972: Ehsas
(Urdu)
4.1974: Bhool
(Urdu)


Masood Rana & Robin Ghosh: 5 songs

(5 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Bhayya
from Friday, 14 October 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): Waheed Murad
2.
Urdu film
Bhayya
from Friday, 14 October 1966
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Mohammad Siddiq & Co., Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): (Playback - Shoukat Akbar, Chitra)
3.
Urdu film
Daagh
from Friday, 4 April 1969
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): Nadeem, Shabana
4.
Urdu film
Ehsas
from Friday, 22 December 1972
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): Shabnam, Nadeem
5.
Urdu film
Bhool
from Friday, 1 November 1974
Singer(s): Masood Rana & Co., Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Mousiqar
Mousiqar
(1962)
Sangdil
Sangdil
(1968)
Milap
Milap
(1975)
Raja
Raja
(1990)
Nasha
Nasha
(2015)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..