Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


Pakistan Film History

Historical films

A detailed Urdu/Punjabi article on Pakistani historical films.

تاریخی فلمیں

پاکستان کی تاریخی فلموں پر ایک نظر

Ghazi Ilmuddin ShaheedTipu SultanSher-e-IslamAjab Khan AfridaeAakhri ChattanNoor-e-IslamGulfamMujahidWatanGharnataNawab Siraj-ud-DaulahHashu KhanShabistanBarood Ka TohfaShehanshah-e-JahangirAyazYeh AmanZebun NisaQasm Us Waqt KiBaghawatFarangiAl-HilalMangolAl-AsifaMohammad Bin QasimShaheedChangez KhanMoajzaShaheed TitumirKartar SinghBaghiZarqaSajdaGhazi Bin AbbasAadilHaider AliAzmat-e-IslamAjab KhanTaj MahalKhak Aur Khoon

پاکستان میں ایکشن، رومانٹک ، سوشل اور کامیڈی فلموں کے علاوہ تاریخی موضوعات پر بھی فلمیں بنائی گئی ہیں۔۔!

تاریخی فلموں میں خصوصاً قیامِ پاکستان یا تقسیمِ ہند کے علاوہ مختلف تاریخی شخصیات اور واقعات کو فلمایا گیا ہے۔ برصغیر کی اسلامی تاریخ ، مسلمانوں کی رومیوں اور تاتاریوں سے کشمکش ، مغلیہ دور ، انگریز سامراج ، کشمیر اور پاک بھارت جنگوں کے علاوہ فلسطین اور "افغان جہاد" وغیرہ پر بھی فلمیں بنیں۔ ان کے علاوہ افسانوی کرداروں پر مشتمل بہت سی تاریخی نوعیت کی جنگ و جدل سے بھرپور کاسٹیوم فلمیں بھی بنائی گئیں۔

تاریخِ پاکستان ، فلموں کی زبانی

دستیاب معلومات کے مطابق ، پاکستان کی تاریخ پونے آٹھ لاکھ سال پہلے وادی سواں سے شروع ہوتی ہے جس میں پھر ٹیکسلا ، ہڑپہ ، موہنجودڑو اور گندھارا وغیرہ کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن یہاں بات صرف موجودہ پاکستان کی اسلامی تاریخ پر ہو گی جس پر فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔

تاریخِ پاکستان کو اگر فلموں کی زبانی جاننا ہو تو پاکستان کی فلمی تاریخ میں صرف دو ہی خالص فلمیں تقسیمِ ہند یا قیامِ پاکستان کے موضوع پر بنائی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی فلم کرتارسنگھ (1959) اور دوسری فلم خاک اور خون (1979) تھی۔

زیر نظر مضمون میں پاکستان کی مکمل اسلامی تاریخ کو پاکستان کی تاریخی فلموں کی زبانی بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خاک اور خون (1979)

فلم خاک اور خون (1979) ، ممتاز ادیب نسیم حجازی کے تقسیم ہند پر لکھے ہوئے ایک ناول "خاک و خون" کی کہانی پر سرکاری خرچ پر بنائی گئی ایک "قومی فلم" تھی جسے دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان محض پُرجوش نعروں اور بڑے بڑے جلسے و جلوسوں سے بنا تھا۔

سرکاری خرچ پر بننے والی 
فلم خاک اور خون (1979) 
میں تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے
سرکاری خرچ پر بننے والی
فلم خاک اور خون (1979)
میں تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے

فلم خاک اور خون (1979) کے مطابق ، پاکستان کا مطالبہ کرنے والے نہتے اور پرامن مظاہرین پر "انگریز سامراج" کے بلا اشتعال لاٹھی چارج اور فائرنگ سے "تحریک پاکستان کے مجاہدین شہید" ہوتے تھے۔ رہی سہی کسر "ہندو فاشزم" کی سازشوں سے پنجاب میں خونریز فسادات کی صورت میں سامنے آئی۔ اسی لیے پاکستان انگریزوں اور ہندوؤں کی شدید مخالفت کے باوجود "مسلمانوں کی لاکھوں قربانیوں" سے وجود میں آیا تھا۔

فلم خاک اور خون (1979) کی کہانی میں بہت سے تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے جن میں چند خاص خاص یہ ہیں:

  • 23 مارچ 1940ء کی "قرارداد لاہور" میں "ایک پاکستان" کا ذکر کہیں نہیں ملتا بلکہ ہندوستان کی آئینی حدود میں رہتے ہوئے "آزاد اسلامی ریاستوں" کی قرارداد پاس کی گئی تھی جس پر 1945/46ء کے جنرل الیکشن میں سو فیصدی مسلم نشستیں جیتی گئی تھیں۔
  • قائد اعظمؒ نے 1946ء میں "کیبنٹ مشن پلان" کو من و عن تسلیم کیا تھا جس میں کم از کم اگلے دس سال تک ہندوستان کی تقسیم روکی گئی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ اس پلان پر عملدرآمد کے لیے آئین سازی کے لیے اپنی حریف جماعت کانگریس کے ساتھ مخلوط حکومت میں بھی شامل ہوئی تھی۔
  • تقسیم کی کسی دستاویز میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ پاکستان ، 14 اگست کو آزاد ہوا تھا۔ پاکستان اور بھارت ، ایک ساتھ آزاد ہوئے لیکن پاکستان کی پہلی سالگرہ سے ایک ماہ پہلے حکومت پاکستان نے بلا مشاورت یہ غیر منطقی فیصلہ صادر فرما دیا تھا کہ ہم اپنا یوم آزادی 15 کی بجائے 14 اگست کو منائیں گے۔
خاک اور خون (1979) ، ایک بڑی کمزور فلم تھی جس میں مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کی کہانی بیان کی گئی تھی جو غیرمنصفانہ طور پر بھارت میں شامل کر دیا گیا تھا۔ ایک خالص پنجابی ماحول کو اردو میں ڈھالنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ فلم کے بجائے ٹی وی اداکاروں کی فوج ظفر موج جمع کی گئی تھی۔ گمنام فنکاروں ، اداکارہ نوین تاجک اور اداکار آغا فراز کی مرکزی کرداروں میں یہ اکلوتی فلم ثابت ہوئی تھی۔ فلم دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ اس فلم کے ہدایتکار مسعود پرویز ہیں۔

جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کے دور حکومت میں 1974ء میں فلم انڈسٹری کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سرکاری ادارے NAFDEC کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس ادارے نے بہت سے تعمیری کام کیے جن میں چند فلمیں بھی سرکاری خرچ پر بنائی گئی تھیں۔ ایسی ہی فلموں میں قیامِ پاکستان کے موضوع پر فلم خاک اور خون (1979) بھی منظر عام پر آئی تھی۔

کرتار سنگھ (1959)

قیامِ پاکستان پر فلم کرتار سنگھ (1959)
سب سے بہترین فلم تھی!
قیامِ پاکستان پر فلم کرتار سنگھ (1959)
سب سے بہترین فلم تھی!
1947ء کے فسادات
جرائم پیشہ افراد اور سماج دشمن عناصر کے کرتوت تھے

تقسیمِ ہند یا قیامِ پاکستان کے موضوع پر سب سے بہترین اور شاہکار فلم کرتار سنگھ (1959) تھی جو "مطالعہ پاکستان" یا دیگر درسی اور تاریخی کتب پر بھاری ہے اور زمینی حقائق کے عین مطابق ہے۔

فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف سیف الدین سیف نے فلم کرتار سنگھ (1959) میں پنجاب کے ایک ایسے گاؤں کا نقشہ کھینچا ہے جہاں صدیوں سے مسلم ، ہندو اور سکھ مل جل کر رہتے ہیں۔ ان میں کرتار سنگھ (علاؤالدین) جیسے جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر بھی ہیں۔ فوجی عمر دین (سدھیر) جیسے ذمہ دار نوجوان بھی ہیں۔ گاؤں کا سب سے محترم شخص ایک ہندو وید ، پریم ناتھ (ظریف) ہے جس کا پورے گاؤں کی نبض پر ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ ہر گھر کی خبر رکھتا ہے اور بلا تعصب اپنی مشترکہ تہذیب و ثقافت اور روایات و اقدار کا امین ہوتا ہے۔ ہیروئن مسرت نذیر کا باپ غلام محمد اور جرنیل سنگھ (اجمل) اس کے بہترین دوست ہیں جو روزانہ شام کو سائیں (عنایت حسین بھٹی) سے ہیر وارث شاہ سن کر دل بہلاتے ہیں۔

فلم کرتار سنگھ (1959) میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ 1947ء کے فسادات مفاد پرست اور جرائم پیشہ افراد کے کرتوت تھے اور دنیا کا کوئی مذہب اور معاشرہ ، فساد ، قتل و غارت اور لوٹ مار کی اجازت نہیں دیتا۔ علیحدگی تو سگے بھائیوں میں بھی ہوتی ہے جو ایک مہذب طریقے سے بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً فلم کے ایک منظر میں وید جی اخبار پڑھ رہے ہیں تو کرتار سنگھ آجاتا ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل مکالمہ ہوتا ہے:

مہاتما گاندھی اور قائداعظمؒ کی لڑائی

کرتارسنگھ: ”کیا اس اخبار میں کوئی گرما گرم خبر ہے۔۔؟“
وید جی: (طنزیہ) ”ہاں۔۔! ، بڑی گرما گرم خبر ہے۔ کل رات مہاتما گاندھی اور قائد اعظمؒ کی لڑائی ہو گئی تھی۔ دونوں لڑتے لڑتے خون میں نہا گئے تھے۔۔!“
کرتارسنگھ: (حیرت سے) ”اچھا۔۔! ، بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے ، وہ تو بڑے مہذب لوگ ہیں ، وہ کیسے لڑ سکتے ہیں۔۔؟“

اگر ہم اپنا فیصلہ
اپنے لیڈروں کے ہاتھ میں دے چکے ہیں
تو انھیں فیصلہ کرنے دو

وید جی: (غصے میں) ”اگر وہ نہیں لڑ سکتے تو تمہاری آنکھوں میں کیوں خون اُترا ہوا ہے۔ تم کیوں اسلحہ لیے تیار بیٹھے ہو؟ دنیا کے کس مذہب میں فساد جائز ہے؟ اگر ہم اپنا فیصلہ اپنے لیڈروں کے ہاتھ میں دے چکے ہیں تو انھیں فیصلہ کرنے دو ، تم کیوں لڑ رہے ہو۔۔؟“

کرتار سنگھ (1959) ، پاکستان کی ان گنی چنی فلموں میں سے ایک ہے جس میں کسی ہندو کو مثبت کردار میں پیش کیا گیا ہے جو بہت سے نام نہاد محب وطن اور نظریاتی یا متعصب اور تنگ نظر لوگوں کو کبھی ہضم نہیں ہوا۔ ظریف (مرحوم) نے یہ لاجواب کردار ادا کر کے اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔

اس فلم کی موسیقی بھی بڑے کمال کی تھی اور سبھی گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ خاص طور پر پنجاب کی تقسیم پر ایک سکھ شاعرہ امرتا پریتم کا یہ نوحہ جو عنایت حسین بھٹی اور زبیدہ خانم نے گایا تھا ، فلم کی ہائی لائٹ تھا:

  • اج آکھاں وارث شاہؒ نوں ، کیتے قبراں وچوں بول۔۔

تقسیمِ ہند پر دیگر فلمیں

قیامِ پاکستان کے حالات کی نقشہ کشی مزید کئی فلموں میں بھی کی گئی جن میں ہدایتکار حیدر چوہدری کی پنجابی فلم حمیدا (1968) ایک یادگار فلم تھی۔

اس فلم میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک جلسہ میں انگریز راج کے خلاف اور مسلمانوں کو جگانے کے لیے ایک لاجواب گیت سننے کو ملتا ہے جو شاید پنجابی زبان میں تحریک پاکستان کے متعلق واحد فلمی گیت ہے جس کو مسعودرانا نے گایا اور اعجاز پر فلمایا گیا تھا:

  • اپنی دھرتی ، اپنے دیس نوں ، اپنا کہن توں ڈردے او
    عقل دے انہیوں ، گنڈ دے کچیو ، سوچو کی پیے کردے او۔۔
ان کے علاوہ فلم شاہدہ (1949) ، بیلی (1950) ، توبہ (1964) ، گوانڈھی (1966) ، لاکھوں میں ایک (1967) ، بہن بھائی (1968) ، ماں پتر (1970) ، خانہ جنگی ، اکبر امر انتھونی (1978) ، پہلی نظر (1979) اور جنت کی تلاش (1999) وغیرہ میں بھی قیام پاکستان کے واقعات شامل تھے۔

ہالی وڈ کی فلم جناح (1998)

ہالی وڈ میں بھی پاکستانی سرمائے سے ایک فلم جناح (1998) بنائی گئی تھی جو بری طرح سے فلاپ ہوئی تھی۔ فلم کی تکمیل کے دوران ہی اس فلم پر بڑی سخت تنقید ہوئی تھی کیونکہ قائد اعظمؒ کا رول کرنے والا امریکی اداکار کرسٹوفرلی ، ڈریکولا کے خوفناک کردار کے لیے مشہور تھا۔

پاکستان کب قائم ہوا؟

بانیِ پاکستان حضرت قائداعظم محمدعلی جناحؒ سے یہ بیان منسوب کیا جاتا ہے کہ "پاکستان ، اسی دن قائم ہو گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔۔"

تاریخی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ ہندوستان میں پہلا شخص کب مسلمان ہوا تھا۔ عربوں کی سمندری تجارت کی وجہ سے بھارت کے جنوبی صوبے کیرالہ کے لوگ پہلی بار مسلمان ہونے کی روایات عام ہیں۔ اگر اثرورسوخ کی بات کی جائے تو 14 سو سال پہلے موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ پر پہلی بار ایک عرب مسلمان سپہ سالار محمد بن قاسم نے یلغار کی تھی جس پر ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔

محمد بن قاسم (1979)

8ویں صدی عیسوی کے آغاز میں اُموی دور حکومت (661 تا 750) میں عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کے صرف 17 سالہ نوجوان بھتیجے اور سپہ سالا محمد بن قاسم (695 تا 715) نے 712ء میں ملتان سمیت پورے سندھ کو فتح کیا تھا۔ اسی لیے سندھ کو "باب الاسلام" بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ کے مغربی کنارے یا پاکستان کے پشتون اور بلوچ علاقے اس سے قبل ہی خلفائے راشدینؓ (632 تا 661) کے دور میں فتح ہو چکے تھے۔

برصغیر پاک و ہند میں پہلی مسلمان ریاست قائم کرنے والے محمد بن قاسم کا بڑا بھیانک انجام ہوا تھا۔ ایک روایت کے مطابق مفتوح راجہ داہر کی دو بیٹیوں نے اس پر عصمت دری کے الزامات عائد کیے جن کی پاداش میں محمد بن قاسم کو صرف بیس سال کی عمر میں بڑی اذیت ناک سزائے موت دی گئی تھی۔

پاکستان میں اس موضوع پر ہدایتکار اکبر بنگلوری نے فلم محمد بن قاسم (1979) بنائی جس میں ایک تیسرے درجہ کے ناکام ہیرو ناظم کو ٹائٹل رول دیا گیا تھا۔ نشو ، ہیروئن تھی۔ یہ ایک ناکام ترین فلم تھی۔

ایاز (1960)

11ویں صدی عیسوی یعنی محمد بن قاسم کی برصغیر میں آمد کے تین صدیوں بعد دوسرے مسلمان حملہ آور ، موجودہ افغانستان کے علاقہ غزنی کے حکمران ، سلطان محمود غزنوی (871 تا 1030) نے 1021ء میں لاہور کو فتح کیا اور اپنے ایک لاڈلے غلام "ایاز" کو گورنر بنا دیا تھا۔ اس طرح سے موجودہ پاکستان میں تین سو سال کے عرصہ میں مسلم اقتدار کا مرحلہ تکمیل کو پہنچا تھا۔

سلطان محمود غزنوی کو ہماری تاریخ میں "بُت شکن" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے 1026ء میں موجودہ بھارت کے صوبہ گجرات کے ساحل پر واقع ہیرے جواہرات سے بھرے ہوئے سومنات کے ایک بہت بڑے بت کو توڑا تھا لیکن افغانستان کے علاقے بامیان میں موجود خالی پتھر کے بُت ، طالبان کے توڑنے کے لیے رکھ چھوڑے تھے۔ اسی لیے پڑوسی ملک کی تاریخ میں محمود کو ایک ڈاکو اور لٹیرا کہا جاتا ہے جس نے اپنے مشہور زمانہ "17 حملوں" میں خوب لوٹ مار اور قتل و غارت گری کی تھی۔

ہدایتکار لقمان نے اسی موضوع پر فلم ایاز (1960) بنائی جس میں اداکار حبیب نے ٹائٹل رول کیا جبکہ شاہنواز نے سلطان محمود غزنوی کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں زبیدہ خانم اور ساتھیوں کی آوازوں میں یہ نعتیہ کلام بڑا مشہور ہوا تھا:

  • جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی ، صلو علیہ و آلہ

ہندوستان پر مسلم راج

ہندوستان (یا موجودہ بھارت) پر مسلم راج کا آغاز 13ویں صدی عیسوی کے آغاز میں ہوا جو موجودہ پاکستان کے مکمل طور پر "مشرف بہ اسلام" ہونے کے دو سو سال بعد کا واقعہ ہے۔ گویا ہندوستان کے دارالحکومت دہلی پر قبضہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو پانچ سو سال کا عرصہ لگا۔

اس حقیقت سے یہ بات بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ تقسیم سے قبل متحدہ ہندوستان میں موجودہ پاکستان کے علاقے (پنجاب ، سندھ ، کے پی اور بلوچستان) ، مسلم اکثریتی علاقے کیوں تھے؟

موجودہ پاکستان ، متحدہ ہندوستان میں
مسلم اکثریتی علاقہ کیوں اور کیسے بنا؟

لاہور کی غوری سلطنت کے ایک جرنیل قطب الدین ایبک نے 1206ء میں دہلی پر قبضہ کیا تھا۔ تین سو سال تک مختلف مسلم حکومتیں قائم رہیں جنھیں "دہلی سلطنت" کہا جاتا ہے۔ ان میں خاندان "غلاماں" کے علاوہ "خلجی" ، "تغلق" ، "سید" اور "لودھی" خاندان بڑے مشہور ہوئے۔ یہ سبھی ترک اور پشتون نسل کے لوگ تھے۔

پاکستان میں اس دور کے کسی کردار پر کوئی فلم نہیں بنی لیکن پڑوسی ملک میں متعدد فلموں کے علاوہ ہندوستان کی تاریخ کی اکلوتی خاتون حکمران "رضیہ سلطانہ" پر بھی فلمیں بنائی گئیں جو 1236ء میں "خاندان غلاماں" کے دور میں چند سال کے لیے حکمران بنی تھی۔ رضیہ ، مشہور بادشاہ شمس الدین التمش کی بیٹی تھی۔

1526ء میں پانی پت کی پہلی لڑائی میں دہلی کے بادشاہ ابراہیم لودھی کو وسطی ایشیاء سے آئے ہوئے چنگیز خان کی نسل سے پیدا ہونے والے ترک النسل ظہیرالدین بابر نے شکست دے کر مغل سلطنت قائم کی جو اگلے دو سو سال تک بڑے جاہ و جلال کے ساتھ قائم رہی۔ اس دور پر بھارت کی طرح پاکستان میں بھی متعدد فلمیں بنائی گئی تھیں۔

مغلیہ دور پر بنائی گئی فلمیں

برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی

تاریخِ عالم میں یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ ایک انگریز تجارتی کمپنی ، "برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی" نے سولہ کروڑ کی آبادی کے اس دور کے دنیا کے امیر ترین ملک پر اپنے بل بوتے پر قبضہ کیا تھا۔ کاروباری منافع ، مراعات اور اثرورسوخ کے بعد انگریزوں کو موقع پرستی اور "طاقت اور سیاست" کے بہترین استعمال سے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لیے ڈیڑھ سو سال کا عرصہ لگا تھا۔

انگریزوں کو ہندوستان پر قبضہ
کرنے کے لیے ڈیڑھ سو سال
کا عرصہ لگا تھا

اس دوران انگریزوں نے اپنی حریف یورپین تجارتی کمپنیوں سے بھی پنجہ آزمائی کی۔ فرانسیسیوں کو ہندوستان سے مار بھگایا۔ ولندیزیوں (ہالینڈ/نیدرلینڈ) کو انڈیا سے انڈونیشیا جانے پر مجبور کر دیا۔ سپین والے انڈیا کی تلاش میں ویسٹ انڈیز (امریکہ) جا نکلے اور کولمبس نے 1492ء میں ایک نئی دنیا دریافت کر لی۔ پرتگالی البتہ بڑے سخت جان ثابت ہوئے جو بھارت کے مغربی گھاٹ کی ایک ریاست "گوا" پر 1961ء تک قابض رہے۔ یورپین اقوام میں پہلے پرتگیزی ہی تھے جنھوں نے 1498ء میں واسکوڈے گاما کی قیادت میں پہلی بار ہندوستان کا سمندری راستہ تلاش کیا تھا۔

برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1613ء میں تجارت کی غرض سے بھارتی صوبہ گجرات کے مقام سورت میں اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔ یہ شہنشاہ جہانگیر (1605/27) کا دور تھا۔ اس دوران کمپنی نے اپنی پرائیویٹ فوج اور بحریہ بھی بنا لی اور دیدہ دلیری کا یہ عالم ہوا کہ 1689ء میں اورنگزیب عالمگیر کی مغل حکومت سے ٹکر بھی لی لیکن منہ کی کھائی تھی۔

مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر (1658 تا 1707) کے انتقال کے بعد مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا تھا۔ کمزور قیادت کی وجہ سے بے شمار چھوٹی بڑی آزاد اور خودمختار ریاستیں وجود میں آگئیں جو بعد میں انگریزوں کے لیے ترنوالہ ثابت ہوئیں۔ 1757ء میں انگریزوں کو بنگال کے نواب سراج الدولہ کے خلاف پہلی بڑی کامیابی ملی جس پر سابقہ مشرقی پاکستان میں ایک فلم بنائی گئی تھی۔

نواب سراج الدولہ (1968)

18ویں صدی عیسوی میں مغلیہ سلطنت کی شکست و ریخت کے بعد بہت سے نواب اور مہاراجے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی شکل میں آزاد و خود مختار ہو گئے تھے۔ ان میں نواب سراج الدولہ کا خاندان بھی شامل تھا جس نے بنگال ، بہار اور اڑیسہ پر اپنی حکومت قائم کی تھی۔ نواب صاحب نے خود صرف 23 سال کی عمر میں 1756/57ء میں بنگال پر حکومت کی تھی۔

اپنے مختصر دور اقتدار میں ایک دن نواب سراج الدولہ نے کلکتہ میں کاروبار کی غرض سے آنے والی برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی پر اس اطلاع پر اچانک حملہ کر دیا کہ وہ غیر قانونی طور پر اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

ردعمل کے طور پر 1757ء میں مشہور زمانہ "جنگ پلاسی" لڑی گئی جس میں فاتح انگریز سپہ سالار لارڈ کلائیو نے جدید سامانِ حرب و ضرب اور صرف تین ہزار کی فوج کی مدد سے نواب کی آدھ لاکھ سے زائد کی فوج کو شکست فاش دے کر بنگال ، بہار اور اڑیسہ پر قبضہ کیا۔ نواب ، فرار ہوا لیکن پکڑا گیا اور بڑی بے دردی کے ساتھ قتل ہوا۔ اس کی شکست کی بڑی وجہ ہوس اقتدار اور محلاتی سازشوں کے علاوہ اس کی فوج کے ایک سالار "میر جعفر" کی غداری قرار دی جاتی ہے۔ ملک گیری کی ہوس میں انگریزوں کی ہندوستان میں یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔

سابقہ مشرقی پاکستان میں ہدایتکار عطا الرحمان خان نے انور حسین کو ایک تاریخی بنگالی/اردو ڈبل ورژن فلم نواب سراج الدولہ (1967) میں ٹائٹل رول میں پیش کیا تھا۔ انورہ ، ہیروئن تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم کو روس کے ایک فلمی میلے میں ایک خصوصی ایوارڈ ملا تھا۔

ہندوستان پر انگریز راج

بنگال کی فتح کے بعد انگریزوں کی دیدہ دلیری کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے 1764ء میں میدانِ جنگ میں مغلوں کو پہلی بڑی شکست دی اور 1803ء میں دہلی پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ 1835ء میں انگریزوں کا سکہ بھی چلنے لگا اور انگریزی زبان نے سرکاری زبان کے طور فارسی کی جگہ لے لی جو تین سو سال میں کبھی عوامی زبان نہ بن سکی تھی۔

موجودہ پاکستان میں 1799ء میں پنجاب ، کے پی (صوبہ سرحد) اور کشمیر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ (1770 تا 1839) نے مغلوں اور افغانوں کو شکست دے کر سکھوں کی حکومت قائم کی جو پچاس سال بعد 1849ء میں انگریزوں نے ختم کی تھی۔

اورنگزیب عالمگیر (1618 تا 1707) کی تین دھائیوں کی مہم جوئی کے باوجود ہندوستان کے بیشتر علاقوں پر مرہٹوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی جو 1757ء میں دہلی پر بھی قابض ہو چکے تھے اور مغل بادشاہ ، محض نام کے بادشاہ بن کر رہ گئے تھے۔

قبل ازیں ، ایرانی حکمران نادر شاہ درانی (1688 تا 1747) نے 1739ء میں دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر مغل حکومت کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں تھیں۔ وہ ، بے شمار سونا چاندی کے علاوہ کوہ نور ہیرا اور تخت طاؤس بھی لوٹ کر لے گیا تھا۔

افغان حکمران احمد شاہ ابدالی (1722/72) نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا اور 1761ء میں پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو ذلت آمیز شکست دی جس سے ان کا پورا ہندوستان فتح کرنے کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔ 1818ء میں انگریزوں نے مرہٹوں کو فیصلہ کن شکست دے کر موجودہ بھارت کے وسطی علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

انگریزوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لیے بوقت ضرورت "طاقت اور سیاست" کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ مختلف ہندو ، مسلم اور سکھ علاقائی منصب داروں کو لالچ دے کر انھیں اپنی حکومتوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا اور وعدہ پورا کرتے ہوئے انھیں "راجے ، مہاراجے اور نواب" بنا دیا جواصل میں انگریزوں کے اطاعت گزار اور زرخرید غلام تھے۔ مسلمان حکمران نظام حیدرآباد (دکن) بھی انگریزوں کے باج گزار بن چکے تھے لیکن ان کے پڑوسی اور جنوبی ریاست میسور میں حیدرعلی اور ان کے بیٹے ٹیپو سلطان کے ارادے مختلف تھے۔

حیدر علی (1978)

حیدرعلی (1721/82) ، جنوبی ہندوستان کی ہندو اکثریتی ریاست میسور (موجودہ ریاست کرناٹک) کے ہندو راجہ کی فوج کے ایک عام سپاہی سے سپہ سالار بنے۔ 1761ء میں مہاراجہ کا تختہ الٹ کر میسور کے تخت پر قبضہ کر لیا لیکن دو دھائیوں کے دور اقتدار میں انگریزوں ، مرہٹوں اور پڑوسی ریاست کے مسلمان نظام حیدرآباد سے برسر پیکار رہے۔

ہدایتکار مسعود پرویز کی فلم حیدرعلی (1978) کی کہانی ریاض شاہد نے لکھی تھی جو حقیقت سے زیادہ مسلم جذباتی پن پر ایک کمزور فلم تھی۔ محمدعلی نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ ممتاز ہیروئن تھی۔ فلم کی حد تک سبھی گیت اچھے تھے لیکن سپرہٹ کوئی نہیں تھا۔

تاریخی فلموں سے دلچسپی کی انتہا تھی جب یہ فلم دیکھنے کے لیے 170 کلومیٹر کا سینما کا آنے جانے کا سفر طے کرنا پڑا تھا۔۔!

ٹیپو سلطان (1979)

حیدرعلی کے بیٹے ٹیپو سلطان (1750/99) نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نظام حیدرآباد دکن کے برعکس انگریزوں کی حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹیپو سلطان ، ایک بہادر اور نڈر حکمران تھے لیکن ایک ناکام سپہ سالا تھے جنھیں مرہٹوں کے خلاف ایک جنگ میں بڑی ذلت آمیز شکست ہوئی جس میں آدھی ریاست گنوا دی اور کئی سال تک تاوان ادا کرتے رہے۔ فرانسیسیوں کی شہ پر انگریزوں سے محاذ آرائی کی لیکن 1799ء میں نہ صرف شکست کھائی بلکہ "شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے" کے مصداق میدان جنگ میں جان دے دی تھی۔

رزاق قیصر نامی ہدایتکار کی فلم ٹیپو سلطان (1979) میں بھی محمدعلی نے ٹائٹل رول کیا تھا لیکن یہ فلم بھی بری طرح سے ناکام رہی تھی۔ روحی بانو ، ہیروئن تھی۔ یہ فلم بھی نسیم حجازی کے ناول پر بنائی گئی تھی جن کی کہانیوں پر بنائی جانے والی چاروں فلمیں کامیابی سے محروم رہی تھیں۔

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ 1978/79ء میں اوپر تلے متعدد تاریخی موضوعات پر فلمیں بنیں جن میں حیدرعلی (1978) ، ٹیپو سلطان ، محمد بن قاسم اور خاک اور خون (1979) شامل ہیں لیکن یہ سبھی فلمیں بری طرح سے فلاپ ہوئیں۔ یہ جنرل ضیاع مردود کا منافقانہ دور تھا جس میں مذہبی انتہا پسندی ، فرقہ واریت ، عدم سیاسی برداشت ، ہیروئن ، کلاشنکوف ، سمگلنگ اور کرپشن عام تھی۔ ایسے میں ایسی سنجیدہ موضوعات پر فلمیں ہوائی فائر ثابت ہوئیں۔

انگریز سامراج کے خلاف مسلح مزاحمت

ہماری تاریخی فلموں ، خصوصاً پنجابی فلموں کا ایک پسندیدہ موضوع ، انگریز سامراج کے خلاف مسلح مزاحمت ہوتی تھی۔ ان فلموں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے آزادی وؤٹ کی طاقت سے نہیں ، جنگ و جدل سے حاصل کی تھی۔

ایسی افسانوی فلموں میں عام طور ایکشن ہیرو سدھیر کے علاوہ طالش ، ریحان اور ادیب ، انگریزوں کے منفی کرداروں میں ہوتے تھے جبکہ سکیدار نامی اداکار کو ہمیشہ ایک ہندو بنیے کے مزاحیہ اور منفی کردار میں پیش کیا جاتا تھا۔ ایسی مضحکہ خیز فلمیں حقیقت سے زیادہ خون گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہوتی تھیں۔

برٹش راج کے خلاف بنائی جانے والی پاکستانی فلموں میں عام طور پر یہ بتایا جاتا تھا کہ انگریز اور ہندو ، مسلمانوں کے خلاف ہوتے تھے اور مسلمانوں نے اکیلے ہی ان کے خلاف لڑ کر آزادی حاصل کی تھی۔

سکھوں کو عام طور پر مثبت کردار میں دکھایا جاتا تھا حالانکہ مسلمانوں اور سکھوں میں تاریخی اور خونی دشمنی تھی۔ سکھوں کے ایک گرو ارجن دیو سنگھ کو 1606ء میں جہانگیر نے قتل کروا دیا تھا اور اسی انتقامی جذبے کے تحت ان کی ساری جدوجہد ہی مسلمان مغل اور افغان بادشاہوں کے خلاف تھی۔ سکھ دورِ حکومت (1799 تا 1849) کے پچاس برسوں میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا اور مبینہ طور پر مساجد کو اصطبل بنا دیا گیا تھا۔ مسلمان ، سکھوں کے اس سیاہ دور کو "سکھا شاہی" کہا کرتے تھے اور انگریزوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے۔

1947ء کے خونی فسادات میں بھی سکھوں نے مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا تھا جس کے بدلے میں پاکستانی پنجاب سے سکھوں کے ساتھ ہندوؤں کا بھی صفایا کر دیا گیا تھا جو عام طور پر امن پسند لوگ ہوتے تھے اور لڑائی مارکٹائی سے پرہیز کرتے تھے البتہ مسلمانوں اور انگریزوں کو اپنا مشترکہ دشمن اور غاصب سمجھتے تھے اور ہندوستان پر صرف اپنا حق جتاتے تھے۔

1857ء کی جنگ آزادی

انگریزوں کے خلاف ایک ہی مسلح بغاوت کا تاریخی ثبوت ملتا ہے جو 1857ء میں ہندوستانی سپاہیوں نے کی تھی۔ اس افواہ پر کہ بندوق کی گولیوں پر چڑھی ہوئی چربی سور یا گائے کی ہے ، ہندو اور مسلمان فوجیوں نے میرٹھ چھاؤنی میں بغاوت کر دی تھی جو بیشتر چھاؤنیوں تک پھیل گئی تھی۔ اس دوران ملک بھر میں بےشمار بے گناہ سویلین انگریزوں کا قتلِ عام بھی ہوا تھا۔

برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے یہ بغاوت بڑی سختی کے ساتھ کچل دی تھی اور مشکوک افراد کو چن چن کر قتل کیا تھا۔ اسی واقعہ کے بعد انگریزوں نے مغل سلطنت کا رسمی خاتمہ کرتے ہوئے بیس سال سے موجود ڈمی بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو معزول کر کے رنگون (برما) بھیج دیا تھا اور وہیں ان کا انتقال ہوا تھا جبکہ ان کے چند بیٹے اس بغاوت میں مارے گئے تھے۔ انگریز اس بغاوت کو "غدر" جبکہ ہمارے تاریخ دان "1857ء کی جنگ آزادی" کہتے ہیں۔

اس نام نہاد جنگ آزادی کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1858ء میں ہندوستان کی حکومت ، برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی سے منتقل ہو کر براہ راست تاجدار برطانیہ کے زیر اثر ہوگئی تھی جو اگلے نوے سال تک رہی۔ ہندوستان بھر میں سیاسی استحکام آ گیا تھا اور گزشتہ ڈیڑھ سو سالہ طوائف الملوکی کا دور ختم ہو گیا تھا۔ لیکن ہمارے فلمسازوں کے بقول ، اس دور میں انگریزوں سے آزادی کی بے شمار مسلح تحریکیں چلائی گئیں جو عام طور پر انتہائی مبالغہ آرائی پر مبنی افسانوی کرداروں پر مشتمل رہی ہیں۔ ایسی فلموں میں چند خاص خاص فلموں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

باغی (1956)

پاکستان میں انگریز سامراج کے خلاف پہلی بڑی سپرہٹ گولڈن جوبلی فلم باغی (1956) تھی جس میں اکبر خان نامی سپاہی کی انگریز فوج سے بغاوت کی کہانی کو فلمایا گیا تھا۔ پاکستان کے پہلے سپرسٹار ہیرو ، سدھیر نے ٹائٹل رول کیا اور "پہلے ایکشن ہیرو" کا لقب بھی حاصل کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں فلمی ہیروز میں سدھیر کی مقبولیت کا ریکارڈ صرف سلطان راہی توڑ سکے تھے جنھوں نے اسی فلم سے ایک ایکسٹرا کے طور فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔

فلم باغی (1956) ہی پہلی فلم تھی جس کو چین میں بھی ریلیز کیا گیا تھا جہاں یہ فلم بے حد پسند کی گئی تھی۔ ہدایتکار اشفاق ملک نے اس فلم کی کمائی سے لاہور میں اے ایم فلم سٹوڈیو قائم کیا تھا۔

عجب خان (1961)

سدھیر ہی کو ٹائٹل رول میں لے کر ہدایتکار خلیل قیصر نے ایک اور مشہور فلم عجب خان (1961) بنائی جو ایک اور سچا واقعہ تھا جب عجب خان نامی ایک شخص نے اپنی ماں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایک انگریز فوجی افسر کی جواں سال بیٹی کو اغواء کر لیا تھا۔ یہی فلم بعد میں پنجابی اور پشتو میں بھی بنائی گئی تھی۔

انگریز سامراج کے خلاف بنائی جانے والی دیگر مشہور پاکستانی فلموں میں "ایکشن ہیرو" سدھیر کو لے کر فلم کالا پانی (1963) ، فرنگی ، خیبرپاس (1964) ، جنگِ آزادی ، ایک ہی راستہ (1968) ، ہیرا موتی (1972) ، سلطانا ڈاکو (1975) ، باغی تے فرنگی اور مفرور (1976) وغیرہ بنائی گئی تھیں۔

ان کے علاوہ خاص طور پر پنجابی فلموں میں انگریز سامراج کے خلاف بہت سی فلمیں بنیں جن میں چند ایک ذہن میں آرہی ہیں۔ امام دین گوہاویا (1967) ، گبھرو پت پنجاب دے (1969) ، غلام (1973) ، جوان میرے دیس دا (1974) ، بغاوت ، چترا تے شیرا (1976) ، بکا راٹھ (1979) ، برکت مجیٹھیا (1980) ، ریشمی رومال (1984) اور غلامی (1985) وغیرہ۔

شہید تیتو میر (1969)

بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) میں ایک قومی ہیرو کا درجہ رکھنے والی ایک اور مشہور ہستی ، شہید تیتو میر (1782 تا 1831) پر بھی 1969ء میں ایک بنگالی اردو ڈبل ورژن فلم بنائی گئی تھی۔ ہدایتکار ابن میزان کی اس فلم میں بھی غالباً ٹائٹل رول انور حسین ہی نے کیا تھا۔

تیتو میر نے بنگال میں غریب کسانوں کے استحصال کے خلاف تحریک چلائی۔ انھوں نے اپنے مرکز کے طور پر بانسوں کا ایک انتہائی مضبوط قلعہ بنایا ہوا تھا۔ مقامی ہندو زمیندداروں کے دیگر محصولات کے علاوہ "داڑھی ٹیکس" کے خلاف مسلح جدوجہد کی۔ محدود وسائل اور غیر تربیت یافتہ جنگجو کسانوں کی وجہ سے 1831ء میں انگریزوں کی پیشہ وارانہ فوج سے شکست کھائی تھی۔

تیتو میر ، ایک عالم اور جہادی ، سید احمد شہید (1786 تا 1831) سے متاثر تھے جنھوں نے پنجاب کے حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف مسلح بغاوت کرتے ہوئے 1830ء میں پشاور پر عارضی قبضہ کر لیا تھا اور اتفاق سے 1831ء ہی میں بالا کوٹ کے ایک معرکے میں شہید ہو گئے تھے۔

"پنجاب کے ہیرو"

تاریخی طور پر انگریز راج کے خلاف آزادی کی کوئی منظم مسلح جدوجہد نہیں ملتی ، اس لیے بہت سی افسانوی کہانیوں کے علاوہ افسانوی کردار بھی تخلیق کیے گئے جنھیں "پنجاب کے ہیرو" بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ان میں مشہور زمانہ ڈاکوؤں اور قانون شکن کرداروں مثلا "دُلا بھٹی" پر 3 ، "جبرو" پر 5 ، "نظام" پر 5 ، "ملنگی" پر 2 اور "سلطانا ڈاکو" پر 2 فلمیں بنیں اور بیشتر فلمیں بڑی کامیاب رہیں۔

پنجاب میں بطور خاص ، احساس کمتری شدید رہا ہے جہاں کبھی شمال سے ترکوں ، منگولوں اور پٹھانوں نے یلغار کی تو کبھی مغرب سے یونانیوں ، عربوں اور ایرانیوں نے تاراج کیا۔ کبھی جنوب سے انگریزوں اور ہندوستانیوں نے فتح کیا تو کبھی رہی سہی کسر سکھوں ، جاٹوں اور اپنے ہی لشکر کے ہاتھیوں نے پوری کر دی تھی۔ سمندر پار سے امریکہ ، مدت سے ہمارا ان داتا رہا ہے اور آج کل اس کا قائم مقام IMF ہماری تقدیر کے فیصلے کر رہا ہے جبکہ مشرق سے چین بھی قابض ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انھی تلخ تاریخی حقائق کی روشنی میں ٹھنڈے دل و دماغ سے غوروفکر کریں تو یہ کڑوی گولی نگلنا پڑتی ہے کہ پنجاب نے آج تک کوئی قومی لیڈر یا ہیرو پیدا نہیں کیا۔ اسی لیے یہاں ڈاکوؤں ، چوروں ، لٹیروں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو فلموں میں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجابی فلموں میں ہیرو سے زیادہ ولن کو پسند کیا جاتا رہا ہے۔ سلطان راہی ، اس کی بہت بڑی مثال تھے جو ایک ولن سے ہیرو بنے جبکہ دیگر ولن اداکاروں میں علاؤالدین ، مظہرشاہ ، ساون ، مصطفیٰ قریشی اور شفقت چیمہ کی مقبولیت مسلمہ رہی ہے۔

پاک بھارت کشیدگی اور کشمیر

1947ء میں انگریز راج ختم ہوا اور برصغیر یا ہندوستان ، پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہوا جس پر مضمون کی ابتداء میں تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا جو پاک بھارت مستقل کشیدگی کا باعث بنا۔ مہاراجہ کشمیر نے مسلم عوام کی رائے کے برعکس اپنا اقتدار بچانے کے لیے بھارت سے الحاق کر لیا جس کے نتیجہ میں 1947/48ء میں پہلی پاک بھارت جنگ میں گلگت اور بلتستان کے علاوہ موجودہ آزاد کشمیر کے علاقے اس وقت کے ڈوگرہ راج سے آزاد کروائے گئے تھے۔

کشمیر کے موضوع پر پہلی فلم جہاد (1950) بنائی گئی لیکن سب سے زیادہ شہرت ہدایتکار ریاض شاہد کی فلم یہ امن (1971) کو ملی جس میں نشو اور جمیل روایتی جوڑی تھے جبکہ طالش اور علاؤالدین مرکزی کردار تھے۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں اور مہدی حسن کا الگ الگ گایا ہوا یہ گیت بڑا مشہور ہوا تھا:

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے ، تم ہی کہو۔۔

پاک بھارت جنگیں

1965ء میں ایک اور پاک بھارت جنگ ہوئی جس میں "کشمیر بزور شمشیر" حاصل کرنے کی کوشش بری طرح سے ناکام ہوئی تھی۔ اس جنگ کے واقعات کو متعدد فلموں میں فلمایا گیا جن میں آزادی یا موت ، معجزہ ، وطن کا سپاہی ، ہمراہی اور مادروطن (1966) قابل ذکر تھیں۔ ان فلموں میں بڑے بڑے سپرہٹ گیت گائے گئے جن میں نسیم بیگم کا یہ لازوال گیت ناقابل فراموش ہے:

  • اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو ، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔۔
1971ء میں بھارت سے ایک اور جنگ ہوئی جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا تھا۔ اس جنگ میں نوے ہزار سے زائد پاکستانی جنگی قیدی تھے جن پر ایک مکمل فلم چمن خان (1978) بنائی گئی جبکہ ایک پنجابی فلم آن (1973) اس موضوع پر ایک اشارتی فلم تھی۔ حال ہی میں اداکار شاہد کے بیٹے ٹی وی اینکر کامران شاہد نے بھی ایک فلم ہوئے تم اجنبی (2023) بنائی جس میں انھوں نے سانحہ مشرقی پاکستان کو اپنی سوچ کے مطابق فلمایا تھا۔

پاکستان ایئر فورس پر ایک فلم

پاکستان کی تاریخی فلموں میں ایک یادگار فلم قسم اس وقت کی (1969) تھی جو پاکستان ایئر فورس پر بنائی گئی پہلی تھی۔ شبنم اور طارق عزیز مرکزی کردار تھے۔ فلمساز اور ہدایتکار اجے کاردار تھے جن کے کریڈٹ پر فلم جاگو ہوا سویرا (1959) بھی تھی جس نے ماسکو کے ایک فلمی میلے میں گولڈ میڈل جیتا تھا لیکن یہ فلم ، فلمی شائقین کو متاثر نہ کر سکی تھی۔

زرقا (1969)

کشمیر کا ذکر ہو تو فلسطین کا ذکر بھی لازمی ہو جاتا ہے جو آج بھی ایک برننگ پوائنٹ ہے جہاں بے گناہ جانوں کا ضیاع روزمرہ کا معمول ہے۔

اصل میں فلسطینوں اور یہودیوں کا تنازعہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ کبھی فلسطینی بڑے طاقتور اور ظالم ہوتے تھے جو یہودیوں پر ظلم ڈھاتے تھے لیکن اب معاملہ برعکس ہے۔

1948ء میں اسرائیل کے قیام سے اب تک یہ علاقہ سکون سے محروم ہے۔ 1917ء میں پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی ترکوں کو شکست ہوئی تو انگریزوں (یا صلیبیوں) نے ایک بار پھر بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا لیکن انھوں نے اس مقدس جگہ کا قبضہ حسب وعدہ اردن کے مسلمانوں کو دے دیا تھا۔

1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے عرب اتحادی ممالک کو شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا۔ مصر سے غزہ اور صحرائے سینا ، شام سے گولان کی پہاڑیاں اور اردن سے بیت المقدس سمیت دریائے اردن کی مغربی پٹی پر مکمل قبضہ کر لیا تھا جو اب ایک نیم خود مختار فلسطینی ریاست کی صورت میں موجود ہے لیکن اسرائیل کے ماتحت ہے۔

پاکستان میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر فلمساز اور ہدایتکار ریاض شاہد نے ایک شاہکار فلم زرقا (1969) بنائی جس میں ان کی اداکارہ بیوی نیلو نے ایک فلسطینی خودکش مجاہدہ کا رول کیا تھا۔ اعجاز ہیرو تھے لیکن طالش نے یہودی کے کردار کو امر کردیا تھا۔ اس فلم کی جان مہدی حسن کا یہ گیت تھا:

  • رقص ، زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔۔
اسی موضوع پر ہدایتکار ریاض احمد نے ایک فلم العاصفہ (1971) بھی بنائی تھی لیکن وہ ناکام رہی تھی۔

شہید (1962)

فلسطین کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں 1930 کی دھائی میں انگریزوں کی عرب کے صحراؤں میں تیل کی دریافت کا قصہ بھی فلمایا گیا تھا۔

ہدایتکار خلیل قیصر کی شاہکار فلم شہید (1962) ایک بین الاقوامی میعار کی فلم تھی جس میں مسرت نذیر نے ایک بدنام زمانہ عورت کا کردار کیا جو وطن کی خاطر جان دے کر شہادت کا رتبہ حاصل کرتی ہے۔ اعجاز ، طالش اور علاؤالدین دیگر اہم کردار تھے۔ اس فلم کے گیت بھی کمال کے تھے ، خاص طور پر نسیم بیگم کا یہ گیت لاجواب تھا:

  • اس بے وفا کا شہر ہے ، اور ہم ہیں دوستو۔۔
اس فلم کو ہدایتکار حسن طارق نے فلم وطن (1981) کی صورت میں دوبارہ بنایا لیکن اس فلم کا کوئی ایک بھی شعبہ فلم شہید (1962) کے معیار تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ رانی ، شاہد اور محمدعلی مرکزی کردار تھے۔ اس فلم کا ایک گیت میڈم نورجہاں اور غلام عباس کا الگ الگ گایا ہوا مقبول ہوا تھا:
  • اے دوست ، تیری آنکھ اگر نم ہے تو مجھے کیا۔۔
اس کے علاوہ افغان جہاد پر بارود کا تحفہ (1990) اور دہشت گردی کے خلاف وار (2007) مشہور فلمیں تھیں۔

سپین اور پرتگال پر مسلم راج

8ویں صدی عیسوی میں برِاعظم یورپ کے دو ممالک سپین اور پرتگال ، مسلمانوں نے فتح کیے تھے۔ الجزائر کے بربر قبائل سے تعلق رکھنے والے ایک سپہ سالار طارق بن زیاد نے 711ء میں موجودہ جبرالٹر (جبل الطارق) کے ساحل پر اتر کر واپسی کی کشتیاں جلا دی تھیں اور سات برسوں میں پورے جزیرہ نما ہسپانیہ میں مسلمانوں کی حکومت قائم کی جو 1492ء تک رہی تھی۔ مسلمان ، جزیرہ نما آبیرئن کو فتح کرتے ہوئے فرانس کے شہر پیرس تک جا پہنچے تھے لیکن 732ء میں ٹورز کے مقام پر فیصلہ کن شکست ہوئی اور پھر کبھی آگے نہ بڑھ سکے تھے۔

غرناطہ (1965)

سپین پر ساڑھے سات سو سالہ اقتدار کے بعد مسلمانوں کا آخری ٹھکانہ غرناطہ تھا جہاں سے انھیں چن چن کر ختم کیا گیا تھا۔ اس موضوع پر ہدایتکار ریاض شاہد نے فلم غرناطہ (1971) بنائی جس میں یوسف خان نے مرکزی کردار کیا تھا۔ روزینہ اور جمیل روایتی جوڑی تھی۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا:

  • کس نام سے پکاروں ، کیا نام ہے تمہارا۔۔
مجھے وہ منظر کبھی نہیں بھول سکتا جب ایک سپینش پروفیسر سے تاریخ پر بات ہو رہی تھی تو اس نے سپین سے مسلمانوں کی بے دخلی پر نہ صرف زبان سے اظہار کیا بلکہ ٹانگ ہلا کر ٹھڈا مارتے ہوئے کہا "ہم نے مسلمانوں کو اس طرح سے نکالا تھا۔۔!"

بظاہر اس تعلیم یافتہ اور مہذب شخص کی اس حرکت اور نفرت و حقارت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کوئی بھی فاتح ، مفتوح کے لیے پسندیدہ نہیں ہوتا۔ آپ دوسروں کے علاقے تو فتح کر سکتے ہیں لیکن دل نہیں چاہے آپ کتنا ہی خود کو حق بجانب سمجھتے ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے مسلمان تاریخ دان ، مسلمانوں کی کامیابی کا پیمانہ فتوحات کو سمجھتے آئے ہیں لیکن سپین ، مشرقی یورپ اور ہندوستان سے مسلم اقتدار کے خاتمے بہت بڑا سوالیہ نشان رہے ہیں۔

مسلم رومن کشمکش پر فلمیں

1950/60 کی دھائیوں میں پاکستانی فلموں کا ایک پسندیدہ موضوع مسلمانوں اور رومیوں کی کشمش بھی ہوتی تھی جس پر بہت سی فلمیں بنیں۔ یہ فلمیں عام طور پر افسانوی کرداروں پر مشتمل ہوتی تھیں لیکن جنگ و جدل اور رقص و سرور سے بھرپور کاسٹیوم فلمیں ہوتی تھیں۔ جنرل ایوب خان کے آمرانہ دور حکومت میں جابر اور قابض قوتوں کے خلاف مسلح جدوجہد والی ایسی فلمیں عمومی جذبات و احساسات کی عکاسی کیا کرتی تھیں۔

تاریخِ عالم کی عظیم سلطنتِ روم (27 قبل مسیح تا 1453) ، چوتھی صدی عیسوی میں دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ مشرق وسطیٰ کا بیشتر علاقہ مشرقی روم ، یونانی یا بازنطینی سلطنت کہلاتا تھا جس کا دارالحکومت "بازنطین" (قسطنطنیہ یا استنبول) تھا۔

نبی پاک ﷺ ہی کے دور سے ہی رومیوں سے مسلمانوں کی کشمش شروع ہو گئی تھی۔ 637ء میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بیت المقدس فتح ہوا لیکن رومی سلطنت کے خلاف فیصلہ کن فتح آٹھ سو سال بعد یعنی 1453ء میں جا کر ہوئی جب استنبول فتح ہوا اور سلطنت روم ختم ہوئی تھی۔

گلفام (1961)

ہدایتکار ایس سلیمان کی سپرہٹ نغماتی فلم گلفام (1961) ، اس سلسلے کی بہت بڑی فلم تھی جس میں درپن نے ٹائٹل رول کیا تھا جبکہ مسرت نذیر ہیروئن تھی۔ نذر نے ڈبل رول کیا جس میں ایک رومن شہنشاہ کا رول بھی تھا۔ اس فلم میں منیرحسین کا گیت "اٹھا لے آپ ہی خنجر اٹھا لے۔۔" اور سلیم رضا کا گیت "یہ ناز ، یہ انداز ، یہ جادو ، یہ ادائیں ، سب مل کے تیری مست جوانی کو سجائیں۔۔" بڑے مقبول ہوئے تھے۔

بغاوت (1963)

مسلمانوں اور رومیوں کی جنگ و جدل پر ایک اور مشہور فلم بغاوت (1963) تھی جس کے مرکزی کرداروں میں سدھیر کے ساتھ ان کی بیگم شمی تھی۔ اس فلم میں مکمل ولن اور رومن جرنیل کا منفی کردار اداکار اکمل نے کیا تھا جو اس وقت تک پنجابی فلموں کے سپرسٹار نہیں بنے تھے۔

مجاہد (1965)

رومیوں کی مسلمانوں سے چپقلش پر بنائی گئی ایک اور مشہور فلم مجاہد (1965) تھی جس کے ہیرو سدھیر اور ولن محمدعلی تھے۔ یہ فلم 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ریلیز ہوئی اور اس فلم کا یہ ترانہ اس دور کا سب سے مقبول ترین جنگی ترانہ ثابت ہوا جس کو مسعودرانا ، شوکت علی اور ساتھیوں نے گایا تھا:

  • ساتھیو ، مجاہدو ، جاگ اٹھا ہے سارا وطن۔۔

عادل (1966)

اردو فلموں کے عظیم ہیرو محمدعلی نے بطور فلمساز پہلی فلم عادل (1966) بنائی جس میں وہ ایک رومی سپاہی ہوتے ہیں لیکن مہدی حسن کا پس منظر میں یہ گیت "راہی بھٹکنے والے ، پڑھ لا الہ کے اجالے۔۔" انھیں مسلمان بنا دیتا ہے۔ اسی فلم میں ناہید نیازی کا گایا ہوا یہ گیت جو ایک چائلڈ سٹار مراد پر فلمایا گیا تھا ، بڑا مشہور ہوا تھا:

  • پیاری ماں ، کرو دعا ، میں جلد بڑا ہو جاؤں۔۔
ان کے علاوہ مسلم رومن چپقلش پر بنائی گئی دیگر فلموں میں الہلال (1966) ، سجدہ ، کافر (1967) ، شبستان (1969) اور ریشماں (1970) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

مسلم منگول کشمکش

پاکستانی فلموں میں مسلمانوں اور تاتاریوں یا منگولوں کی لڑائیوں پر بھی فلمیں بنیں۔ پہلی بار جس تاریخی شخصیت پر فلم بنائی گئی وہ عظیم منگول فاتح چنگیز خان (1162 تا 1227) تھا۔

12ویں صدی عیسوی میں منگولیا میں پیدا ہونے والے اس عظیم فاتح کی سلطنت ، تاریخِ انسانی میں انگریزوں کے بعد دوسری بڑی سلطنت تھی جو براعظم ایشیاء کے مشرقی ملک کوریا سے مشرقی یورپ تک پھیلی ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی ٹڈی دل افواج ہندوستان فتح نہیں کر سکی تھیں اور ایک مصری مملوک مسلم بادشاہ سےشکست کھا کر ان کی فتوحات کا سلسلہ رک گیا تھا۔

چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے 1258ء میں مسلمانوں کی پانچ سو سالہ قدیم عظیم عباسی بادشاہت (750 تا 1258) کو تہہ و بالا کیا تھا اور بغداد جیسے علم و ہنر کے گہوارے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ یہیں سے مسلمانوں اور منگولوں یا تاتاریوں کے درمیان نفرت شروع ہوئی جو مختلف کہانیوں اور قصوں کے بعد فلموں کی صورت میں بھی سامنے آئی۔

چنگیز خان (1958)

نسیم حجازی کے ناول "آخری چٹان" پر بنائی گئی فلم چنگیز خان (1958) کا سکرین پلے لکھنے والے فلمساز چوہدری حسن الدین نے فلم کا ٹائٹل رول بھی کیا تھا۔ فلم کے روایتی ہیرو کامران نامی اداکار تھے جو ریڈیو پشاور کے آرٹسٹ تھے جبکہ ہیروئن آشا پوسلے تھی جو پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کی ہیروئن تھی۔ یہ اس کی بطور ہیروئن آخری فلم تھی۔

یہ ایک ناکام فلم تھی لیکن اس فلم میں عنایت حسین بھٹی اور ساتھیوں کی آوازوں میں یہ جنگی ترانہ پاک فوج کے بینڈ میں شامل ہوا تھا:

  • اے مرد مجاہد جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا ، اللہ اکبر۔۔

نور اسلام (1957)

منگولوں یا تاتاریوں کے خلاف بنائی جانے والی دیگر فلموں میں سے پہلی فلم نوراسلام (1957) تھی جس میں ہدایتکار اور اداکار نذیر نے اپنی اداکارہ بیوی سورن لتا کو درپن کے مقابل کاسٹ کیا تھا۔ اس فلم میں آنجہانی سلیم رضا کی گائی ہوئی یہ شاہکار اور لازوال نعت تھی:

  • شاہ مدینہ ﷺ ، یثرب کے والی ، سارے نبی تیرے در کے سوالی۔۔

عظمتِ اسلام (1965)

اسی انداز کی ایک فلم عظمت اسلام (1965) بھی تھی جس میں ہدایتکار اور اداکار نذیر نے اپنی اداکارہ بیوی سورن لتا کو حبیب کے مقابل کاسٹ کیا تھا۔ انتہائی بے مقصد فلم تھی جس میں جذباتی مکالموں کا سہارا لیا گیا تھا۔ اس فلم میں سلیم رضا کے آٹھ گیت تھے لیکن مسعودرانا اور ساتھیوں کا گایا ہوا یہ جنگی ترانہ بڑا مقبول ہوا تھا:

  • حرم کی عظمت کے پاسبانوں ، خدا نگہبان ہے تمہارا۔۔

ہاشو خان (1974)

تاتاریوں کے خلاف بنائی گئی ایک پنجابی فلم ہاشو خان (1974) بھی ایک یادگار فلم تھی جس میں ساون نے ایک ظالم اور متکبر منگول سردار کا رول کیا تھا۔ اس فلم کے فلمساز ایڈووکیٹ فاضل بٹ ، درجہ دوم کے ایک ولن اداکار تھے لیکن اس فلم میں آسیہ کے ساتھ ہیرو آئے تھے۔ فلم کی ہائی لائٹ مسعودرانا کا یہ گیت تھا:

  • رہے نام اللہ دا ، اللہ ہی اللہ۔۔
ان کے علاوہ مسلمانوں اور تاتاریوں کی چپقلش پر بنی ہوئی فلموں میں منگول ، شیرِ اسلام (1961) ، آخری چٹان (1970) اور کئی سال پہلے (1974) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

پاکستان کی تاریخی فلموں پر یہ ایک نامکمل تحقیق ہے کیونکہ اسی کی دھائی کے بعد کی فلموں سے میری معلومات بڑی محدود رہی ہیں اور کبھی اتنا وقت نہیں ملا کہ وہ سبھی فلمیں دیکھ سکوں۔ یقیناً ، گزشتہ چار دھائیوں میں مزید ایسی فلمیں بنائی گئی ہوں گی جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوں گی۔





241 فنکاروں پر معلوماتی مضامین




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.