A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
اختر حسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں کی بطور موسیقار پہلی فلم پاٹے خان (1955) ایک یادگار فلم تھی۔۔!
اپنے وقت کی اس نغماتی فلم کی سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ اس کی ہیروئن ملکہ ترنم نورجہاں تھیں جو 1935ء سے فلموں میں گا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ اداکاری بھی کررہی تھیں۔
ان کے ساتھ وقت کی مقبول ترین گلوکارہ زبیدہ خانم تھیں جو پہلی بار کسی فلم میں سیکنڈ ہیروئن کا رول کررہی تھیں۔ اس سے قبل وہ دو فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں میں نظر آئی تھیں لیکن گلوکاری میں اپنی دھاک بٹھا چکی تھیں۔
یہی پہلی فلم تھی جس میں کسی مزاحیہ اداکار کو پہلی بار کوئی ٹائٹل رول دیا گیا تھا اور یہ اعزاز اداکار ظریف کے حصے میں آیا تھا۔
اداکار اسلم پرویز کی ہیرو کے طور پر یہ پہلی فلم تھی جبکہ مسرت نذیر کو تیسری ہیروئن کا کردار دیا گیا تھا۔
ہدایتکار ایم اے رشید کی بھی یہ پہلی فلم تھی جس کے فلمساز اسلام الدین شامی اور مصنف حزیں قادری تھے جنھوں نے فلم کی کہانی ، مکالمے ، منظرنامہ اور گیت بھی لکھے تھے۔
موسیقار اخترحسین اکھیاں نے اس فلم میں بڑے خوبصورت گیت کمپوز کیے تھے لیکن سپرہٹ کوئی نہیں تھا۔
ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے جو گیت انھی پر فلمائے گئے ان میں
- آجا ، میری پھڑ لے بانہہ ، اکھیاں ہار گیاں ، دل نے تیرے اگے کر لئی ہاں۔۔
- کلی کلی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے ، دور جان والیا ، مہاراں ہن موڑ وے۔۔
- ہوکا میں دیواں گلی گلی وے۔۔
قابل ذکر تھے جبکہ اسی فلم میں میڈم نے مسرت نذیر کے لیے بھی پلے بیک دیا تھا جو ایک اردو گیت تھا
- او جان بہار ، تیرے آنے سے رت پہ آیا نکھار۔۔
مزے کی بات یہ تھی کہ زبیدہ خانم سے صرف ایک کامیڈی گیت کے علاوہ دو بول گوائے گئے تھے جن میں ایک وہ لوری ہے جو وہ میڈم نورجہاں کو سنا کر سلانے کی کوشش کرتی ہیں
- یاد سجن دی رکھ سرہانے ، کڑیئے سو جا۔۔
عنایت حسین بھٹی کا گایا ہوا گیت
- سجن دشمن اٹھدے بہندے سانوں کہندے پاٹے خان۔۔
فلم کا سب سے مقبول ترین گیت تھا جو ظریف پر فلمایا گیا تھا۔ انھی کا گایا ہوا ایک کورس گیت تھا جو فلم کے ولن علاؤالدین اور ساتھیوں پر فلمایا گیا تھا اور جس میں فلم کی ہیروئن نورجہاں کی قاتل جوانی کو یہ شریر مشورہ دے رہے تھے کہ
- نہ ڈھک ڈھک رکھ جوانی نوں ، چھڈ کھلی کھسماں کھانی نوں۔۔
ویسے اس کورس گیت کو دوگانے کی شکل میں ہونا چاہئے تھے۔
فلم پاٹے خان (1955) کی چند یادیں
اللہ بخشے ، والدصاحب مرحوم و مغفور بتایا کرتے تھے کہ پاٹے خان (1955) ان کی دیکھی ہوئی پہلی فلم تھی جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑہتے تھے۔
وہ ، زبیدہ خانم کے گیتوں کو بہت پسند کرتے تھے اور جب بچپن میں پہلی بار ڈنمارک آیا تھا تو ان کے پاس زبیدہ خانم کے گیتوں کی ایک آئیڈیو کیسٹ تھی جسے سننے کا پہلی بار موقع ملا تھا۔
ایک بار ایک محفل میں مجھ سے ایک گستاخی ہوگئی تھی جب وہ اپنے دوستوں کو بتا رہے کہ ان کے وقت تو صرف زبیدہ خانم ہی ہوتی تھی تو میں نے لقمہ دیا تھا کہ "نورجہاں بھی تو تھی۔۔" اس پر ان کے چہرے پر ناراضی کے تاثرات تھے لیکن برداشت کر گئے تھے اور بات جاری رکھتے ہوئے کہا تھا کہ "نورجہاں کی اس وقت وہ اہمیت نہیں تھی جو زبیدہ خانم کی تھی۔۔"
اس بات کی تصدیق اپنے میڈیا سے تو کبھی نہ ہو سکی لیکن برسوں کی اس تحقیق نے ثابت کر دیا کہ والدصاحب مرحوم و مغفور کی بات سو فیصدی درست تھی ، اپنی اس غلطی سے جہاں اور بہت کچھ سیکھا وہاں اس گستاخی پر آج بھی نادم ہوں ، اللہ تعالیٰ کی ذات معاف فرمائے (آمین)
اداکارہ نورجہاں کی آخری فلم
اخترحسین اکھیاں کی دوسری فلم آس پاس (1957) بھی ایک یادگار فلم تھی جس نے علاؤالدین کو بریک تھرو دیا تھا اور ایک عام ولن اداکار سے چوٹی کے ہرفن مولا اداکار بنے تھے اور ساٹھ کے عشرہ میں فلموں پر چھائے ہوئے تھے۔ اس فلم میں آنجہانی سلیم رضا کا گایا ہوا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا
- بے درد زمانے والوں نے کب درد کسی کا جانا ہے۔۔
اس کے بعد اخترحسین کی بہت سی فلموں کی موسیقی گمنام رہی تھی جن میں میڈم نورجہاں کی آخری پنجابی فلم پردیسن (1959) بھی تھی جس کے ایک درجن گیتوں میں سے کوئی ایک بھی مشہور نہیں ہوا تھا۔
فلم ثریا (1961) میں منیر حسین اور آئرن پروین کا گایا ہوا گیت
- بچپن بیتا آئی جوانی ، بولو جی اقرار کرو۔۔
کسی حد تک مشہور ہواتھا۔ فلم دیوداس (1965) میں سلیم رضا کی آواز میں یہ گیت بھی کسی حد تک مقبول ہوا تھا
- تسکین تو دے جاتے ، آرام تو مل جاتا۔۔
جبکہ اسی فلم میں احمدرشدی سے یہ سنجیدہ گیت گوانے کی ناکام کوشش بھی کی گئی تھی
- منزل اپنی دور او ساتھی۔۔
اختر حسین اکھیاں اور مسعودرانا کا ساتھ
مسعودرانا کے ساتھ اخترحسین اکھیاں کا پہلا ساتھ فلم معجزہ (1966) میں ہوا تھا۔ اس فلم میں انھوں نے اپنے فیورٹ سنگر سلیم رضا سے پانچ گیت گوائے تھے جن میں سے تین مسعودرانا کے ساتھ تھے۔ ان میں سب سے مقبول ایک قوالی تھی
- داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا۔۔
تھی جبکہ دو ملی ترانے تھے
- اے وطن ، اسلام کی امیدگاہ آخری ، تجھ پر سلام۔۔
- توحید کے متوالو ، باطل کو مٹا دیں گے ، یہ آج قسم کھا لو۔۔
یہ فلم 1965ء کی جنگ کے بارے میں تھی اور اس میں کئی نامور فنکار مہمان اداکار کے طور پر نظر آئے تھے۔
اخترحسین اکھیاں نے مسعودرانا سے فلم کڑمائی (1968) میں ایک منفرد گیت گوایا تھا
- کہیڑے ویری دیاں لگ گیاں نظراں ، ربا کی انھیر پے گیا۔۔
جو فلم کے گمنام ہیرو محمود پر فلمایا گیا تھا۔ فلم دل دریا (1968) کا گیت عام سا تھا۔
فلم رن مرید (1969) میں ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا
- ڈاہڈا بھیڑا عشقے دا روگ۔۔
ایک اور سپرہٹ گیت انھوں نے مہدی حسن سے فلم پیارنہ منے ہار (1971) میں گوایا تھا
- اپنی کہانی یارو کس نوں سناواں ، ہاسیاں دے وچ مینوں ملیاں سزاواں۔۔
نغمات کے لحاظ سے فلم سیدھا رستہ (1974) ان کی بہت بڑی فلم تھی جس میں میڈم نورجہاں کا یہ گیت سپرہٹ تھا
- اک اک شے چناں ، تیرے لئی سجائی اے۔۔
جبکہ اسی فلم میں میڈم کے ساتھ مہدی حسن کا یہ رومانٹک دوگانا بھی بڑا مقبول ہوا تھا
- مکھ تیرا چناں ، کناں پیار لگدا اے ، چن تیرے اگے ، سانوں تارا لگدا اے۔۔
ان کا مسعودرانا کے ساتھ آخری گیت فلم شگناں دی مہندی (1976) میں تھا
- ہیریا ، سوہنیا ، پیاریا ، تیرے مکھڑے توں تن من واریا۔۔
یہ ایک کورس گیت تھا جس میں افشاں کی آواز بھی شامل تھی۔ ان کی آخری فلم گبھرو (1981) تھی۔
اختر حسین اکھیاں کی بیگم گلوکارہ کوثر پروین
موسیقار اخترحسین اکھیاں نے کل 33 فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں 16 اردو اور 17 پنجابی فلمیں تھیں۔ انھوں نے اندازاً دو سو کے قریب گیت کمپوز کیے تھے۔
وہ ، موسیقار ماسٹر عاشق حسین کے بھائی اور اپنے وقت کی معروف گلوکارہ کوثرپروین کے شوہر تھے۔ اس طرح پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے موسیقار عنایت علی ناتھ کے داماد تھے جن کی ایک بیٹی آشا پوسلے ، پاکستان کی پہلی فلم کی ہیروئن تھی جب دو بیٹیاں رانی کرن اور نجمہ بیگم متعدد فلموں میں معاون اداکارہ کے طور نظر آئی تھیں۔ ان کا انتقال 2003ء میں ہوا تھا۔
مسعودرانا اور اختر حسین اکھیاں کے 5 فلموں میں 7 گیت
| 1 | داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا..فلم ... معجزہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: سلیم رضا ، مسعود رانا ،؟ ، سائیں اختر مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ساحل فارانی ... اداکار: سائیں اختر مع ساتھی |
| 2 | اے وطن ، اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام..فلم ... معجزہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: سلیم رضا ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: منیر نیازی ... اداکار: (پس پردہ) |
| 3 | توحید کے متوالو ، باطل کو مٹا دیں گے، یہ آج قسم کھا لو..فلم ... معجزہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: سلیم رضا ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ساحل فارانی ... اداکار: ؟؟ |
| 4 | کیہڑے ویری دی لگ گیاں نظراں ، ربا کی انہیر پے گیا..فلم ... کڑمائی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ؟ ... اداکار: محمود |
| 5 | جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو..فلم ... کڑمائی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: سلطان باہو ... اداکار: (پس پردہ ، صبا ، ساون) |
| 6 | گورے رنگ اتے مردا زمانہ..فلم ... دل دریا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: ؟ |
| 7 | ہیریا ، سوہنیا ، سوہنیا ، پیاریا..فلم ... شگناں دی مہندی ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: افشاں ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ؟ ... اداکار: عالیہ ، سنگیتا ، زبیر ، یوسف خان مع ساتھی |
مسعودرانا اور اختر حسین کے 3 اردو گیت
| 1 | داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا ...(فلم ... معجزہ ... 1966) |
| 2 | اے وطن ، اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام ...(فلم ... معجزہ ... 1966) |
| 3 | توحید کے متوالو ، باطل کو مٹا دیں گے، یہ آج قسم کھا لو ...(فلم ... معجزہ ... 1966) |
مسعودرانا اور اختر حسین کے 4 پنجابی گیت
| 1 | جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو ...(فلم ... کڑمائی ... 1968) |
| 2 | کیہڑے ویری دی لگ گیاں نظراں ، ربا کی انہیر پے گیا ...(فلم ... کڑمائی ... 1968) |
| 3 | گورے رنگ اتے مردا زمانہ ...(فلم ... دل دریا ... 1968) |
| 4 | ہیریا ، سوہنیا ، سوہنیا ، پیاریا ...(فلم ... شگناں دی مہندی ... 1976) |
مسعودرانا اور اختر حسین کے 3سولو گیت
| 1 | جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو ...(فلم ... کڑمائی ... 1968) |
| 2 | کیہڑے ویری دی لگ گیاں نظراں ، ربا کی انہیر پے گیا ...(فلم ... کڑمائی ... 1968) |
| 3 | گورے رنگ اتے مردا زمانہ ...(فلم ... دل دریا ... 1968) |
مسعودرانا اور اختر حسین کے 0دو گانے
مسعودرانا اور اختر حسین کے 4کورس گیت
| 1 | داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا ... (فلم ... معجزہ ... 1966) |
| 2 | اے وطن ، اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام ... (فلم ... معجزہ ... 1966) |
| 3 | توحید کے متوالو ، باطل کو مٹا دیں گے، یہ آج قسم کھا لو ... (فلم ... معجزہ ... 1966) |
| 4 | ہیریا ، سوہنیا ، سوہنیا ، پیاریا ... (فلم ... شگناں دی مہندی ... 1976) |
Masood Rana & Akhtar Hussain: Latest Online film
Masood Rana & Akhtar Hussain: Film posters
Masood Rana & Akhtar Hussain:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Akhtar Hussain:
Total 5 joint films
(1 Urdu, 4 Punjabi films)| 1. | 1966: Moajza(Urdu) |
| 2. | 1968: Kurmai(Punjabi) |
| 3. | 1968: Dil Darya(Punjabi) |
| 4. | 1974: Khana day Khan Prohnay(Punjabi) |
| 5. | 1976: Shagna Di Mehndi(Punjabi) |
Masood Rana & Akhtar Hussain: 8 songs in 5 films
(3 Urdu and 5 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmMoajzafrom Friday, 25 February 1966Singer(s): Saleem Raza, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): (Playback) |
| 2. | Urdu filmMoajzafrom Friday, 25 February 1966Singer(s): Saleem Raza, Masood Rana, ?, Sain Akhtar & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): Sain Akhtar & Co. |
| 3. | Urdu filmMoajzafrom Friday, 25 February 1966Singer(s): Saleem Raza, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): ?? |
| 4. | Punjabi filmKurmaifrom Friday, 22 March 1968Singer(s): Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): (Playback - Saba, Sawan) |
| 5. | Punjabi filmKurmaifrom Friday, 22 March 1968Singer(s): Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): Mehmood |
| 6. | Punjabi filmDil Daryafrom Friday, 15 November 1968Singer(s): Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): ? |
| 7. | Punjabi filmKhana day Khan Prohnayfrom Friday, 8 November 1974Singer(s): Mala, Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): ? |
| 8. | Punjabi filmShagna Di Mehndifrom Friday, 30 July 1976Singer(s): Afshan, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): Aliya, Sangeeta, Zubair, Yousuf Khan & Co. |

Ik Musafir
(1940)

Abla as Yateem Larki
(1931)

Arsi
(1947)

Gulbadan
(1937)

Prithvi Vallabh
(1943)

Challenge
(1937)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔
































A.R. Kardar
Sarwar Bhatti
Saleem Murad
Amjad Sabri
Surayya
Sima
Naghma
Tariq Jameel Paracha
Khawaja Parvez
Hakeem Ram Parshad
Shabbir Rana
Shahida Parveen
Tamanna
Safia Rani

