A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1036 songs in 646 films

مسعودرانا اور اختر حسین اکھیاں

اخترحسین اکھیاں کی بطور موسیقار پہلی فلم پاٹے خان (1955) ایک یادگار فلم تھی۔۔!

اپنے وقت کی اس نغماتی فلم کی سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ اس کی ہیروئن ملکہ ترنم نورجہاں تھیں جو 1935ء سے فلموں میں گا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ اداکاری بھی کررہی تھیں۔ ان کے ساتھ وقت کی مقبول ترین گلوکارہ زبیدہ خانم تھیں جو پہلی بار کسی فلم میں سیکنڈ ہیروئن کا رول کررہی تھیں۔ اس سے قبل وہ دو فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں میں نظر آئی تھیں لیکن گلوکاری میں اپنی دھاک بٹھا چکی تھیں۔ یہی پہلی فلم تھی جس میں کسی مزاحیہ اداکار کو پہلی بار کوئی ٹائٹل رول دیا گیا تھا اور یہ اعزاز اداکار ظریف کے حصے میں آیا تھا۔ اداکار اسلم پرویز کی ہیرو کے طور پر یہ پہلی فلم تھی جبکہ مسرت نذیر کو تیسری ہیروئن کا کردار دیا گیا تھا۔ ہدایتکار ایم اے رشید کی بھی یہ پہلی فلم تھی جس کے فلمساز اسلام الدین شامی اور مصنف حزیں قادری تھے جنہوں نے فلم کی کہانی ، مکالمے ، منظرنامہ اور گیت بھی لکھے تھے۔

موسیقار اخترحسین اکھیاں نے اس فلم میں بڑے خوبصورت گیت کمپوز کئے تھے لیکن سپرہٹ کوئی نہیں تھا۔ ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے جو گیت انہی پر فلمائے گئے ان میں "آجا ، میری پھڑ لے بانہہ ، اکھیاں ہار گیاں ، دل نے تیرے اگے کر لئی ہاں۔۔" ، "کلی کلی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے ، دور جان والیا ، مہاراں ہن موڑ وے۔۔" ، "ہوکا میں دیواں گلی گلی وے۔۔" قابل ذکر تھے جبکہ اسی فلم میں میڈم نے مسرت نذیر کے لئے بھی پلے بیک دیا تھا جو ایک اردو گیت تھا "او جان بہار ، تیرے آنے سے رت پہ آیا نکھار۔۔" مزے کی بات یہ تھی کہ زبیدہ خانم سے صرف ایک کامیڈی گیت کے علاوہ دو بول گوائے گئے تھے جن میں ایک وہ لوری ہے جو وہ میڈم نورجہاں کو سنا کر سلانے کی کوشش کرتی ہیں "یاد سجن دی رکھ سرہانے ، کڑیئے سو جا۔۔" عنایت حسین بھٹی کا گایا ہوا گیت "سجن دشمن اٹھدے بہندے سانوں کہندے پاٹے خان۔۔" فلم کا سب سے مقبول ترین گیت تھا جو ظریف پر فلمایا گیا تھا۔ انہی کا گایا ہوا ایک کورس گیت تھا جو فلم کے ولن علاؤالدین اور ساتھیوں پر فلمایا گیا تھا اور جس میں فلم کی ہیروئن نورجہاں کی قاتل جوانی کو یہ شریر مشورہ دے رہے تھے کہ "نہ ڈھک ڈھک رکھ جوانی نوں ، چھڈ کھلی کھسماں کھانی نوں۔۔" ویسے اس کورس گیت کو دوگانے کی شکل میں ہونا چاہئے تھے۔

اللہ بخشے ، والدصاحب مرحوم و مغفور بتایا کرتے تھے کہ پاٹے خان (1955) ان کی دیکھی ہوئی پہلی فلم تھی جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑہتے تھے۔ وہ زبیدہ خانم کے گیتوں کو بہت پسند کرتے تھے اور جب بچپن میں پہلی بار ڈنمارک آیا تھا تو ان کے پاس زبیدہ خانم کے گیتوں کی ایک آئیڈیو کیسٹ تھی جسے سننے کا پہلی بار موقع ملا تھا۔ ایک بار ایک محفل میں مجھ سے ایک گستاخی ہوگئی تھی جب وہ اپنے دوستوں کو بتا رہے کہ ان کے وقت تو صرف زبیدہ خانم ہی ہوتی تھی تو میں نے لقمہ دیا تھا کہ "نورجہاں بھی تو تھی۔۔" اس پر ان کے چہرے پر ناراضی کے تاثرات تھے لیکن برداشت کر گئے تھے اور بات جاری رکھتے ہوئے کہا تھا کہ "نورجہاں کی اس وقت وہ اہمیت نہیں تھی جو زبیدہ خانم کی تھی۔۔" اس بات کی تصدیق اپنے میڈیا سے تو کبھی نہ ہو سکی لیکن برسوں کی اس تحقیق نے ثابت کر دیا کہ والدصاحب مرحوم و مغفور کی بات سو فیصدی درست تھی ، اپنی اس غلطی سے جہاں اور بہت کچھ سیکھا وہاں اس گستاخی پر آج بھی نادم ہوں ، اللہ تعالیٰ کی ذات معاف فرمائے (آمین)

Pardesan (1959)
اخترحسین اکھیاں کی ایک گمنام فلم پردیسن (1959) کا دلکش پوسٹر
اخترحسین اکھیاں کی دوسری فلم آس پاس (1957) بھی ایک یادگار فلم تھی جس نے علاؤالدین کو بریک تھرو دیا تھا اور ایک عام ولن اداکار سے چوٹی کے ہرفن مولا اداکار بنے تھے اور ساٹھ کے عشرہ میں فلموں پر چھائے ہوئے تھے۔ اس فلم میں آنجہانی سلیم رضا کا گایا ہوا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا "بے درد زمانے والوں نے کب درد کسی کا جانا ہے۔۔" اس کے بعد اخترحسین کی بہت سی فلموں کی موسیقی گمنام رہی تھی جن میں میڈم نورجہاں کی آخری پنجابی فلم پردیسن (1959) بھی تھی جس کے ایک درجن گیتوں میں سے کوئی ایک بھی مشہور نہیں ہوا تھا۔ فلم ثریا (1961) میں منیرحسین اور آئرن پروین کا گایا ہوا گیت "بچپن بیتا آئی جوانی ، بولو جی اقرار کرو۔۔" کسی حد تک مشہور ہواتھا۔ فلم دیوداس (1965) میں سلیم رضا کی آواز میں یہ گیت بھی کسی حد تک مقبول ہوا تھا "تسکین تو دے جاتے ، آرام تو مل جاتا۔۔" جبکہ اسی فلم میں احمدرشدی سے یہ سنجیدہ گیت گوانے کی ناکام کوشش بھی کی گئی تھی "منزل اپنی دور او ساتھی۔۔"

مسعودرانا کے ساتھ اخترحسین اکھیاں کا پہلا ساتھ فلم معجزہ (1966) میں ہوا تھا۔ اس فلم میں انہوں نے اپنے فیورٹ سنگر سلیم رضا سے پانچ گیت گوائے تھے جن میں سے تین مسعودرانا کے ساتھ تھے۔ ان میں سب سے مقبول ایک قوالی تھی "داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا۔۔" تھی جبکہ دو ملی ترانے تھے "اے وطن ، اسلام کی امیدگاہ آخری ، تجھ پر سلام۔۔" اور "توحید کے متوالو ، باطل کو مٹا دیں گے ، یہ آج قسم کھا لو۔۔" یہ فلم 1965ء کی جنگ کے بارے میں تھی اور اس میں کئی نامور فنکار مہمان اداکار کے طور پر نظر آئے تھے۔

اخترحسین اکھیاں نے مسعودرانا سے فلم کڑمائی (1968) میں ایک منفرد گیت گوایا تھا "کہیڑے ویری دیاں لگ گیاں نظراں ، ربا کی انہیر پے گیا۔۔" جو فلم کے گمنام ہیرو محمود پر فلمایا گیا تھا۔ فلم دل دریا (1968) کا گیت عام سا تھا۔ فلم رن مرید (1969) میں ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا "ڈاہڈا بھیڑا عشقے دا روگ۔۔" ایک اور سپرہٹ گیت انہوں نے مہدی حسن سے فلم پیارنہ منے ہار (1971) میں گوایا تھا "اپنی کہانی یارو کس نوں سناواں ، ہاسیاں دے وچ مینوں ملیاں سزاواں۔۔" نغمات کے لحاظ سے فلم سیدھا رستہ (1974) ان کی بہت بڑی فلم تھی جس میں میڈم نورجہاں کا یہ گیت سپرہٹ تھا "اک اک شے چناں ، تیرے لئی سجائی اے۔۔" جبکہ اسی فلم میں میڈم کے ساتھ مہدی حسن کا یہ رومانٹک دوگانا بھی بڑا مقبول ہوا تھا "مکھ تیرا چناں ، کناں پیار لگدا اے ، چن تیرے اگے ، سانوں تارا لگدا اے۔۔" ان کا مسعودرانا کے ساتھ آخری گیت فلم شگناں دی مہندی (1976) میں تھا "ہیریا ، سوہنیا ، پیاریا ، تیرے مکھڑے توں تن من واریا۔۔" یہ ایک کورس گیت تھا جس میں افشاں کی آواز بھی شامل تھی۔ ان کی آخری فلم گبھرو (1981) تھی۔

موسیقار اخترحسین اکھیاں نے کل 33 فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں 16 اردو اور 17 پنجابی فلمیں تھیں۔ انہوں نے اندازاً دو سو کے قریب گیت کمپوز کئے تھے۔ وہ موسیقار ماسٹر عاشق حسین کے بھائی اور اپنے وقت کی معروف گلوکارہ کوثرپروین کے شوہر تھے۔ اس طرح پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے موسیقار عنایت علی ناتھ کے داماد تھے جن کی ایک بیٹی آشا پوسلے ، پاکستان کی پہلی فلم کی ہیروئن تھی جب دو بیٹیاں رانی کرن اور نجمہ بیگم متعدد فلموں میں معاون اداکارہ کے طور نظر آئی تھیں۔ ان کا انتقال 2003ء میں ہوا تھا۔

مسعودرانا اور اختر حسین اکھیاں کے 4 فلموں میں 7 گیت

3 اردو گیت ... 4 پنجابی گیت
1
فلم ... معجزہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: سلیم رضا ، مسعود رانا ،؟ ، سائیں اختر مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ساحل فارانی ... اداکار: سائیں اختر مع ساتھی
2
فلم ... معجزہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: سلیم رضا ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: منیر نیازی ... اداکار: (پس پردہ)
3
فلم ... معجزہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: سلیم رضا ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ساحل فارانی ... اداکار: ؟؟
4
فلم ... کڑمائی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: سلطان باہو ... اداکار: (پس پردہ ، صبا ، ساون)
5
فلم ... کڑمائی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ؟ ... اداکار: محمود
6
فلم ... دل دریا ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: ؟
7
فلم ... شگناں دی مہندی ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: افشاں ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: اختر حسین اکھیاں ... شاعر: ؟ ... اداکار: عالیہ ، سنگیتا ، زبیر ، یوسف خان مع ساتھی

مسعودرانا اور اختر حسین کے 3 اردو گیت

1داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا ... (فلم ... معجزہ ... 1966)
2اے وطن ، اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام ... (فلم ... معجزہ ... 1966)
3توحید کے متوالو ، باطل کو مٹا دیں گے، یہ آج قسم کھا لو ... (فلم ... معجزہ ... 1966)

مسعودرانا اور اختر حسین کے 4 پنجابی گیت

1جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو ... (فلم ... کڑمائی ... 1968)
2کیہڑے ویری دی لگ گیاں نظراں ، ربا کی انہیر پے گیا ... (فلم ... کڑمائی ... 1968)
3گورے رنگ اتے مردا زمانہ ... (فلم ... دل دریا ... 1968)
4ہیریا ، سوہنیا ، سوہنیا ، پیاریا ... (فلم ... شگناں دی مہندی ... 1976)

مسعودرانا اور اختر حسین کے 3سولو گیت

1جے چناں چڑھ ، آکے کر روشنائی ،ذکر کردے تارے ، ہو ... (فلم ... کڑمائی ... 1968)
2کیہڑے ویری دی لگ گیاں نظراں ، ربا کی انہیر پے گیا ... (فلم ... کڑمائی ... 1968)
3گورے رنگ اتے مردا زمانہ ... (فلم ... دل دریا ... 1968)

مسعودرانا اور اختر حسین کے 0دو گانے


مسعودرانا اور اختر حسین کے 4کورس گیت

1داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا ... (فلم ... معجزہ ... 1966)
2اے وطن ، اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام ... (فلم ... معجزہ ... 1966)
3توحید کے متوالو ، باطل کو مٹا دیں گے، یہ آج قسم کھا لو ... (فلم ... معجزہ ... 1966)
4ہیریا ، سوہنیا ، سوہنیا ، پیاریا ... (فلم ... شگناں دی مہندی ... 1976)

Masood Rana & Akhtar Hussain: Latest Online film

Kurmai

(Punjabi - Black & White - Friday, 22 March 1968)


Masood Rana & Akhtar Hussain: Film posters
Moajza
Masood Rana & Akhtar Hussain:

1 joint Online films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1968: Kurmai
(Punjabi)
Masood Rana & Akhtar Hussain:

Total 4 joint films

(1 Urdu, 3 Punjabi films)

1.1966: Moajza
(Urdu)
2.1968: Kurmai
(Punjabi)
3.1968: Dil Darya
(Punjabi)
4.1976: Shagna Di Mehndi
(Punjabi)


Masood Rana & Akhtar Hussain: 7 songs in 4 films

(3 Urdu and 4 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Moajza
from Friday, 25 February 1966
Singer(s): Saleem Raza, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): (Playback)
2.
Urdu film
Moajza
from Friday, 25 February 1966
Singer(s): Saleem Raza, Masood Rana, ?, Sain Akhtar & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): Sain Akhtar & Co.
3.
Urdu film
Moajza
from Friday, 25 February 1966
Singer(s): Saleem Raza, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): ??
4.
Punjabi film
Kurmai
from Friday, 22 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): (Playback - Saba, Sawan)
5.
Punjabi film
Kurmai
from Friday, 22 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): Mehmood
6.
Punjabi film
Dil Darya
from Friday, 15 November 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): ?
7.
Punjabi film
Shagna Di Mehndi
from Friday, 30 July 1976
Singer(s): Afshan, Masood Rana & Co., Music: Akhtar Hussain Akhian, Poet: , Actor(s): Aliya, Sangeeta, Zubair, Yousuf Khan & Co.


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔