Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


سید شوکت حسین رضوی

سید شوکت حسین رضوی ، عام طور پر ملکہ ترنم نورجہاں کے پہلے شوہر کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے۔ فلمی حلقوں میں ایک کامیاب سٹوڈیو اونر مانے جاتے تھے جبکہ فلمی تاریخ کے طالب علموں کے لیے تقسیم سے قبل کے ایک کامیاب ترین لیکن پاکستان کے ایک ناکام ترین ہدایتکار کے طور پر جانے جاتے تھے۔۔!

لاہور کی پہلی بلاک باسٹر اردو فلم خزانچی (1941)

شوکت صاحب ، بنیادی طور پر ایک فلم ایڈیٹر یا تدوین کار تھے ۔ انھوں نے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کولکتہ (کلکتہ) سے کیا تھا۔ لاہور کی ایک فلم کمپنی 'پنچولی پکچرز' نے جب اپنی پہلی فلم گل بکاؤلی (1937) بنائی تو اس کے لیے کلکتہ سے جہاں بے بی نورجہاں کو بلوایا گیا وہاں فلم ایڈیٹر شوکت حسین رضوی کو بھی دعوت دی گئی تھی۔

اس فلم کی زبردست کامیابی کے بعد پنچولی پکچرز نے جب اپنی پہلی ہندی /اردو فلم خزانچی (1941) بنائی تو اس کے ایڈیٹر کے طور پر بھی شوکت صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔

فلم خزانچی (1941) لاہور کی پہلی بلاک باسٹر فلم تھی جس نے پورے برصغیر میں بزنس کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے ۔ اس فلم کا ٹائٹل رول ایم اسماعیل نے کیا تھا لیکن خاص بات اس فلم کا میوزک تھا۔ ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی نے ہندوستانی فلموں کے نیم کلاسیکل اور بنگالی سٹائل کو بدل کر پنجابی ٹچ دیا تھا جو اگلی کئی دھائیوں تک برصغیر کی موسیقی کی پہچان رہا۔

اس فلم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہیروئن اپنی سہیلیوں کے ساتھ سائیکلوں پر سیر و سپاٹا کرتے ہوئے ایک کورس گیت گاتی ہے ، جس کی ایڈیٹنگ پر بطور خاص شوکت صاحب کی کارکردگی کو سراہا گیا تھا۔ یہی کارکردگی شاید انھیں فلمساز کے مزید قریب لے آئی تھی۔

شوکت رضوی اور نورجہاں

پنچولی پکچرز نے جب اپنی دوسری ہندی /اردو فلم خاندان (1942) بنائی تو اس کے ہدایتکار کے طور پر سید شوکت حسین رضوی کا انتخاب کیا تھا۔ بطور ہدایتکار شوکت صاحب کی پہلی ہی فلم اس سال کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی پانچ فلموں میں شمار ہوئی جو ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔

فلم خاندان (1942) ، ایک انگریزی ناول پر بنائی گئی تھی جس میں مرکزی کردار کلکتہ کے ایک اداکار بابا ابراہیم کا تھا جبکہ غلام محمد کے علاوہ اجمل مرکزی ولن تھے جن کا تکیہ کلام "انگلستان میں تو ایسا نہیں ہوتا۔۔" زبان زدعام ہوا تھا۔ ہیرو ممتاز بھارتی ولن اداکار پران تھے۔

اس فلم کو میڈم نورجہاں کی بطور ہیروئن پہلی فلم بتایا جاتا ہے لیکن اس سے قبل دو پنجابی فلموں یملاجٹ (1940) اور چوہدری (1941) کے پوسٹروں پر نورجہاں کا نام 'بےبی' کے بغیر لکھا ہوا ملتا ہے ، اس لیے ممکن ہے کہ 1926ء میں پیدا ہونے والی یہ عظیم فنکارہ ، ان فلموں میں مکمل ہیروئن آئی ہو۔

یاد رہے کہ اسی سال بمبئی کی ایک فلم فریاد (1942) اور اس سے قبل کی متعدد فلموں میں بھی ' نورجہاں' نامی اداکارہ کا نام ملتا ہے لیکن یہ کوئی اور اداکارہ تھی جس نے تیس اور چالیس کی دھائیوں میں چالیس کے قریب فلموں میں کام کیا تھا۔

میڈم کی پہلی ہندی/اردو فلم خاندان (1942) ہی تھی۔ اس سے قبل انھوں نے چائلڈ سٹار کے طور پر کلکتہ کی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی (1935) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا اور وہاں سے براستہ لاہور کی فلموں سے ہوتے ہوئے بمبئی پہنچی تھیں۔ اسی فلم سے میڈم نورجہاں نے بطور اداکارہ اور گلوکارہ پورے برصغیر میں اپنی پہچان کروائی تھی۔ ماسٹرغلام حیدر کی موسیقی میں میڈم کے دوگیت "تو کون سی بدلی میں میرے چاند ہے ، آجا۔۔" اور "میرے لیے جہاں میں ،چین ہے نہ قرار ہے۔۔" سپرہٹ ہوئے تھے۔

فلم خاندان ، 13 مارچ 1942ء کو سب سے پہلے لاہور کے پیلس سینما میں ریلیز ہوئی تھی اور سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس دور کے ایک اخباری اشتہار میں اس فلم کی لاہور میں سلورجوبلی کے موقع پر یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ صرف لاہور میں بیس لاکھ سے زائد 'حضرات' اس فلم کو دیکھ چکے ہیں (شاید اس دور میں خواتین ، فلمیں نہیں دیکھتی تھیں؟)

یاد رہے کہ اسوقت لاہور میں بیس سینما گھر ہوتے تھے جن پر برصغیر کی فلموں کے علاوہ امریکی یا ہالی وڈ کی فلمیں بھی بڑی تعداد میں ریلیز ہوتی تھیں۔

فلم خاندان (1942) کے اس اشتہار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لاہور کے بعد یہ فلم کلکتہ میں ریلیز ہوئی تھی اور اس کے بعد کراچی ، بمبئی اور دہلی وغیرہ میں ، جہاں یہ فلم اپنی ریلیز کے بعد سے مسلسل چل رہی تھی اور تمام بڑے شہروں میں کامیاب بزنس کر رہی تھی۔

بمبئی کے کامیاب ترین ہدایتکار

سید شوکت حسین رضوی کی بمبئی میں دوسری فلم نوکر (1943) تھی جو سال کی دس کامیاب ترین فلموں میں سے ایک تھی۔ اس فلم کاکوئی گیت سپرہٹ نہیں تھا۔

اسی دوران میڈم نورجہاں کو بطور ہیروئن اور گلوکارہ، بمبئی کی دو مزید فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا جن میں ہدایتکار ضیاء سرحدی کی فلم نادان (1943) اور ہدایتکار وی ایم ویاس کی فلم دہائی (1943) تھیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ دونوں فلمیں بھی سال کی ٹاپ ٹین فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال کی فلم قسمت (1943) ، ایک کروڑ روپیہ بزنس کرنے والی ریکارڈ توڑ فلم تھی جو آج کے کئی ارب روپے بنتے ہیں۔ یہ برصغیر کی پہلی ڈائمنڈجوبلی فلم تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کلکتہ میں 190 ہفتوں سے زائد چلی تھی۔ اشوک کمار کے علاوہ اس کے ولن شاہنواز تھے جو پاکستان کی کئی فلموں میں معاون اداکار کے طور دیکھے گئے تھے اور فلم ایاز (1960) میں محمودغزنوی کے رول میں تھے۔

اس فلم کی ہیروئن ممتاز شانتی تھی جو اس سے قبل لاہور کی پنجابی فلم منگتی (1942) میں مسعودپرویز کے ساتھ ہیروئن تھی۔ یہ برصغیر کی پہلی گولڈن جوبلی پنجابی فلم تھی جو ایک سال تک لاہور میں زیر نمائش رہی تھی۔

کامیاب فلموں کی ہٹ ٹرک

شوکت صاحب کی تیسری فلم دوست (1944) بھی سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس طرح ان کی کامیابیوں کی ہٹ ٹرک بھی مکمل ہو گئی تھی۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا گایا ہوا یہ گیت "بدنام محبت کون کرے۔۔" ایک سپرہٹ گیت تھا جس کی دھن سجاد حسین نے بنائی تھی۔ میڈم نورجہاں کی اس سال ، ایک اور فلم لال حویلی (1944) بھی ریلیز ہوئی تھی جس کے ہدایتکار کے بی لال تھے ۔

پہلی زنانہ فلمی قوالی

1945ء کا سال سید شوکت حسین رضوی کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم زینت (1945) لے کر آیا جو اس سال باکس آفس پر سب سے کامیاب فلم ثابت ہوئی تھی۔ میڈم نورجہاں نے صرف 19 سال کی عمر میں ینگ ٹو اولڈ کردار ادا کرکے میلہ لوٹ لیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم میں انھیں بہترین اداکارہ کا ایک ایوارڈ بھی ملا تھا۔ موسیقی میر صاحب اور حفیظ خان کی تھی اور متعدد گیت بے حد مقبول ہوئے تھے۔ "آندھیاں غم کی یوں چلیں کہ باغ اجڑ کے رہ گیا۔۔" اور "بلبلو ، مت روؤ یہاں ، آنسو بہانا ہے منع۔۔" کے علاوہ ایک زنانہ قوالی بھی متعارف کروائی گئی تھی "آہیں نہ بھریں ، شکوے نہ کیے ، کچھ بھی نہ زبان سے کام لیا۔۔"

دلچسپ بات یہ تھی کہ مزید دو فلمیں گاؤں کی گوری اور بڑی ماں (1945) بھی باکس آفس پر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلمیں تھیں جن کی ہیروئن میڈم نورجہاں تھیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میڈم کو بطور اداکارہ بھی کتنی کامیابی ملی ہوگی۔

نورجہاں اور لتا منگیشکر

فلم بڑی ماں (1945) میں بھارت کی عظیم گلوکار لتا منگیشکر نے بطور چائلڈ سٹار ، میڈم نورجہاں کے بچپن کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں میڈم کا گیت "آ ، انتظار ہے تیرا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ فلم گاؤں کی گوری (1945) میں میڈم کی جوڑی اداکار نذیر کے ساتھ تھی اور موسیقار شیام سندر کی موسیقی میں متعدد گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں "کس طرح بھولے گا دل ، ان کا خیال آیا ہوا۔۔" اور "بیٹھی ہوں تیری یاد کا لے کے سہارا۔۔" خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اسی سال میڈم نورجہاں نے فلم بھائی جان (1945) میں بھی کام کیا تھا۔

نورجہاں کے عروج کا دور

1946ء میں شوکت صاحب کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی لیکن میڈم نورجہاں کی بطور اداکارہ تین فلمیں سامنے آئی تھیں جن میں شوکت صاحب ہی کے شاگرد ، ہدایتکار لقمان کی ہمجولی (1946) اور ہدایتکار ایس یف حسنین کی دل (1946) کے علاوہ ہدایتکار محبوب کی معرکتہ الآرا نغماتی فلم انمول گھڑی (1946) بھی شامل تھی۔ موسیقار نوشاد علی کی موسیقی میں تنویر نقوی کے لکھے ہوئےگیت میڈم نورجہاں کی لازوال آواز میں امر ہوگئے تھے "آواز دے کہاں ہے ، دنیا میری جواں ہے۔۔" ، "جواں ہے محبت ، حسین ہے زمانہ۔۔" ، " آجا میری برباد محبت کے سہارے۔۔" ، "میرے بچپن کے ساتھی مجھے بھول نہ جانا۔۔" اور "کیا مل گیا بھگوان تجھے دل کو جلا کے۔۔" فلم انمول گھڑی (1946) ، اس سال کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی بلاک باسٹر فلم تھی۔

اس فلم میں پہلی اور آخری بار میڈم نورجہاں کا ساتھ ایک اور بڑی گلوکارہ ثریا کے ساتھ ہوا تھا۔ دونوں نے اداکاری کے علاوہ گلوکاری بھی کی تھی۔

نورجہاں ، دلیپ کمار اور محمدرفیع

سید شوکت حسین رضوی کی تقسیم سے قبل آخری بڑی فلم جگنو (1947) تھی جو سال کی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس طرح شوکت صاحب کا تقسیم سے قبل کا ریکارڈ سو فیصدی مثبت رہا کیونکہ ان کی سبھی فلمیں سپرہٹ ہوئی تھیں۔ میڈم نورجہاں ، ٹائٹل رول میں تھیں جبکہ ہیرو دلیپ کمار تھے جن کی یہ پہلی کامیاب فلم تھی۔ یہی فلم گلوکار محمدرفیع کے لیے بھی بریک تھرو بتائی جاتی ہے۔ انھوں نے اس فلم کے ایک گیت میں اداکاری بھی کی تھی۔ اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی اور بابا چشتی نے دی تھی۔ "یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے۔۔" اکلوتا دوگانا تھا جو نورجہاں اور محمدرفیع نے گایا تھا۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ میڈم نے چالیس کے عشرہ میں اتنا عروج دیکھا لیکن کبھی کسی موسیقار یا ہدایتکار/فلمساز نے انھیں وقت کے سب سے بڑے گلوکار کندل لال سہگل کے ساتھ کوئی گیت نہیں گوایا تھا نہ کسی فلم میں دونوں ایک ساتھ آئے تھے۔ فلم جگنو (1947) میں پہلی بار ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کے علاوہ گلوکار ایس ایم ناگی کو بھی گوایا گیا تھا جو معروف گلوکار انوررفیع کے والد تھے۔ فلم جگنو (1947) سے میری بڑی گہری یادیں وابستہ ہیں ۔ یہ فلم نہ ہوتی تو شاید میری شادی وہاں نہ ہوتی ، جہاں ہونا تھی یا ہوئی۔ بات طویل ہے ، اس لیے اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔

شوکت رضوی کی پاکستان آمد

قیام پاکستان کے بعد سید شوکت حسین رضوی ، اپنی بیگم میڈم نورجہاں اور بچوں کے ساتھ پاکستان ، واپس چلے آئے اور پہلے کراچی میں قیام کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انھیں وہاں ایک بنگلہ الاٹ ہوا تھا۔ اس وقت تک کراچی میں فلم انڈسٹری کا کوئی وجود نہیں تھا ، اس لیے لاہور چلے آئے جہاں انھیں ایک کوٹھی ، ایک سینما (ریجنٹ) اور پورا شوری سٹوڈیو الاٹ ہوا تھا جسے انھوں نے شاہ نور کے نام سے نئے سرے سے تعمیر کیا۔ انھی مصروفیات میں وہ ، اپنے ابتدائی دور میں فلمسازی کی طرف توجہ نہ دے سکے تھے۔

نورجہاں ، پہلی خاتون ہدایتکارہ؟

چن وے (1951) پہلی فلم تھی جس کے فلمساز کے علاوہ نگران ہدایتکار کے طور پر شوکت صاحب کا نام ملتا ہے۔ فلم ڈائریکٹر کے طور پر میڈم نورجہاں کا نام دیا گیا تھا ۔ اس طرح سے ریکارڈز میں وہ ، پاکستان کی پہلی خاتون ہدایتکارہ ثابت ہوئیں۔ یہ فلم ان کے اپنے سینما ریجنٹ میں 18 ہفتے چلی تھی۔ پاکستان میں اس سے قبل فلم پھیرے (1949) اور دو آنسو (1950) ، کامیاب سلورجوبلیاں کر چکی تھیں ، اس لیے یہ کارکردگی مایوس کن تھی۔

فلم بینوں کو شاید یہ بات ہضم نہیں ہوئی تھی کہ ہیرو (سنتوش) اور ہیروئن (نورجہاں) ، بہن بھائی ہوتے ہیں۔ اداکارہ یاسمین نے اس فلم میں ایک ثانوی رول کیا تھا اور چند برسوں بعد شوکت صاحب سے شادی بھی کر لی تھی۔ یہ فلم اپنے گیتوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ موسیقی فیروز نظامی کی تھی اور میڈم کے گائے ہوئے بیشتر گیت بڑے مقبول ہوئے تھے جن میں سے "وے منڈیا سیالکوٹیا۔۔" تو ایک ضرب المثل بن گیا تھا۔

فلم گلنار (1953) کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کے نگران ہدایتکار شوکت صاحب تھے لیکن یہ فلم بھی ناکام رہی تھی۔ موسیقار ماسٹر غلام حیدر کی یہ آخری فلم تھی جس کا ایک گیت قابل ذکر تھا جو میڈم نے گایا تھا "لو ، چل دیے وہ ہم کو تسلی دیے بغیر۔۔"

نورجہاں اور شوکت رضوی کی طلاق

پاکستان کی فلمی تاریخ میں سید شوکت حسین رضوی کی بطور فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف پہلی فلم جان بہار (1958) ریکارڈ پر ہے۔ اس ناکام فلم کی اصل ہیروئن تو میڈم نورجہاں تھیں لیکن دونوں میں ناچاقی اور نوبت طلاق تک آجانے کے بعد ہیروئن کو بدل کر مسرت نذیر کو کاسٹ کیا گیا تھا۔

اس فلم کے ایک گیت میں نیلو کا رقص ہوتا ہے جس سے لطف اندوز ہونے والوں میں سکرین پر ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی کے دائیں طرف پاکستان کے پہلے سپرسٹار سدھیر اور بائیں طرف دوسرے سپرسٹار سنتوش بیٹھے ہوتے ہیں جو ایک منفرد منظر تھا کیونکہ یہ دونوں بڑے اداکار کبھی کسی فلم میں ایک ساتھ نظر نہیں آئے تھے۔ اس فلم میں میڈم کا یہ گیت بڑا پسند کیا گیا تھا "کیسا نصیب لائی تھی، گلشن روزگار میں۔۔" اداکارہ حسنہ کی بطور چائلڈ سٹار یہ پہلی فلم تھی۔

نورجہاں اور شوکت رضوی کے خاندانی جھگڑے

سید شوکت حسین رضوی اور ملکہ ترنم نورجہاں کے مابین پچاس کے عشرہ میں اختلافات اتنے شدید ہوئے کہ دونوں کی راہیں جدا ہوگئی تھیں۔ میڈم نے اداکار اعجاز جبکہ شوکت صاحب نے اداکارہ یاسمین کے ساتھ دوسری شادی کی جو قبل ازیں عکاس جعفر بخاری کی زوجیت میں تھیں۔

شوکت صاحب کی میڈم سے ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے جبکہ یاسمین سے بھی دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان کی مشترکہ جائیدادوں میں سے شاہ نور فلم سٹوڈیو ، بنگلہ اور ریجنٹ سینما لاہور وغیرہ تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ علیحدگی کے وقت میڈم نورجہاں نے اپنے بچوں کے لیے ساری جائیداد کو قربان کردیا تھا لیکن جب اولادیں جوان ہوئیں تو 1980ء کی دھائی میں جائیداد کی تقسیم پر جو جھگڑے ہوئے ، اس کا گواہ پورا ملک تھا کیونکہ ذاتی مسائل ، میڈیا میں آئے ، یہاں تک کہ شوکت صاحب نے میڈم سے اپنے اختلافات پر ایک تفصیلی کتاب 'نورجہاں اور میں' بھی لکھی تھی جو پڑھنے کا موقع ملا تھا۔ وہ کتاب پڑھ کر شوکت صاحب کا ایک بڑا ہی منفی تصور ذہن میں آتا ہے اور آدمی سوچتا ہے کہ اپنے اپنے مفادات کے لیے بعض اوقات بڑے لوگ ، کتنے چھوٹے ہوجاتے ہیں۔۔!

پاکستان میں شوکت رضوی ایک ناکام ہدایتکار تھے!

شوکت صاحب کی بطور ہدایتکار دوسری فلم عاشق (1968) تھی جو ایک اور ناکام فلم تھی۔ دیبا اور کمال مرکزی کردار تھے۔ یہی واحد فلم تھی جس میں شوکت صاحب کی کسی فلم میں مسعودرانا کا کوئی گیت ملتا ہے۔ "اک بار اور گلے سے لگا لے ماں۔۔" ایک بڑا دلسوز تھیم سانگ تھا جو رانا صاحب نے اس فلم میں ناشاد کی دھن میں گایا تھا۔

​اس فلم کے فلمساز کے طور پر اصغر حسین رضوی کانام ملتا ہے جو شوکت صاحب کے چھوٹے صاحبزادے تھے اور یہ ان کی اکلوتی فلم تھی۔ اس سے قبل شوکت صاحب کے بڑے صاحبزادے اکبر حسین رضوی نے بطور فلمساز اور ہدایتکار فلم ماں بہو اور بیٹا (1966) بنائی تھی۔ فلمساز کے طور پر ان کا نام ایک اور فلم پتر پنج دریاواں میں (1972) میں بھی ملتا ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ ان تینوں باپ بیٹوں کی سبھی فلمیں ناکام رہی تھیں۔ اکبر ، اداکارہ سونیا جہاں کے باپ تھے۔

سید شوکت حسین رضوی کی بطور ہدایتکار آخری فلم دلہن رانی (1973) تھی جو ایک اور ناکام فلم تھی۔ اس طرح پاکستان میں ان کا سو فیصدی ریکارڈ منفی رہا اور تمام فلمیں ناکام رہیں۔ اس فلم میں نشو اور ناظم کے ساتھ عقیل بھی تھے جو ان کے داماد بھی بنے۔ عقیل کی شادی ظل ہما سے ہوئی تھی۔ یہ دونوں دور حاضر کے معروف اداکار احمدعلی بٹ کے والدین تھے۔ سید شوکت حسین رضوی ، 1913ء میں اترپردیش میں پیدا ہوئے اور 1998ء میں لاہور میں انتقال ہوا۔

مسعودرانا کے سید شوکت حسین رضوی کی 1 فلم میں 1 گیت

(1 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت )
1
فلم ... عاشق ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ناشاد ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: (پس پردہ ، طالش)

Masood Rana & Syed Shoukat Hussain Rizvi: Latest Online film

Masood Rana & Syed Shoukat Hussain Rizvi: Film posters
Ashiq
Masood Rana & Syed Shoukat Hussain Rizvi:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Syed Shoukat Hussain Rizvi:

Total 1 joint films

(1 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1968: Ashiq
(Urdu)


Masood Rana & Syed Shoukat Hussain Rizvi: 1 song in 1 films

(1 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Ashiq
from Friday, 30 August 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Nashad, Poet: , Actor(s): (Playback - Talish)

Nishani
Nishani
(1942)
Humayun
Humayun
(1945)
Dard
Dard
(1947)
Dost
Dost
(1944)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

محمد علی
محمد علی
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
مہدی حسن
مہدی حسن
امجدبوبی
امجدبوبی
غزالہ
غزالہ
شمیم آرا
شمیم آرا
شیریں
شیریں
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
رشید عطرے
رشید عطرے
ریاض شاہد
ریاض شاہد
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
زلفی
زلفی
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
شبنم
شبنم
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
طالش
طالش
خلیل احمد
خلیل احمد
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
کیفی
کیفی
روبن گھوش
روبن گھوش
نذیر بیگم
نذیر بیگم
قدیرغوری
قدیرغوری
اختریوسف
اختریوسف
نذیرعلی
نذیرعلی
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
نذرالاسلام
نذرالاسلام
کمار
کمار
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
یاسمین
یاسمین
امین ملک
امین ملک
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
روبینہ بدر
روبینہ بدر
ایم سلیم
ایم سلیم
مسرور انور
مسرور انور
حسن لطیف
حسن لطیف
سدھیر
سدھیر
شیون رضوی
شیون رضوی
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
ریاض احمد
ریاض احمد
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
موج لکھنوی
موج لکھنوی
رنگیلا
رنگیلا
ایم اشرف
ایم اشرف
بخشی وزیر
بخشی وزیر
حنیف
حنیف
نرالا
نرالا
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
آغا حسینی
آغا حسینی
شبانہ
شبانہ
فضل حسین
فضل حسین
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
منظورجھلا
منظورجھلا
عمرشریف
عمرشریف
نگہت سیما
نگہت سیما
فردوس
فردوس
ساون
ساون
فیروز نظامی
فیروز نظامی
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
الحامد
الحامد
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
نذیرجعفری
نذیرجعفری
سیما
سیما
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
مسعودپرویز
مسعودپرویز
قوی
قوی
منیر نیازی
منیر نیازی
صفدرحسین
صفدرحسین
سلونی
سلونی
تصورخانم
تصورخانم
نبیلہ
نبیلہ
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
ظہورناظم
ظہورناظم
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
اقبال حسن
اقبال حسن
مظفروارثی
مظفروارثی
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
حزیں قادری
حزیں قادری
ایم صادق
ایم صادق
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
آصف جاوید
آصف جاوید
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
آئرن پروین
آئرن پروین
لقمان
لقمان
خلیل قیصر
خلیل قیصر
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
رفیق رضوی
رفیق رضوی
اعظم چشتی
اعظم چشتی
سلیم اقبال
سلیم اقبال
نغمہ
نغمہ
کے خورشید
کے خورشید
حیدر
حیدر
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
ظہیرریحان
ظہیرریحان
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
اسلم ڈار
اسلم ڈار
ایم جے رانا
ایم جے رانا
ساقی
ساقی
اے حمید
اے حمید
البیلا
البیلا
طافو
طافو
زیبا
زیبا
منورظریف
منورظریف
کمال احمد
کمال احمد
سلطان راہی
سلطان راہی
شریف نیر
شریف نیر
تنویر نقوی
تنویر نقوی
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
جعفر بخاری
جعفر بخاری
لیلیٰ
لیلیٰ
ناہید
ناہید
احمد راہی
احمد راہی
طارق عزیز
طارق عزیز
وحیدمراد
وحیدمراد
ننھا
ننھا
جمیل اختر
جمیل اختر
سید کمال
سید کمال
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
لہری
لہری
یوسف خان
یوسف خان
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
اکمل
اکمل
نسیمہ خان
نسیمہ خان
رحمان ورما
رحمان ورما
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
ساحل فارانی
ساحل فارانی
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
سہیل رعنا
سہیل رعنا
ندیم
ندیم
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
اے شاہ
اے شاہ
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
حبیب
حبیب
نیلو
نیلو
سنگیتا
سنگیتا
ایم اے رشید
ایم اے رشید
روزینہ
روزینہ
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
دیبا
دیبا
آصف جاہ
آصف جاہ
علاؤالدین
علاؤالدین
علی اعجاز
علی اعجاز
نثار بزمی
نثار بزمی
حبیب جالب
حبیب جالب
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
ایس سلیمان
ایس سلیمان
جی اے چشتی
جی اے چشتی
سلیم کاشر
سلیم کاشر
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
سلیم رضا
سلیم رضا
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
علی حسین
علی حسین
احمد رشدی
احمد رشدی
الطاف حسین
الطاف حسین
حسن عسکری
حسن عسکری
آسیہ
آسیہ
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
درپن
درپن
سائیں اختر
سائیں اختر
قتیل شفائی
قتیل شفائی
ناصرہ
ناصرہ
محمد رفیع
محمد رفیع
رشیداختر
رشیداختر
رضا میر
رضا میر
مسرت نذیر
مسرت نذیر
اسد بخاری
اسد بخاری
مالا
مالا
زینت
زینت
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
نذر
نذر
اعظم بیگ
اعظم بیگ
افتخارخان
افتخارخان
نذیر
نذیر
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
ایم اکرم
ایم اکرم
وحیدڈار
وحیدڈار
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
شاہد
شاہد
عالیہ
عالیہ
سنتوش کمار
سنتوش کمار
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
صہبااختر
صہبااختر
مصلح الدین
مصلح الدین
تانی
تانی
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
اعجاز
اعجاز
سیف چغتائی
سیف چغتائی
وزیر افضل
وزیر افضل
افضل خان
افضل خان
مسعود رانا
مسعود رانا
ناشاد
ناشاد
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
ابو شاہ
ابو شاہ
مشتاق علی
مشتاق علی
منوررشید
منوررشید
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
رانی
رانی
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
حسنہ
حسنہ
شوکت علی
شوکت علی
منیر حسین
منیر حسین
حسن طارق
حسن طارق
رخسانہ
رخسانہ
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
امداد حسین
امداد حسین
مظہر شاہ
مظہر شاہ
رضیہ
رضیہ
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
نسیم بیگم
نسیم بیگم
پرویز ملک
پرویز ملک
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.