Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


حسنہ

اداکارہ حسنہ
اداکارہ حسنہ
پاکستانی فلموں کی گلیمر گرل تھی
حسنہ
اداکارہ حسنہ

اداکارہ حسنہ نے ایک چائلڈ سٹار کے طور پر فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ ثانوی اور مرکزی کرداروں ، ویمپ ، ڈانسر اور سائیڈ ہیروئن کے علاوہ متعدد فلموں میں مکمل ہیروئن بھی آئی۔ اپنے فلمی کیرئر کے آخر میں اس کی پہچان ایک گلیمرگرل کی تھی۔۔!

حسنہ کی پہلی فلم

اداکارہ حسنہ کی پہلی فلم جان بہار (1958) تھی جس میں وہ ، مسرت نذیر اور سدھیر کی لاڈلی بیٹی بنی تھی۔

ہدایتکار شوکت حسین رضوی کی اس اردو فلم کی اصل ہیروئن تو ان کی بیگم ، اداکارہ اور گلوکارہ میڈم نورجہاں تھیں لیکن طلاق کی وجہ سے اس فلم سے الگ ہو گئی تھیں۔ اس فلم کی کہانی بھی کچھ ان دونوں کی ذاتی زندگی سے ملتی جلتی تھی۔

رشید عطرے کی موسیقی میں میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے پانچ گیت اس فلم میں شامل تھے جو سبھی مسرت نذیر پر فلمائے گئے تھے۔

  • کیسا نصیب لائی تھی گلشن بہار میں۔۔

بڑا خوبصورت گیت تھا۔ اس فلم میں نسیم بیگم اور زاہدہ پروین کے گائے ہوئے ایک گیت

  • اب تو جی بھر کے خنجر چلائیں گے ہم۔۔

کے دوران نیلو محو رقص ہے۔ شائقین میں فلم کے ہدایتکار شوکت حسین رضوی بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے دائیں طرف فلم کے ہیرو اور پاکستان کے پہلے سپرسٹار سدھیر جبکہ بائیں جانب پاکستان کے دوسرے سپرسٹ سنتوش کمار بیٹھے ہوئے ہیں۔

سدھیر اور سنتوش ، ایک ساتھ سلور سکرین پر

یہ واحد موقع تھا جب پچاس کی دھائی کے یہ دونوں عظیم فلمی ہیروز ، سلورسکرین پر ایک ساتھ نظر آئے تھے ورنہ کوئی ایک فلم بھی ایسی ریلیز نہیں ہوسکی ، جس میں یہ دیوقامت فنکار ایک ساتھ نظر آئے ہوں۔ البتہ متعدد فلمیں ایسی بن رہی تھیں جن میں ان دونوں کو شامل کیا گیا تھا لیکن وہ فلمیں کبھی مکمل نہ ہوسکی تھیں۔ ایسی ہی فلموں میں ایک ہدایتکار جعفر بخاری کی پنجابی فلم 'صابرخان' بھی تھی جس میں سدھیر ، فردوس کے ساتھ مرکزی کرداروں میں تھے جبکہ صبیحہ اور سنتوش ، ثانوی کرداروں میں تھے۔

حسنہ کی بطور ہیروئن پہلی فلم

اپنی پہلی فلم کی ریلیز کے بعد آدھ درجن فلموں میں حسنہ کو معاون اداکارہ کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ فرسٹ ہیروئن کے طور پر حسنہ کی پہلی فلم رانی خان (1960) تھی جس کے ہیرو اکمل تھے۔ یہ شاید واحد فلم تھی جس میں ہیرو اور ہیروئن نے جی بھر کر ایک دوسرے کو چٹکیاں بھریں یا "چُونڈیاں ماریں" تھیں۔

ملکہ ترنم نورجہاں نے پہلی بار کسی پنجابی فلم کے لیے باقاعدگی سے پلے بیک دیا تھا اور پہلا گیت تھا

  • نئیں بھلناں وے تینوں نئیں بھلناں ، چیتا رکھ لئیں سوہنیا۔۔

بابا چشتی کی دھن میں میڈم کے اس فلم میں اس اکلوتے گیت کو حزیں قادری نے لکھا تھا اور یہ گیت حسنہ پر فلمایا گیا تھا۔

اس فلم کا ٹائٹل رول نذر نے کیا تھا لیکن کہانی ، رانی خان کے سالے یعنی ظریف اور اس کی بہن لیلیٰ کے گرد گھومتی ہے۔

اسی موضوع پر ظریف کا ایک مزاحیہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا

  • میں رانی خان دا سالا ، میں سالا رانی خان دا۔۔

اس فلم کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ پنجابی فلموں کی سپرسٹار نغمہ پہلی بار ایک چھوٹے سے سین میں کچھ مکالمے بولتے ہوئے سلورسکرین پر نظر آئی تھی۔

حسنہ کی بطور ہیروئن پہلی اردو فلم

حسنہ کی بطور ہیروئن پہلی اردو فلم ہدایتکار خلیل قیصر کی ایک یادگار فلم عجب خان (1961) تھی۔ اس فلم میں اس کی جوڑی سدھیر کے ساتھ تھی جن کے ساتھ اپنی پہلی فلم میں بیٹی بنی تھی۔

یہ فلم ایک سچے واقعہ پر مبنی تھی۔ درہ آدم خیل کے آفریدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان پٹھان ' عجب خان' کو اس وقت بڑی شہرت ملی جب اس نے اپنی ماں کی توہین کا بدلہ لینے کے لیے اپنے تین ساتھیوں سمیت 13 اپریل 1923ء کو کوہاٹ چھاؤنی پر حملہ کر کے برٹش فوج کے میجرایلس کی بیوی کو مار دیا تھا اور اس کی بیٹی مس مولی کو اغواء کر لیا تھا۔ چند دنوں بعد ایک پرامن معاہدے کے تحت مغویہ کی واپسی ہوئی تھی لیکن روایت ہے کہ اس دوران وہ انگریز لڑکی ، عجب خان کی محبت میں گرفتار ہوگئی تھی۔

فلم میں یہ کردار سدھیر اور ایک انگریز اداکارہ مارگریٹ نے کیے تھے۔ طالش ، انگریز کے کردار میں تھے جبکہ حسنہ ، نذر اور ناصرہ وغیرہ ، دیگر اہم کردار تھے۔ یہ ایک اوسط درجہ کی فلم تھی جو بعد میں پشتو اور پنجابی میں بھی بنائی گئی تھی۔

حسنہ کی مصروفیت کا دور

اسی سال ہدایتکار رحیم گل کی فلم ہابو (1961) شاید پاکستان کی پہلی جنگل فلم تھی جس میں حسنہ کی جوڑی حبیب کے ساتھ تھی۔ فلم جادوگر (1961) میں نسیم بیگم کا یہ گیت بھی حسنہ پر فلمایا گیا تھا

  • رنگ محفل اور نہ تنہائی ، زندگی کس طرف چلی آئی۔۔

حسنہ کی یادگار فلموں میں ہدایتکار خلیل قیصر کی تاریخی فلم شہید (1962) بھی تھی جس میں اس کی جوڑی اعجاز کے ساتھ تھی۔ ہدایتکار منوررشید کی تاریخی فلم الہلال (1966) میں حسنہ ، درپن کے مقابل سولو ہیروئن تھی اور یہ کامیاب فلم عباسی خلیفہ المعتصم (42-833ء) کے بارے میں ایک افسانوی کہانی تھی۔ ہدایتکار مسعودپرویز کی فلم سرحد (1966) میں حسنہ کے لیے مالا کا گایا ہوا پشتو دھن میں یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا

  • شیردل خان ، او میر جان ، میں تیری تو میرا جاناناں۔۔

خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں تنویرنقوی کے بول تھے۔

حسنہ اور مسعودرانا کا ساتھ

ہدایتکار منوررشید کی کامیاب فلم کون کسی کا (1966) میں حسنہ کی جوڑی کمال کے ساتھ تھی اور اس فلم میں مسعودرانا اور نسیم بیگم کا یہ یادگار دوگانا تھا

  • دے گا نہ کوئی سہارا ، ان بے درد فضاؤں میں ، سو جا غم کی چھاؤں میں۔۔

اس فلم میں حسنہ نے پینٹ شرٹ میں ایک ٹام بوائے یا ماہی منڈا ٹائپ رول کیا تھا۔

ہدایتکار حسن طارق کی فلم تقدیر (1966) میں حسنہ کی جوڑی سنتوش کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں دیبو کی موسیقی میں مسعودرانا کے بھاری بھر کم گیت سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیوں انھیں اپنے عہد کے سبھی فلمی گلوکاروں پر برتری حاصل ہوتی تھی اور کیوں ناقدین انھیں "پاکستانی رفیع" کہتے تھے۔

فلم ماں بہو اور بیٹا (1966) میں بھی حسنہ ، سنتوش کے مقابل فرسٹ ہیروئن تھی اور یقیناً اس پر میڈم کا یہ سپرہٹ گیت فلمایا گیا ہوگا

  • لوگ دیکھیں نہ تماشا ، میری رسوائی کا۔۔
  • اسی فلم میں مسعودرانا کے یہ دو دلکش رومانٹک گیت بھی حسنہ ہی کے لیے گائے گئے ہوں گے
  • او نرم نازک حسینہ ، تیری نیلی نیلی آنکھوں نے دل میرا چھینا۔۔
  • چہرے پہ گرا آنچل ہوگا ، یہ آج نہیں تو کل ہوگا۔۔

فلم گناہ گار (1967) میں حسنہ پر مالا کا یہ خوبصورت گیت فلمایا گیا تھا

  • ہم نے تو پیار کیا ہے ، اک دلربا سے ، بے وفا سے ، لوگو۔۔

ہدایتکار یونس راہی کی فلم عصمت (1968) میں حسنہ کو زیبا کے مقابل فرسٹ ہیروئن کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور اس کی جوڑی اعجاز کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں نسیم بیگم کا گایا ہوا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا

  • اب تیری مرضی تو آئے یا نہ آئے ، میں نے تو تیرا انتظار کیا۔۔

اسی سال حسن طارق کی فلم بہن بھائی (1968) ایک ملٹی کاسٹ فلم تھی جس میں حسنہ کی جوڑی کمال کے ساتھ تھی۔ ان دونوں پر آئرن پروین اور احمدرشدی کا گایا ہوا یہ سپرہٹ مزاحیہ گیت فلمایا گیا تھا

  • اپ ٹو ڈیٹ بنا ہے ، ویسے بھولا بھالا ، سوٹ بوٹ میں ظالم تو نے کیسا رنگ نکالا ، ہیلو ہیلو مسٹر عبدالغنی۔۔

اے حمید کی موسیقی تھی اور فیاض ہاشمی کے بول تھے۔

حسنہ کی یادگار فلم نیلا پربت (1969)

حسنہ کے فلمی کیرئر کی ایک یادگار فلم نیلا پربت (1968) بھی تھی جس میں اس کے ہیرو محمدعلی تھے۔

یہ ناکام فلم صرف اس لیے قابل ذکر ہے کہ اس کے فلمساز اور ہدایتکار احمدبشیر تھے جن کی سب سے بڑی پہچان تو ان کا فنکار گھرانہ اور ان کی اداکارہ بیٹی ، بشریٰ انصاری ہے لیکن خود وہ بھی ایک نامور صحافی ، ناول نگار اور افسانہ نگار تھے۔ ان کا شمار ترقّی پسند مصنّفین میں ہوتا تھا اور یہ فلم بھی کچھ ایسی ہی سوچ کی عکاسی کرتی تھی۔

اس فلم کی کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ ، ان کے دیرینہ ساتھی اور ایک اور بہت بڑے ادبی نام ممتاز مفتی کا لکھا ہوا تھا جبکہ فلمی گیت لکھنے والوں میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کے علاوہ ممتاز شاعر ابن انشاء اور ظہورنذر جیسے نامی گرامی لوگ شامل تھے۔

ایک کلاسیکل موسیقار پیارنگ قادر کی دھنوں میں ملکہ ترنم نورجہاں اور ملکہ موسیقی روشن آرابیگم سمیت کسی بھی گلوکار کا گایا ہوا کوئی ایک بھی گیت مقبول نہ ہوسکا تھا۔

اسی سال حسنہ نے کئی برسوں بعد دو پنجابی فلموںمیں کام کیا تھا۔ شباب کیرانوی کے بڑے بیٹے ظفرشباب کی فلم کوچوان (1969) میں حسنہ کی جوڑی عنایت حسین بھٹی کے ساتھ تھی۔ ان دونوں پر الگ الگ فلمایا ہوا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا

  • او تک دلبریاں دلبر دیاں ، اک ہاسے مونہوں بول پئے۔۔

ذرا ٹھہر جا وے چوری چوری جان والیو

حسنہ کی سولو ہیروئن کے طور پر ہدایتکار کےخورشید کی پنجابی فلم یملا جٹ (1969) ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔ اس فلم کا یادگار ترین گیت تو اس کا تھیم سانگ تھا جو مسعودرانا کی لافانی آواز میں تھا

  • اے جگ وانگ سرانواں بندیا۔۔

لیکن عوامی مقبولیت کے لحاظ سے رونالیلیٰ کا گایا ہوا یہ گیت فلم کی پہچان بنا

  • ذرا ٹھہر جاوے چوری چوری جان والیو ، کجھ اسیں وی آں چناں تیرے لگدے ، تیرا ناں لے کے طعنے سنے جگ دے ، وے چوری چوری جان والیو۔۔

رونالیلیٰ نے اس پنجابی فلم کے آٹھ میں سے پانچ گیت گائے تھے اور موسیقار ایم اشرف نے حزیں قادری کے لکھے ہوئے گیتوں کی بڑی سریلی دھنیں بنائی تھیں۔

حسنہ پر ہی رونالیلیٰ کا یہ المیہ گیت بھی فلمایا تھا

  • لا کے کلیجے وچ اگ بتیے ، میرے وانگوں ہولی ہولی سڑھ بتیے۔۔

حسنہ اور یوسف خان پر نسیم بیگم اور مسعودرانا کا یہ دلکش دوگانا بھی فلمایا گیا تھا

  • لنگی بن کے پشوری ، پاکے کڑتا لاہوری ، ویکھو منڈا میرے ہان دا مجاجاں کردا۔۔

مسعودرانا کا میلے کاایک یادگار گیت

  • نی میلہ لٹ لے مٹیارے ، نی کہیڑا تیرا مل لگدا ، اکھاں میل کے بنا دے بُت سارے ، نی کہیڑا تیرا مل لگدا۔۔

بھی حسنہ ہی کے لیے گایا گیا تھا۔

حسنہ ، ایک گلیمر گرل

1970ء کی دھائی میں رنگین فلمیں بننا عام ہوگئی تھیں اور ایک بہت بڑی تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی تھی کہ حسنہ کو فلموں میں ثانوی کرداروں میں مغربی رنگ میں رنگی ہوئی ایک ماڈرن ، بے باک اور ایک شوخ و چنچل حسینہ کے روپ میں گلیمرگرل بنا کر پیش کیا جانے لگا تھا۔

فلم ہنی مون (1970) میں حسنہ اور کمال کے لیے مسعودرانا اور نسیمہ شاہین کا یہ شوخ گیت بڑا پسند کیا گیا تھا

  • ہواکو کیوں نہ چوموں میں ، خوشی سے کیوں نہ جھوموں میں۔۔

فلم دوستی (1971) میں حسنہ نے مغربی تہذیب میں پیدا ہونے والی ایک ایسی لڑکی کا رول کیا تھا جسے اعجاز کی صورت میں ایک دیسی ساتھی پانے میں ناکامی ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کی دوسری فلم تھی جس نے کراچی میں سو ہفتے چلنے کا اعزاز حاصل کیاتھا۔

فلم سبق (1972) میں رونالیلیٰ کا یہ شوخ گیت

  • ڈانٹ بی سلی۔۔

بھی حسنہ پر فلمایا گیاتھا۔ ایسا ہی ایک گیت فلم آرپار (1973) میں طاہرہ سید کا تھا

  • رات نشیلی ہے ، اکیلا دل، لگی ہے آگ سینے میں ، مزہ کیا ایسے جینے میں۔۔

فلم آرزو (1975) میں ناہیداختر کا یہ گیت بھی حسنہ ہی کے لیے تھا

  • ترستا ہے یہ دل ،تجھے پیار کرلوں ، حسین بازوؤں میں گرفتار کرلوں ۔۔

حسنہ پر آخری آخری جو گیت فلمایا گیا تھا وہ فلم ثریا بھوپالی (1976) میں رانی اور ساتھیوں کے ساتھ یہ دلچسپ کورس گیت تھا

  • کاہے بیٹھے ہو نیناں چرا کے۔۔

ناہیداختر ، مہناز اور ساتھیوں کی آوازیں تھیں۔

​​دستیاب معلومات کے مطابق حسنہ نے دو دھائیوں کے فلمی کیرئر میں صرف پانچ درجن کے قریب فلموں میں کام کیا تھا ، بیشتر اردو فلمیں تھیں۔ دوتہائی فلموں میں معاون اداکارہ تھی اور بطور فرسٹ ہیروئن کامیابی نہیں ملی تھی۔

یہ کیسا دلچسپ اتفاق ہے کہ حسنہ نے زیادہ پنجابی فلموں میں کام نہیں کیا لیکن اس کی فرسٹ ہیروئن کے طور پر پہلی فلم ، ایک پنجابی فلم رانی خان (1960) تھی اور اس کی فرسٹ ہیروئن کے طور پر آخری فلم بھی ایک پنجابی فلم بازی جت لئی (1972) تھی جس میں اس پر فریدہ خانم کا یہ گیت فلمایا گیا تھا

  • نی مینوں نچ کے یار نوں منا لین دے۔۔

حسنہ کی ریلیز کے اعتبار سے آخری فلم لہو دے رشتے (1980) تھی جو ایک بلیک اینڈ وہائٹ پنجابی فلم تھی جو کافی عرصہ سے رکی ہوئی تھی۔

حسنہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں مقیم ہے۔

مسعودرانا اور حسنہ کے 2 فلمی گیت

(1 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت )
1

لنگی بن کے پشوری ، پا کے کرتا لاہوری ،ویکھو منڈا میرے ہان دا مجاجاں کردا..

فلم ... یملا جٹ ... پنجابی ... (1969) ... گلوکار: نسیم بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: حسنہ ، یوسف خان
2

ہوا کو کیوں نہ چوموں میں ، خوشی سے کیوں نہ جھوموں میں..

فلم ... ہنی مون ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ، نسیمہ شاہین ... موسیقی: دیبو ... شاعر: صہبا اختر ... اداکار: کمال ، حسنہ

مسعودرانا اور حسنہ کے 1 اردو گیت

1

ہوا کو کیوں نہ چوموں میں ، خوشی سے کیوں نہ جھوموں میں ...

(فلم ... ہنی مون ... 1970)

مسعودرانا اور حسنہ کے 1 پنجابی گیت

1

لنگی بن کے پشوری ، پا کے کرتا لاہوری ،ویکھو منڈا میرے ہان دا مجاجاں کردا ...

(فلم ... یملا جٹ ... 1969)

مسعودرانا اور حسنہ کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور حسنہ کے 2دوگانے

1

لنگی بن کے پشوری ، پا کے کرتا لاہوری ،ویکھو منڈا میرے ہان دا مجاجاں کردا ...

(فلم ... یملا جٹ ... 1969)
2

ہوا کو کیوں نہ چوموں میں ، خوشی سے کیوں نہ جھوموں میں ...

(فلم ... ہنی مون ... 1970)

مسعودرانا اور حسنہ کے 0کورس گیت



Masood Rana & Husna: Latest Online film

Behan Bhai

(Urdu - Black & White - Friday, 24 May 1968)


Masood Rana & Husna: Film posters
NaelaTaqdeerBehan BhaiYamla JattHoneymoonRabb RakhaTera Gham Rahay SalamatDharti Sheran DiDilrubaRaja JaniZaroorat
Masood Rana & Husna:

1 joint Online films

(1 Urdu and 0 Punjabi films)

1.1968: Behan Bhai
(Urdu)
Masood Rana & Husna:

Total 14 joint films

(11 Urdu and 3 Punjabi films)

1.1965: Naela
(Urdu)
2.1966: Sarhad
(Urdu)
3.1966: Kon Kisi Ka
(Urdu)
4.1966: Taqdeer
(Urdu)
5.1966: Maa Bahu Aur Beta
(Urdu)
6.1968: Behan Bhai
(Urdu)
7.1969: Yamla Jatt
(Punjabi)
8.1970: Honeymoon
(Urdu)
9.1971: Rabb Rakha
(Punjabi)
10.1973: Tera Gham Rahay Salamat
(Urdu)
11.1973: Dharti Sheran Di
(Punjabi)
12.1975: Dilruba
(Urdu)
13.1976: Raja Jani
(Urdu)
14.1976: Zaroorat
(Urdu)


Masood Rana & Husna: 2 songs

(1 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Yamla Jatt
from Thursday, 11 December 1969
Singer(s): Naseem Begum, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Husna, Yousuf Khan
2.
Urdu film
Honeymoon
from Friday, 6 February 1970
Singer(s): Masood Rana, Naseema Shaheen, Music: Deebo, Poet: Sehba Akhtar, Actor(s): Kemal, Husna

Talash
Talash
(1976)
Susral
Susral
(1962)
Sajda
Sajda
(1967)

Loafer
Loafer
(2013)
Veryam
Veryam
(1969)
Mahi Way
Mahi Way
(2016)
Farz
Farz
(1973)

Birhan
Birhan
(1947)
Tansen
Tansen
(1943)
Dhamki
Dhamki
(1945)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
احمد رشدی
احمد رشدی
ایس سلیمان
ایس سلیمان
زیبا
زیبا
امین ملک
امین ملک
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
حیدر
حیدر
شیریں
شیریں
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
شبنم
شبنم
سید کمال
سید کمال
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
آغا حسینی
آغا حسینی
نذرالاسلام
نذرالاسلام
یاسمین
یاسمین
ناشاد
ناشاد
ایم سلیم
ایم سلیم
جعفر بخاری
جعفر بخاری
صفدرحسین
صفدرحسین
علی اعجاز
علی اعجاز
وزیر افضل
وزیر افضل
محمد علی
محمد علی
کے خورشید
کے خورشید
سیما
سیما
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
ریاض احمد
ریاض احمد
مظہر شاہ
مظہر شاہ
ننھا
ننھا
رانی
رانی
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
مسعودپرویز
مسعودپرویز
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
مسعود رانا
مسعود رانا
سائیں اختر
سائیں اختر
رحمان ورما
رحمان ورما
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
اے حمید
اے حمید
کمال احمد
کمال احمد
آسیہ
آسیہ
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
طافو
طافو
منورظریف
منورظریف
حنیف
حنیف
یوسف خان
یوسف خان
روبینہ بدر
روبینہ بدر
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
نذیر
نذیر
زلفی
زلفی
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
سنتوش کمار
سنتوش کمار
شوکت علی
شوکت علی
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
قوی
قوی
مہدی حسن
مہدی حسن
پرویز ملک
پرویز ملک
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
صہبااختر
صہبااختر
روزینہ
روزینہ
امجدبوبی
امجدبوبی
ندیم
ندیم
نذر
نذر
ساقی
ساقی
ظہورناظم
ظہورناظم
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
الطاف حسین
الطاف حسین
سلطان راہی
سلطان راہی
ریاض شاہد
ریاض شاہد
اختریوسف
اختریوسف
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
آصف جاہ
آصف جاہ
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
ساحل فارانی
ساحل فارانی
فضل حسین
فضل حسین
خلیل قیصر
خلیل قیصر
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
نغمہ
نغمہ
کمار
کمار
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
جمیل اختر
جمیل اختر
دیبا
دیبا
سلیم اقبال
سلیم اقبال
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
رضیہ
رضیہ
رنگیلا
رنگیلا
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
نگہت سیما
نگہت سیما
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
نذیر بیگم
نذیر بیگم
حسن طارق
حسن طارق
سلیم رضا
سلیم رضا
ایم جے رانا
ایم جے رانا
لیلیٰ
لیلیٰ
البیلا
البیلا
وحیدڈار
وحیدڈار
نسیم بیگم
نسیم بیگم
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
کیفی
کیفی
موج لکھنوی
موج لکھنوی
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
اعظم چشتی
اعظم چشتی
درپن
درپن
لہری
لہری
شیون رضوی
شیون رضوی
مصلح الدین
مصلح الدین
اے شاہ
اے شاہ
ظہیرریحان
ظہیرریحان
ناہید
ناہید
خلیل احمد
خلیل احمد
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
جی اے چشتی
جی اے چشتی
منیر حسین
منیر حسین
مسرور انور
مسرور انور
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
رفیق رضوی
رفیق رضوی
رشیداختر
رشیداختر
عمرشریف
عمرشریف
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
افتخارخان
افتخارخان
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
قدیرغوری
قدیرغوری
حسن لطیف
حسن لطیف
ایم اے رشید
ایم اے رشید
امداد حسین
امداد حسین
اسد بخاری
اسد بخاری
مسرت نذیر
مسرت نذیر
مشتاق علی
مشتاق علی
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
اقبال حسن
اقبال حسن
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
احمد راہی
احمد راہی
شاہد
شاہد
حسنہ
حسنہ
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
نذیرجعفری
نذیرجعفری
طالش
طالش
محمد رفیع
محمد رفیع
منیر نیازی
منیر نیازی
شریف نیر
شریف نیر
سدھیر
سدھیر
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
تصورخانم
تصورخانم
روبن گھوش
روبن گھوش
غزالہ
غزالہ
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
مالا
مالا
طارق عزیز
طارق عزیز
علاؤالدین
علاؤالدین
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
سہیل رعنا
سہیل رعنا
رضا میر
رضا میر
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
حبیب
حبیب
حبیب جالب
حبیب جالب
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
اعظم بیگ
اعظم بیگ
وحیدمراد
وحیدمراد
نرالا
نرالا
زینت
زینت
بخشی وزیر
بخشی وزیر
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
افضل خان
افضل خان
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
سنگیتا
سنگیتا
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
ابو شاہ
ابو شاہ
ناصرہ
ناصرہ
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
نثار بزمی
نثار بزمی
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
رخسانہ
رخسانہ
اکمل
اکمل
عالیہ
عالیہ
حزیں قادری
حزیں قادری
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
مظفروارثی
مظفروارثی
نذیرعلی
نذیرعلی
منظورجھلا
منظورجھلا
سلونی
سلونی
علی حسین
علی حسین
قتیل شفائی
قتیل شفائی
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
لقمان
لقمان
ایم اکرم
ایم اکرم
ساون
ساون
اعجاز
اعجاز
الحامد
الحامد
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
نسیمہ خان
نسیمہ خان
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
شبانہ
شبانہ
ایم اشرف
ایم اشرف
شمیم آرا
شمیم آرا
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
آصف جاوید
آصف جاوید
آئرن پروین
آئرن پروین
ایم صادق
ایم صادق
فردوس
فردوس
نیلو
نیلو
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
نبیلہ
نبیلہ
سیف چغتائی
سیف چغتائی
سلیم کاشر
سلیم کاشر
رشید عطرے
رشید عطرے
تانی
تانی
تنویر نقوی
تنویر نقوی
حسن عسکری
حسن عسکری
منوررشید
منوررشید
فیروز نظامی
فیروز نظامی
اسلم ڈار
اسلم ڈار
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.