Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


عطا الرحمان خان

خان عطاالرحمان
پاکستان کی پہلی عالمی ایوارڈ یافتہ فلم
کے ہیرو تھے

خان عطا الرحمان ، سابقہ مشرقی پاکستان کے ایک آل راؤنڈ بنگالی فنکار تھے جنھیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ڈھاکہ میں بننے والی پہلی اردو فلم جاگو ہوا سویرا (1959) کے ہیرو تھے۔

یہ پاکستان کی واحد فلم تھی جو ماسکو کے ایک فلمی میلے میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس فلم کو بنانے والے موجودہ (یا اس وقت کے مغربی) پاکستان سے تعلق رکھنے والے فلمساز نعمان تاثیر اور ہدایتکار اجے کاردار تھے۔ فلم کی کہانی ایک بنگالی بھارتی ناول سے ماخوذ تھی اور موسیقی بھی ایک بھارتی موسیقار نے دی تھی۔ اس فلم کے مکالموں اور سکرین پلے کے علاوہ گیت بھی فیض احمد فیض نے لکھے تھے۔ عکاس ایک برطانوی تھے۔ فلم کی ہیروئن کا تعلق بھی بھارت سے تھا جبکہ باقی سبھی مشرقی پاکستان کے مقامی فنکار تھے۔

مشرقی پاکستان کی فلموں کا ممتاز نام ، خان عطاالرحمان

خان عطا الرحمان نے متعدد فلموں میں اداکاری کے علاوہ ایک فلم نواب سراج الدولہ (1967) بطور ہدایتکار بنائی تھی لیکن اصل شہرت بطور موسیقار ملی تھی۔

موجودہ پاکستان میں مشرقی پاکستان کے چند گنے چنے فنکار ہی جان پہچان رکھتے تھے اور وہ بھی اردو فلموں کے حوالے سے۔ ڈھاکہ کی بنی ہوئی اردو فلمیں اصل میں ڈبل ورژن فلمیں ہوتی تھیں جو بنتی تو بنگالی زبان میں تھیں لیکن مغربی پاکستان کے دونوں سرکٹوں (لاہور اور کراچی) میں انھیں اردو میں ڈب کر کے پیش کیا جاتا تھا۔ ان فلموں کے مکالموں کی ڈبنگ کے علاوہ ان کے گیت بھی لاہور سٹوڈیوز میں یہاں کے گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیے جاتے تھے۔

پاکستان کی پہلی رنگین فلم سنگم (1964)

متحدہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم سنگم (1964) تھی جو بطور موسیقار خان عطا الرحمان کی پہلی اردو فلم تھی۔

اسی سال ان کی دوسری فلم ملن (1964) بھی ریلیز ہوئی تھی جس میں چند گیت سپر ہٹ ہوئے تھے جن میں

  • تم جو ملے ، پیار ملا ، دل کو قرار آ گیا۔۔
  • تم سلامت رہو ، مسکراؤ ، ہنسو۔۔

شامل تھے۔

ان دونوں گیتوں میں ڈھاکہ فلموں کے سب سے مقبول گلوکار بشیر احمد کی آوازیں شامل تھیں جبکہ پہلے گیت میں میڈم نورجہاں کی آواز بھی شامل تھی۔ یہ ان کا مشرقی پاکستان کی کسی بھی فلم کے لیے پہلا گیت تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس گیت کا انھوں نے محض ایک روپیہ علامتی معاوضہ لیا تھا کیونکہ مغربی پاکستان کے متعدد فنکاروں نے ازراہ ہمدردی اس فلم میں بلا معاوضہ کام کیا تھا جن میں فلم کی ہیروئن دیبا بھی شامل تھی۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ فلم کے ہیرو ، فلمساز اور ہدایتکار رحمان کی ایک حادثے میں ایک ٹانگ کٹ گئی تھی اور باقی عمر وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ فلموں میں کام کرتے رہے تھے۔

خان عطاالرحمان اور مسعودرانا کا ساتھ

خان عطا الرحمان کی بطور موسیقار تیسری فلم ساگر (1965) تھی۔ اس فلم کی ہیروئن شبنم تھی جس کے ساتھ ڈھاکہ کے تین مقبول ہیرو ایک ساتھ موجود تھے جن میں عظیم ، ہارون اور شوکت اکبر شامل تھے۔ اس فلم میں دھیمی سروں میں گایا ہوا ایک انتہائی دلکش رومانٹک گیت تھا

  • تاروں کی چھیاں چھیاں۔۔

خان عطا الرحمان کے ساتھ مسعودرانا کا یہ پہلا گیت تھا جو ان کے حیران کر دینے والوں گیتوں میں سے ایک تھا ، ساتھی گلوکارہ آئرن پروین تھی اور سرور بارہ بنکوی کے بول تھے۔

ایک "غدار" کی اردو فلم

خان عطا الرحمان کی اس سال کی دوسری فلم بہانہ (1965) تھی جو ایک متنازعہ ہدایتکار قاضی ظہیر ریحان کی بنائی ہوئی فلم تھی۔ موصوف نے 1971ء کی جنگ میں پاک فوج کے خلاف اہم کردار ادا کیا تھا اور بنگلہ دیش کی آزادی کے ہیرو اور پاکستان کے "غدار" تھے۔

اس فلم کی زیادہ تر آؤٹ ڈور شوٹ کراچی میں ہوئی تھی اور اس موضوع پر یہ دو دلچسپ گیت تخلیق ہوئے تھے

  • ایسی کراچی سے تو ہم باز آئے۔۔
  • شہر کا نام ہے کراچی ، بچ کے رہنا یہاں۔۔

ان دونوں گیتوں کے علاوہ مسعودرانا کا تیسرا گیت

  • آج میرے دل کی کلیاں کھلنے کا زمانہ آیا۔۔

بھی تھا۔ فلم کی جوڑی کابوری اور رحمان کی تھی۔ اس فلم کے گیت بھی سرور بارہ بنکوی کے لکھے ہوئے تھے۔

1965ء کا سال خان عطا الرحمان کے لیے بطور موسیقار مصروف ترین سال تھا جب ان کی کل چار میں سے تیسری فلم آخری سٹیشن بھی ریلیز ہوئی تھی۔ یہ اداکارہ رانی کی ڈھاکہ میں بننے والی اکلوتی فلم تھی جس میں شبنم نے ایک پگلی کا سائید رول کیا تھا۔

پاکستان کی پہلی سینما سکوپ فلم

چوتھی فلم مالا (1965) تھی جس کا بنگلہ ورژن یوٹیوب پر موجود ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی رنگین اور سینما سکوپ فلم تھی جس کے اردو ورژن میں مسعودرانا کا آئرن پروین کے ساتھ گایا ہوا ایک کورس گیت تھا

  • آؤ آج سکھی ری منگل منائیں۔۔

ان کے بعد خان عطا الرحمان کی دو مزید فلمیں ملتی ہیں ، نواب سراج الدولہ (1967) اور سوئے ندیا جاگے پانی (1968)۔

خان عطا الرحمان نے مغربی پاکستان کے گلوکاروں میں سے سب سے زیادہ گیت آئرن پروین سے گوائے تھے جن کی تعداد 17 تھی جبکہ احمدرشدی سے سات اور مسعودرانا سے پانچ گیت گوائے تھے۔ 1997ء میں انتقال ہوا تھا۔

مسعودرانا اور عطا الرحمان خان کے 5 فلمی گیت

5 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1

تاروں کی چھیاں چھیاں ، من بھرے نہ سیاں ، تم نے یہ کیا کیا..

فلم ... ساگر ... اردو ... (1965) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ... موسیقی: عطا الرحمان خان ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ؟
2

آج میرے دل کی کلیاں کھلنے کا زمانہ آیا..

فلم ... بہانہ ... اردو ... (1965) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: عطا الرحمان خان ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ؟
3

شہر کا نام ہے کراچی ، بچ کے رہنا یہاں..

فلم ... بہانہ ... اردو ... (1965) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ، آئرن پروین مع ساتھی ... موسیقی: عطا الرحمان خان ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ؟
4

ایسی کراچی سے تو ہم بازآئے ، کام نہ آئے کوئی اپنے پرائے..

فلم ... بہانہ ... اردو ... (1965) ... گلوکار: منیر حسین ، مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: عطا الرحمان خان ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ؟
5

آؤ آج ، چلو ری سکھی ، آج منگل منائیں..

فلم ... مالا ... اردو ... (1965) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: عطا الرحمان خان ... شاعر: سرور بارہ بنکوی ... اداکار: ؟

مسعودرانا اور عطا الرحمان خان کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور عطا الرحمان خان کے 1دو گانے

1

تاروں کی چھیاں چھیاں ، من بھرے نہ سیاں ، تم نے یہ کیا کیا ...

(فلم ... ساگر ... 1965)

مسعودرانا اور عطا الرحمان خان کے 4کورس گیت

1شہر کا نام ہے کراچی ، بچ کے رہنا یہاں ... (فلم ... بہانہ ... 1965)
2ایسی کراچی سے تو ہم بازآئے ، کام نہ آئے کوئی اپنے پرائے ... (فلم ... بہانہ ... 1965)
3آج میرے دل کی کلیاں کھلنے کا زمانہ آیا ... (فلم ... بہانہ ... 1965)
4آؤ آج ، چلو ری سکھی ، آج منگل منائیں ... (فلم ... مالا ... 1965)

Masood Rana & Khan Ataur Rahman: Latest Online film

Masood Rana & Khan Ataur Rahman: Film posters
SagarBahanaMala
Masood Rana & Khan Ataur Rahman:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Khan Ataur Rahman:

Total 3 joint films

(1 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1965: Sagar
(Urdu)
2.1965: Bahana
(Bengali/Urdu double version)
3.1965: Mala
(Bengali/Urdu double version)


Masood Rana & Khan Ataur Rahman: 5 songs

(5 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Sagar
from Friday, 12 March 1965
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Music: Khan Ataur Rahman, Poet: , Actor(s): ?
2.
Urdu film
Bahana
from Monday, 12 April 1965
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana & Co., Music: Khan Ataur Rahman, Poet: , Actor(s): ?
3.
Urdu film
Bahana
from Monday, 12 April 1965
Singer(s): Munir Hussain, Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Khan Ataur Rahman, Poet: , Actor(s): ?
4.
Urdu film
Bahana
from Monday, 12 April 1965
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Irene Parveen & Co., Music: Khan Ataur Rahman, Poet: , Actor(s): ?
5.
Urdu film
Mala
from Friday, 3 December 1965
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana & Co., Music: Khan Ataur Rahman, Poet: , Actor(s): ?


Sassi
Sassi
(1954)
Bahana
Bahana
(1965)
Ehsas
Ehsas
(1998)

Shalimar
Shalimar
(1946)
Rattan
Rattan
(1944)
Jhumkay
Jhumkay
(1946)



پاکستان کی 75 سالہ فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین ، سال رواں یعنی 2023ء میں پاکستانی فلموں کے 75ویں سال میں مختلف فلمی موضوعات پر اردو/پنجابی میں تفصیلی مضامین پیش کر رہا ہے جن میں مکمل فلمی تاریخ کو آن لائن محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں ، 2005ء میں پاکستانی فلموں کا عروج و زوال کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون لکھا گیا تھا۔ 2008ء میں پاکستانی فلموں کے ساٹھ سال کے عنوان سے مختلف فنکاروں اور فلموں پر مختصر مگر جامع مضامین سپردقلم کیے گئے تھے۔ ان کے علاوہ پاکستانی فلموں کے منفرد ڈیٹابیس سے اعدادوشمار پر مشتمل بہت سے صفحات ترتیب دیے گئے تھے جن میں خاص طور پر پاکستانی فلموں کی سات دھائیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ایک تفصیلی سلسلہ بھی موجود ہے۔


237 فنکاروں پر معلوماتی مضامین



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.