A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana
مسعودرانا کا فنی سفر
مسعودرانا کے 241 ساتھی فنکاروں پر معلوماتی مضامین
26 ..... گلوکار
- زبیدہ خانم
- علی بخش ظہور
- منور سلطانہ
- مسعود رانا
- عنایت حسین بھٹی
- حامدعلی بیلا
- فضل حسین
- تصورخانم
- اعظم چشتی
- رونا لیلیٰ
- آصف جاوید
- نگہت سیما
- ملکہ ترنم نور جہاں
- نذیر بیگم
- سائیں اختر
- سلیم رضا
- روبینہ بدر
- نسیم بیگم
- شوکت علی
- مالا
- احمد رشدی
- نسیمہ شاہین
- منیر حسین
- آئرن پروین
- محمد رفیع
- مہدی حسن
32 ..... نغمہ نگار
- حکیم احمد شجاع
- شیون رضوی
- سلطان محمود آشفتہ
- سلیم کاشر
- طفیل ہوشیارپوری
- کلیم عثمانی
- اسماعیل متوالا
- اختریوسف
- ظہیر کاشمیری
- تسلیم فاضلی
- ریاض الرحمان ساغر
- منظورجھلا
- سعیدگیلانی
- صہبااختر
- ظہورناظم
- خواجہ پرویز
- مظفروارثی
- ساحل فارانی
- قتیل شفائی
- سرور بارہ بنکوی
- حبیب جالب
- احمد راہی
- تنویر نقوی
- بابا عالم سیاہ پوش
- حزیں قادری
- مشیر کاظمی
- موج لکھنوی
- منیر نیازی
- وارث لدھیانوی
- مسرور انور
- حمایت علی شاعر
- فیاض ہاشمی
44 ..... موسیقار
- راگنی
- رفیق غزنوی
- ماسٹر غلام حیدر
- طافو
- اعظم بیگ
- مشتاق علی
- امجدبوبی
- غلام حسین شبیر
- وجاہت عطرے
- علی حسین
- اے حمید
- کریم شہاب الدین
- صفدرحسین
- وزیر افضل
- ناشاد
- کمال احمد
- رحمان ورما
- حسن لطیف
- روبن گھوش
- نذیرجعفری
- نذیرعلی
- سیف چغتائی
- خواجہ خورشید انور
- سلیم اقبال
- اخترحسین اکھیاں
- غلام نبی ، عبداللطیف
- طفیل فاروقی
- ماسٹر عنایت حسین
- ماسٹر عبد اللہ
- سہیل رعنا
- خلیل احمد
- فیروز نظامی
- بخشی وزیر
- خان عطا الرحمان
- ماسٹر عاشق حسین
- نثار بزمی
- ماسٹر تصدق حسین
- ماسٹر رفیق علی
- رشید عطرے
- ایم اشرف
- لال محمد اقبال
- مصلح الدین
- جی اے چشتی
- دیبو بھٹا چاریہ
56 ..... ہدایتکار
- اے آر کاردار
- داؤد چاند
- نذرالاسلام
- آغا حسینی
- ایم صادق
- حسن عسکری
- اسلم ڈار
- قدیرغوری
- الطاف حسین
- ایم ایس ڈار
- شوکت حسین رضوی
- ایس ایم یوسف
- خواجہ سرفراز
- حمیدچوہدری
- آغا جی اے گل
- عزیز میرٹھی
- لقمان
- کے خورشید
- پرویز ملک
- ایم سلیم
- سیف الدین سیف
- بھائیا اے حمید
- خلیل قیصر
- اکبرعلی اکو
- ریاض احمد راجو
- وحیدڈار
- ریاض احمد
- افتخارخان
- ارشدکاظمی
- ظہیرریحان
- ایم اکرم
- الحامد
- ریاض شاہد
- نذیر
- انورکمال پاشا
- شریف نیر
- راجہ حفیظ
- مسعودپرویز
- ایم اے رشید
- ایس سلیمان
- رشیداختر
- منوررشید
- رفیق رضوی
- اقبال کاشمیری
- جمیل اختر
- جعفر بخاری
- شباب کیرانوی
- احتشام ، مستفیض
- ایس اے بخاری
- ایم جے رانا
- رضا میر
- حیدر چوہدری
- امین ملک
- اسلم ایرانی
- اقبال شہزاد
- حسن طارق
83 ..... اداکار
- ہمالیہ والا
- آشا پوسلے
- سنگیتا
- سلطان راہی
- آسیہ
- عمرشریف
- شبنم
- قوی
- افضل خان
- شاہد
- ننھا
- کیفی
- لیلیٰ
- ساقی
- ناصرہ
- علی اعجاز
- حسنہ
- ناہید
- اقبال حسن
- عالیہ
- رخسانہ
- ماسٹر مراد
- نسیمہ خان
- تانی
- الیاس کاشمیری
- شبانہ
- نبیلہ
- ایم اسماعیل
- روزینہ
- ندیم
- خلیفہ نذیر
- کمار
- سیما
- مسرت نذیر
- ساون
- آئٹم گرلز
- غزالہ
- دیبا
- زینت
- سلونی
- یاسمین
- منورظریف
- زیبا
- طلعت صدیقی
- حیدر
- اعجاز
- رانی
- زلفی
- ابو شاہ
- آصف جاہ
- سلمیٰ ممتاز
- نورمحمدچارلی
- شیریں
- یوسف خان
- علاؤالدین
- وحیدمراد
- فردوس
- شمیم آرا
- لہری
- مظہر شاہ
- طالش
- نغمہ
- رضیہ
- سنتوش کمار
- رنگیلا
- دلجیت مرزا
- اکمل
- اے شاہ
- نذر
- سدھیر
- حنیف
- طارق عزیز
- صبیحہ خانم
- محمد علی
- درپن
- امداد حسین
- البیلا
- اطہر شاہ خان
- نیلو
- نرالا
- اسد بخاری
- سید کمال
- حبیب
پرویز ملک
کی پہلی ہی فلم نے
کراچی میں گولڈن جوبلی کی تھی
پرویزملک ، سوشل ، رومانٹک اور نغماتی اردو فلموں کے کامیاب ترین ہدایتکار تھے جنھیں سب سے زیادہ ڈائمنڈ جوبلی فلمیں بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔۔!
امریکہ سے فلم سازی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پرویز ملک جب واپس پاکستان آئے تو ان کا پہلا ساتھ اپنے دیرینہ دوست وحیدمراد کے ساتھ ہوا جو بطور فلمساز دو فلمیں بنانے کے علاوہ متعدد فلموں میں اداکاری بھی کر چکے تھے۔
پرویز ملک کی پہلی فلم
ان دونوں کی پہلی مشترکہ فلم ہیرا اور پتھر (1964) تھی جس کے فلمساز اور ہیرو وحیدمراد تھے ، کہانی اقبال رضوی ، ہدایتکار اور منظرنامہ ، پرویز ملک کا اپنا لکھا ہوا تھا۔ زیبا ہیروئن تھی۔ اسی فلم میں وحیدمراد پر پہلی بار احمدرشدی کا کوئی گیت فلمایا گیا تھا "گوری سمٹی جائے شرم سے۔۔" سہیل رعنا موسیقار اور مسرورانور ، نغمہ نگار تھے۔
پرویز ملک کی اس پہلی فلم نے کراچی میں گولڈن جوبلی اور اپنے مرکزی سینما ناز پر سولو سلورجوبلی کی تھی جو ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اسی فلم سے اردو فلموں کی ایک کامیاب ٹیم تشکیل پائی تھی جو ہدایتکار پرویز ملک ، ہیرو اور فلمساز وحیدمراد ، ہیروئن زیبا ، موسیقار سہیل رعنا ، نغمہ نگار مسرورانور اور گلوکار مالا اور احمدرشدی کی شکل میں سامنے آئی تھی۔
فلم ارمان (1966) کی سپرہٹ کامیابی
پرویز ملک کی اسی ٹیم کی دوسری فلم ارمان (1966) ایک ریکارڈ توڑ اردو فلم تھی۔ یہ فلم صرف ناز سینما کراچی میں مسلسل 34 ہفتے چلی تھی جو وحیدمراد کی سبھی فلموں میں سب سے زیادہ سولو ویک چلنے والی فلم تھی۔
کل 76 ہفتے چلنے والی اس فلم نے وحیدمراد کو سپرسٹار بنا دیا تھا۔ یہ زیبا کے فلمی کیرئر کی سب سے کامیاب اور اکلوتی پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ فلمساز اور کہانی نویس وحیدمراد تھے ، ہدایتکار اور سکرین پلے رائٹر پرویز ملک تھے۔
موسیقی کا شعبہ سہیل رعنا اور گیت نگاری مسرورانور کا کمال تھا۔ مالا اور احمدرشدی کے الگ الگ گائے ہوئے گیت "اکیلے نہ جانا ، ہمیں چھوڑ کر تم۔۔" کے علاوہ رشدی صاحب کا گایا ہوا نوجوان طبقے کا پسندیدہ ترین گیت "کوکوکورینہ۔۔" بھی بڑا مقبول ہوا تھا۔
پرویز ملک کی زیبا اور وحیدمراد کے ساتھ ہٹ ٹرک
ہدایتکار پرویز ملک کی تیسری فلم احسان (1967) تھی جو پہلی دوفلموں جیسی کامیابی تو حاصل نہ کر سکی تھی لیکن سلورجوبلی کر کے اوسط درجہ کی ضرور رہی۔ اس فلم کے ہیرو ، فلمساز اور کہانی نویس ، وحیدمراد تھے۔ زیبا کے ساتھ ملک صاحب کی یہ تیسری اور آخری فلم تھی کیونکہ اس نے محمدعلی سے شادی کے بعد کسی دوسرے ہیرو کے ساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس فلم میں مالا اور مہدی حسن کے الگ الگ گائے ہوئے گیت "اک نئے موڑ پہ لے آئے ہیں حالات مجھے۔۔" بڑے مقبول ہوئے تھے۔
پرویز ملک کی نغماتی فلم دوراہا (1967)
فلم دوراہا (1967) پرویز ملک کی بطور فلمساز پہلی فلم تھی جس میں ان کے معاون فلمساز ، موسیقار سہیل رعنا تھے۔ اس فلم میں شمیم آرا اور دیبا ، وحیدمراد کی ہیروئنیں تھیں۔
یہ ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی لیکن باکس آفس پر درمیانہ درجہ کی ثابت ہوئی تھی۔ مہدی حسن کا گیت "مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو۔۔" ، احمدرشدی اور مالا کے الگ الگ گائے ہوئے گیت "بھولی ہوئی ہوں داستاں ، گزرا ہوا خیال ہوں۔۔" ، احمدرشدی کے گیت "ہاں ، اسی موڑ پر ، اس جگہ بیٹھ کر ، تم نے وعدہ کیا تھا۔۔" اور "تمہیں کیسے بتا دوں ، تم میری منزل ہو۔۔" بڑے مقبول گیت تھے۔ گیت نگار مسرورانور تھے۔
جب پرویز ملک کو مسعودرانا کی ضرورت پڑی
فلم دوراہا (1967) پہلی فلم تھی جس میں پرویز ملک نے مسعودرانا کی آواز کو استعمال کیا تھا۔ عام طور پر گیتوں کا شعبہ موسیقار کے پاس ہوتا ہے لیکن اس میں فلمساز اور ہدایتکار کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔
اردو فلم بینوں میں
میڈم نورجہاں اور مسعودرانا
کی کوئی اہمیت نہ تھی
اردو فلم بینوں میں میڈم نورجہاں اور مسعودرانا کی اہمیت کم ہوتی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خالص اردو فلمیں بنانے والے ان دونوں گلوکاروں سے زیادہ گیت نہیں گواتے تھے۔
اس وقت اردو فلموں کی گلوکاراؤں میں مالا ، مقبول ترین گلوکارہ تھی ، پھر یہ مقام رونا لیلیٰ سے ہوتے ہوئے ناہیداختر اور مہناز تک جا پہنچا تھا۔ گلوکاروں میں احمدرشدی ، اردو بولنے والوں کے لیے 'عوامی گلوکار' کا درجہ رکھتے تھے جبکہ مہدی حسن کو غزل گائیکی کی وجہ سے اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا تھا۔
مسعودرانا کو کیوں احمدرشدی اور مہدی حسن پر برتری حاصل تھی؟
اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ احمدرشدی اور مہدی حسن عظیم گلوکار تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دونوں مخصوص ٹائپ کے گلوکار تھے۔ احمدرشدی ، ہلکے پھلکے ، ہلاگلا اور آسان گیت ہی گا سکتے تھے ، مشکل گیت گانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی۔ یہی حال مہدی حسن کا تھا جو غزل کے بے تاج بادشاہ تھے لیکن فلمی گائیکی میں اپنے مخصوص سٹائل سے ہٹ کر نہیں گا سکتے تھے۔ ان دونوں کے مقابلے میں مسعودرانا کا کمال یہ تھا کہ فلمی گائیکی میں ان کے پائے کا کوئی آل راؤنڈ گلوکار نہیں تھا جو ہر رنگ ، ہر ڈھنگ اور ہر انگ میں گا سکتا تھا۔ تمام تر تعصبات کے باوجود اردو فلموں کے موسیقار مجبور ہوتے تھے کہ وہ مسعودرانا سے بھی گیت گوائیں۔
فلم دوراہا (1967) میں ایسی ہی ایک فلمی صورتحال تھی کہ موسیقار اور ہدایتکار کو احمدرشدی اور مہدی حسن کی موجودگی میں مسعودرانا کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ ایک شعر کے علاوہ وحیدمراد کے لیے صرف ہارمونیم پر ایک دل گرفتہ اور ناکام عاشق کے دل کی آہیں ، اداس سُروں میں ڈھل کرفلم بینوں پر بڑا گہرا اثر کرتی ہیں:
- یہ تو کہو ، توڑ کر دل میرا ، چھپ گئے ہو تم کہاں ، ساجنا۔۔
دل کا قرار لوٹ کر تم تو چلے گئے ۔۔
تم نے نگاہیں پھیر لیں ، میرا دل رو دیا ۔۔
اب میں جاؤں کہاں ، ساجنا۔۔
جب پرویز ملک ، سہیل رعنا اور وحیدمراد کی جوڑی ٹوٹی
پرویز ملک کی بطور فلمساز دوسری فلم جہاں تم وہاں ہم (1968) میں وحیدمراد ہیرو اور شبنم ہیروئن تھی۔ موسیقار روبن گھوش کی مغربی پاکستان میں یہ پہلی فلم تھی۔ احمدرشدی اور مالا کا دوگانا "مجھے تلاش تھی جس کی ، وہ ہمسفر تم ہو۔۔" مقبول ترین گیت تھا۔
عرصہ چھ سال بعد پرویز ملک نے ایک بار پھر وحیدمراد کو اپنی دو فلموں میں کاسٹ کیا تھا۔ پہلی فلم اسے دیکھا اسے چاہا (1974) تھی جو ملک صاحب کی پہلی ناکام ترین فلم ثابت ہوئی تھی۔
یہ وہ دور تھا جب وحیدمراد کی بطور ہیرو مارکیٹ ویلیو ختم ہوچکی تھی اور سولو ہیرو کے طور پر ان کی سبھی فلمیں ناکام ہورہی تھیں۔ ایسے میں وہ دیگر ہیروز کے ساتھ کاسٹ کیے جانے لگے تھے۔
دوسری فلم دشمن (1974) میں ان کے ساتھ محمدعلی بھی تھے۔ ان دونوں کے پس منظر میں مسعودرانا کا گایا ہوا یہ پراثر تھیم سانگ فلمایا گیا تھا "اپنا لہو پھر اپنا لہو ہے ، آخر دل تڑپائے گا۔۔" اس گیت کے بارے میں
جب نثار بزمی کو مسعودرانا سے گیت گوانا پڑا
موسیقار نثاربزمی ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ وہ یہ گیت گلوکار اقبال باہو سے گوانا چاہتے تھے لیکن پرویز ملک کا اصرار تھا کہ اس تھیم سانگ کو صرف مسعودرانا ہی گائیں گے جنھیں ایسے گیتوں پر مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔ فلم دشمن (1974) کے بعد اگلے دو عشروں تک پرویز ملک فلمیں بناتے رہے لیکن پھر کبھی وحیدمراد کو ہیرو نہیں لیا۔
پرویز ملک اور ندیم کا ساتھ
مسلسل پانچ فلموں میں وحیدمراد کو ہیرو لینے کے بعد پرویز ملک نے اپنی چھٹی فلم سوغات (1970) میں ندیم کو ہیرو لیا تھا۔ روزینہ ، اس فلم کی ہیروئن تھی۔ یہ ایک اوسط درجہ کی میوزیکل فلم تھی۔
سہیل رعنا نے مسعودرانا کی آواز میں یہ دلکش گیت گوایا تھا "ہو چکا ہونا تھا جو ، اب دل کو کیا سمجھائیں ہم۔۔" مسرور انور نے اس گیت کے یہ بول شاید مسعودرانا جیسے اعلیٰ پائے کے گلوکار کی ناقدری کو سامنے رکھتے ہوئے لکھے تھے کہ "جو نہ پہچانی گئی ، ہم ایسی اک آواز ہیں ، جس کے نغمے بھی پرائے ، ہو گئے وہ ساز ہیں۔۔!"
اس فلم میں مجیب عالم کے یہ دو گیت بھی بڑے خوبصورت تھے "دنیا والو ، تمہاری دنیا میں ، یوں گزاری ہے زندگی ہم نے۔۔" اور "تم سے مل کر میری دنیا ہی بدل جاتی ہے۔۔"
پرویز ملک کے دوسرے ہیرو ندیم ، ان کے کامیاب ترین ہیرو تھے جن کے ساتھ کل 11 فلمیں تھیں اور صرف ایک فلم شہزادہ (1992) ناکام تھی۔ پہچان (1975) ، تلاش (1976) ، ہم دونوں (1980) اور قربانی (1981) ڈائمنڈ جوبلی جبکہ پاکیزہ (1979) ایک پلاٹینم جوبلی فلمیں تھیں۔ سچائی (1976) ، رشتہ (1980) ، مہربانی (1982) اور کامیابی (1984) گولڈن جوبلی اور گمنام (1983) سلورجوبلی فلمیں تھیں۔ یہ سبھی ریکارڈز کراچی سرکٹ کے ہیں۔ ان فلموں پر تفصیلی بات پھر کبھی ہوگی۔
پرویز ملک کی محمدعلی کے ساتھ پہلی فلم
پرویز ملک کی فلم میرے ہمسفر (1972) ہالینڈ ، فرانس اور برطانیہ میں شوٹ کی گئی تھی۔ شبنم کے ساتھ محمدعلی مرکزی کردار میں تھے۔ فلم اچھی تھی ، گیت بھی اچھے تھے ، خاص طور پر مجیب عالم کا یہ گیت "اے بے قرار تمنا ، ذرا ٹھہرجاؤ۔۔"
محمدعلی جیسے عظیم ادکار نے چند شارٹس میں ایک سکھ کا بڑا کمزور سا کردار کیا تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے انھوں نے اور ہدایتکار پرویز ملک نے زندگی بھر کبھی کوئی سکھ نہیں دیکھا اور نہ ان کی بولی یا لہجہ سنا تھا ، شاید یہ جتلانا مقصود تھا کہ پنجابی صرف سکھوں کی زبان ہے۔
فلم مہربانی (1982) میں بھی ایسا ہی ایک متعصابہ اور احمقانہ مکالمہ تھا جب بابرہ شریف ، محمدعلی سے پوچھتی ہے کہ "ڈاکٹر صاحب ، آپ کو انگریزی آتی ہے۔۔؟" جواب ملتا ہے "تو کیا ڈاکٹری میں نے پنجابی میں کی تھی۔۔!" مانا کہ پنجابی جاہلوں کی زبان ہے لیکن کیا ڈاکٹری ، اردو میں ہو سکتی ہے۔۔؟
محمدعلی ، پرویز ملک کے تیسرے ہیرو تھے جن کے ساتھ ان کی لیڈنگ رولز میں تین فلمیں تھیں۔ مندرجہ بالا فلم کے علاوہ دشمن (1974) اور انتخاب (1978) تھیں۔ ان کے علاوہ مہربانی (1982) اور زنجیر (1986) میں ثانوی کرداروں میں تھے۔
پرویز ملک کی شاہد کی ساتھ پہلی فلم
دایتکار پرویز ملک کے چوتھے ہیرو شاہد تھے جن کے ساتھ ان کی اکلوتی فلم انمول (1973) تھی۔ ملک صاحب کی یہ پہلی ڈائمنڈ جوبلی سپرہٹ فلم تھی جس کی کہانی نئی نہیں تھی لیکن ان کی کارکردگی نے اس فلم کو ایک شاہکار فلم بنا دیا تھا۔
پاکستان میں اس موضوع پر قبل ازیں دو فلمیں ، مفت بر (1961) اور بے قصور (1970) بن چکی تھیں۔ یہی فلم اردو فلموں کی ریکارڈ ہولڈر ہیروئن شبنم کی سو ہفتے چلنے والی پہلی فلم بھی تھی۔
پرویز ملک کے دیگر ہیروز
پرویز ملک کے پانچویں ہیرو راحت کاظمی تھے جو ان کی اکلوتی فلم مہمان (1978) کے ہیرو تھے۔ بابرہ شریف ہیروئن تھی۔ اس فلم میں غلام عباس کا گایا ہوا یہ گیت کبھی میرے پسندیدہ ترین گیتوں میں سے ایک ہوتا تھا جسے اکثر گنگناتا رہتا تھا "دیکھ کر تجھ کو میں غم دل کے بھلا دیتا ہوں ، رات دن تجھ کو میں جینے کی دعا دیتا ہوں۔۔"
ملک صاحب کے چھٹے اور آخری ہیرو جاویدشیخ تھے جن کے ساتھ ان کی تین فلمیں تھیں ، ہلچل (1985) اور زنجیر (1986) کے علاوہ فلم غریبوں کا بادشاہ (1988) جو اسی کے عشرہ میں کراچی میں ہونے والے خونریز لسانی فسادات پر بنائی گئی تھی۔ یہ فلم پرویز ملک کی عام ڈگر سے ہٹ کر ایک ایکشن فلم تھی۔ اس فلم میں جاویدشیخ کو ایک ینگ اینگری مین کے رول میں دکھایا گیا تھا۔ اپنی آخری فلم شہزادہ (1992) میں انھوں نے اپنے بیٹے عمران ملک کو ریما کے مقابل سیکنڈ پیئر کے طور پر پیش کیا تھا۔
پرویز ملک کا فلمی ریکارڈ
پرویز ملک نے اپنے 28 سالہ فلمی کیرئر میں کل 26 فلمیں بنائیں جو سبھی اردو زبان میں تھیں۔ ان میں ریکارڈ 5 ڈائمنڈ جوبلی ، 2 پلاٹینم جوبلی ، 10 گولڈن جوبلی ، 7 سلورجوبلی اور 2 ناکام فلمیں تھیں۔ یہ ریکارڈز کراچی سرکٹ کے ہیں۔
19 فلموں میں بطور فلمساز بھی ان کا نام ملتا ہے جن میں ہمت والا ، لیڈی سمگلر (1987) اور ہنگامہ (1988) تھیں۔ ان کے علاوہ دو پشتو فلموں میں بھی ان کا نام آتا ہے جو ممکن ہے کہ کوئی اور ہو۔ چار فلموں ، سچائی (1976) ، گمنام (1983) ، کامیابی (1984) اور غریبوں کا بادشاہ (1988) کی کہانیاں بھی انھوں نے لکھی تھیں۔
پرویز ملک نے کبھی پنجابی فلم نہیں بنائی لیکن ۔۔
ملک صاحب نے کبھی کوئی پنجابی فلم نہیں بنائی لیکن ان کی آخری فلم شہزادہ (1992) میں دو پنجابی مجرا گیتوں کے علاوہ آدھی فلم میں بابرہ شریف کے پنجابی مکالمے اور بھر پور مجرے بھی تھے۔
دلچسپ بات ہے کہ میڈم نورجہاں کے ساتھ پرویز ملک کی یہ صرف دوسری اور آخری فلم تھی۔ ان کی تیرہ تیرہ فلموں کے گیت مہناز اور ناہیداختر نے گائے تھے۔ پرویز ملک کی 14 میں سے پہلی مسلسل 13 فلموں میں احمدرشدی کے گیت تھے۔ مہدی حسن کے ساتھ ان کی 9 جبکہ مسعودرانا کے ساتھ صرف تین فلمیں تھیں۔
ہدایتکار پرویز ملک اور نغمہ نگار مسرور انور کا اٹوٹ ساتھ
پرویز ملک اور مسرورانور کا اپنی پہلی سے آخری فلم یعنی جملہ 26 فلموں تک ایک اٹوٹ ساتھ رہا جو شاید ایک ریکارڈ ہے۔ ان کے سب سے زیادہ یعنی گیارہ فلموں کے موسیقار ایم اشرف تھے۔ ان کی زیادہ تر یعنی 13 فلموں کی ہیروئن شبنم تھی لیکن پنجابی فلموں کے معروف اداکاروں کے علاوہ اداکارہ رانی کو انھوں نے کبھی کسی فلم میں کاسٹ نہیں کیا تھا۔
1938ء میں اٹک میں پیدا ہونے والے پرویز ملک کا 2008ء میں انتقال ہوا تھا۔
مسعودرانا کے پرویز ملک کی 3 فلموں میں 4 گیت
| 1 | فلم ... دوراہا ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: وحید مراد |
| 2 | فلم ... دوراہا ... اردو ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: (پس پردہ) |
| 3 | فلم ... سوغات ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سہیل رعنا ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: ندیم |
| 4 | فلم ... دشمن ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: نثار بزمی ... شاعر: مسرور انور ... اداکار: (پس پردہ ، محمد علی ، وحید مراد) |
Masood Rana & Parvez Malik: Latest Online film
Masood Rana & Parvez Malik: Film posters
Masood Rana & Parvez Malik:
0 joint Online films
(0 Urdu and 0 Punjabi films)Masood Rana & Parvez Malik:
Total 3 joint films
(3 Urdu, 0 Punjabi films)| 1. | 1967: Doraha(Urdu) |
| 2. | 1970: Soughat(Urdu) |
| 3. | 1974: Dushman(Urdu) |
Masood Rana & Parvez Malik: 4 songs in 3 films
(4 Urdu and 0 Punjabi songs)| 1. | Urdu filmDorahafrom Friday, 25 August 1967Singer(s): Masood Rana, Music: Sohail Rana, Poet: , Actor(s): Waheed Murad |
| 2. | Urdu filmDorahafrom Friday, 25 August 1967Singer(s): Masood Rana, Music: Sohail Rana, Poet: , Actor(s): (Playback) |
| 3. | Urdu filmSoughatfrom Tuesday, 1 December 1970Singer(s): Masood Rana, Music: Sohail Rana, Poet: , Actor(s): Nadeem |
| 4. | Urdu filmDushmanfrom Friday, 8 November 1974Singer(s): Masood Rana, Music: Nisar Bazmi, Poet: , Actor(s): (Playback - Mohammad Ali, Waheed Murad) |
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔








































Shehzad Haidar
Altaf Hussain
Azeem
Nasir Adeeb
Abid Khan
Hameed Wayn
Zahoor Raja
Qurban Jeelani
Seema
Maqbool Sabiri
Mahrukh
Ilyas Kashmiri
Atif Aslam
M.Ismael
Shatir Ghaznavi
Parvez Malik







