Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعود رانا


خلیفہ نذیر اور مسعود رانا

خلیفہ نذیر ، ایک مشہور مزاحیہ اداکار تھے جو بیشتر فلموں میں ایک ”ولن کامیڈین“ کے طور پر نظر آئے۔ ولن کے تمام چیلوں ، چمچوں اور گماشتوں میں جو سب سے زیادہ معتبر ، چہیتا ، سیانا ، پھرتیلا ، چرب زبان اور 'مشیرخاص' ہوتا تھا ، وہ کردار عام طور پر خلیفہ نذیر کا ہوتا تھا۔ ایک ایسا شخص جو اپنے مالک اور آقا کی خوشامد اور چاپلوسی کے علاوہ الٹی سیدھی پٹیاں پڑھانے اور اُوٹ پٹانگ مشورے دینے کے علاوہ بعض اوقات کھری کھری بھی سنا دیتا تھا لیکن اس ”انوکھے لاڈلے“ کو سات خون معاف ہوتے تھے۔۔!

خلیفہ نذیر
ایک ”ولن کامیڈین“ تھے Khalifa Nazir
پنجاب میں ہمیشہ سے پنجابی فلموں کا راج رہا ہے۔ ساٹھ کے عشرہ کے سنہرے دور میں کامیڈی کے میدان میں رنگیلا اور منور ظریف کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ خلیفہ نذیر اور زلفی بھی مزاحیہ اداکاری میں بڑے نام تھے لیکن انھیں کبھی ان دونوں جیسا مقام حاصل نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ڈیڑھ سو کے قریب فلموں میں کام کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ پاکستان فلم میگزین پر خلیفہ نذیر کے 2005ء میں انتقال پر ایک تفصیلی مضمون لکھا گیا تھا جس میں ان کی خاص خاص فلموں اور کرداروں کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس وقت کی معلومات کے مطابق ، پہلی فلم خون کی پیاس (1963) درج تھی لیکن تازہ ترین تحقیق کے مطابق ان کی پہلی فلم جمالو (1962) تھی۔ دیگر اہم فلموں میں زمیندار (1966) ، روٹی (1968) ، مکھڑا چن ورگا (1969) ، ماں پتر (1970) ، دولت اور دنیا (1972) ، مستانہ (1973) ، پیار ہی پیار (1974) اور باؤ جی (1983) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

پاکستانی فلموں کے پہلے دو عشروں میں تقریباً ہر فلم میں مزاحیہ اداکاروں پر گیت فلمائے جاتے تھے۔ پچاس کے عشرہ میں جہاں عنایت حسین بھٹی ، فضل حسین ، سلیم رضا ، منیر حسین اور باتش جیسے پیشہ ور گلوکار مزاحیہ گیت گاتے تھے وہاں شوقیہ گلوکار اور مزاحیہ اداکار ظریف نے بھی تیس کے قریب ایسے گیت گائے تھے۔ ساٹھ کے عشرہ میں احمد رشدی ، مسعود رانا ، شوکت علی اور مجیب عالم جیسے پروفیشنل گلوکاروں کے علاوہ رنگیلا اور منور ظریف نے بھی مزاحیہ گیت گائے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مزاحیہ گیت گانے میں احمد رشدی کا کوئی ثانی نہیں تھا جو ایسے گیتوں میں طرح طرح کی آوازیں نکالنے اور بہترین تاثرات دینے کے ماہر تھے۔ پنجابی فلموں میں ان کے نوے فیصد گیت مزاحیہ ہی ہوتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ سبھی نامور مزاحیہ اداکاروں پر زیادہ تر احمد رشدی کے گیت فلمائے گئے ہوں گے۔ اردو فلموں کے مزاحیہ اداکاروں یعنی لہری اور نرالا کی حد تک تو ایسا ہی تھا لیکن رنگیلا پر ففٹی ففٹی اور دیگر مزاحیہ اداکاروں یعنی منور ظریف ، خلیفہ نذیر ، زلفی ، ننھا اور علی اعجاز پر زیادہ تر مسعود رانا کے گائے ہوئے مزاحیہ گیت فلمائے گئے تھے۔

ریکارڈز کے مطابق خلیفہ نذیر پر پہلی بار ایک فلمی قوالی "خدا بچائے ، اداؤں سے ماہ جمالوں کی۔۔" فلمائی گئی تھی جو فلم باپ کا باپ (1964) میں موسیقار ماسٹرتصدق حسین کی دھن میں منیر حسین ، احمد رشدی ، قادرآفریدی ، آئرن پروین ، زاہد پروین اور ساتھیوں کی آوازوں میں تھی۔ ایسی ہی ایک مزاحیہ قوالی ، فلم ہیرسیال (1965) میں بھی تھی "کہہ گئے شاہ تنویر ، دنیا نے ہیرا پھیری دا ناں رکھیا تقدیر۔۔" بخشی وزیر کی دھن میں تنویرنقوی کا لکھا ہوا یہ سبق آموز گیت گلوکار مظفر نے ساتھیوں سمیت گایا تھا۔ مظفر نے اس فلم میں ایک بڑا خوبصورت گیت گایا تھا "اج ہنجو ساتھوں روکیاں نہ رکدے ، نی ہاسے کھو کے جان والیے۔۔" درجن بھر گیت گا کر یہ گلوکار گمنام ہوگیا تھا۔

خلیفہ نذیر پر دوسرا گیت ، فلم چاچاجی (1967) میں فلمایا گیا تھا "اے پیاں نیں ریوڑیاں تے اے پیا ای حلوہ۔۔" یہ ایک دوگانا تھا جس میں ان کے ساتھ منور ظریف بھی تھے جنہوں نے اس گیت کو احمد رشدی کے ساتھ گایا تھا۔ فلم چٹان (1967) میں بھی خلیفہ نذیر اور رنگیلا پر باتش کا گایا ہوا یہ گیت فلمایا گیا تھا "جا پوچھ محلے والوں سے ، ہے مجھ کو تجھ سے پیار۔۔" فلم امام دین گوہاویہ (1967) میں خلیفہ نذیر کی جوڑی منور ظریف اور زلفی کے ساتھ ہوتی ہے جو مختلف تقاریب میں گاتے ہیں۔ یہ دونوں الگ الگ کورس گیت "لوری دیواں لال نوں میں سوہنے لال نوں۔۔" اور "نچی جاؤ کالیو ، تسیں نچی جاؤ ، گوریوں دی اکھ دے اشاریاں تے نچی جاؤ۔۔" بڑے دلچسپ اور اشارتی گیت تھے جن میں منور ظریف ، صدیق اور مظفر کی آوازیں تھیں۔ یہ دونوں گیت اداکار اور کہانی نویس سکیدار نے لکھے تھے جو عام طور پر انگریز راج کے خلاف فلمی کہانیاں لکھتے تھے۔ یہ فلم اکمل کی زندگی میں ریلیز ہونے والی ان کی آخری فلم تھی۔

خلیفہ نذیر کا مسعود رانا کے ساتھ پہلا گیت فلم اکبرا (1967) میں تھا۔ یہ فلم ، خلیفہ نذیر اور ان کے بھائیوں خلیفہ سعید احمد اور خلیفہ خورشید احمد کے فلمساز ادارے ”زمر پکچرز“ کی پہلی پیش کش تھی جو کامیاب رہی تھی۔ وقت کے سپرسٹار فلمی ہیرو اکمل کے اچانک انتقال کے بعد ریلیز ہونے والی یہ ان کی پہلی فلم تھی۔ نذیرعلی کی دھن میں یہ مزاحیہ کورس گیت زندگی کے بہت سے حقائق بیان کرتا ہے "سن ہاڑے او بابا لڈنا ، بھکھیاں بے رزگاراں دے ، کرلے نقد بہ نقدی سودا ، نئیں کم ادھاراں دے۔۔" اس کورس گیت میں مسعود رانا نے منور ظریف ، امدادحسین اور سلیم چوہدری کے ساتھ گائیکی کی تھی اور صاف محسوس ہوتا تھا کہ جب ایک اعلیٰ پائے کا پروفیشنل گلوکار اتنی آوازوں میں اپنی منفرد پہچان کیسے قائم رکھتا ہے۔

Khalifa Nazir
خلیفہ نذیر پر لکھا ہوا ایک مضمون
خلیفہ نذیر کے مرکزی کامیڈین کے طور پر فلم روٹی (1968) بڑی یادگار فلم تھی جس میں احمد رشدی اور آئرن پروین کا یہ خوبصورت گیت "سنو ، محلے دارو لوکو ، آکے میرے وین ، میں منیاں سی اینکل ٹینکل ، اے نکلی جے ڈین۔۔" ان پر فلمایا گیا تھا۔ ساتھ میں رضیہ اور رنگیلا ہوتے ہیں۔ اسی سال کی فلم عورت اور زمانہ (1968) میں خلیفہ نذیر پر پہلا سولو گیت فلمایا گیا تھا "آچا ، سارے گاما ، ناچ کے دکھا گوری کو۔۔" یہ گیت 'رنگیلا کراچی والا' نامی کسی گمنام فنکار نے گایا تھا جس کے کریڈٹ پر صرف دو فلمی گیت ملتے ہیں جبکہ ایک آدھ فلم میں اس نے اداکاری بھی کی تھی۔ فلم سوہنا (1968) میں امدادحسین اور ساتھیوں کا یہ مزاحیہ کورس گیت "نین سے نین ملائے رکھنے کو جی۔۔" رنگیلا اور خلیفہ نذیر وغیرہ پر فلمایا گیا تھا۔ ایسے کئی کامیڈی گیت ہوتے تھے جو اصل گیتوں کی پیروڈی ہوتے تھے اور انھیں بڑی خوبصورتی سے بگاڑا جاتا تھا۔ فلم جوانی مستانی (1968) پر حامدعلی بیلا ، آئرین پروین اور ساتھیوں کی گائی ہوئی قلندری دھمال "لال میری پت رکھیو بھلا جھولے لالن۔۔" بھی خلیفہ نذیر اور ساتھیوں پر فلمائی گئی تھی۔ یہ مشہور زمانہ دھمال پہلی بار فلم جبرو (1956) میں گائی گئی تھی جو بعد میں کئی ایک فلموں میں شامل کی گئی تھی اور فلم دلاں دے سودے (1969) کی دھمال کو سب سے زیادہ شہرت ملی تھی۔

خلیفہ نذیر پر ایک یادگار اور مقبول مزاحیہ گیت فلم جگ بیتی (1968) میں فلمایا گیا تھا "او ویکھو ، سائیکل تے ٹر چلے ، جناں نیں آنا گڈی تھلے ، اسیں رہ گئے کلم کلے ، ساڈی ٹکٹ گواچی اے۔۔" یہ گیت احمد رشدی ، مسعود رانا اور آئرن پروین نے گایا تھا ، دیگر دونوں اداکار منور ظریف اور رضیہ تھے۔ اس فلم میں بھی خلیفہ نذیر فلم کے ولن مظہرشاہ کا چیلا ہوتا ہے جو اپنے ٹریکٹر کی دھونس جما کر غریب سائیکل سوار منور ظریف سے رضیہ کو جیتنا چاہتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ میری پسندیدہ ترین فلموں میں سے یہ ایک فلم تھی جس میں خلیفہ نذیر کا تکیہ کلام ہوتا ہے “لاواں پلاس۔۔!“

فلم دیا اور طوفان (1969) میں خلیفہ نذیر کو ایک اہم رول ملا تھا جو رنگیلا اور منور ظریف کے ساتھی ہوتے ہیں اور رضیہ کے عشق میں بے جان مجسمے بنا دیے جاتے ہیں۔ ان تینوں پر یہ مزاحیہ گیت بھی فلمایا گیا تھا "سنو رے دل والوں ، ان حسینوں سے دل نہ لگانا۔۔" رنگیلا ، منور ظریف ، مجیب عالم اور نسیم بیگم کی آوازیں تھیں۔ رنگیلا نے اس فلم میں فلمساز ، ہدایتکار ، مصنف ، گلوکار اور اداکار بن کر اہل فن کو حیران و پریشان کر دیا تھا۔

برطانیہ میں بنائی گئی پہلی پنجابی فلم پہلوان جی ان لندن (1971) کا ایک کردار خلیفہ نذیر بھی تھے جن پر منیر حسین ، امدادحسین اور ساتھیوں کی آوازوں میں یہ کورس گیت فلمایا گیا تھا "رل کے لڈیاں پایئے بیلیو ، شیر پنجاب دا جتیا بازی۔۔" یہ بھنگڑا گیت لندن کے ایک پارک میں فلم بند ہوا تھا۔ نامور کوریوگرافر حمیدچوہدری نے بھی اس بھنگڑے میں حصہ لیا تھا۔ حیدر چوہدری اس فلم کے ہدایتکار تھے اور ساون نے ٹائٹل رول کیا تھا۔

خلیفہ نذیر کے فلمی کیرئر کی سب سے یادگار فلم مستانہ (1973) تھی جس میں وہ پہلی اور آخری بار ہیرو آئے تھے۔ آسیہ ان کی ہیروئن تھی لیکن فلم بینوں نے انھیں اس روپ میں قبول نہیں کیا تھا۔ ان کے ذاتی ادارے ”زُمر پکچرز“ کی یہ فلم تھی جس کے ہدایتکار الحامد تھے۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ خلیفہ نذیر پر مسعود رانا کے گائے ہوئے سات گیت فلمائے گئے تھے جو لاہور کی فلموں کی حد تک ایک ریکارڈ تھا کہ کسی ایک گلوکار کے اتنے گیت ، کسی ایک اداکار پر ، کسی ایک ہی فلم میں فلمائے گئے تھے۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں بنائی جانے والی فلم درشن (1967) میں گلوکار بشیراحمد نے آٹھ گیت گائے تھے جو سبھی فلم کے ہیرو رحمان پر فلمائے گئے تھے ، یہ ایک ریکارڈ تھا۔ بشیراحمد کا ریکارڈ اس لیے بھی لاجواب تھا کہ وہ ان گیتوں کے گلوکار ہونے کے علاوہ موسیقار اور نغمہ نگار بھی تھے۔ اس کے بعد عدنان سمیع خان نے فلم سرگم (1995) میں گیارہ گیت گائے تھے جو سبھی انھی پر فلمائے گئے تھے ، ان گیتوں کے موسیقار بھی وہ خود تھے۔

مسعود رانا کے لیے فلم ہمراہی (1966) کے بعد یہ دوسرا موقع تھا کہ جب انھوں نے کسی فلم کے لیے سات گیت گائے تھے۔ کمال احمد موسیقار تھے جو خود سکرین پر آکر ایک گیت کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فلم مستانہ (1973) میں خلیفہ نذیر پر فلمائے ہوئے گیتوں میں بڑی ورائٹی تھی جیسے "اس دنیا کو انسان کی پہچان نہیں ہے۔۔" ایک سنجیدہ اور بامقصد گیت تھا۔ "کوئی مجھ کو بھی ہیرو بنا دے تو پھر میرا کام دیکھنا۔۔" ایک شوخ اور کامیڈی گیت تھا۔ "آج غم ہے تو کیا ہے ، وہ دن بھی ضرور آئے گا۔۔" ایک المیہ گیت تھا۔ "کوئی حسینہ ، میرا دل مانگے ، انکار نہ ہوگا۔۔" ایک رومانٹک گیت تھا اور "ٹھمک ٹھمک چلا گوری جیسے گجریا۔۔" ایک نیم کلاسک گیت تھا جو مسعود رانا جیسے ہرفن مولا گلوکار پر موسیقار کمال احمد کے اعتماد کا اظہار تھا۔ خلیفہ نذیر نے اپنی سی کوشش کی تھی کہ اپنی پرفارمنس سے خود کو منوا سکیں لیکن اپنی ڈیل ڈول سے وہ ہیرو نہیں لگتے تھے ، ویسے بھی کامیابی میں قسمت کا عمل دخل بہت ہوتا ہے اور اب ہر کوئی رنگیلا بھی نہیں ہوتا۔۔!

خلیفہ نذیر کی آخری فلموں میں سے ایک فلم باؤجی (1983) تھی جس میں انھوں نے اداکار ننھا کے ساتھ ایک بھانڈ کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں ان دونوں پر گلوکار محمدصادق اور حسن صادق کا گایا ہوا یہ مشہور گیت فلمایا گیا تھا "آندیاں نصیباں نال اے گھڑیاں ، تیرے سہرے نوں سجایا ڈاہڈا پھل کلیاں۔۔"

خلیفہ نذیر نے فلموں میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے بھی بڑا کام کیا تھا۔ 2005ء میں انتقال ہوا تھا۔

مسعود رانا اور خلیفہ نذیر کے 10 فلمی گیت

(8 اردو گیت ... 2 پنجابی گیت )
1

سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے..

فلم ... اکبرا ... پنجابی ... (1967) ... گلوکار: مسعود رانا ، منور ظریف ، امداد حسین ، سلیم چودھری مع ساتھی ... موسیقی: نذیر علی ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: منور ظریف ، خلیفہ نذیر ، زلفی مع ساتھی
2

او ویکھو سائیکل تے ٹر چلے ، جنہاں نے آنا گڈی تھلے..

فلم ... جگ بیٹی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: جی اے چشتی ... شاعر: حزیں قادری ... اداکار: خلیفہ نذیر ، منور ظریف ، رضیہ
3

جانے مجھے کیا ہو گیا ہے ، کیسا نشہ چھا نے لگا ہے..

فلم ... نئی لیلیٰ نیا مجنوں ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مالا ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: موج لکھنوی ... اداکار: عالیہ ، خلیفہ نذیر مع ساتھی
4

اس دنیا کو انسان کی پہچان نہیں ہے..

فلم ... مستانہ ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: خلیفہ نذیر
5

کوئی فلموں کا ہیرو بنا دے تو پھر میرا کام دیکھنا..

فلم ... مستانہ ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: خلیفہ نذیر
6

کوئی حسینہ ، میرا دل مانگے ، انکار نہ ہو گا..

فلم ... مستانہ ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: خلیفہ نذیر
7

لو چھوری ، چھپک چھلو ، لو دل سے دل بدل لو..

فلم ... مستانہ ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: خلیفہ نذیر
8

آج غم ہے تو کیا ہے ، وہ دن بھی ضرور آئے گا..

فلم ... مستانہ ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: خلیفہ نذیر
9

پہلو میں دل زور سے دھڑکا پہلی بار..

فلم ... مستانہ ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: خلیفہ نذیر ، آسیہ
10

ٹھمک ٹھمک چلا گوری ، جیسے گجریا..

فلم ... مستانہ ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: کمال احمد ... شاعر: ؟ ... اداکار: خلیفہ نذیر ، آسیہ

مسعود رانا اور خلیفہ نذیر کے 8 اردو گیت

1

جانے مجھے کیا ہو گیا ہے ، کیسا نشہ چھا نے لگا ہے ...

(فلم ... نئی لیلیٰ نیا مجنوں ... 1969)
2

اس دنیا کو انسان کی پہچان نہیں ہے ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
3

کوئی فلموں کا ہیرو بنا دے تو پھر میرا کام دیکھنا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
4

کوئی حسینہ ، میرا دل مانگے ، انکار نہ ہو گا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
5

لو چھوری ، چھپک چھلو ، لو دل سے دل بدل لو ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
6

آج غم ہے تو کیا ہے ، وہ دن بھی ضرور آئے گا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
7

پہلو میں دل زور سے دھڑکا پہلی بار ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
8

ٹھمک ٹھمک چلا گوری ، جیسے گجریا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)

مسعود رانا اور خلیفہ نذیر کے 2 پنجابی گیت

1

سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے ...

(فلم ... اکبرا ... 1967)
2

او ویکھو سائیکل تے ٹر چلے ، جنہاں نے آنا گڈی تھلے ...

(فلم ... جگ بیٹی ... 1968)

مسعود رانا اور خلیفہ نذیر کے 4سولو گیت

1

اس دنیا کو انسان کی پہچان نہیں ہے ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
2

کوئی فلموں کا ہیرو بنا دے تو پھر میرا کام دیکھنا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
3

کوئی حسینہ ، میرا دل مانگے ، انکار نہ ہو گا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
4

لو چھوری ، چھپک چھلو ، لو دل سے دل بدل لو ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)

مسعود رانا اور خلیفہ نذیر کے 3دوگانے

1

آج غم ہے تو کیا ہے ، وہ دن بھی ضرور آئے گا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
2

پہلو میں دل زور سے دھڑکا پہلی بار ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)
3

ٹھمک ٹھمک چلا گوری ، جیسے گجریا ...

(فلم ... مستانہ ... 1973)

مسعود رانا اور خلیفہ نذیر کے 3کورس گیت

1سن ہاڑے باب لڈنا ، بکھیاں بے رزگاراں دے ... (فلم ... اکبرا ... 1967)
2او ویکھو سائیکل تے ٹر چلے ، جنہاں نے آنا گڈی تھلے ... (فلم ... جگ بیٹی ... 1968)
3جانے مجھے کیا ہو گیا ہے ، کیسا نشہ چھا نے لگا ہے ... (فلم ... نئی لیلیٰ نیا مجنوں ... 1969)


Masood Rana & Khalifa Nazir: Latest Online film

Tahadi Izzat Da Sawal A

(Punjabi - Black & White - Thursday, 11 December 1969)


Masood Rana & Khalifa Nazir: Film posters
Mera MahiIk Si ChorMalangiMr. Allah DittaZamindarChacha JiAkbaraDushmanRotiShehanshah-e-JahangirBehan BhaiIk Si MaaJawani MastaniNeyi Laila Neya MajnuGhairatmandMukhra Chann WargaKoonj Wichhar GeyiTahadi Izzat Da Sawal AJagguWichhoraSajjan BeliSohna Mukhra Tay Akh MastaniPardesiSher PuttarSir Dhar Di BaziNizam2 RangeelayJanguMastanaKhoon Da Badla KhoonKhoon Bolda AJeera BladeSubah Ka TaraBadmash PuttarReshma Jawan Ho GeyiSajjan KamlaDukki TikkiInsan Aur SheitanSholay
Masood Rana & Khalifa Nazir:

18 joint Online films

(6 Urdu and 14 Punjabi films)

1.1965: Ik Si Chor
(Punjabi)
2.1965: Malangi
(Punjabi)
3.1967: Chacha Ji
(Punjabi)
4.1968: Roti
(Punjabi)
5.1968: Shehanshah-e-Jahangir
(Urdu)
6.1968: Behan Bhai
(Urdu)
7.1969: Mukhra Chann Warga
(Punjabi)
8.1969: Tahadi Izzat Da Sawal A
(Punjabi)
9.1969: Jaggu
(Punjabi)
10.1970: Hamlog
(Urdu)
11.1972: Meri Ghairat Teri Izzat
(Punjabi)
12.1973: Mastana
(Urdu)
13.1975: Reshma Jawan Ho Geyi
(Punjabi)
14.1984: Chor Chokidar
(Punjabi)
15.1985: Rishta Kaghaz Da
(Punjabi)
16.1989: Sikandra
(Punjabi)
17.1993: Farishta
(Punjabi/Urdu double version)
18.1994: Nehla Dehla
(Punjabi/Urdu double version)
Masood Rana & Khalifa Nazir:

Total 58 joint films

(8 Urdu and 48 Punjabi films)

1.1964: Mera Mahi
(Punjabi)
2.1965: Azmat-e-Islam
(Urdu)
3.1965: Ik Si Chor
(Punjabi)
4.1965: Malangi
(Punjabi)
5.1966: Mr. Allah Ditta
(Punjabi)
6.1966: Ann Parh
(Punjabi)
7.1966: Zamindar
(Punjabi)
8.1966: Paidagir
(Punjabi)
9.1967: Chacha Ji
(Punjabi)
10.1967: Dil Da Jani
(Punjabi)
11.1967: Akbara
(Punjabi)
12.1967: Dushman
(Punjabi)
13.1968: Roti
(Punjabi)
14.1968: Shehanshah-e-Jahangir
(Urdu)
15.1968: Jagg Beeti
(Punjabi)
16.1968: Behan Bhai
(Urdu)
17.1968: Ik Si Maa
(Punjabi)
18.1968: Jawani Mastani
(Punjabi)
19.1968: Hameeda
(Punjabi)
20.1969: Neyi Laila Neya Majnu
(Urdu)
21.1969: Ghairatmand
(Punjabi)
22.1969: Mukhra Chann Warga
(Punjabi)
23.1969: Koonj Wichhar Geyi
(Punjabi)
24.1969: Tahadi Izzat Da Sawal A
(Punjabi)
25.1969: Jaggu
(Punjabi)
26.1970: Wichhora
(Punjabi)
27.1970: Sajjan Beli
(Punjabi)
28.1970: Sohna Mukhra Tay Akh Mastani
(Punjabi)
29.1970: Hamlog
(Urdu)
30.1970: Pardesi
(Punjabi)
31.1970: Bholay Shah
(Punjabi)
32.1971: Sher Puttar
(Punjabi)
33.1971: Des Mera Jeedaran Da
(Punjabi)
34.1972: Meri Ghairat Teri Izzat
(Punjabi)
35.1972: Sir Dhar Di Bazi
(Punjabi)
36.1972: Nizam
(Punjabi)
37.1972: 2 Rangeelay
(Punjabi)
38.1972: Jangu
(Punjabi)
39.1973: Mastana
(Urdu)
40.1973: Khoon Da Badla Khoon
(Punjabi)
41.1973: Khoon Bolda A
(Punjabi)
42.1973: Jeera Blade
(Punjabi)
43.1974: Sikandra
(Punjabi)
44.1974: Subah Ka Tara
(Urdu)
45.1974: Badmash Puttar
(Punjabi)
46.1975: Reshma Jawan Ho Geyi
(Punjabi)
47.1975: Shaheed
(Punjabi)
48.1975: Sajjan Kamla
(Punjabi)
49.1976: Dukki Tikki
(Punjabi)
50.1976: Gama B.A.
(Punjabi)
51.1978: Insan Aur Sheitan
(Urdu)
52.1984: Sholay
(Punjabi)
53.1984: Chor Chokidar
(Punjabi)
54.1985: Rishta Kaghaz Da
(Punjabi)
55.1989: Sikandra
(Punjabi)
56.1993: Farishta
(Punjabi/Urdu double version)
57.1994: Nehla Dehla
(Punjabi/Urdu double version)
58.Unreleased: Sheefa
(Punjabi)


Masood Rana & Khalifa Nazir: 10 songs

(8 Urdu and 2 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Akbara
from Friday, 7 July 1967
Singer(s): Masood Rana, Munawar Zarif, Imdad Hussain, Saleem Chodhary & Co., Music: Nazir Ali, Poet: Tanvir Naqvi, Actor(s): Munawar Zarif, Khalifa Nazir, Zulfi & Co.
2.
Punjabi film
Jagg Beeti
from Friday, 22 March 1968
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Irene Parveen, Music: G.A. Chishti, Poet: Hazin Qadri, Actor(s): Khalifa Nazir, Munawar Zarif, Razia
3.
Urdu film
Neyi Laila Neya Majnu
from Friday, 21 February 1969
Singer(s): Mala, Masood Rana & Co., Music: Tasadduq Hussain, Poet: Mouj Lakhnavi, Actor(s): Aliya, Khalifa Nazir & Co.
4.
Urdu film
Mastana
from Friday, 30 March 1973
Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Khalifa Nazir, Nazo
5.
Urdu film
Mastana
from Friday, 30 March 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Khalifa Nazir
6.
Urdu film
Mastana
from Friday, 30 March 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Khalifa Nazir
7.
Urdu film
Mastana
from Friday, 30 March 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Khalifa Nazir
8.
Urdu film
Mastana
from Friday, 30 March 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Khalifa Nazir
9.
Urdu film
Mastana
from Friday, 30 March 1973
Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Khalifa Nazir, Asiya
10.
Urdu film
Mastana
from Friday, 30 March 1973
Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: Kemal Ahmad, Poet: ?, Actor(s): Khalifa Nazir, Asiya

Palki
Palki
(1975)
Manzil
Manzil
(1981)
Jan Leva
Jan Leva
(2004)
Lado
Lado
(1966)

Arsi
Arsi
(1947)
Director
Director
(1947)
Hatim Tai
Hatim Tai
(1933)
Aurat
Aurat
(1940)

Bhai
Bhai
(1944)
Heer Syal
Heer Syal
(1937)
Shalimar
Shalimar
(1946)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!


Pakistan Film History

The first and largest website on Pakistani movies, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Neelaam
Neelaam
(1974)
Daket
Daket
(1989)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.