Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


نذرالاسلام

نذرالاسلام
ہدایتکار نذرالاسلام

ہدایتکار نذرالاسلام کو میگاہٹ اردو فلم آئینہ (1977) سے زبردست شہرت ملی تھی۔۔!

ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم آئینہ نے 401 ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا

بنیادی طور پر ایک تدوین کار یا فلم ایڈیٹر تھے جنھوں نے سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالی فلموں سے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔ معروف ہدایتکار ظہیرریحان کے معاون کے طور پر کام کرتے رہے اور بطور ہدایتکار متعدد بنگالی فلموں کے علاوہ پہلی اردو فلم کاجل (1965) کا ذکر ملتا ہے۔ اوسط درجہ کی اس فلم کے مرکزی کردار شبنم اور خلیل نے ادا کیے تھے۔

نذرالاسلام کی ڈھاکہ میں دوسری اور آخری اردو فلم پیاسا (1969) تھی جس میں سچندا ، رحمان اور عظیم مرکزی کردار تھے۔ سبل داس کی موسیقی میں احمدرشدی کا گیت "اچھا کیا دل نہ دیا ، ہم جیسے دیوانے کو۔۔" سپرہٹ ہوا تھا۔ "تو تتلی تھی ، میں بادل تھا۔۔" بھی ایک مقبول گیت تھا لیکن مجیب عالم کا ایک منفرد گیت "او گوری درشن دے ، چلی ہے کہاں بن ٹھن کے۔۔" بڑے کمال کا تھا۔

مشرقی پاکستان کی اردو فلمیں

مشرقی پاکستان یا موجودہ بنگلہ دیش میں بننے والی اردو فلمیں عام طور پر بنگالی فلموں سے اردو میں ڈب کی جاتی تھیں اور بڑی کمزور فلمیں ہوتی تھیں جو کراچی کی حد تک تو چل جاتی تھیں لیکن باقی ملک میں نہیں چلتی تھیں۔

بنگالی فنکار زیادہ تر ڈھاکہ کی بنگالی فلموں کے علاقائی فنکار شمار ہوتے تھے جنھیں باکس آفس ویلیو نہ ہونے کی وجہ سے لاہور یا کراچی میں بننے والی فلموں میں کاسٹ نہیں کیا جاتا تھا۔

ریکارڈز کے مطابق ندیم پہلے اداکار تھے جنھیں ڈھاکہ کی فلموں میں آنے کے بعد مغربی پاکستان کے فلمسازوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔

ان کی دیکھا دیکھی دیگر بنگالی فنکاروں کو بھی ترغیب ملی اور متعدد بڑے بڑے فنکاروں نے بہتر مستقبل کی تلاش میں ڈھاکہ چھوڑ کر لاہور اور کراچی کی راہ لی تھی۔ ایسے فنکاروں میں شبنم ، روبن گھوش، رحمان ، شبانہ ، بشیراحمد ، نسیمہ خان ، ریشماں ، اختریوسف ، سروربارہ بنکوی اور نذرالاسلام وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر تھے۔

ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد جب پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی لگا دی گئی تھی تو لاہور کی فلم انڈسٹری کو خاصا عروج حاصل ہوا تھا اور یہاں فلموں کی تعداد میں قابل ذکر حد تک اضافہ ہوگیا تھا۔ ایسے میں فنکاروں کی قلت محسوس ہونے لگی تھی اور نئے چہروں کی بڑی زبردست مانگ ہوتی تھی۔ اسی لیے مشرقی پاکستان کے فنکاروں کو بھی مغربی پاکستان کی فلموں میں خوش آمدید کہا گیا تھا۔

یادرہے کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی "سازش" جو تاریخ میں "اگر تلہ سازش کیس" کے نام سے مشہور ہوئی تھی ، پہلی بار سرکاری طور پر جنوری 1968ء میں سامنے آئی تھی۔

اسی سال صدرایوب خان کے زوال کا دور بھی شروع ہوگیا تھا۔ دونوں خطوں میں زبردست ہنگامے ہوئے تھے لیکن مشرقی پاکستان میں غم و غصہ کچھ زیادہ ہی تھا۔ ان کشیدہ حالات سے گبھرا کر بھی بہت سے فنکار ڈھاکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کے حالات بڑے دگرگوں تھے جس کی وجہ سے بیشتر بنگالی فنکاروں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا جن میں سے ایک نذرالاسلام بھی تھے۔

نذرالاسلام کی لاہور کی پہلی فلم

ہدایتکار نذرالاسلام کی موجودہ پاکستان میں پہلی فلم احساس (1972) تھی۔ کراچی کے ایک معروف فلمی اخبار نگار ویکلی کے بانی اور ایڈیٹر الیاس رشیدی کا نام فلمساز کے طور پر آتا ہے۔

شبنم ، ندیم اور رنگیلا مرکزی کردار تھے۔ موسیقی بڑی جاندار تھی۔ رونا لیلیٰ کا یہ گیت فلم کا مقبول ترین گیت تھا "ہمیں کھو کر بہت پچھتاؤ گے ، جب ہم نہیں ہوں گے ، بھری دنیا کو ویران پاؤ گے۔۔" مہدی حسن اور رونا لیلیٰ کی الگ الگ گائی ہوئی غزل "آپ کا حسن جو دیکھا تو خدا یاد آیا۔۔" ،رونا لیلیٰ اور احمدرشدی کا دوگانا "اللہ اللہ ، میری محفل میں وہ مہمان آیا۔۔" ، احمدرشدی اور شہناز بیگم کا گیت "رک جاؤ ، ابھی رک جاؤ۔۔" اور مسعودرانا اور رونا لیلیٰ کا یہ دوگانا "بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا ، جھکی جھکی اڑتی ہوا ، موسم ہے دیوانہ دیوانہ دیوانہ۔۔" فلم کے مقبول گیت تھے۔ ایک اچھی فلم تھی لیکن کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھی۔

نذرالاسلام کی فلم شرافت (1974) میں بھی شبنم اور ندیم کی کلاسک جوڑی تھی۔ یہ فلم مہدی حسن کے گیت "تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے لہریں بھی ہوئیں مستانی سی۔۔" کی وجہ سے مشہور ہے۔ روبن گھوش ہی کی موسیقی میں اخلاق احمد اور نیرہ نور کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا " ہو میرے سنگ چلا اک خوبصورت ساتھی۔۔"

اسی سال کی فلم حقیقت (1974) کی پہچان مسعودرانا کا یہ شاہکار گیت تھا "متوارے ، کتنا دکھی ہے انسان ، کوئی نہ جانے درد کسی کا ، سب ہیں یہاں انجان۔۔" اس فلم میں دیبا اور بابرہ شریف کے علاوہ محمدعلی اور وحیدمراد بھی ایک ساتھ تھے۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ نذرالاسلام نے ان دونوں عظیم اداکاروں کو صرف دو دو بار اپنی فلموں میں کاسٹ کیا تھا جبکہ ندیم کو 11 فلموں میں موقع دیا تھا۔

نذرالاسلام کی ریکارڈ فلم آئینہ (1977)

آئینہ (1977)
فلم آئینہ (1977)
امبر (1978)
فلم امبر (1978)
زندگی (1978)
فلم زندگی (1978)
بندش (1980)
فلم بندش (1980)
نہیں ابھی نہیں (1980)
فلم نہیں ابھی نہیں (1980)
لو سٹوری (1983)
فلم لو سٹوری (1983)
کالے چور (1991)
فلم کالے چور (1991)

فلم ڈائریکٹر نذرالاسلام کی فلم آئینہ (1977) ایک ریکارڈ توڑ فلم ثابت ہوئی تھی جس نے کراچی میں 401 ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

اردو فلموں کی کامیاب ترین جوڑی ، شبنم اور ندیم کی یہ یادگار فلم 18 مارچ 1977ء کو بمبینو سینما کراچی میں ریلیز ہوئی تھی اور مسلسل 48 ہفتے تک چلتی رہی تھی۔ اس کے بعد اس فلم کو سکالا سینما کراچی میں شفٹ کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر یہ فلم 14 جنوری 1982ء تک چلتی رہی تھی۔ اس طرح اس فلم کی نمائش کا تسلسل چار سال ، نو ماہ اور 27 دن تھا جو ایک ریکارڈ ہے۔

فلم آئینہ (1977) کا 401 ہفتے چلنے کا ریکارڈ اعداوشمار کے لیے تو دلچسپ ہے لیکن اس کی اہمیت اس لیے نہیں ہے کہ سکالا سینما میں صرف 144 سیٹیں تھیں جبکہ ایک عام سینما چھ سے سات سو سیٹوں کا ہوا کرتا تھا۔ مثلاً مولاجٹ (1979) کی مسلسل دو سال سے زائد عرصہ تک جس شبستان سینما لاہور میں نمائش ہوئی تھی ، اس کی 715 سیٹیں تھیں۔ گویا سکالا سینما کے حجم کے سینما پر اگر مولاجٹ (1979) چلتی تو بیس سال تک چلتی رہتی۔۔!

فلم آئینہ (1977) میں موسیقار روبن گھوش نے اچھی دھنیں بنائی تھیں۔ ایک گیت "مجھے دل سے نہ بھلانا۔۔" چار بار گوایا گیا تھا اور آوازیں مہدی حسن ، مہناز ، نیرہ نور اور عالمگیر کی تھیں۔ سب سے ہٹ گیت "کبھی میں سوچتا ہوں ، کچھ نہ کچھ کہوں ، پھر یہ سوچتا ہوں ، کیوں نہ چپ رہوں۔۔" مہدی حسن نے گایا تھا جبکہ نیرہ نور کا گیت "روٹھے ہو پھر تم کو کیسے مناؤں پیا ، بولو نا۔۔" بھی بڑا مقبول ہوا تھا۔ اس گیت کے دوران ندیم ، روزنامہ 'جنگ' پڑھ رہے ہوتے ہیں تو انھیں راضی کرنے کے لیے شبنم ، روزنامہ 'امن' سامنے کر دیتی ہے جو بڑا دلچسپ منظر تھا۔

فلم آئینہ (1977) کی زبردست کامیابی کے بعد نذرالاسلام کو پہلی بار 1978ء میں تین فلمیں بنانے کا موقع ملا تھا۔ فلم امبر (1978) میں انھوں نے ممتاز کو اپنے فیورٹ ہیرو ندیم کے ساتھ کاسٹ کیا تھا۔ محمدعلی بھی اس سپرہٹ فلم میں دوسری اور آخری بار موجود تھے۔ مہدی حسن کے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے "ٹھہرا ہے سماں ، ہم تم ہیں جہاں۔۔" اور "جس دن سے دیکھا ہے تجھ کو صنم ، بے چین رہتے ہیں اس دن سے ہم ، لگتا ہے ایسا خدا کی قسم ، تم میرے ہو۔۔" کے علاوہ مہناز کا گیت "مجھے لے چل ، یہاں سے دور ان وادیوں میں ، جہاں خوشبو ہو ، جہاں نغمے ہوں ، جہاں پھول کھلیں۔۔" اے نیر کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "ملے دو ساتھی ، کھلی دو کلیاں۔۔" روبن گھوش کی موسیقی تھی۔

جب وحیدمراد ولن کے رول میں نظر آئے

نذرالاسلام نے فلم شیشے کا گھر (1978) میں فلم بینوں کو حیران کردیا تھا جب انھوں نے وحیدمراد کو ایک ولن کے رول میں پیش کیا تھا۔ ان کی اس ناکام فلم کی ہیروئن ممتاز تھی اور پہلی اور آخری بار شاہد کو ہیرو لیا تھا جبکہ ماضی کی معروف اداکارہ روزینہ ایک ویمپ کے رول میں تھی۔

اسی سال کی فلم زندگی (1978) بھی ایک کامیاب فلم تھی جس میں انھوں نے بابرہ شریف کو ندیم کے مقابل کاسٹ کیا تھا۔ اس فلم میں ایم اشرف کی دھنوں میں اے نیر اور مہناز کا یہ گیت سٹریٹ سانگ بن گیا تھا "جنگل میں منگل تیرے ہی دم سے ، سب نے شور مچایا ہے ، سالگرہ کا دن آیا ہے۔۔" مہناز کا گیت "تجھے دل میں بسا لوں ، دھڑکن میں چھپا لوں۔۔" کے علاوہ "تیرے سنگ دوستی ، ہم نہ چھوڑیں کبھی ، سنگ اپنا رہے نہ رہے۔۔" بھی بڑا مقبول ہوا تھا جو الگ الگ مہدی حسن اور اے نیر کے ساتھ مہناز نے گایا تھا۔ یہ فلم بھی آئینہ (1977) ہی کے سٹائل پر بنائی گئی تھی۔

1980ء میں بھی نذرالاسلام کو تین فلموں کی ڈائریکشن دینے کا موقع ملا تھا۔ بندش (1980) سب سے کامیاب فلم تھی جو لاہور میں پلاٹینم جوبلی کرنے والی پہلی اردو فلم تھی۔ شبنم اور ندیم کی روایتی جوڑی تھی۔ یہ فلم انڈونیشیا میں بنائی گئی تھی اور وہاں کی ایک اداکارہ کو بھی اس فلم میں کاسٹ کیا گیا تھا۔

اخلاق احمد کے فلمی کیرئر کا سب سے سپرہٹ گیت اسی فلم میں تھا "سونا نہ چاندی ، نہ کوئی محل ، جان من ، تجھ کو میں دے سکوں گا ، پھر بھی یہ وعدہ ہے تجھ سے ، تو جو کرے پیار مجھ سے ، چھوٹا سا گھر تجھ کو دوں گا ، دکھ سکھ کا ساتھی بنوں گا۔۔"

اے نیر اور نیرہ نور کا یہ شوخ دوگانا بھی بڑا مقبول ہوا تھا "اچھا اچھا لاگے رے ، پیارا پیار لاگے رے۔۔"مہدی حسن اور مہناز کا گیت "دو پیاسے دل ایک ہوئے ہیں کیسے۔۔" اور مہناز کا گیت "تجھے دل سے لگا لوں ، پلکوں میں چھپا لوں۔۔" بھی بڑے مقبول ہوئے تھے جن کی دھنیں روبن گھوش نے بنائی تھیں۔

نذرالاسلام کی ایک ناکام ترین فلم حسینہ مان جائے گی (1980) تھی جس میں رنگیلا ، آسیہ کے ساتھ ہیرو تھے۔ اس وقت تک ان کے عروج کا دور گزر چکا تھا۔ اس فلم میں مسعودرانا اور رونالیلیٰ کا یہ گیت قابل ذکر تھا "یہ نہ سوچو ، کل تھا کیا ، آج کا لے لو مزہ۔۔" ساٹھ کی دھائی کے معروف موسیقار ماسٹرتصدق حسین (ہمراہی فیم) کی یہ آخری فلم تھی۔

اسی سال نذرالاسلام نے اپنی فلم نہیں ابھی نہیں (1980) میں بیک وقت دو نئے ہیرو متعارف کروائے تھے۔ فیصل تو کچھ عرصہ تک فلموں میں چلتے رہے لیکن ایاز نے زیادہ کام نہیں کیا تھا۔ شبنم روایتی ہیروئن تھی۔ اخلاق احمد کا گیت "سماں ، وہ خواب کا سماں ، ملے تھے دل سے دل جہاں۔۔" پسند کیا گیا تھا جس کی دھن روبن گھوش نے بنائی تھی۔

فلم آنگن (1982) کے بعد نذرالاسلام نے کینیا کی ایک اداکارہ لیلیٰ کو لے کر فیصل کے ساتھ فلم لو سٹوری (1983) بنائی تھی جو کامیاب رہی تھی۔

دیوانے دو (1985) اس لحاظ سے ایک یادگار فلم تھی کہ اس میں پاکستان کے دوسرے سپرسٹار ہیرو سنتوش نے آخری بار کام کیا تھا لیکن ان کے مناظر ریلیز نہیں ہوسکے تھے کیونکہ کسی وجہ سے کویتا کی جگہ بابرہ شریف کو کاسٹ کیا گیا تھا اور وہ سین دوبارہ فلمائے گئے تھے لیکن اس وقت تک سنتوش کا انتقال ہوچکا تھا اور ان کے سین کسی دوسرے اداکار سے کروائے گئے تھے۔

نذرالاسلام کی آخری کامیاب اردو فلم زمین آسمان (1985) تھی جس میں ندیم کے ساتھ نیپالی اداکار شیوا ، سری لنکن اداکارہ سبیتا اور بنگلہ دیشی اداکار مصطفیٰ بھی تھے۔ اس فلم میں مسعودرانا کا ایک متاثر کن بیک گراؤنڈ گیت تھا "یہ کیسا انصاف ، مالک ، عورت ظلم کی بھینٹ چڑھے اور مرد کے ظلم معاف ، مالک۔۔" ان کی ایک فلم چکر (1988) بھی تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کبھی کراچی سرکٹ میں ریلیز نہیں ہوئی تھی۔

نذرالاسلام کی پہلی پنجابی فلم

نذرالاسلام نے کبھی کوئی پنجابی فلم نہیں بنائی تھی لیکن نوے کی دھائی تک اردو فلمیں خسارے کا سودا بن گئی تھیں۔ اس دور میں پنجابی فلموں کو اردو میں ڈب کر کے کراچی سرکٹ میں پیش کیا جاتا تھا۔ نذرالاسلام کی پہلی فلم میڈم باوری (1989) تھی جس میں انھیں سلطان راہی کو ہیرو لینا پڑا۔ پنجاب سرکٹ کے علاوہ کراچی میں بھی یہ فلم پسند کی گئی تھی جس کا ٹائٹل رول نیلی نے کیا تھا اور جاوید شیخ بھی فلم کا حصہ تھے۔

فلم پلکوں کی چھاؤں میں (1985) کے بعد نذرالاسلام نے فلم بارود کی چھاؤں میں (1989) بھی بنائی تھی جس میں ندیم کو ایک ایکشن ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ فلم آندھی (1991) ندیم کے ساتھ ان کی آخری فلم تھی جس میں بنگلہ دیشی اداکارہ شبانہ بھی تھی۔

نذرالاسلام کی ایک بہت بڑی فلم کالے چور (1991) بھی تھی جو ڈبل ورژن تھی یعنی پنجابی سے اردو میں ڈب کی گئی تھی۔ معروف شاعر حبیب جالب کی بطور فلمساز اکلوتی فلم تھی۔ اس دور میں سلطان راہی کے بغیر پنجابی فلم بنانا مشکل ہوتا تھا لیکن نیلی اور جاوید شیخ کی وجہ سے اہل کراچی کے لیے بھی قابل قبول تھی۔ میڈم نورجہاں کے گیتوں کے بغیر بھی پنجابی فلمیں نا مکمل ہوتی تھیں۔

نذرالاسلام کی ایک ڈبل ورژن فلم نرگس (1992) بھی تھی جس کے اصل ہیرو تو شان تھے لیکن ان کی جگہ جاوید شیخ کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں اور مسعودرانا کا ایک دوگانا تھا "جینا نئیں میں نئیں جینا ، بن یار دے ، لگناں نئیں دل میرا ، بن یار دے۔۔"

نذرالاسلام نے اپنے آخری دور میں فلم خواہش (1993) بھی بنائی تھی جس میں بابرہ شریف کے ساتھ فلمساز معین الرحمٰن کو ہیرو لیا تھا۔ ان کی آخری فلم لیلیٰ (1994) بھی ایک ڈبل ورژن فلم تھی جس میں نادرہ کے ساتھ اظہارقاضی ہیرو تھے اور جن پر اے نیر کا یہ گیت فلمایا گیا تھا "چپیڑ کھا ، سلام کر۔۔" اسی فلم میں مسعودرانا نے چند بول ہمایوں قریشی کے پس منظر میں گائے تھے "یاد نئیں تینوں داج دی خاطر ، جنج واپس کیتی سی توں۔۔"

نذرالاسلام کا فلمی ریکارڈ

نذرالاسلام نے کل 30 فلمیں بنائی تھیں جن میں سے 20 اردو فلمیں تھیں۔ 19 اگست 1939ء کو کولکتہ میں پیدا ہوئے اور 11 جنوری 1994ء کو لاہور میں وفات پاگئے تھے۔

فلمی صنعت میں ’’دادا‘‘ کے لقب سے معروف تھے۔ بنگالی نژاد ہونے کے باوجود ، سقوط ڈھاکہ کے بعد انھوں نے پاکستان ہی میں رہنا پسند کیا تھا اور لاہور میں گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

یاد رہے کہ 1973ء میں جب بھٹو حکومت نے رجسٹریشن اور شناختی کارڈ سسٹم کا اجراء کیا تھا تو 1971ء سے پہلے پاکستان میں رہنے والے تمام بنگالیوں کو مکمل شہریت اور بنیادی انسانی حقوق دیے گئے تھے لیکن 2000ء میں سیاسی مجبوریوں کی بنیاد پر مشرف دور حکومت میں بنگالیوں کو Alien یا اجنبی قرار دے دیا گیا تھا اور آج بھی کراچی میں مقیم تیس لاکھ سے زائد بنگالی شہری اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔

مسعودرانا کے نذرالاسلام کی 6 فلموں میں 6 گیت

(4 اردو گیت ... 2 پنجابی گیت )
1
فلم ... احساس ... اردو ... (1972) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: شبنم ، ندیم
2
فلم ... حقیقت ... اردو ... (1974) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: اے حمید ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: (پس پردہ ، تھیم سانگ ، محمد علی )
3
فلم ... حسینہ مان جائے گی ... اردو ... (1980) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: کلیم عثمانی ... اداکار: آسیہ ، رنگیلا
4
فلم ... زمین آسمان ... اردو ... (1985) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: قتیل شفائی ... اداکار: (پس پردہ)
5
فلم ... نرگس ... پنجابی ... (1992) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: جاوید شیخ ، مدیحہ شاہ
6
فلم ... لیلیٰ ... پنجابی ... (1994) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: (پس پردہ ، ہمایوں قریشی)

Masood Rana & Nazrul Islam: Latest Online film

Nargis

(Punjabi/Urdu double version - Color - Friday, 21 August 1992)


Masood Rana & Nazrul Islam: Film posters
Haqeeqat
Masood Rana & Nazrul Islam:

2 joint Online films

(2 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1980: Haseena Maan Jaye Gi
(Urdu)
2.1992: Nargis
(Punjabi/Urdu double version)
Masood Rana & Nazrul Islam:

Total 6 joint films

(4 Urdu, 0 Punjabi films)

1.1972: Ehsas
(Urdu)
2.1974: Haqeeqat
(Urdu)
3.1980: Haseena Maan Jaye Gi
(Urdu)
4.1985: Zamin Aasman
(Urdu)
5.1992: Nargis
(Punjabi/Urdu double version)
6.1994: Laila
(Punjabi/Urdu double version)


Masood Rana & Nazrul Islam: 6 songs in 6 films

(4 Urdu and 2 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Ehsas
from Friday, 22 December 1972
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): Shabnam, Nadeem
2.
Urdu film
Haqeeqat
from Friday, 1 November 1974
Singer(s): Masood Rana, Music: A. Hameed, Poet: , Actor(s): (Playback, theme song - Mohammad Ali)
3.
Urdu film
Haseena Maan Jaye Gi
from Friday, 25 April 1980
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana & Co., Music: Tasadduq Hussain, Poet: , Actor(s): Asiya, Rangeela
4.
Urdu film
Zamin Aasman
from Friday, 6 December 1985
Singer(s): Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): (Playback)
5.
Punjabi film
Nargis
from Friday, 21 August 1992
Singer(s): Masood Rana, Noorjahan, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Javed Sheikh, Madhia Shah
6.
Punjabi film
Laila
from Friday, 14 October 1994
Singer(s): Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: , Actor(s): (Playback, Humayun Qureshi)

Sayyan
Sayyan
(1970)
Mafroor
Mafroor
(1976)
Wardat
Wardat
(1976)

Nishani
Nishani
(1942)
Sulochna
Sulochna
(1933)



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
ایم صادق
ایم صادق
ندیم
ندیم
ناشاد
ناشاد
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
محمد علی
محمد علی
سیف چغتائی
سیف چغتائی
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
احمد راہی
احمد راہی
نبیلہ
نبیلہ
علاؤالدین
علاؤالدین
زیبا
زیبا
افضل خان
افضل خان
امین ملک
امین ملک
فضل حسین
فضل حسین
منوررشید
منوررشید
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
رضیہ
رضیہ
آسیہ
آسیہ
حزیں قادری
حزیں قادری
مسرت نذیر
مسرت نذیر
اقبال حسن
اقبال حسن
سلیم رضا
سلیم رضا
شبنم
شبنم
مسعود رانا
مسعود رانا
ننھا
ننھا
ابو شاہ
ابو شاہ
رشیداختر
رشیداختر
یوسف خان
یوسف خان
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
نگہت سیما
نگہت سیما
دیبا
دیبا
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
مظہر شاہ
مظہر شاہ
رانی
رانی
بخشی وزیر
بخشی وزیر
سائیں اختر
سائیں اختر
مہدی حسن
مہدی حسن
الحامد
الحامد
نثار بزمی
نثار بزمی
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
سلیم کاشر
سلیم کاشر
زلفی
زلفی
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
رخسانہ
رخسانہ
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
صفدرحسین
صفدرحسین
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
سلونی
سلونی
محمد رفیع
محمد رفیع
افتخارخان
افتخارخان
البیلا
البیلا
نذر
نذر
مالا
مالا
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
ریاض شاہد
ریاض شاہد
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
کیفی
کیفی
سدھیر
سدھیر
حسنہ
حسنہ
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
اختریوسف
اختریوسف
شبانہ
شبانہ
نذیر بیگم
نذیر بیگم
ظہیرریحان
ظہیرریحان
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
پرویز ملک
پرویز ملک
خلیل قیصر
خلیل قیصر
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
علی حسین
علی حسین
حسن لطیف
حسن لطیف
اعظم بیگ
اعظم بیگ
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
شوکت علی
شوکت علی
حسن عسکری
حسن عسکری
جعفر بخاری
جعفر بخاری
غزالہ
غزالہ
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
صہبااختر
صہبااختر
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
اے شاہ
اے شاہ
روبن گھوش
روبن گھوش
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
لقمان
لقمان
مسعودپرویز
مسعودپرویز
لہری
لہری
زینت
زینت
شریف نیر
شریف نیر
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
نرالا
نرالا
نیلو
نیلو
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
آصف جاہ
آصف جاہ
جمیل اختر
جمیل اختر
شیریں
شیریں
منیر نیازی
منیر نیازی
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
ایم اشرف
ایم اشرف
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
ساقی
ساقی
آغا حسینی
آغا حسینی
رحمان ورما
رحمان ورما
امجدبوبی
امجدبوبی
اے حمید
اے حمید
حبیب جالب
حبیب جالب
ایم اے رشید
ایم اے رشید
احمد رشدی
احمد رشدی
کمال احمد
کمال احمد
نسیم بیگم
نسیم بیگم
سلطان راہی
سلطان راہی
اعجاز
اعجاز
مصلح الدین
مصلح الدین
سیما
سیما
شیون رضوی
شیون رضوی
منورظریف
منورظریف
علی اعجاز
علی اعجاز
قدیرغوری
قدیرغوری
مظفروارثی
مظفروارثی
اسلم ڈار
اسلم ڈار
تصورخانم
تصورخانم
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
درپن
درپن
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
رنگیلا
رنگیلا
شاہد
شاہد
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
اسد بخاری
اسد بخاری
حسن طارق
حسن طارق
امداد حسین
امداد حسین
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
ریاض احمد
ریاض احمد
روبینہ بدر
روبینہ بدر
ایم سلیم
ایم سلیم
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
حبیب
حبیب
ایم اکرم
ایم اکرم
کے خورشید
کے خورشید
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
قتیل شفائی
قتیل شفائی
موج لکھنوی
موج لکھنوی
نغمہ
نغمہ
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
رضا میر
رضا میر
روزینہ
روزینہ
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
آصف جاوید
آصف جاوید
شمیم آرا
شمیم آرا
تنویر نقوی
تنویر نقوی
وحیدڈار
وحیدڈار
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
ساون
ساون
حیدر
حیدر
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
ساحل فارانی
ساحل فارانی
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
وزیر افضل
وزیر افضل
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
رشید عطرے
رشید عطرے
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
طافو
طافو
سہیل رعنا
سہیل رعنا
سنتوش کمار
سنتوش کمار
سلیم اقبال
سلیم اقبال
طارق عزیز
طارق عزیز
ناہید
ناہید
ناصرہ
ناصرہ
یاسمین
یاسمین
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
فردوس
فردوس
قوی
قوی
ایس سلیمان
ایس سلیمان
طالش
طالش
ظہورناظم
ظہورناظم
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
نذیر
نذیر
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
مشتاق علی
مشتاق علی
نذیرجعفری
نذیرجعفری
ایم جے رانا
ایم جے رانا
سید کمال
سید کمال
اعظم چشتی
اعظم چشتی
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
وحیدمراد
وحیدمراد
لیلیٰ
لیلیٰ
سنگیتا
سنگیتا
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
نسیمہ خان
نسیمہ خان
کمار
کمار
تانی
تانی
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
خلیل احمد
خلیل احمد
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
عالیہ
عالیہ
نذرالاسلام
نذرالاسلام
منظورجھلا
منظورجھلا
آئرن پروین
آئرن پروین
مسرور انور
مسرور انور
جی اے چشتی
جی اے چشتی
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
نذیرعلی
نذیرعلی
رفیق رضوی
رفیق رضوی
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
فیروز نظامی
فیروز نظامی
عمرشریف
عمرشریف
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
اکمل
اکمل
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
منیر حسین
منیر حسین
الطاف حسین
الطاف حسین
حنیف
حنیف



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.