PAK Magazine
Saturday, 03 December 2022, Week: 48

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


2007
بے نظیر بھٹوکا قتل
بے نظیر بھٹوکا قتل
2005
جسٹس افتخار محمد چوہدری
جسٹس افتخار محمد چوہدری
1958
جنرل ایوب خان ، صدر بن گئے
جنرل ایوب خان ، صدر بن گئے
1951
آدم جی جوٹ ملز
آدم جی جوٹ ملز
1970
1970ء کے عام انتخابات
1970ء کے عام انتخابات


1951

General Ayub Khan

Wednesday, 17 January 1951

General Mohammad Ayub Khan was first Muslim Army Chief in Paksitan..

جنرل ایوب ، آرمی چیف بنے

بدھ 17 جنوری 1951

پاکستان کے تیسرے آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان ، پہلے مسلمان فوجی سربراہ تھے جو 9 جون 1958ء کو ریٹائر ہو رہے تھے لیکن اس وقت کے صدر سکندر مرزا نے انہیں مزید دو سال تک عہدے کی توسیع دے دی تھی۔ اس کے چند ماہ بعد ہی وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے تھے۔ گو مارشل لا ء کا نفاذ ، آئین کی معطلی اور اسمبلی کی تحلیل کا کام جنرل ایوب نے خود نہیں کیا تھا لیکن وہ پاکستان کے پہلے حکمران تھے جو کلی اختیار رکھتے تھے۔ ان کے کمانڈر انچیف کے عہد کے چند اہم ترین واقعات اس طرح سے ہیں:

  • 17 جنوری 1951ء کو جنرل ایوب خان نے جنرل گریسی سے کمانڈر انچیف کے عہدے کا چارج لیا اور چند ماہ بعد ہی مارچ 1951ء میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک سازش پکڑی گئی تھی جسے تاریخ میں "راولپنڈی سازش کیس" کا نام دیا گیا تھا۔ اس بغاوت کے سرغنہ ایک فوجی افسر میجر جنرل اکبر خان بتائے گئے تھے جو کمیونسٹ نظریات رکھنے والے دیگر افراد (جن میں صحافی اور شاعر فیض احمد فیض بھی ایک اہم ترین نام تھا) کے ساتھ مل کر یہ سازش کر رہے تھے۔ حکومت وقت کا تختہ الٹنے کی یہ پہلی سازش تھی۔۔!
  • فوجی بغاوت سے بچنے والے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو زیادہ مہلت نہیں ملی اور 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے ایک جلسہ عام میں قتل کر دیے گئے اور ان کے قاتل کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا بڑا سیاسی قتل تھا……!
  • دسمبر1951ء میں پاکستان کی پہلی اسلحہ ساز فیکٹری ، واہ آرڈیننس فیکٹری کا افتتاح ہواتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقسیم سے قبل پاکستانی علاقوں میں کوئی اسلحہ ساز فیکٹری نہیں تھی۔ اس پہلی فیکٹری کی تکمیل کے لئے بھارت نے پاکستان کے حصہ کا چھ کروڑ روپیہ دیا تھا جبکہ دیگر فوجی سٹورز میں سے بھی ایک تہائی حصہ پاکستان کو ملا تھا۔ تقسیم کے نتیجے میں کل چار ارب روپے کے اثاثوں میں سے پاکستان کو 75 کروڑ روپے ملے تھے۔
  • فروری 1953ء میں ……تحریک ختم نبوتؐ …… کے دوران لاہور میں 6 مارچ 1953ء سے دو ماہ کے لئے مارشل لاء لگایا گیا تھا جس کے ایڈمنسٹریٹر میجر جنرل اعظم خان تھے جو جنرل ایوب خان کے انقلابی ساتھی بھی تھے۔ مذہبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ان فسادات میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی ؒ کو سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔
  • ستمبر1953ء میں آرمی چیف …… جنرل ایوب خان …… امریکی فوجی امداد کے حصول کے لئے دورہ امریکہ پر گئے تھے۔ واپسی پر انہیں پاکستان کا وزیر دفاع بھی بنا دیا گیاتھا جو ایک اچھوتا واقعہ تھا کہ جب ایک حاضر سروس فوجی جنرل کو ایک سویلین عہدہ تفویض کیا گیا تھا۔ یہ عہد ہ ان کے پاس اگلے بارہ برس تک رہا تھا۔۔!
  • 1954ء میں "ون یونٹ" کا قیام عمل میں آیا تھاجواصل میں جنرل ایوب خان ہی کی تجویز تھی جس میں مشرقی پاکستان کی اکثریت کو بے اثر کرنے کے لئے مغربی پاکستا ن کے صوبے ختم کر کے ایک صوبہ بنا دیا گیا تاکہ دونوں صوبوں کی نمائندگی برابر رہے۔
  • 1954ء میں پاکستان روسی بلاک کے خلاف امریکی اتحادی ممالک کے ایک فوجی معاہدے SEATO میں شامل ہو ا تھا جس کا پاکستان کو کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ 1955ء میں پاکستان ، برطانیہ سمیت پانچ ملکوں کے ایک اورفوجی معاہدے CENTO میں بھی شامل ہوا جو پہلے معاہدے کی طرح وقت کا ضیاع ثابت ہوا تھا۔
  • 7 اکتوبر 1958ء کو صدر سکندر مرزا نے ملک گیر مارشل لاء لگا کر آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمینسٹریٹر نامزد کر دیا تھا جنہوں نے اسی ماہ انہیں چلتا کیا اورخود صدر بھی بن بیٹھے تھے۔
  • 27 اکتوبر1959ء کو انقلاب کی پہلی سالگرہ پر جنرل ایوب خان کی کابینہ نے ان کو "فیلڈ مارشل" کا عہدہ تحفے کے طور پرپیش کیا تھا۔ یاد رہے کہ جنرل ایوب خان نہ صرف صدر بلکہ 20 اکتوبر 1966ء تک پاکستان کے وزیر دفاع بھی تھے اور اس طرح یہ عہدہ بارہ سال تک ان کے پاس رہا تھا اور اس دوران انہیں اربوں ڈالرز کی فوجی اور اقتصادی امداد ملی تھی جو امریکہ بہادر کو فوجی اڈے دینے کے عوض ملتی رہی تھی اورجو پاکستان کے دس سالہ شاندار ترقیاتی دور کی بنیاد اورملک میں کرپشن اور اقربا پروری کی ایک بد ترین مثال بن گئی تھی۔





General Ayub Khan (video)

Credit: hijazna


1957
ملک فیروز خان نون ، وزیر اعظم بنے
ملک فیروز خان نون ، وزیر اعظم بنے
1956
1956ء کا معطل آئین
1956ء کا معطل آئین
1974
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ
1947
تقسیم ہند کا منصوبہ
تقسیم ہند کا منصوبہ
2007
بے نظیر بھٹوکا قتل
بے نظیر بھٹوکا قتل

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

طافو
طافو
روزینہ
روزینہ
شبنم
شبنم
لقمان
لقمان
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.