PAK Magazine
Tuesday, 26 October 2021, Week: 43

Pakistan History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan History

1958

جنرل ایوب خان ، صدر بن گئے

سومرار 27 اکتوبر 1958

General Ayub Khan
عہدہ: صدر مملکت …… پیشہ: فوجی جنرل …… پارٹی: پاک فوج ……
عرصہ اقتدار: 27اکتوبر 1958ء …… تا …… 25 مارچ 1969ء …… (ساڑھے دس سال)
عرصہ حیات: 14مئی 1907ء …… تا …… 19 اپریل 1974ء …… (عمر: 67سال …… پیدائش: ہری پور ……تعلق: خیبر پختونخواہ/ہزارہ)
پاکستان کے دوسرے صدر …… جنرل محمد ایوب خان …… جو پہلے مسلمان چیف آف آرمی سٹاف بھی تھے اور حاضر سروس فوجی جنرل کے طورپر 1954ء سے وزیر دفاع بھی تھے۔ 7 اکتوبر 1958ء کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ 24 اکتوبر کو وزیر اعظم بھی بنے اور 27 اکتوبر کو صدر کا عہدہ بھی ہتھیا کر سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے تھے۔ ان کے دور کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے سنہر ا دور بھی کہا جاتا ہے جو اس حد تک تو صحیح تھا کہ جتنے ترقیاتی کام اس دور میں ہوئے تھے ، ان کی مثال پہلے ملتی تھی نہ بعد میں …… لیکن یہ سب جنرل ایوب کا اپنا کمال نہیں تھا بلکہ ان …… اربوں ڈالر کی امریکی امداد …… کا مرہون منت تھا جو اس دور میں پاکستان کو ملی تھی اور اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ امریکہ ہمارے مامے دا پتر تھا یا اس نے ہمارا کوئی قرضہ دینا تھا بلکہ یہ بھاری امداد ان خدمات کے عوض دی گئی تھی جو ایوب حکومت ، سرد جنگ میں روس کے خلاف امریکہ کو فوجی اڈے دے کر انجام دے رہی تھی۔ اس امداد میں سے کچھ رقم ترقیاتی کاموں پر صرف ہوئی تھی لیکن زیادہ تر کرپشن اور اقربا ء پروری کی نظر ہوگئی تھی۔ 22 خاندانوں کی اصطلاح اسی دور کی یاد ہے۔ امریکی امداد سے پاکستانی فوج کی تشکیل بھی ہوئی تھی ورنہ پاکستان جیسا غریب ترین ملک اپنے وسائل سے دنیا کی ساتویں بڑی فوج نہیں بنا سکتا تھا۔ یہ تو امریکہ بہادر کا ہم پربہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اتنی بڑی فوج بنا کر دی ہے …… اب اگربے چارے ، ہمارے فوجی حکمران ، امریکی مفادات کا تحفظ کر کے نمک حلال نہ کریں تو اورکیا کریں ……؟

General Ayub Khan
جنرل ایوب خان کے دور میں ہر سال 27 اکتوبر کو "یوم انقلاب" منایا جاتا تھا جس پر قومی اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کیا کرتے تھے۔
جنرل ایوب خان …… کو اب تک پاکستان میں سب سے طویل عرصہ تک صدر رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1965ء کی جنگ ان کے زوال کا باعث بن گئی تھی کیونکہ ایک تو اس سے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے تھے اوردوسر ان کے آقا اور مربی امریکہ بہادر نے معاہدے کے مطابق اپنا دیا ہوا اسلحہ کمیونسٹ جارحیت کی بجائے بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے جرم میں فوجی امداد مکمل طور پر بند کر دی تھی اور اقتصادی امداد میں بھی خاصی کمی کر دی تھی۔ ان کے دور میں جہاں مشرقی پاکستان میں بغاوت کا لاوا پک چکا تھا ، وہاں امیر اور غریب کے درمیان نمایاں فرق نے ان کے افسوسناک انجام کی راہ ہموار کی تھی۔ بظاہر جنرل ایوب خان کا تختہ تو نہیں الٹا گیا تھا لیکن انہیں آخری تقریر کرنے کاموقع دیا گیا تھا جس میں انہیں اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپیکر کی بجائے حکومت ، فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کے حوالے کرنا پڑی تھی …… ایک مرد آہن کی بے بسی ، باعث عبرت تھی …… انہوں نے گمنامی میں انتقال کیا اور فوجی اعزاز کے ساتھ دفنائے گئے تھے۔

جنرل محمد ایوب خان 14 مئی 1907ء کو ضلع ہزارہ کے گاؤں ریحانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ء میں میٹرک کے بعد علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہوئے اور رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ (انگلستان) سے فوجی تعلیم حاصل کر کے 1928ء میں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ 1947ء میں کرنل کے عہدے پر ترقی ملی۔ قیام پاکستان کے بعد بریگیڈیر بنے۔ دسمبر 1948ء میں میجر جنرل بنے اور تعیناتی مشرقی پاکستان میں کردی گئی تھی۔ 1950ء میں وہ ایڈجیوٹنٹ جنرل بنا ئے گئے اور 17 جنوری 1951ء کو پاکستان کی بری فوج کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔




General Ayub Khan

Monday, 27 October 1958

Army Chief and Martial Law Administrator General Ayub Khan took power from President Sikandar Mirza on 27 October 1958..





World history
Pakistan Media

Pakistan History

تاریخ پاکستان
پاکستان کا بجٹ 2003/4
پاکستان کا بجٹ 2003/4
نواز شریف کی جلا وطنی
نواز شریف کی جلا وطنی
صدر ایوب خان کا دورہ امریکہ
صدر ایوب خان کا دورہ امریکہ
جب پاکستان ، بھارت سے بڑی فضائی قوت تھا
جب پاکستان ، بھارت سے بڑی فضائی قوت تھا
نوابزادہ لیاقت علی خان
نوابزادہ لیاقت علی خان

Other segments on PAK Magazine

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین

Some useful external links


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


Pakistan World Rankings

پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate