PAK Magazine
Sunday, 29 November 2020, Week: 48, Days: 333


Pakistan History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan History

1958

جنرل ایوب خان ، صدر بن گئے

سومرار 27 اکتوبر 1958

General Ayub Khan
عہدہ: صدر مملکت …… پیشہ: فوجی جنرل …… پارٹی: پاک فوج ……
عرصہ اقتدار: 27اکتوبر 1958ء …… تا …… 25 مارچ 1969ء …… (ساڑھے دس سال)
عرصہ حیات: 14مئی 1907ء …… تا …… 19 اپریل 1974ء …… (عمر: 67سال …… پیدائش: ہری پور ……تعلق: خیبر پختونخواہ/ہزارہ)
پاکستان کے دوسرے صدر …… جنرل محمد ایوب خان …… جو پہلے مسلمان چیف آف آرمی سٹاف بھی تھے اور حاضر سروس فوجی جنرل کے طورپر 1954ء سے وزیر دفاع بھی تھے۔ 7 اکتوبر 1958ء کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ 24 اکتوبر کو وزیر اعظم بھی بنے اور 27 اکتوبر کو صدر کا عہدہ بھی ہتھیا کر سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے تھے۔ ان کے دور کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے سنہر ا دور بھی کہا جاتا ہے جو اس حد تک تو صحیح تھا کہ جتنے ترقیاتی کام اس دور میں ہوئے تھے ، ان کی مثال پہلے ملتی تھی نہ بعد میں …… لیکن یہ سب جنرل ایوب کا اپنا کمال نہیں تھا بلکہ ان …… اربوں ڈالر کی امریکی امداد …… کا مرہون منت تھا جو اس دور میں پاکستان کو ملی تھی اور اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ امریکہ ہمارے مامے دا پتر تھا یا اس نے ہمارا کوئی قرضہ دینا تھا بلکہ یہ بھاری امداد ان خدمات کے عوض دی گئی تھی جو ایوب حکومت ، سرد جنگ میں روس کے خلاف امریکہ کو فوجی اڈے دے کر انجام دے رہی تھی۔ اس امداد میں سے کچھ رقم ترقیاتی کاموں پر صرف ہوئی تھی لیکن زیادہ تر کرپشن اور اقربا ء پروری کی نظر ہوگئی تھی۔ 22 خاندانوں کی اصطلاح اسی دور کی یاد ہے۔ امریکی امداد سے پاکستانی فوج کی تشکیل بھی ہوئی تھی ورنہ پاکستان جیسا غریب ترین ملک اپنے وسائل سے دنیا کی ساتویں بڑی فوج نہیں بنا سکتا تھا۔ یہ تو امریکہ بہادر کا ہم پربہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اتنی بڑی فوج بنا کر دی ہے …… اب اگربے چارے ، ہمارے فوجی حکمران ، امریکی مفادات کا تحفظ کر کے نمک حلال نہ کریں تو اورکیا کریں ……؟

General Ayub Khan
جنرل ایوب خان کے دور میں ہر سال 27 اکتوبر کو "یوم انقلاب" منایا جاتا تھا جس پر قومی اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کیا کرتے تھے۔
جنرل ایوب خان …… کو اب تک پاکستان میں سب سے طویل عرصہ تک صدر رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1965ء کی جنگ ان کے زوال کا باعث بن گئی تھی کیونکہ ایک تو اس سے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے تھے اوردوسر ان کے آقا اور مربی ا مریکہ بہادر نے معاہدے کے مطابق اپنا دیا ہوا اسلحہ کمیونسٹ جارحیت کی بجائے بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے جرم میں فوجی امداد مکمل طور پر بند کر دی تھی اور اقتصادی امداد میں بھی خاصی کمی کر دی تھی۔ ان کے دور میں جہاں مشرقی پاکستان میں بغاوت کا لاوا پک چکا تھا ، وہاں امیر اور غریب کے درمیان نمایاں فرق نے ان کے افسوسناک انجام کی راہ ہموار کی تھی۔ بظاہر جنرل ایوب خان کا تختہ تو نہیں الٹا گیا تھا لیکن انہیں آخری تقریر کرنے کاموقع دیا گیا تھا جس میں انہیں اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپیکر کی بجائے حکومت ، فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کے حوالے کرنا پڑی تھی …… ایک مرد آہن کی بے بسی ، باعث عبرت تھی …… انہوں نے گمنامی میں انتقال کیا اور فوجی اعزاز کے ساتھ دفنائے گئے تھے۔

جنرل محمد ایوب خان 14 مئی 1907ء کو ضلع ہزارہ کے گاؤں ریحانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ء میں میٹرک کے بعد علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہوئے اور رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ (انگلستان) سے فوجی تعلیم حاصل کر کے 1928ء میں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ 1947ء میں کرنل کے عہدے پر ترقی ملی۔ قیام پاکستان کے بعد بریگیڈیر بنے۔ دسمبر 1948ء میں میجر جنرل بنے اور تعیناتی مشرقی پاکستان میں کردی گئی تھی۔ 1950ء میں وہ ایڈجیوٹنٹ جنرل بنا ئے گئے اور 17 جنوری 1951ء کو پاکستان کی بری فوج کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔



General Ayub Khan

Monday, 27 October 1958

Army Chief and Martial Law Administrator General Ayub Khan took power from President Sikandar Mirza on 27 October 1958..





تاریخ پاکستان

پاک میگزین پر پاکستان کی تاریخ کو ایک منفرد انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر اہم تاریخی واقعہ کے لئے ایک صفحہ مختص ہے جس پر متعلقہ موضوع پر تمام تر معلومات جمع کی گئی ہیں۔ ان میں تحریر و تصاویر کے علاوہ یادگار دیڈیوز ، آئیڈیوز ، اخباری تراشے اور متعلقہ لنکس وغیرہ شامل ہیں۔ تاریخی واقعات کو جہاں اردو اور انگلش میں سرچ کیا جاسکتا ہے وہاں سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ فہرستیں بھی بنائی گئی ہیں۔ جیسے جیسے ڈیٹابیس میں مزید واقعات کا اندراج ہو گا ، یہ تمام فہرستیں اپ ڈیٹ ہوتی رہیں گی۔

یہ ویب سائٹ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ اور پاکستان کی تاریخ کو آن لائن محفوظ رکھنے کا ایک عظیم منصوبہ بھی ہے۔ تمام تر تحریر و تحقیق ، خیالات ، تبصرے اور تجزیئے میرا ذاتی فعل ہیں جو زندگی بھر کے تاریخی علم کا نچوڑ اور ایک تعمیری اور اصلاحی سوچ کے مظہر ہیں۔


تازہ ترین اپ ڈیٹس

تازہ ترین ویڈیو

1962ء کا آئین

1962 Constitution

1962 Constitution was presidential form of government with absolute powers vested in the President..

Pak Broad Cor

World history

Pakistan Media


BBC Urdu Global websiteDW Urdu Global websiteVOA Urdu Global website Dawn, Karachi NewspaperDunya, Lahore NewspaperJang, Karachi NewspaperKhabrain, Lahore NewspaperPakistan, Lahore NewspaperUmmat, Karachi Newspaper ARY News TVDunya News TVExpress News TVGeo News TVGNN News TVNeo News TVPtv News TV
تازہ ترین اپ ڈیٹس




پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
معیشت
فی کس آمدن1.3882.1711.90559.795
فی کس آمدن کی درجہ بندی1511391439
معیشت کا حجم2333058
ڈالر ریٹ16073856
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)125413754
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7454738

فلاحی ریاست
خوشحالی 123491322
انسانی ترقی15212913511
تعلیم1281121552
صحت عامہ3835323
ایمانداری120801461

سیاست و ریاست
آبادی528112
رقبہ3379211
مذہبی وابستگی50543145
جمہوری روایات10851807
پاسپورٹ کی عزت106851015


Pakistan Rupee Exchange Rate