A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1036 songs in 646 films

مسعودرانا اور انور کمال پاشا

مسعودرانا کے ساتھی فنکاروں کے بارے میں یہ منفرد اور معلوماتی سلسلہ شروع کرتے وقت اندازہ نہیں تھا کہ اس قدر ہمہ گیر ہو گا اور مجھے پاکستان کی پوری فلمی تاریخ کو کھنگالنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں مسعودرانا کے ساتھی گلوکاروں ، موسیقاروں ، نغمہ نگاروں اور اداکاروں کے علاوہ ہدایتکاروں کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ آج کی نشست میں پچاس کے عشرہ کے ممتاز فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف انورکمال پاشا پر بات ہوگی جو پاکستان کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسعودرانا نے انورکمال پاشا کی صرف ایک فلم پروہنا (1966) میں نغمہ سرائی کی تھی اور گیت تھا "گجے پیار نہ رہندے نیں۔۔" یہ مسعودرانا کے عروج اور انورکمال پاشا کے زوال کا دور تھا جو متعدد بڑے بڑے ہدایتکاروں کے استاد تھے۔

Do Aansoo (1950)
پاکستان کی پہلی سلورجوبلی اردو فلم دو آنسو (1950)
انورکمال پاشا ، ڈبل ایم اے کرنے والے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری اہلکار تھے۔ انہوں نے فلمسازی کے شوق میں محکمہ ٹیکس میں اپنا عہدہ تک چھوڑ دیا تھا۔ ان کے والد گرامی حکیم احمدشجاع بھی ایک اعلیٰ منصب پر فائز ہونے کے علاوہ ایک بلند پایہ ادیب تھے جن کی متعدد کہانیوں پر فلمیں بن چکی تھیں۔ ان کے مشہور ناول "باپ کا گناہ" پر تقسیم سے قبل میڈم نورجہاں کی فلم بھائی جان (1945) بنائی گئی تھی۔ پاکستان میں اس ناول پر بنائی جانے والی شاہکار فلمیں ، دوآنسو (1950) ، دلاں دے سودے (1969) اور انجمن (1970) تھیں۔

Shahida (1949)
Gabhroo (1951)
Qatil (1955)
Sarfarosh (1956)
Chann Mahi (1956)
Laila Majnu (1957)
Anar Kali (1958)
Sazish (1963)
Safaid Khoon (1964)
SHadd Harram (1966)
انورکمال پاشا کی پہلی فلم شاہدہ (1949) تھی جو ریلیز کے اعتبار سے پاکستان کی دوسری فلم تھی۔ اس فلم میں وہ مکالمہ نگار اور معاون ہدایتکار کے طور پر سامنے آئے۔ فلم کی کہانی ان کے والد حکیم احمدشجاع کی لکھی ہوئی تھی۔ اس فلم کے ہدایتکار لقمان تھے جن کا دعویٰ تھا کہ تقسیم کے بعد بنائی جانے والی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی اور پہلا جو سین اور مکالمہ ریکارڈ ہوا تھا ، وہ انورکمال پاشا کا لکھا ہوا تھا "اللہ ، میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔۔" یہ مکالمہ اداکارہ شمیم بانو نے ادا کیا تھا جو آگے چل کر پاشا صاحب کی زوجیت میں آئی۔ اس فلم کے ہیرو ناصرخان تھے جو دلیپ کمار کے بھائی تھے۔ پاکستان میں یہ ان کی دوسری اور آخری فلم تھی ، پہلی فلم تیری یاد (1948) کے ہیرو بھی تھے۔ پاکستان میں اردو فلموں کے محدود سرکٹ کی وجہ سے یہ فلم اتنا بزنس نہیں کر سکی تھی لیکن بتایا جاتا ہے کہ دہلی اور لکھنو میں ایک کامیاب سلورجوبلی فلم تھی۔

اپنی پہلی فلم کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے انورکمال پاشا نے اپنے والد حکیم احمدشجاع کے ناول "باپ کا گناہ" پر فلم دوآنسو (1950) بنائی۔ وہ اس فلم میں مرتضیٰ جیلانی کے ساتھ شریک ہدایتکار تھے اور فلم کا منظرنامہ اور مکالمے بھی لکھے تھے۔ اس فلم میں روایتی جوڑی تو صبیحہ اور سنتوش کی تھی لیکن فلم کی کہانی شمیم بانو ، ہمالیہ والا اور شاہنواز کے گرد گھومتی تھی۔ اداکار سنتوش پر فلمایا جانے والا پہلا گیت "اس دل کو اپنا گھر سمجھو ، اپنے گھر میں آ جاؤ جی۔۔" کسی پیشہ ور گلوکار نے نہیں بلکہ اداکار علاؤالدین نے گایا تھا۔ اسی اردو فلم میں منورسلطانہ کا گایا ہوا ، حزیں قادری کا لکھا ہوا اور موسیقار مبارک علی خان کا کمپوز کیا ہوا ایک پنجابی گیت بھی شامل کیا گیا تھا "اک لیلیٰ تے مجنوں سارے ، کرماں مارے ، ہائے میں کی کراں۔۔" یہ پاکستان کی پہلی سلورجوبلی اردو فلم تھی یعنی مسلسل 25 ہفتے چلنے والی فلم تھی۔ پچاس کے عشرہ میں جو فلم سلورجوبلی ہوتی تھی ، وہ ستر کے عشرہ کی پلاٹینم جوبلی فلم سے بھی زیادہ کامیاب ہوتی تھی۔ اسی فلم میں پہلی بار پنجابی فلموں کے عظیم مصنف اور نغمہ نگار حزیں قادری اور معروف مزاحیہ اداکار آصف جاہ کو متعارف کروایا گیا تھا۔ ہدایتکاری کے شعبہ میں پاشا صاحب کے معاونین میں جعفر ملک ، آغا حسینی اور آصف جاہ کے نام ملتے ہیں۔

اسی سال انورکمال پاشا کی بطور مکمل ہدایتکار پہلی پنجابی فلم گبھرو (1950) ریلیز ہوئی جس کی روایتی جوڑی شمیم بانو اور سنتوش تھے۔ پاشا صاحب نے اس فلم میں پہلی بار بطور اداکار کام کیا۔ فلم کی کہانی ان کے والد حکیم احمدشجاع کے زورقلم کا نتیجہ تھی۔ بدقسمتی سے پنجابی فلموں کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں۔ اہل پنجاب کو لکھنے پڑھنے ، تاریخ اور ریکارڈز سے کبھی دلچسپی نہیں رہی جس کی بڑی وجہ ایک نفسیاتی خوف رہا ہے ، صدیوں سے بدیسی حملہ آوروں نے اس خطہ کو تخت و تاراج کیا جس نے شدید قسم کا احساس کمتری پیدا کیا اور یہاں ہمیشہ اغیار کو سرکار سمجھا گیا اور جو بتایا گیا ، اس پر سرتسلیم خم کرلیا گیا۔ البتہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پنجاب میں جو اہمیت پنجابی فلموں کو حاصل رہی ہے وہ اردو فلموں کو کبھی نہیں رہی۔ اس پر بڑی تفصیل سے ایک الگ مضمون ہوگا ، ان شاء اللہ۔۔!

1951ء میں انورکمال پاشا کی واحد فلم دلبر ریلیز ہوئی تھی جو پنجابی زبان میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف خود پاشا صاحب تھے اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس فلم میں ہیروئن شمیم بانو کے ساتھ ہیرو بھی انورکمال پاشا تھے۔ حسب معمول اس فلم کا بزنس ریکارڈ بھی دستیاب نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اگر کوئی پنجابی فلم لاہور میں ناکام بھی ہوجاتی تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایک ناکام فلم ہے کیونکہ پنجاب سرکٹ اتنا بڑا ہوتا تھا کہ وہاں ایک عام پنجابی فلم بھی اپنی لاگت پوری کر لیتی تھی۔

انورکمال پاشا کی اگلی فلم غلام (1953) تھی جس میں صبیحہ اور سنتوش مرکزی کرداروں میں تھے۔ یہ ایک اوسط درجہ کی فلم تھی۔ 1952ء تک بھارتی فلمیں آزادانہ طور پر ریلیز ہوتی تھیں لیکن پھر حکومت نے ایک درآمدی پالیسی بنائی جس کے تحت مقتدر حلقوں کے منظور نظر لائسنس یافتہ افراد ہی فلمیں درآمد کر سکتے تھے۔ اس کا فائدہ فلم انڈسٹری کے بجائے مخصوص اور من پسند افراد کو ہوا جنہوں نے ملک اور فلم انڈسٹری کے مجموعی مفادات پر اپنے ذاتی اور کاروباری مفادات کو ترجیح دی۔ خودکفالت کے بجائے ریڈی میڈ درآمدی فلموں کو ترجیح دی گئی جس سے پاکستان میں فلمسازی کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ بالآخر 1954ء میں فلم انڈسٹری کے احتجاج پر یہ پالیسی ختم کر دی گئی اور فلم کے بدلے فلم کی پالیسی اپنائی گئی جو 1965ء کی پاک بھارت جنگ تک جاری رہی تھی۔

1954ء میں انورکمال پاشا کے فلمی کیرئر کی ایک یادگار فلم گمنام ریلیز ہوئی جو سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم کی کہانی بھی ان کے والد صاحب کی لکھی ہوئی تھی جس میں ایک قاتل ، سزا کے خوف سے گمنام ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ سدھیر کی ٹائٹل رول میں پرفارمنس بڑی عمدہ تھی۔ صبیحہ نے اس فلم میں ایک پگلی کا رول کیا اور خوب کیا تھا۔ یہ پاشا صاحب کی پہلی فلم تھی جس کا ایک گیت "پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے ، تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے۔۔" سپرہٹ ہوا تھا۔ ماسٹر عنایت حسین کی دھن میں سیف الدین سیف کا لکھا ہوا یہ گیت اقبال بانو نے گایا اور کیا کمال کا گایا تھا۔ پچاس کے عشرہ کی معروف گلوکارہ کوثرپروین کی یہ پہلی فلم تھی۔

اسی سال انورکمال پاشا کی دوسری فلم رات کی بات (1954) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں ایک بار پھر صبیحہ اور سنتوش کی روایتی جوڑی تھی۔ یہ ایک ناکام ترین فلم تھی۔ اس سال بھارت کے ساتھ فلم کے بدلے فلم کا معاہدہ ہوا تھا جس سے بھارتی فلموں کی آزادنہ ریلیز ختم ہو گئی تھی جس سے پاکستان میں فلمسازی کے رحجان میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اب ہر بھارتی فلم منگوانے کے لئے ایک پاکستانی فلم کا ہونا ضروری تھا اور وہ اردو فلم ہی ہو سکتی تھی جو بھارت کے وسیع سرکٹ میں چل سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے دو عشروں میں اردو فلموں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی تھی حالانکہ پاکستان میں ان کا سرکٹ بڑا محدود ہوتا تھا۔ ریکارڈز کے مطابق پاکستان کے پہلے سات برسوں میں کل 47 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں کامیابی کا تناسب بہت کم تھا۔ ان فلموں میں سے صرف تین فلمیں ، پھیرے (1949) ، دو آنسو (1950) اور دوپٹہ (1952) ہی سلورجوبلی سپرہٹ ہوئی تھیں۔ بھارتی فلموں کی محدود درآمد کی وجہ سے پاکستانی فلموں کو سینما گھر ملنا شروع ہوئے تو فلم سسی (1954) پہلی فلم ثابت ہوئی کہ جس نے گولڈن جوبلی (یعنی پچاس ہفتے) چلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

1955ء میں پاکستانی فلموں کے عروج کا دور شروع ہوا اور اس وقت تک کی سب سے زیادہ یعنی 19 فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جن میں انورکمال پاشا کی دو فلمیں تھیں۔ فلم انتقام (1955) تو ناکام تھی لیکن فلم قاتل (1955) ایک یادگار فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس فلم کی روایتی جوڑی ایک بار پھر صبیحہ اور سنتوش کی تھی۔ اس فلم میں بھی ماسٹرعنایت حسین کی دھن میں قتیل شفائی کا یہ گیت گا کر اقبال بانو نے میلہ لوٹ لیا تھا "الفت کی نئی منزل کو چلا ، تو ڈال کے بانہیں بانہوں میں ، دل توڑنے والے دیکھ کے چل ، ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں۔۔" اس فلم میں پاشا صاحب نے تین بڑے فنکاروں کو متعارف کروایا تھا۔ مسرت نذیر اور اسلم پرویز تو اسی سال صف اول کے اداکار بن گئے تھے لیکن نیرسلطانہ کو خاصی جدوجہد کرنا پڑی تھی۔

Sarfarosh (1956)
انورکمال پاشا کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم سرفروش (1956)
1956ء کا سال انورکمال پاشا کے لئے ایک سنہری سال تھا جب ان کی دونوں فلمیں سرفروش اور چن ماہی (1956) سپرہٹ ہوئی تھیں۔ اردو فلموں میں سرفروش (1956) میں صبیحہ اور سنتوش کے ساتھ مینا شوری بھی تھی جس نے اس فلم کی سپرہٹ کامیابی کے بعد مستقل طور پر پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے اپنے ہندو شوہر ہدایتکار روپ کے شوری (پنجابی فلم چمن (1948) فیم) کو طلاق دی اور دوبارہ اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس فلم میں رشید عطرے کی موسیقی میں زبیدہ خانم کے گیتوں نے دھوم مچا دی تھی "اے چاند ، ان سے جا کر ، میرا سلام کہنا۔۔" ، "میرا نشانہ ، دیکھے زمانہ ، تیر پہ تیر چلاؤں ، بچ کے نہ کوئی جائے۔۔" اور "تیری الفت میں صنم میں دل نے بہت درد سہے اور ہم چپ ہی رہے۔۔" اس مشہورزمانہ فلم میں معروف ہدایتکار ایس سلیمان نے بھی پاشا صاحب کی شاگردی اختیار کی تھی۔

انورکمال پاشا کی بطور فلمساز اور ہدایتکار پنجابی فلم چن ماہی (1956) بھی ایک شاہکار فلم تھی۔ اس فلم میں اسلم پرویز کے ساتھ پہلی بار اداکارہ بہار کو متعارف کروایا گیا تھا۔ میں نے یہ فلم پہلی بار یہاں ساگا سینما کوپن ہیگن میں دیکھی تھی اور بابا عالم سیاہ پوش کے لکھے ہوئے مکالمے سن کر پرانی پنجابی فلموں سے بڑی گہری دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ اس فلم کی موسیقی بھی رشیدعطرے صاحب نے مرتب کی تھی اور زبیدہ خانم کے متعدد سپرہٹ گیت تھے جن میں "بندے چاندی دے سونے دی نتھ لے کے ، آجا ہو بیلیا۔۔" ، "نی چٹھیئے سجناں دیئے۔۔" ، "پھیر لیاں چن ماہی اکھیاں ، ڈب گئے آس دے تارے۔۔" اور "ساڈے انگ انگ چہ پیار نے پینگاں پائیاں نیں۔۔" وغیرہ۔ اسی سال کی پنجابی فلم دلابھٹی (1956) کے ہدایتکار معروف ہدایتکار اسلم ڈار کے والد ایم ایس ڈار تھے اور سپروائزر پاشا صاحب تھے۔ یہ پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم تھی جس کی کمائی سے لاہور کا جدید ترین فلمی نگارخانہ ایورنیو سٹوڈیو بنایا گیا تھا۔ اس فلم میں بابا چشتی کی موسیقی میں منورسلطانہ کے لافانی گیت "واسطہ ای رب دا تو جائیں وے کبوترا۔۔" نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کئے تھے۔

1957ء میں انورکمال پاشا کی اکلوتی فلم لیلیٰ مجنوں ریلیز ہوئی جو ایورنیو پکچرز کے لئے بنائی گئی ایک ناکام ترین فلم تھی۔ یہ فلم ایوریڈی پکچرز اور ہدایتکار منشی دل کی سپرہٹ نغماتی فلم عشق لیلیٰ (1957) کے مقابلے میں بنائی گئی تھی اور ایک ہی کہانی پر بنی ہوئی یہ دونوں فلمیں ایک ہی دن ریلیز ہوئی تھیں۔ صبیحہ اور سنتوش کی تجربہ کار جوڑی کا بہار اور اسلم پرویز کی ناتجربہ کار جوڑی سے کوئی جوڑ نہیں تھا۔ لطف کی بات یہ تھی کہ پاشاصاحب کی فلم کے موسیقار رشیدعطرے تھے لیکن ایک بھی مقبول عام گیت کمپوز نہ کر سکے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں ان کے شاگرد موسیقار صفدرحسین نے ڈیڑھ درجن میں سے بیشتر سپرہٹ گیت کمپوز کئے تھے۔ اسی سال پاشا صاحب نے بطور فلمساز اپنے شاگردوں ہدایتکار جعفرملک کے لئے فلم باپ کا گناہ (1957) اور ہدایتکار آغاحسینی کے لئے پنجابی فلم زلفاں (1957) پر سرمایہ کاری بھی کی تھی۔

1958ء میں انورکمال پاشا کی فلم انارکلی ، ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ واحد فلم تھی جس کی موسیقی بڑے اعلیٰ پائے کی تھی۔ "جلتے ہیں ارمان ، میرا دل جلتا ہے ، قسمت کا دستور نرالا ہوتا ہے۔۔" اور "کہاں تک سنو گے ، کہاں تک سناؤں ، ہزاروں ہی شکوے ہیں ، کیا کیا بتاؤں۔۔" وغیرہ امرسنگیت میں شامل ہیں۔رشید عطرے اور ماسٹرعنایت حسین کی موسیقی تھی اور گیت لکھنے والوں میں پاشاصاحب کے والد گرامی بھی شامل تھے۔ سید امتیاز علی تاج کی اس معروف کہانی کا مرکزی کردار خود میڈم نورجہاں نے کیا تھا۔ سدھیر ، شہزادہ سلیم جبکہ ہمالیہ والا ، شہنشاہ اکبر بنے تھے۔ شمیم آرا ، راگنی اور ظریف معاون اداکار تھے۔ اسی سال کی پنجابی فلم شیخ چلی (1958) کے ہدایتکار ان کے شاگرد آصف جاہ اور فلم سولہ آنے (1959) کے ہدایتکار آغاحسینی تھے اور سپروائزر پاشا صاحب تھے۔

انورکمال پاشا کی اگلی دو فلمیں گمراہ (1959) اور وطن (1960) ناکام فلمیں تھیں لیکن فلم محبوب (1962) ایک کامیاب نغماتی فلم تھی جو ایک بھارتی فلم کا چربہ تھی۔ اس فلم میں انہوں نے پہلی بار معروف اداکارہ رانی کو متعارف کروایا تھا۔ ملکہ ترنم نورجہاں کا گیت "نگاہیں ملا کر بدل جانے والے ، مجھے تجھ سے کوئی شکایت نہیں۔۔" اور مالا کا پہلا سپرہٹ گیت "سپنوں میں اڑی اڑی جاؤں۔۔" اس فلم کے مقبول ترین گیت تھے۔

ہر عروج کو ایک زوال ہے ، انورکمال پاشا کی بطور ہدایتکار اگلی تمام فلمیں ناکام ہوئیں جن میں سازش (1963) ، سفیدخون (1964) ، ہڈحرام (1965) ، پروہنا (1966) ، خاناں دے خان پروہنے (1974) اور بارڈربلٹ (1983) شامل ہیں۔ اس دوران وہ فلم عشق پر زور نہیں (1963) کے سپروائزر تھے جبکہ فلم پروہنا (1966) میں ایک اور معروف ہدایتکار الطاف حسین ان کے معاون تھے۔ پاشا صاحب نے بطور ہدایتکار کل 21 فلمیں بنائی تھیں۔ 14 فلمیں بطور فلمساز تھیں جن میں مندرجہ بالا فلموں کے علاوہ گل فروش (1961) ، سورج مکھی (1962) ، شیرخان (1981) اور میلہ (1986) تھیں۔ اس کے علاوہ بطور مصنف انہوں نے مندرجہ ذیل فلموں کی کہانیاں ، منظرنامے یا مکالمے لکھے تھے لخت جگر (1956) ، عشق پر زور نہیں (1963) ، شکاری (1964) اور سرحد کی گود میں (1973)

انورکمال پاشا کا انتقال 1987ء میں ہوا تھا۔ ان کے ایک بیٹے محمدکمال پاشا بھی ایک معروف کہانی نویس ہیں۔

مسعودرانا کے انور کمال پاشا کی 1 فلموں میں 1 گیت

(0 اردو گیت ... 1 پنجابی گیت )
1
فلم ... پروہنا ... پنجابی ... (1966) ... گلوکار: نذیر بیگم ، مسعود رانا ... موسیقی: سیف چغتائی ... شاعر: یوسف موج ... اداکار: شیریں ، ضیاء

Masood Rana & Anwar Kemal Pasha: Latest Online film

Masood Rana & Anwar Kemal Pasha: Film posters
Prohna
Masood Rana & Anwar Kemal Pasha:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)

Masood Rana & Anwar Kemal Pasha:

Total 1 joint films

(0 Urdu, 1 Punjabi films)

1.26-08-1966: Prohna
(Punjabi)


Masood Rana & Anwar Kemal Pasha: 1 songs in 1 films

(0 Urdu and 1 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Prohna
from Friday, 26 August 1966
Singer(s): Nazir Begum, Masood Rana, Music: Saif Chughtai, Poet: , Actor(s): Shirin, Zia


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔