Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


صفدر حسین

صفدرحسین ، پاکستان کی سب سے بڑی میوزیکل فلم عشق لیلیٰ (1957) کے موسیقار تھے۔ اس یادگار فلم میں کچھ کم نہیں ، 18 گیت ملتے ہیں جن میں سے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔۔!

موسیقار صفدر حسین
کو پاکستان کی سب سے بڑی نغماتی فلم
عشق لیلیٰ (1957) کے گیت
کمپوز کرنے کا اعزاز حاصل تھا عشق لیلیٰ (1957)
فلم عشق لیلیٰ (1957)

سدابہار نغماتی فلم عشق لیلیٰ (1957) ، مقابلے کی فضا میں بنائی جارہی تھی۔ اس کے فلمساز جے سی آنند جبکہ ہدایتکار اور مصنف منشی دل تھے۔ مرکزی کردار صبیحہ ، سنتوش اور علاؤالدین کے تھے۔ پاکستان میں اس موضوع پر بنائی گئی آدھ درجن فلموں میں سے یہ واحد سپرہٹ فلم تھی۔

دوسری طرف لاہور کے ایورنیو پکچرز کی فلم لیلیٰ مجنوں (1957) تھی جس کے فلمساز ، ہدایتکار اور مصنف انور کمال پاشا تھے جبکہ لیڈنگ رولز بہار ، اسلم پرویز اور علاؤالدین کے تھے۔ یہ ایک ڈیڈ فلاپ فلم تھی۔ یہ دونوں فلمیں ایک ہی دن یعنی 12 اپریل 1957ء کو ریلیز ہوئی تھیں۔

خطہ عرب کی ساتویں صدی کی اس عظیم کلاسک رومانوی داستان پر پاکستان میں اردو کے علاوہ پنجابی ، سندھی اور پشتو میں بھی فلمیں بنائی جا چکی ہیں۔ تقسیم سے قبل بھی اس موضوع پر ایک درجن کے قریب فلمیں بنائی گئی تھیں جن میں 1922ء میں پہلی خاموش جبکہ 1931ء میں پہلی بولتی فلم بھی تھی۔

استاد شاگرد کا مقابلہ

ان دونوں فلموں کے بارے میں دلچسپ بات یہ تھی کہ ناکام فلم لیلیٰ مجنوں (1957) کی موسیقی ، عظیم موسیقار رشیدعطرے نے ترتیب دی تھی۔ انھوں نے اس فلم کے گیت ناہیدنیازی اور منیر حسین سے گوائے تھے لیکن کوئی ایک گیت بھی مقبول نہ ہوسکا تھا حالانکہ شاعروں میں تنویرنقوی ، حکیم احمدشجاع اور طفیل ہوشیارپوری جیسے بڑے بڑے نام تھے۔

دوسری طرف کامیاب فلم عشق لیلیٰ (1957) کے موسیقار صفدرحسین ، رشیدعطرے کے بھانجے اور شاگرد تھے اور اس مقابلے بازی میں اپنے استاد اور ماموں کو چت کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ ایک سال پہلے بھی دو فلمیں مقابلے میں بنائی گئی تھیں۔ ان میں سے پہلی کامیاب فلم حمیدہ (1956) کے موسیقار صفدرحسین تھے اور ناکام فلم لخت جگر (1956) کے موسیقار بابا جی اے چشتی تھے لیکن اس فلم کے گیت زیادہ مقبول رہے تھے۔

فلم عشق لیلیٰ (1957) میں موسیقار صفدرحسین کے کمپوز کیے ہوئے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے جو اکیلے قتیل شفائی کے لکھے ہوئے تھے۔ پنجاب میں 'عوامی گلوکار' کہلانے والے پاکستان کے پہلے سپرسٹار گلوکار عنایت حسین بھٹی کے فلمی کیرئر کی یہ سب سے بڑی اردو فلم تھی جس میں ان کے گائے ہوئے بیشتر گیت مقبول عام ہوئے تھے۔

فلم عشق لیلیٰ (1957) کے گیت

  1. جگر چھلنی ہے دل گبھرا رہا ہے ، محبت کا جنازہ جا رہا ہے۔۔ (عنایت حسین بھٹی)
  2. نکل کر تیری محفل سے یہ دیوانے کہاں جائیں۔۔ (عنایت حسین بھٹی)
  3. لیلیٰ لیلیٰ پکاروں میں بن میں ، پیار لیلیٰ بسی میرے من میں۔۔ (عنایت حسین بھٹی)
  4. بتا اے آسماں والے ، میرے نالوں پہ کیا گزری۔۔ (عنایت حسین بھٹی ، زبیدہ خانم)
  5. ستارو ، تم تو سو جاؤ ، پریشان رات ساری ہے۔۔ (اقبال بانو)
  6. اک ہلکی ہلکی آہٹ ہے ، اک مہکا مہکا سایہ ہے۔۔ (اقبال بانو)
  7. چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے۔۔ (سلیم رضا ، زبیدہ خانم)
  8. اداس ہے دل ، نظر پریشان ، چلے بھی آؤ۔۔ (سلیم رضا)
  9. لیلیٰ او لیلیٰ ، دل و جان ما فدائے رُخِ تاباں۔۔ (زبیدہ خانم)
  10. اے بادِ صبا ، اے بادِ صبا ، اک درد بھرا پیغام لیے جا۔۔ (زبیدہ خانم)
  11. چاند سی اس کی جبیں ، کسے معلوم نہیں۔۔ (زبیدہ خانم)
  12. ہائے میری مجبور جوانی ، کس کو سناؤں غم کی کہانی۔۔ (زبیدہ خانم)
  13. دل سے دل ٹکرائے ، نظر شرمائے ، کمر بل کھائے۔۔ (زبیدہ خانم)
  14. سخی ، کچھ دے دے راہ خدا۔۔ (عنایت حسین بھٹی مع ساتھی)
  15. کون کہتا ہے کہ تیرا جہاں قائل نہیں۔۔ (عنایت حسین بھٹی مع ساتھی)

ان کے علاوہ اس فلم میں بھٹی صاحب کے گائے ہوئے تین اشعار بھی تھے۔ اس طرح اس فلم میں ان کے کل نو گیت تھے۔ پاکستان فلم میگزین کے فلمی گیتوں کے ڈیٹابیس میں ہر گلوکار کا گایا ہوا ہر گیت ، چاہے وہ صرف ایک شعر ، بول یا الاپ پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو ، اسے ایک مکمل گیت کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ البتہ اگر ایک ہی گیت فلم میں مختلف ٹکڑوں میں آتا تھا یا کئی بار آتا تھا تو ایسے گیت کو ایک ہی گیت شمار کیا گیا ہے ، چاہے وہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔

موسیقار صفدر حسین کا دھماکہ خیز آغاز

صفدرحسین کا آغاز بڑا ہی دھماکہ خیز ہوا تھا۔ ان کی بطور موسیقار پہلی فلم ہیر (1955) ، ایک بہت بڑی نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔ یہ فلم ، وارث شاہؒ کی لازوال داستان 'ہیررانجھا' پر بننے والی پہلی پاکستانی فلم تھی۔ فلمساز جے سی آنند اور ہدایتکار نذیر ، برصغیر کے ایک سینئر ہیرو ، فلمساز اور ہدایتکار تھے۔

تقسیم کے بعد پاکستان آمد کے بعد انھوں نے سب سے پہلے فلم 'ہیررانجھا' نام کی فلم بنانے کی کوشش کی تھی لیکن کسی حادثے میں اس کے نیگٹیو جل گئے تھے۔ اس فلم میں ان کی بیگم سورن لتا نے ہیر اور خود انھوں نے رانجھے کا رول کیا تھا۔

فلم ہیر (1955) کا ٹائٹل رول بھی سورن لتا کا تھا لیکن رانجھے کے کردار میں عنایت حسین بھٹی کو لیا گیا تھا جو اسی سال کی فلم جلن (1955) میں بطور ہیرو پہلی بار نظر آئے تھے۔ اس سے قبل وہ چند فلموں میں مہمان اداکار کے طور پر دیکھے گئے تھے لیکن ان کی اصل شہرت گلوکاری تھی۔ فلم ہیر (1955) میں پہلی بار عظیم اداکار اجمل نے کیدو کا رول کیا تھا اور سانپ کے منہ والا وہ مشہور عصا بھی استعمال کیا تھا جو بعد میں فلم ہیررانجھا (1970) میں بھی نظر آیا تھا۔

یہ پہلی پنجابی فلم تھی جس کی شوٹنگ کراچی کے ایسٹرن سٹوڈیوز میں بھی کی گئی تھی لیکن زیادہ تر حصہ لاہور کے ایورنیو سٹوڈیوز میں مکمل ہوا تھا۔ اس کامیاب نغماتی فلم کے کئی ایک گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں سے چند اس طرح سے ہیں:

فلم ہیر (1955) کے گیت

  1. اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے ، جھوٹھی موٹھی دا پا لیا ککھ وے۔۔ (زبیدہ خانم)
  2. ڈھول دلے دا جانی اجے نئیں آیا ، دے کے درد نشانی ، مڑ پھیرا نئیں پایا۔۔ (زبیدہ خانم)
  3. بدل نوں ہتھ لاواں ، میں اڈی اڈی جاواں ، ہوا دے نال۔۔ (منور سلطانہ)
  4. سانوں سجناں دے ملنے دی تانگ اے۔۔ (عنایت حسین بھٹی)
  5. ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں ، مینوں لے چلے بابلا۔۔ (عنایت حسین بھٹی)
  6. ذرا بیڑیاں نوں کر لے بند نی ، کھلا جگا پان والیے مینا۔۔ (عنایت حسین بھٹی)
  7. تیرے نال نال پکھی وانگوں ڈولدی پھراں۔۔ (منور سلطانہ)

صفدر حسین کی ایک اور نغماتی فلم نوراں (1957)

موسیقار صفدرحسین کے ابتدائی دور کی ایک اور بہت بڑی نغماتی اور رومانوی فلم نوراں (1957) بھی تھی۔ اس فلم کا ٹائٹل رول ملکہ ترنم نورجہاں نے کیا تھا۔ اس فلم میں انھیں انتہائی حسین و جمیل عکس بند کیا گیا تھا۔ فلم کے ہیرو پاکستان کے پہلے سپرسٹار سدھیر تھے جن پر پانچ گیت فلمائے گئے تھے جو ایک جنگجو ہیرو کہلانے والے آل راؤنڈ اداکار کے لیے ایک منفرد موقع تھا۔

اس فلم کی کہانی بھی 'ہیررانجھا' کی کہانی سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی جو حزیں قادری کا کمال تھا جنھوں نے سبھی گیت بھی اکیلے ہی لکھے تھے۔ اس فلم کے اصل ہدایتکار ایک ہندو 'بلو مہرہ' بتائے جاتے ہیں جبکہ فلمساز جے سی آنند تھے۔ میڈم نورجہاں اور منیر حسین کی مدھر آوازوں میں گائے ہوئے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں سے کچھ اس طرح سے تھے:

فلم نوراں (1957) کے گیت

  1. ویکھیا ہووے نی کسے تکیا ہووے۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں)
  2. کدی آ وے دلبرا ، واسطہ ای۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں)
  3. تیرے بول نیں تے میریاں نیں بلیاں۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں)
  4. پنچھی تے پردیسی ، پیار جدوں پاندے۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں ، منیر حسین)
  5. اک بیڑی وچ دو سوار ، ای پردیسی اک مٹیار۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں ، منیر حسین)
  6. اک چیز گواچی دل کولوں ، جنوں نین نمانے لبھدے نیں۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں ، منیر حسین)

صفدر حسین اور مسعودرانا کا ساتھ

اعدادوشمار کے مطابق صفدرحسین نے سب سے زیادہ مردانہ گیت عنایت حسین بھٹی ، منیر حسین اور سلیم رضا سے گوائے تھے لیکن فلم جناب عالی (1968) کے بعد ان کے سب سے زیادہ مردانہ گیت مسعودرانا گاتے تھے۔ فلمساز ، ہدایتکار اور اداکار دلجیت مرزا کی اس فلم میں صفدرحسین نے مسعودرانا سے پانچ گیت گوائے تھے۔ فلم کا سب سے مشہور گیت ایک بڑا ذومعنی گیت تھا:

  • چن چڑھیا عجیب ، دل ہاریا غریب ، تساں پیار دی اگ کاہنوں باءلی ، جناب عالی۔۔؟!؟

بظاہر یہ عجیب و غریب اوٹ پٹانگ اور بے ربط جملوں پر مشتمل ایک مزاحیہ گیت تھا جس کا فلم کی کہانی یا کرداروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن یہ ایک اشارتی گیت تھا جو اصل میں 1968ء میں جنرل ایوب خان کے نام نہاد 'دس سالہ جشن ترقی' پر ایک لطیف طنز تھی۔ "جناب عالی۔۔" کی تکرار اور اس گیت کے ایک ایک بول پر میں بڑا تفصیلی تبصرہ لکھ سکتا ہوں جو حالات حاضرہ کی عکاسی بھی کرتا ہے ، لیکن مضمون بہت طویل ہو جائے گا۔ اس فلم میں مسعودرانا کا گایا ہوا ایک اور خوبصورت گیت میرا پسندیدہ گیت تھا:

  • ایویں تھاں تھاں دل نئیں ہاری دا ، بی با ، انھیاں دا حق نئیں ماری دا۔۔

یہ گیت اداکار دلجیت مرزا پر فلمایا گیا تھا۔ اس گیت کو ولن سلطان راہی کے لیے گاتے ہیں جو ان کی معشوقہ فریدہ کو چھیننے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

اس فلم کا جو پوسٹر ساتھ دیا گیا ہے ، وہ اوریجنل نہیں ہے کیونکہ اس وقت تک سلطان راہی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی کجا انھیں فلم کے پوسٹر پر پیش کیا جائے۔ بعد میں فلمسازوں کو یہ نسخہ ہاتھ آیا تھا کہ پرانی فلموں کے پوسٹروں پر وقت کے مقبول ترین اداکاروں مثلاً سلطان راہی اور منورظریف کی تصاویر بنا کر لوگوں کو فلمیں دیکھنے پر راغب کیا جائے ، چاہے ایسی فلموں میں ان کے چھوٹے موٹے اور غیر اہم رول ہی کیوں نہ ہوں۔

فلم جناب عالی (1968) میں موسیقار صفدرحسین نے مسعودرانا اور احمدرشدی سے دو مزاحیہ گیت بھی گوائے تھے

  • ربا ، بھیج گڈ روٹیاں دی ، چھناں دال دا ، کوئی نئیں تیرے نال دا۔۔
  • آگئے ماں دے جنٹرمین ، گھر آئیاں نوں چھتر پہن۔۔

یہ دونوں گیت علاؤالدین اور دلجیت مرزا پر فلمائے گئے تھے جبکہ ایک گیت کا آخری انترہ ایک 'بلو' نامی گھوڑے پر بھی فلمایا گیا تھا جو مسعودرانا کی اونچی سروں میں ہوتا ہے۔

فلم دوباغی (1971) میں بھی مسعودرانا کا ایک گیت گلاب کے ایک پھول پر فلمایا جاتا ہے جبکہ احمدرشدی کا ایک گیت فلم انسان اور گدھا (1973) میں ایک گدھے پر فلمایا جاتا ہے جو آگے چل کر انسان یا رنگیلا بن جاتا ہے۔

مزاحیہ فلمی گیتوں کا حسن

ان مزاحیہ گیتوں میں زندگی کے بہت سے حقائق بیان کیے جاتے تھے۔ فلمی گیتوں پر تحقیق کرتے ہوئے ایسے گیتوں کو بڑے غور سے سنتا تھا۔ ان گیتوں میں جہاں اس دور کے حالات سے آگاہی ہوتی تھی ، وہاں مختلف فنکاروں کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ لگانا بھی آسان ہو جاتا تھا۔

احمدرشدی ، بلاشبہ مزاحیہ گیتوں کے ایکسپرٹ گلوکار تھے۔ ایسے گیتوں میں مختلف النوع آوازیں جو نکالتے تھے ، وہ مسعودرانا سمیت کسی اور گلوکار کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی۔

دوسری طرف اونچی سروں کی گائیکی میں جو کمال مسعودرانا کو حاصل تھا ، اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ احمدرشدی ، اردو فلموں کے مقبول ترین گلوکار تھے لیکن پنجابی فلموں میں صرف مزاحیہ گیتوں تک محدود ہوتے تھے۔ مسعودرانا کو پنجابی فلموں میں زیادہ پسند کیا جاتا تھا لیکن اونچی سروں میں گائے گئے مشکل ترین گیت اور خصوصاً ٹائٹل اور تھیم سانگز کے لیے اردو فلموں میں بھی ان کا دور دور تک کوئی ثانی نہیں ہوتا تھا۔

ان دونوں عظیم گلوکاروں نے تین درجن کے قریب مشترکہ گیت گائے تھے جو پاکستانی فلمی تاریخ میں مردانہ دوگانوں کا ایک ریکارڈ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مزاحیہ گیت ہوتے تھے۔ گویا مسعودرانا ، واحد آل راؤنڈ گلوکار ہوتے تھے جو احمدرشدی کی فیلڈ میں جا کر گاتے تھے لیکن رشدی صاحب ایسا نہیں کر پاتے تھے کیونکہ اونچی سروں میں مشکل گیت گانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی تھی۔

موسیقار صفدر حسین کی ایک اور نغماتی فلم

موسیقار صفدرحسین کے فلمی کیرئر کی ایک اور بہت بڑی میوزیکل فلم ہدایتکار دلجیت مرزا کی پنجابی فلم ٹھاہ (1972) تھی جس کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ اس فلم میں سدھیر کے ساتھ روزینہ کی جوڑی تھی جس کے ساتھ فلم کے ولن سلطان راہی کا ایک بولڈ سین فلم کی جان تھا۔ شاہد کے علاوہ ایک اور خوبرو لیکن ناکام ہیرو جمال بھی تھے جن کی جوڑی غزالہ کے ساتھ تھی۔

اس فلم کا ایک گیت

  • ظالماں دے ظلم دی اخیر ہونی ٹھاہ۔۔

بڑا مشہور ہوا تھا کیونکہ یہ گیت خاص طور پر اس وقت جناب ذوالفقارعلی بھٹوؒ کی عوامی حکومت کے لیے ایک پروپیگنڈہ گیت ثابت ہوا تھا جو مفاد پرست اور عوام دشمن ، سرمایہ دار طبقات کے خلاف گایا گیا تھا۔ اس فلم میں وارث لدھیانوی کے لکھے ہوئے سبھی گیت بڑے مقبول ہوئے تھے جو مندرجہ ذیل ہیں:

فلم ٹھاہ (1972) کے گیت

  1. تیرے ملنے نوں آئی کنے چاہ کر کے ، آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں)
  2. اساں کی کی بھیس وٹائے ، یار تیرے ملنے نوں۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں)
  3. تک سجناں ، ڈورا میری اکھ دا ، لشکے وے لونگ میرے نک دا۔۔ (ملکہ ترنم نورجہاں)
  4. پہلی واری اج انہاں اکھیاں نیں تکیا ، ایخو جیا تکیا کہ ہائے مار سٹیا۔۔ (غلام علی)
  5. وچھوڑا برا سجناں دا۔۔ (منیر حسین ، فتح علی خان ، سائیں اختر)
  6. چڑھدی جوانی دیاں راتاں توبہ توبہ۔۔ (مالا)
  7. ظالماں دے ظلم دی اخیر ہونی ، ٹھاہ۔۔! (شوکت علی ، افشاں)

فلم ٹھاہ (1972) میں غزل کے عظیم گلوکار غلام علی صاحب نے اپنا پہلا سپرہٹ فلمی گیت

  • پہلی واری اج انہاں اکھیاں نیں تکیا۔۔

گایا۔ اس گیت کے بارے میں میرے ذاتی تجربات وارث لدھیانوی کے مضمون میں بیان کیے گئے ہیں۔

موسیقار صفدرحسین نے فلم خوفناک (1976) میں مسعودرانا سے ایک لاجواب گیت گوایا تھا:

  • سُراں نال پیار کری جا تے اکھیاں چار کری جا ، زمانہ جو وی آکھے ، میرا اعتبار کری جا۔۔

یہ گیت ، گائیکی کا کمال تھا اور مسعودرانا کی انفرادیت کا ایک بڑا ثبوت بھی تھا۔ اس گیت کو سن کر پہلی بار علم ہوا تھا کہ راگ ملہار ، راگ درباری اور راگ دیپک کیسے گائے جاتے ہیں۔

اس گیت کو اگر فلم میں دیکھیں تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے کیونکہ اس پر جو ایکٹنگ منورظریف نے کی تھی ، وہ انھیں کا خاصا تھا۔ اس گیت میں ان کے ساتھ امروزیہ تھی جبکہ اسی فلم میں پنجابی فلموں کی صف اول کی ہیروئن انجمن کو پہلی بار ایک ایکسٹرا رول میں دکھایا گیا تھا۔

خطرناک ، خبردار اور خوفناک

دلچسپ بات یہ ہے کہ صفدرحسین نے خوفناک (1976) اور خبردار (1974) کے علاوہ فلم خطرناک (1974) کی موسیقی بھی دی تھی۔ یہ پہلی پنجابی فلم تھی جس نے کراچی میں سو ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

صفدرحسین نے فلم وحشی جٹ (1975) کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی جس نے جہاں پنجابی فلموں کا ٹرینڈ بدل دیا تھا وہاں پنجابی فلموں سے مردانہ گیتوں کا بوریا بستر بھی گول کر دیا تھا۔

فلم واردات (1976) میں صفدرحسین نے مسعودرانا اور مالا سے ایک شریر قسم کا گیت گوایا تھا

  • شہروں باہر اجاڑ سڑک تے ، نیندر سانوں آجاوے ، اسیں کی کراں گے۔۔

فلم غنڈہ (1978) میں مسعودرانا اور ناہیداختر کے گائے ہوئے الگ الگ گیت

  • ہور سناؤ سجنو ، کی حال چال اے۔۔

سپرہٹ ہوئے تھے۔

فلم وڈاخان (1983) میں مسعودرانا اور افشاں کا یہ گیت بھی کیا کمال کا تھا

  • لوکو ، بہتی سوہنی کڑی وی عجیب ہوندی اے۔۔

فلم دوقیدی (1986) میں موسیقار صفدرحسین نے مسعودرانا اور افشاں سے میاں محمدبخشؒ کا لافانی کلام سیف الملوک

  • رحمت دا مینہ پا خدایا ، باغ سکا کر ہریا۔۔

ایک نئی دھن میں گوایا تھا۔ آخری فلم میری آواز (1987) میں بھی انھوں نے مسعودرانا سے یہ اردو غزل گوائی تھی

  • پیار کے رنگ سے دنیا کو سجاؤ یارو۔۔

باپ بیٹے کے لیے مسعودرانا کے گیت

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ صفدرحسین کے بیٹے عباس صفدر نے بھی ایک فلم رقعہ (1993) کی موسیقی ترتیب دی تھی جس میں انھوں نے بھی مسعودرانا سے ایک گیت گوایا تھا

  • اکھاں اکھاں چہ کہانی اج پے گئی اے۔۔

یہ گیت فلم میں دلاور نامی ہیرو پر فلمایا گیا تھا جس کی یہ اکلوتی فلم تھی اور وہ فلمساز ، ہدایتکار اور اداکار دلجیت مرزا کا بیٹا تھا جو جوانی ہی میں فوت ہوگیا تھا۔

موسیقار صفدر حسین کے مقبول عام گیت

موسیقار صفدرحسین نے کل 76 فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی جن میں سے 33 اردو اور 42 پنجابی فلمیں تھیں۔ ان کا انتقال 1989ء میں ہوگیا تھا۔

مسعودرانا اور صفدر حسین کے 14 فلموں میں 21 گیت

2 اردو گیت ... 19 پنجابی گیت
1

چن چڑھیا عجیب ، دل ہاریا غریب ، تساں پیار دی اگ کاہنوں بالی..

فلم ... جناب عالی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: علاؤالدین
2

ایویں تھاں تھاں دل نیئں ہاری دا ، بی با ، انیہاں دا حق نیئں ماری دا..

فلم ... جناب عالی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: دلجیت مرزا
3

ربا ، بھیج گڈھ روٹیاں دی ، چھناں دال دا ، کوئی نئیں تیرے نال دا..

فلم ... جناب عالی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: علاؤالدین ، ​​دلجیت مرزا
4

آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن..

فلم ... جناب عالی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا ، احمد رشدی ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: علاؤالدین ، ​​دلجیت مرزا ، زلفی ، بالو (گھوڑا)
5

جناب عالی..

فلم ... جناب عالی ... پنجابی ... (1968) ... گلوکار: مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: ( پس پردہ ، ٹائٹل سانگ)
6

سُراں نال پیار کری جا تے اکھیاں چار کری جا..

فلم ... خوفناک ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: منور ظریف
7

مندا ہوندا یتیماں دا حال ، شالا مرن نہ ماواں..

فلم ... یار دا سہرا ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: (پس پردہ ، صبیحہ)
8

شہروں باہر اجاڑ سڑک تے ، رات جے سانوں پے جاوے..

فلم ... واردات ... پنجابی ... (1976) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: قتیل شفائی ... اداکار: شاہد ، سنگیتا
9

ہائے نی جند میرئے..

فلم ... آخری میدان ... پنجابی ... (1977) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟
10

تیرے جہے ویراں تے سدا مان روے گا ، بہناں دا سوہا جوڑا تیری آن روے گا..

فلم ... سوہا جوڑا ... پنجابی ... (1977) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: (پس پردہ ، تھیم سانگ )
11

اج ساری رات شراب پیاں گے..

فلم ... میرے بادشاہ ... پنجابی ... (1977) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟
12

ہور سناؤ سجنو ، کی حال چال اے ، ہس کے ویکھو ، بس اینا ای سوال اے..

فلم ... غنڈہ ... پنجابی ... (1978) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: سلطان راہی
13

لوکو بہتی سوہنی کڑی وی عجیب ہوندی اے ، پیار کردے نیں سارے ، ہائے مردے نیں سارے..

فلم ... وڈا خان ... پنجابی ... (1983) ... گلوکار: مسعودرانا ، افشاں ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: ؟ ... اداکار: سلطان راہی ، مزلہ
14

بن گھنگھرو یار ، میرے پیراں دے نال..

فلم ... دو قیدی ... پنجابی ... (1986) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: ؟ ... اداکار: مصطفی قریشی
15

رحمت دا مہینہ پا خدایا ، باغ سکا کر ہریا ، بوٹا آس امید میری دا ، کر دے میوے بھریا..

فلم ... دو قیدی ... پنجابی ... (1986) ... گلوکار: مسعود رانا ، افشاں ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: میاں محمد بخش ... اداکار: سلطان راہی ، انجمن
16

پیار کے رنگ سے دنیا کو سجاؤ یارو ، نیند میں ڈوبے ہوئے ذہن جگاؤ یارو..

فلم ... میری آواز ... اردو ... (1987) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: سعید گیلانی ... اداکار: اسماعیل شاہ
17

دیکھو جی دیکھو ، کس سے پیار نہ کرنا..

فلم ... انوکھا ملاپ ... اردو ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: آئرن پروین ، مسعود رانا ، گل رعنا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: تنویر نقوی ... اداکار: ؟
18

نی لے ہن پے گیا ای پھڈا..

فلم ... پھڈے پاز ... پنجابی ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعودرانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟
19

پتہ ہوندا جے تیرا..

فلم ... پھڈے پاز ... پنجابی ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعودرانا ، افشاں ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟
20

چھڈ نخرے تے من لے سوال ، پا لے پیار ڈرائیور نال..

فلم ... لاری اڈا ... پنجابی ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟
21

چپ دیے موڑ تے..

فلم ... لاری اڈا ... پنجابی ... (غیر ریلیز شدہ) ... گلوکار: مسعود رانا ، مسرت سمیع ... موسیقی: صفدر حسین ... شاعر: وارث لدھیانوی ... اداکار: ؟

مسعودرانا اور صفدر حسین کے 2 اردو گیت

1

پیار کے رنگ سے دنیا کو سجاؤ یارو ، نیند میں ڈوبے ہوئے ذہن جگاؤ یارو ...

(فلم ... میری آواز ... 1987)
2

دیکھو جی دیکھو ، کس سے پیار نہ کرنا ...

(فلم ... انوکھا ملاپ ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور صفدر حسین کے 19 پنجابی گیت

1

چن چڑھیا عجیب ، دل ہاریا غریب ، تساں پیار دی اگ کاہنوں بالی ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
2

جناب عالی ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
3

ایویں تھاں تھاں دل نیئں ہاری دا ، بی با ، انیہاں دا حق نیئں ماری دا ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
4

آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
5

ربا ، بھیج گڈھ روٹیاں دی ، چھناں دال دا ، کوئی نئیں تیرے نال دا ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
6

سُراں نال پیار کری جا تے اکھیاں چار کری جا ...

(فلم ... خوفناک ... 1976)
7

مندا ہوندا یتیماں دا حال ، شالا مرن نہ ماواں ...

(فلم ... یار دا سہرا ... 1976)
8

شہروں باہر اجاڑ سڑک تے ، رات جے سانوں پے جاوے ...

(فلم ... واردات ... 1976)
9

ہائے نی جند میرئے ...

(فلم ... آخری میدان ... 1977)
10

تیرے جہے ویراں تے سدا مان روے گا ، بہناں دا سوہا جوڑا تیری آن روے گا ...

(فلم ... سوہا جوڑا ... 1977)
11

اج ساری رات شراب پیاں گے ...

(فلم ... میرے بادشاہ ... 1977)
12

ہور سناؤ سجنو ، کی حال چال اے ، ہس کے ویکھو ، بس اینا ای سوال اے ...

(فلم ... غنڈہ ... 1978)
13

لوکو بہتی سوہنی کڑی وی عجیب ہوندی اے ، پیار کردے نیں سارے ، ہائے مردے نیں سارے ...

(فلم ... وڈا خان ... 1983)
14

بن گھنگھرو یار ، میرے پیراں دے نال ...

(فلم ... دو قیدی ... 1986)
15

رحمت دا مہینہ پا خدایا ، باغ سکا کر ہریا ، بوٹا آس امید میری دا ، کر دے میوے بھریا ...

(فلم ... دو قیدی ... 1986)
16

پتہ ہوندا جے تیرا ...

(فلم ... پھڈے پاز ... غیر ریلیز شدہ)
17

چھڈ نخرے تے من لے سوال ، پا لے پیار ڈرائیور نال ...

(فلم ... لاری اڈا ... غیر ریلیز شدہ)
18

چپ دیے موڑ تے ...

(فلم ... لاری اڈا ... غیر ریلیز شدہ)
19

نی لے ہن پے گیا ای پھڈا ...

(فلم ... پھڈے پاز ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور صفدر حسین کے 13سولو گیت

1

چن چڑھیا عجیب ، دل ہاریا غریب ، تساں پیار دی اگ کاہنوں بالی ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
2

جناب عالی ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
3

ایویں تھاں تھاں دل نیئں ہاری دا ، بی با ، انیہاں دا حق نیئں ماری دا ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
4

سُراں نال پیار کری جا تے اکھیاں چار کری جا ...

(فلم ... خوفناک ... 1976)
5

مندا ہوندا یتیماں دا حال ، شالا مرن نہ ماواں ...

(فلم ... یار دا سہرا ... 1976)
6

ہائے نی جند میرئے ...

(فلم ... آخری میدان ... 1977)
7

تیرے جہے ویراں تے سدا مان روے گا ، بہناں دا سوہا جوڑا تیری آن روے گا ...

(فلم ... سوہا جوڑا ... 1977)
8

اج ساری رات شراب پیاں گے ...

(فلم ... میرے بادشاہ ... 1977)
9

ہور سناؤ سجنو ، کی حال چال اے ، ہس کے ویکھو ، بس اینا ای سوال اے ...

(فلم ... غنڈہ ... 1978)
10

بن گھنگھرو یار ، میرے پیراں دے نال ...

(فلم ... دو قیدی ... 1986)
11

پیار کے رنگ سے دنیا کو سجاؤ یارو ، نیند میں ڈوبے ہوئے ذہن جگاؤ یارو ...

(فلم ... میری آواز ... 1987)
12

چھڈ نخرے تے من لے سوال ، پا لے پیار ڈرائیور نال ...

(فلم ... لاری اڈا ... غیر ریلیز شدہ)
13

نی لے ہن پے گیا ای پھڈا ...

(فلم ... پھڈے پاز ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور صفدر حسین کے 7دو گانے

1

آ گئے ماں دے جنٹر مین ، گھر آیاں نوں چھتر پہن ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
2

ربا ، بھیج گڈھ روٹیاں دی ، چھناں دال دا ، کوئی نئیں تیرے نال دا ...

(فلم ... جناب عالی ... 1968)
3

شہروں باہر اجاڑ سڑک تے ، رات جے سانوں پے جاوے ...

(فلم ... واردات ... 1976)
4

لوکو بہتی سوہنی کڑی وی عجیب ہوندی اے ، پیار کردے نیں سارے ، ہائے مردے نیں سارے ...

(فلم ... وڈا خان ... 1983)
5

رحمت دا مہینہ پا خدایا ، باغ سکا کر ہریا ، بوٹا آس امید میری دا ، کر دے میوے بھریا ...

(فلم ... دو قیدی ... 1986)
6

پتہ ہوندا جے تیرا ...

(فلم ... پھڈے پاز ... غیر ریلیز شدہ)
7

چپ دیے موڑ تے ...

(فلم ... لاری اڈا ... غیر ریلیز شدہ)

مسعودرانا اور صفدر حسین کے 2کورس گیت

1جناب عالی ... (فلم ... جناب عالی ... 1968)
2دیکھو جی دیکھو ، کس سے پیار نہ کرنا ... (فلم ... انوکھا ملاپ ... غیر ریلیز شدہ)

Masood Rana & Safdar Hussain: Latest Online film

Meri Awaz

(Urdu - Color - Friday, 23 October 1987)


Masood Rana & Safdar Hussain: Film posters
Janab-e-AaliKhoufnakYaar Da SehraWardatAakhri MedanGhunda2 QaidiPhaddebaz
Masood Rana & Safdar Hussain:

3 joint Online films

(1 Urdu and 2 Punjabi films)

1.1976: Khoufnak
(Punjabi)
2.1983: Wadda Khan
(Punjabi)
3.1987: Meri Awaz
(Urdu)
Masood Rana & Safdar Hussain:

Total 14 joint films

(2 Urdu, 12 Punjabi films)

1.1968: Janab-e-Aali
(Punjabi)
2.1976: Khoufnak
(Punjabi)
3.1976: Yaar Da Sehra
(Punjabi)
4.1976: Wardat
(Punjabi)
5.1977: Aakhri Medan
(Punjabi)
6.1977: Suha Jora
(Punjabi)
7.1977: Meray Badshah
(Punjabi)
8.1978: Ghunda
(Punjabi)
9.1983: Wadda Khan
(Punjabi)
10.1986: 2 Qaidi
(Punjabi)
11.1987: Meri Awaz
(Urdu)
12.Unreleased: Phaddebaz
(Punjabi)
13.Unreleased: Lari Adda
(Punjabi)
14.Unreleased: Anokha Millap
(Urdu)


Masood Rana & Safdar Hussain: 21 songs in 14 films

(2 Urdu and 19 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Janab-e-Aali
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Allauddin, Diljeet Mirza, Zulfi, Billu (Horse)
2.
Punjabi film
Janab-e-Aali
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Ahmad Rushdi, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Allauddin, Diljeet Mirza
3.
Punjabi film
Janab-e-Aali
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Allauddin
4.
Punjabi film
Janab-e-Aali
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Diljeet Mirza
5.
Punjabi film
Janab-e-Aali
from Friday, 1 March 1968
Singer(s): Masood Rana & Co., Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): (title song)
6.
Punjabi film
Khoufnak
from Friday, 30 January 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Munawar Zarif
7.
Punjabi film
Yaar Da Sehra
from Friday, 13 February 1976
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): (Playback - Sabiha)
8.
Punjabi film
Wardat
from Friday, 4 June 1976
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Shahid, Sangeeta
9.
Punjabi film
Aakhri Medan
from Friday, 25 March 1977
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?
10.
Punjabi film
Suha Jora
from Friday, 4 November 1977
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?
11.
Punjabi film
Meray Badshah
from Friday, 2 December 1977
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?
12.
Punjabi film
Ghunda
from Friday, 10 March 1978
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Sultan Rahi
13.
Punjabi film
Wadda Khan
from Friday, 18 November 1983
Singer(s): Masood Rana, Afshan, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Sultan Rahi, Mizla
14.
Punjabi film
2 Qaidi
from Friday, 28 March 1986
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Mustafa Qureshi
15.
Punjabi film
2 Qaidi
from Friday, 28 March 1986
Singer(s): Masood Rana, Afshan, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Sultan Rahi
16.
Urdu film
Meri Awaz
from Friday, 23 October 1987
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): Ismael Shah
17.
Urdu film
Anokha Millap
from Unreleased
Singer(s): Irene Parveen, Masood Rana, Gul Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?
18.
Punjabi film
Lari Adda
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?
19.
Punjabi film
Lari Adda
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Musarrat Sami, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?
20.
Punjabi film
Phaddebaz
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Afshan, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?
21.
Punjabi film
Phaddebaz
from Unreleased
Singer(s): Masood Rana, Music: Safdar Hussain, Poet: , Actor(s): ?

Mousiqar
Mousiqar
(1962)
Jism
Jism
(2006)
Bahu Rani
Bahu Rani
(1969)



پاکستان فلم میگزین ، سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جس پر ہزاروں پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور گیتوں کی معلومات ، واقعات اور اعدادوشمار دستیاب ہیں۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل جاری و ساری ہے۔

مسعود رانا پر ایک معلومات ویب سائٹ

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کے گیتوں کی تلاش و جستجو میں یہ سب تگ و دو کی جو گزشتہ دو دھائیوں سے پاکستانی فلمی معلومات کا سب سے بڑا آن لائن منبع ثابت ہوئی۔

2020ء سے مسعود رانا کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں اور ساڑھے چھ سو فلموں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ دیگر پاکستانی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔

یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.