Menu of Pakistan Film Magazine
Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا


عمرشریف

کراچی سٹیج کے بے تاج بادشاہ ، عمرشریف ، پاکستان کی شوبز کی تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ بن گئے۔۔!

2 اکتوبر 2021ء کو جرمنی میں انتقال کر جانے والے پاکستان کے ہردلعزیز مزاحیہ اداکار عمرشریف کی سرکاری دستاویزات کے مطابق تاریخ پیدائش 2 جنوری 1960ء تھی۔

​کراچی کے علاقے 'رام سوامی' میں 'محمدعمر' کے نام سے پیداہوئے اور صرف چار سال کی عمر میں یتیم ہوگئے تھے۔

مزاج میں مزاح کی عادت پیدائشی تھی اور ہر کسی کی نقل اتارنا من پسند مشغلہ تھا۔ بچپن ہی سے بذلہ سنجی، جملے بازی اورطنزومزاح کی عادت پختہ ہو گئی تھی۔ چھ سال کی عمرمیں کیا ہوا اپنا پہلا مزاح انھیں یاد تھا۔

محمد عمر سے عمرشریف

فلم بینی کے جنونی شوق میں ایک مصری اداکار عمرشریف کی ایک برطانوی فلم لارنس آف عریبیا (1962) دیکھی تو اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنا نام ، 'محمدعمر' سے عمرشریف رکھ لیا تھا۔

پہلا سٹیج ڈرامہ

عمرشریف نے پہلا سٹیج ڈرامہ صرف چودہ سال کی عمر میں کیا تھا۔ سولجربازار کراچی کے آدم جی ہال میں جاری سٹیج ڈرامے کے ایک اداکارکی اچانک غیرحاضری کی وجہ سے ایک جوتشی کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تھا ۔ پہلی ہی پرفارمنس پر پانچ ہزار روپیہ ، ایک موٹرسائیکل اور سال بھر کا مفت پٹرول بھی ملا تھا جو اس وقت کا بہت بڑا انعام تھا۔

عمرشریف کے آئیڈیل ، منورظریف

عمرشریف ، بچپن ہی سے کامیڈی میں برصغیر کے بےمثل مزاحیہ اداکار منورظریف سے بے حد متاثر تھے۔ باقی دنیا ، عمرشریف کی دیوانی تھی لیکن عمرشریف ، منورظریف کے دیوانے تھے اور انھیں اپنا روحانی استاد مانتے تھے۔ ان کی فلمی اداکاری پر منورظریف کی گہری چھاپ بھی تھی۔ پہلی بار جب لاہور گئے تو داتا دربار پر حاضری کے بعد سیدھے منورظریف مرحوم کے گھر پہنچ گئے تھے اور فرط جذبات سے ان کے کمرے کی دیوار کو چوم لیا تھا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں تو وہ منورظریف کے ذکر پر رو بھی پڑے تھے۔​ ​

کنگ آف کامیڈی

عمرشریف نے 1974ء میں کراچی کے سٹیج ڈراموں سے فنی کیرئر کا آغاز کیا تھا لیکن بریک تھرو کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی تھی۔

1989ء میں 'بڈھا گھر پہ ہے' اور 'بکرا قسطوں پر' جیسے شاہکار اور مقبول عام ڈراموں نے انھیں کراچی سٹیج کا بے تاج بادشاہ یا 'کنگ آف کامیڈی' بنا دیا تھا۔

ان کے بیشتر ڈرامے 'ون مین شو' ہوتے تھے جن میں ہرطرف عمرشریف ہی عمرشریف ہوتا تھا۔ وہ اداکاری سے زیادہ لطیفہ گوئی ،جگت بازی اور طنزومزاح کیا کرتے تھے۔

ریڈیو اور ٹی وی کی بے اعتنائی

ستر سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے ہدایتکار اور اداکار بھی ہوتے تھے۔ ٹی وی کے ایک مزاحیہ سلسلے 'ففٹی ففٹی' میں بھی کام کیا لیکن ریڈیو اور ٹی وی جیسے سرکاری اداروں کی بے اعتنائی کا بے حد رنج اور شکوہ رہا۔ ان کا ایک قول تھا کہ سینئر اور سانپ میں سے سینئر کو ماردو اور سانپ کو چھوڑدو۔

وہ ، ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے تھے جب آئیڈیو کے بعد ویڈیو کیسٹوں کا دور دورہ تھا۔ 'بنے گا نیا پاکستان۔" اور " اچھے دن آئے ہیں۔۔" جیسے بدنام زمانہ اور مضحکہ خیز گیت گانے والے لوک گلوکار عطااللہ عیسیٰ خیلوی کی طرح عمرشریف نے بھی انھی کیسٹوں سے بھرپور فائدہ اٹھا یا اور اپنے ڈراموں سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی۔

عمرشریف کا فلمی کیرئر

عمرشریف کی ملک گیر پہچان فلم حساب (1986) میں ایک کامیڈین کے طور پر ہوئی تھی۔ متعدد فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں کے بعد 1992ء کی فلم مسٹر420 سے انھیں بریک تھرو ملا تھا۔ اس سپرہٹ فلم کے وہ ہدایتکار ، مصنف اور ہیرو بھی تھے اور ٹرپل رول بھی کیا تھا۔ روبی نیازی اور مدیحہ شاہ کے علاوہ شکیلہ قریشی بھی ان کی ہیروئن تھی جس کے ساتھ انھوں نے شادی بھی کی تھی۔ اس فلم میں وہ عظیم مزاحیہ اداکار رنگیلا سے بے حد متاثر نظر آئے تھے۔

اس فلم کی ملک گیر کامیابی نے انھیں فلموں کی ضرورت بنا دیا تھا۔ فلم مسٹر420 (1992) کے علاوہ بطور ہدایتکار انھوں نے تین مزید فلمیں بنائی تھیں ، مسٹرچارلی (1993) ، مس فتنہ (1994) اور چاند بابو (1999) جس کے وہ فلمساز بھی تھے۔

عمرشریف اور مسعودرانا

عمرشریف پر مسعودرانا کا پہلا گیت فلم جھوٹے رئیس (1993) میں فلمایا گیا تھا جس میں اعجاز نامی ایک گلوکار کے ساتھ یہ دوگانا عمرشریف اور جاوید شیخ پر فلمایا گیا تھا:

  • ذرا لک نوں ہلارا دے کڑیئے نی تیرا تنبا وجدا۔۔

دوسرا گیت فلم نہلا دہلا (1994) میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ مسعودرانا کا یہ دلکش دوگانا تھا جو روبی نیازی اور عمرشریف پر فلمایا گیا تھا :

  • آجا ، پیار پیار پیار پیار ، پیار کرئیے ، پر لا کے بدلاں نوں اُڈ چلیے۔۔

دستیاب معلومات کی حد تک عمرشریف پر مسعودرانا کا آخری گیت فلم لاٹ صاحب (1994) میں فلمایا گیا تھا:

  • تینوں میرے لئی رب نے بنایا ، جی کرے ویخدا رہواں۔۔

عمرشریف کا فلمی کیرئر بڑا مختصررہا۔ پھر بھی صرف 1992ء سے 1999ء تک کے آٹھ برسوں میں ان کی تین درجن کے قریب فلمیں ریلیز ہوئیں جس سے ان کی مقبولیت اور مصروفیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر فلموں میں وہ معاون ہیرو یا کامیڈین کے طور پر کاسٹ کیے گئے تھے۔ فلموں میں اوورایکٹنگ کی وجہ سے بھی مشہور تھے۔

عمرشریف ، لاہور سٹیج پر

فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے وہ لاہور شفٹ ہوگئے تھے جہاں سٹیج کا شوق بھی جاری رکھا۔ انھوں نے شمع سینما کو تھیٹر میں تبدیل کرکے کئی سال تک کامیابی کے ساتھ ڈرامے پیش کیے اور لاہوریوں کو متبادل تفریح کے مواقع فراہم کیے جہاں ایکشن پنجابی فلموں کے علاوہ لاہور سٹیج کے بے تاج بادشاہ ، امان اللہ خان اوران کے ساتھیوں کی اجارہ داری ہوتی تھی۔

ڈبل ورژن فلمیں

عمرشریف کی آدھی فلمیں ڈبل ورژن تھیں۔ ایسی فلمیں بنیادی طور پر پنجابی زبان میں بنائی جاتی تھیں جنھیں اردو میں ڈب کرکے کراچی سرکٹ میں ریلیز کیا تھا۔ اس طرح سے فلمساز کو پچیس سے تیس فیصد تک زیادہ منافع ہوتا تھا۔

اردو فلموں کے شائقین ایسی فلموں سے جلد ہی اکتا گئے تھے کیونکہ ان فلموں کے گیت عام طور پر پنجابی زبان میں ہوتے تھے اور اگر فلمساز کسی گیت کو اردو میں گوا بھی لیتا تھا تو وہ بھی کسی پنجابی گیت کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ہوتا تھا جو اردو میں انتہائی بے تکی شاعری بن جاتی تھی۔

پنجابی اور اردو زبانوں کا اپنا اپنا انداز اور مزاج ہے اور ان کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنا اور وہ بھی گیتوں کی صورت میں ممکن نہیں۔

کراچی میں سلطان راہی سے تعصب

ڈبل ورژن فلموں کے خلاف کراچی میں ایک باقاعدہ مہم بھی چلائی گئی تھی۔ ایک فلم ڈاکو ، چور ، سپاہی (1993) کو کراچی میں صرف 'چورسپاہی' کے نام سے ریلیز کیا گیا تھا کیونکہ اہل کراچی ، سلطان راہی کو پسند نہیں کرتے تھے جنھوں نے اس فلم میں ڈاکو کا ٹائٹل رول کیا تھا جبکہ عمرشریف اور اظہارقاضی نے 'چوراورسپاہی' کے رولز کیے تھے۔

سلطان راہی کے قتل کے بعد جہاں پنجابی فلموں کا جنازہ نکلا وہاں ڈبل ورژن فلموں کا دور بھی ختم ہوگیا تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری پھر کبھی ویسا عروج نہیں دیکھ پائی۔

گو اس کے بعد اردو فلموں کا ایک نیا مگر مختصر دور شروع ہوا تھا لیکن ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ڈبل ورژن فلموں کے زوال کے بعد اردو فلموں کے وقت کے مقبول فنکار ، ندیم ، اظہارقاضی ، غلام محی الدین اور عمرشریف وغیرہ بھی زوال پذیر ہوگئےتھے۔

عمرشریف بطور ٹی وی اینکر

صفر کی دھائی میں عمرشریف ، زیادہ تر ٹی وی پر ایک اینکر کے طور پر نظرآئے۔ ٹی وی چینلوں کے عروج کے اس دور میں وہ پڑوسی ملک کے ایک ٹی وی چینل کے ایک میوزک پروگرام کے مستقل جج بھی تھے۔

دس کی دھائی میں ایک فلم بنا رہے تھے جومکمل نہ ہوسکی تھی۔

عمرشریف کے آخری ایام

​جون 2019ء میں عرصہ دس سال بعد آرٹس کونسل کراچی میں 'واہ واہ عمرشریف' کے نام سے ایک ڈرامہ پیش کیا گیا تھا ​جس میں عمرشریف نے بیٹھ کر پندرہ منٹ کا ایک سین مکمل کیا تھا۔ عارضہ قلب میں مبتلا ہونے اور زبان میں تھوڑی لکنت کی وجہ سے ان کے لیے مکالموں کی ادائیگی مشکل ہو گئی تھی لیکن ٹائمنگ اور سٹائل میں فرق نہیں آیا تھا۔ ان کی صحت، مزاج اور اداکاری دیکھ کر لگتا تھا کہ کراچی سٹیج کے اس بے تاج بادشاہ کے کیرئیر کا سورج غروب ہوا چاہتا ہے۔

عمرشریف ، 'سٹینڈ اپ کامیڈی' کے بھی ماہرتھے۔ اپنے اس فن سے انھوں نے دنیا بھر میں بے شمار قدردان پیداکیے تھے۔

خواتین کے بارے میں لطائف ، ان کا پسندیدہ ترین موضوع ہوتا تھا۔ ان کا سب سے مشہور چٹکلا عورتوں کی درازی عمرکےراز کے بارے میں تھا کہ چونکہ وہ ، دن بھر میک اپ میں ہوتی ہیں اور جب رات کو منہ دھو کرسوتی ہیں تو ملک الموت انھیں پہچان نہیں پاتا ، اسی لیے بچ جاتی ہیں۔

ایک اور لطیفہ بھی زبان زدعام ہوا تھا کہ فوجی جوان اپنے افسران بالا کو متاثر کرنے کے لیے دشمن کے ٹینک پر کیسے قبضہ کرکے لاتے ہیں۔

اپنے متعدد ڈراموں اور مکالموں کی وجہ سے وہ متنازعہ بھی بنے لیکن ایک سادہ ، سچے اور کھرے انسان تھے۔ وہ بخیل اور بددیانت نہیں تھے اورجہاں دیگر سینئر اور ہم عصر فنکاروں کی عظمت کا اعتراف کرتے تھے وہاں یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ 'سٹینڈ اپ کامیڈی' کا فن ، انھوں نے اور معین اختر نے خالدعباس ڈار سے سیکھا تھا جو لاہور سٹیج کا ایک بہت بڑا اور قابل احترام نام تھا۔

عمرشریف نے پہلی شادی اپنی ایک پڑوسن سے کی تھی جس سے ان کی ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔ اپنی ساتھی اداکاراؤں ، شکیلہ قریشی اور زرین غزل سے بھی شادیاں کی تھیں۔

فروری 2020ء میں اپنی بیٹی کے گردوں کی پیوندکاری کے دوران انتقال نے انھیں ہلا کررکھ دیا تھا۔ وہ خود کافی عرصے سے عارضۂ قلب ، گردوں اور دیگر امراض میں مبتلا تھے۔ علاج کے لیے انھیں امریکہ لے جایا جارہا تھا لیکن 2 اکتوبر 2021ء کو جرمنی میں دارفانی سے کوچ کرگئے تھے۔
اللہ تعالیٰ ، مرحوم کی مغفرت کرے (آمین)۔

مسعودرانا اور عمرشریف کے 3 فلمی گیت

0 اردو گیت ... 3 پنجابی گیت
1

ذرا لک نوں ہلارا دے کڑیئے نی تیرا تنبا وجدا..

فلم ... جھوٹے رئیس ... پنجابی ... (1993) ... گلوکار: مسعود رانا ، اعجاز ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: ؟ ... اداکار: جاویدشیخ ، عمرشریف
2

آجا ، پیار پیار پیار پیار ، پیار کرئیے ، پر لا کے بدلاں نوں اُڈ چلیے..

فلم ... نہلا دہلا ... پنجابی ... (1994) ... گلوکار: نورجہاں ، مسعود رانا ... موسیقی: وجاہت عطرے ... شاعر: ؟ ... اداکار: روبی نیازی ، عمرشریف
3

تینوں میرے لئی رب نے بنایا ، جی کرے ویخدا رہواں..

فلم ... لاٹ صاحب ... پنجابی ... (1994) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: عمرشریف

مسعودرانا اور عمرشریف کے 0 اردو گیت


مسعودرانا اور عمرشریف کے 3 پنجابی گیت

1

ذرا لک نوں ہلارا دے کڑیئے نی تیرا تنبا وجدا ...

(فلم ... جھوٹے رئیس ... 1993)
2

آجا ، پیار پیار پیار پیار ، پیار کرئیے ، پر لا کے بدلاں نوں اُڈ چلیے ...

(فلم ... نہلا دہلا ... 1994)
3

تینوں میرے لئی رب نے بنایا ، جی کرے ویخدا رہواں ...

(فلم ... لاٹ صاحب ... 1994)

مسعودرانا اور عمرشریف کے 1سولو گیت

1

تینوں میرے لئی رب نے بنایا ، جی کرے ویخدا رہواں ...

(فلم ... لاٹ صاحب ... 1994)

مسعودرانا اور عمرشریف کے 2دوگانے

1

ذرا لک نوں ہلارا دے کڑیئے نی تیرا تنبا وجدا ...

(فلم ... جھوٹے رئیس ... 1993)
2

آجا ، پیار پیار پیار پیار ، پیار کرئیے ، پر لا کے بدلاں نوں اُڈ چلیے ...

(فلم ... نہلا دہلا ... 1994)

مسعودرانا اور عمرشریف کے 0کورس گیت



Masood Rana & Umer Sharif: Latest Online film

Jhootay Rais

(Punjabi/Urdu double version - Color - Wednesday, 2 June 1993)


Masood Rana & Umer Sharif: Film posters
Paidagir
Masood Rana & Umer Sharif:

2 joint Online films

(2 Urdu and 2 Punjabi films)

1.1993: Jhootay Rais
(Punjabi/Urdu double version)
2.1994: Nehla Dehla
(Punjabi/Urdu double version)
Masood Rana & Umer Sharif:

Total 6 joint films

(0 Urdu and 1 Punjabi films)

1.1993: Paidagir
(Punjabi/Urdu double version)
2.1993: Jhootay Rais
(Punjabi/Urdu double version)
3.1994: Nehla Dehla
(Punjabi/Urdu double version)
4.1994: Khandan
(Punjabi/Urdu double version)
5.1994: Laat Sahb
(Punjabi/Urdu double version)
6.1994: Bala Peeray Da
(Punjabi)


Masood Rana & Umer Sharif: 3 songs

(0 Urdu and 3 Punjabi songs)

1.
Punjabi film
Jhootay Rais
from Wednesday, 2 June 1993
Singer(s): Masood Rana, Ejaz, Music: Wajahat Attray, Poet: ?, Actor(s): Javed Sheikh, Umer Sharif
2.
Punjabi film
Nehla Dehla
from Friday, 21 January 1994
Singer(s): Noorjahan, Masood Rana, Music: Wajahat Attray, Poet: ?, Actor(s): Rubi Niazi, Umer Sharif
3.
Punjabi film
Laat Sahb
from Friday, 12 August 1994
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: Khawaja Parvez, Actor(s): Umer Sharif



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فنکاروں ، گیتوں اور اہم فلمی معلومات پر مبنی انٹرنیٹ پر اپنی نوعیت کی اولین ، منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ اور پاکستان کی فلمی تاریخ کو مرتب کرنے کا ایک انوکھا مشن بھی ہے۔

A website of Masood Rana

یہ بے مثل ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی اگر پاکستانی فلموں میں میرے آل ٹائم فیورٹ پلے بیک سنگر جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ انھی کے گیتوں کی تلاش میں یہ عظیم الشان ویب سائٹ وجود میں آئی۔ 2020ء سے اس عظیم فنکار کی 25ویں برسی پر ایک ایسا شاندار خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جو آج تک کبھی کسی دوسرے فنکار کو پیش نہیں کیا جا سکا۔ مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے اردو/پنجابی ڈیٹابیس کے علاوہ ان کے ساتھی فنکاروں پر بھی بڑے تفصیلی معلوماتی مضامین لکھے جارہے ہیں۔ یہ سلسلہ اپنی تکمیل تک جاری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!

سلیم اقبال
سلیم اقبال
کمار
کمار
سلونی
سلونی
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
حبیب جالب
حبیب جالب
سنتوش کمار
سنتوش کمار
البیلا
البیلا
ساقی
ساقی
حمیدچوہدری
حمیدچوہدری
تصورخانم
تصورخانم
منوررشید
منوررشید
عالیہ
عالیہ
نثار بزمی
نثار بزمی
احتشام ، مستفیض
احتشام ، مستفیض
منیر نیازی
منیر نیازی
قدیرغوری
قدیرغوری
طفیل ہوشیارپوری
طفیل ہوشیارپوری
ریاض الرحمان ساغر
ریاض الرحمان ساغر
وزیر افضل
وزیر افضل
وجاہت عطرے
وجاہت عطرے
حسنہ
حسنہ
مظفروارثی
مظفروارثی
غزالہ
غزالہ
طافو
طافو
رحمان ورما
رحمان ورما
سید کمال
سید کمال
منورظریف
منورظریف
یوسف خان
یوسف خان
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
جمیل اختر
جمیل اختر
پرویز ملک
پرویز ملک
ناصرہ
ناصرہ
شبانہ
شبانہ
اکمل
اکمل
نسیمہ شاہین
نسیمہ شاہین
خواجہ خورشید انور
خواجہ خورشید انور
اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان
حامدعلی بیلا
حامدعلی بیلا
وحیدڈار
وحیدڈار
ندیم
ندیم
رخسانہ
رخسانہ
بابا عالم سیاہ پوش
بابا عالم سیاہ پوش
اے حمید
اے حمید
سرور بارہ بنکوی
سرور بارہ بنکوی
سلمیٰ ممتاز
سلمیٰ ممتاز
ناہید
ناہید
سلطان محمود آشفتہ
سلطان محمود آشفتہ
الطاف حسین
الطاف حسین
نذیرعلی
نذیرعلی
آصف جاہ
آصف جاہ
ایم اشرف
ایم اشرف
دیبا
دیبا
سیف الدین سیف
سیف الدین سیف
منیر حسین
منیر حسین
انورکمال پاشا
انورکمال پاشا
ماسٹر عنایت حسین
ماسٹر عنایت حسین
ایس اے بخاری
ایس اے بخاری
اعجاز
اعجاز
شمیم آرا
شمیم آرا
رشید عطرے
رشید عطرے
نورمحمدچارلی
نورمحمدچارلی
روبن گھوش
روبن گھوش
شوکت حسین رضوی
شوکت حسین رضوی
نذیر بیگم
نذیر بیگم
خلیل قیصر
خلیل قیصر
مشیر کاظمی
مشیر کاظمی
تنویر نقوی
تنویر نقوی
علاؤالدین
علاؤالدین
سہیل رعنا
سہیل رعنا
الحامد
الحامد
نسیم بیگم
نسیم بیگم
نغمہ
نغمہ
سیما
سیما
علی اعجاز
علی اعجاز
مہدی حسن
مہدی حسن
ماسٹر مراد
ماسٹر مراد
وحیدمراد
وحیدمراد
قوی
قوی
کلیم عثمانی
کلیم عثمانی
علی حسین
علی حسین
نذیرجعفری
نذیرجعفری
الیاس کاشمیری
الیاس کاشمیری
زیبا
زیبا
خان عطا الرحمان
خان عطا الرحمان
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
کے خورشید
کے خورشید
وارث لدھیانوی
وارث لدھیانوی
اقبال کاشمیری
اقبال کاشمیری
احمد راہی
احمد راہی
لقمان
لقمان
مالا
مالا
ابو شاہ
ابو شاہ
زینت
زینت
اسماعیل متوالا
اسماعیل متوالا
درپن
درپن
آئرن پروین
آئرن پروین
اعظم بیگ
اعظم بیگ
حسن لطیف
حسن لطیف
طارق عزیز
طارق عزیز
مسعود رانا
مسعود رانا
ماسٹر تصدق حسین
ماسٹر تصدق حسین
اختریوسف
اختریوسف
خلیل احمد
خلیل احمد
رشیداختر
رشیداختر
حسن عسکری
حسن عسکری
آغا حسینی
آغا حسینی
اسد بخاری
اسد بخاری
موج لکھنوی
موج لکھنوی
ایم اکرم
ایم اکرم
حسن طارق
حسن طارق
ماسٹر عبد اللہ
ماسٹر عبد اللہ
آصف جاوید
آصف جاوید
ظہیرریحان
ظہیرریحان
خواجہ سرفراز
خواجہ سرفراز
امجدبوبی
امجدبوبی
کیفی
کیفی
ایم اے رشید
ایم اے رشید
طالش
طالش
رفیق رضوی
رفیق رضوی
رونا لیلیٰ
رونا لیلیٰ
سیف چغتائی
سیف چغتائی
ایم ایس ڈار
ایم ایس ڈار
تانی
تانی
اسلم ڈار
اسلم ڈار
مظہر شاہ
مظہر شاہ
ایم اسماعیل
ایم اسماعیل
ماسٹر عاشق حسین
ماسٹر عاشق حسین
غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
نذرالاسلام
نذرالاسلام
ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
افضل خان
افضل خان
نگہت سیما
نگہت سیما
ساحل فارانی
ساحل فارانی
ریاض احمد راجو
ریاض احمد راجو
بخشی وزیر
بخشی وزیر
سعیدگیلانی
سعیدگیلانی
ننھا
ننھا
اعظم چشتی
اعظم چشتی
شیون رضوی
شیون رضوی
اکبرعلی اکو
اکبرعلی اکو
حزیں قادری
حزیں قادری
حبیب
حبیب
طفیل فاروقی
طفیل فاروقی
دیبو بھٹا چاریہ
دیبو بھٹا چاریہ
مسرور انور
مسرور انور
زلفی
زلفی
یاسمین
یاسمین
نسیمہ خان
نسیمہ خان
روزینہ
روزینہ
امداد حسین
امداد حسین
ایم صادق
ایم صادق
افتخارخان
افتخارخان
اقبال حسن
اقبال حسن
ظہورناظم
ظہورناظم
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
نیلو
نیلو
فضل حسین
فضل حسین
کمال احمد
کمال احمد
ریاض احمد
ریاض احمد
بھائیا اے حمید
بھائیا اے حمید
لال محمد اقبال
لال محمد اقبال
نبیلہ
نبیلہ
امین ملک
امین ملک
رضا میر
رضا میر
سلیم رضا
سلیم رضا
رنگیلا
رنگیلا
اقبال شہزاد
اقبال شہزاد
سلطان راہی
سلطان راہی
سدھیر
سدھیر
محمد علی
محمد علی
احمد رشدی
احمد رشدی
سائیں اختر
سائیں اختر
دلجیت مرزا
دلجیت مرزا
ایس ایم یوسف
ایس ایم یوسف
اخترحسین اکھیاں
اخترحسین اکھیاں
مشتاق علی
مشتاق علی
خواجہ پرویز
خواجہ پرویز
قتیل شفائی
قتیل شفائی
شریف نیر
شریف نیر
لہری
لہری
شیریں
شیریں
اے شاہ
اے شاہ
فردوس
فردوس
مسعودپرویز
مسعودپرویز
ایس سلیمان
ایس سلیمان
نذر
نذر
رضیہ
رضیہ
مصلح الدین
مصلح الدین
ایم سلیم
ایم سلیم
ساون
ساون
عمرشریف
عمرشریف
نرالا
نرالا
آئٹم گرلز
آئٹم گرلز
نذیر
نذیر
عزیز میرٹھی
عزیز میرٹھی
عنایت حسین بھٹی
عنایت حسین بھٹی
ریاض شاہد
ریاض شاہد
صفدرحسین
صفدرحسین
شاہد
شاہد
شوکت علی
شوکت علی
طلعت صدیقی
طلعت صدیقی
فیروز نظامی
فیروز نظامی
ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری
جی اے چشتی
جی اے چشتی
سنگیتا
سنگیتا
صہبااختر
صہبااختر
محمد رفیع
محمد رفیع
حمایت علی شاعر
حمایت علی شاعر
صبیحہ خانم
صبیحہ خانم
آغا جی اے گل
آغا جی اے گل
شباب کیرانوی
شباب کیرانوی
اسلم ایرانی
اسلم ایرانی
سلیم کاشر
سلیم کاشر
خلیفہ نذیر
خلیفہ نذیر
غلام نبی ، عبداللطیف
غلام نبی ، عبداللطیف
حنیف
حنیف
ناشاد
ناشاد
فیاض ہاشمی
فیاض ہاشمی
ماسٹر رفیق علی
ماسٹر رفیق علی
منظورجھلا
منظورجھلا
روبینہ بدر
روبینہ بدر
تسلیم فاضلی
تسلیم فاضلی
شبنم
شبنم
حیدر
حیدر
ایم جے رانا
ایم جے رانا
مسرت نذیر
مسرت نذیر
آسیہ
آسیہ
لیلیٰ
لیلیٰ
جعفر بخاری
جعفر بخاری
رانی
رانی



PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.