Pakistn Film Magazine in Urdu/Punjabi


A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1045 songs in 649 films

مسعودرانا اور اختر یوسف

اختریوسف کو سابقہ مشرقی پاکستان کی اردو فلموں کے ایک کامیاب نغمہ نگار ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔۔!

ڈھاکہ میں بننے والی اردو فلموں میں اختریوسف نے سروربارہ بنکوی کے بعد سب سے زیادہ فلموں میں سب سے زیادہ گیت لکھے تھے۔ ریلیز کے اعتبار سے ان کی پہلی فلم اجالا (1966) تھی۔ پہلا مقبول گیت احمدرشدی کا گایا ہوا فلم بیگانہ (1966) کا یہ گیت تھا "بے کل رات بتائی ، بے چین دن گزارا۔۔" بریک تھرو فلم چکوری (1967) کے گیتوں سے ملا تھا جس کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ یہ ایک ڈبل ورژن فلم تھی جس کے بنگالی گیتوں کو اردو میں ترجمہ کر کے گوایا گیا تھا۔ اختریوسف نے کیا کمال کے گیت لکھے تھے اور عین ممکن ہے کہ بنگالی گیت بھی انھوں نے ہی لکھے ہوں گے۔ سب سے بہترین گیت مجیب عالم اور فردوسی بیگم کا الگ الگ گایا ہوا گیت تھا "وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں ، میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں۔۔" روبن گھوش نے اعلیٰ پائے کی دھنیں بنائی تھیں۔ ندیم اور فردوسی بیگم کے علاوہ احمدرشدی کے گائے ہوئے گیت "کہاں ہو تم کو ڈھونڈ رہی ہے۔۔" بھی سپرہٹ ہوئے تھے۔ ان گیتوں کو انھی دھنوں میں بنگالی زبان میں سننا بڑا دلچسپ تجربہ تھا۔

اختریوسف نے مسعودرانا کے لئے پہلا گیت فلم داغ (1969) میں لکھا تھا "ملنے کا موقع ہے گلے لگ جا۔۔" لیکن اس فلم کا سب سے یادگار گیت خانصاحب مہدی حسن کی پرسوز اور مترنم آواز میں تھا "تم ضد تو کررہے ہو ، ہم کیا تمھیں بتائیں ، نغمے جو کھو گئے ہیں ، ان کو کہاں سے لائیں۔۔؟" یہ غزل نہ صرف شاعری کا کمال تھا بلکہ موسیقار علی حسین کی دھن بھی لاجواب تھی۔ لیکن یہ کس قدر عجیب حقیقت ہے کہ مہدی حسن کا ڈھاکہ میں بننے والی کسی بھی اردو فلم کے لئے یہ اکلوتا گیت تھا۔۔!

اختریوسف نے ڈھاکہ کی تیرہ فلموں کے لئے گیت لکھے تھے۔ چھوٹے صاحب (1967) ، گوری (1968) ، پیاسا اور اناڑی (1969) میں کئی ایک مقبول گیت تھے جن میں "ادا تیری بانکی ہے ، روپ سہانا۔۔" ، "پھر ایک بار وہی نغمہ گنگنا دو۔۔" ، "لب پر تیرانام ، ہاتھ میں غم کا جام۔۔" ، "اچھا کیا ، دل نہ دیا ، ہم جیسے دیوانے کو۔۔" ۔ "تو تتلی تھی ، میں بادل تھا۔۔" ، "لکھے پڑھے ہوتے اگر تو تم کو خط لکھتے۔۔" قابل ذکر ہیں۔ پائل (1970) وہاں کی آخری فلم تھی جس میں انھوں نے مسعودرانا کے لئے ایک اور گیت لکھا تھا "ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے۔۔"

اختریوسف ، بنگالی تھے لیکن مقامی نہیں تھے۔ 1957ء میں کلکتہ سے سلہٹ ہجرت کی تھی جہاں چائے کی ایک کمپنی میں ملازم تھے۔ اس سے قبل بمبئی کی فلم انڈسٹری میں بھی قسمت آزمائی کر چکے تھے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد انھوں نے پاکستان آنا پسند کیا اور پہلی فلم ہدایتکار نذرالاسلام کی احساس (1972) تھی۔ اس فلم کا اکلوتا گیت "بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا۔۔" تھا جو روبن گھوش کی موسیقی میں رونالیلیٰ اور مسعودرانا نے گایا تھا۔ اسی سال کی ندیم کی ذاتی فلم مٹی کے پتلے (1974) میں بھی انہوں نے ایک گیت لکھا تھا جو اتفاق سے مسعودرانا کے ساتھ ان کا آخری گیت ثابت ہوا تھا "تو جہاں لے چلے رے۔۔" اس میں بھی ساتھی گلوکارہ رونالیلیٰ تھی جبکہ موسیقی ایم اشرف کی تھی۔

اختریوسف کا لکھا ہوا سب سے مقبول گیت فلم چاہت (1974) میں تھا "ساون آئے ، ساون جائے ، تجھ کو پکاریں گیت ہمارے۔۔" روبن گھوش کی دھن میں یہ گلوکار اخلاق احمد کا ایک سپرہٹ گیت تھا جو ان کے لئے بریک تھرو ثابت ہوا تھا۔ اسی گیت سے متاثر ہوکر ، بطور ہدایتکار واحد فلم ساون آیا تم نہیں آئے (1974) بنانے کا موقع ملا لیکن یہ فلم ناکام رہی تھی۔ اس فلم کا ٹائٹل سانگ "ساون آیا تم نہیں آئے۔۔" مہدی حسن اور مالا کی آوازوں میں الگ الگ بڑا مقبول ہوا تھا۔ کراچی میں سب سے زیادہ چلنے والی فلم آئینہ (1977) کا یہ مشہور گیت "وعدہ کرو ساجنا ، چھو کے مجھے تم ابھی۔۔" بھی اختریوسف کے زرخیز ذہن کی تخلیق تھا۔

اختریوسف کی آخری فلم بندھن (1980) تھی جو ایک نغمہ بار فلم تھی اور تقریباً سبھی گیت مقبول ہوئے تھے ۔ مہدی حسن کا گیت "جھکے جھکے نینوں والے چین میرا لے گئے۔۔" ایک ایسا گیت تھا جو کبھی میرا چین بھی لے جاتا تھا اور دن بھر یہی گیت گنگناتا رہتا تھا۔ایسی ہی کیفیت کچھ اے نیر کےاس گیت کو سن کر ہوتی تھی "تنہائیوں میں ڈھل جائیں گے ، میرے دن رات ، تو کیا جانے۔۔" مہناز کا گیت "کہ یہ رت ہے بڑی مستانی ، پون سنگ چھیڑے رے بدرا۔۔" اور ناہیداختر کا گیت "پیار کا بندھن ٹوٹے نہ کبھی۔۔" بھی بڑے دلکش گیت تھے۔ اسی فلم میں غالباً یہ اکلوتا دوگانا تھا جو اخلاق احمد نے مالا کے ساتھ گایا تھا اور بڑا مقبول ہوا تھا "ہر تمنا کنول بن گئی ہے ، تم سے مل کے غزل بن گئی ہے ، یہ پیار کا وعدہ ہے۔۔" اس فلم کے موسیقار ایم اشرف تھے۔

اتنے اچھے گیتوں کے باوجود اختریوسف کو مزید فلمیں نہیں ملیں اور وہ دلبرداشتہ ہوکر لاہور کی فلمی دنیا چھوڑ کر کراچی کی ایک اشتہاری کمپنی سے منسلک ہو گئے تھے۔ 1935ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے اور 1989ء میں کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔

مسعودرانا اور اختر یوسف کے 4 فلمی گیت

4 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت
1
فلم ... داغ ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، نبیتا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: سہیل ، کوبیتا
2
فلم ... پائل ... اردو ... (1970) ... گلوکار: مسعود رانا ، نبیتا ... موسیقی: علی حسین ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: جاوید ، شبانہ
3
فلم ... احساس ... اردو ... (1972) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: روبن گھوش ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: شبنم ، ندیم
4
فلم ... مٹی کے پتلے ... اردو ... (1974) ... گلوکار: رونا لیلیٰ ، مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: اختر یوسف ... اداکار: نشو ، ندیم

مسعودرانا اور اختر یوسف کے 4 اردو گیت

1ملنے کا موقع ہے گلے لگ جا ... (فلم ... داغ ... 1969)
2ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے ، کرے کنگن یہ سن سن ، نیا کنارے چلی جائے رے ... (فلم ... پائل ... 1970)
3بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا ، جھکی جھکی اڑتی ہوا ، موسم ہے دیوانہ دیوانہ دیوانہ ... (فلم ... احساس ... 1972)
4تو جہاں لے چلے رے ... (فلم ... مٹی کے پتلے ... 1974)

مسعودرانا اور اختر یوسف کے 0 پنجابی گیت


مسعودرانا اور اختر یوسف کے 0سولو گیت


مسعودرانا اور اختر یوسف کے 4دو گانے

1ملنے کا موقع ہے گلے لگ جا ... (فلم ... داغ ... 1969)
2ہو بل کھاتی ندیا ، لہروں میں لہرائے ، کرے کنگن یہ سن سن ، نیا کنارے چلی جائے رے ... (فلم ... پائل ... 1970)
3بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا ، جھکی جھکی اڑتی ہوا ، موسم ہے دیوانہ دیوانہ دیوانہ ... (فلم ... احساس ... 1972)
4تو جہاں لے چلے رے ... (فلم ... مٹی کے پتلے ... 1974)

مسعودرانا اور اختر یوسف کے 0کورس گیت


Masood Rana & Akhtar Yousuf: Latest Online film

Masood Rana & Akhtar Yousuf: Film posters
DaaghGeet Kahin Sangeet KahinPayelMitti Kay Putlay
Masood Rana & Akhtar Yousuf:

0 joint Online films

(0 Urdu and 0 Punjabi films)
Masood Rana & Akhtar Yousuf:

Total 5 joint films

(3 Urdu, 0 Punjabi films)
1.1969: Daagh
(Urdu)
2.1969: Geet Kahin Sangeet Kahin
(Urdu/Bengali double version)
3.1970: Payel
(Bengali/Urdu double version)
4.1972: Ehsas
(Urdu)
5.1974: Mitti Kay Putlay
(Urdu)


Masood Rana & Akhtar Yousuf: 4 songs

(4 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Daagh
from Friday, 4 April 1969
Singer(s): Masood Rana, Nabita, Music: Ali Hossain, Poet: , Actor(s): Sohail, Kobita
2.
Urdu film
Payel
from Friday, 22 May 1970
Singer(s): Masood Rana, Naveeta, Music: Ali Hossain, Poet: , Actor(s): Javed, Shabana
3.
Urdu film
Ehsas
from Friday, 22 December 1972
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: Robin Ghosh, Poet: , Actor(s): Shabnam, Nadeem
4.
Urdu film
Mitti Kay Putlay
from Friday, 22 February 1974
Singer(s): Runa Laila, Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nisho, Nadeem


پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس




Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists with chronological film history since 1913, useful information's, facts & figures, milestones, filmo- & songographies, images, videos and Urdu/Punjabi articles on various film topics.



Sher Khan
Sher Khan
(2013)
Baba Dina
Baba Dina
(1971)
Hukumat
Hukumat
(1988)
Gulnar
Gulnar
(1953)



Artists database

Useful information's with detailed film records, milestones, videos, images etc..


Click on any category from the menu below and read more information's..