A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1036 songs in 646 films

مسعودرانا اور بھائیا اے حمید

پاکستانی فلموں میں 'اےحمید' نام کے دو فنکار تھے۔ ایک موسیقار تھے جبکہ دوسرے ان سے سینئر تھے جنہیں بھائیا اےحمید بھی کہتے تھے۔ وہ 29 فلموں کے عکاس ، 8 فلموں کے ہدایتکار اور 40 فلموں کے فلمساز ہونے کے علاوہ شباب کیرانوی کے مستقل ساتھی بھی تھے۔

اےحمید نے اپنے فلمی سفر کا آغاز بطور عکاس یا کیمرہ مین کے طور پر کیا تھا۔ پہلی فلم ہدایتکار داؤد چاند کی اردو فلم ہچکولے (1949) کی عکسبندی کی تھی جو ریلیز کے اعتبار سے پاکستان کی تیسری فلم تھی۔ پاکستان کے پہلے سپرسٹار فلمی ہیرو ، سدھیر کی یہ پہلی فلم تھی جوتقسیم سے قبل لاہور میں بننے والی ایک فلم فرض (1947) میں کام کر چکے تھے۔ نجمہ ، نذر ، اجمل ، ظہورشاہ اور ایم اسماعیل اس فلم کے دیگر اہم کردار تھے۔ عظیم موسیقار ماسٹرعنایت حسین کی بھی تقسیم کے بعد یہ پہلی فلم تھی ، وہ بھی پنجابی فلم کملی (1946) کی موسیقی دے چکے تھے۔ اےحمید کی بطور عکاس دیگر مشہور فلموں میں گمنام (1954) ، نوکر (1955) ، مکھڑا (1958) اور مہتاب (1962) وغیرہ جیسی یادگار فلمیں شامل تھیں۔

اےحمید کی بطور ہدایتکار پہلی فلم جلن (1955) تھی جس میں پہلی بار ان کا اور شباب کیرانوی کا ساتھ ہوا تھا۔ شباب صاحب ، بنیادی طور پر ایک صحافی تھے لیکن حافظ قرآن ہونے کے باوجود ایک فلمی رسالے 'ڈائریکٹر' کے ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے اسی فلم سے بطور فلمساز ، کہانی نویس اور نغمہ نگار کے اپنے عظیم الشان فلمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس فلم کا منظرنامہ معروف ادیب سعادت حسن منٹو نے لکھا تھا۔ نامور گلوکار عنایت حسین بھٹی کو پہلی بار اس اردو فلم میں ہیرو کے طور پر کاسٹ کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ ایک خوبصورت آنکھوں والی اداکارہ نادرہ کو متعارف کروایا گیا تھا لیکن فلم ناکام رہی تھی۔ یہی فلم موسیقار محمدعلی منو کی پہلی فلم تھی جنہوں نے مزید صرف تین فلموں ٹھنڈی سڑک (1957) ، سہارا (1959) اور پھول اور کانٹے (1964) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔

ہدایتکار اےحمید کی دوسری فلم ٹھنڈی سڑک (1957) بھی اس لحاظ سے ایک یادگار تھی کہ اس فلم میں اردو فلموں کے خوبرو ہیرو سیدکمال کو پہلی بار متعارف کروایا گیا تھا۔ ان کی ہیروئن مسرت نذیر تھی۔ اس فلم کے کہانی نویس علی سفیان آفاقی تھے جن کی یہ پہلی فلم تھی۔ اس فلم کے عکاس بھی اےحمید خود تھے۔ اصولاً فلم کے ہدایتکار کو ہر فلم کا عکاس یا ڈائریکٹر آف فوٹو گرافی خود ہونا چاہیے کیونکہ ایک فلم بین ہر سین کو کیمرے کی آنکھ ہی سے دیکھتا ہے اور وہ کس زاویئے سے ہونا چاہیئے ، یہ فن ، ایک ہدایتکار سے بہتر کوئی نہیں جانتا جو فلم کا ناخدا ہوتا ہے۔

اےحمید ، اپنی تیسری فلم گلبدن (1960) کے ہدایتکار اور عکاس ہونے کے علاوہ سکرین پلے رائٹر بھی تھے۔ یہ ایک جادوئی فلم تھی لیکن ٹیکنیکی طور پر بڑی کمزور فلم تھی ، خاص طور پر جب اداکار اسمعٰیل قمر ایک جن کے روپ میں فضاؤں میں اڑتے ہیں تو اس میں کیمرے کی صفائی نہیں ہوتی۔ مسرت نذیر اور اعجاز مرکزی کردار تھے اور شیخ اقبال مرکزی ولن ہونے کے علاوہ فلم کے کہانی نویس بھی تھے۔ اس فلم میں منیرحسین کا گیت "میری برباد دنیا کا تماشہ دیکھ لے دنیا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔ بطور ہدایتکار دیگر فلموں میں بلبلی بغداد (1962) ، نیلم (1963) ، ملنگ (1964) کے علاوہ فلم پروہنا (1966) میں وہ انورکمال پاشا کے معاون ہدایتکار تھے۔

اےحمید کی بطور ہدایتکار آخری فلم چن جی (1967) تھی جس کے فلمساز آغا غلام محمد تھے۔ شباب کیرانوی کی کہانی اور بابا عالم سیاہ پوش کے مکالمے اور گیت تھے جو خالص پنجابی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ یہ ایک بڑے اعلیٰ پائے کی بامقصد اور تفریحی فلم تھی جس میں خاص طور پر مزاحیہ اداکار آصف جاہ اور سینئر اداکار نجم الحسن کا وہ سین کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ جب دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر جارہے ہوتے ہیں تو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بیچارے ایک گدھے پر دو ہٹے کٹے مرد سوار ہیں۔ وہ گدھے سے اتر کر ساتھ ساتھ چلتے ہیں تو لوگ مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں کہ گدھا ہوتے ہوئے بھی پیدل چل رہے ہیں۔ باری باری گدھے پر سوار ہوتے ہیں تو پھر بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کا حق مار رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخر میں وہ گدھے کو ہی سر پر اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر بھی لوگوں کے طعن و تشنیع کا باعث بن جاتے ہیں۔۔!

فلم چن جی (1967) کی ہیروئن فردوس تھی جس کے حسن و جمال کا ایک عالم دیوانہ ہوچکا تھا۔ اس کے رنگا رنگ پوسٹر فلم کی شان بڑھانے میں معاون ثابت ہورہے تھے لیکن فلم کے ہیرو اسدبخاری ، ایک ناکام ہیرو ثابت ہوئے تھے البتہ ولن کے طور پر پنجابی فلموں میں بڑا نام کمایا تھا۔ اس فلم کی موسیقی منظور اشرف نے دی تھی اور کئی گیت فلم کی حد تک بڑے اچھے تھے لیکن زیادہ سننے میں نہیں آتے تھے۔ ان گیتوں میں سے نسیم بیگم کا یہ گیت "نہ او حال ، نہ او چال ، تیرا کتھے اے خیال۔۔" کے علاوہ مالا کے یہ دو گیت "میرے پیار دا بجھا گیوں دیوا۔۔" اور "لوری دیواں لال نوں میں لوری دیواں۔۔" بڑے اچھے گیت تھے۔ مسعودرانا کا یہ قومی گیت "دھرتی دا میں سینہ چیراں ، کدی نہ ڈھولاں ، بیلیا۔۔" فلم کا حاصل تھا جبکہ نذیربیگم کے ساتھ گایا ہوا یہ مزاحیہ دوگانا بھی بڑا دلچسپ تھا "جماں جنج نال کیوں اے۔۔" ایک کورس گیت "لام تے نہ جا وے لالہ۔۔" ایک طنزیہ گیت تھا جس میں بھارتی فوجیوں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ آئرن پروین کے ساتھ جو مردانہ آواز تھی ، اس کے بارے میں ریکارڈز میں مسعودرانا کا نام ملتا ہے ، لیکن یہ آواز ان کی نہیں تھی کیونکہ میں نے انہیں اتنا سنا ہوا ہے کہ سات پردوں میں بھی مسعودرانا کی آواز پہچان سکتا ہوں۔ حیرت کی بات ہے کہ بطور ہدایتکار ، یہ فلم اےحمید کی آخری فلم تھی حالانکہ ان کا فلمی سفر جاری تھا۔

اےحمید کا نام بطور فلمساز چالیس فلموں میں ملتا ہے جن میں پہلی فلم تین پھول (1961) تھی۔ اس فلم کے ہدایتکار نامور شاعر اور ادیب ظہیر کاشمیری تھے۔ یہ فلم ایک بڑے بولڈ موضوع پر بنائی گئی تھی۔ فلم کی ہیروئن نیرسلطانہ اپنے خاوند علاؤالدین کو دھوکہ دیتے ہوئے اپنے آشنا کے ساتھ بھی رہتی ہے جبکہ اس کا آشنا اسلم پرویز تین مختلف عورتوں یا پھولوں کا رس چوستا رہتا ہے۔ یہ فلم بری طرح سے ناکام رہی تھی۔ عام طور پر ہمارے ادیب اور شاعر ، خودستائی کے زعم میں مبتلا اہل فلم کو درخوراعتنا نہیں سمجھتے تھے۔ وہ ، اپنے انٹرویوز یا میڈیا میں لکھے ہوئے مضامین میں فلم والوں کو بڑا حقیر ، جاہل اور نااہل سمجھتے تھے لیکن مزے کی بات ہے جب خود اس فیلڈ میں آتے تھے تو بری طرح سے ناکام ہو جاتے تھے۔ عام طور پر ان کی شاعری ردی میں بکتی تھی اور ذکر اخبارات کے ادبی ایڈیشنوں تک محدود ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں کوئی ناول پڑھتا تھا تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا کہ کروڑوں کی آبادی کے ملک میں اس ناول کی اشاعت محض چند ہزار ہے۔ اس کے برعکس فلم کو لاکھوں لوگ دیکھتے تھے جو لوگوں کو گھروں سے نکال کر سینما گھروں تک لاتی تھی اور کمائی بھی کرتی تھی۔ ایک کامیاب فلم بنانے والا کوئی بھی شخص ، ادبی تناظر میں جاہل تو ہو سکتا ہے لیکن اپنے شعبہ کا ماسٹر اور ایک کامیاب کاروباری شخص ہوتا ہے اور ایسے لوگ قابل قدر ہوتے ہیں۔

اےحمید کی بطور فلمساز چالیس میں سے 35 فلمیں صرف شباب کیرانوی اور ان کے ایک بیٹے نذرشباب کے ساتھ تھیں۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ ظفرشباب کی 29 فلموں میں سے وہ کسی ایک بھی فلم کے فلمساز نہیں تھے۔ آخری فلم ساتھی (1980) میں فلمساز کے طور ان کا نام ملتا ہے۔

مسعودرانا کے اے حمید کی 10 فلموں میں 16 گیت

(16 اردو گیت ... 0 پنجابی گیت )
1
فلم ... ہمیں بھی جینے دو ... اردو ... (1963) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: سی فیض ... شاعر: یوسف پردیسی ... اداکار: حنیف
2
فلم ... فیشن ... اردو ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: قتیل شفائی ... اداکار: (پس پردہ، حبیب ، شمیم آرا)
3
فلم ... فیشن ... اردو ... (1965) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: بخشی وزیر ... شاعر: قتیل شفائی ... اداکار: (پس پردہ ، شمیم آرا)
4
فلم ... وطن کا سپاہی ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، شوکت علی مع ساتھی ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: حبیب جالب ... اداکار: (پس پردہ ، تھیم سانگ )
5
فلم ... آئینہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: محمد علی
6
فلم ... آئینہ ... اردو ... (1966) ... گلوکار: مسعود رانا ، آئرن پروین ... موسیقی: منظور اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: محمد علی ، دیبا
7
فلم ... میری دوستی میرا پیار ... اردو ... (1968) ... گلوکار: احمد رشدی ، مسعود رانا ، مالا ، تانی ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: مسعود اختر ، زاہد خان ، روزی ، انار کلی
8
فلم ... میری دوستی میرا پیار ... اردو ... (1968) ... گلوکار: مالا ، تانی ، احمد رشدی ، مسعود رانا ... موسیقی: تصدق حسین ... شاعر: ریاض الرحمان ساغر ... اداکار: روزی ، انار کلی ، زاہد خان ، مسعود اختر
9
فلم ... تمہی ہو محبوب میرے ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: وحید مراد
10
فلم ... تمہی ہو محبوب میرے ... اردو ... (1969) ... گلوکار: مسعود رانا ، مالا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: خواجہ پرویز ... اداکار: وحید مراد ، دیبا
11
فلم ... دل ایک آئینہ ... اردو ... (1972) ... گلوکار: مسعود رانا ، رونا لیلیٰ ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: حزیں صدیقی ... اداکار: شاہد ، سنگیتا
12
فلم ... پردے میں رہنے دو ... اردو ... (1973) ... گلوکار: رنگیلا ، احمد رشدی ، مسعود رانا مع ساتھی ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: رنگیلا ، منور ظریف مع ساتھی
13
فلم ... پردے میں رہنے دو ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، نیرہ نور ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: رنگیلا ، صاعقہ
14
فلم ... دامن اور چنگاری ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: شباب کیرانوی ... اداکار: ندیم
15
فلم ... دامن اور چنگاری ... اردو ... (1973) ... گلوکار: مسعود رانا ، نورجہاں ... موسیقی: ایم اشرف ... شاعر: تسلیم فاضلی ... اداکار: ندیم ، زیبا
16
فلم ... نہ چھڑا سکو گے دامن ... اردو ... (1975) ... گلوکار: رجب علی ، مسعودرانا ... موسیقی: ایم اے شاد ... شاعر: ؟ ... اداکار: ؟

Masood Rana & A. Hameed: Latest Online film

Daaman Aur Chingari

(Urdu - Color - Sunday, 28 October 1973)


Masood Rana & A. Hameed: Film posters
FaishonWatan Ka SipahiAainaMeri Dosti Mera PyarTumhi Ho Mehboob MerayDil Ek AainaParday Mein Rehnay DoDaaman Aur ChingariNa Chhura Sako Gay Daaman
Masood Rana & A. Hameed:

1 joint Online films

(1 Urdu and 0 Punjabi films)

1.
28-10-1973:
Daaman Aur Chingari
(Urdu)
Masood Rana & A. Hameed:

Total 10 joint films

(10 Urdu, 0 Punjabi films)

1.
15-11-1963:
Hamen Bhi Jeenay Do
(Urdu)
2.
12-04-1965:
Faishon
(Urdu)
3.
04-03-1966:
Watan Ka Sipahi
(Urdu)
4.
02-12-1966:
Aaina
(Urdu)
5.
02-08-1968:
Meri Dosti Mera Pyar
(Urdu)
6.
21-02-1969:
Tumhi Ho Mehboob Meray
(Urdu)
7.
07-07-1972:
Dil Ek Aaina
(Urdu)
8.
27-04-1973:
Parday Mein Rehnay Do
(Urdu)
9.
28-10-1973:
Daaman Aur Chingari
(Urdu)
10.
14-03-1975:
Na Chhura Sako Gay Daaman
(Urdu)


Masood Rana & A. Hameed: 16 songs in 10 films

(16 Urdu and 0 Punjabi songs)

1.
Urdu film
Hamen Bhi Jeenay Do
from Friday, 15 November 1963
Singer(s): Masood Rana, Music: C. Faiz, Poet: , Actor(s): Hanif
2.
Urdu film
Faishon
from Monday, 12 April 1965
Singer(s): Masood Rana, Music: Bakhshi Wazir, Poet: , Actor(s): (Playback - Habib, Shamim Ara)
3.
Urdu film
Faishon
from Monday, 12 April 1965
Singer(s): Masood Rana, Music: Bakhshi Wazir, Poet: , Actor(s): (Playback - Shamim Ara)
4.
Urdu film
Watan Ka Sipahi
from Friday, 4 March 1966
Singer(s): Masood Rana, Shoukat Ali & Co., Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): (Playback - title song)
5.
Urdu film
Aaina
from Friday, 2 December 1966
Singer(s): Masood Rana, Irene Parveen, Music: Manzoor Ashraf, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali, Deeba
6.
Urdu film
Aaina
from Friday, 2 December 1966
Singer(s): Masood Rana, Music: Tasadduq Hussain, Poet: , Actor(s): Mohammad Ali
7.
Urdu film
Meri Dosti Mera Pyar
from Friday, 2 August 1968
Singer(s): Ahmad Rushdi, Masood Rana, Mala, Tani & Co., Music: Tasadduq Hussain, Poet: , Actor(s): Masood Akhtar, Zahid Khan, Rozi, Anar Kali & Co.
8.
Urdu film
Meri Dosti Mera Pyar
from Friday, 2 August 1968
Singer(s): Mala, Tani, Ahmad Rushdi, Masood Rana & Co., Music: Tasadduq Hussain, Poet: , Actor(s): Rozi, Anar Kali, Zahid Khan, Masood Akhtar
9.
Urdu film
Tumhi Ho Mehboob Meray
from Friday, 21 February 1969
Singer(s): Masood Rana, Mala, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Waheed Murad, Deeba
10.
Urdu film
Tumhi Ho Mehboob Meray
from Friday, 21 February 1969
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Waheed Murad
11.
Urdu film
Dil Ek Aaina
from Friday, 7 July 1972
Singer(s): Masood Rana, Runa Laila, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Shahid, Sangeeta
12.
Urdu film
Parday Mein Rehnay Do
from Friday, 27 April 1973
Singer(s): Masood Rana, Nayyara Noor, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Rangeela, Saiqa
13.
Urdu film
Parday Mein Rehnay Do
from Friday, 27 April 1973
Singer(s): Rangeela, Ahmad Rushdi, Masood Rana & Co., Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Rangeela, Munawar Zarif
14.
Urdu film
Daaman Aur Chingari
from Sunday, 28 October 1973
Singer(s): Masood Rana, Noorjahan, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem, Zeba
15.
Urdu film
Daaman Aur Chingari
from Sunday, 28 October 1973
Singer(s): Masood Rana, Music: M. Ashraf, Poet: , Actor(s): Nadeem
16.
Urdu film
Na Chhura Sako Gay Daaman
from Friday, 14 March 1975
Singer(s): Rajab Ali, Masood Rana, Music: M.A. Shad, Poet: , Actor(s): ?


Pakistan Film Magazine

The first and largest website on Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔